Explained with ayahs 36–37
بلقیس نے بہت ہی گراں قدر تحفہ حضرت سلیمان ؑ کے پاس بھیجا۔ سونا موتی جواہر وغیرہ سونے کی کثیر مقدار اینٹیں سونے کے برتن وغیرہ۔ بعض کے مطابق کچھ بچے عورتوں کے لباس میں اور کچھ عورتیں لڑکوں کے لباس میں بھیجیں اور کہا کہ اگر وہ انہیں پہچان لیں تو اسے نبی مان لینا چاہیے۔ جب یہ حضرت سلیمان ؑ کے پاس پہنچے تو آپ نے سب کو وضو کرنے کا حکم دیا۔ لڑکیوں نے برتن سے پانی بہا کر اپنے ہاتھ دھوئے اور لڑکوں نے برتن میں ہی ہاتھ ڈال کر پانی لیا۔ اس سے آپ نے دونوں کو الگ الگ پہچان کر علیحدہ کردیا کہ یہ لڑکیاں ہیں اور یہ لڑکے ہیں۔ بعض کہتے ہیں اس طرح پہچانا کہ لڑکیوں نے تو پہلے اپنے ہاتھ کیے اندرونی حصہ کو دھویا…
Read the full tafseer →سورة النمل 42
پہلے فقرے اور اس فقرے کے درمیان ایک لطیف خلا ہے جو کلام پر غور کرنے سے خود بخود سمجھ میں آجاتا ہے، یعنی پوری بات یوں ہے کہ اے سفیر یہ ہدیہ واپس لے جا اپنے بھیجنے والوں کی طرف، انہیں یا تو ہماری پہلی بات ماننی پڑے گی کہ مسلم ہو کر ہمارے پاس حاضر ہوجائیں ورنہ ہم ان پر لشکر لے کر آئیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
حضرت سلیمان ؑ کی طرف سے ہدیہ بلقیس کی واپسی
قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ ۡفَمَآ اٰتٰىـنِۦ اللّٰهُ خَيْرٌ مِّمَّآ اٰتٰىكُمْ ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ ، یعنی جب بلقیس کے قاصد اس کے ہدایا اور تحفے لے کر حضرت سلیمان ؑ کے پاس پہنچے تو انہوں نے قاصد سے فرمایا کہ کیا تم مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو۔ مجھے اللہ نے جو مال و دولت دیا ہے وہ تمہارے مال و سامان سے کہیں زیادہ بہتر ہے اس لئے میں یہ مال کا ہدیہ قبول نہیں کرتا اس کو واپس لے جاؤ اور اپنے ہدیہ پر تم ہی خوش رہو۔
کسی کافر کا ہدیہ قبول کرنا جائز ہے یا نہیں اس کی تفصیل و تحقیق
حضرت سلیمان ؑ نے ملکہ بلقیس کا ہدیہ قبول نہیں…
Read the full tafseer →ارجع الیھم فلنا تینھم بجنود لاقبل لھم بھا ولنخر جنھم منھا اذلۃ وھم صغرون (37)
حضرت سلیمان نے رئیس وفد کو یہ جواب دیا کہ تم اپنی ملکہ اور ان کے اعیان کے پاس جائو۔ ہم ان پر ایسی افواج قاہرہ سے حملہ کریں گے جن کے مقابلہ کی تاب وہ نہ لا سکیں گے اور ان کو اسم کل سے اس طرح ذلیل کر کے نکالیں گے کہ وہ خود اپنی نظروں میں خوار ہو کر رہ جائیں گے۔
قبل کے معنی قوت، طاقت اور مقدرت کے ہیں۔ حضرت سلیمان کو اپنے قاصد کے ذریعہ سے یہ بات معلوم ہوچکی تھی کہ ملکہ سبا کے درباریوں کو اپنے اسباب دو سائل اور پانی شجاعت و بسالت پر بڑا ناز ہے اس وجہ سے انہوں نے ان کو آگاہ فرمایا کہ میری فوج کے مقابلہ میں ان کا یہ سارا…
Read the full tafseer →37-1یہاں صیغہ واحد سے مخاطب کیا جب کہ اس سے قبل صیغہ جمع سے خطاب کیا تھا کیونکہ خطاب میں کبھی پوری جماعت کو ملحوظ رکھا گیا ہے کبھی امیر کو۔
37-2حضرت سلیمان ؑ نرے بادشاہ ہی نہیں تھے، اللہ کے پیغمبر بھی تھے۔ اس لئے ان کی طرف سے لوگوں کو ذلیل خوار کیا جانا ممکن نہیں تھا، لیکن جنگ و قتال کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کیونکہ جنگ نام ہی کشت و خون اور اسیری کا ہے اور ذلت و خواری سے یہی مراد ہے، ورنہ اللہ کے پیغمبر لوگوں کو خواہ مخواہ ذلیل خوار نہیں کرتے۔ جس طرح نبی ﷺ کا طرز عمل اور اسوہ، حسنہ جنگوں کے موقع پر رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–38
12: حضرت سلیمان ؑ در اصل یہ چاہتے تھے کہ جب ملکہ آئے تو اس کے سامنے ان کا یہ معجزہ ظاہر ہو کہ اتنا بھاری تخت ملکہ کے آنے سے پہلے ہی حضرت سلیمان ؑ کے پاس پہنچ گیا، اور اس طرح ان کی طاقت کا بھی مظاہرہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
