An-Naml 27:26

An-Naml · from ayah 26

27:26Sajda

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ۟اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ۩

خدا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی عرش عظیم کا مالک ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah - there is no deity except Him, Lord of the Great Throne."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 2 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:26

اللہ کہ جس کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں، جو عرش عظیم کا مالک ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی عرش عظیم کا مالک ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہی عظمت والے عرش کا مالک ہے۔

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ تو وہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں (اور) جو عرش عظیم کا مالک ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ ہے کہ اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں وہ بڑے عرش کا مالک ہے، السجد ة۔۸)

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اللہ کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں (وہی) عظیم تختِ اقتدار کا مالک ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو عرش عظیم کا رب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی عرش عظیم کا مالک ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی بھی معبود نہیں اور وہ مالک ہے عرش عظیم کا۔

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ (وہ ہے کہ) سوا اس کے کوئی معبود نہیں مالک ہے عرش عظیم کا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ اللہ کہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور جو بہت بڑے عرش کا مالک ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah - none is worthy of worship save He; He is the Lord of the Mighty Throne.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah! There is no god but He, the Lord of the Great Throne.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah! There is no god but He, the Lord of the Great Throne.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah, La ilaha illa Huwa, the Lord of the Supreme Throne!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah; there is no Allah save Him, the Lord of the Tremendous Throne.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah - there is no deity except Him, Lord of the Great Throne."

— Saheeh International

God is the only Lord and master of the Great Throne."

— Muhammad Sarwar

Allah, there is no god but He: He is the Lord of mighty power.

— Muhammad Habib Shakir

Allah! there is no God but he, the Lord of the Magnificent Throne.

— Abdul Majid Daryabadi

"Allah!- there is no god but He!- Lord of the Throne Supreme!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:26

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 22–26

ہدہد کی غیر حاضری ہدہد کی غیر حاضری کی تھوڑی سی دیر گزری تھی جو وہ آگیا۔ اس نے کہا کہ اے نبی اللہ جس بات کی آپ کو خبر بھی نہیں میں اس کی ایک نئی خبر لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ میں سبا سے آرہا ہوں اور پختہ یقینی خبر لایا ہوں۔ ان کے سباحمیر تھے اور یہ یمن کے بادشاہ تھے۔ ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے اس کا نام بلقیس بنت شرجیل تھا یہ سب کی ملکہ تھی۔ قتادہ کہتے ہیں۔ اس کی ماں جنیہ عورت تھی اس کے قدم کا پچھلا حصہ چوپائے کے کھر جیسا تھا اور روایت میں ہے اس کی ماں کا نام رفاعہ تھا ابن جریج کہتے ہیں ان کے باپ کا نام ذی سرخ تھا اور ماں کا نام بلتعہ تھا لاکھوں کا اس کا لشکر تھا۔ اس کی بادشاہی ایک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 26–27

سورة النمل 35 اس مقام پر سجدہ واجب ہے، یہ قرآن کے ان مقامات میں سے ہے جہاں سجدہ تلاوت واجب ہونے پر فقہاء کا اتفاق ہے، یہاں سجدہ کرنے سے مقصود یہ ہے کہ ایک مومن اپنے آپ کو آفتاب پرستوں سے جدا کرے اور اپنے عمل سے اس بات کا اقرار و اظہار کرے کہ وہ آفتاب کو نہیں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو اپنا مسجود و معبود مانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–27

وَجَدْتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُوْنَ للشَّمْسِ ، معلوم ہوا کہ اس کی قوم نجوم پرست تھی آفتاب کی عبادت کرتی تھی، بعض نے فرمایا کہ مجوس میں سے تھی جو آگ اور ہر روشنی کی پرستش کرتے ہیں۔ (قرطبی) اَلَّا يَسْجُدُوْا کا تعلق زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ یا فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيْلِ سے ہے یعنی شیطان نے ان کے ذہنوں میں یہی بٹھلا دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہ کریں یا یہ کہ ان کو حق کے راستہ سے اس طرح روک دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہ کریں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 25–26

