25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 25:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

بڑی ہی برکت والی ہے وہ ذات جس نے نازل فرمایا اپنے کرم بےپایاں سے اس فیصلہ کن کتاب کو اپنے بندہ خاص پر تاکہ وہ خبردار کرنے والا ہو دنیا جہاں کے لوگوں کے لیے۔3

1{ تَبَارَکَ } کا معنیٰ و مفہوم ؟ : { تَبَارَکَ } کا مادہ " ب ر ک " ہے۔ جس کے معانی میں اس قدر عموم اور وسعت ہے کہ ایک لفظ تو درکنار کسی ایک جملے سے بھی اس کو ادا نہیں کیا جاسکتا۔ اس مادہ سے مصدر " برکۃ " بھی آتا ہے جس کے معنیٰ کثرت، بہتات اور زیادتی وغیرہ کے آتے ہیں۔ اور " بروک " بھی آتا ہے جس میں لزوم، ثبات اور دوام وغیرہ کا مفہوم بھی شامل ہوجاتا ہے۔ اسی لئے اونٹ کے بیٹھنے کو " بروک الابل " کہا جاتا ہے۔ اور اسی مادہ کو جب باب تفاعل میں لے جایا گیا تو اس میں مزید مبالغہ آگیا۔ چناچہ کہا جاتا ہے " تَبَارَکَتِ النَّخْلَۃُ " ۔ " کھجور کا درخت بہت بڑا ہوگیا "۔ اور اصمعی (رح) کہتے ہیں میں نے ایک اعرابی کو سنا کہ وہ ایک اونچے ٹیلے پر چڑھ کر دوسروں سے کہہ رہا ہے " تَبَارَکْتُ عَلَیْکُمْ " ۔ " میں تم سب سے اونچا ہوگیا ہوں "۔ اور اللہ پاک کے لئے یہ لفظ اپنے تمام معانی کے لحاظ سے اور ان کے اعلیٰ مفاہیم کے اعتبار سے ثابت ہے۔ سو آپ دیکھئے کہ اربوں کھربوں انسان اور دوسری طرح طرح کی اور بیشمار مخلوق اس کی کس قدر نعمتوں سے مستفید ہوتی رہی ہے اور برابر مستفید ہو رہی ہے۔ اور اس کا ایک ایک لمحہ کس قدر متنوع نعمتوں میں بسر ہوتا ہے۔ اور اس کی ان تمام مخلوقات کے لئے طرح طرح کے سامان حیات اور قسما قسم کے اسباب زیست اس کثرت اور فراوانی سے اور اتنے حیرت انگیز طریقے سے اس پوری کائنات میں اس قدر وسعت اور اس درجہ کثرت سے پھیلے بکھرے ہیں کہ ہر ایک کو اپنی طبیعت و منشا کے مطابق اپنی ضروریات زندگی سے متعلق ہر چیز ہر جگہ ملتی ہے۔ اور اس قدر ملتی ہے کہ اس کو شمار کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں۔ اور خدا ہی جانتا ہے کہ یہ سلسلہ کب سے جاری ہے اور کب تک چلتا رہے گا۔ یہ تو ہوئیں مادی اور ظاہری نعمتیں۔ اور جہاں تک اس کی عطا فرمودہ باطنی اور معنوی نعمتوں کا تعلق ہے تو وہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہیں اور ان میں سب سے بڑی اور عظیم الشان نعمت ہدایت کی نعمت ہے جس سے سرفرازی درحقیقت دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن اور اس کا ذریعہ و سامان ہے۔ سو اللہ پاک نے اپنے بندوں کو اس نعمت سے سرفراز فرمانے کے لئے بھی بےمثال انتظام فرمایا اور ہمیشہ سے فرمایا۔ اور جس کی آخری اور کامل شکل یہ قرآن حکیم ہے جو گزشتہ تمام آسمانی کتابوں کی جامع، ان کی جملہ اصولی اور بنیادی تعلیمات کی حامل و محافظ اور ان سب کتابوں کیلئے " مہمین " و نگران اور صحیح اور غلط کے مابین اور جائز اور ناجائز کے درمیان اور حلال و حرام کے درمیان فرق وتمیز کرنے والی کتاب حکیم ہے۔ اور اس قدر کمال جامعیت کے ساتھ کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہ آج تک کبھی ہوئی اور نہ قیامت تک کبھی ممکن ہے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ شَرَّفَنَا بِنِعْمَۃِ ھٰذَا الْکَتَابِ وَبالْاِیْمَانِ بِہ ۔ اللّٰھُمَّ زِدْنَا مِنْہ وثبتنا علیہ یا ذا الجلال والاکرام - 2 نعمت قرآن کی تذکیر و یاددہانی : سو نعمت قرآن اور اس کی عظمت شان کی تذکیر و یاددہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے اتارا اس فیصلہ کن کتاب کو اپنے بندئہ خاص پر۔ یعنی { عبدہ } کی اضافت تعظیم و تشریف کے لئے ہے۔ اور مراد اس سے وہ عبد کامل اور بندہ خاص ہیں جو کہ عبدیت کاملہ کے کامل نمونہ اور عظیم مظہر تھے۔ ایسا کامل نمونہ اور عظیم مظہر کہ اس کی کوئی نظیر و مثال پوری تاریخ بشریت میں نہ اس سے پہلے کبھی پائی گئی اور نہ آئندہ قیامت تک کبھی پائی جاسکے گی۔ یعنی نبی امی محمد عربی ﷺ اور جن کی تعلیمات مقدسہ کے صدقے اور ارشادات عالیہ کے طفیل آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی امت میں بھی عبدیت و عبودیت کے بیشمار ایسے کامل نمونے دنیا میں پائے گئے جن پر نوری فرشتے بھی رشک کریں اور حاملین عرش بھی ان کے لئے دعائیں کریں۔ اور آپ ﷺ کا یہ سلسلہ فیض۔ انشاء اللہ العزیز۔ قیامت تک جاری رہے گا جو کہ دراصل نُبّوتِ مُحمّدِیّہ ۔ عَلٰی صاحِبِھَا الْفُ اَلْف تَحِیّۃ ۔ کا ایک امتیازی وصف اور اعجازی پہلو ہے۔ اور عبدیت میں کمال ہی اللہ پاک کے یہاں اصل میں مطلوب و محمود ہے۔ اسی لئے قرآن حکیم میں جابجا اس کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے مگر اس کے باوجود آج کے کچھ جاہلوں کو پیغمبر کی اس عبدیت و بشریت کا انکار ہے۔ اور اس کے انکار کے لئے وہ صریح نصوص تک میں طرح طرح کی تاویلات سے کام لیتے اور تحریفات کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے منکرین نبوت و رسالت کے شبہات کا جواب بھی دے دیا گیا اور یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ جس ہستی پر قرآن حکیم کے اس فرقان کامل و بےمثال کو نازل فرما دیا گیا اس کی صداقت و حقانیت کو جانچنے پرکھنے کیلئے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔ اور اس کے باوجود جو ان کو ماننے اور ان پر ایمان لانے میں پس و پیش سے کام لیتے ہیں وہ بڑے ہی حرمان نصیب ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 25:2

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

جس کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی، جس نے نہ کسی کو اولاد ٹھہرایا اور نہ کوئی اس کا شریک ہے اس کی بادشاہی میں، اور اس نے بلاشرکت غیرے پیدا فرمایا ہر چیز کو اور اس کو نہایت حکمت کے ساتھ ایک خاص اندازے پر رکھا

