Explained with ayahs 38–40
بلقیس کو دوبارہ پیغام نبوت ملا
جب قاصد پہنچتا ہے اور بلقیس کو دوبارہ پیغام نبوت پہنچاتا ہے تو وہ سمجھ لیتی ہے اور کہتی ہے واللہ یہ سچے پیغمبر ہیں ایک پیغمبر کا مقابلہ کر کے کوئی پنپ نہیں سکتا۔ اسی وقت دوبارہ قاصد بھیجا کہ میں اپنی قوم کے سرداروں سمیت حاضر خدمت ہوتی ہوں تاکہ خود آپ سے مل کر دینی معلومات حاصل کروں اور آپ سے اپنی تشفی کرلوں یہ کہلوا کر یہاں اپنا نائب ایک کو بنایا۔ سلطنت کے انتظامات اس کے سپرد کئے اپنا لاجواب بیش قیمت جڑاؤ تخت جو سونے کا تھا سات محلوں میں مقفل کیا اور اپنے نائب کو اسکی حفاطت کی خاص تاکید کی اور بارہ ہزار سردار جن میں سے ہر ایک کے تحت ہزاروں آدمی تھے۔ اپنے ساتھ…
Read the full tafseer →سورة النمل 43
بیچ میں یہ قصہ چھوڑ دیا گیا ہے کہ سفارت ملکہ کا ہدیہ واپس لیکر پہنچی اور جو کچھ اس نے دیکھا اور سنا تھا وہ عرض کردیا، ملکہ نے اس سے حضرت سلیمان کے جو حالات سنے ان کی بنا پر اس نے یہی مناسب سمجھا کہ خود ان کی ملاقات کے لیے بیت المقدس جائے، چناچہ وہ خدم و حشم او شاہی ساز و سامان کے ساتھ سبا سے فلسطین کی طرف روانہ ہوئی اور اس نے دربار سلیمانی میں اطلاع بھیج دی کہ میں آپ کی دعوت خود آپ کی زبان سے سننے اور بالمشافہ گفتگو کرنے کے لیے حاضر ہورہی ہوں، ان تفصیلات کو چھوڑ کر اب اس وقت کا قصہ بیان کیا جارہا ہے جب ملکہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئی تھی اور ایک دو ہی دن میں حاضر ہونے والی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
خلاصہ تفسیر
(غرض وہ قاصد اپنے ہدایا لے کر واپس گیا اور سارا قصہ بلقیس سے بیان کیا تو حالات سے اس کو حضرت سلیمان ؑ کے علم اور نبوت کے کمالات کا یقین ہوگیا اور حاضر ہونے کے ارادہ سے اپنے ملک سے چلی) سلیمان (علیہ السلام کو وحی سے یا اور کسی پرندے وغیرہ کے ذریعہ اس کا چلنا معلوم ہوا تو انہوں) نے (اپنے دربار والوں سے) فرمایا کہ اے دربار والو تم میں کوئی ایسا ہے جو اس (بلقیس) کا تخت پہلے اس کے کہ وہ لوگ میرے پاس مطیع ہو کر آویں حاضر کردے (مسلمین کی قید اظہار واقعہ کے لئے ہے کیونکہ وہ لوگ اسی قصد سے آ رہے تھے تخت کا منگانا غالباً اس غرض سے ہے کہ وہ لوگ میرا معجزہ بھی دیکھ لیں کیونکہ اتنا بڑا تخت اور…
Read the full tafseer →قال یایھا الملوا ایکم یاتینی بعرشھا قبل ان یاتونی مسلمین (38)
حضرت مبیناً کی ایک تدبیر
سفیروں کو واپس کردینے کے بعد حضرت سلیمان نے یہ اندازہ اچھی طرح فرما لیا کہ یہ لوگ جنگ کا خطرہ مول لینے کی جرأت نہیں کریں گے بلکہ بہت جلد ان کے مطالبہ کے آگے سر تسلیم خم کردیں گے۔ اس سے پہلے پہلے انہوں نے یہ چاہا کہ بلکہ اور ان کے درباریوں کے سامنے ان کی طرف سے کوئی ایسی بات ظاہر ہوجائے جو ان کو بالکل ہی مرعوب کر دے۔ چناچہ انہوں نے یہ ارادہ فرمایا کہ ملکہ کے اس تخت کو جس کی شان و عظمت کی ان کے قاصد نے خبر دی تھی، اپنے دربار میں منگوا لیں۔ اس کے لئے انہوں نے اپنے درباریوں سے فرمایا کہ تم میں سے ایسا کون ہے…
Read the full tafseer →38-1حضرت سلیمان ؑ کے اس جواب سے ملکہ نے اندازہ لگا لیا کہ وہ سلیمان ؑ کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے چناچہ انہوں نے مطیع و منقاد ہو کر آنے کی تیاری شروع کردی۔ سلیمان ؑ کو بھی ان کی آمد کی اطلاع مل گئی تو آپ نے انھیں مذید اپنی اعجازی شان دکھانے کا پروگرام بنایا اور انکے پہنچنے سے قبل ہی اس کا تخت شاہی اپنے پاس منگوانے کا بندوبست کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–38
12: حضرت سلیمان ؑ در اصل یہ چاہتے تھے کہ جب ملکہ آئے تو اس کے سامنے ان کا یہ معجزہ ظاہر ہو کہ اتنا بھاری تخت ملکہ کے آنے سے پہلے ہی حضرت سلیمان ؑ کے پاس پہنچ گیا، اور اس طرح ان کی طاقت کا بھی مظاہرہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