فلما جآء ……صغرون (73)
ان لوگوں کے ہدایا کو رد کرتے وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دولت کی حقارت کا اظہار بھی کیا۔ ان کو بتایا گیا کہ دولت کی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن نظریات اور ایمانیات کے مقابلہ میں دولت ایک حقیر چیز ہوتی ہے۔
اتمدونن بمال (82 : 63) ” کیا تم مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو۔ “ کیا تم یہ حقیر چیز میرے سامنے پیش کرتے ہوے اور میری اس قدر کم قیمت لگاتے ہو۔
فما اتن اللہ خیر مما اتکم (82 : 63) ” جو کچھ خدا نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو تمہیں دیا ہے۔ “ مجھے مال بھی تم سے زیادہ دیا ہے اوپر منصب نبوت بھی دیا ہے جو جنس مال سے خیر ہے۔ علم نبوت جو بڑی دولت ہے۔ انسانوں ، جنوں…
Read the full tafseer →3 یعنی قیدی بنیں گے، جلا وطن ہوں گے اور ذلت و خواری کے ساتھ دولت و سلطنت سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " اور کسی پیغمبر نے اس طرح کی بات نہیں فرمائی۔ سلیمان کو حق تعالیٰ کی سلطنت کا زور تھا جو یہ فرمایا۔ "
Read the full tafseer →آیت 37 اِرْجِعْ اِلَیْہِمْ فَلَنَاْتِیَنَّہُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَہُمْ بِہَا وَلَنُخْرِجَنَّہُمْ مِّنْہَآ اَذِلَّۃً وَّہُمْ صَاغِرُوْنَ ”
یعنی انہیں یا تو ہماری پہلی بات ماننا پڑے گی کہ وہ مسلم مطیع ہو کر ہمارے پاس حاضر ہوجائیں ‘ ورنہ ہم ان پر لشکر کشی کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
33 جب یہ وفد تحائف لے کر حصرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوا تو آپ نے یہ تحفے قبول کرنے سے انکار کردیا اور انھیں واضح طور پر بتلا دیا کہ مال و دولت سے مجھے کچھ غرض نہیں۔ نہ ہی میں مال و دولت کی رشوت لے کر اپنے ارادہ سے باز رہ سکتا ہوں۔ میں یہ دولت لے کر کیا کروں گا وہ تو میرے پاس پہلے ہی تم سے بہت زیادہ موجود ہے۔ یہ تمہارے تحفے تمہیں ہی مبارک ہوں۔ تمہارے لئے صرف دو صورتیں ہیں کہ تم مسلمان ہو کر میرے پاس آجاؤ۔ اس صورت میں تمہارا ملک تمہارے ہی پاس رہے گا۔ مجھے کوئی اپنی سلطنت بڑھانے کا شوق نہیں ہے بلکہ میں شرک کا استیصال کرکے تمہیں اللہ کا فرمانبردار بنانا چاہتا ہوں۔ ورنہ پھر دوسری یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
42۔ سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں نے دعوت تو اطاعت واسلام کی دی تھی، یہ بلااطاعت و قبول دعوت محض اظہار دوستی کیسا ؟ یہ تو ایک صورت رشوت کی ہوئی۔ مال وقوت دونوں کے لحاط سے تو میری سلطنت اللہ کے فضل وکرم سے بلقیس کے ملک سے کہیں بڑھی ہوئی ہے، میں ان ہدایا وتحائف کو واپس کرتا ہوں اور عنقریب فوج کشی کرکے ان بےدینوں کو کچل ڈالوں گا، فقہاء نے کہا ہے کہ کافروں کے ہدیہ کو رد کردینا، جب اپنی مصلحت اسی میں ہومستحب ہے۔ (آیت) ” لا قبل لھم “۔ قبل کے معنی طاقت، طاقت مقابلہ کے ہیں۔ اے لایقدرون ان یقابلوھم (کبیر) اے لاطاقۃ وحقیقۃ القبل المقاومۃ والمقابلۃ (کبیر) اے لاطاقۃ لھم علی استقبالھا ودفاعھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
آیت نمبر 32 تا 39