3 اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس نے کسی کو اپنی اولاد نہیں ٹھہرایا "۔ واضح رہے کہ یہاں پر یہ نہیں فرمایا کہ اس کا کوئی بیٹا نہیں ۔ " لَمْ یَکُنْ لَّہ وَلَدٌ " ۔ بلکہ یوں فرمایا کہ اس نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا ۔ { لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا } ۔ کیونکہ ایسا تو شاید ہی کوئی گمراہ شخص ہوا ہو جس نے یہ کہا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اسی طرح کوئی اولاد ہوتی ہے جس طرح کہ اس کی مخلوق کے یہاں ہوتی ہے۔ بلکہ اصل گمراہی اس بارے میں لوگوں کے اندر شیطان کے اغواء واضلال اور اس کی دھوکہ دہی کی بناء پر ہمیشہ یہ رہی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے کچھ ہستیوں کو ان کی محبت وتعلق وغیرہ کے باعث اور ان کی چاہت کی بناء پر اپنا بیٹا ۔ اکلوتا بیٹا ۔ اور شریک بنادیا وغیرہ۔ چناچہ ایسے ہی مفروضوں کی بنا پر ابنیت مسیح اور ابنیت عزیر جیسے شرکیہ عقیدے گھڑے گئے۔ اور اسی بنا پر امت محمدیہ کے بھی بہت سے گمراہ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کی امت کی مختلف پاکیزہ اور بزرگ ہستیوں کے بارے میں اس طرح کے شرکیہ عقیدے گھڑے اور ان کو حاجت روا و مشکل کشا اور خدا جانے کیا کچھ مانا۔ اور کچھ نے اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنے خود ساختہ ائمہ کو معصوم قرار دے کر نبیوں کے برابر، بلکہ ان سے بھی افضل و اعلیٰ قرار دیا کہ یہ سب ہستیاں چونکہ اللہ تعالیٰ کی محبوب اور پیاری ہستیاں ہیں، اس لئے جو چاہیں کرا سکتی ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کا یہ ارشاد کہ اس نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا ایسے تمام شرکیہ عقائد اور مفروضوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔ پس خالق کے ساتھ اس کے بندوں کا رشتہ خالق و مخلوق اور عابد و معبود کا رشتہ ہے اور بس۔ اس کے سوا اور کوئی بھی رشتہ و علاقہ ان کے درمیان ماننا عقل کے بھی خلاف ہے اور نقل کے بھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس نے نہ کسی کو اپنی اولاد بنایا اور نہ ہی اس کی کوئی اولاد ہوسکتی ہے۔ وہ ایسے تمام تصورات سے پاک اور اعلیٰ وبالا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اسی وحدہ لا شریک خداوند قدوس نے اپنے بندئہ خاص پر یہ فرمان حمید اتارا ۔ فلہ الحمد و لہ الشکر قبل کل شیء وبعد کل شیء - 4 جس نے ہر چیز کو ایک خاص انداز پر رکھا : سو ارشاد فرمایا کہ " اسی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا اور اس کو ایک خاص اندازے پر رکھا "۔ سو ہر چیز کا خالق بھی وہی ہے اور اس پر حکم و تصرف بھی اسی کا چلتا ہے۔ اور اسی نے ہر چیز کو ایک خاص اندازے پر اور خاص دائرے میں ر کھا۔ ہر کسی کو ایک خاص حد تک آزادی دی۔ ہر ایک کی عمر، ترقی اور سعی کو ایک خاص حد تک محدود کردیا۔ وہ اس کے اذن کے بغیر اس سے کبھی بھی اور کسی بھی طرح باہر نہیں نکل سکتی۔ بلاشبہ یہ سب اسی اور صرف اسی قادر مطلق کی شان ہوسکتی ہے۔ پس ہر طرح کی عبادت و بندگی بھی اسی کا اور صرف اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو یہ اس کی توحید اور یکتائی کی ایک کھلی دلیل اور واضح برہان ہے۔ اس نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے ہر چیز کو پیدا کرنے کے بعد اس طرح ایک خاص اندازے پر ٹھہرا دیا ہے کہ کسی کی مجال نہیں کہ وہ بال برابر اس اندازے سے کم و بیش کرلے یا آگے پیچھے ہوسکے۔ انسان کو پیدا فرمایا تو اس کی پیدائش، اس کی موت، اس کی جسامت، اس کی رنگت اور اس کی ظاہری اور باطنی صلاحیتوں کو ایک خاص اندازے پر رکھا۔ اور ان میں سے ہر چیز کی ایک حد مقرر فرما دی۔ کوئی اس سے باہر نہیں نکل سکتا۔ سورج چاند وغیرہ سیارے ہیں تو ان میں سے ہر ایک اپنے مخصوص دائرے کے اندر محو گردش ہے۔ مجال نہیں کہ کوئی ذرہ بھی ادھر سے ادھر ہوجائے۔
Ayah 25:3

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

مگر اس کے باوجود لوگوں نے اس کے سوا ایسے خودساختہ معبود بنا رکھے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں اور پیدا کرنا تو درکنار وہ خود اپنے لیے بھی نہ کسی نقصان کو ٹالنے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ کسی نفع کو حاصل کرنے کا اور نہ وہ مرنے کا کوئی اختیار رکھتے ہیں نہ جینے کا اور نہ ہی دوبارہ اٹھنے کا۔1

5 غیر اللہ کے پجاریوں کی مت ماری کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ " ایک طرف تو اس پوری کائنات کے خالق ومالک کی قدرت و حکمت اور اس کی عظمت شان کا یہ عالم ہے اور دوسری طرف غیر اللہ کے پجاریوں کی مت ماری کا نمونہ بھی ملاحظہ ہو کہ وہ اس کے سوا ایسے من گھڑت اور خود ساختہ معبودوں کی پوجا کرتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ اور وہ خود اپنے لیے بھی نہ کسی نفع کا اختیار رکھتے ہیں نہ نقصان کا اور نہ ہی وہ اپنی زندگی و موت کے مالک ہیں اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کا۔ واضح رہے کہ یہاں پر " گھڑے جاتے ہیں " یا " بنائے جاتے ہیں " ۔ " یَصْنَعُوْنَ " ۔ نہیں فرمایا گیا۔ بلکہ " پیدا کئے جاتے ہیں " ۔ { یُخْلَقُوْن } ۔ فرمایا گیا ہے۔ نیز فرمایا گیا ہے کہ نہ زندگی اور موت کا کوئی اختیار رکھتے ہیں اور نہ دوبارہ اٹھنے کا۔ پس معلوم ہوا کہ اس سے صرف لکڑی پتھر وغیرہ کے وہ بےجان اور مصنوعی بت ہی مراد نہیں جن کو مشرک و بت پرست لوگ اپنے ہاتھوں سے تراش خراش کر کے بناتے اور پوجتے تھے اور پوجتے ہیں۔ جیسا کہ ہمارے یہاں کے اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے۔ اور اس طرح یہ لوگ مخلوق پرستی کا چور دروازہ اپنے لئے کھلا رکھنا چاہتے ہیں اور قرآن حکیم کی اس طرح کی آیات کریمہ کے بارے میں جو وہ فوراً کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو بتوں کے بارے میں ہیں اور بس۔ سو ۔ { یخْلقُوْنَ } ۔ کے اس ایک لفظ سے ایسے لوگوں کی اس طرح کی تمام تاویلات و تحریفات کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند کر دئے گئے کہ اس سے واضح ہوگیا کہ اللہ پاک کے سوا کسی بھی مخلوق کو پوجنا پکارنا شرک ہے خواہ وہ کوئی بھی ہستی اور کیسی ہی مخلوق کیوں نہ ہو ؟ ۔ سبحان اللہ ۔ کیا کہنے اعجاز قرآنی کے کہ ایک ہی لفظ سے شرک کے تمام دروازے بند کردیئے ہیں ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ۔ بہرکیف یہاں پر خودساختہ اور فرضی معبودوں کے پجاریوں کی مت ماری اور ان کے اوندھے اور اندھے پن کے ایک نمونہ و مظہر کی نشاندہی فرمائی گئی ہے کہ ایک طرف تو وہ خاص خالق ومالک حقیقی ہے جس نے ہر چیز کو پیدا فرما کر اس کو ایک خاص اندازے پر رکھ دیا ہے۔ اور اس قدر باریکی، پابندی اور پختگی کے ساتھ کہ ان میں سے کوئی بھی چیز اس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتی۔ اور وہ خالق ومالک ہر کسی سے اور ہر طرح سے غنی و بےنیاز ہے اور زندگی و موت کے تمام اختیارات اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں۔ اور ہر کسی کے نفع و نقصان کا مالک وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور دوسری طرف عقل کے اندھے اور مت کے مارے ان مشرکوں کے یہ خودساختہ اور فرضی معبود ہیں جو کہ عاجز و بےبس اور خود مخلوق ہیں۔ اور غنی و بےنیاز ہونے کی بجائے وہ خود محتاج، بلکہ سراپا احتیاج ہیں۔ اور دوسروں کو نفع نقصان کیا پہنچاتے وہ خود اپنے لیے بھی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ اور کسی طرح کی زندگی و موت کا ان کو کوئی اختیار نہیں اور نہ ہی وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کا کوئی اختیار رکھتے ہیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو کس قدر اندھے اور اوندھے ہیں وہ لوگ جو ان معبودوں کی پوجا کرتے ہیں جن کی عاجزی اور بےبسی کا یہ عالم ہے ۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ و ضلال وسوء وانحراف۔
Ayah 25:4

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ یہ قرآن تو محض ایک من گھڑت چیز ہے جسے اس شخص یعنی پیغمبر نے خود ہی گھڑ لیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس کام پر اس کی مدد کی ہے بلاشبہ اس طرح لوگوں نے ارتکاب کیا ہے ایک بڑے ظلم اور نرے جھوٹ کا۔