فلما جآء ……صغرون (73)
ان لوگوں کے ہدایا کو رد کرتے وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دولت کی حقارت کا اظہار بھی کیا۔ ان کو بتایا گیا کہ دولت کی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن نظریات اور ایمانیات کے مقابلہ میں دولت ایک حقیر چیز ہوتی ہے۔
اتمدونن بمال (82 : 63) ” کیا تم مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو۔ “ کیا تم یہ حقیر چیز میرے سامنے پیش کرتے ہوے اور میری اس قدر کم قیمت لگاتے ہو۔
فما اتن اللہ خیر مما اتکم (82 : 63) ” جو کچھ خدا نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو تمہیں دیا ہے۔ “ مجھے مال بھی تم سے زیادہ دیا ہے اوپر منصب نبوت بھی دیا ہے جو جنس مال سے خیر ہے۔ علم نبوت جو بڑی دولت ہے۔ انسانوں ، جنوں…
Read the full tafseer →4 قاصد نے واپس جا کر پیغام جنگ پہنچا دیا۔ بلقیس کو یقین ہوگیا کہ یہ کوئی معمولی بادشاہ نہیں ان کی قوت خدائی زور سے ہے۔ جدال و قتال سے کچھ فائدہ نہ ہوگا، نہ کوئی حیلہ اور زور ان کے روبرو چل سکتا ہے آخر اظہار اطاعت وانقیاد کی غرض سے بڑے سازو سامان کے ساتھ حضرت سلیمان کی خدمت میں حاضری دینے کے لیے روانہ ہوگئی۔ جب ملک شام کے قریب پہنچی، حضرت سلیمان نے اپنے درباریوں سے فرمایا " کوئی ہے جو بلقیس کا تخت شاہی اس کے پہنچنے سے پیشتر میرے سامنے حاضر کر دے۔ " اس میں بھی حضرت سلیمان کو کئی طرح بلقیس پر اپنی خدا داد عظمت و قوت کا اظہار مقصود تھا۔ تاکہ وہ سمجھ لے کہ یہ نرے بادشاہ نہیں، کوئی اور فوق العادت…
Read the full tafseer →آیت 38 قَالَ یٰٓاَیُّہَا الْمَلَؤُا اَیُّکُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِہَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ ”
یعنی آپ علیہ السلام کو یقین تھا کہ ملکہ سبا اظہار اطاعت کے لیے ضرور حاضر ہوگی۔ چناچہ آپ علیہ السلام نے چاہا کہ اس کے آنے سے پہلے اس کا تخت یہاں پہنچ جائے اور اس میں تھوڑی بہت تبدیلی کر کے اس کی آزمائش کی جائے کہ وہ اپنے تخت کو پہچان پاتی ہے یا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
33 جب یہ وفد تحائف لے کر حصرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوا تو آپ نے یہ تحفے قبول کرنے سے انکار کردیا اور انھیں واضح طور پر بتلا دیا کہ مال و دولت سے مجھے کچھ غرض نہیں۔ نہ ہی میں مال و دولت کی رشوت لے کر اپنے ارادہ سے باز رہ سکتا ہوں۔ میں یہ دولت لے کر کیا کروں گا وہ تو میرے پاس پہلے ہی تم سے بہت زیادہ موجود ہے۔ یہ تمہارے تحفے تمہیں ہی مبارک ہوں۔ تمہارے لئے صرف دو صورتیں ہیں کہ تم مسلمان ہو کر میرے پاس آجاؤ۔ اس صورت میں تمہارا ملک تمہارے ہی پاس رہے گا۔ مجھے کوئی اپنی سلطنت بڑھانے کا شوق نہیں ہے بلکہ میں شرک کا استیصال کرکے تمہیں اللہ کا فرمانبردار بنانا چاہتا ہوں۔ ورنہ پھر دوسری یہ…
Read the full tafseer →43۔ وہ قاصد اب واپس پہنچتا ہے، اور حالات دربار سلیمان بیان کرتا ہے، بلقیس یہ سن کر حاضری کا قصد کرتی ہے، اس کی اطلاع حضرت سلیمان کو وحی الہی یا کسی اور ذریعہ سے آجاتی ہے۔ اس وقت وہ یہ گفتگو اپنے اہل دربار سے کرتے ہیں، عجب نہیں کہ اس خارق عادت کے ذریعہ سے مقصود حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اپنے کمالات باطنی کے ساتھ اپنی قوت اعجازی کا اظہار ہو۔ اس کے اعجازی پہلو کو سمجھنے کے لیے ملک یمن اور فلسطین کا درمیانی فاصلہ نظر میں رہے۔ بحری راستہ سے پہنچنے میں اس وقت مہینوں کا ذکر نہیں، دو دو تین تین سال لگ جاتے تھے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
آیت نمبر 32 تا 39
