Al-Furqaan 25:9

Al-Furqaan · from ayah 9

25:9

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا ۟۠اُنْظُرۡ كَيۡفَ ضَرَبُوۡا لَـكَ الۡاَمۡثَالَ فَضَلُّوۡا فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ سَبِيۡلاً

(اے پیغمبر) دیکھو تو یہ تمہارے بارے میں کس کس طرح کی باتیں کرتے ہیں سو گمراہ ہوگئے اور رستہ نہیں پاسکتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Look how they strike for you comparisons; but they have strayed, so they cannot [find] a way.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:9

دیکھو، کیسی کیسی عجیب حجتیں یہ لوگ تمہارے آگے پیش کر رہے ہیں، ایسے بہکے ہیں کہ کوئی ٹھکانے کی بات اِن کو نہیں سوجھتی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے پیغمبر) دیکھو تو یہ تمہارے بارے میں کس کس طرح کی باتیں کرتے ہیں سو گمراہ ہوگئے اور رستہ نہیں پاسکتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

خیال تو کیجیئے! کہ یہ لوگ آپ کی نسبت کیسی کیسی باتیں بناتے ہیں۔ پس جس سے وه خود ہی بہک رہے ہیں اور کسی طرح راه پر نہیں آسکتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر) دیکھو ان لوگوں نے تمہارے بارے میں کیسی کیسی باتیں بنائی ہیں۔ چنانچہ ایسے بھٹکے ہیں کہ راستے پر آنا ان کے بس سے باہر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے محبوب دیکھو کیسی کہاوتیں تمہارے لیے بنارہے ہیں تو گمراہ ہوئے کہ اب کوئی راہ نہیں پاتے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے حبیبِ مکرّم!) ملاحظہ فرمائیے یہ لوگ آپ کے لئے کیسی (کیسی) مثالیں بیان کرتے ہیں پس یہ گمراہ ہو چکے ہیں سو یہ (ہدایت کا) کوئی راستہ نہیں پا سکتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

دیکھ انھوں نے تیرے لیے کیسی مثالیں بیان کیں، سو گمراہ ہوگئے، پس وہ کوئی راستہ نہیں پاسکتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے نبی ! غور کیجئے یہ لوگ آپ کے لئے کس طرح کی مثالیں بیان کرتے ہیں۔ یہ ایسے گمراہ ہوئے ہیں کہ راہ راست پر آ ہی نہیں سکتے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

دیکھو، تمہارے اوپر کیسی کیسی پھبتیاں چست کر رہے ہیں ! پس یہ بالکل کھوئے گئے ہیں اور کوئی راہ نہیں پا رہے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ذرا دیکھو تو سہی کہ ان لوگوں نے آپ کے لیے اے پیغمبر ! کیسی کیسی مثالیں گھڑیں، سو اس کے نتیجے میں یہ لوگ ایسے بھٹکے کہ ان کو کوئی راستہ ہی نہیں سوجھتا۔

— مولانا اسحاق مدنی

دیکھئے تو یہ لوگ آپ کے لئے کیسی عجیب عجیب باتیں بیان کرتے ہیں سو وہ (بالکل) گمراہ ہوگئے پھر وہ (بالکل) راہ نہ پاسکے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

دیکھئے ! یہ آپ ﷺ کے لیے کیسی کیسی مثالیں بیان کر رہے ہیں تو یہ لوگ گمراہ ہوگئے ہیں اب یہ سیدھے رستے پر نہیں آسکتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے پیغمبر ﷺ ! دیکھو تو یہ تمہارے بارے میں کیسی کیسی باتیں کرتے ہیں۔ سو یہ گمراہ ہوگئے اور راستہ نہیں پاسکتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Just see what strange arguments they bring forward with regard to you! They have gone so far astray that they cannot charge any thing against you.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

See how they coined similes for you, so they have gone astray and cannot find a way.

— Muhammad Taqi Usmani

See how they coined similes for you, so they have gone astray and cannot find a way.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

See how they coin similitudes for you, so they have gone astray, and they cannot find a path.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

See how they coin similitudes for thee, so that they are all astray and cannot find a road!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Look how they strike for you comparisons; but they have strayed, so they cannot [find] a way.

— Saheeh International

Look at their various views about you! They have gone astray and are not able to find the right path.

— Muhammad Sarwar

See what likenesses do they apply to you, so they have gone astray, therefore they shall not be able to find a way.

— Muhammad Habib Shakir

Behold how they propound similitudes for thee! so they have strayed and cannot find a way.

