Explained with ayahs 22–26
ہدہد کی غیر حاضری
ہدہد کی غیر حاضری کی تھوڑی سی دیر گزری تھی جو وہ آگیا۔ اس نے کہا کہ اے نبی اللہ جس بات کی آپ کو خبر بھی نہیں میں اس کی ایک نئی خبر لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ میں سبا سے آرہا ہوں اور پختہ یقینی خبر لایا ہوں۔ ان کے سباحمیر تھے اور یہ یمن کے بادشاہ تھے۔ ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے اس کا نام بلقیس بنت شرجیل تھا یہ سب کی ملکہ تھی۔ قتادہ کہتے ہیں۔ اس کی ماں جنیہ عورت تھی اس کے قدم کا پچھلا حصہ چوپائے کے کھر جیسا تھا اور روایت میں ہے اس کی ماں کا نام رفاعہ تھا ابن جریج کہتے ہیں ان کے باپ کا نام ذی سرخ تھا اور ماں کا نام بلتعہ تھا لاکھوں کا اس کا لشکر تھا۔ اس کی بادشاہی ایک…
Read the full tafseer →سورة النمل 33
یعنی جو ہر آن ان چیزوں کو ظہور میں لا رہا ہے جو پیدائش سے پہلے نہ معلوم کہاں کہاں پوشیدہ تھیں زمین کے پیٹ سے ہر آن بیشمار نباتات نکال رہا ہے اور طرح طرح کے معدنیات خارج کر رہا ہے، عالم بالا کی فضاؤں سے وہ وہ چیزیں سامنے لارہا ہے جن کے ظہور میں آنے سے پہلے انسان کا وہم و گمان بھی ان تک نہ پہنچ سکتا تھا۔
سورة النمل 34
یعنی اس کا علم ہر چیز پر حاوی ہے، اس کے لیے ظاہر اور مخفی سب یکساں ہیں، اس پر سب کچھ عیاں ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ان دو صفات کو بطور نمونہ بیان کرنے سے مقصود دراصل یہ ذہن نشین کرنا ہے کہ اگر وہ لوگ شیطان کے دھوکے میں نہ آتے تو یہ سیدھا راستہ انہیں صاف نظر آسکتا تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
وَجَدْتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُوْنَ للشَّمْسِ ، معلوم ہوا کہ اس کی قوم نجوم پرست تھی آفتاب کی عبادت کرتی تھی، بعض نے فرمایا کہ مجوس میں سے تھی جو آگ اور ہر روشنی کی پرستش کرتے ہیں۔ (قرطبی)
اَلَّا يَسْجُدُوْا کا تعلق زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ یا فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيْلِ سے ہے یعنی شیطان نے ان کے ذہنوں میں یہی بٹھلا دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہ کریں یا یہ کہ ان کو حق کے راستہ سے اس طرح روک دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
آیت 26-25
ایک تضمین
میرے نزدیک یہ دو آیتیں ہد ہد کے قول کا جزو نہیں ہیں بلکہ یہ اسی قسم کی تضمین ہے جس کے متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہد ہد کی بات فصدھم عن السبیل کے ساتھ اس بات کو ملا کر کلام کو بالکل مطابق حال کردیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شیطا ننے ان کو اس خدا کی بندگی سے روک دیا جو آسمان و زمین کی تمام محفیات کو بےنقاب کرتا ہے اور جو تمہارے تمام سرو علانیہ سے اچھی طرح واقف ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ عرش عظیم کا مالک وہی ہے۔
اس کے تضمین ہونے کے قرائن بالکل واضح ہیں، ان کی مزید وضاحت تحصیل حاصل ہوگی ماتخفون وما تعلنون کے صیغہ ہائے خطاب ہد ہد کی زبان سے بالک ناموزوں ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
25-1یعنی آسمان سے بارش برساتا اور زمین سے اس کی مخفی چیزیں نباتات، معدنیات اور دیگر زمینی خزانے ظاہر فرماتا اور نکالتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
یہ سجدے کی آیت ہے جو کوئی شخص عربی میں یہ آیت پڑھے یا سنے اس پر سجدہ تلاوت واجب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
فمکث ……العظیم (63)
یہ ہد ہد بادشاہ کی دانشمندی اور بہترین تنظیمی صلاحیتوں سے باخبر تھا۔ اس لئے ہد ہد نے پہلے ہی فقرے میں چونکا دینے والی خبر سے اپنی بات کا آغاز کیا تاکہ اس خبر کے بعد اس سے جواب طلبی کا موقع ہنہ رہے اور بادشاہ اس کی بات کو غور سے سنیں۔
