An-Naml 27:33

An-Naml · from ayah 33

27:33

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّاُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ ۙ۬— وَّالْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَاذَا تَاْمُرِیْنَ ۟قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ فَانْظُرِىۡ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ

وہ بولے کہ ہم بڑے زورآور اور سخت جنگجو ہیں اور حکم آپ کے اختیار ہے تو جو حکم دیجیئے گا (اس کے مآل پر) نظر کرلیجیئے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "We are men of strength and of great military might, but the command is yours, so see what you will command."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 3 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:33

اُنہوں نے جواب دیا "ہم طاقت ور اور لڑنے والے لوگ ہیں آگے فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے آپ خود دیکھ لیں کہ آپ کو کیا حکم دینا ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ بولے کہ ہم بڑے زورآور اور سخت جنگجو ہیں اور حکم آپ کے اختیار ہے تو جو حکم دیجیئے گا (اس کے مآل پر) نظر کرلیجیئے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان سب نے جواب دیا کہ ہم طاقت اور قوت والے سخت لڑنے بھڑنے والے ہیں۔ آگے آپ کو اختیار ہے آپ خود ہی سوچ لیجئے کہ ہمیں آپ کیا کچھ حکم فرماتی ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

انہوں نے کہا : ہم طاقتور اور ڈٹ کر لڑنے والے لوگ ہیں، آگے معاملہ آپ کے سپرد ہے، اب آپ دیکھ لیں کہ کیا حکم دیتی ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ بولے ہم زور والے اور بڑی سخت لڑائی والے ہیں اور اختیار تیرا ہے تو نظر کر کہ کیا حکم دیتی ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

انہوں نے کہا: ہم طاقتور اور سخت جنگ جُو ہیں مگر حکم آپ کے اختیار میں ہے سو آپ (خود ہی) غور کر لیں کہ آپ کیا حکم دیتی ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا ہم بڑی قوت والے اور بہت سخت جنگ والے ہیں اور معاملہ تیرے سپرد ہے، سو دیکھ تو کیا حکم دیتی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(درباری) کہنے لگے ہم بڑے طاقتور اور سخت جنگ جو ہیں مگر معاملہ کا اختیار تو آپ ہی کو ہے۔ آپ خود ہی غور کریں کہ آپ ہمیں کیا حکم دیتی ہیں ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہوں نے جواب دیا کہ ہم طاقت اور اعلیٰ جنگی صلاحیت رکھنے والے لوگ ہیں۔ فیصلہ آپ کے اختیار میں ہے تو غور فرما لیجیے کہ کیا حکم دیتی ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو بڑے طاقتور سخت لڑنے والے لوگ ہیں اس لیے خوف کی تو کوئی بات نہیں آگے آپ کی مرضی آپ خود دیکھ لیں کہ آپ کو کیا حکم دینا ہے۔

— مولانا اسحاق مدنی

وہ لوگ بولے ہم بڑے طاقتور اور بڑے لڑنے والے ہیں لیکن اختیار آپ ہی کو ہے آپ ہی دیکھ لیجئے آپ کو کیا حکم دینا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا : ہم طاقتور بھی ہیں اور زبردست جنگی صلاحیت والے بھی اور فیصلے کا اختیار تو آپ ہی کے پاس ہے چناچہ آپ خود دیکھ لیں کہ کیا حکم دیتی ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ بولے کہ ہم بڑے زور آور اور جنگجو ہیں اور حکم آپ کے اختیار میں ہے جو حکم آپ دیں اس کے انجام پر آپ غور کرلیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They said: "We are strong and are given to vehement fighting. But the decision is yours. Therefore, consider what you would like to command."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :We are powerful and tough fighters, and the decision lies with you; so consider what command you should give.

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :We are powerful and tough fighters, and the decision lies with you; so consider what command you should give.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "We have great strength, and great ability for war, but it is for you to command; so think over what you will command."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: We are lords of might and lords of great prowess, but it is for thee to command; so consider what thou wilt command.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "We are men of strength and of great military might, but the command is yours, so see what you will command."

— Saheeh International

They replied, "We have great power and valor. You are the commander, so decide as you like".

— Muhammad Sarwar

They said: We are possessors of strength and possessors of mighty prowess, and the command is yours, therefore see what you will command.

— Muhammad Habib Shakir

They said: we are owners of power and owners of great violence, but the command is with thee; see then whatsoever thou shalt command.

