An-Naml 27:32

An-Naml · from ayah 32

27:32

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ ۚ— مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰی تَشْهَدُوْنِ ۟قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِىۡ فِىۡۤ اَمۡرِىۡ‌ۚ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ

(خط سنا کر) وہ کہنے لگی کہ اے اہل دربار میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو، جب تک تم حاضر نہ ہو (اور صلاح نہ دو) میں کسی کام کو فیصل کرنے والی نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

She said, "O eminent ones, advise me in my affair. I would not decide a matter until you witness [for] me."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 3 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:32

(خط سُنا کر) ملکہ نے کہا "“اے سردارانِ قوم میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو، میں کسی معاملہ کا فیصلہ تمہارے بغیر نہیں کرتی ہوں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(خط سنا کر) وہ کہنے لگی کہ اے اہل دربار میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو، جب تک تم حاضر نہ ہو (اور صلاح نہ دو) میں کسی کام کو فیصل کرنے والی نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس نے کہا اے میرے سردارو! تم میرے اس معاملہ میں مجھے مشوره دو۔ میں کسی امر کا قطعی فیصلہ جب تک تمہاری موجودگی اور رائے نہ ہو نہیں کیا کرتی

— مولانا محمد جوناگڑہی

ملکہ نے کہا : قوم کے سردارو ! جو مسئلہ میرے سامنے آیا ہے اس میں مجھے فیصلہ کن مشورہ دو۔ میں کسی مسئلے کا حتمی فیصلہ اس وقت تک نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس موجود نہ ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولی اے سردارو! میرے اس معاملے میں مجھے رائے دو میں کسی معاملے میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس حاضر نہ ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(ملکہ نے) کہا: اے دربار والو! تم مجھے میرے (اس) معاملہ میں مشورہ دو، میں کسی کام کا قطعی فیصلہ کرنے والی نہیں ہوں یہاں تک کہ تم میرے پاس حاضر ہو کر (اس اَمر کے موافق یا مخالف) گواہی دو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا اے سردارو ! تم میرے معاملے میں مجھے حل بتاؤ، میں کبھی کسی معاملے کا فیصلہ کرنے والی نہیں، یہاں تک کہ تم میرے پاس موجود ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(یہ خط سنا کر) ملکہ کہنے لگی : اے اہل دربار ! میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو۔ جب تک تم لوگ میرے پاس موجود نہ ہو میں کسی معاملہ کو طے نہیں کیا کرتی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے کہا، اے درباریو، میرے اس معاملے میں مجھے پرانے دور میں کسی معاملے کا اس وقت تک فیصلہ نہیں کرتی جب تک آپ لوگ موجود نہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہنے لگی اے دربار والو مجھے مشورہ دو میرے اس اہم معاملے میں کہ میں کسی بھی اہم معاملے کا قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک کہ تم میرے پاس حاضر نہ ہوؤ اور اپنی رائے پیش نہ کردو

— مولانا اسحاق مدنی

(پھر) بولی اے اہل دربار مجھ کو میرے معاملہ میں رائے دو میں کبھی کسی معاملہ کا فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم (میرے پاس) موجودہ نہ ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس نے کہا : اے سردارو ! میرے اس معاملے میں آپ لوگ مجھے مشورہ دیں۔ میں کسی معاملے میں بھی حتمی فیصلہ نہیں کرتی جب تک آپ لوگ موجود نہ ہوں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

خط سنا کہ کہنے لگی کہ اے اہل دربار ! میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو جب تک تم حاضر نہ ہو (اور مشورہ نہ دو) میں کسی کام کا فیصلہ کرنے والی نہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(After reading the letter) the Queen said: "Nobles, let me have your counsel in this matter for I make no firm decision without you."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

She said, :O chieftains, advise me in the matter I have (before me). I am not the one who decides a matter absolutely unless you are present with me.

— Muhammad Taqi Usmani

She said, :O chieftains, advise me in the matter I have (before me). I am not the one who decides a matter absolutely unless you are present with me.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

She said: "O chiefs! Advise me in case of mine. I decide no case till you are present with me."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

She said: O chieftains! Pronounce for me in my case. I decide no case till ye are present with me.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

She said, "O eminent ones, advise me in my affair. I would not decide a matter until you witness [for] me."

— Saheeh International

She said, "My officials, what are your views on this matter? I will not decide until I have your views.

— Muhammad Sarwar

She said: O chiefs! give me advice respecting my affair: I never decide an affair until you are in my presence.

— Muhammad Habib Shakir

She said: O chiefs! counsel me in my affair. I am wont not to resolve on any affair until ye are present with me.