6 منکرین کی طرف سے قرآن حکیم پر افتراء ہونے کا الزام : سو اس طرح کفار کی طرف سے قرآن حکیم کے بارے میں من گھڑت اور افتراء ہونے کا سنگین الزام و افتراء لگایا گیا۔ اور یہ کفار ناہنجار کا ایک بڑا افتراء و بہتان تھا جو وہ نبی ٔ اکرم ۔ ﷺ ۔ پر لگاتے تھے۔ اور جس کو دانایان فرنگ اور مستشرقین غرب اب تک لگاتے چلے آ رہے ہیں کہ یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ یہ محمد ﷺ کا اپنا ساختہ پرداختہ اور من گھڑت کلام ہے۔ جس میں کچھ دوسرے لوگوں نے بھی آپ کی مدد و معاونت کی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور روایات کے مطابق اس ضمن میں یہ بدبخت کچھ لوگوں کے نام بھی لیتے تھے جو کہ اہل کتاب میں سے تھے اور مکہ مکرمہ میں رہتے تھے۔ اور یہ تینوں آزاد کردہ غلام تھے۔ یعنی عباس جو کہ خویطب بن عبدالعزی کا آزاد کردہ غلام تھا اور یسار جو کہ علاء بن الحضرمی کا آزادہ کردہ غلام تھا اور جبر جو کہ عامر بن ربیعہ کا آزاد کردہ غلام تھا۔ سو الزام لگانے والے ان کفار ناہنجار کا کہنا یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ ان تینوں سے سیکھ کر یہ کلام بنا لائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ حالانکہ یہ تینوں غیر عرب تھے۔ ان کی اپنی زبان ہی عربی نہیں تھی جبکہ قرآن حکیم کا نزول عربی مبین میں ہوا ہے۔ چناچہ قرآن حکیم میں دوسرے مقام پر اس حقیقت کو صاف وصریح طور پر وا شگاف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ۔ { لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْہِ اَعْجَمِیٌّ وَہٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ } ۔ پھر دل کے اندھے ان الزام تراشوں سے کوئی پوچھے کہ خود ان لوگوں میں سے یا ان کے ان مالکوں میں سے جن کے یہ غلام تھے کسی نے بھی اس طرح کی کوئی بات کیوں نہ کہی کہ محمد یہ کلام فلاں فلاں اشخاص سے سیکھ کر بناتے ہیں۔ پھر جس کلام معجز نظام کی کوئی نظیر و مثال تم لوگ سب مل کر بھی نہیں لاسکتے حالانکہ تمہیں اپنی فصاحت و بلاغت پر بڑا ناز بھی ہے اور قرآن حکیم تم کو بار بار اور پورے زور و شور سے چیلنج بھی دے رہا ہے۔ تو پھر یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ چند ایسے اشخاص جن کی اپنی زبان بھی عربی نہیں وہ ایسا کلام بنا کر محمد ۔ ﷺ ۔ کو سکھلاتے ہیں۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حق سے منہ موڑنے اور نور ہدایت سے محروم ہوجانے کے بعد انسان کس قدر ڈھیٹ اور کتنا بےشرم اور ظالم بن جاتا ہے کہ وہ اس حد تک لچر اور بےہودہ الزام عائد کرنے میں بھی کوئی شرم و حیا محسوس نہیں کرتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان منکروں کا یہ الزام اتنا واہی اور اس قدر لچر ہے کہ قرآن حکیم نے اس کی تردید اور اس کا جواب دینے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی۔ بس اتنا فرما دیا ۔ { فَقَدْ جَائُ وْا ظُلْمًا وّزُوْرا } ۔ کہ اس طرح ان لوگوں نے ایک بہت بڑے ظلم اور جھوٹ کا ارتکاب کیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اسکا بھگتان ان کو بہرحال بھگتنا پڑیگا۔ پس ان کو لمنے والی ڈھیل سے کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 25:5

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ قرآن تو بس کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کو جن کو اس شخص نے کسی سے لکھوا لیا ہے پھر وہ اس کو صبح و شام پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔2

7 منکرین کا قرآن کو قصوں کہانیوں کا مجموعہ قرار دینا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ قرآن تو محض پہلے لوگوں کے قصوں کہانیوں کا مجموعہ ہے دن کو اس شخص نے کسی سے لکھوا لیا ہے جو اس کو صبح وشام پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔ سو ظالموں نے بڑے ظلم اور جھوٹ کا رتکاب کیا ہے۔ سو ان کے اس کہنے کا مطلب یہ تھا کہ نہ تو اس کتاب میں کوئی ایسی حکمت ہے جس سے خواہ مخواہ مرعوب ہوا جائے اور نہ ہی اس کے پیش کرنے والے کا اس سے متعلق دعوی صحیح ہے کہ یہ اسمانی وحی اور خدائی کلام ہے جو بطور اضطرار اس پر نازل کیا جاتا ہے۔ سو ایسی کوئی بات نہیں بلکہ یہ تو محض قوموں اور ان کے پیغمبروں سے متعلق من گھڑت قصے اور کہانیاں ہیں جن کو اس شخص نے کسی سے لکھوا لیا ہے اور وہی صبح وشام ان کو پڑھ پڑھ کر سناتے جاتے ہیں اور بس۔ سو یہ ان ظالموں کی ظلم، بےانصافی اور مت ماری کا ایک نمونہ اور مظہر ہے اور اس قماش کے نمونے جابجا اور طرح طرح سے پائے جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 25:6

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

کہو اس کلام حق کو تو اتارا ہے اس ذات اقدس و اعلیٰ نے جو جانتی ہے آسمانوں اور زمین کے بھیدوں کو بیشک وہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے

8 یہ کلام حق سراسر اللہ تعالیٰ کا اتارا ہوا کلام ہے : یعنی تم مانو یا نہ مانو۔ حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ اس کلام معجز نظام کو اس ذات اقدس نے نازل فرمایا ہے جو آسمانوں اور زمین کی چھپی باتوں کو جانتی ہے۔ اور تمہاری ان گستاخیوں پر اس نے تمہیں جو ڈھیل دے رکھی ہے تو وہ اس لئے کہ وہ بڑا ہی بخش نہار اور درگزر کرنے والا ہے۔ فوراً نہیں پکڑتا۔ بلکہ وہ ڈھیل پر ڈھیل دئیے چلا جاتا ہے تاکہ جس نے سنبھلنا ہو سنبھل جائے۔ نہیں تو پھر اپنا پیمانہ جرم اچھی طرح لبریز کرلے تاکہ اس کے مطابق وہ اپنے کئے کا بھرپور بدلہ پا سکے۔ سو تم لوگ اگر اے منکرو اور باغیو ! اب بھی باز آجاؤ تو اس کی رحمت بےپایاں تمہیں اب بھی اپنی آغوش میں لے سکتی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ جل جلالہ و عم نوالہ ۔ بہرکیف یہ کلام حق اس ذات اقدس و اعلیٰ کا اتارا ہوا کلام ہے جو کہ آسمانوں اور زمین کی تمام چھپی ہوئی باتوں کو جاننے والی ذات ہے۔ لہذا اس ذات اقدس و اعلیٰ کو نہ تو اس کی کوئی ضرورت ہے کہ وہ اس کلام کی تالیف اور اس کے اتارنے کے سلسلہ میں کسی سے کوئی مدد لے اور نہ ہی دوسری کوئی ایسی ہستی ممکن ہوسکتی ہے جو اس ذات اقدس و اعلیٰ کی کوئی مدد کرسکے۔ اور اس کتاب حکیم کی ایک ایک سطر سے واضح ہے کہ جس ذات نے اس کو اتارا ہے وہ اس کائنات کے تمام بھیدوں سے واقف و آگاہ ہے۔ اور اس کے آغاز و انجام اور اس کے ظاہر و باطن سب سے پوری طرح باخبر ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 25:7

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اس کے پاس کوئی ایسا فرشتہ کیوں نہ بھیج دیا گیا جو اس کے ساتھ رہ کر نہ ماننے والوں کو ڈراتا دھمکاتا رہتا ؟

