Explained with ayahs 22–26
ہدہد کی غیر حاضری
ہدہد کی غیر حاضری کی تھوڑی سی دیر گزری تھی جو وہ آگیا۔ اس نے کہا کہ اے نبی اللہ جس بات کی آپ کو خبر بھی نہیں میں اس کی ایک نئی خبر لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ میں سبا سے آرہا ہوں اور پختہ یقینی خبر لایا ہوں۔ ان کے سباحمیر تھے اور یہ یمن کے بادشاہ تھے۔ ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے اس کا نام بلقیس بنت شرجیل تھا یہ سب کی ملکہ تھی۔ قتادہ کہتے ہیں۔ اس کی ماں جنیہ عورت تھی اس کے قدم کا پچھلا حصہ چوپائے کے کھر جیسا تھا اور روایت میں ہے اس کی ماں کا نام رفاعہ تھا ابن جریج کہتے ہیں ان کے باپ کا نام ذی سرخ تھا اور ماں کا نام بلتعہ تھا لاکھوں کا اس کا لشکر تھا۔ اس کی بادشاہی ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
سورة النمل 29
سبا جنوبی عرب کی مشہور تجارت پیشہ قوم تھی جس کا دار الحکومت مارب موجودہ یمن کے دار السلطنت صنعاء سے 55 میل بجانب شمال مشرق واقع تھا۔ اس کا زمانہ عروج معین کی سلطنت کے زوال کے بعد تقریبا 1100 ق م سے شروع ہوا اور ایک ہزار سال تک یہ عرب میں اپنی عظمت کے ڈنکے بجاتی رہی، پھر 115 ق م میں جنوبی عرب کی دوسری مشہور قوم حمیر نے اس کی جگہ لے لی، عرب میں یمن اور حضر موت، اور افریقہ میں حبش کے عالقے پر اس کا قبضہ تھا، مشرقی افریقہ، ہندوستان، مشرق بعید اور خود عرب کی جتنی تجارت مصر و شام اور یونان و روم کے ساتھ ہوتی تھی وہ زیادہ تر انہی سبائیوں کے ہاتھ میں تھی۔ اسی وجہ سے یہ قوم قدیم زمانہ…
Read the full tafseer →اِنِّىْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ یعنی میں نے ایک عورت کو پایا جو قوم سبا کی مالک ہے یعنی ان پر حکومت کرتی ہے۔ اس عورت یعنی ملک سبا کا نام تاریخ میں بلقیس بنت شراحیل بتلایا گیا ہے اور بعض روایات میں ہے کہ اس کی والدہ جنات میں سے تھی جس کا نام بلعمہ بنت شیصان بتلایا جاتا ہے (رواہ وہیب بن جریر عن الخلیل ابن احمد قرطبی) اور ان کا دادا ہداہد پورے ملک یمن کا ایک عظیم الشان بادشاہ تھا جس کی اولاد میں چالیس لڑکے ہوئے سب کے سب ملوک اور بادشاہ بنے۔ ان کے والد سراح نے ایک جنیہ عورت سے نکاح کرلیا تھا اسی کے بطن سے بلقیس پیدا ہوئی۔ جنیہ سے نکاح کرنے کی مختلف وجوہ بیان کی گئی ہیں۔ ایک یہ ہے کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
آیت (24-22)
ہد ہد کے مک سبا کے بارے میں
فمکت غیر بعید مکت کا فاعل میرے نزدیک، حضرت سلیمان ہیں۔ یعنی ہد ہد پر جو عتاب انہوں نے فرمایا اس کے بعد زیادہ دیر نہیں گزری کہ ہد ہد آگیا اور اس نے اپنی کارگزاری کی یہ رپورٹ پیش کی کہ میں ملک سامنے ایک ایسی سچی اطلاع لے کر آیا ہوں جو حضور کے علم میں نہیں ہے۔ سبا عرب کا وہی مغربی جنوبی علاقہ ہے جہاں یمن، حضرموت اور عیسر واقع ہیں۔ ہد ہد کے قول کا یہ مطلب نہیں تھا کہ حضرت سلیمان اس ملک اور اس کے حلا ات سے بالکل ہی بیخبر ہیں۔ اتنے قریب کے ملک سے حضرت سلیمان بالکل بیخبر کیسے ہو سکتے تھے جب کہ تورات اور قرآن دونوں سے یہ بات ثابت ہے کہ ملکہ سبا حضرت سلیمان کے…
Read the full tafseer →23-1یعنی ہدہد کے لئے بھی یہ امر باعث تعجب تھا کہ سبا میں ایک عورت حکمران ہے۔ لیکن آجکل کہا جاتا ہے کہ عورتیں بھی ہر معاملے میں مردوں کے برابر ہیں۔ اگر مرد حکمران ہوسکتا ہے تو عورت کیوں نہیں ہوسکتی، حالانکہ یہ نظریہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ عورت کی سربراہی کے عدم جواز پر قرآن و حدیث میں واضح دلائل موجود ہیں۔