— Abdul Majid Daryabadi

She said: "Ye chiefs! advise me in (this) my affair: no affair have I decided except in your presence."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 32–35

بلقیس کو خط ملا بلقیس نے حضرت سلیمان ؑ کا خط انہیں سنا کر ان سے مشورہ طلب کیا اور کہا کہ تم جانتے ہو جب تک تم سے میں مشورہ نہ کرلوں، تم موجود نہ ہو تو میں چونکہ کسی امر کا فیصلہ تنہا نہیں کرتی اس بارے میں بھی تم سے مشورہ طلب کرتی ہوں بتاؤ کیا رائے ہے ؟ سب نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ ہماری جنگی طاقت بہت کچھ ہے اور ہماری طاقت مسلم ہے۔ اس طرف سے تو اطمینان ہے آگے جو آپ کا حکم ہو۔ ہم تابعدراری کے لئے موجود ہیں۔ اسمیں ایک حد تک سرداران لشکر نے لڑائی کی طرف اور مقابلے کی طرف رغبت دی تھی لیکن بلقیس چونکہ سمجھدار عاقبت اندیش تھی اور ہدہد کے ہاتھوں خط کے ملنے کا ایک کھلا معجزہ دیکھ چکی تھی یہ بھی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 32–33

سورة النمل 38 اصل الفاظ ہیں حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ جب تک تکہ تم حاضر نہ ہو، یا تم گواہ نہ ہو، یعنی اہم معاملات میں فیصلہ کرتے وقت تم لوگوں کی موجودگی مریے نزدیک ضروری ہے، اور یہ بھی کہ جو فیصلہ میں کروں اس کے صحیح ہونے کی تم شہادت دو ، اس سے جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ کہ قوم سبا میں بادشاہی نظام تو تھا مگر وہ استبدادی نظام نہ تھا بلکہ فرماں روائے وقت معاملات کے فیصلے اعیان سلطنت کے مشورے سے کرتا تھا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–34

اہم امور میں مشورہ کرنا سنت ہے اس میں دوسروں کی رائے سے فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے اور لوگوں کی دلجوئی بھی ہوتی ہے قَالَتْ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤ ُ ا اَفْتُوْنِيْ فِيْٓ اَمْرِيْ ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ ، افتونی، فتوی سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کسی خاص مسئلہ کا جواب دینا۔ یہاں مشورہ دینا اور اپنی رائے کا اظہار کرنا مراد ہے۔ ملکہ بلقیس کو جب حضرت سلیمان ؑ کا خط پہنچا تو اس نے اپنے ارکان حکومت کو جمع کر کے اس واقعہ کا اظہار کیا اور ان سے مشورہ طلب کیا کہ مجھے کیا کرنا چاہئے۔ اس نے ان کی رائے دریافت کرنے سے پہلے ان کی دلجوئی اور ہمت افزائی کے لئے یہ بھی کہا کہ میں کسی معاملہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ملکہ سبا کا مشورہ اپنے درباریوں سے خط کا مضمون سنا کر مکلہ نے درباریوں سے مشورہ طلب کیا کہ آپ لوگ اس معاملے میں رائے دیجیے کہ مجھے کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے ؟ اور ساتھ ہی اہل دربار کی دلجوئی و استمالت کے لئے یہ بھی کہا کہ میں کسی اہم معاملے کا فیصلہ اس وقت تک نہیں کرتی جب تک آپ لوگوں کی موجودگی میں آپ لوگوں کا مشورہ نہ حاصل کرلوں۔ اس دل جوئی کی ضرورت ملکہ نے غالباً اس لئے محسوس کی کہ وہ حضرت سلیمان ؑ سے جنگ کے لئے جیسا کہ آگے کے حالات سے واضح ہوگا، تیار نہیں تھیں اور ان کی یہ خواہش تھی کہ ان کے اعیان بھی معاملہ پر اسی طرز سے سوچیں جس طرز سے وہ سوچ رہی ہیں۔ یہ امر محلوظ رہے کہ کوئی شخصی حکومت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 31–32

31-1جس طرح نبی ﷺ نے بھی بادشاہوں کو خطوط لکھے تھے، جن میں انھیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اسی طرح سلیمان ؑ نے بھی اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت بذریعہ خط دی۔ آج کل مکتوب الیہ کا نام خط میں پہلے لکھا جاتا ہے لیکن سلف کا طریقہ یہی تھا جو حضرت سلیمان ؑ نے اختیار کیا کہ پہلے اپنا نام تحریر کیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–38

