Explained with ayahs 32–35
بلقیس کو خط ملا
بلقیس نے حضرت سلیمان ؑ کا خط انہیں سنا کر ان سے مشورہ طلب کیا اور کہا کہ تم جانتے ہو جب تک تم سے میں مشورہ نہ کرلوں، تم موجود نہ ہو تو میں چونکہ کسی امر کا فیصلہ تنہا نہیں کرتی اس بارے میں بھی تم سے مشورہ طلب کرتی ہوں بتاؤ کیا رائے ہے ؟ سب نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ ہماری جنگی طاقت بہت کچھ ہے اور ہماری طاقت مسلم ہے۔ اس طرف سے تو اطمینان ہے آگے جو آپ کا حکم ہو۔ ہم تابعدراری کے لئے موجود ہیں۔ اسمیں ایک حد تک سرداران لشکر نے لڑائی کی طرف اور مقابلے کی طرف رغبت دی تھی لیکن بلقیس چونکہ سمجھدار عاقبت اندیش تھی اور ہدہد کے ہاتھوں خط کے ملنے کا ایک کھلا معجزہ دیکھ چکی تھی یہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
سورة النمل 39
اس ایک فقرے میں امپیریلزم اور اس کے اثرات و نتائج پر مکمل تبصرہ کردیا گیا ہے۔ بادشاہوں کی ملک گیری اور فاتح قوموں کی دوسری قوموں پر دست درازی کبھی اصلاح اور خیر خواہی کے لیے نہیں ہوتی، اس کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ دوسری قوم کو خدا نے جو رزق دیا ہے اور جو وسائل و ذرائع عطا کیے ہیں ان سے وہ خود متمتع ہوں اور اس قوم کو اتنا بےبس کردیں کہ وہ کبھی ان کے مقابلے میں سر اٹھا کر اپنا حصہ نہ مانگ سکے، اس غرض کے لیے وہ اس کی خوشحالی اور طاقت اور عزت کے تمام ذرائع ختم کردیتے ہیں، اس کے جن لوگوں میں بھی اپنی خودی کا دم داعیہ ہوتا ہے انہیں کچل کر رکھ دیتے ہیں، اس کے افراد میں غلامی، خوشامد، ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
اہم امور میں مشورہ کرنا سنت ہے اس میں دوسروں کی رائے سے فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے اور لوگوں کی دلجوئی بھی ہوتی ہے
قَالَتْ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤ ُ ا اَفْتُوْنِيْ فِيْٓ اَمْرِيْ ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ ، افتونی، فتوی سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کسی خاص مسئلہ کا جواب دینا۔ یہاں مشورہ دینا اور اپنی رائے کا اظہار کرنا مراد ہے۔ ملکہ بلقیس کو جب حضرت سلیمان ؑ کا خط پہنچا تو اس نے اپنے ارکان حکومت کو جمع کر کے اس واقعہ کا اظہار کیا اور ان سے مشورہ طلب کیا کہ مجھے کیا کرنا چاہئے۔ اس نے ان کی رائے دریافت کرنے سے پہلے ان کی دلجوئی اور ہمت افزائی کے لئے یہ بھی کہا کہ میں کسی معاملہ…
Read the full tafseer →قالت ان الملوک اذا دخلوا قریۃ افسدوھا و جعلوآ اعزۃ اھلھا اذلۃ وکذلک یفعلون (34)
ملکہ کی رائے
ملکہ نے درباریوں کے اس رجحان کی تائید نہیں کی۔ حضرت سلیمان کی قوت وصولت اور ان کی دانش و حکمت سے متعق ان کو بہت سی باتیں پہنچ چکی تھیں۔ اس وجہ سے جنگ کے رجحان کی انہوں نے حوصلہ شکنی کی اور اس کے عواقب سے اپنے درباریوں کو ڈرایا کہ بادشاہ لوگ جب کسی ملک یا شہر کو فتح کرتے ہیں تو اس کو بالکل تلپٹ کر کے رکھ دیتے ہیں اور ان کے ہاتھ ملک کے معززین کو ذلیل و خوار ہونا پڑتا ہے۔ بصورت غلیہ سلیمان اور ان کے فوجی بھی لازماً یہی کریں گے۔ مطلب یہ ہے کہ جنگ سے احتراز ہی میں خیر ہے۔
Read the full tafseer →34-1یعنی طاقت کے ذریعے سے فتح کرتے ہوئے۔
34-2یعنی قتل و غارت گری کرکے اور قیدی بنا کر۔