— Abdul Majid Daryabadi

See what kinds of comparisons they make for thee! But they have gone astray, and never a way will they be able to find!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–14

مشرکین کی حماقتیں اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کی انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے ؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لئے آتا جاتا کیوں ہے ؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الہٰی سے آگاہ کرتا۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ آیت (فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاۗءَ مَعَهُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ 53؀) 43۔ الزخرف :53) ، اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے ؟ یا اس کی مدد کے لئے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ چونکہ دل ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 18 یہ اعتراضات بھی جواب دینے کے لیے نہیں بلکہ یہ بتانے کے لیے نقل کیے جا رہے ہیں کہ معترضین کس قدر عناد اور تعصب میں اندھے ہوچکے ہیں۔ ان کی جو باتیں اوپر نقل کی گئی ہیں ان میں سے کوئی بھی اس لائق نہیں ہے کہ اس پر سنجیدگی کے ساتھ بحث کی جائے۔ ان کا بس ذکر کردینا ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ مخالفین کا دامن معقول دلائل سے کس قدر خالی ہے اور وہ کیسی لچر اور پوچ باتوں سے ایک مدلل اصولی دعوت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ایک شخص کہتا ہے لوگو، یہ شرک جس پر تمہارے مذہب و تمدن کی بنیاد قائم ہے، ایک غلط عقیدہ ہے اور اس کے غلط ہونے کے یہ اور یہ دلائل ہیں۔ جواب میں شرک کے بر حق ہونے پر کوئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اگر یہ رسول ہوتے تو عام انسانوں کی طرح کھاتے پیتے نہیں بلکہ فرشتوں کی طرح کھانے پینے کی ضروریات سے مستغنی اور الگ ہوتے۔ اور اگر یہ بھی نہ ہوتا تو کم از کم ان کے پاس اللہ کی طرف سے اتنا خزانہ یا باغات ہوتے کہ ان کو اپنے معاش کی فکر نہ کرنا پڑتی، بازاروں میں چلنا پھرنا نہ پڑتا۔ اس کے علاوہ ان کا اللہ کی طرف سے رسول ہونا ہم کیسے مان لیں کہ اول تو یہ فرشتہ نہیں، دوسرے کوئی فرشتہ بھی ان کے ساتھ نہیں رہتا جو ان کے ساتھ ان کے کلام کی تصدیق کیا کرتا، اس لئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان پر کسی نے جادو کردیا ہے جس سے ان کا دماغ چل گیا اور یہ ایسی بےسرو پا باتیں کہتے ہیں۔ اس کا اجمالی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

معترضین کی حواس باختگی یہ آیت بعنیہ سورة بنی اسرائیل میں بھی گزر چکی ہے۔ ملاحظہ ہو آیت 48 وہاں ہم واضح کرچکے ہیں کہ ضرب مثل کا محاورہ جس طرح کوئی تمثیل بیان کرنے یا کوئی حکمت کی بات کہنے کے لئے آتا ہے اسیط رح کسی پر اعتراض کرنے یا اس پر پھیلتی چست کرنے کے لئے بھی آتا ہے۔ اعتراض باطل کے مفہوم میں یہ لفظ آگے اسی سورة کی آیت 32 میں بھی استعمال ہوا ہے۔ یہاں یہ پھبتی یا اعتراض ہی کے مفہوم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مخالفین کی مذکورہ بالاخرافات نقل کرنے کے بعد پیغمبر ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ دیکھو، یہ تمہارے اوپر کیسی کیسی پھبتیاں چست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن کوئی بات بنتی نظر نہیں آتی ہے تو جس کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

9-1یعنی اے پیغمبر ! آپ کی نسبت یہ اس قسم کی باتیں اور بہتان تراشی کرتے ہیں، کبھی ساحر کہتے ہیں، کبھی مسحور و مجنون اور کبھی کذاب و شاعر۔ حالانکہ یہ ساری باتیں باطل ہیں اور جن کے پاس ذرہ برابر بھی عقل فہم ہے، وہ ان کا جھوٹا ہونا جانتے ہیں، پس یہ ایسی باتیں کر کے خود ہی راہ ہدایت سے دور ہوجاتے ہیں، انھیں راہ راست کس طرح نصیب ہوسکتی ہے ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–11

2: یعنی یہ لوگ جو باتیں بنا رہے ہیں، ان کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ حق کے طلب گار ہیں، اور ان کے شبہات دور ہوجائیں تو یہ ایمان لے آئیں، بلکہ اصل وجہ ان کی بےفکری ہے، چونکہ ان کو قیامت اور آخرت پر ایمان نہیں ہے، اس لیے ان کو بےہودہ اعتراضات کرتے ہوئے کوئی خوف نہیں ہوتا کہ آخرت میں ان پر سزا بھی مل سکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–10