12: حضرت سلیمان ؑ در اصل یہ چاہتے تھے کہ جب ملکہ آئے تو اس کے سامنے ان کا یہ معجزہ ظاہر ہو کہ اتنا بھاری تخت ملکہ کے آنے سے پہلے ہی حضرت سلیمان ؑ کے پاس پہنچ گیا، اور اس طرح ان کی طاقت کا بھی مظاہرہ ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قالت ……تشھدون (23) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملکہ سبا کس قدر ہوشیار عورت ہے اس نے اس خط کو لیا جبکہ اس کے پھینکنے والے کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ خط سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو ٹوک ہے اور جس نے لکھا ہے وہ کوئی سپرطاقت ہے۔ یہ تاثر اس نے اپنے اہل حل و عقد کے ذہنوں میں یوں منتقل کیا کہ اس نے اسے ایک اہم کھلا اور کتاب کریم کہا۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ مکلہ مقابلہ کرنا نہیں چاہتی لیکن وہ بصراحت اس کا اظہار بھی نہیں کرتی۔ بطور تمہید کہہ دیتی ہے۔ پھر رائے طلب کرتی ہے اور حاشیہ نشینوں کا جواب آتا ہے۔ وہ حسب عادت یہی کہتے ہیں کہ حکم کیجیے ہم تیار ہیں۔ طاقتور ہیں لیکن بہرحال فیصلہ بدست حضور ہے !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی مشورہ دو کیا جواب دیا جائے اور کیا کارروائی کی جائے جیسا کہ تمہیں معلوم ہے میں کسی اہم معاملہ کا فیصلہ بدون تمہارے مشورہ کے نہیں کرتی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 30–33

آیت 30 اِنَّہٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَاِنَّہٗ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ” یہ قرآن کا واحد مقام ہے جہاں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ سورت کے اندر اس کے متن میں شامل ہے۔ باقی ہر جگہ یہ سورتوں کے آغاز میں لکھی گئی ہے۔ اس کے بارے میں اختلاف ہے کہ سورتوں کے آغاز میں جہاں جہاں بھی بسم اللہ لکھی گئی ہے کیا اسے ایک آیت مانا جائے گا یا جتنی مرتبہ لکھی گئی ہے اتنی آیات شمار ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 31–32

29 جس وقت نامہ بر ہدہد نے یہ خط دربار میں ملکہ سبا کے سامنے پھینکا اس وقت وہ سورج کی عبادت کے لئے تیار کر رہی تھی۔ اس خط نے اسے عجیب قسم کی کشمکش میں مبتلا کردیا۔ کیونکہ یہ خط کئی پہلوؤں سے بہت اہم تھا۔ مثلاً ایک یہ کہ یہ خط اسے غیر معمولی طریقہ سے ملا۔ یعنی یہ خط کسی ملک کے سفارت خانہ کی معرفت نہیں بلکہ ایک نامہ بر پرندہ کے ذریعہ ملا تھا۔ دوسرے یہ کہ یہ خط کسی معمولی درجہ کے حاکم سے نہیں بلکہ شام و فلسطین کے عظیم فرمانروا کی طرف سے موصول ہوا تھا۔ تیسرا یہ کہ یہ خط رحمن اور رحیم کے نام سے شروع کیا گیا تھا کہ ان ناموں سے یہ لوگ قطعاً متعارف نہ تھے۔ اور چوتھے یہ کہ اس انتہائی مختصر سے خط میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

38۔ (اور اس معاملہ میں شریک نہ ہولو) آیت سے ظاہر ہورہا ہے کہ سبا کا آئین حکومت جمہوری یا شورائی طرز کا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–39

آیت نمبر 32 تا 39 ترجمہ : اے درباریو ! تم میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو میں کسی معاملہ میں اس وقت تک قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس موجود نہ ہو اَلْمَلأُ أفتونِیْ میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور ثانی کی تسہیل یعنی واؤ سے بدل کر ای وَفْتُوْنی ان سب نے جواب دیا کہ ہم بڑے طاقتور اور بڑے لڑنے والے ہیں یعنی جنگ میں بڑی شدت والے ہیں آگے آپ کو اختیار ہے آپ خود ہی غور فرلیں کہ ہم کو کیا حکم دینا چاہتی ہیں ؟ ہم آپ کی اطاعت کریں گے، بلقیس نے کہا بادشاہ جب کسی بستی میں (فاتحانہ) طور پر داخل ہوتے ہیں تو اسے تخریب کے ذریعہ اجاڑ دیتے ہیں اور وہاں کے باعزت لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں اور یہ خط بھیجنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالت یایھا الملؤا افتونی فی امری ما کنت قاطعۃ امرًا حتی تشھدون . (بلقیس نے کہا :) اے سردارو ! مجھے میرے معاملہ میں مشورہ دو ‘ جب تک کہ تم میرے پاس موجود نہ ہو میں کسی بات کا قطعی فیصلہ نہیں کرتی۔ فُتیَا اور فتویٰ کسی مشکل بات کا جواب یعنی جو معاملہ میرے سامنے ہے اس میں مجھے مشورہ دو ۔ حَتیّٰ تَشْھَدُوْنَ یہاں تک کہ تم میرے پاس موجود نہ ہو اور مجھے مشورہ نہ دو یا جب تک اس بات کے درست ہونے کی شہادت نہ دے دو ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 29–32