34-3بعض مفسرین کے نزدیک یہ اللہ کا قول ہے جو ملکہ سبا کی تائید میں ہے اور بعض کے نزدیک یہ بلقیس ہی کا کلام اور اس کا تتمہ ہے اور یہی سیاق کے زیادہ قریب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–38
12: حضرت سلیمان ؑ در اصل یہ چاہتے تھے کہ جب ملکہ آئے تو اس کے سامنے ان کا یہ معجزہ ظاہر ہو کہ اتنا بھاری تخت ملکہ کے آنے سے پہلے ہی حضرت سلیمان ؑ کے پاس پہنچ گیا، اور اس طرح ان کی طاقت کا بھی مظاہرہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
قالت ……المرسلون (53)
وہ جانتی ہے کہ بادشاہ جب کسی بستی پر قابض ہوتے ہیں تو وہ اسے برباد کردیتے ہیں۔ (لفظ قریہ عربی میں بڑے شہر پر بھی بولا جاتا ہے۔ ) لوگوں کی عزت و آبرو کو خراب کردیتے ہیں ، خونریزی کرتے ہیں اور مقامی لوگوں کی قوت کو پاش پاش کر کے رکھ دیتے ہیں۔ وہ سب سے پہلے موجود رئوساء اور بااثر طبقات کو ختم کرتے ہیں ۔ کیونکہ یہی لوگ ہوتے ہیں جو مقابلہ اور مدافعت کرتے ہیں۔ یہ ان کا تاریخی طرز عمل ہے۔
ہدیہ انسان کے دل کو زم کردیتا ہے اور محبت پیدا کرتا ہے۔ بسا اوقات معمولی ہدیہ سے ایک بہت بڑی جنگ ٹل جاتی ہے۔ یہ ایک تجربہ ہے۔ اگر حضرت سلیمان ہدیہ قبول کرلیں تو یہ ایک دنیاوی معاملہ ہوگا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
1 معلوم ہوتا ہے کہ مضمونِ خط کی عظمت و شوکت اور دوسرے قرائن و آثار سے بلقیس کو یقین ہوگیا کہ اس بادشاہ پر ہم غالب نہیں آسکتے اور کم ازکم اس کا قوی احتمال تو ضرور تھا۔ اس نے بتلایا کہ ایسی شان و شکوہ رکھنے والے بادشاہ سے لڑنا کھیل نہیں۔ اگر وہ غالب آگئے (جیسا کہ قوی امکان ہے) تو ملوک و سلاطین کی عام عادت کے موافق تمہارے شہروں کو تہ وبالا کر کے رکھ دیں گے۔ اور وہ انقلاب ایسا ہوگا جس میں بڑے عزت والے سرداروں کو ذلیل و خوار ہونا پڑے گا۔ لہذا میرے نزدیک بہتر ہے کہ ہم جنگ کرنے میں جلدی نہ کریں بلکہ ان کی طاقت، طبعی، رجحانات، نوعیت حکومت اور اس بات کا پتہ لگائیں کہ ان کی دھمکیوں کی پشت پر کون سی قوت…
Read the full tafseer →آیت 34 قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْکَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَۃً اَفْسَدُوْہَا ”
اس نازک موقع پر ملکہ نے بڑی دانش مندانہ بات کی کہ بادشاہوں کا ہمیشہ سے ہی دستوررہا ہے کہ وہ جس شہر یا علاقے کو فتح کرتے ہیں اسے برباد کر کے رکھ دیتے ہیں۔
وَجَعَلُوْٓا اَعِزَّۃَ اَہْلِہَآ اَذِلَّۃًج وَکَذٰلِکَ یَفْعَلُوْنَ ”
ملکہ کی یہ بات بھی بہت اہم اور حقیقت پر مبنی ہے۔ علامہ اقبالؔ نے اپنی نظم ”خضر راہ“ کے ذیلی عنوان ”سلطنت“ کے تحت جو فلسفہ بیان کیا ہے اس کا مرکزی خیال انہوں نے اسی آیت سے اخذ کیا ہے اور پہلے شعر میں اس آیت سے تلمیح بھی استعمال کی ہے۔ نظم کا آغاز یوں ہوتا ہے :
آ بتاؤں تجھ کو رمز آیۂ اِنَّ…
Read the full tafseer →31 خط کے انداز خطاب سے ملکہ کو یہ معلوم ہوگیا تھا کہ سلیمان عام فرمانرواؤں کی طرح نہیں بلکہ ان کی پشت پر کوئی غیر معمول طاقت ہے اور یہ بھی معلوم ہو رہا تھا کہ اگر ملکہ اور اس کے کار پرداز مطیع فرمان بن کر سلیمان (علیہ السلام) کے پاس حاضر نہ ہوئے تو حضرت سلیمان ان کی سرکوبی کے لئے ضرور ان پر چڑھائی کریں گے۔ حضرت سلیمان یہ تو گوارا کرسکتے تھے کہ یہ لوگ سورج پرستی چھوڑ کر راہ راست پر آجائیں تو ان سے کچھ تعرض نہ کیا جائے۔ مگر یہ گوارا نہ کرسکتے تھے کہ ان کے پاس اسباب و وسائل موجود ہونے کے باوجود ان کے قرب و جوار میں اس طرح علانیہ ملکی سطح پر شرک اور سورج پرستی ہوتی رہے۔ لہذا ملکہ کے خطرات کچھ…
