An-Naml 27:39

An-Naml · from ayah 39

27:39

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ ۚ— وَاِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ ۟قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ‌ۚ وَاِنِّىۡ عَلَيۡهِ لَـقَوِىٌّ اَمِيۡنٌ‏

جنات میں سے ایک قوی ہیکل جن نے کہا کہ قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں اور میں اس (کے اٹھانے کی) طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

A powerful one from among the jinn said, "I will bring it to you before you rise from your place, and indeed, I am for this [task] strong and trustworthy."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 3 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:39

جنوں میں سے ایک قوی ہیکل نے عرض کیا "میں اسے حاضر کر دوں گا قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کی طاقت رکھتا ہوں اور امانتدار ہوں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جنات میں سے ایک قوی ہیکل جن نے کہا کہ قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں اور میں اس (کے اٹھانے کی) طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ایک قوی ہیکل جن کہنے لگا آپ اپنی اس مجلس سے اٹھیں اس سے پہلے ہی پہلے میں اسے آپ کے پاس ﻻدیتا ہوں، یقین مانیے کہ میں اس پر قادر ہوں اور ہوں بھی امانت دار

— مولانا محمد جوناگڑہی

ایک قوی ہیکل جن نے کہا : آپ اپنی جگہ سے اٹھے بھی نہ ہوں گے کہ میں اس سے پہلے ہی اسے آپ کے پاس لے آؤں گا، اور یقین رکھیے کہ میں اس کام کی پوری طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار بھی ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ایک بڑا خبیث جن بولا کہ میں وہ تخت حضور میں حاضر کردوں گا قبل اس کے کہ حضور اجلاس برخاست کریں اور میں بیشک اس پر قوت والا امانتدار ہوں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ایک قوی ہیکل جِن نے عرض کیا: میں اسے آپ کے پاس لاسکتا ہوں قبل اس کے کہ آپ اپنے مقام سے اٹھیں اور بیشک میں اس (کے لانے) پر طاقتور (اور) امانت دار ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جنوں میں سے ایک طاقتور شرارتی کہنے لگا میں اسے تیرے پاس اس سے پہلے لے آؤنگا کہ تو اپنی جگہ سے اٹھے اور بلاشبہ میں اس پر یقینا پوری قوت رکھنے والا، امانت دار ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ایک دیو ہیکل جن نے کہا : آپ کے دربار کو برخواست کرنے سے پہلے میں اسے لاسکتا ہوں۔ میں اس کام کی پوری قوت رکھتا ہوں اور امانت دار بھی ہوں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جنوں میں سے ایک سرہنگ نے کہا، میں اس کو آپ کے پاس آپ کے اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے پہلے حاضر کردوں گا۔ اور میں اس کام پر قدرت رکھنے والا اور ایک امانت دار ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو اس پر ایک قوی ہیکل جن نے عرض کیا کہ میں اس کو آپ کی خدمت میں لا کر حاضر کروں گا قبل اس سے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں اور بلاشبہ مجھے اس پر پوری قوت بھی ہے اور میں امانتدار بھی ہوں

— مولانا اسحاق مدنی

ایک شریر جن بولا میں اسے آپ کی خدمت میں لے آؤں گا قبل اس کے کہ آپ اپنے اجلاس سے اٹھیں اور میں اس (کے لانے) پر قدرت رکھتا ہوں امانت دار ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جنوں میں سے ایک دیو نے کہا کہ میں اسے آپ کے پاس لے آتا ہوں اس سے پہلے کہ آپ ؑ اپنی اس مجلس سے اٹھیں اور میں یقیناً اس کام کے لیے طاقت بھی رکھتا ہوں اور امانت دار بھی ہوں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جنات میں سے ایک مضبوط جن نے کہا کہ قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لا حاضر کرتا ہوں اور مجھے اس پر قدرت بھی حاصل ہے اور میں امانتدار بھی ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

A stalwart of the jinn said: "I will bring it to you before you rise from your council. Surely I have the power to do so and I am trustworthy."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

A stalwart of the Jinn said, :I will bring it to you before you rise up from your place, and for this (task) I am powerful, reliable.

— Muhammad Taqi Usmani

A stalwart of the Jinn said, :I will bring it to you before you rise up from your place, and for this (task) I am powerful, reliable.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

An `Ifrit from the Jinn said: "I will bring it to you before you rise from your place. And verily, I am indeed strong and trustworthy for such work."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

A stalwart of the jinn said: I will bring it thee before thou canst rise from thy place. Lo! I verily am strong and trusty for such work.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

A powerful one from among the jinn said, "I will bring it to you before you rise from your place, and indeed, I am for this [task] strong and trustworthy."

— Saheeh International

A monstrous jinn said, "I can bring it before you even stand up. I am powerful and trustworthy".

— Muhammad Sarwar

One audacious among the jinn said: I will bring it to you before you rise up from your place; and most surely I am strong (and) trusty for it.

— Muhammad Habib Shakir

A giant from the jinns said: I shall bring it unto thee ere thou arisest from thy place; verily I am strong for it and trusty.