ترجمہ : اے درباریو ! تم میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو میں کسی معاملہ میں اس وقت تک قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس موجود نہ ہو اَلْمَلأُ أفتونِیْ میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور ثانی کی تسہیل یعنی واؤ سے بدل کر ای وَفْتُوْنی ان سب نے جواب دیا کہ ہم بڑے طاقتور اور بڑے لڑنے والے ہیں یعنی جنگ میں بڑی شدت والے ہیں آگے آپ کو اختیار ہے آپ خود ہی غور فرلیں کہ ہم کو کیا حکم دینا چاہتی ہیں ؟ ہم آپ کی اطاعت کریں گے، بلقیس نے کہا بادشاہ جب کسی بستی میں (فاتحانہ) طور پر داخل ہوتے ہیں تو اسے تخریب کے ذریعہ اجاڑ دیتے ہیں اور وہاں کے باعزت لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں اور یہ خط بھیجنے…
Read the full tafseer →ارجع الیہم فلناتینھم بجنود لا قبل لھم بھا ولنخرجنھم منھا اذلۃ وھم صغرون
تم ان کے (یعنی بلقیس اور قوم کے) پاس لوٹ کر جاؤ ہم ایسے لشکر لے کر ان پر جا پہنچیں گے جن کے مقابلہ کی ان میں طاقت نہیں اور ان کو اس (سرزمین) سے بےعزت کر کے نکال دیں گے اور وہ ذلیل ہوں گے۔ صَاغِرُوْنَ کے لفظ سے اَذِلَّۃً (بےعزت) ہونے کی تاکید ہو رہی ہے۔ بعض علماء نے کہا : ذلت عزت کی ضد ہے۔ آبرو اور حکومت کا زوال ذلت ہے اور صنعار سے مراد ہے قیدی ہوجانا یعنی اگر وہ مسلمان ہو کر نہیں آئیں گے تو ہم ان کو ان کی سرزمین سے نکال دیں گے (اور ان کو قیدی بنا لیا جائے گا) ۔
وہب بن منبہ وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ جب وفد یمن حضرت سلیمان (…
Read the full tafseer →(37) اپنے تحائف لے کر ان لوگوں کے پاس لوٹ جاؤ ہم ان پر ایسی فوجیں بھیجتے ہیں کہ ان لوگوں سے ان کا ذرا بھی مقابلہ نہیں ہو سکے گا اور ہم ان کو ملک سبا سے اطاعت کا طوق ان کی گردنوں میں ڈال کر نکال دیں گے اور وہ ذلت کے ساتھ ہمیشہ ہمارے ماتحت ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →اِرْجِعْ اِلَيْهِمْ فَلَنَاْتِيَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ۔۔ : یہاں کچھ عبارت محذوف ہے، یعنی یہ تحفے تحائف لے کر واپس چلے جاؤ اور انھیں بتاؤ کہ اگر وہ تابع فرمان ہو کر حاضر نہ ہوئے تو ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے جن کے مقابلے کی ان میں کوئی طاقت نہ ہوگی۔
وَلَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَآ اَذِلَّةً وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ : ذلت یہ کہ سلطنت اور حکومت چھن جائے گی اور ”صغار“ (حقارت اور پستی) یہ کہ غلام اور قیدی بنیں گے، یا جلاوطن کیے جائیں گے۔ یہ معاملہ صرف ملکہ سبا کے ساتھ خاص نہیں بلکہ مسلمانوں کو تمام دنیا کے کفار سے لڑتے رہنے کا حکم ہے، حتیٰ کہ وہ مسلمان ہوجائیں یا اپنے ہاتھ سے جزیہ دینے کی ذلت قبول کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
فلما جآء سلیمن قال اتمدونن بمال قاصد حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس ہدیہ لایا فرمایا : اتمدونن بمال حمزہ، یعقوب اور اعمش نے ایک نون مشددہ اور اس کے بعد یائہ ثابتہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ باقی قراء نے دونوں پڑھے ہیں، یہ ابوعبید کا پسندیدہ قول ہے، کیونکہ تمام مصاحف میں دونوں ہیں۔ اسحاق نے نافع سے یہ قرأت نقل کی ہے اتمدون یعنی ایک نون ہے مخفہ ہے بعد میں یاء ہے جو لفظوں میں ہے۔ ابن انباری نے کہا، اس قرأت میں واجب ہے کہ وقف کے وقت یاء کو ثابت رکھا جائے تاکہ مصحف کے ہجوں کے ساتھ موافقت ہوجائے۔ اصل نون مشددہ ہے اس جگہ تشدید میں تخیف کی گئی ہے جس طرح اشھدانت عالم میں تخفیف کی گئی ہے اصل انک عالم ہے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
ارکان سلطنت سے مشورہ
