Explained with ayahs 22–26
ہدہد کی غیر حاضری
ہدہد کی غیر حاضری کی تھوڑی سی دیر گزری تھی جو وہ آگیا۔ اس نے کہا کہ اے نبی اللہ جس بات کی آپ کو خبر بھی نہیں میں اس کی ایک نئی خبر لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ میں سبا سے آرہا ہوں اور پختہ یقینی خبر لایا ہوں۔ ان کے سباحمیر تھے اور یہ یمن کے بادشاہ تھے۔ ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے اس کا نام بلقیس بنت شرجیل تھا یہ سب کی ملکہ تھی۔ قتادہ کہتے ہیں۔ اس کی ماں جنیہ عورت تھی اس کے قدم کا پچھلا حصہ چوپائے کے کھر جیسا تھا اور روایت میں ہے اس کی ماں کا نام رفاعہ تھا ابن جریج کہتے ہیں ان کے باپ کا نام ذی سرخ تھا اور ماں کا نام بلتعہ تھا لاکھوں کا اس کا لشکر تھا۔ اس کی بادشاہی ایک…
Read the full tafseer →سورة النمل 30
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم اس زمانے میں آفتاب پرستی کے مذہب کی پیرو تھی، عرب کی قدیم روایات سے بھی اس کا یہی مذہب معلوم ہوتا ہے، چناچہ ابن اسحاق علمائے انساب کا یہ قول نقل کرتا ہے کہ سبا کی قوم دراصل ایک مورث اعلی کی طرف منسوب ہے جس کا نام عبد شمس (بندہ آفتاب یا سورج کا پرستار) اور لقب سبا تھا۔ بنی اسرائیل کی روایات بھی اسی کی تائید کرتی ہیں، ان میں بیان کیا گیا ہے کہ ہدہد جب حضرت سلیمان کا خط لیکر پہنچا تو ملکہ سبا سورج دیوتا کی پرستش کے لیے جارہی تھی۔ ہدہد نے راستے ہی میں وہ خط ملکہ کے سامنے پھینک دیا۔
سورة النمل 31
انداز کلام سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں سے آخر پیرا گراف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
وَجَدْتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُوْنَ للشَّمْسِ ، معلوم ہوا کہ اس کی قوم نجوم پرست تھی آفتاب کی عبادت کرتی تھی، بعض نے فرمایا کہ مجوس میں سے تھی جو آگ اور ہر روشنی کی پرستش کرتے ہیں۔ (قرطبی)
اَلَّا يَسْجُدُوْا کا تعلق زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ یا فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيْلِ سے ہے یعنی شیطان نے ان کے ذہنوں میں یہی بٹھلا دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہ کریں یا یہ کہ ان کو حق کے راستہ سے اس طرح روک دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
آیت (24-22)
ہد ہد کے مک سبا کے بارے میں
فمکت غیر بعید مکت کا فاعل میرے نزدیک، حضرت سلیمان ہیں۔ یعنی ہد ہد پر جو عتاب انہوں نے فرمایا اس کے بعد زیادہ دیر نہیں گزری کہ ہد ہد آگیا اور اس نے اپنی کارگزاری کی یہ رپورٹ پیش کی کہ میں ملک سامنے ایک ایسی سچی اطلاع لے کر آیا ہوں جو حضور کے علم میں نہیں ہے۔ سبا عرب کا وہی مغربی جنوبی علاقہ ہے جہاں یمن، حضرموت اور عیسر واقع ہیں۔ ہد ہد کے قول کا یہ مطلب نہیں تھا کہ حضرت سلیمان اس ملک اور اس کے حلا ات سے بالکل ہی بیخبر ہیں۔ اتنے قریب کے ملک سے حضرت سلیمان بالکل بیخبر کیسے ہو سکتے تھے جب کہ تورات اور قرآن دونوں سے یہ بات ثابت ہے کہ ملکہ سبا حضرت سلیمان کے…
Read the full tafseer →24-1اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح پرندوں کو یہ شعور ہے کہ غیب کا علم انبیاء بھی نہیں جانتے، جیسا کہ ہدہد نے حضرت سلیمان ؑ کو کہا کہ میں ایک ایسی اہم خبر لایا ہوں جس سے آپ بھی بیخبر ہیں، اسی طرح وہ اللہ کی وحدانیت کا احساس و شعور بھی رکھتے ہیں۔ اسی لئے یہاں ہدہد نے حیرت واستعجاب کے انداز میں کہا کہ یہ ملکہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے، سورج کی پجاری ہے اور شیطان کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ جس نے ان کے لئے سورج کی عبادت کو بھلا کر کے دکھلایا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