23-2کہا جاتا ہے کہ اس کا طول80ہاتھ اور عرض40ہاتھ اور انچائی30ہاتھ تھی اور اس میں موتی، سرخ یا قوت اور سبز زمرد جڑے ہوئے تھے، واللہ اعلم۔ (فتح القدیر) ویسے یہ قول مبالغے سے خالی نہیں معلوم ہوتا۔ یمن میں بلقیس کا جو محل ٹوٹی پھوٹی شکل میں موجود ہے اس میں اتنے بڑے تخت کی گنجائش نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
یہ سجدے کی آیت ہے جو کوئی شخص عربی میں یہ آیت پڑھے یا سنے اس پر سجدہ تلاوت واجب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
فمکث ……العظیم (63)
یہ ہد ہد بادشاہ کی دانشمندی اور بہترین تنظیمی صلاحیتوں سے باخبر تھا۔ اس لئے ہد ہد نے پہلے ہی فقرے میں چونکا دینے والی خبر سے اپنی بات کا آغاز کیا تاکہ اس خبر کے بعد اس سے جواب طلبی کا موقع ہنہ رہے اور بادشاہ اس کی بات کو غور سے سنیں۔
احطت بمالم تحط بہ وجئتک من سبابنیا یقین (82 : 22) ” میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے علم میں نہیں ہیں۔ میں سبا کے بارے میں یقینی معلومات لے کر آیا ہوں۔ “ کون بادشاہ ایسا ہوگا اپنے کسی ملازم سے وہ باتیں نہ سنے جن کے بارے میں اسے علم نہیں۔
جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے سننا شروع کیا تو اس نے تفصیلات بتانا شروع کردیں۔ مملکت سبا جنوب یمن…
Read the full tafseer →10 ہر ایک چیز میں، مال، اسباب، فوج، اسلحہ، اور حسن و جمال سب آگیا۔
11 یعنی اس ملکہ کے بیٹھنے کا تخت ایسا مکلف و مرصع اور بیش قیمت تھا کہ اس وقت کسی بادشاہ کے پاس نہ تھا، مفسرین ملکہ کا نام " بلقیس " لکھتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 22 اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَۃً تَمْلِکُہُمْ وَاُوْتِیَتْ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ ”
دنیا بھر کی نعمتیں اسے حاصل ہیں اور ہر طرح کا ساز و سامان اس کے پاس جمع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
24 حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت فلسطین، شرق اردو اور شام کے کچھ علاقہ میں تھی۔ افریقہ میں بھی حبشہ اور مصر کا کچھ حصہ آپ کے زیر نگین آگیا تھا۔ لیکن جنوبی یمن کا علاقہ آپ کی سلطنت سے بہت دور تھا۔ ہدہد حضرت سلیمان کے لشکر سے غائب ہو کر یمن کے علاقہ سبا میں پہنچا تھا۔ یہاں کے لوگ تجارت پیشہ اور آسودہ حال تھے۔ کچھ دیر بعد ہدہد حضرت سلیمان کے پاس حاضر ہوگیا اور کہنے لگا کہ میں اہل سبا کے کچھ ایسے یقینی حالات معلوم کرکے آرہا ہوں جن کی تاحال آپ کو کچھ خبر نہیں ہے۔ اور وہ یقینی خبر یہ کہ سبا کا ملک ایک زرخیز و شاداب علاقہ ہے ان لوگوں کو وہاں سب ضروریات زندگی وافر مقدار میں میسر ہیں۔ ان لوگوں پر…
Read the full tafseer →29۔ ملک سبا، عرب کے مغربی جنوبی علاقہ کو کہتے ہیں، تقریبا وہی ملک جہاں آج یمن، حضر موت، عسیر واقع ہیں۔ اپنے زمانہ میں بڑا زرخیر ومتمول ملک رہ چکا ہے۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
آیت نمبر 22 تا 31
ترجمہ : فَمَکُثَ کاف کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ، چناچہ تھوڑی دیر گزری تھی کہ (اس نے آکر) کہا یعنی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ بازو اور دم لٹکائے ہوئے اور سر اٹھائے ہوئے عاجزانہ طریقہ پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا، چناچہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو معاف کردیا اور زمانہ غیبونت میں پیش آنے والے واقعہ کے بارے میں معلوم کیا تو اس نے کہا میں ایسی خبر لایا ہوں کہ آپ کو اس کی خبر نہیں یعنی میں ایسی خبر پر مطلع ہوا ہوں کہ آپ کو اس کی اطلاع نہیں اور میں (قوم) سبا کی سچی خبر آپ کے پاس لایا ہوں سَبَأ منصرف اور غیر منصرف دونوں ہے، سبا یمن میں ایک قبیلہ کا نام ہے جو…