9 کفار کی طرف سے پیغمبر پر انکے بشری تقاضوں کی بنا پر اعتراض : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے "۔ سو ان اعجوبہ پرستوں کے لئے یہ بات سمجھنا بڑا مشکل تھا کہ کوئی شخص عام انسانوں کی طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا بھی ہو اور وہ نبی اور رسول بھی ہوجائے۔ ان دونوں میں سے کوئی ایک ہی چیز ہوسکتی ہے۔ یعنی ان دونوں کے درمیان منافات ہے۔ اور یہی حال آج کے اعجوبہ پرستوں کا بھی ہے کہ ان دونوں چیزوں کی یکجائی کو یہ بھی ماننے کے لئے تیار نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کل کے ان اعجوبہ پرستوں نے ان بشری خصائص کو دیکھتے ہوئے حضرات انبیائے کرام کی نبوت و رسالت کا انکار کیا اور آج کے یہ اعجوبہ پرست نبوت و رسالت کے ماننے کے دعویدار بن کر ان کی بشریت کے منکر ہو رہے ہیں۔ بنیادی غلط فہمی دونوں کی اصل میں ایک ہی رہی ہے کہ نبوت اور بشریت دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتیں۔ جبکہ حقیقت اور امر واقعہ یہ ہے کہ حضرات انبیائے کرام اپنی اصل اور ذات کے اعتبار سے بشر بلکہ کامل بشر ہوتے ہیں۔ اور اپنی صفت کے اعتبار سے وہ نبی و رسول اور نور حق و ہدایت کا مظہر ہوتے ہیں۔ مگر ان اعجوبہ پرستوں کا کہنا یہ تھا کہ یہ کیسا رسول ہے جو ہماری طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ اگر اللہ کو کوئی رسول بھیجنا ہی ہوتا تو اس کیلئے وہ کسی ایسے فرشتے کو منتخب کرتا جو نوری مخلوق ہونے کے باعث نہ کچھ کھاتا نہ پیتا۔ نہ شادی بیاہ کرتا اور نہ اس کو اپنی ضرورتوں کیلئے بازاروں میں جانے کی ضرورت ہوتی۔ سو انسان کی اعجوبہ پرستی کا ہمیشہ یہی حال رہا۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ الا ماشاء اللہ ۔ حالانکہ عقل و نقل دونوں کا تقاضا یہ ہے کہ پیغمبر بشر اور بشر ہی میں سے ہوں تاکہ وہ بشری تقاضوں کے ہر دائرے میں لوگوں کے لیے اسوئہ اور نمونہ پیش کرسکیں اور لوگ ان کی اتباع اور پیروی کرسکیں۔ مگر جن کی مت مار دی جاتی ہے ان کو یہ صاف اور صریح بات سمجھ نہیں آتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 25:8

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا اس کے لیے غیب سے کوئی خزانہ آپڑتا، یا اس کے پاس کم از کم کوئی ایسا باغ ہوتا جس سے یہ خود کھایا پیا کرتا اور یہ ظالم تو مسلمانوں سے یہاں تک کہتے ہیں کہ تم لوگ تو بس جادو کے مارے ہوئے ایک شخص کے پیچھے چلتے ہو۔

10 ابنائے دنیا کا مادہ پرستانہ معیار شرف و فضیلت : یعنی وہی مادہ پرستانہ معیار جس کو آج کی مادہ پرستانہ ذہنیت بھی اپنائے ہوئے ہے کہ اگر یہ صاحب اپنے دعوے میں سچے ہیں تو ان کے پاس خوب خوب دنیاوی ٹھاٹھ باٹھ کیوں نہیں۔ ہٹو بچو کی صدا لگانے اور ڈرانے دھمکانے کے لئے کوئی فرشتہ ان کے ساتھ ہوتا یا اوپر سے کوئی خزانہ ان پر گرا دیا جاتا۔ یا کم از کم اپنے گزارے کے لئے ان کے پاس کوئی باغ تو ہوتا وغیرہ وغیرہ۔ مگر یہاں تو ان میں سے کوئی بھی چیز نہیں۔ تو پھر ہم انہیں دعوائے نبوت میں سچا کس طرح مان لیں حالانکہ مادہ اور معدہ کے ان بندوں کو یہ خبر نہیں کہ اللہ پاک کے نزدیک یہ چند چیزیں تو کیا اس ساری دنیا کی حیثیت بھی مچھر کے ایک پر کے برابر بھی نہیں۔ اگر اس کی اتنی بھی حیثیت ہوتی تو وہ کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پینے دیتا۔ جیسا کہ مختلف نصوص میں اس حقیقت کو طرح طرح سے واضح اور آشکارا فرمایا گیا ہے۔ تو پھر دنیا کی ان عارضی اور چند روزہ لذتوں اور فائدوں کو حق و باطل کا معیار آخر کس طرح قرار دیا جاسکتا ہے ؟ یہ تو محض اس دنیائے دوں کا چند روزہ سامان عیش و عشرت ہے اور بس ۔ { اِنْ کُلُّ ذاَلِکَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا } ۔ (الزخرف : 35) مگر بندگان مادہ اور معدہ کے نزدیک یہی سب کچھ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ فکر و نظر کے ہر زیغ و ضلال سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 25:9

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

ذرا دیکھو تو سہی کہ ان لوگوں نے آپ کے لیے اے پیغمبر ! کیسی کیسی مثالیں گھڑیں، سو اس کے نتیجے میں یہ لوگ ایسے بھٹکے کہ ان کو کوئی راستہ ہی نہیں سوجھتا۔1

11 نور حق و ہدایت سے محرومی سب سے بڑی محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو نور حق و ہدایت سے محرومی ایسی ہولناک محرومی ہے کہ یہ انسانوں کو اندھا اور اوندھا کردیتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو نور حق سے محرومی کے بعد ایسے لوگ کبھی پیغمبر کو ساحر کہتے ہیں کبھی مسحور۔ کبھی کاہن کبھی مجنون۔ کبھی کچھ کبھی کچھ۔ سو یہ خود ان لوگوں کے مخبوط الحواس ہونے کی کھلی دلیل ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اپنی اس خبط الحواسی کے باوجود یہ لوگ دوسروں کو بھی پیغمبر کی اتباع اور پیروی سے روکتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ اس طرح کرکے تم لوگ ایک ایسے شخص کی پیروی کرو گے جس پر کسی نے جادو کرکے اس کی عقل مار دی ہے۔ جس سے وہ ایسی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے جو ہماری عقل میں آنے والی نہیں ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس طرح یہ لوگ ستم در ستم اور ظلم بالائے ظلم کے مرتکب ہورہے ہیں اور اپنے اوپر ضلال کے ساتھ ساتھ اضلال کا بوجھ بھی لاد رہے ہیں۔ لیکن انکو اسکا احساس ہی نہیں کہ اس طرح یہ لوگ کس قدر ہولناک خسارے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے نور حق و ہدایت سے محرومی کا کہ اس سے انسان کی مت مار دی جاتی ہے اور وہ اندھا اور اوندھا ہو کر رہ جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 25:10

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

بڑی ہی برکت والی ہے وہ ذات جو اگر چاہے تو اس دنیا میں ہی اور ان کی ان فرمائشوں سے بھی کہیں بڑھ کر اچھی چیز آپ کو عطا فرما دے یعنی ایک نہیں کئی ایسے عظیم الشان باغ جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں اور اسی طرح وہ بنا دے آپ کے لیے طرح طرح کے عظیم الشان محل بھی2

12 دنیا دار الامتحان ہے نہ کہ دار الانعام : اور دار الانعام آخرت ہے۔ اور اعمال کا پورا بدلہ وہیں ملے گا۔ اور وہیں مل سکے گا۔ دنیا میں پورا بدلہ نہ ملتا ہے نہ مل سکتا ہے کہ دنیا میں اس کی گنجائش ہی نہیں۔ پس کفار اشرار کا آپ پر اے پیغمبر یہ اعتراض کرنا اور اس طرح کے مطالبے کرنا ان کی اپنی کوتاہ نظری اور کج فہمی کا نتیجہ ہے۔ ورنہ اللہ اگر چاہے تو آپ کو طرح طرح کے عظیم الشان باغات بھی دیدے اور محلات بھی۔ اللہ پاک کے لئے ایسا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ بلکہ وہاں تو محض ارادہ کرنے کی دیر ہے۔ مگر وہ ایسے کرتا اس لئے نہیں کہ یہ اس کی حکمت و مشیت کے خلاف ہے۔ کیونکہ اس طرح کرنے سے پھر امتحان کیسا اور آزمائش کیا ہوتی ؟ پھر کھرے کھوٹے کی تمیز کس طرح ہوتی ؟ اور پھر جنت و دوزخ کی سزا و جزا کے کیا معنیٰ باقی رہ جاتے ہیں۔ سو یہ دنیا " دارلجزا " نہیں " دارالعمل " ہے۔ " دارالجزا " اصل میں آخرت ہے جہاں کی زندگی حقیقی اور جہاں کا فیصلہ قطعی اور آخری ہے۔ سو اللہ پاک آپ ﷺ کو ۔ اے پیغمبر !۔ اور آپ ﷺ کی امت کے ہر مومن صالح کو آخرت کے اس ابدی جہان میں اپنی خاص الخاص رحمتوں اور عنایتوں سے نوازے گا نہ کہ دنیا میں کہ یہ دارالامتحان ہے نہ کہ دارالانعام۔ سو دنیا کی غربت اور اس کی امارت وغیرہ کی ہر حالت امتحان اور ابتلاء و آزمائش کیلئے ہے۔ یہ صلہ و انعام کے لیے نہیں۔ اصل چیز ہے آخرت جو کہ دارالانعام اور دارالجزاء ہے۔ پس جو وہاں کامیاب ہوگیا وہی ہے اصل اور حقیقی کامیاب۔ اور اس کی کامیابی دائمی اور ابدی ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ اور جو وہاں ناکام ہوا وہی ہے سب سے بڑا ناکام اور حقیقی خسارے والا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 25:11