(29 تا 32) غرض کہ ہدہد نے حضرت سلیمان ؑ کے حکم کے مطابق ایسا ہی کیا اور اس خط کو حضرت بلقیس نے اٹھا لیا اور پڑھ کر اپنے سرداروں کو مشورہ کے لیے جمع کیا اور ان سے کہا کہ میرے پاس ایک مہر شدہ باوقعت خط ڈالا گیا ہے اور وہ حضرت سلیمان ؑ کی طرف سے ہے۔ اور اس میں یہ مضمون ہے کہ اول ،”۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم“۔ پھر یہ کہ تم لوگ میرے مقابلہ میں تکبر مت کرو اور میرے پاس مطیع وفرمانبردار ہو کر چلے آؤ۔ اس کے بعد حضرت بلقیس نے درباریوں سے فرمایا کہ تم مجھے اس معاملہ میں اپنی رائے اور مشورہ دو اور میں کبھی کسی معاملہ میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک کہ تم میرے پاس موجود نہ ہو اور مجھے مشورہ نہ دو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَتْ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِيْ فِيْٓ اَمْرِيْ۔۔ : اس سے پہلے ملکہ سبا کی بات چل رہی ہے، ”يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِيْ۔۔“ بھی اسی کا کلام ہے۔ بظاہر درمیان میں ”قَالَتْ“ لانے کی ضرورت نہ تھی۔ بقاعی فرماتے ہیں : ”کلام کے درمیان وقفہ ہے کہ ملکہ سبا سلیمان ؑ کا خط سنا کر منتظر تھی کہ قوم کے سردار اس پر اپنا رد عمل ظاہر کریں گے، مگر جب وہ خط سن کر خاموش اور مبہوت رہ گئے، تو اس نے کہا : ”اے سردارو ! میرے اس معاملے میں مجھے حل بتاؤ۔“ 3 اس سے ملکہ کی دانش مندی اور سمجھ داری ظاہر ہے کہ وہ ہر کام اپنے سرداروں کے مشورے سے کرتی تھی اور یہ بھی کہ سبا کا نظام بادشاہی ہونے کے باوجود…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 32–34

( قالت یایھا۔۔۔۔ ) اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 :۔ قالت یایھا الملواء افتونی فی امری، ملا سے مراد قوم کے اشراف ہیں۔ سورة بقرہ میں اس کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کے ساتھ ہزار سردار تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بارہ ہزار سردار تھے، ہر سردار کے ساتھ لاکھ سپاہی تھے۔ قیل سے مراد بڑے بادشاہ کے نیچے چھوٹے بادشاہ تھے اس نے اپنی قوم کے ساتھ حسن ادب کو مخلوط خاطر رکھا ہے اور اس معاملہ میں جو اسے لا حق ہوتا ہے، اس کا ذکر اس قول میں ہے : ما کنت قاطعۃ امرا حتی تشھدون تو اس بڑی مصیبت میں کیسے تم سے مشورہ نہ کروں ؟ سرداروں نے اسے وہ جواب دیا جس سے اس کی آنکھیں ٹھنڈی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–44

ارکان سلطنت سے مشورہ 1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” قالت یا ایہا الملؤا افتونی فی امری “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس نے اپنی مملکت کے سرداروں کو جمع کیا اور اس معاملہ میں ان سے مشورہ کیا ان کی رائے اور اس کی رائے اس بات پر جمع ہوگئی کہ وہ سلیمان (علیہ السلام) سے جنگ کریں گے وہ (لشکر کو لے کر) چلی جب وہ سلیمان (علیہ السلام) کے ملک کے قریب پہنچے تو کہنے لگی میں ان کی طرف تحفہ بھیجوں گی اگر اس نے اس کو قبول کرلیا تو وہ بادشاہ ہے اور میں اس سے لڑوں گی اور اگر اس نے اس کو رد کردیا تو میں اس کے تابع ہوجاؤں گی کیونکہ وہ نبی ہے۔ جب اس کے قاصد سلیمان کے قریب پہنچے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَتْ [ اس نے کہا ] يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤُا [ اے سردارو ] اَفْتُوْنِيْ [ تم لوگ فتوی دو مجھے ] فِيْٓ اَمْرِيْ ۚ [ میرے کام میں ] مَا كُنْتُ [ میں نہیں ہوں ] قَاطِعَةً [ کاٹنے والی (یعنی طے کرنے والی)] اَمْرًا [ کسی کام کو ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] تَشْهَدُوْنِ [ تم لوگ میرے پاس موجود ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–37

