25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 25:1–2

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

وہ (خدائے عزوجل) بہت ہی بابرکت ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ اہل عالم کو ہدایت کرے

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

وہی کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور جس نے (کسی کو) بیٹا نہیں بنایا جس کا بادشاہی میں کوئی شریک نہیں اور جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کا ایک اندازہ ٹھہرایا

تفسیر سورة الفرقان آیت نمبر 1 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عظمت کاملہ، ہر لحاظ سے واحدانیت میں اس کے متفرد ہونے، اس کی بھلائی اور احسان کی کثرت کا بیان ہے، چناچہ فرمایا : (تبرک) یعنی وہ بہت بڑا ہے اس کے تمام اوصاف نہایت کامل اور اس کے احسانات بہت زیادہ ہیں۔ اس کا سب سے بڑا احسان اور سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ عظیم قرآن نازل فرمایا جو حلال و حرام، ہدایت و ضلالت، اہل سعادت اور اہل شقاوت کے درمیان فرق بیان کرتا ہے۔ (علی عبدہ) یہ فرقان عظیم اس نے اپنے بندے محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمایا جنہوں نے تمام مراتب عبودیت مکمل کرلیے اور اللہ نے ان کو تمام انبیاء ومرسلین پر فوقیت عطا کی۔ (لیکون) ، ، تاکہ وہ ہوجائے۔ ، ، یعنی اپنے بندے پر اس فرقان کا نازل کرنا۔ (للعلمین نذیراً ) ، ، جہانوں کے لیے ڈرانے والا۔ ، ، جو ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب اور غصے سے ڈراتا ہے اور ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی ناراضگی کے مقامات کو واضح کرتا ہے۔ جو کوئی اس کے انداز کو قبول کر کے اس پر عمل پیرا ہوتا ہے وہ دنیا و آخرت میں نجات پانے والوں میں شمار ہوتا ہے، جنہیں ابدی سعادت اور سرمدی بادشاہی حاصل ہوتی ہے۔ پس کیا اللہ تعالیٰ کی اس نعمت اور اس کے اس فضل و احسان سے بڑھ کر بھی کوئی اور چیز ہے ؟ پس نہایت ہی بابرکت ہے وہ ذات، جس کے احسانات و برکات میں قرآن بھی شامل ہے۔ (الذی لہ ملک السموت والارض) ، ، وہ جس کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی۔ ، ، یعنی وہ اکیلا ہی زمین و آسمان میں تصرف کرتا ہے اور زمین اور آسمانوں میں رہنے والے، سب اللہ تعالیٰ کے مملوک اور غلام ہیں، اس کی عظمت کے سامنے فروتن، اس کی ربوبیت کے سامنے سرافگندہ اور اس کی رحمت کے محتاج ہیں۔ (ولم یتخذ ولداً ولم یکن لہ شریک فی الملک) ، ، اس نے کوئی اولاد بنائی ہے نہ اس کا بادشاہی میں کوئی شریک ہے۔ ، ، کوئی اس کا بیٹا یا شریک کیسے ہوسکتا ہے، حالانکہ وہ مالک ہے دیگر تمام لوگ اس کے مملوک ہیں، وہ قاہرو غالب ہے اور تمام مخلوق مقہور ہے۔ وہ ہر لحاظ سے بذاتہ غنی ہے اور تمام مخلوق ہر لحاظ سے اس کی محتاج ہے ؟ کوئی کیسے اقتدار میں اس کا شریک ہوسکتا ہے، حالانکہ تمام بندوں کی پیشانیاں اس کے قبضہ، قدرت میں ہیں، اس کی اجازت کے بغیر ان میں کوئی حرکت ہے نہ سکون اور نہ وہ کسی تصرف کا اختیار رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس شرک سے بہت بلند اور بالا تر ہے۔ جس کسی نے اس کے بارے میں یہ بات کہی ہے اس نے اس کی ویسی قدر نہیں کی جیسا کہ قدر کرنے کا حق ہے، اس لئے فرمایا : (وخلق کل شیء) ، ، اس نے ہر چیز کو پیدا کیا۔ ، ، یہ تخلیق عالم علوی، عالم سفلی، تمام حیوانات، نباتات اور جمادات کو شامل ہے۔ (فقدرہ تقدیراً ) ، ، اور اس کا مناسب اندازہ کیا۔ ، ، یعنی عالم علوی اور عالم سفلی کی ہر مخلوق کو ایسی تخلیق عطا کی جو اس کے لائق اور اس کے لئے مناسب ہے اور جو اس کی حکتم تقاضا کرتی ہے۔ جہاں تمام مخلوق کی شکل ایسے ہے کہ عقل صحیح یہ تصور بھی نہیں کرسکتی کہ وہ کسی ایسی شکل میں ہو جو موجودہ شکل و صورت کے خلاف ہو جس کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں بلکہ مخلوق واحد کا کوئی جزو اور کوئی عضو صرف اسی جگہ مناسب ہے جہاں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (سبح اسم ربک الاعلی، الذی خلق فسوی، والذی قدرا فھدی) (الاعلیٰ : 3-1/87) ، ، تسبیح بیان کیجئے اپنے عالی شان رب کے نام کی۔ جس نے (انسان کو) پیدا کیا اور اس کو نک سک سے برابر کیا اور جس نے اس کا اندازہ ٹھہرایا پھر اس کو راہ دکھائی۔ ، ، اور فرمایا : (ربنا الذی اعطیٰ کل شیع خلقہ ثمہ ھدی) (طہ 50/20) ، ، ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی تخلیق عطا کی پھر اس کو راہ دکھائی۔ ، ، جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عظمت اپنے کمال اور اپنے کثرت احسان کو بیان فرمایا اور یہ چیز اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ صرف اسی کو الہ محبوب و معظم ہونا چاہیے صرف اس کے لیے عبادت کو خالص کیا جائے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔۔۔ تب مناسب ہے کہ غیر اللہ کی عبادت کے بطلان کو بھی بیان کیا جائے، اس لئے فرمایا :
Ayah 25:3

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور (لوگوں نے) اس کے سوا اور معبود بنا لئے ہیں جو کوئی چیز بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کئے گئے ہیں اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے اور نہ جینا اور نہ مر کر اٹھ کھڑے ہونا

آیت نمبر 3 یہ عجیب ترین بات ہے اور ان کی بےوقوفی اور کم عقلی کی سب سے بڑی دلیل ہے بلکہ ان کے ظلم اور اپنے رب کے حضور ان کی جسارت پر بھی بہت بڑی دلیل ہے کہ انہوں نے کمال عجز سے موصوف ہستیوں کو اپنا معبود بنا لیا۔ ان کے خود ساختہ معبودوں کا عجز یہاں تک پہنچا ہوا ہے کہ وہ کسی چیز کی تخلیق پر قادر نہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں بلکہ ان میں سے بعض تو خود ان کے اپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں۔ (ولا یملکون لانفسھم ضراً ولا نفعاً ) ، ، اور وہ اپنے نفسوں کے لیے بھی نفع نقصان کے مالک نہیں ہے۔ ، ، خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ۔ یہاں سیاق نفی میں نکرہ کا استعمال ہے جو عموم پر دلالت کرتا ہے۔ (ولا یملکون عوتاً ولا حیواۃ ولا نشورا) ، ، اور نہ وہ اختیار رکھتے ہیں کسی کے مارنے کا اور نہ زندہ کرنے کا اور (نہ مرنے کے بعد دوبارہ) زندہ کرنے کا۔ ، ، احکام عقل میں سب سے بڑا حکم، ان خود ساختہ معبود ان کی الوہیت کے بطلان اور ان کے فساد کا حکم ہے، نیز سب سے بڑا حکم ان لوگوں کے فساد عقل کا حکم ہے، جنہوں نے ان کو معبود بنا کر اس ہستی کا شریک ٹھہرا دیا ہے جو بغیر کسی شراکت کے خالق کائنات ہے جس کے دست قدرت میں نفع و نقصان ہے، عطا کرنا اور محروم کرنا ہے، جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے، وہ ہستی قبروں میں پڑے ہوئے مردوں کو دوبارہ زندہ کر کے قیامت کے روز جمع کرے گی۔ اس نے لوگون کے لئے آخرت میں دو گھر بنائے، پہلا بدبختی، رسوائی اور عذاب کا گھر، یہ اس شخص کا گھر ہوگا جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو الہ بنا رکھا ہے، دوسرا کامیابی، خوش بختی اور دائمی نعمتوں کا گھر اور یہ اس شخص کا گھر ہوگا جس نے صرف اللہ تعالیٰ ہی کو اپنا معبود قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے قطعی اور واضح دلیل کے ذریعے سے توحید کی صحت اور شرک کے بطلان کو ثابت کرنے کے بعد رسالت کی صحت اور منکرین رسالت کے موقف کے بطلان کو ثابت کرنے کے لئے دلائل دیئے، چناچہ فرمایا :
Ayahs 25:4–6