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

اور پھر ان لوگوں کا ایسے کہنا بھی کوئی طلب حق کے لیے نہیں بلکہ یہ لوگ تو جھٹلا چکے ہیں قیامت کو پوری ہٹ دھرمی سے اور جو کوئی قیامت کو جھٹلائے گا اس کے لیے ہم نے تیار کر رکھی ہے ایک بڑی ہی ہولناک اور دہکتی بھڑکتی آگ،

13 منکرین کا انجام دوزخ کی ہولناک آگ ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ منکرین و مکذبین قیامت کے لیے دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ تیار ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قیامت کو جھٹلانے والوں کیلئے ہم نے دوزخ کی دہکتی بھڑکتی ہولناک آگ تیار کر رکھی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی اصل بات یہ نہیں کہ یہ لوگ فی الواقع ایمان لانے کے لئے ایسے مطالبے کرتے ہیں۔ نہیں یہ تو محض ان لوگوں کے حیلے بہانے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت اور وہاں کی سزا و جزا کے تصور ہی کے منکر ہیں۔ ان کے سامنے تو بس یہی دنیا اور اس کی یہ عارضی اور فانی لذتیں ہی سب کچھ ہیں۔ یہ انہی کے لئے جیتے اور انہی کیلئے مرتے ہیں۔ اور ان کو اس کا پتہ نہیں کہ ہم نے ہر اس شخص کے لئے جو قیامت اور آخرت کا منکر ہوگادوزخ کی ایسی دہکتی بھڑکتی ہولناک آگ تیار کر رکھی ہے جو اپنے اندر پڑنے والے ایسے دوزخیوں کو دور سے دیکھتے ہی چیخنے اور چنگھاڑنے لگے گی۔ اور جس کے غیظ و غضب اور جوش و خروش کی ایسی ہولناک آواز سنتے ہی بڑے بڑے شیر دلوں کے پتے پانی ہوجائیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو قیامت اور آخرت کی تکذیب دراصل دارین کی ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اس سے انسان غیر سنجیدہ، لاپرواہ اور بےفکر ہو کر اپنی متاع عمر کو دنیاوی مشاغل اور وقتی منافع کے پیچھے یونہی ضائع کردیتا ہے جو کہ خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ یہ ایسا خسارہ ہے جس کی پھر تدارک و تلافی کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ سو کتنے محروم اور کس قدر بدبخت ہیں وہ لوگ جو اس سب کے باوجود اس ہولناک خسارے کی طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور وہ کسی ناصح کی نصیحت کو سننے ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے۔ بلکہ الٹا اپنے ایسے خیر خواہوں کے دشمن بنے ہوئے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 25:12–13

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

ایسی ہولناک آگ کہ جب وہ ان کو دور سے دیکھے گی تو یہ لوگ اس کے غیظ و غضب اور دہاڑنے کی آوازیں سنیں گے

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب ڈال دیا جائے گا ان بدبختوں کو اس کے کسی تنگ و تاریک مقام میں جکڑا بندھا ہوا، تو یہ وہاں پر رہ رہ کر موت کو پکاریں گے

14 آتش دوزخ کی ہولناکی کی تصویر : سو اس سے دوزخ کی آگ کی ہولناکی اور اس کے غیظ و غضب کا کچھ حال بیان فرمایا گیا ہے۔ سو دوزخ کی وہ آگ دنیاوی آگ کی طرح اندھی بہری آگ نہیں ہوگی کہ سب کے ساتھ ایک ہی سلوک کرے۔ بلکہ وہ دیکھتی سنتی اور جانتی پہچانتی ہوگی کہ مجرم کون ہے اور اس کا جرم کیا اور کس درجے کا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا ہے ۔ { تَطَّلِعُ عَلَی الاَفْئِدَۃِ } ۔ یعنی " وہ جھانکتی ہوگی دلوں پر " تاکہ یہ دیکھے کہ کس دل پر کفر و بغاوت کی سیاہی کتنی پکی اور فسق و فجور کا زنگ کس قدر گہرا اور گاڑھا ہے۔ اور وہ پکار پکار کر اپنی طرف بلا رہی ہوگی ان لوگوں کو جنہوں نے راہ حق و ہدایت سے منہ موڑ کر بغاوت و سرکشی کی راہ کو اپنایا ہوگا اور انہوں نے حطام دنیا کے جوڑنے جمع کرنے ہی کو اپنا مقصد حیات بنا لیا ہوگا۔ چناچہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { تَدْعُوْ مَنَْ اَدْبَرَ وَتَوَلّٰی، وَجَمَعَ فَاَوْعٰی } (المعارج :17-18) ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔
Ayahs 25:14–17

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

اور اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ آج تم ایک موت کو نہیں بہت سی موتوں کو پکاروف 3

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

کہو اب بتاؤ کہ کیا یہ بہتر ہے یا وہ ابدی جنت جس کا وعدہ متقی اور پرہیزگار لوگوں سے کیا گیا ہے جو ان کے لیے ان کے اعمال کا صلہ و بدلہ بھی ہوگا اور آخری ٹھکانہ بھی،

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

ان کو اس میں ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ خواہش کریں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، یہ ایک وعدہ ہے واجب الاداء تیرے رب کے ذمہ کرم پر،1

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور یاد کرو تم اے لوگو ! اس ہولناک دن کو کہ جس دن اللہ اکٹھا کر لائے گا ان سب کو بھی اور ان کے ان معبودوں کو بھی جن کو یہ پوجا پکارا کرتے تھے اللہ کے سوا پھر وہ ان سے پوچھے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود ہی بھٹک گئے تھے سیدھی راہ سے ؟

16 دوزخیوں کے موت کو پکارنے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہاں پر ایسے لوگ موت کو پکاریں گے "۔ اور رہ رہ کر پکاریں گے تاکہ اس طرح اس ہولناک عذاب سے رہائی پاسکیں۔ یعنی وہاں پر " وا ثبوراہ " ۔ " اے موت آ کے ہمارا کام تمام کر دے " ہی کی چیخ و پکار ہوگی کہ سخت مصیبت پر آدمی یونہی کہتا اور کرتا ہے۔ تاکہ اس مصیبت سے جان چھوٹ سکے۔ مگر اس کا موقع اب کہاں ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ وہاں تو ایسے لوگ ۔ { لایموت ولایحیٰی } ۔ والی زندگی گزاریں گے۔ جس میں نہ زندگی ہوگی نہ موت۔ اور خوف اور ہولناکی کا یہ عالم ہوگا کہ موت ان کو وہاں پر ہر طرف سے آتی دکھائی دیگی لیکن یہ مرنے نہیں پائیں گے تاکہ جان چھوٹ جائے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَیَاتِیْہِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَّمَا ہُوَ بِمَیِّتٍ وَمِنْ وَّرَائِہ عَذَابٌ غَلِیْظٌ} ۔ (ابراہیم : 17) ۔
Ayah 25:18

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

تو وہ عاجزانہ اور دست بستہ عرض کریں گے پاک ہے آپ کی ذات اے اللہ ہمیں تو کسی بھی طرح یہ زیب نہیں دیتا تھا کہ ہم آپ کے سوا کسی اور کو کارساز بناتے، مگر آپ ہی نے جس آسودگی اور خوشحالی سے نوازا تھا ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادا کو تو اس سے یہ لوگ مست و مگن ہو کر کفران نعمت میں پڑگئے تھے یہاں تک کہ انہوں نے بھلا دیا تھا آپ کی یاد دلشاد کو اور یہ لوگ شامت زدہ ہو کر رہ گئے تھے