ترجمہ : اے درباریو ! تم میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو میں کسی معاملہ میں اس وقت تک قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس موجود نہ ہو اَلْمَلأُ أفتونِیْ میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور ثانی کی تسہیل یعنی واؤ سے بدل کر ای وَفْتُوْنی ان سب نے جواب دیا کہ ہم بڑے طاقتور اور بڑے لڑنے والے ہیں یعنی جنگ میں بڑی شدت والے ہیں آگے آپ کو اختیار ہے آپ خود ہی غور فرلیں کہ ہم کو کیا حکم دینا چاہتی ہیں ؟ ہم آپ کی اطاعت کریں گے، بلقیس نے کہا بادشاہ جب کسی بستی میں (فاتحانہ) طور پر داخل ہوتے ہیں تو اسے تخریب کے ذریعہ اجاڑ دیتے ہیں اور وہاں کے باعزت لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں اور یہ خط بھیجنے…
Read the full tafseer →قال یایھا الملوا ایکم یاتینی بعرشھا قبل ان یاتونی مسلمین . کہا : اے سردارو ! تم میں
سے کون اس کا تخت میرے پاس لے آئے گا قبل اس کے کہ وہ لوگ مسلمان ہو کر میرے پاس پہنچیں۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) بلقیس کو اللہ کی قدرت اور اس کا عطا کردہ معجزہ دکھانا چاہتے تھے ‘ بلقیس کی عقل کی آزمائش بھی مقصود تھی کہ (مرصع کاری کو) بدلنے کے بعد وہ اپنے تخت کو پہچان سکے گی یا نہیں۔
مسلمان ہو کر آنے سے پہلے کی (حسب صوابدید مفسر (رح) شرط اس لئے لگائی کہ مسلمان ہونے کے بعد تو بلقیس کی رضامندی کے بغیر اس کا تخت لینا حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے لئے حلال نہ تھا (اس فقیر مترجم کی نظر میں یہ توجیہ نامناسب ہے ‘ اس سے…
Read the full tafseer →(38) اس کے بعد حضرت سلیمان ؑ نے درباریوں سے کہا کہ تم میں کوئی ایسا شخص ہے کہ بلقیس کا تخت اس سے پہلے کہ وہ لوگ میرے پاس مطیع ہو کر آئیں حاضر کر دے
Read the full tafseer →قَالَ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤُا اَيُّكُمْ يَاْتِيْنِيْ بِعَرْشِهَا۔۔ : آیات کے سیاق سے یہ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ جب قاصد ملکہ سبا کے پاس پہنچا اور اس نے سلیمان ؑ کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا اور ان کا پیغام پہنچایا تو وہ سمجھ گئی کہ وہ ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی، چناچہ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود آپ کے ہاں حاضر ہو کر آپ کے ساتھ گفت و شنید کرے۔ چناچہ وہ اپنے لشکر اور سرداروں کے ساتھ روانہ ہوئی، ابھی وہ راستے میں تھی اور پہنچا ہی چاہتی تھی کہ سلیمان ؑ نے اپنے سرداروں کو مخاطب کرکے فرمایا : ”تم میں سے کون ہے جو اس کا تخت میرے پاس اس سے پہلے لے آئے کہ وہ تابع فرمان ہو کر میرے پاس آئیں۔“ سلیمان ؑ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
فلما جآء سلیمن قال اتمدونن بمال قاصد حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس ہدیہ لایا فرمایا : اتمدونن بمال حمزہ، یعقوب اور اعمش نے ایک نون مشددہ اور اس کے بعد یائہ ثابتہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ باقی قراء نے دونوں پڑھے ہیں، یہ ابوعبید کا پسندیدہ قول ہے، کیونکہ تمام مصاحف میں دونوں ہیں۔ اسحاق نے نافع سے یہ قرأت نقل کی ہے اتمدون یعنی ایک نون ہے مخفہ ہے بعد میں یاء ہے جو لفظوں میں ہے۔ ابن انباری نے کہا، اس قرأت میں واجب ہے کہ وقف کے وقت یاء کو ثابت رکھا جائے تاکہ مصحف کے ہجوں کے ساتھ موافقت ہوجائے۔ اصل نون مشددہ ہے اس جگہ تشدید میں تخیف کی گئی ہے جس طرح اشھدانت عالم میں تخفیف کی گئی ہے اصل انک عالم ہے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
ارکان سلطنت سے مشورہ