انظر کیف ضربوا لک الامثال (25 : 9) ” دیکھو ‘ یہ تمہارے بارے میں کیا حجتیں کرتے ہیں “۔ آپ ﷺ کو سحرزدہ لوگوں کے ساتھ مشابہ قرار دیتے ہیں ‘ کبھی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنی طرف سے باتیں بناتے ہیں ‘ کبھی کہتے ہیں کہ پرانے زمانے کی باتیں ہیں جو آپ لکھواتے ہیں۔ یہ سب گمراہی کی باتیں ہیں۔ اور سچائی سے دور کی باتیں ہیں۔ یہ سچائی کے تمام راستوں سے بےراہ ہوگئے ہیں۔ اور اب ان کے اندر ہدایت کی راہ پانے کی استطاعت ہی نہیں رہی۔ فلایستطیعون سبیلا (25 : 9) اب یہ بحث یوں ختم کی جاتی ہے کہ یہ لوگ جو تجاویز دیتے ہیں وہ احمقانہ ہیں۔ ان کے تصورات دنیا پرستی کے محدود دائرے میں محدود ہیں۔ یہ کنوئیں کے مینڈک کی طرح اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی کبھی کہتے ہیں کہ ان کی باتیں محض مفتریات ہیں۔ کبھی دعوے کرتے ہیں کہ نہیں دوسروں سے سیکھ کر اپنے سانچے میں ڈھال لی ہیں کبھی آپ ﷺ کو مسحور بتلاتے ہیں کبھی ساحر، کبھی کاہن، کبھی شاعر، کبھی مجنوں، یہ اضطراب خود بتلاتا ہے کہ ان میں سے کوئی چیز آپ ﷺ پر منطبق نہیں ہوتی۔ اسی لیے کسی ایک بات پر قرار نہیں۔ اور الزام لگانے کا کوئی راستہ ہاتھ نہیں آتا۔ جو لوگ انبیاء کی جناب میں اس طرح کی گستاخیاں کر کے گمراہ ہوتے ہیں ان کے راہ راست پر آنے کی کوئی توقع نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 9 اُنْظُرْ کَیْفَ ضَرَبُوْا لَکَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا ” یہ لوگ ایک ضد پر اڑ گئے ہیں ‘ لہٰذا اب ان کے راہ راست پر آنے کا کوئی امکان نہیں۔ ان الفاظ کو پڑھتے ہوئے یہ بھی معلوم رہنا چاہیے کہ یہ سورت مکی دور کے درمیانی چار سالوں میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے۔ مکی سورتوں کی ترتیب نزولی اور ترتیب مصحف کے بارے میں پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ مکی دور کے ابتدائی چار سال کے دوران میں نازل ہونے والی سورتیں مصحف کی ترتیب میں ساتویں یعنی آخری منزل میں شامل کی گئی ہیں۔ آخری منزل میں کچھ مدنی سورتیں بھی شامل ہیں اور اس اعتبار سے اس منزل کی مکی مدنی سورتوں کو دو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 9–10

14 یعنی کبھی کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے جو کہتا ہے کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے کبھی کہتے ہیں کہ یہ قرآن اس نے خود ہی تصنیف کر ڈالا ہے۔ البتہ اس سلسلہ میں دوسروں سے بھی مدد لیتا ہے۔ کبھی آپ کو کاہن کہتے ہیں، کبھی شاعر، کبھی ساحر، جادوگر اور کبھی مسحور۔ پھر کہیں یہ کہتے ہیں کہ اسے فرشتہ ہونا چاہئے تھا۔ کبھی کہتے ہیں کہ اگر بشر ہی تھا تو کم از کم اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہی رہا کرتا۔ کبھی یہ اس نبی کے پاس مال و دولت کی کثرت ہونا چاہئے تھی۔ یہ سب باتیں دراصل ان کے دعوت حق کو قبلو نہ کرنے کے بہانے ہیں۔ ہٹ دھرمی اور تعصب نے ان کو اندھا کر رکھا ہے اور ایسی بےتکی باتیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

10۔ قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ ذرادیکھئے کہ یہ لوگ آپ کے دعوی نبوت کا انکار کرکے کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور ایک نبوت کو نہ مان کر کیسی کیسی عجیب اور بےسروپا باتوں کے ماننے پر مجبور ہوگئے ! ان کی عقلوں پر یہ کیسے مار پڑ کر رہی ! یہی حال آج یورپ کے بڑے بڑے نامور مستشرقین کا ہے۔ سیدھے سادہ دعوی نبوت سے انکار کے بعد انہیں کیسے کیسے بےسروپانظریات ماننے اور فرض کرنے پڑتے ہیں !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان اور نہایت رحم والا ہے، برکت والی برتر ہے وہ ذات جس نے فرقان یعنی قرآن اپنے بندے محمد ﷺ پر نازل کیا قرآن کو فرقان اس لئے کہا گیا ہے کہ اس نے حق و باطل کے درمیان فرق کردیا، تاکہ عالم والوں یعنی انسانوں اور جنوں کے لئے نہ کہ فرشتوں کے لئے ڈرانے والا ہو یعنی اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا ہو ایسی ذات کہ اس کے لئے آسمانوں اور زمین کی حکومت حاصل ہے اور اس نے کسی کو اولاد قرار نہیں دیا اور نہ ملک میں اس کا کوئی شریک ہے اور اس نے ہر اس شئ کو پیدا کیا جس کی شان مخلوق ہونا ہے پھر اس کو اچھی طرح درست کیا اور کفار نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انظر کیف ضربوا لک الامثال (اے محمد ﷺ ! ) آپ دیکھئے یہ آپ ﷺ کے لئے کیسی عجیب عجیب باتیں بیان کر رہے ہیں۔ امثال بمعنی اشباہ ‘ یعنی انہوں نے آپ کو چھوٹے افترا پردازوں اور بےہودہ قصہ بیان کرنے والوں کی طرح قرار دے رکھا ہے یہی تو وجہ ہے کہ وہ آپ کو مفتری اور دوسروں سے افسانے لکھوانے والا کہتے ہیں اور (کبھی) سحر زدہ لوگوں کی طرح (بدحواس پاگل) کہتے ہیں اور (کبھی) فرشتہ ہونے یا بادشاہ ہونے کے مدعی کی طرح قرار دیتے ہیں اور (یہ مان کر کہ آپ کو اپنے فرشتہ ہونے اور بادشاہ ہونے کا دعویٰ ہے) کہنے لگتے ہیں فرشتہ کا کھانا کھانا اور بازاروں میں گھومنا ناممکن ہے اور بادشاہوں نیز دولت مندوں کے خزانے اور باغات…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(9) اے محمد ﷺ آپ دیکھیے تو کہ یہ لوگ آپ کے لیے کیسی عجیب عجیب باتیں بیان کررہے ہیں اور ساحر و کاہن جھوٹا شاعر اور مجنون کیا کیا یہ آپ کے نام رکھ رہے ہیں، باقی یہ لوگ خود گمراہ ہوگئے ہیں اور تمام ان کے مکر و فریب خاک میں مل گئے ہیں اور پھر یہ اپنی باتوں سے چھٹکارا نہیں پاسکتے اور نہ ان کے پاس اس بکواس کی کوئی دلیل ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ : دیکھو انھوں نے تمہارے لیے کیسے مثالیں بیان کیں، صرف اس لیے کہ کسی طرح آپ کو جھوٹا ثابت کرسکیں۔ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا : سو بھٹک گئے اور ایسے بھٹکے کہ کسی راستے پر آ ہی نہیں سکتے، کیونکہ راہ پر وہ آتا ہے جس کے دل میں اخلاص ہو اور وہ محض غلط فہمی کا شکار ہوگیا ہو، ان کے دلوں میں تو اخلاص کے بجائے ضد اور ہٹ دھرمی ہے۔ مزید دیکھیے بنی اسرائیل (47، 48)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 9–10