20 اللہ کے سوا دوسروں کو کارساز بنانے والے سخت خسارے میں : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ یہ حضرات جن کو یہ مشرک لوگ دنیا میں پوجتے پکارتے رہے تھے اس روز حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے اس سوال کے جواب میں صاف طور پر اس کا انکار کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہمارے لیے روا نہیں تھا کہ ہم آپ کے سوا کسی کو اپنا کارساز بناتے۔ یعنی ہم نے جب ساری زندگی اپنے لئے آپ کے سوا کسی کو کارساز نہیں بنایا تو ان کو ایسی کوئی بات ہم کس طرح کہہ سکتے تھے ؟ اور دوسرے مقام پر فرمایا گیا کہ صرف یہی نہیں کہ وہ ان سے اس طرح اپنی براءت و بیزاری کا اعلان و اظہار کردیں گے اور بس۔ نہیں بلکہ وہ الٹا ان کے دشمن بن جائیں گے ۔ { کَانُوْا لَہُمْ اَعْدَائً وَ کَانُوْا بِعِبَادَتِہِمْ کٰفِرِیْنَ } ۔ (الاحقاف : 6) ۔ نیز فرمایا گیا ۔ { کَلا سَیَکْفَرُوْنَ بِعِبَادَتِھِمَ وَیکُوْنُوْنَ عَلَیْھِمْ ضدا } ۔ (مریم :82) ۔ نیز فرمایا گیا ۔ { یَکْفُرُوْنَ بِشِرْکِکُمْ } ۔ نیز فرمایا گیا کہ وہ کہیں گے ۔ { تَبَرَّاْنَا اِلَیْکَ مَا کَانُوْا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ } ۔ (القصص : 63) ۔ تب یہ مشرک مارے افسوس کے اپنے ہاتھ کاٹ کھائیں گے کہ ہم نے اللہ کو چھوڑ کر ان کو اپنا معبود اور حاجت روا و مشکل کشا اور کارساز کیوں بنایا تھا ؟ مگر بےوقت کے اس افسوس کا ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا سوائے ان کی حسرت و یاس میں اضافے کے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور سورة سبا کی محولہ بالا آیات کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس روز اللہ ان سب کو جمع کرے گا۔ پھر فرشتوں سے پوچھے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری پوجا کرتے رہے تھے ؟ تو فرشتے اس کے جواب میں عرض کریں گے پاک ہے تو اے اللہ۔ ہمارا تعلق تو آپ سے تھا نہ کہ ان سے۔ یہ لوگ تو اصل میں شیطانوں کی پوجا کرتے تھے اور ان میں کے اکثر انہی پر ایمان رکھتے تھے۔ (سبا :40-41) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔ 21 ایمان و یقین سے محرومی ہر خیر سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ایمان و یقین کی دولت سے محرومی کی صورت میں ملنے والا مال و متاع بھی باعث عذاب و ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ان کی گمراہی کا اصل سبب یہ ہوا کہ اللہ پاک کی طرف سے اس دنیائے دوں کا ساز و سامان ان کو اور اس سے پہلے ان کے باپ داداؤں کو بھی خوب ملتا گیا۔ تو یہ مست و مگن ہوگئے اور انہوں نے اس کو اپنی حقانیت کی دلیل سمجھ لیا اور کہا کہ اگر ہم سچے نہ ہوتے، حق پر نہ ہوتے تو ہمیں یہ دنیا کیوں ملتی ؟ لہذا حساب کتاب وغیرہ کچھ نہیں ہونا۔ بلکہ یہی دنیا اور اس کے کے یہ مزے ہی سب کچھ ہیں اور بس۔ اور اگر کوئی حساب کتاب ہوا بھی تو ہم کو فلاں فلاں ہستیاں چھڑا لیں گی۔ بس ہم انہی کا لڑ پکڑ لیتے ہیں کہ جہاں سے اونٹ گزرے گا اس کی دم بھی گزر جائے گی۔ اس لئے ہم ان ہستیوں سے وابستہ ہو کر ان ہی کو نذریں نیازیں دیتے رہیں گے۔ اور یہ ہمارا کام بنادیں گی۔ سو اس طرح شیطان ان کو دھوکہ دیتا گیا اور یہ اس کا شکار ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ یہ شامت زدہ اور تباہ حال ہو کر رہے۔ اور فرصت عمر یونہی گزر گئی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس کے نتیجے میں یہ اس ہولناک خسارے میں مبتلا ہو کر رہے جسکی تلافی اور تدارک کی کوئی صورت اب ان کیلئے ممکن نہیں رہی۔ اور یہ ہمیشہ کیلئے ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھے میں گرگئے۔ سو نور ایمان و یقین سے محرومی کی صورت میں مال دولت کا ملنا انسان کی ہلاکت و تباہی کا ایک بنیادی سبب ہے کہ ایسا شخص اس کو اپنی صداقت و حقانیت کی دلیل سمجھنے لگتا ہے۔ اور اس طرح وہ اپنے کفر و باطل پر پکا ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی و بہرہ مندی کے ساتھ ملنے والا مال و دولت انسان کیلئے خبر کی کمائی اور خیر و برکت میں اضافے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اور ایسا شخص نور علی نور کے شرف سے مشرف ہوجاتا ہے۔ اسی لیے قرآن حکیم میں مال کو " خیر " کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اور حدیث میں اس کو ایک بڑی نعمت قرار دیا گیا ہے۔ سو اصل دولت ایمان و یقین کی دولت ہے جس کے بعد دنیا ملے بھی تو خیر اور نہ ملے تو بھی خیر۔ جبکہ ایمان و یقین سے محرومی کی صورت میں دنیا ملے تو بھی عذاب اور نہ ملے تو بھی عذاب۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 25:19

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

سو وہ قطعی اور صریح طور پر جھٹلا دیں گے تمہاری ان تمام باتوں کو اے منکرو ! جو تم لوگ آج ان کو شریک ٹھہرانے کے لیے گھڑتے بناتے ہو پھر نہ تو تم عذاب کو ٹال سکو گے اور نہ ہی کہیں سے کوئی مدد پا سکو گے اور جو بھی کوئی تم میں سے ظلم کرے گا ہم اس کو مزہ چکھا کر رہیں گے ایک بہت بڑے عذاب کا

22 مشرکوں کی تذلیل و توبیخ مزید کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مشرکوں کی تذلیل و توبیخ کے لیے ان سے مزید کہا جائے گا کہ لو تمہارے ان معبودوں نے تم کو اے مشرکو جھٹلا دیا "۔ یعنی یہ بات ہوگی تو قیامت میں لیکن یہ ایسی یقینی ہے کہ گویا کہ ہوچکی ہے۔ اسی لئے اس کو ماضی کے صیغے سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ بات ان کو اس وقت کہی جائے گی کہ لو جن کا تمہیں تکیہ و آسرا تھا انہوں نے تمہیں اور تمہاری ان تمام خوش فہمیوں کو جھٹلا دیا جو تم نے ان سے وابستہ کر رکھی تھیں۔ سو اب لوگ چکھو مزہ اپنے کئے کا ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف قیامت میں وقوع پذیر ہونے والی اس حقیقت کو اس کے تحقق وقوع کی بناء پر بتقاضائے بلاغت یہاں پر ماضی کے صیغے سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ سو مشرکوں سے کہا جائے گا کہ لو جن کا تم لوگوں کو بڑا زعم اور گھمنڈ تھا۔ اور جن کو تم اپنا مشکل کشا و حاجت روا سمجھ کر پوجا پکارا کرتے تھے۔ اور تمہارا کہنا یہ تھا کہ یہ مشکل وقت میں ہمیں کام آئیں گے اور ہم جو بھی اور جیسے بھی اعمال کرتے رہیں یہ ہمیں چھڑا دیں گے۔ آج انہوں نے تمہیں صاف اور صریح طور پر جھٹلا دیا۔ تمہارا کہنا تو یہ تھا کہ ہم جو ان کو حاجت روا و مشکل کشا سمجھ کر پوجتے پکارتے ہیں۔ یہ انہی کی ہدایت وتعلیمات کے مطابق کر رہے ہیں اور ان کی رضا و خوشنودی حاصل کررہے ہیں۔ لیکن ان کا صاف اور صریح طور پر کہنا یہ ہوگا کہ ہماری طرف سے کسی کو اپنی عبادت کا حکم دینا تو درکنار ہم تو ایک لمحہ کیلئے بھی اس بات کے روادار نہیں کہ اللہ کے سوا کسی کو اپنا ولی و کارساز بنائیں۔ سو یہ قرآن حکیم کا دنیا پر کس قدر احسان عظیم ہے کہ غیب کے ان حقائق کو جن کے جاننے کا دوسرا کوئی ذریعہ انسان کیلئے ممکن ہی نہیں۔ ان سے دنیا کو اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ آگاہ کردیا مگر دنیا ہے کہ پھر بھی خواب غفلت میں محو اور مست و مگن ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ شرک و غفلت اور ان کے ہر شائبہ سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ ہمیشہ اپنی یاد دلشاد سے سرشار اور اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر ثابت و مستقیم رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔۔ آمین ثم آمین وانہ سبحانہ وتعالی سمیع قریب مجیب وعلی ما یشاء قدیر -
Ayah 25:20

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور ہم نے جو بھی پیغمبر آپ سے پہلے بھیجے ان سب کی شان یہی تھی کہ وہ کھاتے پیتے بھی تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے بھی،2 اور ہم نے تم سب کو اے لوگوں آپس میں ایک دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے3 کیا تم لوگ صبر کرتے ہو ؟ اور تمہارا رب سب کچھ دیکھنے والا ہے۔