احطت بمالم تحط بہ وجئتک من سبابنیا یقین (82 : 22) ” میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے علم میں نہیں ہیں۔ میں سبا کے بارے میں یقینی معلومات لے کر آیا ہوں۔ “ کون بادشاہ ایسا ہوگا اپنے کسی ملازم سے وہ باتیں نہ سنے جن کے بارے میں اسے علم نہیں۔
جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے سننا شروع کیا تو اس نے تفصیلات بتانا شروع کردیں۔ مملکت سبا جنوب یمن…
Read the full tafseer →2 غالباً یہ ہُد ہُد کے کلام کا تتمہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جانور اپنے خالق کی صحیح معرفت فطرۃً رکھتے ہیں۔ یا بطور خرق عادت اسی ہدہد کو اس طرح کی تفصیلی معرفت عطا کی گئی ہو۔ خدا چاہے تو ایسی معرفت ایک خشک لکڑی میں پیدا کر دے۔ باقی جانوروں میں فطری طور پر اس قسم کی عقل و معرفت کا موجود ہونا جسے صدر شیرازی نے " اسفار اربعہ " میں " علم حضوری " یا " شعور بسیط " سے تعبیر کیا ہے اس کو مستلزم نہیں کہ ان کی طرف انبیاء مبعوث ہوں۔ کیونکہ یہ فطری معرفت کسبی نہیں، جبلی ہے۔ اور بعث انبیاء کا تعلق کسبیات سے ہوتا ہے نیز یہ صحیح نہیں کہ جس چیز میں کوئی درجہ عقل و شعور کا ہو وہ مکلف بھی ہو۔ مثلاً شریعت حقہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
فَصَدَّہُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَہُمْ لَا یَہْتَدُوْنَ ”
شیطان نے انہیں گمراہ کردیا ہے اور اب انہیں راہ ہدایت کا شعور نہیں رہا۔
Read the full tafseer →26 آیت نمبر 25 اور 26 کو بعض مفسرین نے ہدہد کے جواب کا ہی تتمہ قرار دیا ہے اور بعض نے اسے ہدہد کے کلام پر اللہ تعالیٰ کی طرف مناسب اضاف قرار دیا ہے۔ اس آیت میں یعلم ما تخفون وما تعلنون سے دوسرا قول ہی راحج معلوم ہوتا ہے۔
خب معنی پوشیدہ اور مخفی خزانہ ( مفردات القرآن) اور اس سے مراد ایسا پوشیدہ اور مخفی خزانہ ہے جس کا پہلے سے کسی کو علم نہ ہو اور خبا بمعنی کسی چیز کو چھپا رکھنا اور خابا بمعنی کسی سے چیستان، پہیلی یا معمہ پوچھنا اور خب الارض بمعنی زمین کی نباتات جو ابھی ظہور میں نہ آوی ہو۔ قوت روئیدگی اور خب السماء بمعنی بارش اور آکرج حب السماء خب الارض بمعنی آسمان کی بارش نے سمین پر روئیدگی…
Read the full tafseer →33۔ (اے انسانو ! ) (آیت) ” الذین یخرج ...... والارض۔ یعلم ..... تعلنون “۔ یعنی اس کی قدرت بھی کامل اور اس کا علم بھی ہمہ گیر .... جاہلی مشرک قوموں کو مغالطہ عموما انہیں دو صفات باری کے باب میں پیش آتا رہا ہے۔ اس لئے یہاں کھل کر دونوں کا اثبات کیا گیا۔ (آیت) ” یخرج الخبء فی السموت والارض “۔ پوشیدہ چیزوں کو آسمان، زمین سے نکالتا رہتا ہے، مثلا پانی کو آسمان سے اور نباتات کو زمین سے۔ (آیت) ” الایسجدوا “ اس ترکیب سے مفہوم وجوب سجدہ کو لیا گیا ہے۔ قال اھل التحقیق قولہ الا یسجدوا یبج ان یکون بمعنی الامر (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
آیت نمبر 22 تا 31
ترجمہ : فَمَکُثَ کاف کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ، چناچہ تھوڑی دیر گزری تھی کہ (اس نے آکر) کہا یعنی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ بازو اور دم لٹکائے ہوئے اور سر اٹھائے ہوئے عاجزانہ طریقہ پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا، چناچہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو معاف کردیا اور زمانہ غیبونت میں پیش آنے والے واقعہ کے بارے میں معلوم کیا تو اس نے کہا میں ایسی خبر لایا ہوں کہ آپ کو اس کی خبر نہیں یعنی میں ایسی خبر پر مطلع ہوا ہوں کہ آپ کو اس کی اطلاع نہیں اور میں (قوم) سبا کی سچی خبر آپ کے پاس لایا ہوں سَبَأ منصرف اور غیر منصرف دونوں ہے، سبا یمن میں ایک قبیلہ کا نام ہے جو…