انظر کیف ضربوا۔۔۔۔۔۔ ) انظر کیف ضربوا لک الا مثال انہوں نے آپ ﷺ کے لیے یہ امثال بیان کیں تاکہ وہ آپ کو جھٹلانے تک پہنچ سکیں۔ فضلوا وہ حق کے راستہ اور جس کا انہوں نے ارادہ کیا اس تک پہنچنے سے گمراہ ہوگئے۔۔ فلا یستطیعون سبیلا انہوں نے جو کچھ آپ کے متعلق کہا اس کی صحت تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں پاتے۔ تبرک الذی ان شاء جعل لک خیرا من ذلک جنت یہ کلام شرط و جزا ہے۔ جعل لک میں ادغام نہیں کیا کیونکہ دونوں کلمے منفصل ہیں دو ہم مثل حروف کے اجتماع سے ادغام جائز ہوتا ہے۔ ویجعل لک محل جزم میں ہے اس کا عطف جعل کے محل پر ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ محل رفع میں ہو جب کہ ما قبل سے اس کو قطع کردیا گیا ہو، اہل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ تبارک تفاعل کے وزن پر ہے برکت سے۔ 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ آیت تبرک الذی نزل الفرقان علی عبدہ سے مراد یہ قرآن ہے جس میں اللہ کی حلال کردہ اور اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور اس کے شرائع اور دین کے احکام ہیں اللہ تعالیٰ نے فرق کردیا ہے حق اور باطل کے درمیان آیت لیکون للعالمین نذیرا یعنی اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا اللہ تعالیٰ سے ڈرانے والا بنا کر تاکہ وہ لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں اور ان واقعات سے ڈرائیں جو پہلی قوموں میں ہوئے آیت وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا اور اپنی مخلوق کی ہر چیز کے لیے اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اُنْظُرْ [ آپ ﷺ دیکھیں ] كَيْفَ [ کیسے ] ضَرَبُوْا [ انہوں نے بیان کیں ] لَكَ [ آپ ﷺ کے لئے ] الْاَمْثَالَ [ مثالیں ] فَضَلُّوْا [ تو وہ گمراپ ہوئے ] فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ [ پھر وہ استطاعت نہیں رکھتے ] سَبِيْلًا [ کسی راستے کی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–10

اللہ جل شانہٗ نے ارشاد فرمایا (انظُرْ کَیْفَ ضَرَبُوْا لَکَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلاَ یَسْتَطِیعُوْنَ سَبِیْلًا) آپ دیکھ لیجیے کہ یہ لوگ آپ کے لیے کیسی کیسی باتیں بیان کر رہے ہیں سو وہ گمراہ ہوگئے پھر وہ راہ نہیں پاسکیں گے (اگر غور کرتے اور عقل سے کام لیتے تو یہی قرآن اور یہی رسول جن پر اعتراض کر رہے ہیں ان کی ہدایت کا سبب بن جاتے اب تو وہ اعتراض کر کے دور جا پڑے اب وہ راہ حق پر نہ آئیں گے) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–10