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” قالت یا ایہا الملؤا افتونی فی امری “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس نے اپنی مملکت کے سرداروں کو جمع کیا اور اس معاملہ میں ان سے مشورہ کیا ان کی رائے اور اس کی رائے اس بات پر جمع ہوگئی کہ وہ سلیمان (علیہ السلام) سے جنگ کریں گے وہ (لشکر کو لے کر) چلی جب وہ سلیمان (علیہ السلام) کے ملک کے قریب پہنچے تو کہنے لگی میں ان کی طرف تحفہ بھیجوں گی اگر اس نے اس کو قبول کرلیا تو وہ بادشاہ ہے اور میں اس سے لڑوں گی اور اگر اس نے اس کو رد کردیا تو میں اس کے تابع ہوجاؤں گی کیونکہ وہ نبی ہے۔ جب اس کے قاصد سلیمان کے قریب پہنچے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →اِرْجِعْ [ تو لوٹ جا ] اِلَيْهِمْ [ ان کی طرف ] فَلَنَاْتِيَنَّهُمْ [ تو ہم لازما پہنچیں گے ان کے پاس ] بِجُنُوْدٍ [ ایک ایسے لشکر کے ساتھ ] لَّا قِبَلَ [ کوئی طاقت نہیں ہے ] لَهُمْ [ ان کے لئے ] بِهَا [ جس پر ] وَلَنُخْرِجَنَّهُمْ [ اور ہم لازما نکالیں گے ان کو ] مِّنْهَآ [ وہاں سے ] اَذِلَّةً [ ذلیل ہونے والے ہوتے ہوئے ] وَّ [ اس حال میں کہ ] ہم [ وہ لوگ ] هُمْ صٰغِرُوْنَ [ حقیر ہونے والے ہیں ]
نوٹ۔ 1: آیات 37 ۔ 38 ۔ کے درمیان میں یہ قصہ چھوڑ دیا گیا ہے کہ سفارت ملکہ کا تحفہ واپس لے کر پہنچی اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا عرض کردیا۔ ملکہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے جو حالات سنے ان کی بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–37
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا پرندوں کی حاضری لینا، ہدہد کا غائب ہونا اور ملک سبا سے ایک ملکہ کی خبر لانا اور اس کے نام حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط لیجانا اور ملکہ کا ہدیہ بھیجنا
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت انسان جنات چرند پرند سب پر تھی وہ ان سب کے بادشاہ تھے، اور یہ چیزیں ان کے لشکر کا جزو تھیں ایک بار جانوروں کی حاضری لی تو جانور جمع ہوگئے لیکن ان میں ہدہد حاضر نہیں ہوا (ممکن ہے انہوں نے ہر جنس کے بڑے ہی کو بلایا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تمام جانوروں کو جمع ہونے کا حکم دیا ہو سب جانور جمع ہوگئے ہدہد بھی سب آگئے لیکن ان کا سردار حاضر نہ ہوا ہو) جب مطلوبہ ہدہد کو انہوں نے حاضر نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–44
قصہء سوم ملکہء سبا بروایت ھد ھد
قال اللہ تعالیٰ وتفقد الطیر فقال مالی لا اری الھد ھد۔۔۔ الی۔۔۔ واسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین۔
(ربط) اب ان آیات میں ملکہ سبا کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو بظاہر اس سورت کا تیسرا قصہ ہے مگر درحقیقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دوسرا قصہ ہے سلیمان (علیہ السلام) کے پاس تین قسم کے لشکر تھے ایک آدمیوں کا اور ایک جنوں کا اور ایک پرندوں کا۔ جو روانگی کے وقت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر سایہ کرتے تھے۔ ایک دن سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کے ایک لشکر کی جانچ پڑتا کی تو اس نے ہد ہد کو نہ پایا جو ہد ہدوں کا سردار تھا۔ فرمایا جب وہ آئے گا تو اس سے پوچھوں گا کہ کیوں غیر حاضر…
Read the full tafseer →32:۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بلقیس کے ایلچیوں کے لیڈر کو حکم دیا کہ تم واپس جاؤ اور بلقیس اور امراء سلطنت سے کہہ دو کہ وہ مومن ہو کر میرے پاس آجائیں ورنہ ایسے بےحساب لشکروں سے ان پر چڑھائی کروں گا جن کا مقابلہ کرنے کی ان میں طاقت نہیں اور ان کو ملک سبا سے ذلیل و رسوا کر کے نکال دوں گا۔ یہاں عبارت میں حذف و تقدیر ہے کانہ قیل ارجع الیھم فلیاتونی مسلمین والا فلناتینھم الخ (روح ج 19 ص 201) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