— Abdul Majid Daryabadi

Said an 'Ifrit, of the Jinns: "I will bring it to thee before thou rise from thy council: indeed I have full strength for the purpose, and may be trusted."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:39

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–40

بلقیس کو دوبارہ پیغام نبوت ملا جب قاصد پہنچتا ہے اور بلقیس کو دوبارہ پیغام نبوت پہنچاتا ہے تو وہ سمجھ لیتی ہے اور کہتی ہے واللہ یہ سچے پیغمبر ہیں ایک پیغمبر کا مقابلہ کر کے کوئی پنپ نہیں سکتا۔ اسی وقت دوبارہ قاصد بھیجا کہ میں اپنی قوم کے سرداروں سمیت حاضر خدمت ہوتی ہوں تاکہ خود آپ سے مل کر دینی معلومات حاصل کروں اور آپ سے اپنی تشفی کرلوں یہ کہلوا کر یہاں اپنا نائب ایک کو بنایا۔ سلطنت کے انتظامات اس کے سپرد کئے اپنا لاجواب بیش قیمت جڑاؤ تخت جو سونے کا تھا سات محلوں میں مقفل کیا اور اپنے نائب کو اسکی حفاطت کی خاص تاکید کی اور بارہ ہزار سردار جن میں سے ہر ایک کے تحت ہزاروں آدمی تھے۔ اپنے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النمل 45 اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے پاس جو جن تھے وہ آیا جو مودہ زمانے کے محض عقل پرست مفسرین کی تاویلوں کے مطابق بنی نوع انسان میں سے تھے یا عرف عام کے مطابق اسی پوشیدہ مخلوق میں سے جو جن کے نام سے معروف ہے۔ ظاہر ہے کہ حضرت سلیمان کے دربار کی نشست زیادہ سے زیادہ تین چار گھنٹے کی ہوگی، اور بیت المقدس سے سبا کے پایہ تخت مارب کا فاصلہ پرندے کی اڑان کے لحاظ سے بھی کم از کم ڈیڑھ ہزار میل کا تھا۔ اتنے فاصلہ سے ایک ملکہ کا عظیم الشان تخت اتنی کم مدت میں اٹھا لانا کسی انسان کا کام نہیں ہوسکتا تھا، خوہ وہ عمالقہ میں سے کتنا ہی موٹا تازہ آدمی کیوں نہ ہو، یہ کام تو آج کل کا جٹ طیارہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–39

خلاصہ تفسیر (غرض وہ قاصد اپنے ہدایا لے کر واپس گیا اور سارا قصہ بلقیس سے بیان کیا تو حالات سے اس کو حضرت سلیمان ؑ کے علم اور نبوت کے کمالات کا یقین ہوگیا اور حاضر ہونے کے ارادہ سے اپنے ملک سے چلی) سلیمان (علیہ السلام کو وحی سے یا اور کسی پرندے وغیرہ کے ذریعہ اس کا چلنا معلوم ہوا تو انہوں) نے (اپنے دربار والوں سے) فرمایا کہ اے دربار والو تم میں کوئی ایسا ہے جو اس (بلقیس) کا تخت پہلے اس کے کہ وہ لوگ میرے پاس مطیع ہو کر آویں حاضر کردے (مسلمین کی قید اظہار واقعہ کے لئے ہے کیونکہ وہ لوگ اسی قصد سے آ رہے تھے تخت کا منگانا غالباً اس غرض سے ہے کہ وہ لوگ میرا معجزہ بھی دیکھ لیں کیونکہ اتنا بڑا تخت اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قال عفریت من الجن انا اتیک بہ قبل ان تقوم من مقامک دانی علیہ لقوی امین (39) عفریت کے معنی کا رواں، شاطر اور چالاک کے ہیں اور ساتھ ہی اس کے اندر تگڑے، زور آور اور لیڈر ہونے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے اس وجہ میں نے اس کا ترجمہ سرہنگ کیا ہے۔ جنوں کے ایک سرہنگ کی پیشکش یہ بحث اپنے مقام میں گزر چکی ہے کہ حضرت سلیمان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا علم بھی عطا ہا تھا جس کے ذریعہ سے انہوں نے بہت سے جنوں کو مسخر کر کے اپنی حکومت کی مختلف قسم کی خدمات میں لگا رکھا تھا۔ حضرت سلیمان نے درباریوں کے سامنے مذکورہ بالا خواہش کا اظہار کیا تو اس کی تعمیل کے لئے سب سے پہلے ایک شاطر جن نے اپنی خدمات پیش کیں کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

39-1اس سے وہ مجلس مراد ہے، جو مقدمات کی سماعت کے لئے حضرت سلیمان ؑ صبح سے نصف النہار تک منعقد فرماتے تھے۔ 39-2اس سے معلوم ہوا کہ وہ یقینا ایک جن ہی تھا جنہیں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے مقابلے میں غیر معمولی قوتوں سے نوازا ہے کیونکہ کسی انسان کے لیے چاہے وہ کتنا ہی زور آور ہو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ بیت المقدس سے مآرب یمن جائے اور پھر وہاں سے تخت شاہی اٹھا لائے اور ڈیڑھ ہزار میل کا یہ فاصلہ جسے دو طرفہ شمار کیا جائے تو تین ہزار میل بنتا ہے تین یا چار گھنٹے میں ٍطے کرلے ایک طاقتور سے طاقتور انسان بھی اول تو اتنے بڑے تخت کو اٹھا ہی نہیں سکتا اور اگر وہ مختلف لوگوں یا چیزوں کا سہارا لے کر اٹھوا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