یہ سجدے کی آیت ہے جو کوئی شخص عربی میں یہ آیت پڑھے یا سنے اس پر سجدہ تلاوت واجب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
فمکث ……العظیم (63)
یہ ہد ہد بادشاہ کی دانشمندی اور بہترین تنظیمی صلاحیتوں سے باخبر تھا۔ اس لئے ہد ہد نے پہلے ہی فقرے میں چونکا دینے والی خبر سے اپنی بات کا آغاز کیا تاکہ اس خبر کے بعد اس سے جواب طلبی کا موقع ہنہ رہے اور بادشاہ اس کی بات کو غور سے سنیں۔
احطت بمالم تحط بہ وجئتک من سبابنیا یقین (82 : 22) ” میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے علم میں نہیں ہیں۔ میں سبا کے بارے میں یقینی معلومات لے کر آیا ہوں۔ “ کون بادشاہ ایسا ہوگا اپنے کسی ملازم سے وہ باتیں نہ سنے جن کے بارے میں اسے علم نہیں۔
جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے سننا شروع کیا تو اس نے تفصیلات بتانا شروع کردیں۔ مملکت سبا جنوب یمن…
Read the full tafseer →1 یعنی وہ قوم مشرک آفتاب پرست ہے۔ شیطان نے ان کی راہ مار دی، اور مشرکانہ رسوم واطوار کو ان کی نظر میں خوبصورت بنادیا۔ اسی لیے وہ راہ ہدایت نہیں پاتے۔ ہدہد نے یہ کہہ کر گویا سلیمان (علیہ السلام) کو اس قوم پر جہاد کرنے کی ترغیب دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
فَصَدَّہُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَہُمْ لَا یَہْتَدُوْنَ ”
شیطان نے انہیں گمراہ کردیا ہے اور اب انہیں راہ ہدایت کا شعور نہیں رہا۔
Read the full tafseer →25 یعنی یہ لوگ سورج پرست بھی ہیں اور آخرت کے منکر بھی۔ لہذا وہ اپنی ساری کوششیں زیادہ سے زیادہ دولت کمانے اور اپنا معیار زندگی بلند کرنے میں صرف کر رہے ہیں۔ اور اسی کام کو اپنی زندگی کے منتہائے مقصد سمجھے بیٹھے ہیں اور شیطان نے انھیں یہی بات سمجھائی ہے کہ ان کی عقلی اور فکری قوتوں کا یہی بہترین مصرف ہے کہ وہ اپنی اس دنیا کی زندگی کو زیادہ سے زیادہ شاندار بنائیں۔
Read the full tafseer →30۔ اس ملکہ کا نام بلقیس تھا۔ اس کی دولت وامارت، سازوسامان کے لئے انگریزی تفسیر القرآن ملاحظہ ہو۔ (آیت) ” عظیم “۔ عظیم جو تخت کی صفت آئی ہے اس سے مراد گرانقدر اور پیش بہا بھی ہوسکتا ہے اور جسامت کے اعتبار سے بےحد بڑا بھی (آیت) ” امراۃ تملکھم “۔ بجائے بادشاہ کے ملکہ کی فرمانروائی دنیا میں کوئی نوپیدا شے نہیں، جاہلی قوموں میں بہت قدیم زمانہ سے یہ ہوتا آیا ہے۔ (آیت) ” اوتیت من کل شیء۔ کل شیء “ سے یہاں بھی مراد انھیں چیزوں کی کثرت وافراط ہے جو ملکہ کو اپنے جاہ وحشم کے لئے ضروری تھیں، ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 19 (آیت) ” امراۃ تملکھم “۔ عورتوں کے ہاتھ میں عہدہ اور منصب دے دینا یہاں تک کہ انہیں پورے ملک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
آیت نمبر 22 تا 31
ترجمہ : فَمَکُثَ کاف کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ، چناچہ تھوڑی دیر گزری تھی کہ (اس نے آکر) کہا یعنی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ بازو اور دم لٹکائے ہوئے اور سر اٹھائے ہوئے عاجزانہ طریقہ پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا، چناچہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو معاف کردیا اور زمانہ غیبونت میں پیش آنے والے واقعہ کے بارے میں معلوم کیا تو اس نے کہا میں ایسی خبر لایا ہوں کہ آپ کو اس کی خبر نہیں یعنی میں ایسی خبر پر مطلع ہوا ہوں کہ آپ کو اس کی اطلاع نہیں اور میں (قوم) سبا کی سچی خبر آپ کے پاس لایا ہوں سَبَأ منصرف اور غیر منصرف دونوں ہے، سبا یمن میں ایک قبیلہ کا نام ہے جو…