Read the full tafseer →انی وجدت امراۃ تملکھم . میں نے ایک ایسی عورت پائی جو سبا والوں پر حکمرانی کرتی ہے (یعنی انکی ملکہ ہے)
ملکہ سبا کا نام بلقیس بن شراحیل تھا ‘ وہ یعرب بن قحطان کی نسل سے تھی۔ اس کا باپ بہت بڑا بادشاہ تھا جس کے 39 آباؤ اجداد بادشاہ ہو کر گزر تھے ‘ وہ خود چالیسواں تھا۔ ملک یمن پر حکومت کرتا تھا اور سرحدی ہمسرانہ بادشاہوں میں سے کسی کو اپنا ہمسر نہیں جانتا تھا اسی لئے اس نے ہر بادشاہ کی بیٹی سے نکاح کرنے سے انکار کردیا تھا۔ آخر اس کا نکاح (خاندان جنات میں) ایک پری سے ہوگیا جس کا نام ریحا نہ بنت سکن تھا۔ اس پری کے پیٹ سے بلقیس بنت شراحیل پیدا ہوئی۔ سوائے بلقیس کے شراحیل کا کوئی اور بچہ نہیں ہوا۔…
Read the full tafseer →(23) وہ یہ کہ میں نے بلقیس نامی ایک عورت کو دیکھا ہے جو ان لوگوں پر بادشاہت کررہی ہے اور اس کو اپنے شہر میں ہر قسم کا سامان میسر ہے اور اس کے پاس ایک بڑا قیمتی خوب صورت تخت ہے جس پر جواہرات اور موتی جڑے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →اِنِّىْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ : ہُد ہُد کے لیے یہ بات بڑے تعجب کی تھی کہ کسی قوم کی بادشاہ ایک عورت ہو۔ ابوبکرہ ؓ فرماتے ہیں : ”جب نبی ﷺ کو خبر پہنچی کہ اہل فارس نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا بادشاہ بنا لیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : (لَنْ یُّفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَھُمُ امْرَأَۃً) [ بخاري، المغازي، باب کتاب النبي ﷺ إلٰی کسرٰی و قیصر : 4425، 7099 ] ”وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جنھوں نے اپنے معاملے کا والی ایک عورت کو بنادیا۔“
وَاُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ : یعنی اسے سلطنت کے لیے درکار ہر چیز دی گئی ہے۔ ”كُلِّ“ کا مفہوم ہر مقام کی مناسبت سے متعین ہوتا ہے، ورنہ اسے ہر چیز تو نہیں دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
(وتفقد الطیر فقال ما لی۔۔۔۔۔ )
اس میں اٹھارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 :۔ وتفقد الطیر جس سفر میں چیونٹی کا ذکر ہوا اس میں اور چیز کا ذکر کیا جس طرح پہلے گزرا ہے۔ تفقد کا مطلب ہے جو چیز تجھ سے غائب ہوا اس کو تلاش کرنا۔ طیرا سم جمع ہے واحد طیر ہے۔ یہاں طیر سے مراد جنس طیر اور جماعت ہے۔ وہ سفر میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس رہتے اور اپنے پروں سے آپ کو سایہ کرتے لوگوں نے پرندوں کی تلاش کی وجہ میں اختلاف کیا ہے۔ ایک جماعت نے کہا : یہ اس اعتبار سے تھا کہ امور مملکت کی بجا آو ری اس کا تقاضا کرتی تھی یہ آیت کا ظاہر معنی ہے۔ ایک جماعت نے کہا : آپ نے پرندوں کو تلاش کیا کیونکہ جب ہد ہد غائب ہوا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–31
بلقیس کی حکومت کی خبر
1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ سلیمان (علیہ السلام) کا ہدہد پرندوں کے درمیان سے گم کیسے ہوگیا فرمایا کہ سلیمان ایک منزل پر اترے اور انہوں نے نہیں جانا کہ پانی کہاں ہے اور ہدہد سلیمان کو پانی کے باے میں بتاتا تھا انہوں نے اس سے پوچھنے کا ارادہ فرمایا تو اس کو گم پایا ابن عباس ؓ سے کہا گیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ ہد ہد کے لیے جال لگایا جاتا ہے اور اسمیں مٹی ڈال دی جاتی ہے تو وہ اس میں پھنس جاتا ہے بچہ ہد ہد کے لیے پھندہ لگاتا ہے اور وہ بچہ اس سے غائب ہوجاتا ہے اور اس کا شکار کرلیتا ہے تو انہوں نے…