13: یہ کوئی جن تھا جس نے یہ پیشکش کی کہ حضرت سلیمان ؑ کے دربار ختم کرنے سے پہلے ہی وہ تخت اٹھا لائے گا۔ اور یہ اطمینان دلایا کہ نہ صرف یہ کہ اس میں اتنی طاقت ہے، بلکہ وہ امانت دار بھی ہے، اس لیے اس تخت میں جو سونا چاندی یا ہیرے جواہرات لگے ہوں گے، ان میں کوئی خرد برد نہیں کرے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 36–39

فلما جآء ……صغرون (73) ان لوگوں کے ہدایا کو رد کرتے وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دولت کی حقارت کا اظہار بھی کیا۔ ان کو بتایا گیا کہ دولت کی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن نظریات اور ایمانیات کے مقابلہ میں دولت ایک حقیر چیز ہوتی ہے۔ اتمدونن بمال (82 : 63) ” کیا تم مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو۔ “ کیا تم یہ حقیر چیز میرے سامنے پیش کرتے ہوے اور میری اس قدر کم قیمت لگاتے ہو۔ فما اتن اللہ خیر مما اتکم (82 : 63) ” جو کچھ خدا نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو تمہیں دیا ہے۔ “ مجھے مال بھی تم سے زیادہ دیا ہے اوپر منصب نبوت بھی دیا ہے جو جنس مال سے خیر ہے۔ علم نبوت جو بڑی دولت ہے۔ انسانوں ، جنوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 حضرت سلیمان کا دربار روزانہ ایک معین وقت تک لگتا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے کہ آپ دربار سے اٹھ کر جائیں، میں تخت کو حاضر کرسکتا ہوں، مگر اس کو پھر کچھ عرصہ لگتا۔ حضرت سلیمان اس سے بھی زیادہ جلدی چاہتے تھے۔ 6 " زور آور " ہوں، یعنی اپنی قوت بازو سے بہت جلد اٹھا کر لاسکتا ہوں، اللہ نے مجھ کو قدرت دی ہے اور " معتبر ہوں " یعنی اس میں خیانت نہ کروں گا۔ کہتے ہیں تخت بہت بیش قیمت تھا، سونے چاندی کا اور لعل و جواہر جڑے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 39 قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْکَ بِہٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِکَج وَاِنِّیْ عَلَیْہِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ ” جس طرح انسانوں میں کوئی کمزور ہوتا ہے اور کوئی طاقتور ‘ اسی طرح جنوں میں بھی چھوٹے بڑے ِ جن ہوتے ہیں۔ چناچہ ایک طاقتور قوی ہیکل دیو نے دعویٰ کیا کہ آپ علیہ السلام کے دربار برخواست کرنے سے پہلے میں وہ تخت لا کر آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر کیے دیتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 36–39

33 جب یہ وفد تحائف لے کر حصرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوا تو آپ نے یہ تحفے قبول کرنے سے انکار کردیا اور انھیں واضح طور پر بتلا دیا کہ مال و دولت سے مجھے کچھ غرض نہیں۔ نہ ہی میں مال و دولت کی رشوت لے کر اپنے ارادہ سے باز رہ سکتا ہوں۔ میں یہ دولت لے کر کیا کروں گا وہ تو میرے پاس پہلے ہی تم سے بہت زیادہ موجود ہے۔ یہ تمہارے تحفے تمہیں ہی مبارک ہوں۔ تمہارے لئے صرف دو صورتیں ہیں کہ تم مسلمان ہو کر میرے پاس آجاؤ۔ اس صورت میں تمہارا ملک تمہارے ہی پاس رہے گا۔ مجھے کوئی اپنی سلطنت بڑھانے کا شوق نہیں ہے بلکہ میں شرک کا استیصال کرکے تمہیں اللہ کا فرمانبردار بنانا چاہتا ہوں۔ ورنہ پھر دوسری یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

44۔ (آیت) ” لقوی امین “۔ قوی اس لیے کہ وہ تخت لاکھ وزنی سہی، لیکن اس پر بھی اسے لے آؤں گا۔ امین یوں کہ وہ ہزار قیمتی سہی، مرصع سہی، میں کسی طرح کی خیانت نہ کروں گا۔ (آیت) ” عفریت “۔ کے معنی شریر و سرکش قسم کے جن کے ہیں، ھوالعارم والخبیث (راغب) (آیت) ” مقامک “۔ یعنی اپنے اجلاس سے۔ لفظی معنی مکان قیام کے ہیں، اور مقام جلوس کے بھی، المقام مقام القیام وزمانہ (راغب) قال الاخفش ان المقام المقعد (راغب) حضرت سلیمان (علیہ السلام) روزانہ صبح سے دوپہر تک عدالت کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–39