Read the full tafseer →الا یسجدوا للّٰہ الذی یخرج الخبء فی السموت والارض . کہ اللہ کو سجدہ نہیں کرتے (جو قادر
ہے کہ) آسمانوں کی اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو برآمد کرتا ہے۔
اَلاَّ یَسْجُدُوْا۔ اَلاَّ اصل میں اَنْ لا تھا۔ اَنْ مصدر یہ لا نافیہ حرف جر اَنْ سے پہلے محذوف ہے یعنی لِاَنْ لاَ یَسْجُدُوْا۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان نے ان کو راہ حق سے روک دیا ہے کہ وہ اللہ کو سجدہ نہیں کرتے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لا زائد ہو اور اس کا تعلق لاَ یَہْتَدُوْنَ سے ہو یعنی وہ اللہ کو سجدہ کرنے کی راہ نہیں پاتے۔ خبأ بمعنی مخبوء (اسم مفعول) کے معنی میں ہے یعنی پوشیدہ اور اخراج سے مراد ہے اظہار۔
اکثر اہل تفسیر کہتے ہیں کہ خَبْاء السَّمٰوٰتِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
(25۔ 26) اور میں نے ان سے کہا کہ اس اللہ کو کیوں سجدہ نہیں کرتے جو آسمان و زمین کی پوشیدہ چیزوں کو باہر لاتا ہے جن میں سے بارش اور نباتات بھی ہیں۔
یا یہ کہ یہ حضرت سلیمان ؑ کا قول ہو کہ ہدہد سے سن کر انہوں نے ایسا فرمایا ہو اور تم لوگ جو کچھ نیکی و برائی دل میں چھپا کر رکھتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو وہ سب کو جانتا ہے اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔
Read the full tafseer →اَلَّا يَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِيْ يُخْرِجُ الْخَبْءَ۔۔ : ”الْخَبْءَ“ مصدر بمعنی اسم مفعول ”اَلْمَخْبُوْءُ“ ہے، چھپی ہوئی چیز، یعنی یہ لوگ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی ہوئی چیز نکالتا ہے۔ اس آیت کا دوسرا ترجمہ وہی ہے جو اوپر کیا گیا ہے کہ تاکہ وہ اللہ کو سجدہ نہ کریں جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو نکالتا ہے۔ ہُد ہُد نے اس بنیادی حقیقت کے ثبوت کے لیے تین عظیم الشان دلیلیں پیش کیں کہ معبود برحق صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے، اس کے سوا کسی کو سجدہ جائز نہیں۔ پہلی یہ کہ وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کی مخفی اور پوشیدہ چیزوں کو نکالتا ہے۔ آسمانوں کی پوشیدہ چیزوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
(وتفقد الطیر فقال ما لی۔۔۔۔۔ )
اس میں اٹھارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 :۔ وتفقد الطیر جس سفر میں چیونٹی کا ذکر ہوا اس میں اور چیز کا ذکر کیا جس طرح پہلے گزرا ہے۔ تفقد کا مطلب ہے جو چیز تجھ سے غائب ہوا اس کو تلاش کرنا۔ طیرا سم جمع ہے واحد طیر ہے۔ یہاں طیر سے مراد جنس طیر اور جماعت ہے۔ وہ سفر میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس رہتے اور اپنے پروں سے آپ کو سایہ کرتے لوگوں نے پرندوں کی تلاش کی وجہ میں اختلاف کیا ہے۔ ایک جماعت نے کہا : یہ اس اعتبار سے تھا کہ امور مملکت کی بجا آو ری اس کا تقاضا کرتی تھی یہ آیت کا ظاہر معنی ہے۔ ایک جماعت نے کہا : آپ نے پرندوں کو تلاش کیا کیونکہ جب ہد ہد غائب ہوا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–31
بلقیس کی حکومت کی خبر
1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ سلیمان (علیہ السلام) کا ہدہد پرندوں کے درمیان سے گم کیسے ہوگیا فرمایا کہ سلیمان ایک منزل پر اترے اور انہوں نے نہیں جانا کہ پانی کہاں ہے اور ہدہد سلیمان کو پانی کے باے میں بتاتا تھا انہوں نے اس سے پوچھنے کا ارادہ فرمایا تو اس کو گم پایا ابن عباس ؓ سے کہا گیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ ہد ہد کے لیے جال لگایا جاتا ہے اور اسمیں مٹی ڈال دی جاتی ہے تو وہ اس میں پھنس جاتا ہے بچہ ہد ہد کے لیے پھندہ لگاتا ہے اور وہ بچہ اس سے غائب ہوجاتا ہے اور اس کا شکار کرلیتا ہے تو انہوں نے…