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) من گھڑت باتیں ہیں جو اس (مدعی رسالت) نے بنا لی ہیں اور لوگوں نے اس میں اس کی مدد کی ہے یہ لوگ (ایسا کہنے سے) ظلم اور جھوٹ پر (اتر) آئے ہیں

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جس کو اس نے لکھ رکھا ہے اور وہ صبح و شام اس کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

کہہ دو کہ اس نے اس کو اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

آیت نمبر 4 یعنی اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والے، جن کے قرآن اور رسول کے بارے میں قول باطل کی بنا پر للہ تعالیٰ نے ان پر کفر واجب کیا۔۔۔ کہتے ہیں کہ یہ قرآن جھوٹ ہے جسے محمد ﷺ نے خود تصنیف کیا ہے، ایک بہتان ہے جسے محمد ﷺ نے گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیا ہے اور ایسا کرنے میں کچھ دوسرے لوگوں نے اس کی مدد کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ان کا انکار حق، ظلم اور باطل پر مبنی اقدام ہے جو کسی کی عقل میں نہیں آسکتا، حالانکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے احوال، آپ کے کامل صدق و امانت اور آپ کی کامل نیکی کی پوری پوری معرفت رکھتے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ محمد ﷺ اور دیگر تمام مخلوق کے لئے یہ قرآن تصنیف کرنا ممکن نہیں جو جلیل ترین اور بلند ترین درجے کا کلام ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ محمد ﷺ اس قرآن کی تصنیف میں مدد حاصل کرنے کے لئے کسی کے پاس نہیں گئے۔۔۔ پس کفار نے ظلم اور جھوٹ پر مبنی بات کہی ہے۔ ان کی ان باتوں میں سے ایک بات یہ ہے کہ یہ قرآن، جیسے محمد ﷺ لے کر آئے ہیں۔ (اساطیروالاولین اکتتابھا) یعنی یہ پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جو لوگوں میں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں اور انہیں ہر شخص آگے بیان کردیتا ہے محمد ﷺ نے بھی ان کہانیوں کو سن کر لکھ لیا ہے۔ (فھی تملی علیہ بکرۃً واصیلا) ، ، پس وہ صبح و شام اس پر پڑھی جاتی ہیں۔ ، ، ان کی اس بات میں متعدد گناہ کی باتیں ہیں : (1) ان کا رسول ﷺ پر جھوٹ اور عظیم جسارت کے ارتکاب کا بہتان لگانا، حالانکہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ نیک اور سچے ہیں۔ (2) قرآن کریم کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ جھوٹ اور افتراء ہے، حالانکہ یہ سب سے سچا، جلیل ترین اور عظیم ترین کلام ہے۔ (3) اس ضمن میں ان کا یہ دعویٰ کہ وہ ایسا کلام لانے کی قدرت رکھتے ہیں یعنی یہ مخلوق جو ہر پہلو سے ناقص ہے، خالق جو ہر لحاظ سے کامل ہے، کی ایک صفت یعنی صفت کلام میں اس کی برابری کرسکتی ہے ؟ (4) رسول ﷺ کے احوال معلوم ہیں یہ آپ کے احوال کو سب سے زیادہ جانتے ہیں انہیں خوب معلوم ہے کہ آپ لکھ سکتے ہیں نہ آپ کسی ایسے شخص کے پاس جاتے ہیں جو آپ کو لکھ کر دے۔ اس کے باوجود وہ یہ کہتے ہیں کہ آپ یہ قصے کہانیاں کسی کے پاس سے لکھ لاتے ہیں۔ اسی لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : (قل انزلہ اللذی یعلم السرا فی السموات والارض) یعنی اس قرآن عظیم کو اس ہستی نے نازل کیا ہے جس کے علم نے زمین و آسمان کی ہر چیز کا، خواہ وہ غائب ہو یا سامنے ہو، چھپی ہوئی ہو یا ظاہر ہو۔۔۔ احاطہ کر رکھا ہے۔ جیسے اللہ کا ارشاد ہے : (آیت) (الشعراء : 194-192/26) ، ، یہ رب العالمین کی طرف سے اتاری ہوئی چیز ہے۔ جسے لے کر روح الامین آپ کے دل پر اترا ہے تاکہ آپ ان لوگوں میں شامل ہوں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو ان کے انجام سے ڈرانے والے ہیں۔ ، ، اس میں ان پر حجت قائم کرنے کا پہلو یہ ہے کہ وہ ہستی ‘ جس نے اس قرآن کو نازل کیا ہے اور جس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے ‘ اس کے بارے میں یہ محال اور ممتنع ہے کہ کوئی مخلوق یہ قرآن گھڑ کر اس کی طرف منسوب کر دے اور کہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ‘ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرے اس کی جان و مال کو مباح قرار دے دے اور دعویٰ کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ‘ بایں ہمہ وہ اس شخص کی اس کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کرتا ہے ‘ ان کی جانوں اور شہروں کو اس کے حوالے کردیتا ہے۔۔۔ پس اللہ تعالیٰ کے علم کا انکار کیے بغیر ‘ کسی کے لیے اس قرآن کا انکار کرنا ممکن نہیں۔ بنی آدم میں سے سوائے دہرئیے فلاسفہ کے علم کا انکار کیے بغیر ‘ کسی کے لیے اس قرآن کا انکار کرنا ممکن نہیں بنی آدم میں سے سوائے دہرئیے فلسفہ کے ‘ کوئی ایسی بات نہیں کہتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا اپنے وسیع علم کا ذکر کرنا ‘ ان کو قرآن میں تدبر کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے ‘ اگر انہوں نے قرآن میں تدبر کیا ہوتا تو وہ اس کے علم اور احکام میں کوئی ایسی چیز ضرور دیکھتے جو قطعی طور پر دلالت کرتی کہ یہ قرآن غائب اور حاضر ‘ تمام امور کا علم رکھنے والی ہستی کے سوا ‘ کسی کی ضرف سے نہیں۔۔۔ ان کے توحید و رسالت کا ‘ جو ان پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔۔۔ انکار کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے ظلم کے حوالے کر کے چھوڑ نہیں دیا بلکہ ان کو و توبہ وانابت کی طرف بلایا اور ان کے ساتھ صعدہ کیا کہ اگر وہ توبہ کریں گے تو وہ ان کو اپنی رحمت اور مغفرت سے نوازے گا۔ فرمایا : (انہ کان غفور ا) ” وہ بہت بخشنے والا ہے۔ “ یعنی اس کا وصف یہ ہے کہ وہ مجرموں اور گناہ گاروں کو بخش دیتا ہے ‘ جب وہ مغفرت کے اسباب کام میں لاتے ہیں۔ یعنی وہ گناہوں سے رجوع کر کے توبہ کرتے ہیں۔ ( رحیما) وہ ان پر بہت رحم کرنے والا ہے کیونکہ اس نے ان کو سزا دینے میں جلدی نہیں کی حالانکہ انہوں نے اس کے تقاضوں کو پورا کردیا تھا۔ ان کی نافرمانیوں کے بعد اس نے ان کی توبہ قبول فرمائی ‘ ان کی برائیوں کے ارتکاب کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی برائیوں کو مٹا دیا ‘ اس نے ان کی نیکیوں کو قبول فرمایا ‘ اس نے اپنے سے دور بھاگنے کے بعد اپنی طرف رجوع کرنے والوں کو اور رو گردانی کے بعد اپنی طرف متوجہ ہونے والوں کو اطاعت مندوں اور رجوع کرنے والوں کی حالت کی طرف لوٹا دیا۔
Ayahs 25:7–14

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ کیسا پیغمبر ہے کہ کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اس پر کیوں نازل نہیں کیا گیا اس کے پاس کوئی فرشتہ کہ اسکے ساتھ ہدایت کرنے کو رہتا ؟

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا اس کی طرف (آسمان سے) خزانہ اتارا جاتا یا اس کا کوئی باغ ہوتا کہ اس میں سے کھایا کرتا اور ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک جادو زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ دیکھو تو یہ تمہارے بارے میں کس کس طرح باتیں کرتے ہیں سو گمراہ ہوگئے اور راستہ نہیں پاسکتے

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

وہ (خدا) بہت بابرکت ہے جو اگر چاہے تو تمہارے لئے اس سے بہتر (چیزیں) بنا دے (یعنی) باغات جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں نیز تمہارے لئے محل بنا دے

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

بلکہ یہ تو قیامت کو ہی جھٹلاتے ہیں اور ہم نے قیامت کے جھٹلانے والوں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

جس وقت وہ ان کو دور سے دیکھے گی (تو غضبناک ہو رہی ہوگی اور یہ) اسکے جوش (غضب) اور چیخنے چلانے کو سنیں گے