Read the full tafseer →وجدتھا وقومھا یسجدون للشمس من دون اللّٰہ . میں نے مکہ اور اس کی قوم کو اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے پایا۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کا تعلق یَسْجُدُوْنَ سے ہے۔
وزین لھم الشیطن اعمالھم . اور شیطانوں نے ان کے اعمال ان کی نظروں میں پسندیدہ بنا دئیے
ہیں۔ یعنی آفتاب پرستی جیسے برے اعمال کو ان کے لئے مرغوب خاطر بنا دیا ہے۔
فصدھم عن السبیل فھم لا یھتدون . پس شیطان نے ان کو سیدھے راستے سے روک دیا ہے اس لئے وہ سیدھے راستے پر نہیں چلتے۔
Read the full tafseer →(24) میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کی پوجا کر رہے ہیں اور شیطان نے اس سورج کی پوجا کو ان کی نظر میں پسندیدہ بنا کر رکھا ہے اور ان کو شیطان نے راہ حق اور ہدایت سے روک رکھا ہے سو وہ راہ حق پر نہیں چلتے۔
Read the full tafseer →وَجَدْتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُوْنَ للشَّمْسِ۔۔ : یعنی ہر قسم کی نعمت میسر ہونے پر لازم تھا کہ وہ ان نعمتوں کے عطا کرنے والے کی عبادت کرتے اور اسی کو سجدہ کرتے، مگر میں نے دیکھا کہ اس کے بجائے وہ اور اس کی قوم سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال خوش نما بنا دیے ہیں اور انھیں اصل راستے سے روک دیا ہے، لہٰذا وہ ہدایت نہیں پاتے۔ یعنی ان کے ہدایت نہ پانے کی وجہ یہ ہے کہ شیطان نے ان کی نگاہ میں سورج کی پرستش مزین کردی ہے، اس لیے وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھ رہے ہیں۔ اب غلط راستے پر چلنے والا کوئی شخص یقین کرلے کہ میں صحیح جا رہا ہوں اور غلطی بتانے والے کی دشمنی پر اتر آئے تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
(وتفقد الطیر فقال ما لی۔۔۔۔۔ )
اس میں اٹھارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 :۔ وتفقد الطیر جس سفر میں چیونٹی کا ذکر ہوا اس میں اور چیز کا ذکر کیا جس طرح پہلے گزرا ہے۔ تفقد کا مطلب ہے جو چیز تجھ سے غائب ہوا اس کو تلاش کرنا۔ طیرا سم جمع ہے واحد طیر ہے۔ یہاں طیر سے مراد جنس طیر اور جماعت ہے۔ وہ سفر میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس رہتے اور اپنے پروں سے آپ کو سایہ کرتے لوگوں نے پرندوں کی تلاش کی وجہ میں اختلاف کیا ہے۔ ایک جماعت نے کہا : یہ اس اعتبار سے تھا کہ امور مملکت کی بجا آو ری اس کا تقاضا کرتی تھی یہ آیت کا ظاہر معنی ہے۔ ایک جماعت نے کہا : آپ نے پرندوں کو تلاش کیا کیونکہ جب ہد ہد غائب ہوا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–31
بلقیس کی حکومت کی خبر
1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ سلیمان (علیہ السلام) کا ہدہد پرندوں کے درمیان سے گم کیسے ہوگیا فرمایا کہ سلیمان ایک منزل پر اترے اور انہوں نے نہیں جانا کہ پانی کہاں ہے اور ہدہد سلیمان کو پانی کے باے میں بتاتا تھا انہوں نے اس سے پوچھنے کا ارادہ فرمایا تو اس کو گم پایا ابن عباس ؓ سے کہا گیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ ہد ہد کے لیے جال لگایا جاتا ہے اور اسمیں مٹی ڈال دی جاتی ہے تو وہ اس میں پھنس جاتا ہے بچہ ہد ہد کے لیے پھندہ لگاتا ہے اور وہ بچہ اس سے غائب ہوجاتا ہے اور اس کا شکار کرلیتا ہے تو انہوں نے…