Read the full tafseer →40۔ (اس لیے سردست جنگ تو مناسب نہیں) ملکہ، ہر جنگ عظیم کے نتائج، کشت وخون، تباہی و بربادی سے خوب واقف ہے، اس لیے جنگ سے بچنا چاہتی ہے۔ صاحب خلاصۃ التفاسیر (متوفی غالبا 1905 ء۔ ) اپنے استاد عالی مقام، فخر المتاخرین مولنا عبد الحی فرنگی محلی (رح) کے حوالہ سے لکھتے ہیں، کہ انہوں نے اس آیت کے سبق میں فرمایا کہ ” مناسب نہیں کہ آدمی انقلاب کا خواہاں رہے، بلکہ یوں دعا کرے کہ اے اللہ بادشاہ وقت کو ایسی ایسی توفیق دے، یہ ہدایت کر، اور یہ نہ کہے کہ یہ بادشاہ معزول اور فلاں فرمانروا ہو۔ اس لیے کہ اس میں ہزار ہا بےجرم وخطا ارباب شرف وذکا پس جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
آیت نمبر 32 تا 39
ترجمہ : اے درباریو ! تم میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو میں کسی معاملہ میں اس وقت تک قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس موجود نہ ہو اَلْمَلأُ أفتونِیْ میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور ثانی کی تسہیل یعنی واؤ سے بدل کر ای وَفْتُوْنی ان سب نے جواب دیا کہ ہم بڑے طاقتور اور بڑے لڑنے والے ہیں یعنی جنگ میں بڑی شدت والے ہیں آگے آپ کو اختیار ہے آپ خود ہی غور فرلیں کہ ہم کو کیا حکم دینا چاہتی ہیں ؟ ہم آپ کی اطاعت کریں گے، بلقیس نے کہا بادشاہ جب کسی بستی میں (فاتحانہ) طور پر داخل ہوتے ہیں تو اسے تخریب کے ذریعہ اجاڑ دیتے ہیں اور وہاں کے باعزت لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں اور یہ خط بھیجنے…
Read the full tafseer →قالت ان الملوک اذا دخوا قریۃ افسدوھا وجعلوا اعزۃ اھلھا اذلۃ وکذلک یعفلون
ملکہ نے کہا : بادشاہ جب کسی بستی میں جبراً داخل ہوتے ہیں تو اس کو تباہ کردیتے ہیں اور وہاں کے معزز باشندوں کو ذلیل کردیتے ہیں (یعنی ان کا مال لوٹتے ہیں ‘ گھروں کو اجاڑتے ہیں تاکہ ان کا رعب اور اقتدار قائم ہوجائے) اور یہ لوگ بھی (اگر غالب آگئے تو) ایسا ہی کریں گے۔
ملکہ نے عام بادشاہوں کا عمومی ضابطہ بیان کر کے اول قوم کو مبہم طور پر جنگ سے ڈرایا پھر آخری فقرہ کہہ کے صراحت کردی کہ ان لوگوں سے بھی مجھے یہی خطرہ ہے۔ کَذٰلِکَ یَفْعَلُوْنَ کا ایک ترجمہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بادشاہ ایسا ہی کرتے رہتے ہیں ‘ ان کا دستور ہی یہی ہے۔…
Read the full tafseer →(34) یہ سن کر حضرت بلقیس نے حکمت آمیز گفتگو کی وہ یہ کہ والیان ملک جب کسی بستی میں غلبہ اور لڑائی کے ذریعے سے داخل ہوتے ہیں تو اس کو تہہ وبالا کردیتے ہیں اور جو عزت والے ہوتے ہیں ان کو قتل کے ذریعے ورسوا کردیتے ہیں چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ والیان ملک بڑائی میں ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْيَةً۔۔ : ملکہ ان سے زیادہ سمجھ دار تھی اور سلیمان ؑ کے متعلق ان سے زیادہ علم رکھتی تھی، انھوں نے اگرچہ جنگ کے حق میں رائے دی تھی، مگر اسے معلوم تھا کہ سلیمان ؑ کے لشکروں میں انسانوں کے علاوہ جنّ اور پرندے بھی شامل ہیں اور وہ ان کا کسی صورت مقابلہ نہیں کرسکتی۔ وہ ہد ہد کے ذریعے سے آنے والے خط کا عجیب و غریب مشاہدہ بھی کرچکی تھی۔ اس لیے اس نے کہا، مجھے ڈر ہے کہ اگر ہم نے ان سے مقابلے اور لڑائی کا ارادہ کیا تو وہ اپنے لشکروں کے ساتھ حملہ آور ہو کر مجھے اور تم سب سرداروں کو خاص طور پر ذلیل و خوار یا ہلاک کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس نے کہا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
( قالت یایھا۔۔۔۔ )
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 :۔ قالت یایھا الملواء افتونی فی امری، ملا سے مراد قوم کے اشراف ہیں۔ سورة بقرہ میں اس کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کے ساتھ ہزار سردار تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بارہ ہزار سردار تھے، ہر سردار کے ساتھ لاکھ سپاہی تھے۔ قیل سے مراد بڑے بادشاہ کے نیچے چھوٹے بادشاہ تھے اس نے اپنی قوم کے ساتھ حسن ادب کو مخلوط خاطر رکھا ہے اور اس معاملہ میں جو اسے لا حق ہوتا ہے، اس کا ذکر اس قول میں ہے : ما کنت قاطعۃ امرا حتی تشھدون تو اس بڑی مصیبت میں کیسے تم سے مشورہ نہ کروں ؟ سرداروں نے اسے وہ جواب دیا جس سے اس کی آنکھیں ٹھنڈی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
ارکان سلطنت سے مشورہ
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” قالت یا ایہا الملؤا افتونی فی امری “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس نے اپنی مملکت کے سرداروں کو جمع کیا اور اس معاملہ میں ان سے مشورہ کیا ان کی رائے اور اس کی رائے اس بات پر جمع ہوگئی کہ وہ سلیمان (علیہ السلام) سے جنگ کریں گے وہ (لشکر کو لے کر) چلی جب وہ سلیمان (علیہ السلام) کے ملک کے قریب پہنچے تو کہنے لگی میں ان کی طرف تحفہ بھیجوں گی اگر اس نے اس کو قبول کرلیا تو وہ بادشاہ ہے اور میں اس سے لڑوں گی اور اگر اس نے اس کو رد کردیا تو میں اس کے تابع ہوجاؤں گی کیونکہ وہ نبی ہے۔ جب اس کے قاصد سلیمان کے قریب پہنچے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →قَالَتْ [ اس نے کہا ] اِنَّ [ بیشک ] الْمُلُوْكَ [ بادشاہ لوگ ] اِذَا [ جب کبھی ] دَخَلُوْا [ داخل ہوتے ہیں ] قَرْيَةً [ کسی بستی میں ] اَفْسَدُوْهَا [ تو وہ نظم بگاڑتے ہیں اس کا ] وَجَعَلُوْٓا [ اور وہ کردیتے ہیں ] اَعِزَّةَ اَهْلِهَآ [ اس کے با اختیار لوگوں کو ] اَذِلَّةً ۚ [ ذلیل ] وَكَذٰلِكَ [ اور اسی طرح ] يَفْعَلُوْنَ [ یہ لوگ کریں گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–37
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا پرندوں کی حاضری لینا، ہدہد کا غائب ہونا اور ملک سبا سے ایک ملکہ کی خبر لانا اور اس کے نام حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط لیجانا اور ملکہ کا ہدیہ بھیجنا
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت انسان جنات چرند پرند سب پر تھی وہ ان سب کے بادشاہ تھے، اور یہ چیزیں ان کے لشکر کا جزو تھیں ایک بار جانوروں کی حاضری لی تو جانور جمع ہوگئے لیکن ان میں ہدہد حاضر نہیں ہوا (ممکن ہے انہوں نے ہر جنس کے بڑے ہی کو بلایا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تمام جانوروں کو جمع ہونے کا حکم دیا ہو سب جانور جمع ہوگئے ہدہد بھی سب آگئے لیکن ان کا سردار حاضر نہ ہوا ہو) جب مطلوبہ ہدہد کو انہوں نے حاضر نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–44