Read the full tafseer →اَلَّا يَسْجُدُوْا [ یعنی وہ لوگ سجدہ مت کریں ] لِلّٰهِ الَّذِيْ [ اس اللہ کو جو ] يُخْرِجُ [ نکالتا ہے ] الْخَبْءَ [ پوشیدہ زانوں کو ] فِي السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں سے ] وَالْاَرْضِ [ اور زمین سے ] وَيَعْلَمُ [ اور وہ چانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] تُخْفُوْنَ [ تم لوگ چھپاتے ہو ] وَمَا [ اور اس کو جو ] تُعْلِنُوْنَ [ تم لوگ اعلان کرتے ہو ]
خ ب ء
(ف) خباء کسی چیز کو چھپانا۔ پوشیدہ کرنا۔
خبء اسم جنس ہے۔ چھپائی ہوئی چیزیں ۔ پوشیدہ و خزانے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 25 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–37
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا پرندوں کی حاضری لینا، ہدہد کا غائب ہونا اور ملک سبا سے ایک ملکہ کی خبر لانا اور اس کے نام حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط لیجانا اور ملکہ کا ہدیہ بھیجنا
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت انسان جنات چرند پرند سب پر تھی وہ ان سب کے بادشاہ تھے، اور یہ چیزیں ان کے لشکر کا جزو تھیں ایک بار جانوروں کی حاضری لی تو جانور جمع ہوگئے لیکن ان میں ہدہد حاضر نہیں ہوا (ممکن ہے انہوں نے ہر جنس کے بڑے ہی کو بلایا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تمام جانوروں کو جمع ہونے کا حکم دیا ہو سب جانور جمع ہوگئے ہدہد بھی سب آگئے لیکن ان کا سردار حاضر نہ ہوا ہو) جب مطلوبہ ہدہد کو انہوں نے حاضر نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–44
قصہء سوم ملکہء سبا بروایت ھد ھد
قال اللہ تعالیٰ وتفقد الطیر فقال مالی لا اری الھد ھد۔۔۔ الی۔۔۔ واسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین۔
(ربط) اب ان آیات میں ملکہ سبا کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو بظاہر اس سورت کا تیسرا قصہ ہے مگر درحقیقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دوسرا قصہ ہے سلیمان (علیہ السلام) کے پاس تین قسم کے لشکر تھے ایک آدمیوں کا اور ایک جنوں کا اور ایک پرندوں کا۔ جو روانگی کے وقت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر سایہ کرتے تھے۔ ایک دن سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کے ایک لشکر کی جانچ پڑتا کی تو اس نے ہد ہد کو نہ پایا جو ہد ہدوں کا سردار تھا۔ فرمایا جب وہ آئے گا تو اس سے پوچھوں گا کہ کیوں غیر حاضر…
Read the full tafseer →24:۔ اس سے پہلے لام تعلیل مقدر ہے اور وہ “ فصدھم ” کے متعلق ہے ای فصدھم عن السبیل لئلا یسجدوا فحذف الجار مع ان وادغمت النون فی اللام (مدارک ج 3 ص 159) ۔ ہدہد نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا شیطان نے ان کو راہ توحید سے روک رکھا ہے تاکہ وہ اس خالق کائنات اور مالک ارض و سماء کو سجدہ نہ کریں جو آسمان اور زمین سے پوشیدہ چیزیں ظاہر کرتا اور ہر ظاہر و باطن کو جانتا ہے۔ آسمان کی پوشیدہ چیز سے بارش اور زمین کی پوشیدہ چیز سے نبات مراد ہے۔ قال اکثر المفسرین خبء السماء المطر و خبء الارض النبات (معالم ج 5 ص 119) ۔ ہدہد کا چونکہ کام ہی یہی ہے کہ وہ زمین کو کرید کر اس میں چھپے ہوئے کیڑے مکوڑوں کو نکال کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–31
ربط آیات