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا پرندوں کی حاضری لینا، ہدہد کا غائب ہونا اور ملک سبا سے ایک ملکہ کی خبر لانا اور اس کے نام حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط لیجانا اور ملکہ کا ہدیہ بھیجنا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت انسان جنات چرند پرند سب پر تھی وہ ان سب کے بادشاہ تھے، اور یہ چیزیں ان کے لشکر کا جزو تھیں ایک بار جانوروں کی حاضری لی تو جانور جمع ہوگئے لیکن ان میں ہدہد حاضر نہیں ہوا (ممکن ہے انہوں نے ہر جنس کے بڑے ہی کو بلایا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تمام جانوروں کو جمع ہونے کا حکم دیا ہو سب جانور جمع ہوگئے ہدہد بھی سب آگئے لیکن ان کا سردار حاضر نہ ہوا ہو) جب مطلوبہ ہدہد کو انہوں نے حاضر نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–44

قصہء سوم ملکہء سبا بروایت ھد ھد قال اللہ تعالیٰ وتفقد الطیر فقال مالی لا اری الھد ھد۔۔۔ الی۔۔۔ واسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین۔ (ربط) اب ان آیات میں ملکہ سبا کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو بظاہر اس سورت کا تیسرا قصہ ہے مگر درحقیقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دوسرا قصہ ہے سلیمان (علیہ السلام) کے پاس تین قسم کے لشکر تھے ایک آدمیوں کا اور ایک جنوں کا اور ایک پرندوں کا۔ جو روانگی کے وقت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر سایہ کرتے تھے۔ ایک دن سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کے ایک لشکر کی جانچ پڑتا کی تو اس نے ہد ہد کو نہ پایا جو ہد ہدوں کا سردار تھا۔ فرمایا جب وہ آئے گا تو اس سے پوچھوں گا کہ کیوں غیر حاضر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 32–33

28:۔ خط کا مضمون اپنے وزراء اور مشیروں کو سنانے کے بعد بلقیس نے دوبارہ سب کو متوجہ کر کے کہا اے امراء مجھے اس معاملے میں مشورہ دو کہ اب مجھے کیا کرنا چاہئے۔ تمہارے مشورے کے بغیر میں کوئی فیصلہ نہیں کروں گی۔ اس سے ملکہ سبا کے طرز حکومت کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مشیروں کی رائے کا کس قدر احترام کرتی ہے۔ قالوا نحن اولوا قوۃ الخ : مشیروں کا جواب کوئی دانشمندانہ نہیں، اس سے خوشامد اور نیاز مندی کی بو آتی ہے۔ درباریوں نے مشورہ دیا کہ ہم سلیمان سے لڑیں گے کیونکہ ہماری جنگی اور فوجی طاقت نہایت مضبوط ہے اور ہم لڑائی میں بڑے بہادر اور دلیر ہیں ہم تو آپ کے حکم کے منتظر ہیں جو حکم ہوگا اس کی اطاعت کریں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 32–35

ربط آیات ہد ہدنے سلیمان (علیہ السلام) کو خبر دی کہ ملک سبا کے لوگ اور خود مکہ سورج پرست ہیں ۔ کفر و شرک میں مبتلا ہیں اور ان کے برے اعمال کو شیطان ان کو مزید کر کے دکھاتا ہے لہٰذا وہ ہدایت کا راستہ اختیار کرنے سے قاصر ہیں ، نیز یہ کہ وہ لوگ خدائے وحدہٗ لا شریک کے سامنے سجدیہ ریز نہیں ہوتے جو ظاہر و باطن ہر چیز کو جانتا ہے اور مخفی چیزوں کو آسمان و زمین سے نکالتا ہے ، وہی معبود بر حق ہے ، وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ یہ خبر سن کر سلیمان (علیہ السلام) نے اس کی تصدیق کرنے کا فیصلہ کیا اور اسی ہد ہد سے فرمایا کہ میرا یہ خط لے جا کر ملکہ کے سامنے ڈال دو ، پھر دیکھیں گے کہ وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَتْ يٰٓاَيُّہَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِيْ فِيْٓ اَمْرِيْ۝ 0ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَۃً اَمْرًا حَتّٰى تَشْہَدُوْنِ۝ 32 ملأ المَلَأُ : جماعة يجتمعون علی رأي، فيملئون العیون رواء ومنظرا، والنّفوس بهاء وجلالا . قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] ، ( م ل ء ) الملاء ۔ وی جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہو تو مظروں کو ظاہری حسن و جمال اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھردے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] نھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا ۔ فَتْوَى والفُتْيَا والفَتْوَى: الجواب عمّا يشكل من الأحكام، ويقال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 29–40