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” قالت یا ایہا الملؤا افتونی فی امری “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس نے اپنی مملکت کے سرداروں کو جمع کیا اور اس معاملہ میں ان سے مشورہ کیا ان کی رائے اور اس کی رائے اس بات پر جمع ہوگئی کہ وہ سلیمان (علیہ السلام) سے جنگ کریں گے وہ (لشکر کو لے کر) چلی جب وہ سلیمان (علیہ السلام) کے ملک کے قریب پہنچے تو کہنے لگی میں ان کی طرف تحفہ بھیجوں گی اگر اس نے اس کو قبول کرلیا تو وہ بادشاہ ہے اور میں اس سے لڑوں گی اور اگر اس نے اس کو رد کردیا تو میں اس کے تابع ہوجاؤں گی کیونکہ وہ نبی ہے۔ جب اس کے قاصد سلیمان کے قریب پہنچے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →قَالَ [ (سلیمان (علیہ السلام) نے) کہا ] يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤُا [ اے سردارو ] اَيُّكُمْ [ تم میں کا کون ] يَاْتِيْنِيْ [ لائے گا میرے پاس ] بِعَرْشِهَا [ اس کے تخت کو ] قَبْلَ اَنْ [ اس سے پہلے کہ ] يَّاْتُوْنِيْ [ وہ سب آئیں میرے پاس ] مُسْلِمِيْنَ [ فرمانبرادار ہوتے ہوئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ملکہ سبا کا تخت منگوانا، پھر اس سے دریافت کرنا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے ؟ پھر اس کا مسلمان ہوجانا
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ سبا کے قاصدوں کو ہدایا سمیت واپس کردیا اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دل میں یہ ڈالا کہ وہ لوگ فرماں بردار ہو کر آئیں گے ہمارے لشکروں سے لڑنے کا ارادہ نہ کریں گے، بعض مفسرین نے یوں لکھا ہے کہ ملکہ سبا اپنے مصاحبین کے ساتھ روانہ ہوچکی تھی بلکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پایہ تخت کے قریب پہنچ چکی تھی حتیٰ کہ اس کا غبار بھی نظر آگیا تھا لہٰذا انہوں نے عرش کو حاضر کرنے کا حکم فرمایا اور یہ مناسب جانا کہ اپنی قوت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–44
قصہء سوم ملکہء سبا بروایت ھد ھد
قال اللہ تعالیٰ وتفقد الطیر فقال مالی لا اری الھد ھد۔۔۔ الی۔۔۔ واسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین۔
(ربط) اب ان آیات میں ملکہ سبا کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو بظاہر اس سورت کا تیسرا قصہ ہے مگر درحقیقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دوسرا قصہ ہے سلیمان (علیہ السلام) کے پاس تین قسم کے لشکر تھے ایک آدمیوں کا اور ایک جنوں کا اور ایک پرندوں کا۔ جو روانگی کے وقت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر سایہ کرتے تھے۔ ایک دن سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کے ایک لشکر کی جانچ پڑتا کی تو اس نے ہد ہد کو نہ پایا جو ہد ہدوں کا سردار تھا۔ فرمایا جب وہ آئے گا تو اس سے پوچھوں گا کہ کیوں غیر حاضر…
Read the full tafseer →33:۔ اس سے پہلے اندماج ہے جب بلقیس کے فرستادوں نے واپس پہنچ کر تمام سرگذشت سنائی تو وہ سمجھ گئی کہ سلیمان (علیہ السلام) واقعی اللہ کے پیغمبر ہیں اس لیے اس نے ایمان لانے اور سلیمان (علیہ السلام) کی اطاعت قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس نے آدمی بھیج کر پہلے اپنے ارادے سے سلیمان (علیہ السلام) کی اطاعت قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس نے آدمی بھیج کر پہلے اپنے ارادے سے سلیمان (علیہ السلام) کو آگاہ کیا اور پھر امراء سلطنت اور رؤساء ملک کو ساتھ لے کر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف روانہ ہوگئی۔ جب ان کو اس کی آمد کی اطلاع ملی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس کے یہاں پہنچنے سے پہلے اس کا تخت یہاں آجائے اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
ربط آیات