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "We are endued with strength, and given to vehement war: but the command is with thee; so consider what thou wilt command."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:33

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 32–35

بلقیس کو خط ملا بلقیس نے حضرت سلیمان ؑ کا خط انہیں سنا کر ان سے مشورہ طلب کیا اور کہا کہ تم جانتے ہو جب تک تم سے میں مشورہ نہ کرلوں، تم موجود نہ ہو تو میں چونکہ کسی امر کا فیصلہ تنہا نہیں کرتی اس بارے میں بھی تم سے مشورہ طلب کرتی ہوں بتاؤ کیا رائے ہے ؟ سب نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ ہماری جنگی طاقت بہت کچھ ہے اور ہماری طاقت مسلم ہے۔ اس طرف سے تو اطمینان ہے آگے جو آپ کا حکم ہو۔ ہم تابعدراری کے لئے موجود ہیں۔ اسمیں ایک حد تک سرداران لشکر نے لڑائی کی طرف اور مقابلے کی طرف رغبت دی تھی لیکن بلقیس چونکہ سمجھدار عاقبت اندیش تھی اور ہدہد کے ہاتھوں خط کے ملنے کا ایک کھلا معجزہ دیکھ چکی تھی یہ بھی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 32–33

سورة النمل 38 اصل الفاظ ہیں حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ جب تک تکہ تم حاضر نہ ہو، یا تم گواہ نہ ہو، یعنی اہم معاملات میں فیصلہ کرتے وقت تم لوگوں کی موجودگی مریے نزدیک ضروری ہے، اور یہ بھی کہ جو فیصلہ میں کروں اس کے صحیح ہونے کی تم شہادت دو ، اس سے جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ کہ قوم سبا میں بادشاہی نظام تو تھا مگر وہ استبدادی نظام نہ تھا بلکہ فرماں روائے وقت معاملات کے فیصلے اعیان سلطنت کے مشورے سے کرتا تھا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–34

اہم امور میں مشورہ کرنا سنت ہے اس میں دوسروں کی رائے سے فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے اور لوگوں کی دلجوئی بھی ہوتی ہے قَالَتْ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤ ُ ا اَفْتُوْنِيْ فِيْٓ اَمْرِيْ ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ ، افتونی، فتوی سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کسی خاص مسئلہ کا جواب دینا۔ یہاں مشورہ دینا اور اپنی رائے کا اظہار کرنا مراد ہے۔ ملکہ بلقیس کو جب حضرت سلیمان ؑ کا خط پہنچا تو اس نے اپنے ارکان حکومت کو جمع کر کے اس واقعہ کا اظہار کیا اور ان سے مشورہ طلب کیا کہ مجھے کیا کرنا چاہئے۔ اس نے ان کی رائے دریافت کرنے سے پہلے ان کی دلجوئی اور ہمت افزائی کے لئے یہ بھی کہا کہ میں کسی معاملہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

درباریوں کا مشورہ درباریوں نے کہا کہ ہم وسائل جنگ اور افراد کی تعداد کے اعتبار سے بھی طاقتور ہیں اور ہمارے آدمی جنگی مہارت و بسالت کے اعتبار سے بھی ممتاز و نامور ہیں تو آپ اگر جنگ کا فیصلہ فرمائیں تو ہم حریف سے ہیٹے نہیں ہیں لیکن فیصلہ بہرحال آپ کے اختیار میں آپ غور فرما لیجیے کہ کیا حکم دیتی ہیں۔ اولواقوۃ سے انہوں نے اپنی عددی قوت اور وسائل جنگ کی طرف اشارہ کیا اور اولوا باس شدید سے اپنی جنگی مہارت و بصیرت اور جرأت و بسالت کی طرف جنگ کے لئے یہی دو چیزیں درکار ہوتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ درباریوں کا رجحان جنگ کی طرف تھا اور انہوں نے اپنا یہ رجحان ملکہ کے سامنے ظاہر کردیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

33-1یعنی ہمارے پاس قوت اور اسلحہ بھی ہے اور لڑائی کے وقت نہایت پا مردی سے لڑنے والے بھی ہیں، اس لئے جھکنے اور دبنے کی ضرورت نہیں ہے۔ 33-2اس لئے کہ ہم تو آپ کے تابع ہیں، جو حکم ہوگا، بجا لائیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–38