Read the full tafseer →وَجَدْتُّهَا [ میں نے پایا اس کو ] وَقَوْمَهَا [ اور اس کی قوم کو (کہ)] يَسْجُدُوْنَ [ وہ لوگ سجدہ کرتے ہیں ] لِلشَّمْسِ [ سورج کو ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] وَزَيَّنَ [ اور سجا دیا ] لَهُمُ [ ان کے لئے ] الشَّيْطٰنُ [ شیطان نے ] اَعْمَالَهُمْ [ ان کے اعمال کو ] فَصَدَّهُمْ [ نتیجتاً اس نے روک دیا ان کو ] عَنِ السَّبِيْلِ [ راستہ سے ] فَهُمْ [ تو وہ لوگ ] لَا يَهْتَدُوْنَ [ ہدایت نہیں پاتے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–37
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا پرندوں کی حاضری لینا، ہدہد کا غائب ہونا اور ملک سبا سے ایک ملکہ کی خبر لانا اور اس کے نام حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط لیجانا اور ملکہ کا ہدیہ بھیجنا
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت انسان جنات چرند پرند سب پر تھی وہ ان سب کے بادشاہ تھے، اور یہ چیزیں ان کے لشکر کا جزو تھیں ایک بار جانوروں کی حاضری لی تو جانور جمع ہوگئے لیکن ان میں ہدہد حاضر نہیں ہوا (ممکن ہے انہوں نے ہر جنس کے بڑے ہی کو بلایا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تمام جانوروں کو جمع ہونے کا حکم دیا ہو سب جانور جمع ہوگئے ہدہد بھی سب آگئے لیکن ان کا سردار حاضر نہ ہوا ہو) جب مطلوبہ ہدہد کو انہوں نے حاضر نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–44
قصہء سوم ملکہء سبا بروایت ھد ھد
قال اللہ تعالیٰ وتفقد الطیر فقال مالی لا اری الھد ھد۔۔۔ الی۔۔۔ واسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین۔
(ربط) اب ان آیات میں ملکہ سبا کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو بظاہر اس سورت کا تیسرا قصہ ہے مگر درحقیقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دوسرا قصہ ہے سلیمان (علیہ السلام) کے پاس تین قسم کے لشکر تھے ایک آدمیوں کا اور ایک جنوں کا اور ایک پرندوں کا۔ جو روانگی کے وقت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر سایہ کرتے تھے۔ ایک دن سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کے ایک لشکر کی جانچ پڑتا کی تو اس نے ہد ہد کو نہ پایا جو ہد ہدوں کا سردار تھا۔ فرمایا جب وہ آئے گا تو اس سے پوچھوں گا کہ کیوں غیر حاضر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
23:۔ یہ ہدہد کا کلام ہے اب وہ ملک سبا کے حالات بیان کر رہا ہے۔ میں نے وہاں دیکھا کہ ایک عورت ان پر حکمران ہے، حکومت و سلطنت کی تمام ضروریات اس کے پاس موجود ہیں اور کسی چیز کی کمی نہیں اور اس کا تخت نہایت عالیشان ہے۔ “ و جد تھا و قومہا الخ ” سبا کی سیاسی حالت بیان کرنے کے بعد اب اس کی مذہبی حالت بیان کرتا ہے کہ وہ لوگ مشرک ہیں۔ ملکہ سبا اور اس کی قوم سب سورج دیوتا کی پوجا کرتے ہیں۔ شیطان نے ان کو ورغلا کر اور ان کے مشرکانہ اعمال کو ان کی نظروں میں مستحسن بنا کر انہیں راہ توحید سے روک رکھا ہے۔ اس لیے وہ راہ راست پر نہیں آتے۔ یہ قوم مجوسی تھی اور ستاروں کی پرستش کرتی تھی انھم کانوا مجوسا یعبدون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–31
ربط آیات