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب یہ دوزخ کی کسی تنگ جگہ میں (زنجیروں میں) جکڑ کر ڈالے جائیں گے تو وہاں موت کو پکاریں گے

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بہت سی موتوں کو پکارو

(آیت نمبر (7 یہ ان لوگوں کا قول ہے جنہوں نے رسول ﷺ کو جھٹلایا اور آپ کی رسالت میں جرح و قدع کی۔ انہوں نے اعتراض کیا کہ یہ رسول فرشتہ یا کوئی بادشاہ کیوں نہیں یا اس کی خدمت اور مدد کے لیے کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا ؟ چناچہ انہوں نے کہا : (مال ھذ الرسول) یعنی یہ کیسا شخص ہے جو رسالت کا دعویٰ کرتا ہے ( یا کل الطعام ) ” کھانا کھاتا ہے “ حالانکہ یہ تو بش رکی خصوصیات میں سے ہے۔ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ ان امور کا محتاج ہوتا بشر جن کا محتاج ہے۔ ( ویمشی فی الاسواق) یعنی خریدو فروخت کے لیے “ بازاروں میں چلتا پھرتا ہے “ اور یہ ان کے خیال کے مطابق ایک رسول کے لائق نہیں ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ( وما ارسلنا قبلک من المرسلین الا انھم لیا کلون اطعام و یمشون فی الاسواق) (الفرقان : (20/25” ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجیے ہیں وہ سب کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ “ (لو لا انزل الیہ ملک) یعنی اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ نازل کیا گیا جو اس کا ہاتھ بٹاتا ( فیکون معہ نڈیر ) ” پس وہ اس کے ساتھ ڈرانے والا ہوتا۔ “ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق آپ رسالت کا بوجھ اٹھانے کے لیے کافی نہیں ہیں اور نہ آپ کو رسالت کی۔ ذمہ داریاں اٹھانے کی طاقت اور قدرت حاصل ہے (او ینقی الیہ کنز ) ” یا ڈال دیا جاتا اس کی طرف کوئی خزانہ۔ “ یعنی ایسا مال جو بغیر کسی محنت مشقت کے اکٹھا کیا گیا ہو (اوتکون لہ جنۃ یا کل منھا ) ” یا اس کے لیے باغ ہوتا جس سے وہ کھاتا۔ “ یعنی اس باغ کی وجہ سے وہ طلب رزق کی خاطر بازاروں میں چلنے پھرنے سے مستغنی ہوجاتا (وقال الظلمون ) ” اور ظالموں نے کہا۔ ‘ ض یعنی ان کے اس اعتراض کا باعث ان کا اشتباہ نہیں ‘ بلکہ ان کا ظلم ہے (واقال الظلمون ) ” اور ظالموں نے کہا۔ “ یعنی ان کے اس اعتراض کا باعث ان کا اشتباہ نہیں ‘ بلکہ ان کا ظلم ہے (ان تتبعون الا رجلا مسحور) “ تم تو ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو۔ “ حالانکہ وہ آپ کی کامل عقل ‘ آپ کی اچھی شہرت اور تمام مطاعن سے سلامت اور محفوظ ہونے کے بارے میں خوب جانتے تھے۔ چونکہ ان کے یہ اعتراض بہت ہی عجیب و غیریب تھے اس لیے ان کے جواب میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (انظر کیف ضربوالک الامثال) ” دیکھو ‘ وہ آپ کے لیے کیسے مثالیں بیان کرتے ہیں۔ “ اور وہ یہ کہ وہ (رسول فرشتہ کیوں نہ ہوا ؟ اور اس سے بشری خصوصیات کیوں زائل نہ ہوئیں ؟ یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہوتا : کیونکہ وہ جو کچھ کہتا ہے وہ اس کی قدرت نہیں رکھتا یا اس پر کوئی خزانہ اتارا گیا ہوتا یا اس کی ملکیت میں کوئی باغ ہوتا جو اس کو بازاروں میں طلب معاش کے لیے مارے مارے پھرنے سے مستغنی رکھتا ؟ یا یہ کوئی سحر زدہ آدمی ہے ؟ (فضلوا فلا یستطیعون سبیلا) ” پس وہ گمراہ ہوگئے اور کسی طرح وہ راہ پر نہیں آسکتے۔ “ انہوں نے اس قسم کی متناقض باتیں کہی ہیں جو سراسر جہالت ‘ گمراہی اور حماقت پر مبنی ہیں۔ ان میں کوئی بھی ہدایت کی بات نہیں ‘ بلکہ ان میں کوئی ادنیٰ ساشبہ ڈالنے والی بات بھی نہیں جو رسالت میں قادح ہو۔ مجرد غورو فکر کرنے سے ایک عقلمند شخص کو اس کے بطلان کا قطعی یقین ہوجاتا ہے جو اس کو رد کرنے کے لیے کافی ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے غورو فکر اور تدبر کرنے کا حکم دیا ہے کہ آیا یہ اعتراضات رسول کی رسالت اور صداقت کے قطعی یقین کے بارے میں توقف کے موجب بن سکتے ہیں ؟ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ آپ کو اس دنیا میں خیر کثیر سے نوازنے کی قدرت رکھتا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (تبرک الذی ان شاء جعل لک خیر امن ذالک ) ” بابرکت ہے وہ ذات جو اگر چاہے تو آپ کے لیے ان سے بہتر چیزیں کر دے۔ “ یعنی ان چیزوں سے بھی بہتر جن کا انہوں نے ذکر کیا ہے پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (جنت تجری من تحتھا الانھر و یجعل لک قصورا) ” باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور کردے وہ آپ کے لیے محلات۔ “ یعنی بلند اور آراستہ محل۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں مگر ‘ چونکہ دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی حقیر چیز ہے ‘ اس لیے وہ اپنے انبیاء و اولیاء کو صرف اتنی ہی دنیا عطا کرتا ہے جتنی حکمت اس کا تقاضا کرتی ہے اور ان کے دشمنوں کے اعتراضات کہ انہیں بہت زیادہ رزق سے کیوں نہیں نوازا گیا ‘ محض ظلم اور جسارت ہے۔ چونکہ ان تمام اعتراضات و اقوال کا فساد واضح ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے بھی آگاہ فرما دیا ہے کہ ان کی طرف سے یہ تمام اعتراضات طلب حق کی خاطر صادر ہوئے ہیں نہ دلیل کی پیروی کے لیے بلکہ یہ تمام اعتراضات انہوں نے تعنت ‘ ظلم اور تکزیب حق کی وجہ سے کئے ہیں ‘ انہوں نے وہی بات کہی جو ان کے دل میں تھی بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (بل کذبوا بالساعۃ ) ” بلکہ انہوں نے قیامت کی تکزیب کی “ اور تکزیب کرنے والے اور اعتراض کے لیے لغزشیں تلاش کرنے والے شخص کے لیے ‘ جس کا مقصد اتباع حق نہیں ہوتا ہدایت کا کوئی راستہ نہیں اور نہ اس کے ساتھ بحث کرنے میں کوئی فائدہ ہے اس کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ اس پر عذاب نازل کردیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( واعتد نا لمن کذب بالساعۃ سعیر) ” اور ہم نے قیامت کی تکزیب کرنے والوں کے لیے بھڑکتی آگ تیار کی ہے۔ “ یعنی بڑی آگ جس کے شعلے بہت زیادہ بھڑک رہے ہوں گے ‘ جہنمیوں پر سخت غیظ و غضب ظاہر کرے گی اور اس کی پھنکار بہت شدید اور خوف ناک ہوگی۔ (اذا راتھم من مکان بعید) ” جب وہ ( آگ) ان کو دیکھے گی دور کی جگہ سے۔ “ یعنی اس سے پہلے کہ وہ جہنم میں پہنچیں اور جہنم ان کو وصول کرے (سمعوا لھا تغیظ) ” وہ (اپنے اوپر) اس کے غیظ و غضب کی آوازیں سنیں گے “ (وزفیر) ” اور دھاڑنا ( سنیں گے) ۔ “ کہ جس سے صدمے اور خوف کی وجہ سے کلیجیے پھٹ جائیں گے اور دل پارہ پارہ ہوجائیں گے اور قریب ہے کہ ان میں کوئی خوف اور دہشت کے مارے مر ہی جائے۔ جہنم اپنے خالق کے غضب کی وجہ سے ان پر غضب ناک ہوگی ‘ ان کے کفر اور برائی کی کثرت کی وجہ سے جہنم کے شعلے اور زیادہ ہوجائیں گے۔ (واذ القوامنھا مکانا ضیقا مقرنین) ” اور جب انہیں جکڑ کر جہنم میں کسی تنگ جگہ میں ڈال دیا جائے گا۔ “ یعنی عذاب کے وقت ‘ جہنم کے عین وسط میں ایک بہت ہی تنگ جگہ اور بھیڑ میں ‘ بیڑیوں اور زنجیروں میں باند کر ڈال دیا جائے گا۔ جب یہ اس منحوس جگہ پر پہنچیں گے اور انہیں بدترین حبس کا سامنا کرنا پڑے گا (دعواھنالک ثبورا) تو اس وقت وہ اپنے لیے موت ‘ رسوائی اور فضیحت کو پکاریں گے۔ انہیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ ظالم اور حد سے بڑھنے والے ہیں اور خالق کائنات نے انہیں ان کے اعمال کی پاداش میں اس جگہ بھیج کر انصاف کیا ہے۔ مگر یہ دعا اور استغاثہ ان کے کسی کام آئیں گے نہ انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکیں گے بلکہ ان سے کہا جائے گا : (لاتدعوا الیوم ثبورا واحد اوادعو ثبورا کثرا) ” آج تم ایک ہی موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں ( ہلاکتوں) کو پکارو ! “ یعنی اگر تم اس سے بھی کئی گنا زیادہ چیختے چلاتے رہو ‘ تو تمہیں حزن و غم کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ظالموں کی سزا بیان کرنے کے بعد یہ مناسب تھا کہ متقین کی جزا کا ذکر کیا جائے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
Ayahs 25:15–16