منکرین نبوت کا تیسرا شبہ اور اس کا جواب قال اللہ تعالیٰ وقالوا مال ھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق۔۔۔ الی۔۔۔ ویجعل لک قصورا۔ (ربط) منکرین نبوت کا یہ تیسرا شبہ ہے۔ منکرین نبوت یہ کہتے ہیں کہ یہ مدعی نبوت پانچ صفتوں کے ساتھ موصوف ہے اور یہ پانچوں صفتیں نبوت کے منافی ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ شخص ہماری طرح کھانا کھاتا ہے۔ دوم یہ کہ یہ شخص ہماری طرح بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، پھر اس کو کیا فضیلت اور برتری کہ یہ ہمارا نبی بنے۔ سوم یہ کہ آپ ﷺ کے ہمراہ خدا کا کوئی فرشتہ نہیں جو لوگوں کو آپ ﷺ سے ڈرائے۔ چہارم یہ کہ آپ کے پاس آسمان سے کوئی خزانہ نہیں اترتا۔ جسے آپ لوگوں پر بےدریغ خرچ کر کے لوگوں کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–9

9:۔ ” او یلقی الخ “ یہ مشرکین پر چھٹا شکوی ہے اگر یہ واقعی اللہ کا رسول ہوتا تو اس کے پاس آسمانوں سے دولت کا خزانہ نازل کیا جاتا تاکہ وہ کسب معاش کا محتاج نہ رہتا یا اس کا کوئی باغ ہی ہوتا جس پر وہ باعزشت طور سے گذر بسر کرتا۔ ” وقال الظلمون الخ “ یہ مذکورہ تینوں شکو وں سے متعلق ہے یعنی یہ معاندین اور، بےانصاف لوگ محض ازراہ عناد و مکابرہ کہتے ہیں کہ تم جس شخص کو پیغمبر مان کر اس کی پیروی کر رہے ہو وہ تو آسیب زدہ ہے اور (عیاذا باللہ) اس کی عقل ٹھکانے نہیں۔ ” انظر کیف ضربوا الخ “ یہ مشرکین پر زجر ہے۔ یہ ظالم محض ضد وعناد سے آپ کے لیے کیسی کیسی مثالیں بیان کرتے ہیں وہ ضد اور ہٹ کی وجہ سے راہ راست…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 4–9

ربط آیات برکات دینے والی ذات اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو نازل فرمایا ہے جو کہ ایک فیصلہ کن کتاب ہے۔ اس کے نزول کی غایت یہ ہے کہ اللہ کا کامل ترین بندہ اور اس کا آخری رسول اس کتاب کے ذریعے لوگوں کو ڈرانے والا بن جائے۔ گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی آسمان و زمین پر محیط سلطنت کا ذکر بھی ہو۔ اللہ نے مشرکین کا شکوہ بیان کیا کہ وہ اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بناتے ہیں ۔ حالانکہ وہ بےاختیار ہیں ، نہ تو وہ کوئی چیز تخلیق کرسکتے ہیں اور نہ نفع نقصان کے مالک ہیں ، یہ کس قدر ظلم و زیادتی کی بات ہے۔ قرآن پاک پر اعتراض سورۃ کے اس ابتدائی تمہیدی بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا۝ 9ۧ نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، ( ن ظ ر ) النظر کے معنی کسی چیز کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–10

ترکیب : افتریٰ کا فاعل ضمیر جو عبد کی طرف راجع ضمیر فرقان کی طرف راجع اعانہ کی عید کی طرف علیہ کی ضمیر افترا کی طرف قوم اخرون اعان کا فاعل ظلما و زورا مفعول جاؤ کا یا مصدر موضع حال میں ان شاء شرط جعل جو ابہ وھولکو نہ ماضیایجوزان یکون فی محل الرفع والجزم فما عطف علیہ یجوزان یکون مرفوعا اومجز و ماکما قرء الجمہور۔ تفسیر : ان آیات میں ان کے اور چند شبہات کا جواب ہے جو رسالت کی بابت تھے کہ محمد ﷺ نے قرآن کو ازخود بنا لیا ہے اور دیگر لوگ (جس سے ان کا اشارہ اہل کتاب کی طرف تھا) اس کے اس کام میں مددگار بن گئے ہیں۔ وہی لوگ انبیائِ سابقین کے حالات اور ان کی شریعتوں کے احکام اس کو بتاتے ہیں۔ یہ اپنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اُنْظُرْکَیْفَ ضَرَبُوْا لَـکَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلاً ۔ (الفرقان : 9) (دیکھیے وہ آپ پر کیسی کیسی پھبتیاں چست کررہے ہیں، ایسے بہکے ہیں کوئی ٹھکانے کی بات ان کو نہیں سوجھتی۔ ) ضربِ مثل کا مفہوم ضربِ مثل کا محاورہ جس طرح کوئی تمثیل بیان کرنے یا کوئی حکمت کی بات کہنے کے لیے آتا ہے، اسی طرح کسی پر اعتراض کرنے یا اس پر پھبتی چست کرنے کے لیے بھی آتا ہے۔ پروردگار نے ان کے خرافات اور ہفوات کو بیان کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ سے فرمایا کہ دیکھیے یہ آپ ﷺ کے بارے میں کیسی کیسی لایعنی باتیں کرتے اور کیسی پھبتیاں کستے ہیں، لیکن آپ ﷺ کی دعوت کے مقابلے میں ان کی حیثیت لچر اور پوچ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–9