آیت نمبر 32 تا 39 ترجمہ : اے درباریو ! تم میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو میں کسی معاملہ میں اس وقت تک قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس موجود نہ ہو اَلْمَلأُ أفتونِیْ میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور ثانی کی تسہیل یعنی واؤ سے بدل کر ای وَفْتُوْنی ان سب نے جواب دیا کہ ہم بڑے طاقتور اور بڑے لڑنے والے ہیں یعنی جنگ میں بڑی شدت والے ہیں آگے آپ کو اختیار ہے آپ خود ہی غور فرلیں کہ ہم کو کیا حکم دینا چاہتی ہیں ؟ ہم آپ کی اطاعت کریں گے، بلقیس نے کہا بادشاہ جب کسی بستی میں (فاتحانہ) طور پر داخل ہوتے ہیں تو اسے تخریب کے ذریعہ اجاڑ دیتے ہیں اور وہاں کے باعزت لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں اور یہ خط بھیجنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال عفریت من الجن انا اتیک بہ قبل ان تقوم من مقامک . ایک خبیث دیو نے کہا : میں آپ کے اس مقام سے اٹھنے سے پہلے ہی وہ تخت آپ کے پاس لاسکتا ہوں۔ مقام سے مراد ہے اجلاس فیصلہ ‘ مقدمات کی مجلس۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : سلیمان ( علیہ السلام) ہر صبح کو اجلاس کرتے تھے جو دوپہر تک جاری رہتا تھا۔ اس دیو کا نام وہب نے لوذی ‘ بعض لوگوں نے ذکوان اور بعض نے صخر جنی کہا ہے۔ یہ دیو ایک پہاڑی کی طرح تھا بقدر حدنگاہ اس کا ایک قدم پڑتا تھا۔ وانی علیہ لقوی امین . اور یقیناً میں اس کو لانے پر طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار ہوں۔ یعنی جن جواہر سے وہ مرصع ہے ان میں کمی نہیں کروں گا۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(39) یہ سن کر ایک عمر و نامی قوی ہیکل جن نے کہا کہ میں اس کو لا کر آپ کی خدمت میں حاضر کر دوں گا اس سے پہلے کہ آپ اپنے اجلاس سے اٹھیں اور حضرت سلیمان ؑ کا اجلاس قضا آدھی رات تک ہوتا تھا۔ اور میں اس کے اٹھانے پر طاقت رکھتا ہوں اور اس میں جو جواہرات اور موتی اور سونا و چاندی لگا ہوا ہے اس پر امانت دار بھی ہوں۔ حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا میں اس سے جلدی منگوانا چاہتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ عِفْرِيْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ :۔۔ :”عِفْرِيْتٌ“ کا مادہ ”اَلْعَفَرُ“ ہے، جس کا معنی مٹی ہے۔ تفسیر مراغی میں ہے : ”اَلْعِفْرِیْتُ مِنَ الْبَشَرِ : اَلْخَبِیْثُ الْمَاکِرُ الَّذِيْ یُعَفِّرُ أَقْرَانَہُ“ ”وہ خبیث مکار جو اپنے مقابل لوگوں کو مٹی پر گرا دے۔“ مراد جو طاقت ور ہو اور شریر ہو۔ ایک بہت طاقت ور شریر جن کہنے لگا، آپ اپنی جس مجلس میں بیٹھے ہیں آپ کے اس سے اٹھ کر جانے سے پہلے وہ تخت میں آپ کے پاس لے آؤں گا اور میں اسے لانے کی پوری قوت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں، یعنی کسی ہیرے، جوہر یا قیمتی چیز کی خیانت نہیں کروں گا۔ معلوم ہوتا ہے اس کی شہرت اچھی نہ تھی، اس لیے اسے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 39–40

قال عفریت من الجن جمہور کی قرأت یہی ہے۔ ابورجاء اور عیسیٰ ثقفی نے اسے عفریۃ پڑھا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق سے مروی ہے حدیث میں ہے ” اللہ تعالیٰ عفریہ نفریہ کو نپاسند کرتا ہے۔ “ (1) نفریہ کا لفظ عفریتہ کی اتباع میں آتا ہے۔ قتادہ نے کہا : بڑی مصیبت کو کہتے ہیں۔ نحاس نے کہا : شدید کو عفریہ کہتے ہیں جب اس کے ساتھ خبث ہو۔ دھاء عفرو عفریۃ و عفریت وعفاریۃ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عفریت کا معنی رئیس ہے۔ ایک فرقہ نے قرأت کی قال عفر عین کے نیچے کسرہ ہے، ابن عطیہ نے اس کی حکایت بیان کی ہے۔ نحاس نے کہا، جس نے عفریۃ کہا اس کی جمع عفار ہے جس نے کہا، عفریت، اس کی جمع میں تین صورتیں ہیں۔ اگر چاہے تو کہے : عفاریت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–44