ملکہ سبا نے اپنے درباریوں سے سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے موصولہ خط کا ذکر کیا اور ان سے مشورہ طلب کیا کہ ہمیں اس خط کا کس طریقے سے جواب دینا چاہیے ۔ درباریوں نے کہا کہ ہمارے پاس جدید اسلحہ سیل یس بہترین فوج ہے۔ رسد و کمک کی بھی کمی نہیں یعنی ہم خط بھیجنے والوں سے ٹکر لینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں ۔ مگر فیصلہ تیرے ہاتھ میں ہے ، جو تو چاہے گی ہم تعمیل کریں گے ۔ اس کے بعد ملکہ نے یہ رائے ظاہر کی کہ درس عالم بتا لی ہے کہ جب بھی کوئی بادشاہ کسی دوسرے ملک پر حملہ آور ہوتا ہے تو اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا ہے اور اس کے باعث لوگوں کو ذلیل کر کے رکھ دیتا ہے لوندا جنگ کوئی اچھی چیز نہیں ۔…
Read the full tafseer →قَالَ يٰٓاَيُّہَا الْمَلَؤُا اَيُّكُمْ يَاْتِيْنِيْ بِعَرْشِہَا قَبْلَ اَنْ يَّاْتُوْنِيْ مُسْلِـمِيْنَ 38
ملأ
المَلَأُ : جماعة يجتمعون علی رأي، فيملئون العیون رواء ومنظرا، والنّفوس بهاء وجلالا . قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] ،
( م ل ء ) الملاء
۔ وی جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہو تو مظروں کو ظاہری حسن و جمال اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھردے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] نھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا ۔
أيا
أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–40
انہوں نے کہا ہم بڑے قوی اور بڑے لڑنے والے لوگ ہیں، سلیمان ( علیہ السلام) سے کچھ خوف نہیں مگر تاہم جو آپ کی رائے ہو وہی ٹھیک بلقیس بڑی عقلمند عورت تھی، اس نے سوچا کہ لڑائی کا انجام برا ہے۔ اگر غالب آگیا تو آکر الٹ پلٹ دے گا، عزت داروں کو ذلیل کردے گا اور بادشاہوں کا یہی دستور ہے، صلح کرلینی بہتر ہے۔ اول مرتبہ اس کے پاس جانا تو مصلحت نہیں تحفہ تحائف دے کر ایلچیوں کو بھیجنا چاہئے، اس سے سلیمان ( علیہ السلام) کی پوری کیفیت معلوم ہوجاوے گی۔ یہ بات سب کو پسند آئی، بڑے بڑے بیش قیمت ہدیے دے کر ایلچیوں کو بھیجا تاکہ سلیمان اس مال کو دیکھ کر نرم ہوجاویں مگر سلیمان (علیہ السلام) کا مقصد اس بت پرست…
Read the full tafseer →قَالَ یٰٓـاَیُّھَا الْمَلَؤُا اَیُّـکُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِھَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ ۔ (النمل : 38)
(حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا، اے اہل دربار ! تم میں سے کون اس کا تخت میرے پاس لاتا ہے، قبل اس کے کہ وہ لوگ مطیع ہو کر میرے پاس حاضر ہوں۔ )
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دعوتی تدبیر
معلوم ہوتا ہے کہ سفیروں نے واپس جا کر ملکہ سبا کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دربار اور ان کی مملکت کے حالات کے بارے میں جو خبر دی اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی متقیانہ زندگی کے بارے میں جو تفصیلات بہم پہنچائیں انھیں سامنے رکھتے ہوئے ملکہ نے یہ فیصلہ کرلیا کہ سلیمان محض ایک حکمران نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ملکہ بلقیس کے خلاف پہلا اقدام۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ کے تحائف واپس کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ ہم ضرور تم پر یلغار کریں گے۔ ملکہ بلقیس کو اس کے نمائندوں نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے جمال و کمال اور ان کے اسباب و وسائل کے بارے میں آگاہ کیا تو ملکہ کو یقین ہوگیا کہ ہم اس قدر طاقتور حکمران اور صاحب کردار شخص کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اس لیے اس نے اپنے وزیروں، مشیروں کے ساتھ مشورہ کرنے کے بعد یہ طے کیا کہ مجھے خود ان کی خدمت میں پیش ہونا چاہیے تاکہ ہماری عزت اور ملک سلامت رہے۔ جونہی ملکہ اپنے قوم کے نمائندوں کے ساتھ حضرت سلیمان…