فہم القرآن ربط کلام : رسالت مآب ﷺ پر کفار کے مزید اعتراضات رسالت مآب ﷺ کے بارے میں کفار یہ بھی ہرزاسرائی کرتے کہ یہ تو مالی اعتبار سے غریب آدمی ہے اگر واقعی یہ اللہ کا منتخب اور پسندیدہ نبی ہوتا تو اس کے پاس مال و دولت کی فراوانی ہونا چاہیے تھی۔ نقدی ناسہی کم از کم اس کے پاس کوئی ایسا باغ ہوتا جس سے خود کھاتا اور اپنے بال بچوں کو کھلاتا۔ رسول معظم ﷺ کی غربت کا بہانہ بنا کر وہ لوگ آپ کی رسالت کا انکار کرتے تھے۔ قرآن مجید نے اس سوال کا جواب دینا اس لیے مناسب نہیں سمجھا کیونکہ دولت انسان کے شرف کا معیار نہیں ہے پھر کفار مسلمانوں کو یہ کہہ کر پھسلانے کی کوشش کرتے کہ یہ ایسا شخص ہے جس کو جادو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اجمالِ جواب : 9: اُنْظُرْ کَیْفَ ضَرَبُوْا (غور تو کرو کس طرح یہ بیان کرتے ہیں) ضرب کا معنی یہاں بیان کرنا ہے۔ لَکَ الْاَمْثَالَ (تمہارے متعلق مثالیں) یعنی تمہارے متعلق یہ باتیں کہتے ہیں اور یہ بات تیرے بارے میں تجویز کی ہے یہ مفتری مسحور اور دوسروں سے لکھوالیتا ہے۔ فَضَلُّوْا (پس وہ گمراہ ہوئے) حق کے راستہ سے فَلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا (پس وہ راستے کی طاقت نہیں رکھتے) پس وہ حق کی راہ ہی نہیں پاتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9۔ انظر، اے محمد ! دیکھیے کیف ضربوالک الامثال، اس سے مراد اشباہ ہے یعنی انہوں نے آپ کو جھوٹے افتراء پردازوں اور بے ہودہ قصوں بیان کرنے والوں کی طرح قرار دے رکھا ہے اور بعض نے کہا کہ مسحور محتاج ہے۔ فضلوا، یہ دیکھ کر وہ حق سے گمراہ ہوگئے۔ فلایستطیعون سبیلا، ، گمراہی سے ہدایت کی طرف کوئی مخرج نہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 7–9

7۔ 9:۔ تفسیر ابن جریر 2 ؎ میں عکرمہ اور سعید بن جبیر کی سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے جب آنحضرت ﷺ پر تنگ دستی اور فقروفاقہ کی طعن کی اور کہا یہ کیسے رسول ہیں کہ ذرا ذرا سی چیز بازار میں خریدتے پھرتے ہیں ‘ اگر یہ اللہ کے سچے رسول ہوتے تو ضرور اللہ تعالیٰ ان کو خوشحالی سے رکھتا ‘ مشرکین کی اس طعن سے آنحضرت ﷺ کے دل پر کچھ اثر رنج کا پیدا ہوا ‘ اس رنج کا اثر دور کرنے کو اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا ‘ کہ شیطان نے ان لوگوں کو بہکا دیا ہے ‘ اس واسطے یہ بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں ‘ ورنہ یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–14

(آیت نمبر (7 یہ ان لوگوں کا قول ہے جنہوں نے رسول ﷺ کو جھٹلایا اور آپ کی رسالت میں جرح و قدع کی۔ انہوں نے اعتراض کیا کہ یہ رسول فرشتہ یا کوئی بادشاہ کیوں نہیں یا اس کی خدمت اور مدد کے لیے کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا ؟ چناچہ انہوں نے کہا : (مال ھذ الرسول) یعنی یہ کیسا شخص ہے جو رسالت کا دعویٰ کرتا ہے ( یا کل الطعام ) ” کھانا کھاتا ہے “ حالانکہ یہ تو بش رکی خصوصیات میں سے ہے۔ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ ان امور کا محتاج ہوتا بشر جن کا محتاج ہے۔ ( ویمشی فی الاسواق) یعنی خریدو فروخت کے لیے “ بازاروں میں چلتا پھرتا ہے “ اور یہ ان کے خیال کے مطابق ایک رسول کے لائق نہیں ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–48

پانی کے مسائل قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

11 نور حق و ہدایت سے محرومی سب سے بڑی محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو نور حق و ہدایت سے محرومی ایسی ہولناک محرومی ہے کہ یہ انسانوں کو اندھا اور اوندھا کردیتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو نور حق سے محرومی کے بعد ایسے لوگ کبھی پیغمبر کو ساحر کہتے ہیں کبھی مسحور۔ کبھی کاہن کبھی مجنون۔ کبھی کچھ کبھی کچھ۔ سو یہ خود ان لوگوں کے مخبوط الحواس ہونے کی کھلی دلیل ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اپنی اس خبط الحواسی کے باوجود یہ لوگ دوسروں کو بھی پیغمبر کی اتباع اور پیروی سے روکتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ اس طرح کرکے تم لوگ ایک ایسے شخص کی پیروی کرو گے جس پر کسی نے جادو کرکے اس کی عقل مار دی ہے۔ جس سے وہ ایسی بہکی بہکی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 3–9