12: حضرت سلیمان ؑ در اصل یہ چاہتے تھے کہ جب ملکہ آئے تو اس کے سامنے ان کا یہ معجزہ ظاہر ہو کہ اتنا بھاری تخت ملکہ کے آنے سے پہلے ہی حضرت سلیمان ؑ کے پاس پہنچ گیا، اور اس طرح ان کی طاقت کا بھی مظاہرہ ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قالوا ……تامرین (23) اب یہاں اس عورت کی اصل شخصیت سامنے آئی ہے۔ یہ ملکہ سبا کی صورت میں ہے۔ ہر عورت تباہی اور بربادی کو فطرتاً ناپسند کرتی ہے۔ چناچہ وہ سیاست اور تدبیر کے ہتھیار کو جنگی ساز و سامان سے پہلے آزمانا چاہتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی ہمارے پاس زور و طاقت اور سامان حرب کی کمی نہیں۔ نہ کسی بادشاہ سے دبنے کی ضرورت، تیرا حکم ہو تو ہم سلیمان سے جنگ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ آگے تو مختار ہے سوچ سمجھ کر حکم دے۔ ہماری گردن اس کے سامنے خم ہوگی۔ معلوم ہوتا ہے کہ درباریوں کی صلاح لڑائی کرنے کی تھی مگر ملکہ نے اس میں تعجیل مناسب نہ سمجھی اور ایک بین بین صورت اختیار کی جس کا ذکر آگے آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 30–33

آیت 30 اِنَّہٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَاِنَّہٗ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ” یہ قرآن کا واحد مقام ہے جہاں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ سورت کے اندر اس کے متن میں شامل ہے۔ باقی ہر جگہ یہ سورتوں کے آغاز میں لکھی گئی ہے۔ اس کے بارے میں اختلاف ہے کہ سورتوں کے آغاز میں جہاں جہاں بھی بسم اللہ لکھی گئی ہے کیا اسے ایک آیت مانا جائے گا یا جتنی مرتبہ لکھی گئی ہے اتنی آیات شمار ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

30 ملکہ کے مشیروں اور درباری لوگوں نے وہی جواب دیا جو عام طور پر درباری لوگ دیا کرتے ہیں۔ یہ وہ اپنے ذہن پر بار دال کر کوئی دانشمندانہ جواب دینے کے عادی ہوتے ہیں اور نہ وہ اپنے سر کوئی ذمہ داری لینا چاہتے ہیں۔ وہ صرف جی حضور کہنا اور اپنے آپ کو حکم کے بندے ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اور یہی کچھ ان لوگوں نے بھی کیا۔ کہ ہماری خدمات حاضر ہیں۔ ہم زور آور بھی اور لڑائی کا فن بھی خوب جانتے ہیں۔ تاہم یہ فیصلہ کرنا کہ سلیمان سے جنگ کرنی چاہئے یا مطیع فرمان بن جانا چاہئے۔ آپ ہی کی صوابدید پر منحصر ہے۔ گویا ملکہ کو اپنے مشیروں سے مشورہ کرنے کا کوئی خاص فائدہ نہ ہوا ماسوائے اس کے کہ اگر ملکہ مقابلہ کا ارادہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

39۔ یعنی ہم تو صلح وجنگ ہر صورت میں آپ کی اطاعت کے لیے تیار ہی ہیں۔ جو راہ چاہے اختیار کیجئے، باقی جنگی اعتبار سے آپ کمزور نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–39

آیت نمبر 32 تا 39 ترجمہ : اے درباریو ! تم میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو میں کسی معاملہ میں اس وقت تک قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس موجود نہ ہو اَلْمَلأُ أفتونِیْ میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور ثانی کی تسہیل یعنی واؤ سے بدل کر ای وَفْتُوْنی ان سب نے جواب دیا کہ ہم بڑے طاقتور اور بڑے لڑنے والے ہیں یعنی جنگ میں بڑی شدت والے ہیں آگے آپ کو اختیار ہے آپ خود ہی غور فرلیں کہ ہم کو کیا حکم دینا چاہتی ہیں ؟ ہم آپ کی اطاعت کریں گے، بلقیس نے کہا بادشاہ جب کسی بستی میں (فاتحانہ) طور پر داخل ہوتے ہیں تو اسے تخریب کے ذریعہ اجاڑ دیتے ہیں اور وہاں کے باعزت لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں اور یہ خط بھیجنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالو نحن اولوا قوۃ واولوا ولوا باس شدید والامر الیک فانظری ماذا تامرین . وہ کہنے لگے : ہم بڑے طاقتور اور بڑے لڑنے والے ہیں (آئندہ) اختیار آپ کے ہاتھ میں ہے آپ خود ہی غور کرلیں (اور) جو حکم آپ دیں (ہم اس کی تعمیل کریں گے) ۔ قُوۃٍ یعنی لڑنے کی قوت ‘ بَأْسٍ شَدِیْدٍ یعنی لڑائی کے وقت سخت طاقتور۔ مقاتل نے کہا : قوت سے مراد ہے تعدادی کثرت اور بأس سے مراد ہے شدید شجاعت۔ بلقیس نے اہل دربار سے صلح یا جنگ دونوں کا مشورہ لیا تھا۔ لڑائی صلح کے مقابلہ میں مشکل اور سخت کام ہے۔ جنگ کی صورت میں اہل دربار نے تعمیل حکم کا اقرار کیا ‘ برخلاف ان یہودیوں کے جنہوں نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے کہا تھا :…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(33) وہ لوگ کہن لگے ہم ہتھیاروں کے اعتبار سے بڑے طاقتور ہیں اور لڑنے والے بھی ہیں باقی جیسی آپ کی رائے ہو آپ جیسا ہمیں حکم دیں ہم اس کی بجا آوری کے لیے تیار ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ۔۔ : سرداروں نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ ہم بڑی قوت والے اور سخت جنگجو ہیں، یعنی اسلحہ، فوج اور تیاری ہر لحاظ سے پورے ہیں، مگر ہم آپ کے حکم کے بغیر کچھ بھی کرنے والے نہیں، آپ غور و فکر کرلیں کہ کیا حکم دیتی ہیں، ہم آپ کی اطاعت کریں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 32–34