23 جملہ انبیاء و رسل بشر اور انسان ہی تھے : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ جتنے بھی انبیائے کرام آئے وہ سب بشر اور انسان ہی تھے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور نفی و اثبات کے ساتھ حصر وقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے آپ سے پہلے ۔ اے پیغمبر !۔ جو بھی رسول بھیجے وہ کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے "۔ یعنی وہ سب ہی بشر تھے جو کھانے پینے وغیرہ کے تمام بشری خواص و عوارض رکھتے تھے۔ لہذا ان لوگوں کا آپ ﷺ کی بشریت اور ان بشری لوازم پر اعتراض کرنا باطل و مردود ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ } ۔ یعنی " ان سے کہو کہ میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں " (الاحقاف :9) ۔ مگر اس سب کے باوجود آج کے اعجوبہ پرستوں کی طرح کل کے ان اعجوبہ پرستوں کا کہنا بھی یہی تھا کہ ایک ایسا بشر رسول کس طرح ہوسکتا ہے جو کہ دوسرے انسانوں کی طرح کھاتا پیتا، چلتا پھرتا، بازاروں میں آتا جاتا ہو۔ اور دوسرے بشری تقاضے اور انسانی عوارض رکھتا ہو۔ وہ نبی و رسول کس طرح ہوسکتا ہے ؟ نبی تو وہ ہونا چاہیئے جو ان تمام بشری صفات اور انسانی عوارض سے ماوراء اور بالا کوئی آسمانی اور نوری قسم کی مخلوق ہو۔ یہی اشتباہ کل کے ان لوگوں کو بھی تھا اور یہی آج کے بہت سے اہل بدعت اور دوسرے اعجوبہ پرستوں کو بھی ہے۔ فرق اگر ہے تو یہ کہ کل کے ان اعجوبہ پرستوں نے انبیائے کرام کی بشری صفات پر نظر رکھتے ہوئے ان کی نبوت و رسالت کا انکار کردیا اور آج کے یہ عجوبہ پرست ان کی نبوت و رسالت پر ایمان کے دعویدار بن کر ان کی بشریت کے منکر ہو رہے ہیں۔ اور صاف کہتے ہیں کہ نبی کو بشر کہنا ہی سرے سے جائز نہیں۔ یعنی کل کے ان اعجوبہ پرستوں نے عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہمیں سے دوسرے جز کا انکار کیا تھا اور آج کے یہ اعجوبہ پرست اس کے پہلے جز کے انکاری ہو رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ حق اور حقیقت یہ ہے کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ بیک وقت بشر بھی ہوتے ہیں اور نبی و رسول بھی۔ بلکہ بشر وہ پہلے ہوتے ہیں اور نبی و رسول بعد میں بنتے ہیں۔ اسی لئے صحیح حدیث میں وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ کے سامنے جب ایک شخص نے رَسُوْلُہ وَعَبْدُہُ کہا تو آپ نے اس کو فوراً ڈانٹ کر فرمایا کہ اس طرح مت کہو۔ بلکہ ۔ " عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہ " ۔ کہو کہ میں بندئہ وبشر پہلے تھا اور نبی و رسول بعد میں بنا ۔ " کَنْتُ عَبْدًا قَبْلَ انْ اَکُوْنَ رَسُوْلاً ۔ " بہرحال یہاں پر کفار کے اسی بیہودہ سوال کا جواب دیا گیا ہے اور یہ اعتراض و الزام دراصل ان لوگوں کی خود اپنی حماقت کی دلیل تھا اور ہے۔ کیونکہ عقل اور نقل دونوں کا تقاضا یہ ہے کہ انسانوں کی ہدایت کے لئے پیغمبر بھی انسانوں ہی میں سے ہو۔ تاکہ وہ زندگی کے ہر شعبے میں ان کو عملی طور پر نمونہ دکھا سکے۔ اسی لئے آنحضرت ﷺ اور آپ سے پہلے کے تمام انبیائے کرام بشر اور انسان ہی تھے ۔ عَلٰی جَمِیْعِہِمِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ ۔ بہرکیف اس آیت کریمہ سے کفار قریش کے اس اعتراض کا جواب دیا گیا جو وہ حضور ﷺ پر آپ ﷺ کی بشریت طاہرہ اور اس کے تقاضوں کی بنا پر کرتے تھے۔ اور اس اہم اور بنیادی حقیقت کو بھی واضح فرما دیا گیا کہ جتنے بھی انبیا آئے وہ سب بشر ہی تھے۔ 24 سب لوگ ایک دوسرے کے لیے ذریعہ ابتلاء و آزمائش : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ تم میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے ذریعہ ابتلاء و آزمائش ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے تم سب کو ایک دوسرے کیلئے آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے "۔ سب لوگوں کو خطاب ہے خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں کے بھی ہوں۔ مگر اس کا اولین مصداق کفار قریش اور مسلمان ہیں۔ پس کافر مومن کے لئے اور مومن کافر کے لئے، موحد مشرک کے لئے اور مشرک موحد کے لئے، مال دار غریب کے لئے اور غریب مال دار کے لئے آزمائش کا ذریعہ ہے کہ یہ دنیا ہے ہی ابتلاء و آزمائش کا گھر۔ لہذا راہ حق میں جو بھی دقت و دشواری پیش آئے اس پر صبر و استقامت ہی سے کام لو۔ اور تمہارا رب جب یہ کچھ خود دیکھ رہا ہے تو وہ ہر کسی کو اس کا وہ بدلہ دے گا جس کا وہ حق دار ہے۔ اس لئے اہل حق کو اپنے مستقبل و انجام کے لئے بہرحال مطمئن رہنا چاہیئے اور اہل باطل کو راہ حق و صواب کو اپنانے کی فکر و کوشش کرنی چاہیئے قبل اس سے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت محدود و معدود ان کے ہاتھ سے نکل جائے ۔ وباللّہِ التّوفیق لما یُحِبُّ وَیرید ۔ سو اسی سنت ابتلاء و آزمائش کے مطابق مسلمانوں کی غربت کفار قریش کیلئے فتنہ بن گئی۔ جن کے مطابق ان لوگوں کا کہنا تھا کہ جب مال و دولت اور جاہ و اقتدار وغیرہ کی نعمتیں ہم لوگوں کو حاصل ہیں تو پھر اگر یہ دین بھی کوئی خدائی دین ہوتا تو یہ بھی ہم ہی لوگوں کو ملتا نہ کہ ان مسلمانوں کو جو کہ قلاش ہیں۔ اور اگر اللہ نے انسانوں ہی میں سے کسی کو رسول بنا کر بھیجنا ہوتا تو وہ اس کیلئے مکہ اور طائف کے سرداروں میں سے کسی کو اس کیلئے چنتا نہ کہ محمد ﷺ جیسے غریب شخص کو وغیرہ وغیرہ۔ سو اسی کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے تم میں سے بعض کو بعض کے لیے ذریعہ ابتلاء و آزمائش بنایا ۔ اللہ تعالیٰ اس ابتلاء و آزمائش کے ہر مرحلے پر کامیابی اور سرخروئی نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ 25 مسلمانوں کو صبر کی تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام تحریض کے طور پر فرمایا گیا کہ " تم لوگ صبر کرتے ہو ؟ " یعنی جب آزمائش کے اس امتحان میں کفار قریش ناکام ہوگئے اور انہوں نے مال و دولت جیسی نعمتوں پر اللہ کا شکر کرنے کی بجائے الٹا انہی کی بنا پر اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر حق کا انکار کردیا اور وہ حق کے دشمن بن گئے اور استکبار کے نشے میں انہوں نے حق کی صداقت و حقانیت اور اس کی معقولیت میں غور و فکر کرنے کی بجائے الٹا انہوں نے دعاۃِ حق کا مذاق اڑانا شروع کردیا۔ سو اب تمہاری آزمائش ہے اے مسلمانو کہ تم لوگ انکے طعن وتشنیع اور مخالفت و عداوت کے مقابلے میں ثابت قدم رہتے ہو کہ نہیں۔ اور استفہام یہاں پر تحریض و تشویق کیلئے ہے۔ یعنی تم لوگوں کو ان کے مقابلے میں ثابت قدم رہنا چاہیئے۔ سو اس میں مسلمانوں کیلئے صبر و استقامت کی تعلیم و تلقین ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 25:21

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور کہتے ہیں وہ لوگ پوری ڈھٹائی اور بےباکی سے جو امید و اندیشہ نہیں رکھتے ہمارے حضور پیشی کا کہ کیوں نہیں اتر دئیے گئے ہم پر فرشتے یا ہم خود اپنی آنکھوں دے سیکھ لیتے اپنے رب کو سو ان لوگوں نے بڑی چیز سمجھا اپنے آپ کو اپنے دلوں میں اور انہوں نے ارتکاب کیا ایک بہت بڑی سرکشی کا1