ارکان سلطنت سے مشورہ 1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” قالت یا ایہا الملؤا افتونی فی امری “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس نے اپنی مملکت کے سرداروں کو جمع کیا اور اس معاملہ میں ان سے مشورہ کیا ان کی رائے اور اس کی رائے اس بات پر جمع ہوگئی کہ وہ سلیمان (علیہ السلام) سے جنگ کریں گے وہ (لشکر کو لے کر) چلی جب وہ سلیمان (علیہ السلام) کے ملک کے قریب پہنچے تو کہنے لگی میں ان کی طرف تحفہ بھیجوں گی اگر اس نے اس کو قبول کرلیا تو وہ بادشاہ ہے اور میں اس سے لڑوں گی اور اگر اس نے اس کو رد کردیا تو میں اس کے تابع ہوجاؤں گی کیونکہ وہ نبی ہے۔ جب اس کے قاصد سلیمان کے قریب پہنچے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [ کہا ] عِفْرِيْتٌ [ ایک ہوشیار سردار نے ] مِّنَ الْجِنِّ [ جنوں میں سے ] اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ [ میں لاؤں گا آپ کے پاس اس کو ] قَبْلَ اَنْ [ اس سے پہلے کہ ] تَقُوْمَ [ آپ (علیہ السلام) کھڑے ہوئے ] مِنْ مَّقَامِكَ ۚ [ اپنی جگہ سے ] وَاِنِّىْ [ اور بیشک میں ] عَلَيْهِ [ اس پر ] لَقَوِيٌّ [ یقینا قوت رکھنے والا ہوں ] اَمِيْنٌ [ امانتدار ہوں ] عر (ض) عفرا زمین پر پٹک دینا۔ زمین میں دھنسا دینا۔ عفریت ہوشیار۔ کاموں کو کر ڈالنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 39 ترکیب : (آیت۔ 39) انا اتیک میں اتی کے دو امکانات ہیں۔ ایک یہ کہ یہ اسم الفاعل اتی ہے جو مضاف بننے کی وجہ سے اتی ہوا ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ واحد…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 38–41

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ملکہ سبا کا تخت منگوانا، پھر اس سے دریافت کرنا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے ؟ پھر اس کا مسلمان ہوجانا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ سبا کے قاصدوں کو ہدایا سمیت واپس کردیا اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دل میں یہ ڈالا کہ وہ لوگ فرماں بردار ہو کر آئیں گے ہمارے لشکروں سے لڑنے کا ارادہ نہ کریں گے، بعض مفسرین نے یوں لکھا ہے کہ ملکہ سبا اپنے مصاحبین کے ساتھ روانہ ہوچکی تھی بلکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پایہ تخت کے قریب پہنچ چکی تھی حتیٰ کہ اس کا غبار بھی نظر آگیا تھا لہٰذا انہوں نے عرش کو حاضر کرنے کا حکم فرمایا اور یہ مناسب جانا کہ اپنی قوت اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–44

قصہء سوم ملکہء سبا بروایت ھد ھد قال اللہ تعالیٰ وتفقد الطیر فقال مالی لا اری الھد ھد۔۔۔ الی۔۔۔ واسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین۔ (ربط) اب ان آیات میں ملکہ سبا کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو بظاہر اس سورت کا تیسرا قصہ ہے مگر درحقیقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دوسرا قصہ ہے سلیمان (علیہ السلام) کے پاس تین قسم کے لشکر تھے ایک آدمیوں کا اور ایک جنوں کا اور ایک پرندوں کا۔ جو روانگی کے وقت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر سایہ کرتے تھے۔ ایک دن سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کے ایک لشکر کی جانچ پڑتا کی تو اس نے ہد ہد کو نہ پایا جو ہد ہدوں کا سردار تھا۔ فرمایا جب وہ آئے گا تو اس سے پوچھوں گا کہ کیوں غیر حاضر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

34:۔ ایک بہت بڑے طاقت ور جن کہا آپ کے مجلس برخاست کرنے سے پہلے میں تخت آپ کے پاس لاسکتا ہوں۔ کیونکہ میں طاقتور بھی ہوں اور امین بھی ہوں اور اس کے زر و جواہر میں کسی قسم کی خیانت بھی نہیں کروں گا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو چونکہ اس سے بھی پہلے تخت درکار تھا اس لیے آپ نے اس کی بات کو کوئی وقعت نہ دی۔ قال الذی عندہ الخ۔ ایک شخص بولا جس کے پاس کتاب کا علم تھا میں آنکھ جھپکنے سے بھی پہلے لاسکتا ہوں۔ الذی عندہ علم من الکتاب، سے یا تو آصف بن برخیا مراد ہے جو سلیمان (علیہ السلام) کا وزیر تھا اور اسم اعظم کا عامل تھا لیکن اس پر اعتراض لازم آتا ہے کہ اس طرح ایک امتی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 36–40

ربط آیات ملکہ سبا نے اپنے درباریوں سے سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے موصولہ خط کا ذکر کیا اور ان سے مشورہ طلب کیا کہ ہمیں اس خط کا کس طریقے سے جواب دینا چاہیے ۔ درباریوں نے کہا کہ ہمارے پاس جدید اسلحہ سیل یس بہترین فوج ہے۔ رسد و کمک کی بھی کمی نہیں یعنی ہم خط بھیجنے والوں سے ٹکر لینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں ۔ مگر فیصلہ تیرے ہاتھ میں ہے ، جو تو چاہے گی ہم تعمیل کریں گے ۔ اس کے بعد ملکہ نے یہ رائے ظاہر کی کہ درس عالم بتا لی ہے کہ جب بھی کوئی بادشاہ کسی دوسرے ملک پر حملہ آور ہوتا ہے تو اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا ہے اور اس کے باعث لوگوں کو ذلیل کر کے رکھ دیتا ہے لوندا جنگ کوئی اچھی چیز نہیں ۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ عِفْرِيْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِيْكَ بِہٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ۝ 0ۚ وَاِنِّىْ عَلَيْہِ لَقَوِيٌّ اَمِيْنٌ۝ 39 عفر قال تعالی: قالَ عِفْرِيتٌ مِنَ الْجِنِ [ النمل/ 39] . العفریت من الجنّ : هو العارم الخبیث، ويستعار ذلک للإنسان استعارة الشّيطان له، يقال : عفریت نفریت قال ابن قتیبة : العفریت الموثّق الخلق وأصله من العفر، أي : التّراب، وعَافَرَهُ : صارعه، فألقاه في العَفَرِ ، ورجل عِفْرٌ نحو : شرّ وشمرولیث عِفِرِّين : دابّة تشبه الحرباء تتعرّض للرّاكب، وقیل : عِفْرِيَة الدّيك والحباری للشّعر الذي علی رأسهما . ( عر ) العفر یت جنوں میں سے عفریت اس جن کو کہا جاتا ہے جو نہایت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 29–40