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

پوچھو کہ یہ بہتر ہے یا بہشت جاودانی جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ ہے ؟ یہ ان (کے عملوں) کا بدلہ اور رہنے کا ٹھکانا ہوگا

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

وہاں جو چاہیں گے ان کے لئے میسر ہوگا ہمیشہ اس میں رہیں گے یہ وعدہ خدا کو (پورا کرنا) لازم ہے اور اس لائق ہے کہ مانگ لیا جائے

(آیت نمبر 15) یعنی ان کی حماقت اور ان کے نفع کی بجائے تقصان کو اختیار کرنے کو بیان کرتے ہوئے ان سے کہہ دیجیے ! (اذلک) یعنی وہ عذاب جو میں نے تمہارے لیے بیان کیا ہے (خیر ام جنۃ الخلد التی و عد المتقون ) ” بہتر ہے یا وہ ہمیشگی والی جنت ‘ جس کا وعدہ متقین سے کیا گیا ہے ؟ “ جن کو تقویٰ نے بڑھا دیا ہے ‘ پس جو کوئی تقویٰ قائم کرتا ہے اس ل کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے۔ (کانت لھم جزاء) ” ہوگی وہ ان کے لیے بدلہ۔ “ یعنی متقین کے تقوی کی جزا کے طور پر (ومصیرا) اور ان کا ٹھکانا ہوگی ‘ جس کی طرف وہ لوٹیں گے جہاں وہ ابدالہ آباد تک رہیں گے۔ (لھم فیھا ما یشاء ون) یعنی انہیں جس چیز کی طلب ہوگی اور جنت میں جس چیز کی خواہش اور آرزو ہوگی وہ انہیں حاصل ہوگی ‘ مثلاً لذیذ مطعومات و مشروبات ‘ ملبوسات فاخرہ ‘ خوبصورت بیویاں ‘ بلند وبالا محل ‘ باغات پھلوں سے لدے ہوئے باغیچے ‘ میوے ‘ جن کی خوبصورتی ‘ ان کا تنوع اور ان کی کثرت اصناف دیکھنے والوں اور کھانے والوں کو خوش کر دے گی۔ جنت کی پھلواریوں اور باغات میں نہریں بہہ رہی ہوں گی ‘ وہ جدھر چاہیں گے ان نہروں کو موڑ سکیں گے ‘ وہ نہ بدلنے والے اس پانی کی نہروں کو جہاں چاہیں گے لے جاسکیں گے ‘ کچھ دودھ کی نہریں ہوں گی جن کا ذائقہ تبدیل نہیں ہوا ہوگا ‘ پینے والوں کی لذت کی خاطر کچھ نہریں شراب کی ہوں گی ‘ کچھ نہریں مصفیٰ شہد کی ہوں گے ‘ جن میں خوشبوئیں پھیلی ہوئی ہوں گی ‘ آراستہ اور مزین گھر ہوں گے ‘ سحر انگیز اور دلکش آوازیں ہوں گی اور وہ بھائیوں کی زیارت اور دوستوں کی ملاقاتوں سے لطف اندوز ہوں گے۔ اور ان تمام تعمتوں سے اعلیٰ تر رب رحیم کے دیدار اور اس کے کلام کے سماع سے لطف اندوز ہونا ‘ اس کے قرب اور رضا کی سعادت حاصل کرنا ‘ اس کی ناراضی سے مامون ہونا ان نعمتوں کا دوام اور وقت گزرنے کے ساتھ ان تمام نعمتوں کا بڑھتے چلے جانا ہے۔ (کان) ” ہے (یہ) “ جنت میں داخل ہونا اور جنت میں پہنچنا (علی ربک وعد مسؤلا) ” آپ کے رب کے ذمے قابل درخواست وعدہ۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اپنی زبان حال اور زبان قال سے ‘ اللہ تعالیٰ سے سوال کریں گے۔ پس ان دونوں گھروں میں سے کون سا گھر اچھا ہے کہ اس کو ترجیح دی جائے ؟ اے عقل مندو ! ان دونوں قسم کے عمل کرنے والوں ‘ یعنی دارشقاوت کے اعمال رکھنے والوں اور دار سعادت کے اعمال رکھنے والوں میں سے کون سے لوگ فضیلت ‘ عقل اور فخر کے مستحق ہیں ؟ حقواضح اور راہ راست روشن ہوگئی ہے اب کسی افراط پسند کے پاس دلیل کو ترک کرنے کا کوئی عذر نہیں۔ اے وہ ذات گرامی ! جس نے کچھ لوگوں کے لیے شقاوت اور کچھ لوگوں کے لیے سعادت کا فیصلہ کیا ہے ‘ ہم تیرے حضور اس بات کے امیدوار ہیں کہ تو ہمیں ان لوگوں میں شامل کردے جن کے لیے تو نے بھلائی اور اپنے دیدار کا شرف لکھ دیا ہے اور اے اللہ ! ہم بدبختوں کے احوال سے تیری مدد مانگتے ہیں اور تجھ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں
Ayahs 25:17–20

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور جس دن (خدا) ان کو اور ان کو جن ہیں یہ خدا کے سوا پوجتے ہیں جمع کرے گا تو فرمائے گا کیا تم میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود گمراہ ہوگئے تھے ؟

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

وہ کہیں گے تو پاک ہے ہمیں یہ بات شایاں نہ تھی کہ تیرے سوا اوروں کو دوست بناتے لیکن تو نے ہی ان کو اور ان کے باپ دادا کو برتنے کی نعمتیں دیں یہاں تک کہ وہ تیری یاد کو بھول گئے اور یہ ہلاک ہونے والے لوگ تھے

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

تو (کافرو) انہوں نے تو تم کو تمہاری بات سے جھٹلا دیا پس (اب) تم (عذاب) نہ پھیر سکتے ہو (کسی سے) مدد لے سکتے ہو اور جو شخص تم میں سے ظلم کرے گا ہم کو اس کو بڑے عذاب کا مزہ چکھائیں گے

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے ہیں سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تمہیں ایک دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے کیا تم صبر کرو گے ؟ اور تمہارا پروردگار تو دیکھنے والا ہے