آیت 26-25 ایک تضمین میرے نزدیک یہ دو آیتیں ہد ہد کے قول کا جزو نہیں ہیں بلکہ یہ اسی قسم کی تضمین ہے جس کے متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہد ہد کی بات فصدھم عن السبیل کے ساتھ اس بات کو ملا کر کلام کو بالکل مطابق حال کردیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شیطا ننے ان کو اس خدا کی بندگی سے روک دیا جو آسمان و زمین کی تمام محفیات کو بےنقاب کرتا ہے اور جو تمہارے تمام سرو علانیہ سے اچھی طرح واقف ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ عرش عظیم کا مالک وہی ہے۔ اس کے تضمین ہونے کے قرائن بالکل واضح ہیں، ان کی مزید وضاحت تحصیل حاصل ہوگی ماتخفون وما تعلنون کے صیغہ ہائے خطاب ہد ہد کی زبان سے بالک ناموزوں ہیں۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 25–26

25-1یعنی آسمان سے بارش برساتا اور زمین سے اس کی مخفی چیزیں نباتات، معدنیات اور دیگر زمینی خزانے ظاہر فرماتا اور نکالتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 23–26

یہ سجدے کی آیت ہے جو کوئی شخص عربی میں یہ آیت پڑھے یا سنے اس پر سجدہ تلاوت واجب ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 22–26

فمکث ……العظیم (63) یہ ہد ہد بادشاہ کی دانشمندی اور بہترین تنظیمی صلاحیتوں سے باخبر تھا۔ اس لئے ہد ہد نے پہلے ہی فقرے میں چونکا دینے والی خبر سے اپنی بات کا آغاز کیا تاکہ اس خبر کے بعد اس سے جواب طلبی کا موقع ہنہ رہے اور بادشاہ اس کی بات کو غور سے سنیں۔ احطت بمالم تحط بہ وجئتک من سبابنیا یقین (82 : 22) ” میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے علم میں نہیں ہیں۔ میں سبا کے بارے میں یقینی معلومات لے کر آیا ہوں۔ “ کون بادشاہ ایسا ہوگا اپنے کسی ملازم سے وہ باتیں نہ سنے جن کے بارے میں اسے علم نہیں۔ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے سننا شروع کیا تو اس نے تفصیلات بتانا شروع کردیں۔ مملکت سبا جنوب یمن…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 24–26

فَصَدَّہُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَہُمْ لَا یَہْتَدُوْنَ ” شیطان نے انہیں گمراہ کردیا ہے اور اب انہیں راہ ہدایت کا شعور نہیں رہا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 26–27

27 ہدہد نے ملکہ سبا کے متعلق یہ یقینی خبر دی تھی کہ اس کا عرش عظیم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا عرش عظیم تو صرف اللہ کا ہے۔ اس کے عرش کے مقابلہ میں کسی کا تخت عظیم نہیں ہوسکتا۔ نہ ہی اللہ کے مقابلہ میں آفتاب یا دوسری اشیاء کو الٰہ کہا جاسکتا ہے۔ یا کسی ایسی چیز کو سجدہ کیا جاسکتا ہے۔ اس مقام پر سجدہ کرنا واجب ہے۔ جس سے مقصود یہ ہے کہ ایک مومن اپنے آپ کو ان آفتاب پرستوں سے جدا کرے جو سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور اپنے عمل سے یہ ظاہر کرے کہ وہ آفتاب کو نہیں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کو ہی اپنا معبودو مسجود تسلیم کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

34۔ (جس کے آگے تخت ملکہ سبا کی حقیقت ہی کیا ہے) امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ ملکہ سبا کے تخت کو جو عظیم کہا گیا تھا وہ باعتبار معاصر ملوک و سلاطین کے تھا، اور یہاں جو عرش الہی کو عظیم کہا جارہا ہے، یہ جملہ مخلوقات کے مقابلہ میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–31