گزشتہ درس میں ایک چیونٹی کا حال بیان ہوا ۔ سلیمان (علیہ السلام) چیونٹی کی بات سن کر مسکرائے اور پھر ان انعامات کا شکریہ ادا کیا جو اللہ نے آپ پر اور آپ کے والدین پر کر رکھے تھے۔ آپ نے اللہ سے اس کے پسندیدہ نیک اعمال کرنے کی توفیق بھی طلب کی اور ایک خصوصی دعا یہ کی کہ پروردگار ! مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل رکھ ۔ جانوروں اور پرندوں کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے۔ چناچہ لوگ بہمیۃ الانعام یعنی اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکری سے ، دودھ ، بال اور کھالیں حاصل کرتے ہیں ۔ بعض جانوروں سے باربرداری کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ بعض وحشی جانوروں کو باقاعدہ سیدھا کر کے ان سے بھی خدمت…
Read the full tafseer →اَلَّا يَسْجُدُوْا لِلہِ الَّذِيْ يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ 25
خرج
خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ،
( خ رج ) خرج ۔ ( ن)
خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
و تفقد الطیر کہ پرندوں کی حاضری لی تو ان میں ہدہد کو نہ پایا، فرمایا کہ اس کو سزا دوں گا ورنہ کوئی عذر معقول بیان کرے، تھوڑی دیر کے بعد ہدہد بھی آحاضر ہوا اور اس نے سبا 1 ؎ کی شہزادی بلقیس کا حال بیان کیا کہ اس کے پاس سب سازوسامان سلطنت حاصل ہیں اور ایک بڑا عمدہ تخت بھی ہے کہ جس پر وہ جلوس کرتی ہے۔ مگر با ایں ہمہ آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ لوگ آفتاب پرست تھے یا تو صابی ہوں گے یا کوئی اور مذہب مروج ہوگا جو شیطانی مذہب تھا اور اللہ کو سجدہ نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے، آسمان کی چھپی ہوئی ستارے آفتاب ماہتاب چھپ جاتے ہیں، پھر ان کو اللہ ہی ظاہر کرتا ہے، پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
اَلاَّیَسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْ ئَ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَیَعْلَمُ مَاتُخْفُوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ ۔ اَللّٰہُ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ۔ (النمل : 25، 26)
(شیطان نے ان کو صحیح راہ سے روک دیا ہے) کہ وہ اللہ کو سجدہ نہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں نکالتا ہے اور وہ جانتا ہے جسے تم لوگ چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔ )
یہ تضمین ہے
علامہ قرطبی اور بعض دیگر کبار مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیت ہدہد کا کلام نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے جو بطور تضمین اس کے ساتھ شامل ہے۔ اس میں خطاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
فہم القرآن
ربط کلام : ہد ہد کی رپورٹ کا مذہبی حصہ۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے ہد ہد نے اپنے چشم دید مشاہدات میں یہ بات بھی عرض کی کہ میں نے ملک سبا کی حکمران اور اس کی قوم کو اس حالت میں دیکھا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور یہ کام شیطان نے ان کے لیے خوبصورت بنا دیا ہے۔
ملکہ سبا :
شیطان نے نہ صرف شرک کو ان کے لیے خوبصورت بنا کے پیش کیا ہے بلکہ اس نے انھیں صراط مستقیم سے روک رکھا ہے جس بنا پر وہ صراط مستقیم سمجھنے اور اس پر گامزن ہونے کے لیے تیار نہیں تھے۔ یہ بات فہم القرآن میں کئی مرتبہ عرض ہوچکی ہے کہ شیطان شرک اور برے اعمال کو اس طرح خوبصورت کرکے پیش کرتا ہے کہ…