Read the full tafseer →38: جب ملکہ کی طرف اس کے قاصد اپنے ہدایا لے کر واپس آئے اور انہوں نے واقعات بیان کیے۔ تو بلقیس نے کہا وہ نبی ہیں ہمیں ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔ پھر اس نے اپنے تخت کو سات کمروں میں بند کر کے ان کے دروازے بند کردیئے اور اس پر پہردار مقرر کیے۔ جو حفاظت کریں اور سلیمان (علیہ السلام) کی طرف پیغام بھیجا کہ میں خدمت میں حاضر ہو رہی ہوں تاکہ آپ کی دعوت پر غور کروں۔ اور بارہ ہزار سرداروں کی سربراہی میں روانہ ہوئی ہر سردار کے ماتحت بھی ہزاروں لوگ تھے۔ جب سلیمان (علیہ السلام) سے اس کا فاصلہ ایک فرسخ رہ گیا تو آپ نے فرمایا۔
اظہارِ معجزہ :
قَالَ یٰٓـاَیُّہَا الْمَلَؤُا اَیُّکُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِہَا…
Read the full tafseer →38۔ قال یا ایھا الملاء ایکم یاتینی ، ،، اس کے ایمان لانے سے پہلے۔
بلقیس کے تخت کو حاضر کرنے کا حکم۔
ابن عباس نے فرمایا ا س کی اطاعت کرنے سے پہلے حضرت سلیمان کی ارشاد کی وجہ سے آئمہ مفسرین نے مختلف اقوال نقل کیے ہیں۔ انہوں نے بلقیس کے تخت کو حاضر کرنے کا کیوں حکم دیا ؟ اکثر مفسرین نے اس کا یہ جواب نقل کیا ہے حضرت سلیمان جانتے تھے کہ اس کے اسلام لانے کے بعد اس کے مال پر قبضہ نہیں کرسکتے اور اس کی رضامندی سے اس کا تخت لینا حضرت سلیمان کے لیے جائز نہیں، اس لیے ارادہ کیا اس کے اسلام لانے سے پہلے اس کو اپنے پاس حاضر کیا جائے۔ بعض نے یہ جواب دیا کہ تاکہ اس کے ذریعے سے اس کو اللہ کی قدرت کا مشاہدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–43
(32 تا 43) جس وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط بلقیس نے پڑھا تو اس کو یہ تردد ہوا کہ اب کیا کیا جاوے آیا جس طرح اس خط میں لکھا ہے وہی کیا جاوے کہ اپنی حکومت کو چھوڑ کر اور اپنے دین سے ہاتھ اٹھا کر حضرت سلیمان کا دین اور ان کی اطاعت قبول کی جائے یا حضرت سلیمان سے مقابلہ کیا جاوے اسی تردد کے رفع کی شکل نکالنے کے لیے اس نے اپنے مشیروں اور فوج کے افسروں سے صلاح کی تفسیر سدی وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ صلاح مشورہ کے بعد بلقیس نے اپنی ریاست کے لوگوں سے یہ کہا کہ میں اس خط کے جواب میں حضرت سلیمان کے پاس کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اگر انہوں نے وہ تحفہ قبول کرلیا تو جان لینا کہ دنیا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
آیت 15 سے 44
اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان…
Read the full tafseer →34 سلیمان کی طرف سے تخت بلقیس کو حاضر کرنے کا حکم و ارشاد : بیچ میں سلسلہ کلام کا یہ تمام حصہ حذف کردیا گیا کہ بلقیس کے قاصد حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) کا یہ پیغام لے کر اس کے پاس واپس پہنچے اور سارا ماجرا ملکہ کو سنا دیا۔ جس سے اس کو اندازہ ہوگیا کہ یہ کوئی دنیاوی بادشاہ نہیں بلکہ بادشاہت اور نبوت دونوں کی جامع ہستی ہے۔ اس لئے اس سے مقابلہ و معارضہ کی کوئی صورت اپنانے کی بجائے اطاعت و فرمانبرداری کا طریقہ اپناتے ہوئے اس کے حضور حاضری دینی چاہیئے۔ اور اپنے اس ارادے اور پروگرام کی ملکہ بلقیس نے حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) کو اطلاع بھی کردی۔ تب اس موقع پر حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) نے یہ ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں
تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 32 تا 44 ۔ اسرار و معارف :
مشورہ کی اہمیت : ملکہ بلقیس نے اپنے امراء کو جمع کرکے خط سنانے کے بعد رائے دریافت کی اور کہا کہ تمہیں علم ہے امور سلطنت ہمیشہ تمہارے مشورے سے طے کیے جاتے ہیں اس سے ثابت ہے کہ قبل اسلام بھی بعض حکمران مشورہ کی اہمیت سے واقف تھے اسلام نے مشورہ کی اہمیت پر اس قدر زور دیا کہ خود نبی اکرم ﷺ خدام سے مشورہ فرماتے تھے۔