( قالت یایھا۔۔۔۔ ) اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 :۔ قالت یایھا الملواء افتونی فی امری، ملا سے مراد قوم کے اشراف ہیں۔ سورة بقرہ میں اس کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کے ساتھ ہزار سردار تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بارہ ہزار سردار تھے، ہر سردار کے ساتھ لاکھ سپاہی تھے۔ قیل سے مراد بڑے بادشاہ کے نیچے چھوٹے بادشاہ تھے اس نے اپنی قوم کے ساتھ حسن ادب کو مخلوط خاطر رکھا ہے اور اس معاملہ میں جو اسے لا حق ہوتا ہے، اس کا ذکر اس قول میں ہے : ما کنت قاطعۃ امرا حتی تشھدون تو اس بڑی مصیبت میں کیسے تم سے مشورہ نہ کروں ؟ سرداروں نے اسے وہ جواب دیا جس سے اس کی آنکھیں ٹھنڈی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–44

ارکان سلطنت سے مشورہ 1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” قالت یا ایہا الملؤا افتونی فی امری “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس نے اپنی مملکت کے سرداروں کو جمع کیا اور اس معاملہ میں ان سے مشورہ کیا ان کی رائے اور اس کی رائے اس بات پر جمع ہوگئی کہ وہ سلیمان (علیہ السلام) سے جنگ کریں گے وہ (لشکر کو لے کر) چلی جب وہ سلیمان (علیہ السلام) کے ملک کے قریب پہنچے تو کہنے لگی میں ان کی طرف تحفہ بھیجوں گی اگر اس نے اس کو قبول کرلیا تو وہ بادشاہ ہے اور میں اس سے لڑوں گی اور اگر اس نے اس کو رد کردیا تو میں اس کے تابع ہوجاؤں گی کیونکہ وہ نبی ہے۔ جب اس کے قاصد سلیمان کے قریب پہنچے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالُوْا [ ان لوگوں نے کہا ] نَحْنُ [ ہم لوگ ] اُولُوْا قُوَّةٍ [ قوت والے ہیں ] وَّاُولُوْا بَاْسٍشَدِيْدٍ ڏ [ اور سخت جنگجو ہیں ] وَّالْاَمْرُ [ اور فیصلہ کرنا ] اِلَيْكِ [ تیری طرف سے ] فَانْظُرِيْ [ پس تو دیکھ ] مَاذَا [ کیا ہے جو ] تَاْمُرِيْنَ [ تو حکم دیتی ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–37

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا پرندوں کی حاضری لینا، ہدہد کا غائب ہونا اور ملک سبا سے ایک ملکہ کی خبر لانا اور اس کے نام حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط لیجانا اور ملکہ کا ہدیہ بھیجنا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت انسان جنات چرند پرند سب پر تھی وہ ان سب کے بادشاہ تھے، اور یہ چیزیں ان کے لشکر کا جزو تھیں ایک بار جانوروں کی حاضری لی تو جانور جمع ہوگئے لیکن ان میں ہدہد حاضر نہیں ہوا (ممکن ہے انہوں نے ہر جنس کے بڑے ہی کو بلایا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تمام جانوروں کو جمع ہونے کا حکم دیا ہو سب جانور جمع ہوگئے ہدہد بھی سب آگئے لیکن ان کا سردار حاضر نہ ہوا ہو) جب مطلوبہ ہدہد کو انہوں نے حاضر نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–44