قصہء سوم ملکہء سبا بروایت ھد ھد
قال اللہ تعالیٰ وتفقد الطیر فقال مالی لا اری الھد ھد۔۔۔ الی۔۔۔ واسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین۔
(ربط) اب ان آیات میں ملکہ سبا کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو بظاہر اس سورت کا تیسرا قصہ ہے مگر درحقیقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دوسرا قصہ ہے سلیمان (علیہ السلام) کے پاس تین قسم کے لشکر تھے ایک آدمیوں کا اور ایک جنوں کا اور ایک پرندوں کا۔ جو روانگی کے وقت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر سایہ کرتے تھے۔ ایک دن سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کے ایک لشکر کی جانچ پڑتا کی تو اس نے ہد ہد کو نہ پایا جو ہد ہدوں کا سردار تھا۔ فرمایا جب وہ آئے گا تو اس سے پوچھوں گا کہ کیوں غیر حاضر…
Read the full tafseer →29:۔ بلقیس نہایت زیرک حکمران تھی۔ وہ جنگ کے عواقب کو خوب جانتی تھی۔ وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے خط سے ان کی قوت اور ہیبت و سطوت کا اندازہ بھی لگا چکی تھی اس لیے اس نے درباریوں کے مشورے کو ناپسند کیا اور اس کی خرابی کا اظہار اس طرح کیا کہ جنگ کوئی اچھی چیز نہیں اس کا انجام نہایت خوفناک اور عبرتناک ہوتا ہے۔ جب کوئی بادشاہ کسی شہر پر حملہ آور ہوتا ہے تو اسے تباہ و برباد کردیتا ہے اور وہاں کے معززین اور شرفاء کی عزت و آبرو کو خاک میں ملا دیتا ہے اور ان کو ذلیل ورسوا کردیتا ہے۔ بادشاہوں کی عادت ہی یہی ہے، اس لیے جنگ کرنا اچھا مشورہ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
ربط آیات
ہد ہدنے سلیمان (علیہ السلام) کو خبر دی کہ ملک سبا کے لوگ اور خود مکہ سورج پرست ہیں ۔ کفر و شرک میں مبتلا ہیں اور ان کے برے اعمال کو شیطان ان کو مزید کر کے دکھاتا ہے لہٰذا وہ ہدایت کا راستہ اختیار کرنے سے قاصر ہیں ، نیز یہ کہ وہ لوگ خدائے وحدہٗ لا شریک کے سامنے سجدیہ ریز نہیں ہوتے جو ظاہر و باطن ہر چیز کو جانتا ہے اور مخفی چیزوں کو آسمان و زمین سے نکالتا ہے ، وہی معبود بر حق ہے ، وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ یہ خبر سن کر سلیمان (علیہ السلام) نے اس کی تصدیق کرنے کا فیصلہ کیا اور اسی ہد ہد سے فرمایا کہ میرا یہ خط لے جا کر ملکہ کے سامنے ڈال دو ، پھر دیکھیں گے کہ وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں ،…
Read the full tafseer →قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْيَۃً اَفْسَدُوْہَا وَجَعَلُوْٓا اَعِزَّۃَ اَہْلِہَآ اَذِلَّۃً 0ۚ وَكَذٰلِكَ يَفْعَلُوْنَ 34
ملك) بادشاه)
المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور
وَالمِلْكُ ضربان :
مِلْك هو التملک والتّولّي، ومِلْك هو القوّة علی ذلك، تولّى أو لم يتولّ. فمن الأوّل قوله : إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] ، ومن الثاني قوله : إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20]
( م ل ک ) الملک
۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ صرف انسانوں کے منتظم کے ساتھ خاص ہے .