امراء دربار نے جواب دیا کہ اگر بات مقابلہ کرنے کی ہے تو ہماری جنگی طاقت کسی سے کم نہیں اور ہم مانے ہوئے جنگجو بھی ہیں اور اگر مصلحت اس کے خلاف ہے تو بھی فیصلہ اور حکم تو آپ ہی صادر فرمائیں گی جو مناسب ہو ارشاد فرمائیں اس نے کہا کہ ابھی جنگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
6 ۔ کہتے ہیں کہ جب ایلچی پیغام لے کر بلقیس کے پاس واپس پہنچا اور اس نے اس سے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا آنکھوں دیکھا سب حال بیان کیا تو وہ سمجھ گئی کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) واقعی اللہ کے پیغمبر ہیں۔ چناچہ اس نے اطاعت قبول کی اور تابعداروں کی طرح اپنے لائو لشکر سمیت بیت المقدس کی طرف روانہ ہوگئی۔ ادھر جب حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کو اس کی روانگی کی خبر ملی تو وہ نہایت خوش ہوئے۔ (ابن کثیر) اس وقت انہوں نے اپنے درباریوں سے کہا…“ 7 ۔ تاکہ جب وہ یہاں پہنچ کر اپنے تخت کو موجود پائے تو اسے معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کو کیسی غیر معمولی قوتیں عطا فرماتا ہے اور اسے یقین آجائے کہ میں…
Read the full tafseer →(27:38) قال : ای قال سلیمن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
لغات القرآن : آیت نمبر 38 تا 44 :
ایکم (تم میں سے کون ؟ ) ‘ مسلمین (فرماں برداری اختیار کرنے والے) عفریت (قوت و طاقت والا) ان یرتد (یہ کہ وہ پلٹے) طرف (پلک۔ آنکھ کا گوشہ) ‘ مستقر (رکھا ہوا) ‘ نکروا (شکل بد ل دو ۔ تبدیلی کردو) اھکذا (کیا ایسا ہی ہے ؟ ) کانہ ھو (جیسے اسی جیسا ہو) صد (اس نے روکا) ‘ الصرح (محل) لجۃ (گہرا پانی ) ‘ ساق (پنڈلی (ساقین) ممرد (جڑا ہوا) قواریر (شیشے۔ آیئنے) اسلمت (میں نے فرماں برداری اختیار کرلی) ۔
تشریح : آیت نمبر 38 تا 44 :
جب ہدہد پرندے نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط سبا کی ملکہ بلقیس کو پہنچایا تو اس نے اپنے درباریوں سے مشورہ کیا اور فیصلہ کیا گیا کہ اتنی بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
(ف 1) جس وقت حضرت سلیمان کا خط بلقیس نے پڑھا تو اس کو یہ تردد ہوا کہ اب کیا کیا جائے کیا اپنی حکومت کو چھوڑ کر اور اپنے دین کو چھوڑ کر حضرت سلیمان کا دین اور اطاعت کی جائے یا حضرت سلیمان سے مقابلہ کیا جائے صلاح مشورہ کے بعد بلقیس نے اپنی ریاست کے لوگوں سے یہ کہا کہ میں اس خط کے جواب میں حضرت سلیمان کے پاس کچھ بڑے بڑے بیش قیمت تحفے بھیجتی ہوں تاکہ اس حال کو دیکھ کر نرم دل ہوجائے مگر حضرت سلیمان کا مقصود تو اس بت پرست بادشاہ زادی کو اسلام میں لانا اور کفر کی بڑائی سے بچانا تھا اس لیے ان تحفوں کو کچھ بھی خیال میں نہ لائے اور فرمانے لگے کہ کیا تم لوگ مال سے میری امداد کرنا چاہتے ہو جو ایک حقیر شے…
Read the full tafseer →[9] بیچ میں یہ قصہ چھوڑ دیا گیا ہے کہ ایلچی واپس پہنچتے ہی حالات دربار سلیمانی ملکہ سے بیان کرتے ہیں۔ ملکہ
نے حالات سن کر یہ مناسب سمجھا کہ خود سلیمان (علیہ السلام) سے ملاقات اور آپ سے بالمشافہ گفتگو کرے چناچہ وہ سبا سے روانہ ہوئی اور اپنی روانگی کی اطلاع سلیمان (علیہ السلام) کو بھیج دی۔ جب سلیمان (علیہ السلام) کو یہ اطلاع ملتی ہے اس وقت وہ یہ گفتگو اپنے اہل دربار سے کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →ف 4: بات یہ تھی کہ حضرت سلیمان کے مدنظر تبلیغ الاسلام میں انہوں نے اسی لئے دعوتی خط بھیجا تھا آپ چاہتے تھے کہ اس ملک کے لوگ اسلام کی دعوت کو قبول کرلیں ۔ اور بت پرستی چھوڑ دیں ۔ آپ کی خواہش تھی کہ یہ لوگ آفات کو خدا نہ سمجھیں بلکہ اس خدا کے سامنے جھکیں جس نے آفتاب کو پیدا کیا ہے ۔ مگر ملکہ نے اس دعوت پر قطعاً غور نہ کیا اور جس عنوان سے جواب دیا وہ توہین کے مزادلہ تھا ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سلیمان کا مقصد جہاد سے محض حدود سلطنت کو وسیع کرنا ہے اور مال و دولت کو حاصل کرنا ہے اسلام کی اشاعت اور حق مد نظر نہیں ۔ حالانکہ واقعہ اس کے برعکس تھا ۔