انہوں نے کہا ہم بڑے قوی اور بڑے لڑنے والے لوگ ہیں، سلیمان ( علیہ السلام) سے کچھ خوف نہیں مگر تاہم جو آپ کی رائے ہو وہی ٹھیک بلقیس بڑی عقلمند عورت تھی، اس نے سوچا کہ لڑائی کا انجام برا ہے۔ اگر غالب آگیا تو آکر الٹ پلٹ دے گا، عزت داروں کو ذلیل کردے گا اور بادشاہوں کا یہی دستور ہے، صلح کرلینی بہتر ہے۔ اول مرتبہ اس کے پاس جانا تو مصلحت نہیں تحفہ تحائف دے کر ایلچیوں کو بھیجنا چاہئے، اس سے سلیمان ( علیہ السلام) کی پوری کیفیت معلوم ہوجاوے گی۔ یہ بات سب کو پسند آئی، بڑے بڑے بیش قیمت ہدیے دے کر ایلچیوں کو بھیجا تاکہ سلیمان اس مال کو دیکھ کر نرم ہوجاویں مگر سلیمان (علیہ السلام) کا مقصد اس بت پرست…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْکَ بِہٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِکَ ج وَاِنِّیْ عَلَیْہِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ۔ (النمل : 39) (جنوں میں سے ایک قوی ہیکل نے کہا کہ میں اس کو آپ ( علیہ السلام) کے پاس آپ ( علیہ السلام) کی اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے پہلے حاضر کردوں گا اور میں اس کام پر قدرت رکھنے والا اور ایک امانتدار ہوں۔ ) عِفْرِیْتٌتگڑے، زور آور اور قومی ہیکل کو کہتے ہیں۔ قرآن کریم نے مختلف مقامات پر اس بات کا ذکر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو منطق الطیر کا علم دیا تھا، اسی طرح جنات کو ان کے لیے مسخر کردیا تھا۔ اور آپ ( علیہ السلام) کو ایسا علم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 38–39

فہم القرآن ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ملکہ بلقیس کے خلاف پہلا اقدام۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ کے تحائف واپس کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ ہم ضرور تم پر یلغار کریں گے۔ ملکہ بلقیس کو اس کے نمائندوں نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے جمال و کمال اور ان کے اسباب و وسائل کے بارے میں آگاہ کیا تو ملکہ کو یقین ہوگیا کہ ہم اس قدر طاقتور حکمران اور صاحب کردار شخص کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اس لیے اس نے اپنے وزیروں، مشیروں کے ساتھ مشورہ کرنے کے بعد یہ طے کیا کہ مجھے خود ان کی خدمت میں پیش ہونا چاہیے تاکہ ہماری عزت اور ملک سلامت رہے۔ جونہی ملکہ اپنے قوم کے نمائندوں کے ساتھ حضرت سلیمان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

39: قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ (جنات میں سے ایک خبیث دیو نے کہا) ۔ عفریت۔ خبیث سرکش کو کہتے ہیں۔ اس کا نام ذکوان تھا۔ اَنَا ٰاتِیْکَ بِہٖ (میں اس کو تمہارے پاس لاسکتا ہوں) قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِکَ (اس سے قبل کہ آپ اپنی مجلس فیصلہ وقضاء سے اٹھیں) وَاِنِّیْ عَلَیْہِ (اور میں اس کو لانے پر) اٹھانے پر۔ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ (طاقتور امانت دار ہوں) میں اس کو اسی طرح لے آئوں گا۔ اس سے کوئی چیز کم نہ کروں گا۔ اور نہ تبدیل کروں گا۔ سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا۔ میں اس سے بھی جلدی چاہتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

39۔ قال عفریت من الجن، ، ایک قوی دیو نے کہا، وہب کا بیان ہے کہ اس کا نام کو ذی تھا، بعض نے کہا کہ اسکانام ذکوان ہے ۔ ابن عباس کا قول ہے یہ عفریت ایک پہاڑ کی طرح تھا، ضحاک کا قول ہے اس سے مراد خبیث دیو ہے۔ ربیع نے کہا کہ اس سے مراد غلیظ ہے ۔ فراء کا قول ہے کہ اس سے مراد سخت قسم کادیو ہے۔ ” انااتیک بہ قبل ان تقوم من مقامک، ، اس جگہ سے جس جگہ آپ بیٹھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔ ابن عباس کا قول ہے کہ حضرت سلیمان ہر صبح کو مجلس کرتے تھے جو دوپہر تک جاری رہتی تھی۔ وانی علیہ، اس کے اٹھانے کے لیے ، تقوی امین، یعنی جواہر سے وہ مرصع تھا ان میں کمی نہیں کروں گا، حضرت سلیمان نے فرمایا میں اس سے زیادہ جلد منگوانا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 32–43