(آیت نمبر (17 قیامت کے روز مشرکین اور ان کے خود ساختہ معبودوں کے احوال کے بارے میں اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ ان کے خود ساختہ معبود ان سے براءت کا اظہار کریں گے اور ان کی تمام کوششیں رائگاں جائیں گی۔ فرمایا : (ویوم یحشرھم) ” اور اس دن اکٹھا کرے گا ان کو۔ “ یعنی ان تکزیب کرنے والے مشرکین کو اکٹھا کرے گا (وما یعبدون من دون اللہ فیقول ) ” اور ان کو بھی جن کی وہ عبادت کرتے تھے اللہ کے سوا ‘ اور کہے گا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ ان مشرکین کو جھڑکنے کی خاطر ان کے جھوٹے معبودوں سے مخاطب ہو کر کہے گا : (ء انتم اضللتم عبادی ھو لاء ام ھم ضلوا السبیل ) ” کیا تم نے میرے بندوں کو گمراہ کیا تھا یا وہ تھا یا وہ خود ہی راستے سے بھٹک گئے تھے ؟ “ یعنی کیا تم نے انہیں اپنی عبادت کا حکم دیا تھا اور اس کو ان کے سامنے آراستہ کیا تھا یا یہ خود ان کی اپنی کارستانی تھی ؟ ( قالوا سبحنک ) ” وہ کہیں گے ‘ تو پاک ہے۔ “ وہ اللہ تعالیٰ کو مشرکین کے شرک سے پاک گردانیں گے اور خود کو شرک سے بری الذمہ قرار دیتے ہوئے کہیں گے : (ما کان ینبغی لنا ) ” یہ ہماری شان کے لائق نہیں “ اور نہ ہم ایسا کر ہی سکتے ہیں کہ تیرے سوا کسی اور کو اپنا سرپرست ‘ والیو مددگار بنائیں ‘ اس کی عبادت کریں اور اپنی حاجتوں میں اس کو پکاریں۔ جب ہم تیری عبادت کرنے کے محتاج ہیں اور تیرے سوا کسی اور کی عبادت سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں تب ہم کسی کو اپنی عبادت کا کیسے حکم دے سکتے ہیں ؟ ایسا نہیں ہوسکتا۔ تو پاک ہے ( ان تتخذ من دونک من اولیاء ) ” اس بات سے کہ ہم تیرے سوا کوئی دوست بنائیں۔ “ ان کا یہ قول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مول کی مانند ہے : ( آیت واذا قال اللہ ہر یعیس) (المائدہ (117-1165:” جب اللہ کہے گا اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو ؟ حضرت عیسیٰ جواب دیں گے تو پاک ہے ! میری شان کے لائق نہیں کہ میں کوئی ایسی بات کہتا جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے کوئی ایسی بات کہی ہوتی تو وہ تیرے علم میں ہوتی کیونکہ جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو بات تیرے دل میں ہے میں اسے نہیں جانتا بیشک تو علام الغیوب ہے۔ تو نے جو مجھے حکم دیا تھا میں نے اس کے سوا انہیں کچھ نہیں کہا کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب اور تمہارا رب ہے۔ “ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ( ویوم یحشو ھم جمیع ثم یقول للملئکۃ اھو لاء ایا کم کانو یعبدون۔ قالو سبحنک انت ولینا من دونھم بل کانوا یعبدون الجن اکثرھم بھم مومنون) (سبا : (41-40/ ” جس روز وہ ان سب کر اکٹھا کرے گا پھر فرشتوں سے کہے گا کیا یہ لوگ تممہاری عبادت کیا کرتے تھے ؟ تو وہ جواب میں عرض کریں گے تو پاک ہے ‘ ان کو چھوڑ کر ہمارا ولی تو تو ہے ‘ حقیقت یہ ہے کہ وہ ہمیری نہیں ‘ بلکہ وہ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے اور ان میں سے اکثر انہیں کم منتے تھے۔ “ اور فرمایا : (واذا حشر الناس کانو لھم اعد اء و کانو بعباد تھم کفرین) (الاحقاف (6/42” جب تمام لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا تو اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کردیں گے۔ “ جب انہیوں نے اس بات سے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیا کہ انہیوں نے غیر اللہ کی عبادت کی طرف ان کو بلایا یا ان کو گمراہ کیا ہو۔ تو انہوں نے مشرکین کی گمراہی کا اصل سبب کا ذکر کرتے ہوئے کہا : ( ولکن متعتھم واباء ھم) یعنی تو نے ان کو اور ان کے آباؤ اجداد کو دنیا کی لذات و شہوات اور اس کے دیگر مطالب سے فائدہ اٹھانے دیا (حتی نسوا الذکر ) ” یہاں تک کہ وہ نصیحت کو بھلا بیٹھے۔ “ لذات دنیا میں مشغول اور اس کی شہوت میں مستغرق ہو کر۔ پس انہوں نے اپنی دنیا کی تو حفاظت کی ‘ لیکن اپنے دین کو ضائع کردیا ( وکانو قوما بورا) ” اور تھی وہ ہلاک ہی ہونے والی قوم۔ “ ( بائرین) ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جن میں کوئی بھلائی نہ ہو وہ کسی اصلاح کی طرف راغب نہیں ہوتے اور وہ ہلاکت کے سوا کسی چیز کے لائق نہیں ہوتے۔ پس انہوں نے اس مانع کا ذکر کیا جس نے ان کو اتباع ہدایت سے روک دیا اور وہ ہے ان کا دنیا سے متمتع ہونا ‘ جس نے ان کو راہ راست سے ہٹا دیا۔۔۔ پس ان کے لیے ہدایت کا تقاضا معدوم ہے یعنی ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں جب تقاضا معدوم اور مانع موجود ہو تو آپ جو شر اور ہلاکت چاہیں وہ ان کے اندر دیکھ سکتے ہیں۔ پس جب ان مشرکین کے معبود ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی عبادت کرنے والوں کو زجرو توبیخ کرتے ہوئے فرمائے گا : ( فقد کذبو کم بما تقولون) ” انہوں نے تو تمہیں تمہاری باتوں میں جھٹلا دیا۔ “ یعنی وہ اس بات کا انکار کریں گے کہ انہیوں نے تمہیں اپنی عبادت کا حکم دیا تھا یا تمہارے اس شرک پر راضی تھے یا یہ کہ وہ تمہارے رب کے پاس تمہاری سفارش کریں گے۔ وہ تمہارے اس ثعم باطل کی تکذیب کریں گے اور وہ تمہارے سب سے بڑے دشمن بن جائیں گے۔ پس تم پر عذاب واجب ہوجائے گا۔ ( فما تستطیعون صرفا) ” پس نہیں طاقت رکھو گے تم اس کو پھیرنے کی۔ “ یعنی تم بالفعل اپنے سے اس عذاب کو ہٹا سکو گے نہ فدیہ وغیرہ کے ذریعے سے اس کو دور کرسکو گے ( و لا نصرا) ” اور نہ مدد کرنے کی۔ “ یعنی تم اپنے عجز اور کسی حامی و ناصر کے نہ ہونے کی وجہ سے ‘ اپنی مدد نہ کرسکو گے۔ یہ گمراہ اور جاہل مقلدین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے اور یہ ‘ جیسا کہ آپ نے دیکھا ان کے حق میں انتہائی برا فیصلہ اور ان کا بدترین ٹھکانا ہے۔ رہا ان میں سے حق کے ساتھ عناد رکھنے والا شخص ‘ جس نے حق کو پہچان کر اس سے منہ موڑ لیا ‘ تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ومن یظلم منکم) یعنی تم میں سے جو کوئی ظلم اور عناد کی بنا پر حق کو چھوڑ دیتا ہے تو (نذقہ عذاباکبیرا) ہم اس کو اتنے بڑے عذاب کا مزا چکھائیں گے جس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تکذیب کے اعتراض ( مال ھذا الرسول یا کل الطعام و یمشی فی الاسواق) (الفرقان (7/25:” یہ یسا رسول ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ “ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : ( وما ارسلنا قبلک من المرسلین الا انھم لیا کلون الطعام ویمشون فی الاسواق) ” اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب کے سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے۔ “ پس ہم نے ان کو کوئی ایسی مخلوق نہیں بنایا جو کھانا نہ کھاتی ہو اور نہ ہم نے ان کو فرشتے بنایا۔ پس وہ آپ کے لیے نمونہ ہیں۔ رہا فقرو غنا ‘ تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ‘ اس کی حکمت پر مبنی آزمائش ہے جیسا کہ فرمایا : ( وجعلنا بعضکم لبعض فتنۃ) ” اور بنایا ہم نے ایک کو دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ۔ “ یعنی رسول ان لوگوں کے لیے آزمائش ہے جن کی طرف اسے مبعوث کیا گیا ہے ‘ نیز اس لیے مبعوث کیا گیا ہے تاکہ اطاعت کرنے والوں اور نافرمانی کرنے والوں کے درمیان فرق واضح ہوجائے اور رسولوں کو ہم نے آزمایا مخلوق کو دعوت دینے کے ذریعے سے۔ مال دار فقیر کے لیے اور فقیر مال دار کے لیے آزمائش ہے اور اسی طرح اس دنیا میں مخلوق کی تمام قسمیں آزمائش ‘ ابتلاء اور امتحان میں مبتلا ہیں۔ اس امتحان اور آزمائش سے مقصود یہ ہے۔ (اتصبرون) کہ تم صبر کر کے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہو تاکہ تمہارا امولا تمہیں ثواب عطا کرے یا صبر نہیں کرتے اور اس طرح تم عذاب کے مستحق ٹھہرتے ہو ؟ ( وکان ربک بصیرا) ” اور آپ کا رب خوب دیکھنے والا ہے۔ “ وہ تمہارے احوال کو دیکھتا اور جانتا ہے اور وہ اس شخص کو چن لیتا ہے جس کے متعلق وہ جانتا ہے کہ وہ رسالت کا اہل ہے اور وہ اسے اپنی فضیلت کے لیے مختص کرلیتا ہے وہ تمہارے اعمال کا علم رکھتا ہے ‘ وہ تمہیں ان کی جزا دے گا اگر اچھے اعمال ہوں گے تو اچھی جزا ہوگی اور برے اعمال ہوں گے تو بری جزا ہوگی۔
Ayahs 25:21–23

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہ نازل کیے گئے یا ہم اپنی آنکھ سے اپنے پروردگار کو دیکھ لیں ؟ یہ اپنے خیال میں بڑائی رکھتے ہیں اور (اسی بنا پر) بڑے سرکش ہو رہے ہیں