Read the full tafseer →(38) غرض ! بلقیس نے ایلچی کا پیام سن کر یہ فیصلہ کیا کہ ہم کو چلناچاہئے اور مقابلہ نہیں کرنا چاہئے ورنہ مبادا محکومی اور ذلت کا سامنا ہو چناچہ وہ وہاں سے روانہ ہوئی اور یہاں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے درباریوں سے فرمایا اے اہل دربار کوئی تم میں ایسا بھی ہے کہ قبل اس کے کہ وہ لوگ میرے پاس مطیع ہوکر آئیں بلقیس کا تخت میرے پاس لے آئے یعنی وہ لوگ چونکہ اسلام کی اطاعت کے لئے آرہے تھے اس لئے مسلمین کی قید واقعی ہے غالباً یہ بھی مقصود ہوگا کہ معجزے کا اظہار بھی ان پر ہوجائے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہی کافر جو اپنی امان میں نہیں اس کا مال زبردستی سے حلال ہے جب وہ مسلمان ہوا پھر حلال نہیں 12…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
ف 1۔ کیونکہ تمہارے پاس صرف دنیا ہے اور میرے پاس دین بھی، اور دنیا تم سے زیادہ، سو میں تو ان چیزوں کا حریص نہیں ہوں۔
Read the full tafseer →حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے درباریوں کو جمع کیا اور کہا تم میں سے کون ملکہ کیلئے تخت تیار کرے گا :
38۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے درباریوں کو جمع کیا اور خصوصا ان میں وہ لوگ ہوں گے جو ملک سبا ‘ ملکہ سبا اور اس کے تخت کو اچھی طرح دیکھ چکے ہوں گے بہرحال ان سب کو جمع کرکے اس کو کہا کہ اب ملکہ سبا کا مع اپنے اعوان وانصار کے آنا تو لازم وضروری ہے تو یہ بتاؤ کہ تم میں سے کون ہے جو ملکہ سبا کے لئے ایسا تخت تیار کر دے جو اس کے تخت سے بہتر ہو یعنی کم از کم اس جیسا تاکہ وہ یہاں پہنچ کر متاثر ہوجائے کہ جس عرش پر اس کو ناز ہے اس سے بہتر تو یہاں ہماری مہمان نوازی کے لئے موجود ہے تو صاحب ملک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
Commentary
Bilqis's appearance in the court of Sulaiman (علیہ السلام)
Qurtubi has reported, giving references of historical record, that Bilqis's envoys returned from the court of Sulaiman (علیہ السلام) totally dumb-founded and awe-struck, and conveyed his declaration of war to the queen. Then Bilqis said to her people that she was already of the view that he was no ordinary king, but was on some special assignment from God, and that fighting with His messenger is like fighting with God, for which they did not have the strength. After making this statement, she started getting ready to go to…
Read the full tafseer →43 The details of the story that have been omitted are to the effect: The envoys returned to the queen with the gift and made a report of what they had seen and heard; the queen decided on the basis of what she heard about the Prophet Solomon to make a visit to Jerusalem to see him personally; she left Saba' for palestine accompanied by her royal entourage and Sent a message to Solomon's court that she washerself coming to personally hear the invitation from the king himself and to have a direct talk with him. Here, the story is resumed from the time when the queen had reached near Jerusalem…
Read the full tafseer →