منکرین حق اور نبی کے سوال و جواب تشریح : کفار مکہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میری اتنی نعمتیں برکتیں لوگوں کو ملی ہوئی ہیں پھر بھی یہ لوگ دوسرے معبود بنا بیٹھے ہیں۔ اصل میں انسان خود بہت بڑا معمہ ہے اور سب سے بڑا معمہ اس کا دماغ ہے جس میں ذہانت ‘ عقل ‘ فکر ‘ جستجو ‘ حافظہ ‘ فہم اور حکمت سب کچھ موجود ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ یہ تمام صلاحیتیں کس نے دی ہیں ؟ انسان کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ اس کا جواب ہر کوئی یہی دیتا ہے کہ ” اللہ نے “ جسے دل نے تو ہمشہ مان لیا لیکن عقل اس سے انکار کرتی ہے اور یہی لوگ مشرک ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ خالق کو چھوڑ کر مخلوق ( پیدا کیا ہوا) کے آگے جھکتے ہیں مرادیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

سورة الفرقان : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف یہ سورة بھی مکی سورتوں میں سے ہے اور اسی مضمون کو آگے بڑھاتی ہے جو سورة نور میں زیر بحث ہے ۔ (آپ ﷺ کی نبوت سب جہانوں کے لیے) اللہ کریم بہت ہی برکت والے اور خیر کے مالک ہیں جنہوں نے اپنے بندے حضرت محمد رسول ﷺ پر ایسی کتاب نازل فرمائی جس نے حق کو حق اور باطل کو باطل قرار دے کر دونوں میں حد فاصل قائم کردی اور تمام جہانوں کو ان کے غلط کاموں کے خطرناک انجام سے اللہ جل جلالہ کے رسول ﷺ نے بروقت مطلع فرما دیا کہ آپ ﷺ کی نبوت نہ صرف سارے جہان کے لیے ہے بلکہ سب جہانوں کے لیے ہے ، ہاں مکلف مخلوق یعنی انسان اور جن اطاعت احکام کے مکلف ہیں اور ساری مخلوق بھی آپ ﷺ کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

8 ۔ صرف اس لئے کہ کسی طرح آپ ﷺ کو جھوٹا ثابت کرسکیں۔ 9 ۔ کیونکہ راہ پر وہ آتا ہے جس کے دل میں اخلاص ہو اور وہ محض غلط فہمی کا شکار ہوگیا ہو۔ ان کے دلوں میں تو اخلاص کی بجائے ضد اور ہٹ دھرمی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 9–10

(15:9) ضربوا لک الامثال۔ تمہارے لئے طرح طرح کی مثالیں بیان کرتے ہیں۔ فضلوا۔تفسیریہ ہے۔ لا یستطیعون مضارع نفی جمع مذکر غائب وہ استطاعت نہیں رکھتے وہ طاقت یا قدرت نہیں رکھتے ۔ سبیلا۔ ای طریقا الی الحق والصواب پس وہ راہ ہدایت وحق نہ پاسکے۔ خیرا من ذلک۔ اس سے بہتر ۔ خیر کے معنی نیکی و بھلائی۔ نیک کام ہیں۔ لیکن یہاں بمعنی افعل ہے بہتر۔ جنت۔ خیرا کا بدل ہے۔ یجعل مضارع مجزوم ۔ واحد مذکر غائب۔ وہ بنادے۔ وہ دے دے۔ اس کا عطف جعل پر ہے۔ اور جواب شرط میں ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔ قصورا قصر کی جمع۔ محل۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–16

لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 16 : (مالھذالرسول) یہ کیسا رسول ہے ‘(یمشی) چلتا ہے ‘(الاسواق (سوق) بازار ‘(کنز) خزانہ ‘(مسحور) جادو میں پھنسا ہوا ‘(ضلوا) وہ گمراہ ہوگئے ‘ قصور (قصر) محل۔ محلات ‘(سعیر) بھڑکتی آگ ‘(تغیظ) غصہ سے جوش مارنا ‘(زفیر) غصہ سے نکلی ہوئی تیز آواز ‘ (ضیق) تنگ ‘ مقرنین (آپس میں جکڑے ہوئے) (ثبور) موت۔ ہلاکت ‘(مایشآء و ن) جو کچھ وہ چاہیں گے ‘(مسئولا) سوال کیا گیا۔ درخواست کا حق ‘۔ تشریح : آیت نمبر 7 تا 16 : سچی اور عظیم تحریک اور مضبوط دلائل کے سامنے شکست کھاجانے والے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ ہر شخص متاثر ہورہا ہے تو وہ طرح طرح کے اعتراضات ‘ الزامات اور ذاتیات پر اتر آتے ہیں چناچہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–9