26 عقیدئہ آخرت سے محرومی، محرومیوں کی محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ ہمارے حضور پیشی کی امید نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتار دیئے گئے "۔ یعنی بشر کی بجائے نوری فرشتوں کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہوتا یا یہ کہ اس رسول کے ساتھ فرشتے اتار دئیے جاتے تاکہ وہ نہ ماننے والوں کو ڈراتے، دھمکاتے اور خبردار کرتے رہتے۔ جیسا کہ پہلے اسی سورة کریمہ کی آیت نمبر 7 میں فرمایا گیا ۔ { فَیَکُوْنَ مَعَہ نَذِیْرًا } ۔ اور منکروں کی طرف سے یہ سب ہی باتیں کہی جاتی تھیں جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر بیان ہوا ہے۔ کبھی وہ کہتے کہ کیا ایک بشر ہی کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجنا تھا ؟ اور کبھی کہتے کہ جو فرشتے پیغمبر پر نازل ہوتے ہیں وہ ہم پر کیوں نہیں آتے ؟ اور کبھی کہتے کہ ان صاحب کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں موجود نہیں جو خبردار کرتا رہتا ؟۔ سو یہ سب کچھ ایمان آخرت سے محرومی کا نتیجہ تھا۔ پس عقیدئہ آخرت سے محرومی، محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ محرومیوں اور ان کے جملہ شوائب سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 27 استکبار یعنی اپنی بڑائی کا گھمنڈ محرومی اور فساد کی جڑ بنیاد ۔ والعیاذ باللہ : سو منکرین نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہونے کے باعث کہا کہ " یا ہم خود دیکھ لیں اپنے رب کو "۔ یعنی وہ بےحجاب ہو کر خود ہمارے سامنے آجائے اور ہم اس کو کھلی آنکھوں دیکھ لیں۔ اور وہ ہم سے خود ان صاحب کو رسول ماننے کے بارے میں کہتا یا یہ کہ جو پیغام ان رسولوں کے ذریعے ہمیں دیا جا رہا ہے وہ براہ راست خود ہمیں دیا جائے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ان کا یہ قول اس طرح نقل فرمایا گیا ہے ۔ { لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَا اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰہِ } ۔ (الانعام : 124) ۔ سو جب انسان پیغام حق کو سننے اور اس کے ماننے کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوتا تو اس کا زاویہ نگاہ اسی طرح الٹا ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ ان لوگوں کا یہ مطالبہ چونکہ محض کبر و غرور اور ان کی حماقت و سفاہت پر مبنی تھا اس لیے قرآن حکیم نے ان کی اس احمقانہ بات کا جواب دینے کی بجائے ان کے اسی کبر و غرور پر ضرب لگائی اور فرمایا کہ ان لوگوں نے اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھ لیا جو خدا اور فرشتوں کو دیکھنے کا مطالبہ لیکر اٹھ کھڑے ہوئے۔ سو استکبار یعنی اپنی بڑائی کا زعم اور گھمنڈ منبع شر و فساد اور محرومی کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو بندے کی اصل کامیابی اور حقیقی عزت و عظمت اس کے کمال عبدیت و عبودیت میں ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 28 استکبار کا نتیجہ محرومی و سرکشی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " انہوں نے بہت بڑی سرکشی کا ارتکاب کیا " اور اس سے بڑھ کر سرکشی اور حد سے بڑھ جانے کی صورت اور کیا ہوگی کہ کوئی بندہ عام اور عاجز بندہ ہونے کے باوجود حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی ذات اقدس واعلیٰ کو اپنی ان مادی، مخلوق اور قاصر آنکھوں سے دیکھنے کا مطالبہ کرے جس کے نور بےکیف کی ایک جھلک نے کوہ طور کو ریزہ ریزہ کردیا تھا۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) جیسے اولوا العزم رسول اور جلیل القدر پیغمبر بھی بےہوش ہو کر گرگئے تھے۔ اور جس کے بارے میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کی مرفوع روایت کے مطابق ارشاد فرمایا گیا کہ اگر وہ اپنے نور مطلق سے پردہ اٹھا دے تو سب کچھ جل جائے ۔ " لَاَحْرَقَتْ سُبْحَاتُ وَجْہِہٖ کُلَّ شَیْئٍ ۔ " یعنی اس کے وجہ انور کی تجلیات سے ہر چیز جل کا راکھ ہوجائے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ { فَتَعَالَی اللّٰہُ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا } ۔ سو اس کو ظاہری اور مادی آنکھوں کی بجائے دل کی اور باطنی آنکھوں سے دیکھا جائے اور اس کو ویسے مانا جائے جیسا کہ وہ اپنے بارے میں خود بتائے یا اس کے وہ رسول بتائیں جن کے پاس اس کی طرف سے وحی آتی ہے۔ یہی صحیح راستہ اور سلامتی والا طریقہ ہے معرفت خداوندی سے سرفرازی کا۔ اور یہی تقاضا ہے عقل سلیم اور فطرت مستقیم کا۔ اور اسی کی تا یید و تلقین عقل و نقل دونوں سے ہوتی ہے۔ ورنہ اندھیرے ہی اندھیرے ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 25:22

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن ایسے مجرموں کے لیے خوشی کا کوئی موقع نہیں ہوگا، وہ (الٹا گھبرا کر) پکاریں گے کہ کوئی مضبوط پناہ کردی جائے (بچنے کے لیے

29 مجرموں کے لیے ایک تنبیہ و تہدید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس روز یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے اس روز مجرموں کے لیے فرشتوں کے دیکھنے سے کوئی خوشی نہ ہوگی "۔ " مجرم لوگوں کے لئے خوش خبری نہ ہوگی " کے اس ارشاد ربانی سے معلوم ہوا کہ ایمان والے صالحین کے لئے خوشخبری ہوگی۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا ۔ { اَبْشِرُوْا بالْجَنَّۃِ التِّیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْن } ۔ (حم السجدۃ : 30) اور اس کا مظاہرہ موت کے وقت بھی ہوگا اور قیامت میں بھی ۔ فَشَرِّفْنَا اللّٰہُم بِہَا یَا من بیدہ ملکوت کل شی ۔ بہرکیف یہاں پر ارشاد فرمایا گیا کہ آج تو یہ لوگ فرشتوں کے دیکھنے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن جب یہ فرشتوں کو دیکھیں گے تو اس دن ان کیلئے خوشی کا کوئی موقعہ نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ ان کیلئے ذلت و رسوائی کا موقعہ ہوگا۔ سو ان کو فرشتے موت کے وقت نظر آئیں گے تو وہ ان کیلئے خوشی کی بجائے عذاب کا پیغام لائیں گے۔ اور وہ ان کے مونہوں اور ان کی پیٹھوں پر ماریں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَوْ تَرَی اِذْ یَتَوَفَّی الَّذِیْنَ کَفَرُوا الْمَلٓئِکُۃُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْہَہُمْ وَ اَدْبَارَہُمْ وَذُوْقُوا عَذَابَ الْحَرِیْقِ } ۔ (الانفال :50) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔ 30{ حجراً محجوراً } کا معنیٰ و مطلب ؟ : سو " حجر " کے معنیٰ ہیں " پناہ " اور " رکاوٹ " کے۔ اور " محجور " اسی سے اسم مفعول ہے بمعنیٰ " روکی ہوئی چیز "۔ یعنی " پناہ در پناہ " اور " مضبوط پناہ " وغیرہ۔ یعنی آج تو یہ لوگ فرشتوں کے اترنے اور دیکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں مگر اس روز یہ چیخ چیخ کر ان سے پناہ مانگ رہے ہوں گے کہ ہمیں ان سے دور اور محفوظ رکھا جائے۔ آج کی ان کی یہ ساری غفلت شعاری اور لاپرواہی اس وقت ہرن ہوجائے گی۔ اور دوسرا احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ یہ قول فرشتوں کا ہوگا۔ یعنی وہ فرشتے ان سے اس دن کہیں گے کہ اب تم سے جنت اور اس کی نعمتوں کو بالکل بند کردیا گیا ہے۔ (محاسن، معارف وغیرہ) ۔ اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ جنت کو کمانے اور حاصل کرنے کا موقع تو دنیاوی زندگی اور اس کی فرصت میں تھا۔ جس کو انہوں نے کفر و انکار کی حالت میں ہی گزار دیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے منکر اور محروم انسان کیلئے ہمیشہ کی محرومی ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان کفار و منکرین کیلئے صحت و سلامتی کی راہ یہ ہے کہ یہ فرشتوں کے اترنے جیسے مطالبات کی بجائے ایمان لاکر اپنے اس ہولناک انجام سے بچنے کی فکر و کوشش کریں اور آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی کیلئے تیاری کریں قبل اس سے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت محدود ان کے ہاتھوں سے نکل جائے اور پھر ان کو ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑے ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال وسوء وانحراف۔