Read the full tafseer →اِنِّىْ [ بیشک میں نے ] وَجَدْتُّ [ پایا ] امْرَاَةً [ ایک ایسی عورت کو جو ] تَمْلِكُهُمْ [ اختیار رکھتی ہے ان لوگوں پر ] وَاُوْتِيَتْ [ اور اس کو دیا گیا ] مِنْ كُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز میں سے ] وَّ لَهَا [ اور اس کے لئے ] عَرْشٌ عَظِيْمٌ [ ایک بڑا تخت ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–37
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا پرندوں کی حاضری لینا، ہدہد کا غائب ہونا اور ملک سبا سے ایک ملکہ کی خبر لانا اور اس کے نام حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط لیجانا اور ملکہ کا ہدیہ بھیجنا
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت انسان جنات چرند پرند سب پر تھی وہ ان سب کے بادشاہ تھے، اور یہ چیزیں ان کے لشکر کا جزو تھیں ایک بار جانوروں کی حاضری لی تو جانور جمع ہوگئے لیکن ان میں ہدہد حاضر نہیں ہوا (ممکن ہے انہوں نے ہر جنس کے بڑے ہی کو بلایا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تمام جانوروں کو جمع ہونے کا حکم دیا ہو سب جانور جمع ہوگئے ہدہد بھی سب آگئے لیکن ان کا سردار حاضر نہ ہوا ہو) جب مطلوبہ ہدہد کو انہوں نے حاضر نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–44
قصہء سوم ملکہء سبا بروایت ھد ھد
قال اللہ تعالیٰ وتفقد الطیر فقال مالی لا اری الھد ھد۔۔۔ الی۔۔۔ واسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین۔
(ربط) اب ان آیات میں ملکہ سبا کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو بظاہر اس سورت کا تیسرا قصہ ہے مگر درحقیقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دوسرا قصہ ہے سلیمان (علیہ السلام) کے پاس تین قسم کے لشکر تھے ایک آدمیوں کا اور ایک جنوں کا اور ایک پرندوں کا۔ جو روانگی کے وقت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر سایہ کرتے تھے۔ ایک دن سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کے ایک لشکر کی جانچ پڑتا کی تو اس نے ہد ہد کو نہ پایا جو ہد ہدوں کا سردار تھا۔ فرمایا جب وہ آئے گا تو اس سے پوچھوں گا کہ کیوں غیر حاضر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
23:۔ یہ ہدہد کا کلام ہے اب وہ ملک سبا کے حالات بیان کر رہا ہے۔ میں نے وہاں دیکھا کہ ایک عورت ان پر حکمران ہے، حکومت و سلطنت کی تمام ضروریات اس کے پاس موجود ہیں اور کسی چیز کی کمی نہیں اور اس کا تخت نہایت عالیشان ہے۔ “ و جد تھا و قومہا الخ ” سبا کی سیاسی حالت بیان کرنے کے بعد اب اس کی مذہبی حالت بیان کرتا ہے کہ وہ لوگ مشرک ہیں۔ ملکہ سبا اور اس کی قوم سب سورج دیوتا کی پوجا کرتے ہیں۔ شیطان نے ان کو ورغلا کر اور ان کے مشرکانہ اعمال کو ان کی نظروں میں مستحسن بنا کر انہیں راہ توحید سے روک رکھا ہے۔ اس لیے وہ راہ راست پر نہیں آتے۔ یہ قوم مجوسی تھی اور ستاروں کی پرستش کرتی تھی انھم کانوا مجوسا یعبدون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–31
ربط آیات