Read the full tafseer →25: اَلاَّ یَسْجُدُوْا اللہ ِ (کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہیں کرتے) ۔ : نمبر 1۔ الا تشدید کے ساتھ۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے فصدہم عن السبیل لئلا یسجدوا۔ اَنْ کے ساتھ حرف جار کو حذف کر کے نون کو لام میں ادغام کردیا گیا۔ نمبر 2۔ لا زائدہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور معنی یہ ہو فہم لا یہتدون ان یسجدوا۔ وہ سجدہ کی طرف راہ نہیں پاتے۔ نمبر 3۔ اَلَا کو یزید وعلی نے تخفیف کے ساتھ پڑھا۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ الا یا ہؤلاء اسجدوا۔ پس الا حرف تنبیہ اور یاء حرف نداء ہے اور اس کا منادی محذوف ہے۔ اور اس صورت میں فہم لا یہتدون پر وقف ہوگا۔ اور جنہوں نے تشدید سے پڑھا۔ جیسا پہلی دو صورتوں میں ہے۔ انہوں نے العرش العظیم پر…
Read the full tafseer →25۔ الایسجدوا، ، ابوجعفر کسائی نے ، الایسجدوا ، تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ جب وہ کھڑے ہوتے ہیں تویوں کہتے ہیں، ، الایاثم، اے گناہ گار کیا تم اللہ کو سجدہ نہیں کرتے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ ، الایاھو ا اسجدوا، یہ جملہ امر یہ مستانفہ ہے بعض نے کہا کہ یہ عرب سے اسی طرح سماعا منقول ہے جیسے عرب کے ہاں یہ مشہور ہے ، الایا ارحمون، اسی طرح یہاں بمعنی کلمہ معترضہ کے ہے۔ عبارت یوں تھی ، امامن الھد ھد واما من سلیمان، ابوعبیدہ کا قول ہے کہ اللہ کا مذکورہ حکم جملہ مستانفہ ہے۔ یعنی اے لوگو، اللہ کو سجدہ کرو۔ دوسرے قراء نے ، الایسجدوا ، تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
15 تا 26 بعضے مفسروں نے یہ جو لکھا ہے کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے یہ قرآن شریف کے مخالف ہے اس لیے کے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قصہ خصوصیت کے طور پر یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جانوروں کو بولی سمجھنے کی نعمت عنایت فرمائی تھی جو نعمت مخلوق الٰہی میں سے کسی کو عنایت نہیں ہوئی اور حضرت سلیمان کا قول اللہ تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں نقل کیا ہے اس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ کی اس نعمت کو اپنی خصوصیت کے طور پر ذکر کیا ہے جب یہ کہا جاوے گا کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے تو پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خصوصیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
آیت 15 سے 44
اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
25 کائنات کی گواہی خالق کی وحدانیت پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی بھی معبود نہیں۔ اور وہ مالک ہے عرش عظیم کا۔ یہاں تک کے اس کلام کے بارے میں یہ بھی احتمال ہے کہ یہ اللہ پاک نے اپنی طرف سے ہدہد کے کلام پر اضافہ کرتے ہوئے فرمایا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ہدہد کے کلام کا ہی تتمہ ہو۔ اور اللہ پاک اپنی قدرت کے اظہار کے لئے ایک پرندے کی زبان سے ایسی معقول باتیں کرانے پر پوری طرح قادر ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف آسمان و زمین کی یہ پوری کائنات اس خالق ومالک کی عظمت شان اور اس کی وحدانیت مطلقہ کی گواہی دے رہی ہے۔ اور یہ پوری کائنات اور اس کے اندر موجود ہر چیز اپنی زبان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں
تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–31
آیات نمبر 15:31 اسرار و معارف :