انہوں نے کہا ہم بڑے قوی اور بڑے لڑنے والے لوگ ہیں، سلیمان ( علیہ السلام) سے کچھ خوف نہیں مگر تاہم جو آپ کی رائے ہو وہی ٹھیک بلقیس بڑی عقلمند عورت تھی، اس نے سوچا کہ لڑائی کا انجام برا ہے۔ اگر غالب آگیا تو آکر الٹ پلٹ دے گا، عزت داروں کو ذلیل کردے گا اور بادشاہوں کا یہی دستور ہے، صلح کرلینی بہتر ہے۔ اول مرتبہ اس کے پاس جانا تو مصلحت نہیں تحفہ تحائف دے کر ایلچیوں کو بھیجنا چاہئے، اس سے سلیمان ( علیہ السلام) کی پوری کیفیت معلوم ہوجاوے گی۔ یہ بات سب کو پسند آئی، بڑے بڑے بیش قیمت ہدیے دے کر ایلچیوں کو بھیجا تاکہ سلیمان اس مال کو دیکھ کر نرم ہوجاویں مگر سلیمان (علیہ السلام) کا مقصد اس بت پرست…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَتْ یٰٓـاَیُّھَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْٓ اَمْرِیْ ج مَاکُنْتُ قَاطِعَۃً اَمْرًا حَتّـٰٓی تَشْھَدُوْنِ ۔ (النمل : 32) (ملکہ نے کہا اے سردارانِ قوم میرے اس معاملے میں مجھے رائے دو ، میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا کرتی جب تک تم موجود نہ ہو۔ ) حَتّـٰٓی تَشْھَدُوْنِ شھود سے بھی ہوسکتا ہے اور شہادت سے بھی۔ پہلی صورت میں اس کا معنی ہوگا جب تک تم موجود نہ ہو۔ اور دوسری صورت میں جب تک تم گواہی نہ دو ۔ ملکہ کی اہل دربار سے مشاورت ملکہ نے اپنے درباریوں کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط سنایا۔ اور ہوسکتا ہے اس کے مضمرات سے بھی آگاہ کیا ہو۔ اس کے بعد ان سے مشورہ طلب کیا۔ اور اہل دربار کی اہمیت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 32–35

فہم القرآن ربط کلام : ملکہ بلقیس کا اپنی قوم کے زعماء کے سامنے خط پڑھ کر مشورہ لینا اس پر قوم کا ردِّ عمل۔ قرآن مجید کے الفاظ سے یہ بات عیاں ہورہی ہے کہ ملکہ اور اس کا انداز حکمرانی کیا تھا۔ اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط پڑھنے کے بعد قوم کے نمائندوں سے کہا کہ مجھے اس معاملہ میں مشورہ دیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے ؟ کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ میں تمہارے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرتی۔ انھوں نے خط کا مضمون سن کر فوری ردِّ عمل دیا کہ ہم طاقت ور اور شدید لڑائی لڑنے والی جنگجو قوم ہیں اس لیے ہمیں ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ تاہم آپ ہماری حکمران ہیں آپ کو ہر قسم کے آئینی اختیارات ہیں۔ لہٰذا غور و…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

32: قَالَتْ یٰٓاَیُّہَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْ اَمْرِیْ (اس نے کہا اے سردارو ! میرے معاملہ میں مجھے مشورہ دو ) ۔ یعنی اب پیش آنے والے معاملہ میں مشورہ دو ۔ ملکہ کی مشاورت : الفتوی : حادثے کے جواب کو کہا جاتا ہے۔ یہ الفتاء فی السن سے بطور استعارہ مشتق کیا گیا ہے اور یہاں فتوی سے مراد اپنی رائے سے مشورہ دینا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے تاکہ ان سے مشورہ لے کہ ان کے دل خوشی سے اس کی طرف مائل ہوجائیں اور وہ بھی اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہوجائیں۔ مَا کُنْتُ قَاطِعَۃً اَمْرًا (اور میں کسی بات کا قطعی فیصلہ نہیں کرتی) ۔ قاطعۃً کا یہاں معنی فاصلۃ ہے یا حکم دے ڈالنا حَتّٰی تَشْہَدُوْنِ (جب تک کہ تم میرے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

32۔ قالت یا ایھا الملوء افتونی فی امری، ، میں نے جو کچھ تمہیں پیش کیا ہے اس کا مشورہ دو اور جواب دو ، ماکنت قاطعۃ، میں اس پر کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرپاتی۔ امراحتی تشھدون، جب تک حاضر کیا جائے یاس کے متعلق مجھے باخبر نہ کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 32–43