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن گنہگاروں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں ہوگی اور کہیں گے (خدا کرے تم) روک لیے (اور) بند کردیے جاؤ

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور جو انہوں نے عمل کئے ہوں گے ہم ان کی طرف متوجہ ہوں گے تو انکو اڑتی خاک کردیں گے

آیت 21 سے 23 وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ و وعید کو جھٹلایا، جن کے دل میں وعید کا خوف ہے نہ خالق سے ملاقات کی امید۔۔۔ انہوں نے کہا : (لو لاانزل علینا الملئکۃ او نری ربنا) یعنی فرشتے کیوں نہ اترے جو تیری رسالت کی گواہی دیتے اور تیری تائید کرتے یا مستقل رسول نازل ہوتے یا ہم اپنے رب کو دیکھتے وہ ہمارے ساتھ کلام کرتا اور خود کہتا کہ یہ میرا رسول ہے اس کی اتباع کرو ؟ رسول ﷺ کے ساتھ یہ معارضہ کسی اعتراض کی بناء پر نہیں بلکہ اس کا سبب صرف تکبر، تغلب اور سرکشی ہے۔ (لقد استکبروا فی انفسھم) ” انہوں نے اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ رکھا ہے۔ “ کیونکہ انہوں نے اس قسم کے اعتراض کئے اور اتنی جسارت کا مظاہرہ کیا۔ اسے محتاج اور بےبس لوگو ! تم ہو کون جو اللہ تعالیٰ کے دیدار کا مطالبہ کرتے ہو اور سمجھتے ہو کہ رسالت کی صحت کا ثبوت اللہ تعالیٰ کے دیدار پر موقوف ہے۔ اس سے بڑا تکبر اور کیا ہوسکتا ہے ؟ (وعتو عتوا کبیرا) ” اور انہوں نے بڑی سرکشی کی۔ “ یعنی انہوں نے حق کے خلاف قساوت اور صلابت کا رویہ اختیار کیا۔ پس ان کے دل پتھر اور فولاد سے زیادہ سخت تھے وہ حق کے لئے نرم پڑتے تھے نہ خیر خواہی کرنے والوں کی آواز پر کان دھرتے تھے، اس لئے ان کو کسی وعظ و نصیحت نے کوئی فائدہ نہ دیا اور جب ان کے پاس ان کو ان کے انجام سے ڈرانے والا آیا تو انہوں نے اس کی پیروی نہ کی بلکہ انہوں نے مخلوق میں سب سے زیادہ سچی اور خیر خواہ ہستی کا اور اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کا اعراض و تکذیب کے ساتھ استقبال کیا، اس سے بڑھ کر اور کونسی سرکشی ہوسکتی ہے ؟ بنا بریں ان کے اعمال باطل ہو کر اکارت گئے اور وہ سخت خسارے میں مبتلا ہوگئے۔ (یوم یرون الملئکۃ) ” جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے۔ “ جن کے نزول کا انہوں نے مطالبہ کیا تھا۔ (لا بشری یومئذ للمجرمین) ” اس دن مجرموں کے لئے کوئی خوش خبری نہ ہوگی۔ “ یہ اس وجہ سے کہ وہ اپنے جرم اور عناد پر جمے رہنے کی بنا پر فرشتوں کو صرف اس وقت دیکھیں گے جب وہ ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لئے آئیں گے۔ پس یہ پہلا موقع ہوگا جب موت کے وقت ان پر فرشتے نازل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ولو تری اذ الظلمون فی غمرت الموت والملئکۃ باسطوا ایدیھم اخرجوا انفسکم الیوم تجزون عذاب الھون بما کنتم تقولون علی اللہ غیرا لحق وکنتم عن ایتۃ تستکبرون) (الانعام : 6/93) ” کاش آپ ان ظالم مشرکوں کو اس وقت دیکھیں، جب یہ موت کی سختیوں میں مبتلا ہوں گے اور فرشتے جان قبض کرنے کے لئے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے، ( اور کہتے ہوں گے) نکالو اپنی جانیں، آج تمہیں انتہائی رسوا کن عذاب کی سزا دی جائے گی یہ سزا اس پاداش میں ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولا کرتے تھے اور اس کی آیتوں سے تکبر کیا کرتے تھے۔ “ دوسرا موقع وہ ہے جب قبر میں ان کے پاس منکر نکیر آئیں گے، پس وہ ان سے ان کے رب، ان کے نبی اور ان کے دین کے بارے میں پوچھیں گے اور وہ کوئی ایسا جواب نہ دے پائیں گے جو ان کو عذاب سے نجات دلا سکے۔ پس ان پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی نازل ہوگی اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کردئیے جائیں گے۔ تیسرا موقع وہ ہے جب قیامت کے روز فرشتے انہیں جہنم کی طرف ہانک کرلے جائی گے اور پھر ان کو جہنم کے فرشتوں کے حوالے کردیں گے جو ان کو سزا اور عذاب دینے پر مقرر ہوں گے۔ پس یہی وہ چیز ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں اور اگر وہ اپنے جرائم پر جمے رہے تو لازمی طور پر اس کا سامنا کریں گے اور اس وقت فرشتوں سے پناہ مانگیں گے، ان سے فرار ہونے کی کوشش کریں گے، لیکن ان کے لئے کوئی فرار کی راہ نہ ہوگی۔ (ویقولون حجراً محجورًا) ” اور وہ کہیں گے یہ محروم کیے گئے ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : (یمعشرا الجن والانس ان استطعتم ان تنفذوا من اقطار السموات والارض فانفذوا لا تنفذون الا بسلطن) (الرحمن : 55/33) ” اے جن وانس کے گروہ ! تمہیں زمین و آسمان کے کناروں سے نکل جانے کی قدرت ہے تو نکل جاؤ، تم طاقت کے سوا نکل نہیں سکتے۔ “ (وقدمنا اِلیٰ ما عملوا من عمل) یعنی ان کے وہ اعمال جن کے بارے میں انہیں امید ہے کہ وہ نیکی کے کام ہیں اور ان کے لئے انہوں نے مشقت اٹھائی ہے (فجعلنہ ھباء منثورا) ” پس ہم ان کو اڑے ہوئے ذرات کی طرح کردیں گے۔ “ یعنی ان کا سب کیا دھرا باطل کردیں گے، وہ گھاٹے میں رہیں گے اور ان کو اجر سے محروم کردیا جائے گا اور ان کو سزا دی جائے گی۔ کیونکہ یہ اعمال ایسے شخص سے صادر ہوئے ہیں جس میں ایمان کا فقدان ہے اور جو اللہ اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو مخلص مومن، رسولوں کی تصدیق اور ان کی اتباع کرنے والے سے صادر ہو۔
Ayah 25:24

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

اس دن اہل جنت کا ٹھکانا بھی بہتر ہوگا اور مقام استراحت بھی عمدہ ہوگا

آیت 24 یعنی قیامت کے ہونل ناک اور سخت مصیبت والے دن (اصحب الجنۃ) ” اہل جنت “ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے، انہوں نے نیک کام کئے اور اپنے رب سے ڈرتے رہے۔ (خیر مستقرا) ” وہ بہتر ہوں گے باعتبار ٹھکانے کے “ جہنمیوں سے (واحسن مقیلا) ” اور خواب گاہ بھی عمدہ ہوگی۔ “ یعنی ان کا تھکانا جنت میں ہوگا، وہ آرام اور راحت میں قیلولہ کریں گے کیونکہ وہ کامل نعمتوں پر مشتمل، جن میں تکدر کا کوئی شائبہ تک نہ ہوگا، بہت اچھا اور مکمل طور پر آرام دہ ٹھکانا ہوگا۔ اس کے برعکس اہل جہنم کا ٹھکانا بہت برا ٹھکانا ہوگا۔۔۔ یہ اسلوب بیان اسم تفصیل کے اس باب تے تعلق رکھتا ہے جس میں دوسری طرف اس میں سے کوئی چیز نہیں ہوتی کیونکہ اہل جہنم کے ٹھکانے اور قیلولے کی جگہ میں کوئی بھلائی نہیں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اللہ خیرا اما یشرکون) (النمل : 28/59) ” اللہ تعالیٰ بہتر ہے یا وہ معبود ان باطل جنہیں یہ لوگ اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رہے ہیں ؟ “
Ayahs 25:25–29

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اور جس دن آسمان ابر کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے نازل کئے جائیں گے

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

اس دن سچی بادشاہی خدا ہی کی ہوگی اور وہ دن کافروں پر (سخت) مشکل ہوگا

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور جس دن (ناعاقبت اندیش) ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا (اور کہے گا) کہ اے کاش میں نے پیغمبر کے ساتھ رشتہ اختیار کیا ہوتا