(32 تا 43) جس وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط بلقیس نے پڑھا تو اس کو یہ تردد ہوا کہ اب کیا کیا جاوے آیا جس طرح اس خط میں لکھا ہے وہی کیا جاوے کہ اپنی حکومت کو چھوڑ کر اور اپنے دین سے ہاتھ اٹھا کر حضرت سلیمان کا دین اور ان کی اطاعت قبول کی جائے یا حضرت سلیمان سے مقابلہ کیا جاوے اسی تردد کے رفع کی شکل نکالنے کے لیے اس نے اپنے مشیروں اور فوج کے افسروں سے صلاح کی تفسیر سدی وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ صلاح مشورہ کے بعد بلقیس نے اپنی ریاست کے لوگوں سے یہ کہا کہ میں اس خط کے جواب میں حضرت سلیمان کے پاس کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اگر انہوں نے وہ تحفہ قبول کرلیا تو جان لینا کہ دنیا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–44

آیت 15 سے 44 اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

35 ایک قوی ہیکل جن کی دربار سلیمانی میں ایک پیشکش : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایک قوی ہیکل جن کی طرف سے تخت بلقیس کو مجلس سلیمانی کی برخاستگی سے قبل لاکر حاضر کرنے کی پیشکش کی گئی۔ یعنی قبل اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی مجلس اور دربار عام سے۔ جس کے بارے میں مروی ہے کہ وہ صبح سے ظہر تک ہوتا تھا۔ جس میں حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) اپنی رعایا کی شکایات و مشکلات سنا کرتے تھے۔ (ابن کثیر، مراغی، معارف وغیرہ) ۔ سو اس قوی ہیکل جن نے حضرت سلیمن کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر حضور یہ خدمت میرے سپرد فرما دیں تو میں ان کی مجلس کی برخاستگی سے قبل تخت بلقیس کو لاکر آپ کے سامنے پیش کردونگا۔ حضرت سلیمان کو چونکہ اللہ پاک نے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–44

سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–44

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 32 تا 44 ۔ اسرار و معارف : مشورہ کی اہمیت : ملکہ بلقیس نے اپنے امراء کو جمع کرکے خط سنانے کے بعد رائے دریافت کی اور کہا کہ تمہیں علم ہے امور سلطنت ہمیشہ تمہارے مشورے سے طے کیے جاتے ہیں اس سے ثابت ہے کہ قبل اسلام بھی بعض حکمران مشورہ کی اہمیت سے واقف تھے اسلام نے مشورہ کی اہمیت پر اس قدر زور دیا کہ خود نبی اکرم ﷺ خدام سے مشورہ فرماتے تھے۔ امراء دربار نے جواب دیا کہ اگر بات مقابلہ کرنے کی ہے تو ہماری جنگی طاقت کسی سے کم نہیں اور ہم مانے ہوئے جنگجو بھی ہیں اور اگر مصلحت اس کے خلاف ہے تو بھی فیصلہ اور حکم تو آپ ہی صادر فرمائیں گی جو مناسب ہو ارشاد فرمائیں اس نے کہا کہ ابھی جنگ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

8 ۔ اس سے اور اگلی آیت سے معلوم ہوسکتا ہے کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے پاس جو جن تھے وہ آیا بنی نوع انسان ہی میں سے تھے جیسا کہ ہمارے زمانہ کے بعض عقل پرست مفسرین کا دعویٰ ہے یا عرف عام کے مطابق اس پوشیدہ مخلوق میں سے جو انسانوں سے الگ ” جن “ کے نام سے معروف ہے ؟ ظاہر ہے کہ کوئی انسان چاہے وہ کتنا ہی موٹا تازہ کیوں نہ ہو یہ طاقت نہیں رکھتا کہ دربار برخاست ہونے سے پہلے پہلے (یعنی صرف چند گھنٹوں کے اندر اندر ہزاروں میل کا سفر طے کر کے بیت المقدس سے سبا جائے اور وہاں سے ملکہ کا تخت (جو ظاہر ہے سخت پہروں میں ہوگا) اٹھا کر واپس آجائے۔ یہ کام اگر کرسکتا ہے تو ایک حقیقی ” جن “ ہی کرسکتا ہے۔ 9 ۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:39) عفریت۔ دیو۔ قوی ہیکل ۔ بڑے بڑے ڈول والا۔ قوی۔ اس لئے کہ تخت خواہ کتنا ہی بڑا اور وزنی ہو میں اسے لے آنے کی قوت رکھتا ہوں۔ امین۔ اس لئے کہ خواہ وہ کتبا ہی قیمتی اور مرصع ہو میں خیانت نہ کروں گا۔ امین۔ امانت دار۔ معتبر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 38–44