قصہء سوم ملکہء سبا بروایت ھد ھد قال اللہ تعالیٰ وتفقد الطیر فقال مالی لا اری الھد ھد۔۔۔ الی۔۔۔ واسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین۔ (ربط) اب ان آیات میں ملکہ سبا کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو بظاہر اس سورت کا تیسرا قصہ ہے مگر درحقیقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دوسرا قصہ ہے سلیمان (علیہ السلام) کے پاس تین قسم کے لشکر تھے ایک آدمیوں کا اور ایک جنوں کا اور ایک پرندوں کا۔ جو روانگی کے وقت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر سایہ کرتے تھے۔ ایک دن سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کے ایک لشکر کی جانچ پڑتا کی تو اس نے ہد ہد کو نہ پایا جو ہد ہدوں کا سردار تھا۔ فرمایا جب وہ آئے گا تو اس سے پوچھوں گا کہ کیوں غیر حاضر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 32–33

28:۔ خط کا مضمون اپنے وزراء اور مشیروں کو سنانے کے بعد بلقیس نے دوبارہ سب کو متوجہ کر کے کہا اے امراء مجھے اس معاملے میں مشورہ دو کہ اب مجھے کیا کرنا چاہئے۔ تمہارے مشورے کے بغیر میں کوئی فیصلہ نہیں کروں گی۔ اس سے ملکہ سبا کے طرز حکومت کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مشیروں کی رائے کا کس قدر احترام کرتی ہے۔ قالوا نحن اولوا قوۃ الخ : مشیروں کا جواب کوئی دانشمندانہ نہیں، اس سے خوشامد اور نیاز مندی کی بو آتی ہے۔ درباریوں نے مشورہ دیا کہ ہم سلیمان سے لڑیں گے کیونکہ ہماری جنگی اور فوجی طاقت نہایت مضبوط ہے اور ہم لڑائی میں بڑے بہادر اور دلیر ہیں ہم تو آپ کے حکم کے منتظر ہیں جو حکم ہوگا اس کی اطاعت کریں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 32–35

ربط آیات ہد ہدنے سلیمان (علیہ السلام) کو خبر دی کہ ملک سبا کے لوگ اور خود مکہ سورج پرست ہیں ۔ کفر و شرک میں مبتلا ہیں اور ان کے برے اعمال کو شیطان ان کو مزید کر کے دکھاتا ہے لہٰذا وہ ہدایت کا راستہ اختیار کرنے سے قاصر ہیں ، نیز یہ کہ وہ لوگ خدائے وحدہٗ لا شریک کے سامنے سجدیہ ریز نہیں ہوتے جو ظاہر و باطن ہر چیز کو جانتا ہے اور مخفی چیزوں کو آسمان و زمین سے نکالتا ہے ، وہی معبود بر حق ہے ، وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ یہ خبر سن کر سلیمان (علیہ السلام) نے اس کی تصدیق کرنے کا فیصلہ کیا اور اسی ہد ہد سے فرمایا کہ میرا یہ خط لے جا کر ملکہ کے سامنے ڈال دو ، پھر دیکھیں گے کہ وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّۃٍ وَّاُولُوْا بَاْسٍ شَدِيْدٍ۝ 0ۥۙ وَّالْاَمْرُ اِلَيْكِ فَانْظُرِيْ مَاذَا تَاْمُرِيْنَ۝ 33 قوی القُوَّةُ تستعمل تارة في معنی القدرة نحو قوله تعالی: خُذُوا ما آتَيْناكُمْ بِقُوَّةٍ [ البقرة/ 63] ( ق وو ) القوۃ یہ کبھی قدرت کے معنی میں اسرعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ خُذُوا ما آتَيْناكُمْ بِقُوَّةٍ [ البقرة/ 63] اور حکم دیا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی اس کو زور سے پکڑے رہو ۔ نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 29–40

انہوں نے کہا ہم بڑے قوی اور بڑے لڑنے والے لوگ ہیں، سلیمان ( علیہ السلام) سے کچھ خوف نہیں مگر تاہم جو آپ کی رائے ہو وہی ٹھیک بلقیس بڑی عقلمند عورت تھی، اس نے سوچا کہ لڑائی کا انجام برا ہے۔ اگر غالب آگیا تو آکر الٹ پلٹ دے گا، عزت داروں کو ذلیل کردے گا اور بادشاہوں کا یہی دستور ہے، صلح کرلینی بہتر ہے۔ اول مرتبہ اس کے پاس جانا تو مصلحت نہیں تحفہ تحائف دے کر ایلچیوں کو بھیجنا چاہئے، اس سے سلیمان ( علیہ السلام) کی پوری کیفیت معلوم ہوجاوے گی۔ یہ بات سب کو پسند آئی، بڑے بڑے بیش قیمت ہدیے دے کر ایلچیوں کو بھیجا تاکہ سلیمان اس مال کو دیکھ کر نرم ہوجاویں مگر سلیمان (علیہ السلام) کا مقصد اس بت پرست…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالُوْا نَحْنُ اُوْلُوْا قُوَّۃٍ وَّ اُوْلُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ 5 لا وَّالْاَمْرُاِلَیْکِ فَانْظُرِیْ مَاذَا تَاْمُرِیْنَ ۔ (النمل : 33) (اہلِ دربار نے جواب دیا کہ ہم طاقتور اور لڑنے والے لوگ ہیں، اور فیصلہ آپ کے اختیار میں ہے، آپ غور کرلیں کہ کیا حکم دیتی ہیں۔ ) اہلِ دربار کا جواب اہلِ دربار نے جواب میں کہا کہ جنگ کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، ایک وسائلِ جنگ اور افرادی قوت کی اور دوسری جنگی مہارت اور جرأت و بسالت کی۔ یہ دونوں ضرورتیں ہمارے پاس پوری طرح موجود ہیں۔ لوگ ہماری جنگی مہارت اور شجاعت سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ اور ہمارے وسائل کی فراوانی بھی کسی سے مخفی نہیں۔ اور ہم آپ کو یقین دلاتے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 32–35