ربط آیات
ملکہ سبا نے اپنے درباریوں سے سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے موصولہ خط کا ذکر کیا اور ان سے مشورہ طلب کیا کہ ہمیں اس خط کا کس طریقے سے جواب دینا چاہیے ۔ درباریوں نے کہا کہ ہمارے پاس جدید اسلحہ سیل یس بہترین فوج ہے۔ رسد و کمک کی بھی کمی نہیں یعنی ہم خط بھیجنے والوں سے ٹکر لینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں ۔ مگر فیصلہ تیرے ہاتھ میں ہے ، جو تو چاہے گی ہم تعمیل کریں گے ۔ اس کے بعد ملکہ نے یہ رائے ظاہر کی کہ درس عالم بتا لی ہے کہ جب بھی کوئی بادشاہ کسی دوسرے ملک پر حملہ آور ہوتا ہے تو اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا ہے اور اس کے باعث لوگوں کو ذلیل کر کے رکھ دیتا ہے لوندا جنگ کوئی اچھی چیز نہیں ۔…
Read the full tafseer →اِرْجِعْ اِلَيْہِمْ فَلَنَاْتِيَنَّہُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَہُمْ بِہَا وَلَنُخْرِجَنَّہُمْ مِّنْہَآ اَذِلَّۃً وَّہُمْ صٰغِرُوْنَ 37
رجع
الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود،
( ر ج ع ) الرجوع
اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے
جند
يقال للعسکر الجُنْد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–40
انہوں نے کہا ہم بڑے قوی اور بڑے لڑنے والے لوگ ہیں، سلیمان ( علیہ السلام) سے کچھ خوف نہیں مگر تاہم جو آپ کی رائے ہو وہی ٹھیک بلقیس بڑی عقلمند عورت تھی، اس نے سوچا کہ لڑائی کا انجام برا ہے۔ اگر غالب آگیا تو آکر الٹ پلٹ دے گا، عزت داروں کو ذلیل کردے گا اور بادشاہوں کا یہی دستور ہے، صلح کرلینی بہتر ہے۔ اول مرتبہ اس کے پاس جانا تو مصلحت نہیں تحفہ تحائف دے کر ایلچیوں کو بھیجنا چاہئے، اس سے سلیمان ( علیہ السلام) کی پوری کیفیت معلوم ہوجاوے گی۔ یہ بات سب کو پسند آئی، بڑے بڑے بیش قیمت ہدیے دے کر ایلچیوں کو بھیجا تاکہ سلیمان اس مال کو دیکھ کر نرم ہوجاویں مگر سلیمان (علیہ السلام) کا مقصد اس بت پرست…
Read the full tafseer →اِرْجِعْ اِلَـیْھِمْ فَلَنَاْ تِیَـنَّـھُمْ بِجُنُوْدٍ لاَّ قِبَلَ لَھُمْ بِہَا وَلَـنُخْرِجَنَّھُمْ مِّنْھَـآ اَذِلَّـۃً وَّھُمْ صٰغِرُوْنَ ۔ (النمل : 37)
(واپس جاؤ اپنے بھیجنے والوں کی طرف، ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے جن کے مقابلے کی ان میں تاب نہیں، اور ہم انھیں وہاں سے ذلیل کرکے نکالیں گے اور وہ خوار ہو کر رہ جائیں گے۔ )
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے رئیس وفد سے کہا کہ تم اپنی ملکہ اور اپنے اعیانِ مملکت کے پاس واپس جاؤ اور جا کر انھیں بتائو کہ ہم تحائف کے طلبگار نہیں ہیں، ہم تمہارے ملک کا نظام بدلنے کی فکر میں ہیں تاکہ انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلا کر اللہ تعالیٰ کے عدل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
فہم القرآن
ربط کلام : تحائف پہنچنے پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ردِّ عمل۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ملکہ بلقیس کے تحائف پہنچے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کے نمائندوں کو فرمایا کہ جن تحائف کے ساتھ مجھے خوش کرنا چاہتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے زیادہ اور بہترین مال عطا فرمارکھا ہے۔ اس لیے تم اپنے تحائف کے ساتھ خوش رہو اور واپس لے جاؤ۔ ہم اپنے لشکروں کے ساتھ تم پر ضرور پیش قدمی کریں گے جن کا مقابلہ کرنے کی تم طاقت نہیں رکھتے اور ہم مقابلہ میں آنے والوں کو زیر اور ذلیل کریں گے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے مشرک ملکہ کے تحائف کو قبول کرنے سے اس لیے انکار کیا کہ اس طرح ان کے خلاف…