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

ہائے شامت کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

اس نے مجھ کو (کتاب) نصیحت کے میرے پاس آنے کے بعد بہکا دیا اور شیطان انسان کو وقت پر دغا دینے والا ہے

آیت 25 سے 29 اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن کی عظمت، اور اس دن پیش آنے والی سختی اور کرب اور دلوں کو ہلا دینے والے مناظر کو بیا کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ویوم تشقق السماء بالغمام) ” اور جس دن آسمان پھٹ جائے گا ساتھ بادل کے۔ “ یہ وہ بادل ہوگا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانوں سے نزول فرمائے گا۔ پس آسمان پھٹ جائیں گے اور تمام آسمانوں کے فرشتے نیچے اتر آئیں گے اور صف در صف کھرے ہوجائیں گے یا تو تمام ایک ہی صف بنا کر تمام خلائق کو گھیر لیں گے یا اس کی صورت یہ ہوگی کہ ایک آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اس کے ساتھ دوسرے آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اور اسی طرح ساتوں آسمانوں کے فرشتے در صف موجود ہوں گے مقصد یہ ہے کہ فرشتے نہایت کثرت اور قوت کے ساتھ نازل ہوں گے۔ ان میں سے کوئی فرشتہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کلام نہیں کرسکے گا۔ (اس روز جب یہ حال ہوگا) تو اس کمزور آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس نے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کیا، اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے کام کئے اور توبہ کئے بغیر گناہوں کا بوجھ اٹھائے اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوگا۔ اللہ تعالیٰ جو بادشاہ اور خلاق کائنات ہے، ان کے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا جس میں ذرہ بھر ظلم و جور نہ ہوگا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وکان یوما علی الکفرین عسیرا) یہ دن اپنی سختی اور صعوبت کی وجہ سے کفار کے لئے بہت کٹھن ہوگا اور ان کے تمام امور ان کے لئے بہت مشکل ہوجائیں گے۔ اس کے برعکس مومن کا معاملہ آسان اور اس کا بوجھ بہت ہلکا ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (یوم نحشر المتقین الی الرحمن وفدا۔ ونسوق المجرمین الی جھنم وردا) (مریم 19/85۔ 86) ” جس روز ہم اہل تقویٰ کو اکٹھا کرکے رحمان کے حضور مہمانوں کے طور پیش کریں گے اور مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسے ہانک کرلے جائیں گے۔ “ (الملک یومئذ) ” بادشاہی اس روز “ یعنی قیامت کے روز (الحق للرحمن) ” رحمان ہی کے لئے صحیح طور پر ہوگی۔ “ یعنی مخلوقات میں سے کسی کے لئے کوئی اختیار یا اختیار واقتدار کی کوئی صورت نہیں ہوگی جس طرح کہ وہ دنیا میں تھے۔ بلکہ بادشاہ اور ان کی رعایا۔ آزاد اور غلام، اشرف اور نیچ سب برابر ہوں گی اور جس چیز سے دل کو راحت اور نفس کو اطمینان حاصل ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روزاقتدار کی اپنے اسم مبارک (الرحمن) کی طرف اضافت کی ہے۔ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر زندہ کے لئے عام ہے، اس نے تمام کائنات کو لبریز کر رکھا ہے، دنیا وآخرت اللہ تعالیٰ کی رحمت سے معمور ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہر ناقص کامل ہوجاتا ہے اور اس کی رحمت سے ہر نقص زائل ہوجاتا ہے۔ اس کی رحمت پر دلالت کرنے واے اسمائے حسنیٰ ان اسمائے حسنیٰ پر غالب ہیں جو اس کے غضب پر دلالت کرتے ہے۔ اس کی رحمت کو اس کے غضب پر سبقت حاصل ہے، اس کی رحمت غضب پر غالب ہے۔ پس اس کے لئے سبقت اور غلبہ ہے۔ یہ کمزور آدمی اس لئے پیدا کیا گیا ہے اور اسے عزت و تکریم اس لئے عطا کی گئی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنی نعمت کا اتمام کرے اور اسے اپنی نعمت سے ڈھانپ لے۔ لوگ تذلل، خضوع اور انکسار کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر انتظار کریں گے کہ وہ کیا حکم جاری کرتا ہے درآنحالیکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرتا ہے جتنا وہ خود اپنے آپ پر رحم کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے والدین سے بھی زیادہ رحیم ہے۔ پس آپ کا کیا خیال ہے وہ اپنے بندوں کے ساتھ کیسا معاملہ کرے گا ؟ اور اللہ تعالیٰ صرف اسی کو ہلاک کرے گا جو خود ہلاک ہونا چاہتا ہے، اس کی رحمت کے دائرے سے صرف وہی خارج ہوگا جس پر بدبختی غالب آگئی ہو اور جس پر عذاب واجب ٹھہر گیا ہو۔ (ویوم یعض الظالم) ” اور جس دن کاٹے گا ظالم ‘ اپنے شرک، کفر اور انبیاء و رسل کی تکذیب کی بنا پر (علی یدیہ) ” اپے ہاتھوں کو۔ ‘ تاسف، حسرت اور حزن و غم کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا۔ (یعقول یلیتنی اتخذت مع الرسول سبیلا) ” وہ کہے گا، ہائے افسوس ! میں نے پکڑا ہوتا رسول کے ساتھ راستہ۔ “ یعنی رسول ﷺ پر ایمان، آپ کی تصدیق اور آپ کی اتباع کا راستہ۔ (یویلتی لیتنی لم اتخذ فلانا) ” ہائے افسوس، کاش نہ پکڑا ہوتا میں نے فلاں کو “ یعنی شیاطین انس وجن کو (خلیلا) یعنی اپنا جگری دوست اور مخلص ساتھی۔ میں نے ان ہستیوں سے عداوت رکھی جو میرے سب سے زیادہ خیر خواہ، میرے ساتھ سب سے زیادہ بھلائی کرنے والے اور مجھ پر سب سے زیادہ مہربان تھے اور اس کو دوست بنایا جو درحقیقت میرا سب سے بڑا دشمن تھا۔ اس کی دوستی نے بدبختی، خسارے، رسوائی اور ہلاکت کے سوائی اور ہلاکت کے سوا کوئی فائدہ نہ دیا۔ (لقد اضلنی عن الذکر بعد اذ جاء بی) ” بلاشبہ میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد اس نے مجھے اس سے بھٹکا دیا۔ “ کیونکہ اس نے دھوکے اور فریب سے اس کی گمراہی کو اس کے سامن مزین کردیا۔ (وکان الشیطن للانسان خذولا) ” اور ہے شیطان، انسان کو دغا دین والا۔ “ یعنی شیطان انسان کے سامنے باطل کا آراستہ کرتا ہے اور حق کو بری صورت میں پیش کرتا ہے، اسے بڑی بڑی آرزوئیں دلاتا ہے بعد ازاں اس سے علیحدہ ہو کر اس سے برا ءت کا اظہار کرتا ہے جیسا کہ قیامت کے روز جب تمام معاملات چکا دئیے جائیں گے اور اللہ تبارک و تعالیٰ مخلوق کے حساب کتاب سے فارغ ہوگا تو شیطان اس روز اپنے پیروں کاروں سے کہے گا : (وقال الشیطن لما قٗضی الامر ان اللہ وعدکم وعد الحق ووعد تکم فاخلفتکم وما کان لی علیکم من سلطن الا ان دعوتکم فاستجبتم لی فلا تلومونی ولوموا انفسکم ما انا بمصرخکم وما انتم بمصرخی انی کفرت بما اشر کتمون من قبل) (ابراہیم : 4/22) ” اور جب تمام معالات کا فیصلہ کردیا جائے گا تو شیطان کہے گا، بیشک اللہ نے جو تم سے وعدہ کیا تھا وہ سچا وعدہ تھا اور میں نے تمہارے ساتھ جتنے وعدے کئے تھے ان میں کوئی وعدہ پورا نہ کیا، میرا تم پر کوئی اختیار نہ تھا۔ میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ میں نے تمہیں اپنے راستے کی طرف بلایا اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ پس اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو۔ اب میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں نہ تم میری کرسکتے ہو، اس سے پہلے تم نے جو مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا تھا میں اس سے بھی براءت کا اعلان کرتا ہوں۔ “ پس بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ غور کرے اور اس وقت سے پہلے کہ گناہوں کا تدارک ممکن نہ رہے بندے کو چاہیے کہ اپنے گناہوں کا تدارک کرلے۔ اور اس ہستی کو اپنا دوست بنائے جس کی دوستی میں سعادت ہے اور اسے اپنا دشمن سمجھے جس کو دشمن سمجھنے میں فائدہ اور اس کے دوست بنانے میں سرا سر نقصان ہے۔ واللہ الموفق۔
Ayahs 25:30–31