گزشتہ درس میں ایک چیونٹی کا حال بیان ہوا ۔ سلیمان (علیہ السلام) چیونٹی کی بات سن کر مسکرائے اور پھر ان انعامات کا شکریہ ادا کیا جو اللہ نے آپ پر اور آپ کے والدین پر کر رکھے تھے۔ آپ نے اللہ سے اس کے پسندیدہ نیک اعمال کرنے کی توفیق بھی طلب کی اور ایک خصوصی دعا یہ کی کہ پروردگار ! مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل رکھ ۔ جانوروں اور پرندوں کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے۔ چناچہ لوگ بہمیۃ الانعام یعنی اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکری سے ، دودھ ، بال اور کھالیں حاصل کرتے ہیں ۔ بعض جانوروں سے باربرداری کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ بعض وحشی جانوروں کو باقاعدہ سیدھا کر کے ان سے بھی خدمت…
Read the full tafseer →اِنِّىْ وَجَدْتُّ امْرَاَۃً تَمْلِكُہُمْ وَاُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ وَّلَہَا عَرْشٌ عَظِيْمٌ 23
وجد
الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه .
ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود فبمعنی العلم المجرّد، إذ کان اللہ منزّها عن الوصف بالجوارح والآلات . نحو : وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] .
( و ج د ) الو جود
( ض) کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
و تفقد الطیر کہ پرندوں کی حاضری لی تو ان میں ہدہد کو نہ پایا، فرمایا کہ اس کو سزا دوں گا ورنہ کوئی عذر معقول بیان کرے، تھوڑی دیر کے بعد ہدہد بھی آحاضر ہوا اور اس نے سبا 1 ؎ کی شہزادی بلقیس کا حال بیان کیا کہ اس کے پاس سب سازوسامان سلطنت حاصل ہیں اور ایک بڑا عمدہ تخت بھی ہے کہ جس پر وہ جلوس کرتی ہے۔ مگر با ایں ہمہ آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ لوگ آفتاب پرست تھے یا تو صابی ہوں گے یا کوئی اور مذہب مروج ہوگا جو شیطانی مذہب تھا اور اللہ کو سجدہ نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے، آسمان کی چھپی ہوئی ستارے آفتاب ماہتاب چھپ جاتے ہیں، پھر ان کو اللہ ہی ظاہر کرتا ہے، پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
فَمَکَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَالَمْ تُحِطْ بِہٖ وَجِئْتُکَ مِنْ سَبَاٍ م بِنَبَاٍیَّـقِـیْنٍ ۔ اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَۃً تَمْلِکُھُمْ وَاُوْتِیَتْ مِنْ کُلِّ شَیْ ئٍ وَّلَھَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ۔ وَجَدْتُّھَا وَقَوْمَہَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَزَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَہُمْ فَصَدَّھُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَہُمْ لاَ یَھْتَدُوْنَ ۔ (النمل : 22 تا 24)
(پس کچھ زیادہ دیر نہیں گزری (کہ وہ آگیا) تو اس نے کہا کہ میرے علم میں وہ چیز ہے جو آپ کے علم میں نہیں ہے اور میں ملک سبا سے ایک یقینی خبر لایا ہوں۔ میں نے وہاں ایک عورت دیکھی جو اس قوم پر حکومت کرتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) پرندوں کے لشکر کے جائزہ سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ ان کی خدمت میں ہد ہد پیش ہوا۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہد ہد کی غیر حاضری کے بارے میں ابھی طیش کے عالم میں تھے کہ ہد ہد ان کے حضو رپیش ہو کر اپنی غیر حاضری کی ان الفاظ میں وجہ عرض کرتا ہے۔ پیش ہوتے ہی معذرت خواہانہ انداز میں عرض کرتا ہے۔ جناب میں ملک سبا سے ایک ایسی مستند خبر آپ کے حضو رپیش کرتا ہوں جو آپ کے علم میں نہیں ہے۔ میں نے وہاں ایک عورت کو حکمران پایا۔ جس کے پاس نہ صرف ہر قسم کے وسائل موجود ہیں بلکہ وہ ایک عظیم تخت پر جلوہ افروز ہوتی ہے۔ ہد ہد نے مختصر مگر جامع رپورٹ پیش کرتے ہوئے ملک سبا…