گزشتہ درس میں ایک چیونٹی کا حال بیان ہوا ۔ سلیمان (علیہ السلام) چیونٹی کی بات سن کر مسکرائے اور پھر ان انعامات کا شکریہ ادا کیا جو اللہ نے آپ پر اور آپ کے والدین پر کر رکھے تھے۔ آپ نے اللہ سے اس کے پسندیدہ نیک اعمال کرنے کی توفیق بھی طلب کی اور ایک خصوصی دعا یہ کی کہ پروردگار ! مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل رکھ ۔ جانوروں اور پرندوں کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے۔ چناچہ لوگ بہمیۃ الانعام یعنی اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکری سے ، دودھ ، بال اور کھالیں حاصل کرتے ہیں ۔ بعض جانوروں سے باربرداری کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ بعض وحشی جانوروں کو باقاعدہ سیدھا کر کے ان سے بھی خدمت…
Read the full tafseer →وَجَدْتُّہَا وَقَوْمَہَا يَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللہِ وَزَيَّنَ لَہُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَہُمْ فَصَدَّہُمْ عَنِ السَّبِيْلِ فَہُمْ لَا يَہْتَدُوْنَ 2 4ۙ
قوم
والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ،
( ق و م ) قيام
القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11]
سجد
السُّجُودُ أصله : التّطامن «3» والتّذلّل، وجعل ذلک عبارة عن التّذلّل لله وعبادته، وهو عامّ في الإنسان، والحیوانات، والجمادات،
وذلک ضربان :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
و تفقد الطیر کہ پرندوں کی حاضری لی تو ان میں ہدہد کو نہ پایا، فرمایا کہ اس کو سزا دوں گا ورنہ کوئی عذر معقول بیان کرے، تھوڑی دیر کے بعد ہدہد بھی آحاضر ہوا اور اس نے سبا 1 ؎ کی شہزادی بلقیس کا حال بیان کیا کہ اس کے پاس سب سازوسامان سلطنت حاصل ہیں اور ایک بڑا عمدہ تخت بھی ہے کہ جس پر وہ جلوس کرتی ہے۔ مگر با ایں ہمہ آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ لوگ آفتاب پرست تھے یا تو صابی ہوں گے یا کوئی اور مذہب مروج ہوگا جو شیطانی مذہب تھا اور اللہ کو سجدہ نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے، آسمان کی چھپی ہوئی ستارے آفتاب ماہتاب چھپ جاتے ہیں، پھر ان کو اللہ ہی ظاہر کرتا ہے، پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
فَمَکَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَالَمْ تُحِطْ بِہٖ وَجِئْتُکَ مِنْ سَبَاٍ م بِنَبَاٍیَّـقِـیْنٍ ۔ اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَۃً تَمْلِکُھُمْ وَاُوْتِیَتْ مِنْ کُلِّ شَیْ ئٍ وَّلَھَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ۔ وَجَدْتُّھَا وَقَوْمَہَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَزَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَہُمْ فَصَدَّھُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَہُمْ لاَ یَھْتَدُوْنَ ۔ (النمل : 22 تا 24)
(پس کچھ زیادہ دیر نہیں گزری (کہ وہ آگیا) تو اس نے کہا کہ میرے علم میں وہ چیز ہے جو آپ کے علم میں نہیں ہے اور میں ملک سبا سے ایک یقینی خبر لایا ہوں۔ میں نے وہاں ایک عورت دیکھی جو اس قوم پر حکومت کرتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
فہم القرآن
ربط کلام : ہد ہد کی رپورٹ کا مذہبی حصہ۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے ہد ہد نے اپنے چشم دید مشاہدات میں یہ بات بھی عرض کی کہ میں نے ملک سبا کی حکمران اور اس کی قوم کو اس حالت میں دیکھا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور یہ کام شیطان نے ان کے لیے خوبصورت بنا دیا ہے۔
ملکہ سبا :
شیطان نے نہ صرف شرک کو ان کے لیے خوبصورت بنا کے پیش کیا ہے بلکہ اس نے انھیں صراط مستقیم سے روک رکھا ہے جس بنا پر وہ صراط مستقیم سمجھنے اور اس پر گامزن ہونے کے لیے تیار نہیں تھے۔ یہ بات فہم القرآن میں کئی مرتبہ عرض ہوچکی ہے کہ شیطان شرک اور برے اعمال کو اس طرح خوبصورت کرکے پیش کرتا ہے کہ…