آیت نمبر 22 تا 31 ترجمہ : فَمَکُثَ کاف کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ، چناچہ تھوڑی دیر گزری تھی کہ (اس نے آکر) کہا یعنی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ بازو اور دم لٹکائے ہوئے اور سر اٹھائے ہوئے عاجزانہ طریقہ پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا، چناچہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو معاف کردیا اور زمانہ غیبونت میں پیش آنے والے واقعہ کے بارے میں معلوم کیا تو اس نے کہا میں ایسی خبر لایا ہوں کہ آپ کو اس کی خبر نہیں یعنی میں ایسی خبر پر مطلع ہوا ہوں کہ آپ کو اس کی اطلاع نہیں اور میں (قوم) سبا کی سچی خبر آپ کے پاس لایا ہوں سَبَأ منصرف اور غیر منصرف دونوں ہے، سبا یمن میں ایک قبیلہ کا نام ہے جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اللّٰہ لا الہ الا ھو رب العرش العظیم . وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 25–26

(25۔ 26) اور میں نے ان سے کہا کہ اس اللہ کو کیوں سجدہ نہیں کرتے جو آسمان و زمین کی پوشیدہ چیزوں کو باہر لاتا ہے جن میں سے بارش اور نباتات بھی ہیں۔ یا یہ کہ یہ حضرت سلیمان ؑ کا قول ہو کہ ہدہد سے سن کر انہوں نے ایسا فرمایا ہو اور تم لوگ جو کچھ نیکی و برائی دل میں چھپا کر رکھتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو وہ سب کو جانتا ہے اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ۔۔ : یہ توحید کی تیسری دلیل ہے کہ وہ عرش عظیم کا رب ہے۔ مالک تو وہ کائنات کی ہر چیز کا ہے، لیکن یہاں صرف عرش عظیم کا ذکر کیا۔ ایک تو اس لیے کہ عرش الٰہی کائنات کی سب سے بڑی چیز اور سب سے برتر ہے۔ دوسرا یہ واضح کرنے کے لیے کہ ملکہ سبا کا تخت شاہی بھی گو بہت بڑا ہے، مگر اسے عرش عظیم سے کوئی نسبت نہیں، جس پر اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق مستوی ہے۔ یہاں ہد ہد کا کلام ختم ہوا۔ بعض مفسرین نے ان دو آیات کو اللہ تعالیٰ کا کلام قرار دیا ہے، جو اللہ تعالیٰ نے ہد ہد کے کلام کے بعد توحید کی تعلیم کے لیے فرمایا ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا : (إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 26–28

اللہ لا الہ الا ھو رب العرش العظیم ابن محصین نے العظیم پڑھا ہے مرفوع ہے لفظ اللہ اسم جلالت کی صفت ہے۔ باقی قراء نے مجرور پڑھا ہے یہ العرش کی صفت ہے رب کا خصوصاً ذکر فرمایا کیونکہ مخلوقات میں سے عظیم ہے اس کے علاوہ اس کے ضمن میں اور اس کے قبضہ میں ہیں۔ مسئلہ نمبر 14 :۔ ستظر یہ اس نظر سے مشتق ہے جس کا معنی غور و فکر کرنا ہے۔ اصدقت امر کنت من الکذبین کیا تو اپنی بات میں سچا ہے یا جھوٹا ہے کنت یہ انت کے معنی میں ہے کہا : ستنظر اصدقت یہ نہیں کہا۔ سننضر فی امرت کیونکہ جب ہد ہد نے علم میں فخر کی تصریح کردی احطت بما لم تحط بہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے قول کے ساتھ تصرزیح کی ستظر اصدقت ام کنت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–31

بلقیس کی حکومت کی خبر 1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ سلیمان (علیہ السلام) کا ہدہد پرندوں کے درمیان سے گم کیسے ہوگیا فرمایا کہ سلیمان ایک منزل پر اترے اور انہوں نے نہیں جانا کہ پانی کہاں ہے اور ہدہد سلیمان کو پانی کے باے میں بتاتا تھا انہوں نے اس سے پوچھنے کا ارادہ فرمایا تو اس کو گم پایا ابن عباس ؓ سے کہا گیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ ہد ہد کے لیے جال لگایا جاتا ہے اور اسمیں مٹی ڈال دی جاتی ہے تو وہ اس میں پھنس جاتا ہے بچہ ہد ہد کے لیے پھندہ لگاتا ہے اور وہ بچہ اس سے غائب ہوجاتا ہے اور اس کا شکار کرلیتا ہے تو انہوں نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَللّٰهُ [ اللہ ] لَآ اِلٰهَ [ کوئی بھی الہ نہیں ہے ] اِلَّا هُوَ [ مگر وہی ] رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ [ جو عرش عظیم کا مالک ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–37