Read the full tafseer →23: اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَۃً (میں نے پائی ایک ایسی عورت جو سبا پر حکمرانی کرتی ہے) ۔
بلقیس کا سلسلہ نسب :
وہ بلقیس بنت سراحیل ہے۔ اسکا والدیمن کا بادشاہ تھا۔ اسکے چالیس آباء بادشاہ ہوئے۔ اسکا اپنا کوئی بیٹا نہ تھا۔ فقط یہی بیٹی تھی۔ یہ بادشاہت پر قابض ہوگئی۔ یہ اور اس کی قوم مجوسی ٗ سورج کے پچاری تھے۔ تَمْلِکُہُمْ (ان کی حکمران ہے) ۔ سبأ کی طرف تملکہم کی ضمیر بتاویل قوم ہے یا اہل المدینہ کی تاویل میں ہے۔ وَاُْوْتِیَتْ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ (اور اس کو سب کچھ دیا گیا ہے) ۔ : اوتیت حال ہے۔ اور قد مقدرہ ہے۔ من کل شئی سے وہ اسباب ِدنیا مراد ہیں جو اسکے حال کے ساتھ مناسبت رکھتے تھے۔
وَلَہَا عَرْشٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
تفسیر۔
23۔ انی وجدت امراۃ تملکھم، ، میں نے ایک ایسی عورت کو دیکھا جو سباوالوں پر حکمرانی کرتی ہیی یعنی ان کی ملکہ ہے۔ ملکہ سباکانام بلقیس بنت شراحیل تھا، وہ بعرب بن قحطان کی نسل سے تھی۔ اس کا باپ بہت بڑا بادشاہ تھا، جس کے 39 آباؤ و اجداد بادشاہ ہوکرگزرے تھے وہ خود چالیسواں تھا، ملک یمن پر حکومت کرتا تھا اور سرحدی ہمسر بادشاہوں میں سے کسی کو اپناہمسر نہیں جانتا تھا۔ اس لیے اس نے ہر بادشاہ کی بیٹی سے نکاح کرنے سے انکار کردیا تھا، آخراس کا نکاح خاندان جنات) میں سے ایک پری سے ہوگیا جس کا نام ریحانہ بنت سکن تھا۔ اس پری ک پیٹ سے بلقیس بنت شراحیل پیدا ہوئی۔ سوائے بلقیس کے شراحیل کے کوئی اور بچہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
15 تا 26 بعضے مفسروں نے یہ جو لکھا ہے کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے یہ قرآن شریف کے مخالف ہے اس لیے کے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قصہ خصوصیت کے طور پر یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جانوروں کو بولی سمجھنے کی نعمت عنایت فرمائی تھی جو نعمت مخلوق الٰہی میں سے کسی کو عنایت نہیں ہوئی اور حضرت سلیمان کا قول اللہ تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں نقل کیا ہے اس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ کی اس نعمت کو اپنی خصوصیت کے طور پر ذکر کیا ہے جب یہ کہا جاوے گا کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے تو پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خصوصیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
آیت 15 سے 44
اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان…
Read the full tafseer →23{ اُوْتِیَتْ مِنْ کلِّ شیئٍ } کا مطلب ؟ : یعنی اس عورت کو ہر وہ چیز دی گئی جس کی اس کو ضرورت تھی۔ ورنہ ملک یمن کی حکومت کے سوا اس عورت کے پاس نہ تو کوئی اور حکومت تھی اور نہ ہی رجولیت۔ نبوت اور اسلام جیسی عظیم الشان نعمتوں میں سے کوئی نعمت اسے حاصل تھی۔ اسی لئے حضرات اہل علم کہتے ہیں ۔ " عُمُوْمُ کُلِّ شَیْئٍ حَسَبَ طَبِیْعَتِہٖ " ۔ یعنی " ہر چیز کا عموم وہی معتبر ہوتا ہے جو اس کی طبیعت اور شان کے مناسب ہو "۔ جیسا کہ اس کی کچھ مزید تفصیل ابھی اوپر حاشیہ نمبر 18 میں بھی گزری ہے۔ پس اہل بدعت جو لفظِ " کل " جیسے الفاظ کے عموم سے اپنے مختلف شرکیہ عقائد کیلئے استدلال کرتے ہیں وہ سب باطل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں
تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–31
آیات نمبر 15:31 اسرار و معارف :