Read the full tafseer →ہدایت سے عاری قوم :
24: وَجَدْتُّہَا وَقَوْمَہَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَہُمْ فَصَدَّہُمْ عَنِ السَّبِیْلِ (میں نے اس کو اور اس کی قوم کو سورج کے سامنے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر سجدہ کرتے دیکھا اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے سامنے مزین کر کے ان کو راہ سے روک دیا) ۔ السبیل سے راستہ توحید مراد ہے۔ فَہُمْ لَا یَہْتَدُوْنَ (پس وہ ہدایت نہیں پاتے) راہ حق کی طرف۔ اور ہدہد سے یہ بعید نہیں کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی معرفت کا راستہ پالیا۔ اور سجدہ کا وجوب اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے اور سورج کے لئے سجدہ کی حرمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کی گئی ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
تفسیر۔
23۔ انی وجدت امراۃ تملکھم، ، میں نے ایک ایسی عورت کو دیکھا جو سباوالوں پر حکمرانی کرتی ہیی یعنی ان کی ملکہ ہے۔ ملکہ سباکانام بلقیس بنت شراحیل تھا، وہ بعرب بن قحطان کی نسل سے تھی۔ اس کا باپ بہت بڑا بادشاہ تھا، جس کے 39 آباؤ و اجداد بادشاہ ہوکرگزرے تھے وہ خود چالیسواں تھا، ملک یمن پر حکومت کرتا تھا اور سرحدی ہمسر بادشاہوں میں سے کسی کو اپناہمسر نہیں جانتا تھا۔ اس لیے اس نے ہر بادشاہ کی بیٹی سے نکاح کرنے سے انکار کردیا تھا، آخراس کا نکاح خاندان جنات) میں سے ایک پری سے ہوگیا جس کا نام ریحانہ بنت سکن تھا۔ اس پری ک پیٹ سے بلقیس بنت شراحیل پیدا ہوئی۔ سوائے بلقیس کے شراحیل کے کوئی اور بچہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
15 تا 26 بعضے مفسروں نے یہ جو لکھا ہے کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے یہ قرآن شریف کے مخالف ہے اس لیے کے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قصہ خصوصیت کے طور پر یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جانوروں کو بولی سمجھنے کی نعمت عنایت فرمائی تھی جو نعمت مخلوق الٰہی میں سے کسی کو عنایت نہیں ہوئی اور حضرت سلیمان کا قول اللہ تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں نقل کیا ہے اس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ کی اس نعمت کو اپنی خصوصیت کے طور پر ذکر کیا ہے جب یہ کہا جاوے گا کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے تو پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خصوصیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
آیت 15 سے 44
اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان…
Read the full tafseer →24 شیطان نے ان کیلئے ان کے اعمال کو خوشنما بنادیا ہے : جس کے باعث ان کو اپنی برائیاں بھی اچھائیاں نظر آرہی تھیں۔ اور یہی حال ہر باطل پرست کا ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے کہ وہ اپنے باطل کو ہی حق سمجھتا ہے۔ اس لئے وہ حق کی طلب و تلاش سے محروم اور لاپرواہ ہوجاتا ہے۔ پھر وہ راہ حق پائے تو کس طرح پائے ؟ جیسا کہ آپ آج کل کے اہل بدعت اور دوسرے باطل پرستوں کا حال ہے۔ اور شیطنٰ کی اس تزیین اور دھوکہ دہی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو عام اور کھلی حقیقت ہدہد جیسے پرندے کو بھی فوری طور پر اور اپنی پہلی ہی نظر میں معلوم ہوگئی وہ بگڑے ہوئے انسان کو بڑی بحث کے بعد بھی نہیں معلوم ہوتی۔ بلکہ وہ الٹا اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں
تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–31
آیات نمبر 15:31 اسرار و معارف :
ہم نے داود اور سلیمان (علیہما السلام) کو علوم نبوت سے سرفراز فرمایا یہاں علم سے مراد نبوت کے ساتھ دوسرے علوم بھی شامل ہیں کہ حکومت و سیاست کا علم یا فنون میں سے زرہ سازی کا علم جو داود (علیہ السلام) کو بطور خاص عطا ہوا تھا نیز ان کی خصوصیت حکومت و سلطنت بھی تھی اور وہ حضرات اس پر شکر بھی ادا کرتے تھے کہ انہیں بہت سے نیک بندوں میں خاص فضیلت عطا کی گئی مثلاً ہر نبی کو بھی حکومت و سلطنت تو عطا نہ ہوئی اور سلیمان (علیہ السلام) داود (علیہ السلام) کے وارث مقرر ہوئے جب انہوں نے فرمایا کہ لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر وہ نعمت عطا ہوئی ہے جو اس عظیم…
Read the full tafseer →1 ۔ ” چناچہ وہ آفتاب پرستی کو بڑے ثواب کا کام سمجھتے ہیں۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(27:23) تملکھم : تعلک مضارع واحد مؤنث غائب ملک مصدر (باب ضرب) سے وہ مالک ہوتی ہے وہ بادشاہی کرتی ہے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب وہ ان پر بادشاہی کرتی ہے ۔ حکومت کرتی ہے۔
اوتیت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب اس (عورت) کو دیا گیا۔ ایتاء (افعال) مصدر۔
فصدھم : صد یصد (نصر) سے ماضی واحد مذکر غائب ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اس نے ان کو روک دیا۔ اس نے ان کو روک رکھا ہے۔ صد وصدور مصدر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–37
لغات القرآن : آیت نمبر 20 تا 37 :
تفقد (اس نے جائزہ لیا۔ اس نے ڈھونڈا) ‘ مکت (وہ ٹھہرا۔ اس نے دیر کی) نباء (خبر) ‘ وجدت ( میں نے پایاض تملک ( وہ بادشاہت کرتی ہے) اوتیت (دیا گیا) الخبئ (پوشیدہ) القہ ( اس کو ڈال دے) افتونی ( مجھے بتائو۔ مجھے مشورہ دو ) ‘ قاطعۃ (کاٹنے والی) ‘ تشھدون ( تم موجود ہو) اولوقوۃ (قوت و طاقت والا) ‘ اولوباس ( لڑنے والے) ‘ تامرین (تو کیا حکم دیتی ہے) ‘ مرسلۃ ( بھیجنے والی) ‘ نظرۃ (دیکھنے والی) ‘ اتمدون (کیا تم مدد کرتے ہو) تفرحون ( وہ اتراتے ہیں۔ خوش ہوتے ہیں) ‘ صغرون (ذلیل و خوارہونے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 20 تا 37 :
حضرت سلیمان (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ایک عظیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر اور ہدہد کا خبرلانا۔
(ف 1) فرمایا ایک بار حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر ملک شام کے میدان پر سے گزرا کہ جہان چیونٹیوں کے بل تھے اور وہ زمین پر چل رہی تھیں جو چیونٹیوں کا سردار تھا جب اس نے دیکھا کہ حضرت سلیمان کا لشکر آرہا ہے تو اس نے کہا، اے چیونٹیوں سب اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ تاکہ تم پاؤں کی روند میں آجاؤ، یہ بات حضرت سلیمان کو معلوم ہوئی کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت سے علوم دیے تھے پھر حضرت سلیمان اس بات سے مسکرا کر ہنسنے لگے، ایک تو اس لیے کہ چیونٹی سلیمان (علیہ السلام) کو بیخبر ی کا الزام لگاتی ہے اس کو یہ معلوم نہیں کہ حضرت سلیمان کو کیا کیا علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–37
[8] یہاں سے لے کر آیت 26 کے آخر تک ہدہد کے قول پر اللہ تعالیٰ کا اپنا اضافہ ہے جیسا کہ انداز کلام سے صاف ظاہر ہے۔ یہ اسی قسم کی تضمین ہے جس کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