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور پیغمبر کہیں گے کہ اے پروردگار ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے گنہگاروں میں سے ہر پیغمبر کا دشمن بنادیا اور تمہارا پروردگار ہدایت دینے اور مدد کرنے کو کافی ہے

آیت نمبر 30 سے 31 (وقال الرسول) اور کہا رسول ﷺ نے “ اپنے رب کو پکارتے، قرآن سے ان کی روگردانی کا شکوہ کرتے اور ان کے رویے پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے : (یرب ان قومی) ” اے میرے رب ! میری قوم نے۔ “ جن کی ہدایت اور جن میں تبلیغ کرنے کے لئے تو نے مجھے مبعوث کیا تھا (اتخذوا ھذا القرآن مھجورا) انہوں نے اس قرآن سے اعراض کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیا ہے حالانکہ ان پر واجب ہے کہ وہ اسے کے فیصلے کے سامن سر تسلیم خم کرتے، اس کے احکام کو قبول کرتے اور اس کی پیروی کرتے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ ان کے گزشتہ آباء و اجداد نے بھی ایسا ہی کیا تھا جیسا یہ کہ کر رہے ہیں، چناچہ فرمایا : (وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا من المجرمین) ” اور اسی طرح بنایا ہم نے ہر نبی کا دشمن، گناہ گاروں میں سے۔ “ یعنی ان لوگوں میں سے جو بھلائی کی صلاحیت رکھتے تھے نہ اس کے لائق تھے بلکہ اس کے برعکس وہ انبیاء و رسل کی مخالفت کرتے تھے، ان کی دعوت کو ٹھکراتے تھے اور باطل دلائل کے ذریعے سے ان کے ساتھ جھگڑتے تھے۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ حق ہمیشہ باطل پر غالب آتا ہے، حق پوری طرح واضح ہوتا ہے کیونکہ باطل کا حق کے ساتھ معارضی ایک ایسا امر ہے جو حق کو اور زیادہ واضح اور استدلال کو درجہء کمال تک پہنچا دیتا ہے اور یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل حق کو کس عزت و تکریم سے سرفراز کرے گا اور اہل باطل کے ساتھ کیا سلوک کرے گا، لہٰذا آپ ان کی باتوں پر غمزدہ نہ ہوں اور ان پر حسرت اور غم کے مارے آپ کی جان نہ گھلے۔ ) وکفی بربک ھادیا) ” اور آپ کو راہ دکھانے کے لئے آپ کا رب کافی ہے۔ “ پس آپ کو اپنا مطلوب و مقصود اور دنیا و آخرت کے تمام مصالح حاصل ہوں گے۔ (ونصیرا) ” اور مددگار بھی۔ “ وہ آپ کے دشمنوں کے خلاف آپ کی مدد کرے گا آپ کے دینی اور دنیاوی معاملات میں آپ سے تکلیف دہ امور کو دور کرے گا، اس لئے آپ اللہ تعالیٰ ہی کا کافی سمجھئے اور اسی پر بھروسہ کیجئے۔
Ayahs 25:32–33

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ اس طرح آہستہ آہستہ اس لئے اتارا گیا کہ اس سے تمہارے دل کو قائم رکھیں اور اسی واسطے ہم اسکو ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے ہیں

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور یہ لوگ تمہارے پاس جو (اعتراض کی) بات لاتے ہیں ہم تمہارے پاس اسکا معقول اور خوب مشرح جواب بھیج دیتے ہیں

آیت 32 سے 33 یہ کفار کے جملہ اعتراضات میں سے ایک اعتراض ہے جو ان کو ان کے نفس نے سمجھایا ہے، چناچہ ان کا قول ہے : (لو لا نزل علیہ القرآن جملۃ واحدۃ) یعنی وہ کونسی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے تمام قرآن ایک ہی دفعہ نازل نہیں ہوا، جیسا کہ اس سے پہلے کتابیں نازل ہوئیں ؟ بلکہ اس کا ایک ہی دفعہ نازل ہونا تو زیادہ اچھا ہے۔ اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا : (کذلک) یعنی اسی طرح ہم نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کرکے نازل کیا ہے (لنثبت بہ فوادک) ” تاکہ ہم اس کے ذریعے سے آپ کے دل کو مضبوط کریں۔ “ کیونکہ جب بھی آپ پر قرآن کا کوئی حصہ نازل ہوتا تھا آپ کے اطمینان اور ثابت قدمی میں اضافہ ہوجاتا تھا، خاص طور پر اس وقت جب اسباب قلق وارد ہوتے تو آپ کا اطمینان بڑھ جاتا تھا، کیونکہ کسی قلق کے پیش آن پر قرآن کا نازل ہونا برمحل ہے اور بہت زیادہ ثبات کا باعث ہے اور اس سے زیادہ فائدہ مند ہے کہ اس واقعہ سے پہلے نازل ہوا ہو اور اس سبب کے وقوع پر یاد آئے۔ (ورتلنہ ترتیلا) ” ہم نے اسے ٹھہر تھہر کر ہی پڑھ سنایا ہے۔ “ یعنی ہم نے اسے آہستہ آہستہ بتدریج نازل کیا۔ یہ تمام آیات کریمہ اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے اعتناء پر دلالت کرتی ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو رسول ﷺ کے احوال اور آپ کے دینی مصالح کے مطابق نازل فرمایا، اس لئے فرمایا : (ولا یاتونک بمثل) ” اور یہ لوگ کوئی بھی ایسی مثال آپ کے سامنے پیش نہیں کریں گے۔ “ جس سے وہ حق کے ساتھ معارضہ (مقابلہ) کریں اور آپ کی رسالت کا انکار کریں۔ (الا جئنک بالحق واحسن تفسیرا) ” مگر ہم اس کا سچا جواب اور عمدہ توجیہ آپ کو بتادیں گے۔ “ یعنی ہم نے آپ پر قرآن نازل کیا جو اپنے معانی میں جامع، اپنے الفاظ میں واضح اور بیان کامل کا حامل ہے۔ اس کے تمام معانی حق اور صداقت پر مبنی ہیں جس میں کسی بھی پہلو سے باطل کا کوئی شائبہ نہیں، تمام اشیاء کے بارے میں اس کے الفاظ اور حدود انتہائی واضح، مفصل اور معانی کو کامل طور پر بیان کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ علم میں بحث کرنے والے محدث ” معلم یا واعظ کے لئے مناسب ہے کہ وہ اپنے رب کی تدبیر کی پیروی کرے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کے احوال کے مطابق تدبیر فرمائی اسی طرح اس عالم کو چاہیے کہ وہ مخلوق کے معاملے کی اسی طرح تدبیر کرے جب بھی کوئی ایسا موجب اور موقع پیش آئے تو موقع کی مناسبت سے لوگوں میں آیات قرآنی، احادیث نبوی اور مواعظ بیان کرے۔ نیز ان آیات کریمہ میں جہمیہ کا رد ہے جو قرآن کریم کی تفسیر میں تکلف سے کام لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی بہت سی نصوص کو ان کے ظاہری معنوں پر محمول نہیں کیا جائے گا، ان کے اصل معانی ان معانی سے مختلف ہیں جو ظاہر میں سمجھ میں آتے ہیں تب اگر ان کی اس بات کو تسلیم کرلیا جائے تو قرآن کی یہ تفسیر ” احسن تفسیر “ نہیں ہوگی انکے زعم باطل کے مطابق، احسن تفسیر تو وہ ہے، جس کے لئے وہ معانی میں تحریف کرتے ہیں۔
Ayah 25:34

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

جو لوگ اپنے مونہوں کے بل دوزخ کی طرف جمع کیے جائیں گے ان کا ٹھکانا بھی برا ہے اور وہ راستے بھی بہکے ہوئے ہیں

آیت 34 اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے احوال اور ان کے انجام کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : (یحشرون علی وجوھھم) ” وہ منہ کے بل جمع کیے جائیں گے۔ “ یعنی ان کو جمع کئے جانے کا منظر بدترین منظر ہوگا۔ عذاب کے فرشتے انہیں (چہروں کے بل) گھسیٹ رہے ہوں گے (الی جھنم) ” جہنم کی طرف۔ “ جس میں ہر قسم کا بدترین عذاب اور عقاب جمع ہے۔ (اولئک) یعنی جن کا حال یہ ہے (شرمکانا) ان کی جگہ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے والوں کی جگہ کی نسبت سے بدترین جگہ ہے۔ (واضل سبیلا) ” اور بہت زیادہ گمراہ راستے والے ہیں۔ “ یہ اسلوب بیان اس تفصیل کے اس باب میں سے ہے جس کے بالمقابل دوسرا پہلو موجود نہیں ہوتا۔ پس اہل ایمان کی جگہ بہترین ٹھکانا ہوگی۔ اس دنیا میں ان کو راہ راست کی طرف راہنمائی عطا کی جاتی ہے اور آخرت میں انہیں نعمت والے باغوں میں داخل کیا جائے گا۔