Read the full tafseer →37: اِرْجِعْ (تو لوٹ جا) ۔ یہ قاصد کو خطاب ہے۔ یا ہدہد کو فرمایا۔ اگر دوسرے خط کا احتمال تسلیم کیا جائے۔ اِلَیْہِمْ (ان کی طرف) بلقیس اور اس کی قوم کی طرف۔ فَلَنَاْتِیَنَّہُمْ بِجُنُوْدٍلاَّ قِبَلَ لَہُمْ بِہَا (ہم ایسا لشکر لے کر ان پر جا پہنچیں گے جن کے مقابلہ کی ان میں طاقت نہیں) ۔ القبل کی حقیقت مقابلہ و مقاومت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ان کے مقابلہ پر قادر نہ ہونگے۔ وَلَنُخْرِجَنَّہُمْ مِّنْہَا اور (ہم ان کو ضرور سبأ سے نکال باہر کریں گے) اَذِلَّۃً وَّہُمْ صٰغِرُوْنَ (بےعزت کر کے اور وہ ذلیل ہونگے) ۔ الذل عزت ٗ ملک کا چلاجانا۔ الصغار۔ قید و غلامی میں مبتلا ہونا۔
Read the full tafseer →37۔ ارجع الیھم، ہدیہ دے کر واپس لوٹ جاؤ، فلناتینھم بجنود لاقبل لھم، اس کی طاقت نہیں، بھاولنخرجنھم منھا، اور وہ تمہیں تمہارے شہر سبا سے تمہیں نکال دیں گے ۔ اذلۃ وھم صاغرون، وہ ذلیل ہیں اگر تم اسلام قبول نہیں کرو گے۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ہدایا اور واپس لوٹا دینا۔
وہب بن منبہ کا بیان ہے کہ جب وفد یمن حضرت سلیمان کے پاس سے لوٹ کر بلقیس کے پاس پہنچا توبلقیس نے کہاو اللہ میں تو پہلے ہی پہچان چکی کہ وہ بادشاہ نہیں ہیں اور ان کے مقابلے کی ہم میں سکت نہیں ہے اس کے بعد بلقیس نے حضرت سلیمان کے پاس پیغام بھیجا کہ میں خود اپنی قوم کے سرداروں کے ساتھ آپ کے پاس آرہی ہوں اور دیکھوں گی کہ جس دین کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–43
(32 تا 43) جس وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط بلقیس نے پڑھا تو اس کو یہ تردد ہوا کہ اب کیا کیا جاوے آیا جس طرح اس خط میں لکھا ہے وہی کیا جاوے کہ اپنی حکومت کو چھوڑ کر اور اپنے دین سے ہاتھ اٹھا کر حضرت سلیمان کا دین اور ان کی اطاعت قبول کی جائے یا حضرت سلیمان سے مقابلہ کیا جاوے اسی تردد کے رفع کی شکل نکالنے کے لیے اس نے اپنے مشیروں اور فوج کے افسروں سے صلاح کی تفسیر سدی وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ صلاح مشورہ کے بعد بلقیس نے اپنی ریاست کے لوگوں سے یہ کہا کہ میں اس خط کے جواب میں حضرت سلیمان کے پاس کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اگر انہوں نے وہ تحفہ قبول کرلیا تو جان لینا کہ دنیا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
آیت 15 سے 44
اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان…
Read the full tafseer →33 حضرت سلیمان کی طرف سے فوج کشی کا فیصلہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت سلیمان کی طرف سے قوم سبا کیخلاف فوج کشی کا فیصلہ و اعلان کردیا گیا۔ سو حضرت سلیمان نے کہا کہ ہم اپنی فوج کے ذریعے انکو ذلیل کر کے وہاں سے نکالیں گے۔ یعنی اس طرح کہ حکومت و اقتدار سے بھی محرومی ہوگی اور قید و بند کی ذلتیں بھی اٹھانی پڑیں گی۔ اور کوئی ان کو اس انجام سے بچا نہ سکے گا اگر انہوں نے اطاعت و فرمانبرداری کا راستہ نہ اپنایا۔ سو ہمارے لشکر کا ان کی طرف سے کوئی مقابلہ نہیں ہوسکے گا اور ہم اپنی قوت بازو سے ان علمبرداروں کو وہاں سے ایسا نکال باہر کریں گے کہ یہ خود اپنی نظروں میں بھی ذلیل ہو کر رہیں گے۔ بہرکیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں
تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 32 تا 44 ۔ اسرار و معارف :