حل لغات :۔ سبا ۔ نام شہر بلقیس ۔ حرم حضرت سلیمان (علیہ السلام) شہر مذکور ملک یمن میں واقع ہے
Read the full tafseer →(24) اور میں نے اس عورت کو اور اس کی قوم کو پایا کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے لئے ان کے اعمال کو خوش نما خوش منظر اور مزین کردیا ہے اور ان کو صحیح راہ سے روک دیا ہے لہٰذا وہ راہ حق نہیں پاتے یعنی وہ لوگ آفتاب پرست ہیں شیطان نے ان کو تباہ کر رکھا ہے اور ان کی مشرکانہ رسوم کو ان کی نظروں میں آراستہ کردیا ہے لہٰذا وہ سیدھی راہ کا تجسس بھی نہیں کرتے اور جب ان کو راہ حق کی تلاش ہی نہیں تو راہ حق کو پائیں کیسے شاید ان کے خلاف جہاد کی ترغیب کو یہ الفاظ ہُد ہُد نے کہے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
ف 4۔ مطلب اس قول ہدہد کا یہ ہے کہ میری غیر حاضری عصیانا نہ تھی، بلکہ من وجہ امتثالا تھی کہ آپ ہی کی خدمت میں لگا تھا۔ اور سبا ایک شخص کا نام تھا، پھر اس کی اولاد کو کہنے لگے، یہ لوگ یمن میں آباد تھے پھر ان کے شہر کو بھی سبا کہنے لگے جو صنعاء سے تین دن کے فاصلہ پر ہے، بلقیس اسی خاندان میں سے ہے، اور یعرب بن قحطان کی اولاد میں ہونے کی وجہ سے زبان ان کی عربی تھی۔
Read the full tafseer →اس ملک کے باشندے مع ملک کے سورج کی پرستش کرتے ہیں :
24۔ ہدہد نے اپنی بات جاری رکھی اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے بیان کرتے ہوئے کہا کہ جناب عالی ! میں نے اس ملکہ کو اور اس کی قوم کو دیکھا کہ وہ سورج کی پرستش کرتے ہیں گویا ان کا معبود اعظم سورج دیوتا ہے جو دنیا کی بہت سی اور قوموں کا بھی معبوداعظم رہ چکا ہے اور اس طرح کی عبادت شیطان نے انکی نظر میں خوش نما کر دکھائی ہے اور ان لوگوں کو اس نے راہ راست سے بالکل ہٹا دیا ہے اور ظاہر ہے کہ عقائد کا معاملہ ہی ایک ایسا معاملہ ہے کہ بگڑے ہوئے عقائد اتنی آسانی سے درست نہیں ہوتے اور قومیں جان دے دیتی ہیں لیکن اپنے نظریات سے باز نہیں آتیں کیونہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
وَجَدتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ
I have found her and her people prostrating to the sun - 27:24
This shows that her people were star-worshippers and used to worship the sun. Some believe that they were Zoroastrians, who worship fire and all forms of light.
أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ (that is, they do not prostrate to Allah who bring forth what is hidden - 25).This sentence is linked with the previous one, "The Shaitan has beautified their deeds - 26" and the sense is that the Shaitan had engrained in their minds that they should not bow down before…
Read the full tafseer →30 This shows that the people of Saba' at that lime followed the religion of sun-worship, which is also supported by the ancient traditions of Arabia. Ibn ishaq has cited the genealogists' saying to the effect that Saba' have in fact descended from an ancestor whose name was `Abd Shams (slave of the sun, or sun-worshipper) and title Saba'. This is supported by the Israelite traditions as well. According to these when the hud=hud arrived with the Prophet Solomon's letter, the queen of Sheba was going for the worship of the sun-god, and it threw the letter on the way before the queen.
31 The…
Read the full tafseer →