فہم القرآن ربط کلام : ملکہ بلقیس کا اپنی قوم کے زعماء کے سامنے خط پڑھ کر مشورہ لینا اس پر قوم کا ردِّ عمل۔ قرآن مجید کے الفاظ سے یہ بات عیاں ہورہی ہے کہ ملکہ اور اس کا انداز حکمرانی کیا تھا۔ اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط پڑھنے کے بعد قوم کے نمائندوں سے کہا کہ مجھے اس معاملہ میں مشورہ دیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے ؟ کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ میں تمہارے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرتی۔ انھوں نے خط کا مضمون سن کر فوری ردِّ عمل دیا کہ ہم طاقت ور اور شدید لڑائی لڑنے والی جنگجو قوم ہیں اس لیے ہمیں ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ تاہم آپ ہماری حکمران ہیں آپ کو ہر قسم کے آئینی اختیارات ہیں۔ لہٰذا غور و…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مشورئہ جنگ : 33: قَالُوْا (انہوں نے اس کے جواب میں کہا) ۔ نَحْنُ اُولُوْا قُوَّۃٍ وَّ اُولُوْا بَأسٍ شَدِیْدٍ (ہم بڑے طاقتور اور سخت جنگجو ہیں) ۔ قوۃ سے ان کی مراد آلات اور اجسام کی قوت تھی۔ اور بأس سے مراد لڑائی کے وقت آزمائش اور شدت شجاعت تھی۔ وَالْاَمْرُ اِلَیْکِ فَانْظُرْیْ مَاذَا تَاْمُرِیْنَ (اب اختیار تیرے ہاتھ میں ہے آپ خود ہی غور کرلیں۔ جو آپ حکم دیں) ۔ یعنی حکم تمہارے سپرد ہے ہم تمہاری اطاعت کرنے والے ہیں۔ پس تم ہمیں حکم دو ہم اس کو مانیں گے تیری مخالفت ہرگز نہیں کریں گے گویا ان سب نے لڑائی کا مشورہ دیا۔ نمبر 2۔ یا ان کی مراد یہ تھی کہ ہم جنگجو ہیں ہم مشورہ دینے والوں کی اولاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

33۔ قالوا، بلقیس کا جواب دیتے ہوئے کہنے لگے ، نحن اولواقوۃ، ہم قتال کرنے کے لیے مضبوط اور قوی ہیں۔ واولواباس شدید، اور جنگ کے وقت بھی زیادہ ہیں۔ مقاتل کا بیان ہے کہ قوۃ سے مراد تعدادی قوت اور کثرت اور باس سے مراد ہے شدت شجاعت۔ یہ قول بطور تعریض کے ذکر کیا گیا ہے اگر تم ہمیں قتال کا حکم کرو گی تو کبھی ہم پیچھے نہیں ہٹے گے اور کہنے لگے، والامر الیک، اے ملکہ بادشاہ، یہ امراب تمہارے ہاتھوں میں ہے چاہیں توقتال کا حکم دیں اور چاہیں توترک کردیں، فانظری، اپنی رائے پر غور کریں۔ ماذاتامرین، یا اپنے کام میں نظرثانی کرکے ہمیں حکم دیدیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 32–43

(32 تا 43) جس وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط بلقیس نے پڑھا تو اس کو یہ تردد ہوا کہ اب کیا کیا جاوے آیا جس طرح اس خط میں لکھا ہے وہی کیا جاوے کہ اپنی حکومت کو چھوڑ کر اور اپنے دین سے ہاتھ اٹھا کر حضرت سلیمان کا دین اور ان کی اطاعت قبول کی جائے یا حضرت سلیمان سے مقابلہ کیا جاوے اسی تردد کے رفع کی شکل نکالنے کے لیے اس نے اپنے مشیروں اور فوج کے افسروں سے صلاح کی تفسیر سدی وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ صلاح مشورہ کے بعد بلقیس نے اپنی ریاست کے لوگوں سے یہ کہا کہ میں اس خط کے جواب میں حضرت سلیمان کے پاس کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اگر انہوں نے وہ تحفہ قبول کرلیا تو جان لینا کہ دنیا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–44