اور ملک کا لفظ دو طرح پر ہوتا ہے
عملا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–40
انہوں نے کہا ہم بڑے قوی اور بڑے لڑنے والے لوگ ہیں، سلیمان ( علیہ السلام) سے کچھ خوف نہیں مگر تاہم جو آپ کی رائے ہو وہی ٹھیک بلقیس بڑی عقلمند عورت تھی، اس نے سوچا کہ لڑائی کا انجام برا ہے۔ اگر غالب آگیا تو آکر الٹ پلٹ دے گا، عزت داروں کو ذلیل کردے گا اور بادشاہوں کا یہی دستور ہے، صلح کرلینی بہتر ہے۔ اول مرتبہ اس کے پاس جانا تو مصلحت نہیں تحفہ تحائف دے کر ایلچیوں کو بھیجنا چاہئے، اس سے سلیمان ( علیہ السلام) کی پوری کیفیت معلوم ہوجاوے گی۔ یہ بات سب کو پسند آئی، بڑے بڑے بیش قیمت ہدیے دے کر ایلچیوں کو بھیجا تاکہ سلیمان اس مال کو دیکھ کر نرم ہوجاویں مگر سلیمان (علیہ السلام) کا مقصد اس بت پرست…
Read the full tafseer →قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْکَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَـۃً اَفْسَدُوْھَا وَجَعَلُوْٓا اَعِزَّۃَ اَھْلِھَـآ اَذِلَّـۃً ج وَکَذٰلِکَ یَفْعَلُوْنَ ۔ (النمل : 34)
(ملکہ نے کہا اس میں شک نہیں کہ بادشاہ جب کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں تو اسے برباد کردیتے ہیں اور اس کے معززین کو ذلیل کردیتے ہیں، اور یہی کچھ یہ لوگ بھی کریں گے۔ )
ملکہ کی رائے
ملکہ نے محسوس کیا کہ اس کے اہل دربار کا رجحان جنگ کی طرف ہے اور ملکہ جنگ سے بچنا چاہتی تھی۔ وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی قوت و صولت اور ان کی دانش و حکمت سے متعلق بہت کچھ سن چکی تھی۔ چناچہ اس نے جنگ کے عواقب و نتائج سے اہل دربار کو آگاہ کرتے ہوئے کہا جنگ کسی ملک کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
فہم القرآن
ربط کلام : ملکہ بلقیس کا اپنی قوم کے زعماء کے سامنے خط پڑھ کر مشورہ لینا اس پر قوم کا ردِّ عمل۔
قرآن مجید کے الفاظ سے یہ بات عیاں ہورہی ہے کہ ملکہ اور اس کا انداز حکمرانی کیا تھا۔ اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط پڑھنے کے بعد قوم کے نمائندوں سے کہا کہ مجھے اس معاملہ میں مشورہ دیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے ؟ کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ میں تمہارے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرتی۔ انھوں نے خط کا مضمون سن کر فوری ردِّ عمل دیا کہ ہم طاقت ور اور شدید لڑائی لڑنے والی جنگجو قوم ہیں اس لیے ہمیں ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ تاہم آپ ہماری حکمران ہیں آپ کو ہر قسم کے آئینی اختیارات ہیں۔ لہٰذا غور و…
Read the full tafseer →مزاجِ شاہان :
34: قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْکَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَۃً (کہنے لگی کہ بادشاہ کسی بستی میں جب داخل ہوتے ہیں) یہاں داخلے سے زبردستی غلبے سے داخل ہونا مراد ہے۔ اَفْسَدُوْہَا (وہ اس کو اجاڑ دیتے ہیں) ۔ وَجَعَلُوْا اَعِزَّۃَ اَہْلِہَآ اَذِلَّۃً (اور وہاں کے معزز باشندوں کو ذلیل کردیتے ہیں یعنی معززین کو ذلیل کرتے ہیں اور شرفاء کی توہین کرتے ہیں اور ان کو قتل و قید میں ڈالتے ہیں۔ پس اس نے لڑائی کے برے نتیجے کو ذکر کرتے ہوئے کہا۔ وَکَذٰلِکَ یَفْعَلُوْنَ (اور وہ اسی طرح کیا کرتے ہیں) اس کا مقصد یہ تھا کہ یہ ان کی دوامی عادت ہے کہ جس میں تبدیلی نہیں۔ کیونکہ وہ پرانے بادشاہوں کے گھروں میں…
Read the full tafseer →34۔ قالت، ، بلقیس ان کو جواب دیتے ہوئے بولی ، ان الملکوک اذا دخلوا قریۃ، جبراداخل ہوتے ہیں ، افسدوھا، تو اس بستی کو ہلاک کردیتے ہیں ، وجعلوا اعزۃ اھلھا اذلہ، ، انکے شرفاء اور بزرگوں کو ہلاک کردیتے ہیں ان سب کے لیے بہترین راستہ یہی ہے کہ ہم ان سے ڈریں اور ان کے شہر میں داخل ہوجائیں، اور اس خبر سے انکوروکا کہ کسی کونہ بتلائیں تو اللہ نے اس کے قول کی تصدیق کی اور کہا، وکذالک یفعلون، جیسا کہ تونے ہمیں حکم دیا ہے ہم ویسا ہی اس حکم کو بجالائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–43