ہم نے داود اور سلیمان (علیہما السلام) کو علوم نبوت سے سرفراز فرمایا یہاں علم سے مراد نبوت کے ساتھ دوسرے علوم بھی شامل ہیں کہ حکومت و سیاست کا علم یا فنون میں سے زرہ سازی کا علم جو داود (علیہ السلام) کو بطور خاص عطا ہوا تھا نیز ان کی خصوصیت حکومت و سلطنت بھی تھی اور وہ حضرات اس پر شکر بھی ادا کرتے تھے کہ انہیں بہت سے نیک بندوں میں خاص فضیلت عطا کی گئی مثلاً ہر نبی کو بھی حکومت و سلطنت تو عطا نہ ہوئی اور سلیمان (علیہ السلام) داود (علیہ السلام) کے وارث مقرر ہوئے جب انہوں نے فرمایا کہ لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر وہ نعمت عطا ہوئی ہے جو اس عظیم…
Read the full tafseer →8 ۔ عموماً مفسرین نے اس کا نام بلقیس نقل کیا ہے جو شراحیل شاہ یمن کی بیٹی تھی اور تین سو بارہ سردار اس کی مجلس شوریٰ کے ممبر تھے۔ ان میں سے ہر آدمی دس ہزار آدمیوں پر متعین تھا۔ بلقیس کے متعلق عجیب و غریب حکایات مشہور ہیں جن کا تعلق اسرائیلیات سے ہے۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(27:23) تملکھم : تعلک مضارع واحد مؤنث غائب ملک مصدر (باب ضرب) سے وہ مالک ہوتی ہے وہ بادشاہی کرتی ہے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب وہ ان پر بادشاہی کرتی ہے ۔ حکومت کرتی ہے۔
اوتیت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب اس (عورت) کو دیا گیا۔ ایتاء (افعال) مصدر۔
فصدھم : صد یصد (نصر) سے ماضی واحد مذکر غائب ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اس نے ان کو روک دیا۔ اس نے ان کو روک رکھا ہے۔ صد وصدور مصدر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–37
لغات القرآن : آیت نمبر 20 تا 37 :
تفقد (اس نے جائزہ لیا۔ اس نے ڈھونڈا) ‘ مکت (وہ ٹھہرا۔ اس نے دیر کی) نباء (خبر) ‘ وجدت ( میں نے پایاض تملک ( وہ بادشاہت کرتی ہے) اوتیت (دیا گیا) الخبئ (پوشیدہ) القہ ( اس کو ڈال دے) افتونی ( مجھے بتائو۔ مجھے مشورہ دو ) ‘ قاطعۃ (کاٹنے والی) ‘ تشھدون ( تم موجود ہو) اولوقوۃ (قوت و طاقت والا) ‘ اولوباس ( لڑنے والے) ‘ تامرین (تو کیا حکم دیتی ہے) ‘ مرسلۃ ( بھیجنے والی) ‘ نظرۃ (دیکھنے والی) ‘ اتمدون (کیا تم مدد کرتے ہو) تفرحون ( وہ اتراتے ہیں۔ خوش ہوتے ہیں) ‘ صغرون (ذلیل و خوارہونے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 20 تا 37 :
حضرت سلیمان (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ایک عظیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر اور ہدہد کا خبرلانا۔
(ف 1) فرمایا ایک بار حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر ملک شام کے میدان پر سے گزرا کہ جہان چیونٹیوں کے بل تھے اور وہ زمین پر چل رہی تھیں جو چیونٹیوں کا سردار تھا جب اس نے دیکھا کہ حضرت سلیمان کا لشکر آرہا ہے تو اس نے کہا، اے چیونٹیوں سب اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ تاکہ تم پاؤں کی روند میں آجاؤ، یہ بات حضرت سلیمان کو معلوم ہوئی کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت سے علوم دیے تھے پھر حضرت سلیمان اس بات سے مسکرا کر ہنسنے لگے، ایک تو اس لیے کہ چیونٹی سلیمان (علیہ السلام) کو بیخبر ی کا الزام لگاتی ہے اس کو یہ معلوم نہیں کہ حضرت سلیمان کو کیا کیا علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
[7] سلیمان (علیہ السلام) کو اس قوم کا مفصل حال معلوم نہ تھا اب معلوم ہوا۔ ہدہد کے بیان کا یہ مطلب نہیں کہ سلیمان (علیہ السلام) سبا سے ناواقف تھے۔ قوم سبا عرب کے جنوبی حصے میں آباد تھی جس کو آج کل یمن کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