آیت 15 سے 44 اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 32–33

29 درباریوں کا مشورہ اور ملکہ کو رائے : سو ان لوگوں نے ملکہ سے کہا کہ " ہم بڑے طاقتور اور جنگجو لوگ ہیں آگے آپ کی مرضی "۔ یعنی ہمارا کام رائے دینا نہیں، مرنا مارنا ہے۔ رائے قائم کرنا اور فیصلہ دینا تو آپ کا اپنا کام ہے۔ ہم تو بس حکم کے منتظر ہیں۔ البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ کسی سے دبنے یا ڈرنے کی ضرورت نہیں کہ ہم بڑے طاقتور اور سخت لڑنے والے جنگجو لوگ ہیں۔ ہمارے پاس وسائل جنگ بھی وافر مقدار میں موجود ہیں اور رجال کار کی بھی کوئی کمی نہیں۔ لہذ اگر جنگ کی نوبت آئی تو ہم حریف سے پیچھے ہٹنے والے نہیں۔ سو { اولو قوۃ } سے انہوں نے اپنی عددی قوت و کثرت اور وسائلِ جنگ کی فراوانی کی طرف اشارہ کیا اور {…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–44

سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–44

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 32 تا 44 ۔ اسرار و معارف : مشورہ کی اہمیت : ملکہ بلقیس نے اپنے امراء کو جمع کرکے خط سنانے کے بعد رائے دریافت کی اور کہا کہ تمہیں علم ہے امور سلطنت ہمیشہ تمہارے مشورے سے طے کیے جاتے ہیں اس سے ثابت ہے کہ قبل اسلام بھی بعض حکمران مشورہ کی اہمیت سے واقف تھے اسلام نے مشورہ کی اہمیت پر اس قدر زور دیا کہ خود نبی اکرم ﷺ خدام سے مشورہ فرماتے تھے۔ امراء دربار نے جواب دیا کہ اگر بات مقابلہ کرنے کی ہے تو ہماری جنگی طاقت کسی سے کم نہیں اور ہم مانے ہوئے جنگجو بھی ہیں اور اگر مصلحت اس کے خلاف ہے تو بھی فیصلہ اور حکم تو آپ ہی صادر فرمائیں گی جو مناسب ہو ارشاد فرمائیں اس نے کہا کہ ابھی جنگ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 31–34

1 ۔ گویا اس نے یہ رائے ظاہر کی کہ لڑنے یا نہ لڑنے کا فیصلہ اس وقت کرلینا مناسب نہیں۔ لڑائی کا انجام بہرحال برا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:33) اولوا۔ والے۔ جمع ہے اس کا واحد نہیں آتا۔ اولوا بحالت رفع اولی بحالت نصب وجر۔ اولوا قوۃ طاقت والے۔ صاحب قوت۔ اولوا باس : باس بمعنی لڑائی۔ جنگ کی شدت۔ سختی۔ بڑے بڑے لڑنے والے۔ بڑے جنگ جو۔ بڑے شجاع۔ بہادر۔ الامر الیک فیصلہ امر تمہارے اختیار میں ہے۔ انظری امر واحدمؤنث حاضر۔ تو دیکھ۔ تو دیکھ لے۔ تو غور کر۔ تو غور کرلے ۔ تو سوچ لے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 20–37

لغات القرآن : آیت نمبر 20 تا 37 : تفقد (اس نے جائزہ لیا۔ اس نے ڈھونڈا) ‘ مکت (وہ ٹھہرا۔ اس نے دیر کی) نباء (خبر) ‘ وجدت ( میں نے پایاض تملک ( وہ بادشاہت کرتی ہے) اوتیت (دیا گیا) الخبئ (پوشیدہ) القہ ( اس کو ڈال دے) افتونی ( مجھے بتائو۔ مجھے مشورہ دو ) ‘ قاطعۃ (کاٹنے والی) ‘ تشھدون ( تم موجود ہو) اولوقوۃ (قوت و طاقت والا) ‘ اولوباس ( لڑنے والے) ‘ تامرین (تو کیا حکم دیتی ہے) ‘ مرسلۃ ( بھیجنے والی) ‘ نظرۃ (دیکھنے والی) ‘ اتمدون (کیا تم مدد کرتے ہو) تفرحون ( وہ اتراتے ہیں۔ خوش ہوتے ہیں) ‘ صغرون (ذلیل و خوارہونے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 20 تا 37 : حضرت سلیمان (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ایک عظیم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 32–39