(32 تا 43) جس وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط بلقیس نے پڑھا تو اس کو یہ تردد ہوا کہ اب کیا کیا جاوے آیا جس طرح اس خط میں لکھا ہے وہی کیا جاوے کہ اپنی حکومت کو چھوڑ کر اور اپنے دین سے ہاتھ اٹھا کر حضرت سلیمان کا دین اور ان کی اطاعت قبول کی جائے یا حضرت سلیمان سے مقابلہ کیا جاوے اسی تردد کے رفع کی شکل نکالنے کے لیے اس نے اپنے مشیروں اور فوج کے افسروں سے صلاح کی تفسیر سدی وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ صلاح مشورہ کے بعد بلقیس نے اپنی ریاست کے لوگوں سے یہ کہا کہ میں اس خط کے جواب میں حضرت سلیمان کے پاس کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اگر انہوں نے وہ تحفہ قبول کرلیا تو جان لینا کہ دنیا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
آیت 15 سے 44
اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان…
Read the full tafseer →30 ملکہ کا جواب اور جنگ سے احتراز کی پالیسی کا اظہار : یعنی اس نے واضح کردیا کہ لڑنا مرنا تو میری رائے میں درست نہیں کہ اس کا انجام ہولناک تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ کہ حکمران لوگ جب کسی ملک پر قبضہ کرتے ہیں تو اس کا نظام تہ وبالا کر کے رکھ دیتے ہیں۔ اور اس کے عزت دار اور سربرآوردہ لوگوں کو ذلیل و خوار کردیتے ہیں۔ تاکہ وہ ان کے خلاف کوئی آواز اٹھانے کے قابل نہ رہے اور ان کا رعب اور دبدبہ دلوں پر چھا جائے۔ سو اگر جنگ کی صورت میں یہ لوگ غالب آگئے تو یہ بھی ہمارے ملک میں اور ہمارے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی کریں گے۔ اس لیے جنگ کی راہ کو اپنانا مجھے صحیح نہیں لگتا ہے کہ اس میں فساد و خرابی کا خدشہ و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں
تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 32 تا 44 ۔ اسرار و معارف :
مشورہ کی اہمیت : ملکہ بلقیس نے اپنے امراء کو جمع کرکے خط سنانے کے بعد رائے دریافت کی اور کہا کہ تمہیں علم ہے امور سلطنت ہمیشہ تمہارے مشورے سے طے کیے جاتے ہیں اس سے ثابت ہے کہ قبل اسلام بھی بعض حکمران مشورہ کی اہمیت سے واقف تھے اسلام نے مشورہ کی اہمیت پر اس قدر زور دیا کہ خود نبی اکرم ﷺ خدام سے مشورہ فرماتے تھے۔
امراء دربار نے جواب دیا کہ اگر بات مقابلہ کرنے کی ہے تو ہماری جنگی طاقت کسی سے کم نہیں اور ہم مانے ہوئے جنگجو بھی ہیں اور اگر مصلحت اس کے خلاف ہے تو بھی فیصلہ اور حکم تو آپ ہی صادر فرمائیں گی جو مناسب ہو ارشاد فرمائیں اس نے کہا کہ ابھی جنگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
1 ۔ گویا اس نے یہ رائے ظاہر کی کہ لڑنے یا نہ لڑنے کا فیصلہ اس وقت کرلینا مناسب نہیں۔ لڑائی کا انجام بہرحال برا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →(27:34) وکذلک یفعلون۔ اس کی دو صورتیں ہیں (1) جملہ معترضہ ہے اور اللہ کی طرف سے ملکہ کے کلام کی تصدیق ہے کہ جعلوا اعزۃ اہلہا اذلۃ۔ (2) یہ ملکہ کا کلام ہی ہے اور اس کے پہلے کلام کی تاکید میں آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–37
لغات القرآن : آیت نمبر 20 تا 37 :
تفقد (اس نے جائزہ لیا۔ اس نے ڈھونڈا) ‘ مکت (وہ ٹھہرا۔ اس نے دیر کی) نباء (خبر) ‘ وجدت ( میں نے پایاض تملک ( وہ بادشاہت کرتی ہے) اوتیت (دیا گیا) الخبئ (پوشیدہ) القہ ( اس کو ڈال دے) افتونی ( مجھے بتائو۔ مجھے مشورہ دو ) ‘ قاطعۃ (کاٹنے والی) ‘ تشھدون ( تم موجود ہو) اولوقوۃ (قوت و طاقت والا) ‘ اولوباس ( لڑنے والے) ‘ تامرین (تو کیا حکم دیتی ہے) ‘ مرسلۃ ( بھیجنے والی) ‘ نظرۃ (دیکھنے والی) ‘ اتمدون (کیا تم مدد کرتے ہو) تفرحون ( وہ اتراتے ہیں۔ خوش ہوتے ہیں) ‘ صغرون (ذلیل و خوارہونے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 20 تا 37 :
حضرت سلیمان (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ایک عظیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