ہم نے داود اور سلیمان (علیہما السلام) کو علوم نبوت سے سرفراز فرمایا یہاں علم سے مراد نبوت کے ساتھ دوسرے علوم بھی شامل ہیں کہ حکومت و سیاست کا علم یا فنون میں سے زرہ سازی کا علم جو داود (علیہ السلام) کو بطور خاص عطا ہوا تھا نیز ان کی خصوصیت حکومت و سلطنت بھی تھی اور وہ حضرات اس پر شکر بھی ادا کرتے تھے کہ انہیں بہت سے نیک بندوں میں خاص فضیلت عطا کی گئی مثلاً ہر نبی کو بھی حکومت و سلطنت تو عطا نہ ہوئی اور سلیمان (علیہ السلام) داود (علیہ السلام) کے وارث مقرر ہوئے جب انہوں نے فرمایا کہ لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر وہ نعمت عطا ہوئی ہے جو اس عظیم…
Read the full tafseer →2 ۔ ” جو آفتاب پرستی کو چھوڑ کر توحید کی سیدھی راہ اختیار کرسکیں۔ “ 3 ۔ مثلاً آسمان سے پانی برساتا ہے اور زمین کے اندر سے بیشمار نباتات اور طرح طرح کی معدنیات نکالتا ہے اور یہ تمام اقسام کے ارزاق و اموال کو شامل ہے۔ (کبیر) 4 ۔ یعنی اسے تمہاری ہر چیز کا علم ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے علم محیط اور قدرت کاملہ کا بیان ہے اور اس سے ان لوگوں کی تردید مقصود ہے جو سورج کی پرستش کرتے تھے۔ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
(27:25) الا یسجدوا : ای لئلا یسجدوا لام تعلیل محذوف ۔ تاکہ نہ سجدہ کریں۔ بدیں وجہ وہ سجدہ نہیں کرتے ہیں۔ اور یا تو زین لہم سے متعلق ہے۔ یا فصدھم سے۔ یعنی شیطان نے ان کے اعمال (گمراہی و شرک) کو ان کی نظروں میں مزین کر رکھا ہے اس لئے وہ اللہ کو سجدہ نہیں کرتے۔ یا شیطان نے ان کو راہ راست سے روک رکھا ہے اور ہدیں وجہ وہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہیں کرتے۔
الذی : ای اللہ تعالیٰ ۔
الحب کسی چیز کے پوشیدہ اور مخفی ذخیرہ کو خبا کہتے ہیں یہاں مصدر بمعنی مفعول مخبوء مستعمل ہے یخرج الخب جو پوشیدہ چیزوں کو باہر نکالتا ہے۔
ما تخفون وما تعلنون جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو ۔ اس کی دوسری قرات ما یخفون وما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–37
لغات القرآن : آیت نمبر 20 تا 37 :
تفقد (اس نے جائزہ لیا۔ اس نے ڈھونڈا) ‘ مکت (وہ ٹھہرا۔ اس نے دیر کی) نباء (خبر) ‘ وجدت ( میں نے پایاض تملک ( وہ بادشاہت کرتی ہے) اوتیت (دیا گیا) الخبئ (پوشیدہ) القہ ( اس کو ڈال دے) افتونی ( مجھے بتائو۔ مجھے مشورہ دو ) ‘ قاطعۃ (کاٹنے والی) ‘ تشھدون ( تم موجود ہو) اولوقوۃ (قوت و طاقت والا) ‘ اولوباس ( لڑنے والے) ‘ تامرین (تو کیا حکم دیتی ہے) ‘ مرسلۃ ( بھیجنے والی) ‘ نظرۃ (دیکھنے والی) ‘ اتمدون (کیا تم مدد کرتے ہو) تفرحون ( وہ اتراتے ہیں۔ خوش ہوتے ہیں) ‘ صغرون (ذلیل و خوارہونے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 20 تا 37 :
حضرت سلیمان (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ایک عظیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر اور ہدہد کا خبرلانا۔
(ف 1) فرمایا ایک بار حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر ملک شام کے میدان پر سے گزرا کہ جہان چیونٹیوں کے بل تھے اور وہ زمین پر چل رہی تھیں جو چیونٹیوں کا سردار تھا جب اس نے دیکھا کہ حضرت سلیمان کا لشکر آرہا ہے تو اس نے کہا، اے چیونٹیوں سب اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ تاکہ تم پاؤں کی روند میں آجاؤ، یہ بات حضرت سلیمان کو معلوم ہوئی کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت سے علوم دیے تھے پھر حضرت سلیمان اس بات سے مسکرا کر ہنسنے لگے، ایک تو اس لیے کہ چیونٹی سلیمان (علیہ السلام) کو بیخبر ی کا الزام لگاتی ہے اس کو یہ معلوم نہیں کہ حضرت سلیمان کو کیا کیا علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–37
[8] یہاں سے لے کر آیت 26 کے آخر تک ہدہد کے قول پر اللہ تعالیٰ کا اپنا اضافہ ہے جیسا کہ انداز کلام سے صاف ظاہر ہے۔ یہ اسی قسم کی تضمین ہے جس کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
الخب : پوشیدہ اور مستتر چیز ،