(32 تا 43) جس وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط بلقیس نے پڑھا تو اس کو یہ تردد ہوا کہ اب کیا کیا جاوے آیا جس طرح اس خط میں لکھا ہے وہی کیا جاوے کہ اپنی حکومت کو چھوڑ کر اور اپنے دین سے ہاتھ اٹھا کر حضرت سلیمان کا دین اور ان کی اطاعت قبول کی جائے یا حضرت سلیمان سے مقابلہ کیا جاوے اسی تردد کے رفع کی شکل نکالنے کے لیے اس نے اپنے مشیروں اور فوج کے افسروں سے صلاح کی تفسیر سدی وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ صلاح مشورہ کے بعد بلقیس نے اپنی ریاست کے لوگوں سے یہ کہا کہ میں اس خط کے جواب میں حضرت سلیمان کے پاس کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اگر انہوں نے وہ تحفہ قبول کرلیا تو جان لینا کہ دنیا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–44

آیت 15 سے 44 اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 32–33

29 درباریوں کا مشورہ اور ملکہ کو رائے : سو ان لوگوں نے ملکہ سے کہا کہ " ہم بڑے طاقتور اور جنگجو لوگ ہیں آگے آپ کی مرضی "۔ یعنی ہمارا کام رائے دینا نہیں، مرنا مارنا ہے۔ رائے قائم کرنا اور فیصلہ دینا تو آپ کا اپنا کام ہے۔ ہم تو بس حکم کے منتظر ہیں۔ البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ کسی سے دبنے یا ڈرنے کی ضرورت نہیں کہ ہم بڑے طاقتور اور سخت لڑنے والے جنگجو لوگ ہیں۔ ہمارے پاس وسائل جنگ بھی وافر مقدار میں موجود ہیں اور رجال کار کی بھی کوئی کمی نہیں۔ لہذ اگر جنگ کی نوبت آئی تو ہم حریف سے پیچھے ہٹنے والے نہیں۔ سو { اولو قوۃ } سے انہوں نے اپنی عددی قوت و کثرت اور وسائلِ جنگ کی فراوانی کی طرف اشارہ کیا اور {…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–44

سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–44

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 32 تا 44 ۔ اسرار و معارف : مشورہ کی اہمیت : ملکہ بلقیس نے اپنے امراء کو جمع کرکے خط سنانے کے بعد رائے دریافت کی اور کہا کہ تمہیں علم ہے امور سلطنت ہمیشہ تمہارے مشورے سے طے کیے جاتے ہیں اس سے ثابت ہے کہ قبل اسلام بھی بعض حکمران مشورہ کی اہمیت سے واقف تھے اسلام نے مشورہ کی اہمیت پر اس قدر زور دیا کہ خود نبی اکرم ﷺ خدام سے مشورہ فرماتے تھے۔ امراء دربار نے جواب دیا کہ اگر بات مقابلہ کرنے کی ہے تو ہماری جنگی طاقت کسی سے کم نہیں اور ہم مانے ہوئے جنگجو بھی ہیں اور اگر مصلحت اس کے خلاف ہے تو بھی فیصلہ اور حکم تو آپ ہی صادر فرمائیں گی جو مناسب ہو ارشاد فرمائیں اس نے کہا کہ ابھی جنگ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 31–34

1 ۔ گویا اس نے یہ رائے ظاہر کی کہ لڑنے یا نہ لڑنے کا فیصلہ اس وقت کرلینا مناسب نہیں۔ لڑائی کا انجام بہرحال برا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:32) افتونی : افتوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم ۔ افتاء (افعال) مصدر۔ فتی مادہ۔ کسی مشکل مسئلہ کے جواب کو فیتا و فتوی کہا جاتا ہے۔ استفتاء (استفعال) کے معنی فتویٰ طلب کرنے اور افتاء کے معنی فتویٰ دینے کے ہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے یستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیہم (4:127) اے پیغمبر ! لوگ تم سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں کہہ دو کہ خدا تم کو ان کے معاملہ میں فتوی دیتا ہے۔ افتونی فی امری میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو ۔ قاطعۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث۔ ما کنت کی خبر ہے قطع کے لفظی معنی کاٹنے کے ہیں۔ خواہ محسوس طور ہو یا عقلی طور پر ہو اول کی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 20–37

لغات القرآن : آیت نمبر 20 تا 37 : تفقد (اس نے جائزہ لیا۔ اس نے ڈھونڈا) ‘ مکت (وہ ٹھہرا۔ اس نے دیر کی) نباء (خبر) ‘ وجدت ( میں نے پایاض تملک ( وہ بادشاہت کرتی ہے) اوتیت (دیا گیا) الخبئ (پوشیدہ) القہ ( اس کو ڈال دے) افتونی ( مجھے بتائو۔ مجھے مشورہ دو ) ‘ قاطعۃ (کاٹنے والی) ‘ تشھدون ( تم موجود ہو) اولوقوۃ (قوت و طاقت والا) ‘ اولوباس ( لڑنے والے) ‘ تامرین (تو کیا حکم دیتی ہے) ‘ مرسلۃ ( بھیجنے والی) ‘ نظرۃ (دیکھنے والی) ‘ اتمدون (کیا تم مدد کرتے ہو) تفرحون ( وہ اتراتے ہیں۔ خوش ہوتے ہیں) ‘ صغرون (ذلیل و خوارہونے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 20 تا 37 : حضرت سلیمان (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ایک عظیم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 32–39