(ف 1) جس وقت حضرت سلیمان کا خط بلقیس نے پڑھا تو اس کو یہ تردد ہوا کہ اب کیا کیا جائے کیا اپنی حکومت کو چھوڑ کر اور اپنے دین کو چھوڑ کر حضرت سلیمان کا دین اور اطاعت کی جائے یا حضرت سلیمان سے مقابلہ کیا جائے صلاح مشورہ کے بعد بلقیس نے اپنی ریاست کے لوگوں سے یہ کہا کہ میں اس خط کے جواب میں حضرت سلیمان کے پاس کچھ بڑے بڑے بیش قیمت تحفے بھیجتی ہوں تاکہ اس حال کو دیکھ کر نرم دل ہوجائے مگر حضرت سلیمان کا مقصود تو اس بت پرست بادشاہ زادی کو اسلام میں لانا اور کفر کی بڑائی سے بچانا تھا اس لیے ان تحفوں کو کچھ بھی خیال میں نہ لائے اور فرمانے لگے کہ کیا تم لوگ مال سے میری امداد کرنا چاہتے ہو جو ایک حقیر شے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–37
[8] یہاں سے لے کر آیت 26 کے آخر تک ہدہد کے قول پر اللہ تعالیٰ کا اپنا اضافہ ہے جیسا کہ انداز کلام سے صاف ظاہر ہے۔ یہ اسی قسم کی تضمین ہے جس کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
Read the full tafseer →اعزۃ ۔ جمع عزیز ۔ غالب شریف ، ذلیل ۔
Read the full tafseer →(34) بلقیس کہنے لگی بادشاہ جب کسی بستی میں فاتحانہ داخل ہوا کرتے ہیں تو اس کو برباد اور تہ وبالا کر ڈالتے ہیں اور وہاں کے عزت دار لوگوں کو ذلیل اور حقیر کردیا کرتے ہیں اور یہ بھی اسی طرح کری گے۔
یعنی اس وقت لڑنا اور اعلان جنگ کرنا تو مناسب نہیں کیونکہ اگر فریق مخالف کو فتح اور غلبہ حاصل ہوگیا تو فتح کرنے والوں کی عام حالت یہ ہے کہ جس بستی میں وہ غلبہ کے بعد گھستے ہیں تو اس بستی کو برباد کر ڈالتے ہیں اور وہاں کے بڑے بڑے عزت دار لوگوں کو ذلیل کرتے ہیں اور ان سے حقارت آمیز سلوک اور برتائو کرتے ہیں اور یہ لوگ ایسا ہی کریں گے کہ ہمارے شہر کو تہ وبالا کردیں گے اور یہاں کے اہل مناسب کے ساتھ جس قدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
ف 6۔ باوقعت اس لئے کہا کہ حاکمانہ مضمون ہے جس میں باوجود نہایت وجازت کے اعلی درجہ کی بلاغت ہے۔
Read the full tafseer →ملکہ سبا نے اپنی رائے کا اظہار اپنی مجلس شوری میں اس طرح کیا :
34۔ ملکہ سبا نے اپنی مجلس شوری میں جو بیان دیا اس پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کی طاقت وقوت اور سطوت سے کسی حد تک وقف تھی خواہ اس نے اس دوران پتہ لگا لیا تھا اور چاہے ہدہد ہی سے اس نے معلومات حاصل کرلی تھیں ، ملکہ کے فوجیوں کی طرف سے اس کو بہت حوصلہ افزا بیان وصول ہوا تھا اب جب اس نے اپنی مجلس مشاورت سے مشورہ کیا تو اس نے ان کو صاف صاف لفظوں میں بتا دیا کہ مسلمان کی طاقت وسطوت ہمارے سے بہت زیادہ ہے اور بادشاہوں کا اصول بھی ہم سب کو معلوم ہے کہ وہ جب کسی چھوٹے ملک پر حملہ کرتے ہیں تو وہاں کے عوام پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
Consultation in important matters is a Sunnah. It provides the benefit of having views of others, and gives them a sense of participation
قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَفْتُونِي فِي أَمْرِي مَا كُنتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّىٰ تَشْهَدُونِ
She said, "0 chieftains, advise me in the matter I have (before me). I am not the one who decides a matter absolutely unless you are present with me." - 32
The word اَفتُونِی is derived from Fatwa فَتوٰی ، which means answering some specific issue. Here it means to give counsel or to express one's views. When Queen Bilqis received the letter of Sayyidna…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
39 In this one sentence a thorough criticism has been made of imperialism. The kings' invasion of the other countries and the victorious nations' violence against the oppressed nations has never been for the sake of reform and goodwill. 'fire object has been to control and exploit the means and resources of sustenance granted to the other nation by God, and make it so helpless that it should never be able to rise in resistance and demand its share. For this purpose they block up all it, means of prosperity, power and honour, crush down aII selfrespecting elements, instil in its members…
Read the full tafseer →