لغات القرآن : آیت نمبر 38 تا 44 : ایکم (تم میں سے کون ؟ ) ‘ مسلمین (فرماں برداری اختیار کرنے والے) عفریت (قوت و طاقت والا) ان یرتد (یہ کہ وہ پلٹے) طرف (پلک۔ آنکھ کا گوشہ) ‘ مستقر (رکھا ہوا) ‘ نکروا (شکل بد ل دو ۔ تبدیلی کردو) اھکذا (کیا ایسا ہی ہے ؟ ) کانہ ھو (جیسے اسی جیسا ہو) صد (اس نے روکا) ‘ الصرح (محل) لجۃ (گہرا پانی ) ‘ ساق (پنڈلی (ساقین) ممرد (جڑا ہوا) قواریر (شیشے۔ آیئنے) اسلمت (میں نے فرماں برداری اختیار کرلی) ۔ تشریح : آیت نمبر 38 تا 44 : جب ہدہد پرندے نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط سبا کی ملکہ بلقیس کو پہنچایا تو اس نے اپنے درباریوں سے مشورہ کیا اور فیصلہ کیا گیا کہ اتنی بڑی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 32–39

(ف 1) جس وقت حضرت سلیمان کا خط بلقیس نے پڑھا تو اس کو یہ تردد ہوا کہ اب کیا کیا جائے کیا اپنی حکومت کو چھوڑ کر اور اپنے دین کو چھوڑ کر حضرت سلیمان کا دین اور اطاعت کی جائے یا حضرت سلیمان سے مقابلہ کیا جائے صلاح مشورہ کے بعد بلقیس نے اپنی ریاست کے لوگوں سے یہ کہا کہ میں اس خط کے جواب میں حضرت سلیمان کے پاس کچھ بڑے بڑے بیش قیمت تحفے بھیجتی ہوں تاکہ اس حال کو دیکھ کر نرم دل ہوجائے مگر حضرت سلیمان کا مقصود تو اس بت پرست بادشاہ زادی کو اسلام میں لانا اور کفر کی بڑائی سے بچانا تھا اس لیے ان تحفوں کو کچھ بھی خیال میں نہ لائے اور فرمانے لگے کہ کیا تم لوگ مال سے میری امداد کرنا چاہتے ہو جو ایک حقیر شے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

حل لغات :۔ عفریت ۔ دیو خبیث ۔ لڑاکو ۔ چالاک ۔ توانا جن و انسان دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(39) اس پر جنات میں سے ایک قوی ہیکل جن نے عرض کیا میں اس سے پیشتر کہ آپ اپنے اجلاس سے اٹھیں اور کھڑے ہوں اس تخت کو آپ کے پاس لے آئوں گا اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اس تخت کے لانے پر طاقت رکھتا ہوں اور قابل اعتماد اور امانت دار ہوں یعنی میں اس کو آپ کا اجلاس ختم ہونے سے پہلے لا حاضر کروں گا اگرچہ وہ بہت وزنی ہے مگر میں اس پر طاقت رکھتا ہوں اور میں امانت دار بھی ہوں اس لئے میں جواہرات لگے تھے بیش قیمت 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 36–39

ف 1۔ کیونکہ تمہارے پاس صرف دنیا ہے اور میرے پاس دین بھی، اور دنیا تم سے زیادہ، سو میں تو ان چیزوں کا حریص نہیں ہوں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایک شخص نے جو لشکر جن کا آدمی تھا پہل کی اور کہا کہ میں اس خدمت کیلئے تیار ہوں : 39۔ یہ بات پیچھے بڑی وضاحت سے گزر چکی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے عسکری طاقت وقوت کو تین لشکروں میں تقسیم کیا تھا ایک لشکر کو لشکر جن ‘ دوسرے کو لشکر انس اور تیسرے کو لشکر طیر کا نام دیا گیا تھا اور یہ بات بھی آپ پڑھ چکے ہیں کہ جس شخص نے ملک سبا کی خبر حضرت سلیمان (علیہ السلام) تک پہنچائی تھی وہ لشکر طیر کا جوان تھا بہرحال اس وقت جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے تخت کے بنانے کا کہا تو سب سے پہلے جو شخص اس خدمت کے لئے کھڑا ہوا وہ لشکر جن کا آدمی ہے جس کا نام عفریت تھا یا اس کو شیر ہونے کے باعث ایسا کہا گیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–39

Commentary Bilqis's appearance in the court of Sulaiman (علیہ السلام) Qurtubi has reported, giving references of historical record, that Bilqis's envoys returned from the court of Sulaiman (علیہ السلام) totally dumb-founded and awe-struck, and conveyed his declaration of war to the queen. Then Bilqis said to her people that she was already of the view that he was no ordinary king, but was on some special assignment from God, and that fighting with His messenger is like fighting with God, for which they did not have the strength. After making this statement, she started getting ready to go to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

45 From this it becomes obvious whether the jinns under the Prophet Solomon were, according to the interpretation of some rationalist commentators of the modern times, from among mankind or from among the hidden creation commonly known as jinns. Obviously, the sitting of the Prophet Solomon's court would at the most be of three to four hours, and the distance of Ma'rib, capital of Saba', from Jerusalem was even as the crow dies, not less than 1500 miles. To fetch a splendid throne of a queen from such a distant place in such a short time could not be possible for a man, even if he be a very…

Read the full tafseer →