مشورہ کی اہمیت : ملکہ بلقیس نے اپنے امراء کو جمع کرکے خط سنانے کے بعد رائے دریافت کی اور کہا کہ تمہیں علم ہے امور سلطنت ہمیشہ تمہارے مشورے سے طے کیے جاتے ہیں اس سے ثابت ہے کہ قبل اسلام بھی بعض حکمران مشورہ کی اہمیت سے واقف تھے اسلام نے مشورہ کی اہمیت پر اس قدر زور دیا کہ خود نبی اکرم ﷺ خدام سے مشورہ فرماتے تھے۔
امراء دربار نے جواب دیا کہ اگر بات مقابلہ کرنے کی ہے تو ہماری جنگی طاقت کسی سے کم نہیں اور ہم مانے ہوئے جنگجو بھی ہیں اور اگر مصلحت اس کے خلاف ہے تو بھی فیصلہ اور حکم تو آپ ہی صادر فرمائیں گی جو مناسب ہو ارشاد فرمائیں اس نے کہا کہ ابھی جنگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
6 ۔ کہتے ہیں کہ جب ایلچی پیغام لے کر بلقیس کے پاس واپس پہنچا اور اس نے اس سے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا آنکھوں دیکھا سب حال بیان کیا تو وہ سمجھ گئی کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) واقعی اللہ کے پیغمبر ہیں۔ چناچہ اس نے اطاعت قبول کی اور تابعداروں کی طرح اپنے لائو لشکر سمیت بیت المقدس کی طرف روانہ ہوگئی۔ ادھر جب حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کو اس کی روانگی کی خبر ملی تو وہ نہایت خوش ہوئے۔ (ابن کثیر) اس وقت انہوں نے اپنے درباریوں سے کہا…“ 7 ۔ تاکہ جب وہ یہاں پہنچ کر اپنے تخت کو موجود پائے تو اسے معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کو کیسی غیر معمولی قوتیں عطا فرماتا ہے اور اسے یقین آجائے کہ میں…
Read the full tafseer →(27:37) ارجع امر۔ واحد مذکر حاضر۔ جا واپس چلا جا۔ جا لوٹ جا۔ رجوع مصدر باب ضرب یہاں خطاب قاصد سے ہے جس کے لئے آیت 36 میں فلما جاء واحد کا صیغہ ہی استعمال ہوا ہے۔ اور جہاں اس وفد کے لئے جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے وہاں قاصد کے ہمراہ جو تحائف بردار تھے ان کو بھی خطاب میں شامل کرلیا گیا ہے۔
الیہم یعنی ان کی طرف جو تمہارے بھیجنے والے ہیں۔ یعنی ملکہ اور اس کے رؤسائے سلطنت۔ ای الیٰ بلقیس وقومھا۔
فلناتینھم۔ لام تاکید کا ہے ناتین مضارع بانون ثقیلہ صیغہ جمع متکلم۔ تعدیہ یہ باء (بجنود) ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ہم ضرور ان پر (چڑھا) لائیں گے (فوج) ۔
صاحب روح المعانی رقم طراز ہیں :۔ فلناتینھم ای فو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–37
لغات القرآن : آیت نمبر 20 تا 37 :
تفقد (اس نے جائزہ لیا۔ اس نے ڈھونڈا) ‘ مکت (وہ ٹھہرا۔ اس نے دیر کی) نباء (خبر) ‘ وجدت ( میں نے پایاض تملک ( وہ بادشاہت کرتی ہے) اوتیت (دیا گیا) الخبئ (پوشیدہ) القہ ( اس کو ڈال دے) افتونی ( مجھے بتائو۔ مجھے مشورہ دو ) ‘ قاطعۃ (کاٹنے والی) ‘ تشھدون ( تم موجود ہو) اولوقوۃ (قوت و طاقت والا) ‘ اولوباس ( لڑنے والے) ‘ تامرین (تو کیا حکم دیتی ہے) ‘ مرسلۃ ( بھیجنے والی) ‘ نظرۃ (دیکھنے والی) ‘ اتمدون (کیا تم مدد کرتے ہو) تفرحون ( وہ اتراتے ہیں۔ خوش ہوتے ہیں) ‘ صغرون (ذلیل و خوارہونے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 20 تا 37 :
حضرت سلیمان (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ایک عظیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
(ف 1) جس وقت حضرت سلیمان کا خط بلقیس نے پڑھا تو اس کو یہ تردد ہوا کہ اب کیا کیا جائے کیا اپنی حکومت کو چھوڑ کر اور اپنے دین کو چھوڑ کر حضرت سلیمان کا دین اور اطاعت کی جائے یا حضرت سلیمان سے مقابلہ کیا جائے صلاح مشورہ کے بعد بلقیس نے اپنی ریاست کے لوگوں سے یہ کہا کہ میں اس خط کے جواب میں حضرت سلیمان کے پاس کچھ بڑے بڑے بیش قیمت تحفے بھیجتی ہوں تاکہ اس حال کو دیکھ کر نرم دل ہوجائے مگر حضرت سلیمان کا مقصود تو اس بت پرست بادشاہ زادی کو اسلام میں لانا اور کفر کی بڑائی سے بچانا تھا اس لیے ان تحفوں کو کچھ بھی خیال میں نہ لائے اور فرمانے لگے کہ کیا تم لوگ مال سے میری امداد کرنا چاہتے ہو جو ایک حقیر شے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–37