(ف 1) جس وقت حضرت سلیمان کا خط بلقیس نے پڑھا تو اس کو یہ تردد ہوا کہ اب کیا کیا جائے کیا اپنی حکومت کو چھوڑ کر اور اپنے دین کو چھوڑ کر حضرت سلیمان کا دین اور اطاعت کی جائے یا حضرت سلیمان سے مقابلہ کیا جائے صلاح مشورہ کے بعد بلقیس نے اپنی ریاست کے لوگوں سے یہ کہا کہ میں اس خط کے جواب میں حضرت سلیمان کے پاس کچھ بڑے بڑے بیش قیمت تحفے بھیجتی ہوں تاکہ اس حال کو دیکھ کر نرم دل ہوجائے مگر حضرت سلیمان کا مقصود تو اس بت پرست بادشاہ زادی کو اسلام میں لانا اور کفر کی بڑائی سے بچانا تھا اس لیے ان تحفوں کو کچھ بھی خیال میں نہ لائے اور فرمانے لگے کہ کیا تم لوگ مال سے میری امداد کرنا چاہتے ہو جو ایک حقیر شے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 24–37

[8] یہاں سے لے کر آیت 26 کے آخر تک ہدہد کے قول پر اللہ تعالیٰ کا اپنا اضافہ ہے جیسا کہ انداز کلام سے صاف ظاہر ہے۔ یہ اسی قسم کی تضمین ہے جس کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(32) خط سنانے کے بعد بلقین نے اپنے امرا اور اہل دربار سے مزید مشورہ طلب کیا کہ اب کیا کرنا چاہئے ۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے بلقین نے اہل دربار سے کہا اے اہل دربار تم مجھ کو میرے اس معاملہ میں رائے اور مشورہ دو میں اس وقت تک کسی بات کا قطعی فیصلہ نہیں کیا کرتی جب تک تم میرے پاس موجود نہ ہو ۔ یعنی چونکہ تم میرے معتمد ہو اس لئے میں تم سے ہر ایک کام کا مشورہ کرتی ہوں اور کوئی بات تم سے سوپیدہ نہیں کرتی بلکہ جو فیصلہ کرتی ہوں تم سے رائے حاصل کرنے کے بعد تمہارے روبرو کرتی ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 29–35

ف 6۔ باوقعت اس لئے کہا کہ حاکمانہ مضمون ہے جس میں باوجود نہایت وجازت کے اعلی درجہ کی بلاغت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ملکہ سبا نے اب اپنے درباریوں سے دریافت کیا کہ بتاؤ اس کا کیا جواب دیں ؟ ۔ 32۔ ملکہ سبا کی یہ بات گزشتہ باتوں سے بھی زیادہ گہری اور زیادہ سمجھداری کی ہے ، اس نے اپنے درباریوں کو خط کا مضمون بتانے کے بعد ان سے پوچھا کہ اے سردارو ! اب تم بتاؤ کہ اس کا جواب میری طرف سے کیا ہونا چاہئے کیونکہ میں فی نفسہ آپ لوگوں کے مشورہ کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتی اور یہ بھی آپ کو معلوم ہے کہ میں آپ کے مشورہ کے بغیر کوئی کام نہیں کرتی اس وقت تک ملکہ کی جتنی باتیں قرآن کریم نے بیان کی ہیں ان میں ایک بات بھی ایسی نہیں جس کو قرآن کریم نے ناقص کہا ہو بلکہ اس نے ایک سے ایک بڑھ کر کامل ومکمل بات کی ہے اور بلاشبہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–34

Consultation in important matters is a Sunnah. It provides the benefit of having views of others, and gives them a sense of participation قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَفْتُونِي فِي أَمْرِ‌ي مَا كُنتُ قَاطِعَةً أَمْرً‌ا حَتَّىٰ تَشْهَدُونِ She said, "0 chieftains, advise me in the matter I have (before me). I am not the one who decides a matter absolutely unless you are present with me." - 32 The word اَفتُونِی is derived from Fatwa فَتوٰی ، which means answering some specific issue. Here it means to give counsel or to express one's views. When Queen Bilqis received the letter of Sayyidna…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–33

38 The words used in the Text are: hatta tash-hu-dun (unless you are present, or unless you bear witness). That is: "1 regard your presence necessary when 1 take a decision in important matters, and also that whatever decision I take you should be there to testify that it is right and correct." This shows that though the system of government among Saba' was kingship, it was not tyrannical; but the ruler of the time decided matters in consultation with the important people in the government.

Read the full tafseer →