Read the full tafseer →(25) وہ کیوں اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہیں کرتے جو آسمان و زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو باہر نکالتا ہے اور جو کچھ تم دلوں میں چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ اس سب کو جانتا ہے آخر یہ لوگ اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کیوں نہیں بجا لاتے اور اس کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں کی اور زمین کی چھپی ہوئی اور پوشیدہ چیزوں کو نکالتا ہے جیسے بارش اور نباتات وغیرہ اور زمین کی بیشمار معدنیات وغیرہ اور عالم ایسا کہ جو بات سینوں میں چھپی ہے وہ بھی جانتا ہے اور جو زبان سے اور دیگر جوارح سے کرتے ہیں اس کو بھی جانتا ہے اس کو چھوڑ کر ایک کرے کی جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے پوجا میں لگے ہوئے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
ف 4۔ مطلب اس قول ہدہد کا یہ ہے کہ میری غیر حاضری عصیانا نہ تھی، بلکہ من وجہ امتثالا تھی کہ آپ ہی کی خدمت میں لگا تھا۔ اور سبا ایک شخص کا نام تھا، پھر اس کی اولاد کو کہنے لگے، یہ لوگ یمن میں آباد تھے پھر ان کے شہر کو بھی سبا کہنے لگے جو صنعاء سے تین دن کے فاصلہ پر ہے، بلقیس اسی خاندان میں سے ہے، اور یعرب بن قحطان کی اولاد میں ہونے کی وجہ سے زبان ان کی عربی تھی۔
Read the full tafseer →ہدہد نے توحید الہی کا بیان دے کر ثابت کردیا کہ وہ اس عہدہ کا اہل ہے جس پر وہ تعین ہے :
25۔ توحید کا مضمون بڑا عجیب ہے اور موحد کا حال بھی کچھ عجیب ہی قسم کا ہے کہ جب توحید الہی کا بیان آتا ہے تو وہ بےساختہ ہوجاتا ہے اور توحید کے مضمون کو آگے سے آگے ہی بڑھاتا چلا جاتا ہے ، یہی حال ہدہد کا ہوا کہ اس نے بات تو ملکہ سبا کی اور اس ملک کے حالات کی شروع کی تھی لیکن جونہی توحید کی بات آئی تو وہ توحید الہی کے دریا میں اس طرح مستغرق ہوگیا کہ اس کو یاد ہی نہ رہا کہ وہ بات کیا کرنے کے لئے حاضر ہوا ہے ‘ اس کو کس مقصد کے لئے بلایا گیا تھا اور اس نے وہ مقصد بیان کرنے کے ساتھ ہی گویا دربار سلیمان میں وعظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
وَجَدتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ
I have found her and her people prostrating to the sun - 27:24
This shows that her people were star-worshippers and used to worship the sun. Some believe that they were Zoroastrians, who worship fire and all forms of light.
أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ (that is, they do not prostrate to Allah who bring forth what is hidden - 25).This sentence is linked with the previous one, "The Shaitan has beautified their deeds - 26" and the sense is that the Shaitan had engrained in their minds that they should not bow down before…
Read the full tafseer →33 That is, He is bringing continuously into existence those things which before their ' birth were hidden here and there: He is bringing out continuously countless kinds of vegetation and minerals from the bowels of the earth: He is manifesting from upper space such things as could not even be conceived by Ruman mind before their manifestation.
34 That is, His knowledge embraces everything; the open and hidden are alike for Him; He is aware of everything. By citing these two attributes of AIIah the object is to impress that if they had not been deluded by Satan, they could have seen the…
Read the full tafseer →