حل لغات :۔ سبا ۔ نام شہر بلقیس ۔ حرم حضرت سلیمان (علیہ السلام) شہر مذکور ملک یمن میں واقع ہے
Read the full tafseer →(23) میں نے وہاں ایک عورت کو پایا کہ وہ وہاں کے لوگوں پر راج کر رہی ہے اور اس کو ہر قسم کا ضروری سامان دیا گیا ہے اور اس کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے یعنی لوازمات سلطنت میں سے ہر قسم کا سامان اس کو میسر ہے اور ایک مضبوط حکومت کی مالک ہے اور اس کا تخت بھی بہت بڑا ہے یعنی گھیر گھار کا بھی بڑا ہے یا قیمت کا بیش بہا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سب چیزیں مال و اسباب اور حسن و جمال بھی آگیا اور اس کے بیٹھنے کا تخت ایسا تکلف کا تھا کہ اس وقت کسی بادشاہ کے پاس نہ تھا 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
ف 4۔ مطلب اس قول ہدہد کا یہ ہے کہ میری غیر حاضری عصیانا نہ تھی، بلکہ من وجہ امتثالا تھی کہ آپ ہی کی خدمت میں لگا تھا۔ اور سبا ایک شخص کا نام تھا، پھر اس کی اولاد کو کہنے لگے، یہ لوگ یمن میں آباد تھے پھر ان کے شہر کو بھی سبا کہنے لگے جو صنعاء سے تین دن کے فاصلہ پر ہے، بلقیس اسی خاندان میں سے ہے، اور یعرب بن قحطان کی اولاد میں ہونے کی وجہ سے زبان ان کی عربی تھی۔
Read the full tafseer →ہدہد نے بتایا کہ میں نے ملک سبا میں ایک ملکہ دیکھی جس کو اپنے عرش پر بہت ناز ہے :
23۔ ہدہد نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے عرض کیا کہ جناب عالی ! میں نے ملک سبا میں ایک عورت کو دیکھا جو ان پر حکومت کر رہی ہے اور اس کے ملک کے اندر ماشاء اللہ ہرچیز کی فراوانی ہے اور رعایا نہایت ہی امن و سکون کے ساتھ رہ رہی ہے اور ملک سبا نے اپنی نشست کے لئے ایک خاص طرح کا تخت بنوا رکھا ہے تخت بھی بلاشبہ ایک نادر چیز ہے اور ملکہ کو بھی اس پر بہت ناز ہے اور اس کا یہ تخت ملک کی خوشحالی کی علامت بھی گردانا جاتا ہے اور بلاشبہ اس کا تخت ہے بھی اس دنیا کی نادر چیزوں میں سے ایک لیکن اس ملک کی خوشحالی کے باوجود ایک بات…
Read the full tafseer →إِنِّي وَجَدتُّ امْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ
I have found a woman ruling over them, - 27:23
The name of this woman is given in the history as Bilqis, daughter of Sharahil. But in some other narrations, it is mentioned that her mother was a jinni whose name was Bal'amah, daughter of Shisan. (Wuhaib b. Jarir has reported this from Khalil Ibn Ahmad, Qurtubi) Her grandfather, Hudahud, was a great king and controlled the entire land of Yemen. He had forty sons. All these sons became kings. Her father, Surah, had married a jinni woman, who gave birth to her (Bilqis). Different reasons are given for his…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
29 Saba' were a well-known commercial people of southern Arabia, whose capital city of Ma'rib lay about 55 miles to the north-east of San`a', the present capital of Yaman. They rose to power after the decline of the Minaean Kingdom in about 1100 B.C. and flourished for a thousand years in Arabia. Then in 115 B.C. they were replaced by the Himyarites, the other well-known people of southern Arabia, who ruled Yaman and Hadramaut in Arabia and Habash in Africa. The Sabaeans controlled the whole trade that passed between eastern Africa, India, the Far East and Arabia itself, on the one hand, and…
Read the full tafseer →