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا پرندوں کی حاضری لینا، ہدہد کا غائب ہونا اور ملک سبا سے ایک ملکہ کی خبر لانا اور اس کے نام حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط لیجانا اور ملکہ کا ہدیہ بھیجنا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت انسان جنات چرند پرند سب پر تھی وہ ان سب کے بادشاہ تھے، اور یہ چیزیں ان کے لشکر کا جزو تھیں ایک بار جانوروں کی حاضری لی تو جانور جمع ہوگئے لیکن ان میں ہدہد حاضر نہیں ہوا (ممکن ہے انہوں نے ہر جنس کے بڑے ہی کو بلایا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تمام جانوروں کو جمع ہونے کا حکم دیا ہو سب جانور جمع ہوگئے ہدہد بھی سب آگئے لیکن ان کا سردار حاضر نہ ہوا ہو) جب مطلوبہ ہدہد کو انہوں نے حاضر نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–44

قصہء سوم ملکہء سبا بروایت ھد ھد قال اللہ تعالیٰ وتفقد الطیر فقال مالی لا اری الھد ھد۔۔۔ الی۔۔۔ واسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین۔ (ربط) اب ان آیات میں ملکہ سبا کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو بظاہر اس سورت کا تیسرا قصہ ہے مگر درحقیقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دوسرا قصہ ہے سلیمان (علیہ السلام) کے پاس تین قسم کے لشکر تھے ایک آدمیوں کا اور ایک جنوں کا اور ایک پرندوں کا۔ جو روانگی کے وقت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر سایہ کرتے تھے۔ ایک دن سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کے ایک لشکر کی جانچ پڑتا کی تو اس نے ہد ہد کو نہ پایا جو ہد ہدوں کا سردار تھا۔ فرمایا جب وہ آئے گا تو اس سے پوچھوں گا کہ کیوں غیر حاضر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

25:۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ عالم الغیب اور کارساز اللہ تعالیٰ ہی ہے تو معلوم ہوا کہ پکارنے کے لائق بھی وہی ہے اور کوئی نہیں۔ ہدہد نے یہ ثمرہ اپنی دلیل عقلی پر بیان کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 20–31

ربط آیات گزشتہ درس میں ایک چیونٹی کا حال بیان ہوا ۔ سلیمان (علیہ السلام) چیونٹی کی بات سن کر مسکرائے اور پھر ان انعامات کا شکریہ ادا کیا جو اللہ نے آپ پر اور آپ کے والدین پر کر رکھے تھے۔ آپ نے اللہ سے اس کے پسندیدہ نیک اعمال کرنے کی توفیق بھی طلب کی اور ایک خصوصی دعا یہ کی کہ پروردگار ! مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل رکھ ۔ جانوروں اور پرندوں کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے۔ چناچہ لوگ بہمیۃ الانعام یعنی اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکری سے ، دودھ ، بال اور کھالیں حاصل کرتے ہیں ۔ بعض جانوروں سے باربرداری کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ بعض وحشی جانوروں کو باقاعدہ سیدھا کر کے ان سے بھی خدمت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ۝ 2 6۞ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–28

و تفقد الطیر کہ پرندوں کی حاضری لی تو ان میں ہدہد کو نہ پایا، فرمایا کہ اس کو سزا دوں گا ورنہ کوئی عذر معقول بیان کرے، تھوڑی دیر کے بعد ہدہد بھی آحاضر ہوا اور اس نے سبا 1 ؎ کی شہزادی بلقیس کا حال بیان کیا کہ اس کے پاس سب سازوسامان سلطنت حاصل ہیں اور ایک بڑا عمدہ تخت بھی ہے کہ جس پر وہ جلوس کرتی ہے۔ مگر با ایں ہمہ آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ لوگ آفتاب پرست تھے یا تو صابی ہوں گے یا کوئی اور مذہب مروج ہوگا جو شیطانی مذہب تھا اور اللہ کو سجدہ نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے، آسمان کی چھپی ہوئی ستارے آفتاب ماہتاب چھپ جاتے ہیں، پھر ان کو اللہ ہی ظاہر کرتا ہے، پھر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 25–26

اَلاَّیَسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْ ئَ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَیَعْلَمُ مَاتُخْفُوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ ۔ اَللّٰہُ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ۔ (النمل : 25، 26) (شیطان نے ان کو صحیح راہ سے روک دیا ہے) کہ وہ اللہ کو سجدہ نہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں نکالتا ہے اور وہ جانتا ہے جسے تم لوگ چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔ ) یہ تضمین ہے علامہ قرطبی اور بعض دیگر کبار مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیت ہدہد کا کلام نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے جو بطور تضمین اس کے ساتھ شامل ہے۔ اس میں خطاب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 24–26

فہم القرآن ربط کلام : ہد ہد کی رپورٹ کا مذہبی حصہ۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے ہد ہد نے اپنے چشم دید مشاہدات میں یہ بات بھی عرض کی کہ میں نے ملک سبا کی حکمران اور اس کی قوم کو اس حالت میں دیکھا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور یہ کام شیطان نے ان کے لیے خوبصورت بنا دیا ہے۔ ملکہ سبا : شیطان نے نہ صرف شرک کو ان کے لیے خوبصورت بنا کے پیش کیا ہے بلکہ اس نے انھیں صراط مستقیم سے روک رکھا ہے جس بنا پر وہ صراط مستقیم سمجھنے اور اس پر گامزن ہونے کے لیے تیار نہیں تھے۔ یہ بات فہم القرآن میں کئی مرتبہ عرض ہوچکی ہے کہ شیطان شرک اور برے اعمال کو اس طرح خوبصورت کرکے پیش کرتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

26: اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ (وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے) ۔ ہدہد نے بطور تعظیم کے عرش الٰہی کی عظیم کے ساتھ صفت ذکر کی۔ اس عظیم سے مراد آسمان و زمین اور تمام مخلوقات کے مقابلہ میں عظیم ہونا مراد ہے۔ جبکہ ملکہ بلقیس کے تخت کی بھی عظیم کے ساتھ صفت بیان کی مگر وہاں عظیم سے مراد اس کے ہم جنس بادشاہوں کے تختوں کے مقابلہ میں بڑا ہونا مراد ہے۔ یہاں تک ہدہد کا کلام ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

26۔ اللہ لاالہ الاھورب العرش العظیم، ، وہی عبادت کا مستحق اور سجود کا مستحق ہے۔ اس کے علاوہ کوئی نہیں ۔ ملکہ سبا کا عرش اگرچہ بڑا تھا لیکن اللہ عزوجل کے عرش کے مقابلے میں ایک جنب سے بھی حقیر تھا، یہاں پر ہدہد کا کلام تام ہوا جب ہدہد اپنے کلام سے فارغ ہوا ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–26

15 تا 26 بعضے مفسروں نے یہ جو لکھا ہے کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے یہ قرآن شریف کے مخالف ہے اس لیے کے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قصہ خصوصیت کے طور پر یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جانوروں کو بولی سمجھنے کی نعمت عنایت فرمائی تھی جو نعمت مخلوق الٰہی میں سے کسی کو عنایت نہیں ہوئی اور حضرت سلیمان کا قول اللہ تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں نقل کیا ہے اس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ کی اس نعمت کو اپنی خصوصیت کے طور پر ذکر کیا ہے جب یہ کہا جاوے گا کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے تو پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خصوصیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–44

آیت 15 سے 44 اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 25–26

25 کائنات کی گواہی خالق کی وحدانیت پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی بھی معبود نہیں۔ اور وہ مالک ہے عرش عظیم کا۔ یہاں تک کے اس کلام کے بارے میں یہ بھی احتمال ہے کہ یہ اللہ پاک نے اپنی طرف سے ہدہد کے کلام پر اضافہ کرتے ہوئے فرمایا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ہدہد کے کلام کا ہی تتمہ ہو۔ اور اللہ پاک اپنی قدرت کے اظہار کے لئے ایک پرندے کی زبان سے ایسی معقول باتیں کرانے پر پوری طرح قادر ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف آسمان و زمین کی یہ پوری کائنات اس خالق ومالک کی عظمت شان اور اس کی وحدانیت مطلقہ کی گواہی دے رہی ہے۔ اور یہ پوری کائنات اور اس کے اندر موجود ہر چیز اپنی زبان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–44

سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 15–31

آیات نمبر 15:31 اسرار و معارف : ہم نے داود اور سلیمان (علیہما السلام) کو علوم نبوت سے سرفراز فرمایا یہاں علم سے مراد نبوت کے ساتھ دوسرے علوم بھی شامل ہیں کہ حکومت و سیاست کا علم یا فنون میں سے زرہ سازی کا علم جو داود (علیہ السلام) کو بطور خاص عطا ہوا تھا نیز ان کی خصوصیت حکومت و سلطنت بھی تھی اور وہ حضرات اس پر شکر بھی ادا کرتے تھے کہ انہیں بہت سے نیک بندوں میں خاص فضیلت عطا کی گئی مثلاً ہر نبی کو بھی حکومت و سلطنت تو عطا نہ ہوئی اور سلیمان (علیہ السلام) داود (علیہ السلام) کے وارث مقرر ہوئے جب انہوں نے فرمایا کہ لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر وہ نعمت عطا ہوئی ہے جو اس عظیم…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

5 ۔ اس کے عرش کے سامنے کسی بڑی سے بڑی چیز کی کوئی حقیقت نہیں… اس آیت پر ہد ہد کی تقریر ختم ہوئی۔ اس نے چونکہ خالص توحید کی دعوت دی اس لئے نبی ﷺ نے مسلمانوں کو اس کے مارنے سے منع فرمایا۔ ابو دائود کی ایک صحیح روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے شہد کی مکھی، چیونٹی اور ہد ہد کے مارنے سے منع فرمایا۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 25–27

(27:25) الا یسجدوا : ای لئلا یسجدوا لام تعلیل محذوف ۔ تاکہ نہ سجدہ کریں۔ بدیں وجہ وہ سجدہ نہیں کرتے ہیں۔ اور یا تو زین لہم سے متعلق ہے۔ یا فصدھم سے۔ یعنی شیطان نے ان کے اعمال (گمراہی و شرک) کو ان کی نظروں میں مزین کر رکھا ہے اس لئے وہ اللہ کو سجدہ نہیں کرتے۔ یا شیطان نے ان کو راہ راست سے روک رکھا ہے اور ہدیں وجہ وہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہیں کرتے۔ الذی : ای اللہ تعالیٰ ۔ الحب کسی چیز کے پوشیدہ اور مخفی ذخیرہ کو خبا کہتے ہیں یہاں مصدر بمعنی مفعول مخبوء مستعمل ہے یخرج الخب جو پوشیدہ چیزوں کو باہر نکالتا ہے۔ ما تخفون وما تعلنون جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو ۔ اس کی دوسری قرات ما یخفون وما…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 20–37

لغات القرآن : آیت نمبر 20 تا 37 : تفقد (اس نے جائزہ لیا۔ اس نے ڈھونڈا) ‘ مکت (وہ ٹھہرا۔ اس نے دیر کی) نباء (خبر) ‘ وجدت ( میں نے پایاض تملک ( وہ بادشاہت کرتی ہے) اوتیت (دیا گیا) الخبئ (پوشیدہ) القہ ( اس کو ڈال دے) افتونی ( مجھے بتائو۔ مجھے مشورہ دو ) ‘ قاطعۃ (کاٹنے والی) ‘ تشھدون ( تم موجود ہو) اولوقوۃ (قوت و طاقت والا) ‘ اولوباس ( لڑنے والے) ‘ تامرین (تو کیا حکم دیتی ہے) ‘ مرسلۃ ( بھیجنے والی) ‘ نظرۃ (دیکھنے والی) ‘ اتمدون (کیا تم مدد کرتے ہو) تفرحون ( وہ اتراتے ہیں۔ خوش ہوتے ہیں) ‘ صغرون (ذلیل و خوارہونے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 20 تا 37 : حضرت سلیمان (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ایک عظیم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–26

سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر اور ہدہد کا خبرلانا۔ (ف 1) فرمایا ایک بار حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر ملک شام کے میدان پر سے گزرا کہ جہان چیونٹیوں کے بل تھے اور وہ زمین پر چل رہی تھیں جو چیونٹیوں کا سردار تھا جب اس نے دیکھا کہ حضرت سلیمان کا لشکر آرہا ہے تو اس نے کہا، اے چیونٹیوں سب اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ تاکہ تم پاؤں کی روند میں آجاؤ، یہ بات حضرت سلیمان کو معلوم ہوئی کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت سے علوم دیے تھے پھر حضرت سلیمان اس بات سے مسکرا کر ہنسنے لگے، ایک تو اس لیے کہ چیونٹی سلیمان (علیہ السلام) کو بیخبر ی کا الزام لگاتی ہے اس کو یہ معلوم نہیں کہ حضرت سلیمان کو کیا کیا علم…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 24–37

[8] یہاں سے لے کر آیت 26 کے آخر تک ہدہد کے قول پر اللہ تعالیٰ کا اپنا اضافہ ہے جیسا کہ انداز کلام سے صاف ظاہر ہے۔ یہ اسی قسم کی تضمین ہے جس کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(26) اللہ تعالیٰ کی ہی ذات ایسی ہے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہی عرش عظیم یعنی بڑے تخت کا مالک ہے چونکہ اوپر بلقیس کے تخت کا ذکر کیا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ کے عرش عظیم کا ذکر کیا اور یہ واقعہ ہے کہ بلقیس کے تخت کو عرش الٰہی سے کوئی نسبت نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 22–27

ف 4۔ مطلب اس قول ہدہد کا یہ ہے کہ میری غیر حاضری عصیانا نہ تھی، بلکہ من وجہ امتثالا تھی کہ آپ ہی کی خدمت میں لگا تھا۔ اور سبا ایک شخص کا نام تھا، پھر اس کی اولاد کو کہنے لگے، یہ لوگ یمن میں آباد تھے پھر ان کے شہر کو بھی سبا کہنے لگے جو صنعاء سے تین دن کے فاصلہ پر ہے، بلقیس اسی خاندان میں سے ہے، اور یعرب بن قحطان کی اولاد میں ہونے کی وجہ سے زبان ان کی عربی تھی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہدہدنے کس خوبصورتی سے جہاں سے بیان شروع کیا وہی لا کر ختم کردیا : 26۔ ہمارے مفسرین میں سے نہایت مدبر اور علقمند جن کو کہا گیا ہے انہوں نے یہ بیان ہدہد کا قرار نہیں دیا بلکہ اس کو تضمین بنا دیا ہے یہ تو ان کی عقل مندی اور تدبر فی القرآن ہے اور ادھر اس ہدہد کی ذہانت وفطانت اور عقل مندی اور سمجھداری دیکھئے کہ اس نے اپنے مضمون کو جہاں سے شروع کا تھا وہیں لا کر ختم کر دکھایا ہے بات اس نے مکہ کے عرش سے شروع کی تھی اور سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے بیان دینے لئے کھڑے ہوتے ہی اس نے کہا تھا کہ اے بادشاہ سلامت ! میں نے ملک سبا میں ایک ملکہ کو حکمران پایا جس کے ملک میں ہر طرح کی فراوانی اور ہر طرح کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–27

وَجَدتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ I have found her and her people prostrating to the sun - 27:24 This shows that her people were star-worshippers and used to worship the sun. Some believe that they were Zoroastrians, who worship fire and all forms of light. أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي يُخْرِ‌جُ الْخَبْءَ (that is, they do not prostrate to Allah who bring forth what is hidden - 25).This sentence is linked with the previous one, "The Shaitan has beautified their deeds - 26" and the sense is that the Shaitan had engrained in their minds that they should not bow down before…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–27

35 This is one of those verses of the Qur'an, whose recital makes it obligatory for one to perform a Sajdah (prostration), and there is a consensus on this of the Muslim jurists. The object of performing a Sajdah here is that a believer should set himself apart from the sun-worshippers and should decalre by his action that he does not regard the sun but Allah Almighty alone as his Deity and Lord.

Read the full tafseer →