مشرکین کا طعن۔ (ف 1) شان نزول : جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے جب نبی ﷺ پر تنگدستی کی طعن کی اور کہا کہ یہ کیسے رسول ہیں کہ ذراذرا سی چیز بازار میں خریدتے پھرتے ہیں اگر اللہ کے سچے رسول ہوتے تو ضرور اللہ تعالیٰ ان کو خوشحال رکھتا۔ مشرکین کے اس طعن کے بارے میں اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمادیا کہ شیطان نے ان لوگوں کو بہکارکھا ہے اس واسطے یہ بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں اور ورنہ یہ لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی بتلاتے ہیں۔ اور حضرت ابراہیم کو نبی جانتے ہیں پھر یہ نہیں ثابت کرسکتے کہ حضرت ابراہیم فرشتے تھے کچھ کھاتے پیتے نہیں تھے یا غیب سے ان کو خزانہ ملا تھا یا کوئی فرشتہ ان کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) مشرکین مکہ اپنی روایتی نخوت کی وجہ سے حضور ﷺ کو پیغمبر تسلیم نہ کرتے اور کہتے کہ پیغمبر کو فوق الفطرت ہونا چاہئے ، وہ شخص جو کھاتا پیتا ہو ، اور ضروریات کیلئے بازاروں میں گھومتا پھرتا ہو ، وہ اللہ کا رسول نہیں ہوسکتا وہ یہ بھی کہتے کہ اگر یہ پیغمبر ہوتا ، تو اس کے ساتھ ایک فرشتہ ہونا چاہئے تھا ، اللہ کی طرف سے اس کے پاس خزائن کا نزول ہونا چاہئے تھا ، اور باغات ہونے چاہئیں تھے کہ جن میں سے پھل توڑ توڑ کو کھاتا ، ارشاد فرمایا ، کہ یہ نبوت کا خود ساختہ معیار غلط ہے اور سراسر گمراہی کا باعث نبی ہمیشہ ایک انسان ہوتا ہے اور اس کے ساتھ بشری ضروریات وحاجات لگی رہتی ہیں ، اس کا فوق الفطرت ہونا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) اے پیغمبر ذرا دیکھئے تو یہ لوگ آپ کی نسبت کیسی کیسی عجیب باتیں بیان کر رہے ہیں سو یہ لوگ گمراہ ہوگئے اور اب یہ کوئی راہ نہیں پاسکتے یعنی طرح طرح کی باتیں چھانٹتے ہیں جس کا مال بجز بےدینی اور گستاخی کے اور کچھ نہیں پس یہ انتہائی گمراہی کی باتیں ہیں اور اب یہ راہ حق نہیں پاسکتے سیدھی راہ دیکھنے سے ان کی آنکھیں اندھی ہوچکی ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–10

ف 1۔ مطلب یہ کہ جو کچھ جنت میں ملے گا اگر اللہ چاہے تو آپ کو دنیا ہی میں دیدے لیکن بعض حکمتوں سے نہیں چاہا، اور فی نفسہ ضروری تھا نہیں، پس شبہ محض بیہودہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

معترضین کی حواس باختگی کا ذکر جو قبل ازیں کیا جا چکا ہے : 9۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام ارشاد فرماتا ہے کہ دیکھو اے میرے رسول ! کہ یہ معترضین کس قدر حواس باختہ ہوچکے ہیں کہ آپ ﷺ کے دعوی نبوت کا انکار کرکے کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور آپ کے متعلق کس طرح کی بےجوڑ باتیں کر رہے ہیں ؟ کبھی کہتے ہیں کہ یہ تو سراسر افتراء برداز ہے کہ بیہودہ قصے بیان کرتا ہے اور مفتری افسانے لکھنے والا یا لکھوانے والا قرار دیتے ہیں ‘ کبھی مجنون کی رٹ لگاتے ہیں اور جادوگر بیان کرتے ہیں اور کبھی یہ لوگ اسی منہ سے اس طرح بکنے لگتے ہیں کہ ہو نہ ہو یہ سحر زدہ ہے اور کسی بزرگ کی اس کو مار لگ گئی ہے فرمایا دیکھو اے پیغمبر اسلام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–19

The Second Objection was that if the Holy Prophet ﷺ was a prophet, he should not have been eating and drinking like common people; instead he should have been free from eating and drinking like angels. And if this was not so, he should have at least enough wealth and gardens to take care of his day to day needs, so that he may not need to care for his living. Furthermore, how could he be accepted as a prophet when he is neither an angel nor does an angel accompany him to endorse what he preaches, therefore it appears that he has been charmed by someone which has turned his head and that is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

18 As these objections were frivolous and meaningless like others, the Qur'an has ignored them, saying, "Your objections are irrelevant, unreasonable and void of sense. You bring no sound argument to prove your doctrine of shirk, ur to refute the Doctrine of Tauhid put forward by him, whereas the Messenger gives such proofs of the Doctrine of Tauhid that you cannot refute them except by saying, 'He is bewitched'. The same is true of the doctrine of the life-after-death and of the moral system of the Qur'an, which has produced men of high character. You cannot deny these things; you reject…

Read the full tafseer →