[8] یہاں سے لے کر آیت 26 کے آخر تک ہدہد کے قول پر اللہ تعالیٰ کا اپنا اضافہ ہے جیسا کہ انداز کلام سے صاف ظاہر ہے۔ یہ اسی قسم کی تضمین ہے جس کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
Read the full tafseer →قبل لھم ۔ سامنا نہ ہوسکے گا ۔ ساغر کی جمع بمعنی ذلیل و رسوا ماتحت ۔
Read the full tafseer →(37) اے ایلچی تو انہی اہل سبا کی طرف واپس ہوجا اور لوٹ جا اب ہم ان پر ایک ایسا لشکر لیکر پہنچتے ہیں کہ ان لوگوں سے اس لشکر کا مقابلہ اور سامنا نہ ہوسکے گا اور ہم ان کو شہر سبا سے ذلیل کرکے نکال دیں گے اور ان کی حالت یہ ہوگی کہ وہ ذلیل اور محکوم ہوجائیں گے یعنی ہم نے تو اس لئے پیغام بھیجا تھا کہ وہ مشرکانہ افعال کو چھوڑ کر اسلام قبول کرلیتے لیکن اگر وہ مال کا لالچ دے کر دین حق سے بچناچاہتے ہیں تو تو واپس جا اور ان کو اطلاع دے دے کہ اب جو بات ہوگی میدان جنگ میں ہی ہوگی اور وہ ہمارے لشکرکا مقابلہ نہ کرسکیں گے اور ہمیشہ کے لئے محکوم اور ذلیل ہوجائیں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اور کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
ف 1۔ کیونکہ تمہارے پاس صرف دنیا ہے اور میرے پاس دین بھی، اور دنیا تم سے زیادہ، سو میں تو ان چیزوں کا حریص نہیں ہوں۔
Read the full tafseer →حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان کے سب ہدایا من وعن واپس کردیئے اور جو کہنا تھا وہ دو ٹوک کہہ دیا :
37۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس سفارت کو جب واپس کیا تو اپنے دربار میں ایک بار دوبارہ انکو طلب کیا اور ان سے کہا کہ تم سب لوگ واپس تشریف لے جاؤ اور اپنی حکومت کو جا کر واضح کر دو کہ ہم انشاء اللہ العزیز عنقریب تم پر فوج کشی کرنے والے ہیں اور تم کو تمہارے کئے کی سزا دینے والے ہیں ہمارا مقصد یہ نہیں تھا جو تم لوگوں نے سمجھا ہم نے ان کو اپنے پہلے ہی خط میں اصل حقیقت واضح کردی تھی اور ان کو آگاہ کردیا تھا کہ تم لوگوں کو اطاعت اسلام کی دعوت دی جا رہی ہے اس کو قبول کرتے ہوئے دعوت اسلامی کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
Return of the presents of Bilqis by Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام)
قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا آتَانِيَ اللَّـهُ خَيْرٌ مِّمَّا آتَاكُم بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ
"Are you giving me an aid of wealth? So what Allah has given me is much better than He has given to you. But you yourselves are proud of your gift. 27:36.
When Bilqis's envoys reached the court of Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) with the gifts and presents sent by her, he said to them ` Do you wish to help me with wealth? Whatever wealth and bounties I have been given by Allah is much better than your wealth…
Read the full tafseer →42 There is a subtle gap between this and the previous sentence, which one can easily till up by a careful study of the discourse. It means this: "O Messengers, take ties gift back to the people who nave sent you. They will either have to yield to our first proposal, i. e. they should come before us as Muslims, or we shall bring forces against them."
Read the full tafseer →