(ف 1) جس وقت حضرت سلیمان کا خط بلقیس نے پڑھا تو اس کو یہ تردد ہوا کہ اب کیا کیا جائے کیا اپنی حکومت کو چھوڑ کر اور اپنے دین کو چھوڑ کر حضرت سلیمان کا دین اور اطاعت کی جائے یا حضرت سلیمان سے مقابلہ کیا جائے صلاح مشورہ کے بعد بلقیس نے اپنی ریاست کے لوگوں سے یہ کہا کہ میں اس خط کے جواب میں حضرت سلیمان کے پاس کچھ بڑے بڑے بیش قیمت تحفے بھیجتی ہوں تاکہ اس حال کو دیکھ کر نرم دل ہوجائے مگر حضرت سلیمان کا مقصود تو اس بت پرست بادشاہ زادی کو اسلام میں لانا اور کفر کی بڑائی سے بچانا تھا اس لیے ان تحفوں کو کچھ بھی خیال میں نہ لائے اور فرمانے لگے کہ کیا تم لوگ مال سے میری امداد کرنا چاہتے ہو جو ایک حقیر شے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 24–37

[8] یہاں سے لے کر آیت 26 کے آخر تک ہدہد کے قول پر اللہ تعالیٰ کا اپنا اضافہ ہے جیسا کہ انداز کلام سے صاف ظاہر ہے۔ یہ اسی قسم کی تضمین ہے جس کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

والامر الیک ۔ یعنی آخری فیصلہ آپکے اختیار ہے ۔ الملوک ۔ ملک کی جمع ہے ، یعنی بادشاہ ، حل لغات : اولوباس : ارباب حرب ،

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(33) اہل دربار نے کہا ہم پورے طاقتور اور صاحب قوت ہیں اور بڑے جنگ جو اور لڑنے والے ہیں اور حکم دینے کا اختیار آپ کو حاصل ہے لہٰذا اب آپ غور کرلیں جو حکم ہم کو دیناچا ہیں یعنی جہاں تک لڑائی کات علق ہے اور دشمن سے مقابلہ کا معاملہ ہے اس کے لئے ہم بالکل آمادہ اور تیار ہیں اور سازو سامان سے بالکل لیس ہیں لیکن جہاں تک جنگ کا حکم دینا اور میدان جنگ میں نکلنے کا معاملہ ہے وہ آپ کے اختیار میں ہے لہٰذا آپ اپنی مصلحت دیکھ لیں کہ آپ کیا حکم کرتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 29–35

ف 6۔ باوقعت اس لئے کہا کہ حاکمانہ مضمون ہے جس میں باوجود نہایت وجازت کے اعلی درجہ کی بلاغت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ملکہ کو اپنے اعوان وانصار سے جو جواب دیا گیا وہ بھی قابل تعریف ہے : 33۔ ملکہ سبا نے جن لوگوں کو مخاطب کرکے ایک بات پوچھی تھی انہوں نے بھی بات سنتے ہی اس کو واضح الفاظ میں نہایت ہی سلجھا ہوا جواب دیا وہ کہنے لگے کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہم بڑے طاقتور اور نہایت جنگجو قوم کے لوگ ہیں کہ آج تک ہم نے میدان میں پیٹھ نہیں دکھائی لیکن اختیار تو آپ کے پاس ہے اور یہ بات بھی آپ کو معلوم ہے کہ جو حکم آپ دیں گے ہم اس کو بسر وچشم قبول کریں گے اور اس کی تصدیق میدان کار ہی میں ہو سکے گی ، آپ بےفکر ہو کر حکم دیں ہم تعمیل حکم کرکے دکھادیں گے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–34

Consultation in important matters is a Sunnah. It provides the benefit of having views of others, and gives them a sense of participation قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَفْتُونِي فِي أَمْرِ‌ي مَا كُنتُ قَاطِعَةً أَمْرً‌ا حَتَّىٰ تَشْهَدُونِ She said, "0 chieftains, advise me in the matter I have (before me). I am not the one who decides a matter absolutely unless you are present with me." - 32 The word اَفتُونِی is derived from Fatwa فَتوٰی ، which means answering some specific issue. Here it means to give counsel or to express one's views. When Queen Bilqis received the letter of Sayyidna…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–33

38 The words used in the Text are: hatta tash-hu-dun (unless you are present, or unless you bear witness). That is: "1 regard your presence necessary when 1 take a decision in important matters, and also that whatever decision I take you should be there to testify that it is right and correct." This shows that though the system of government among Saba' was kingship, it was not tyrannical; but the ruler of the time decided matters in consultation with the important people in the government.

Read the full tafseer →