25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 25:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

بڑی برکت ہے اس کی جس نے اتاری فیصلہ کی کتاب3 اپنے بندہ پر4 تاکہ رہے جہان والوں کے لیے ڈرانے والاف 5

3 " فرقان " (فیصلہ کی کتاب) قرآن کریم کو فرمایا جو حق و باطل کا آخری فیصلہ اور حرام و حلال کو کھلے طور پر ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے۔ یہ ہی کتاب ہے جس نے اپنے اتارنے والے کی عظمت شان علو صفات اور اعلیٰ درجہ کی حکمت ورافت کو انتہائی مشکل میں پیش کیا اور تمام جہان کی ہدایت و اصلاح کا تکفل اور ان کو خیر کثیر اور غیر منقطع برکت عطا کرنے کا سامان بہم پہنچایا۔ 4 یعنی اپنے اس کامل و اکمل بندہ (محمد رسول اللہ ﷺ پر جن کا ممتاز لقب ہی کمال عبودیت کی وجہ سے " عبد اللہ " ہوگیا۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ 5 یعنی قرآن کریم سارے جہان کو کفر و عصیان کے انجام بد سے آگاہ کرنے والا ہے۔ چونکہ سورت ہذا میں مکذبین و معاندین کا ذکر بکثرت ہوا ہے، شاید اسی لیے یہاں صفت " نذیر " کو بیان فرمایا۔ " بشیر " کا ذکر نہیں کیا۔ اور " للعالمین " کے لفظ سے بتلا دیا کہ یہ قرآن صرف عرب کے امیّوں کے لیے نہیں اترا بلکہ تمام جن و انس کی ہدایت و اصلاح کے واسطے آیا ہے۔
Ayah 25:2

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

وہ کہ جس کی ہے سلطنت آسمان اور زمین میں اور نہیں پکڑا اس نے بیٹا اور نہیں کوئی اس کا ساجھی سلطنت میں اور بنائی ہر چیز پھر ٹھیک کیا اس کو ناپ کر6

6 یعنی ہر چیز کو ایک خاص اندازہ میں رکھا کہ اس سے وہی خواص و افعال ظاہر ہوتے ہیں جن کے لیے پیدا کی گئی ہے اپنے دائرہ سے باہر قدم نہیں نکال سکتی نہ اپنی حدود میں عمل و تصرف کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ غرض ہر چیز کو ایسا ناپ تول کر پیدا فرمایا کہ اس کی فطری موزونیت کے لحاظ سے ذرا کمی بیشی یا انگلی رکھنے کی گنجائش نہیں چھوڑی۔ بڑے بڑے سائنس داں حکمت کے دریا میں غوطہ لگاتے ہیں اور آخرکار ان کو یہ ہی کہنا پڑتا ہے۔ (صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ ) 27 ۔ النمل :88) اور (فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ ) 23 ۔ المومنون :14)
Ayah 25:3

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور لوگوں نے پکڑ رکھے ہیں اس سے ورے کتنے حاکم جو نہیں بناتے کچھ چیز اور وہ خود بنائے گئے ہیں اور نہیں مالک اپنے حق میں برے کے اور نہ بھلے کے اور نہیں مالک مرنے کے اور نہ جینے کے اور نہ جی اٹھنے کے7

7 یعنی کس قدر ظلم اور تعجب و حیرت کا مقام ہے کہ ایسے قادر مطلق، مالک الکل، حکیم علی الاطلاق کی زبردست ہستی کو کافی نہ سمجھ کر دوسرے معبود اور حاکم تجویز کرلیے گئے جو گویا خدا کی حکومت میں حصہ دار ہیں۔ حالانکہ ان بیچاروں کا خود اپنا وجود بھی اپنے گھر کا نہیں۔ نہ وہ ایک ذرہ کے پیدا کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، نہ مارنا جلانا ان کے قبضہ میں ہے، نہ اپنے مستقل اختیار سے کسی کو ادنیٰ ترین نفع نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ بلکہ خود اپنی ذات کے لیے بھی ذرہ برابر فائدہ حاصل کرنے یا نقصان سے محفوظ رہنے کی قدرت نہیں رکھتے ایسی عاجز و مجبور ہستیوں کو خدا کا شریک ٹھہرانا کس قدر سفاہت اور بےحیائی ہے۔ (ربط) یہ تو قرآن نازل کرنے والے کی صفات و شؤن کا ذکر تھا اور اس کے متعلق مشرکین جو بےتمیزی کر رہے تھے اس کی تردید تھی۔ آگے خود قرآن اور حامل قرآن کی نسبت سفیہانہ نکتہ چینیوں کا جواب ہے۔
Ayah 25:4

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور کہنے لگے جو منکر ہیں اور کچھ نہیں ہے یہ مگر طوفان باندھ لایا ہے اور ساتھ دیا ہے اس کا اس میں اور لوگوں نے1 سو آگئے بےانصافی اور جھوٹ پر2

1 یعنی یہ سب کہنے کی باتیں ہیں کہ قرآن اللہ کی کتاب ہے۔ معاذ اللہ محمد ﷺ نے چند یہودیوں کی مدد سے ایک کلام تیار کرلیا اور اس کو جھوٹ طوفان خدا کی طرف منسوب کردیا۔ پھر ان کے ساتھی لگے اس کی اشاعت کرنے، بس کل حقیقت اتنی ہے۔ 2 یعنی اس سے بڑھ کر ظلم اور جھوٹ کیا ہوگا کہ ایسے کلام معجز اور کتاب حکیم کو جس کی عظمت و صداقت آفتاب سے زیادہ روشن ہے، کذب و افتراء کہا جائے۔ کیا چند یہودی غلاموں کی مدد سے ایسا کلام بنایا جاسکتا ہے جس کے مقابلہ میں تمام دنیا کے فصیح وبلیغ عالم و حکیم بلکہ جن و انس ہمیشہ کے لیے عاجز رہ جائیں۔ اور جس کے علوم و معارف کی تھوڑی سی جھلک بڑے بڑے عالی دماغ عقلاء و حکماء کی آنکھوں کو خیرہ کر دے۔
Ayah 25:5

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور کہنے لگے یہ نقلیں ہیں پہلوں کی جن کو اس نے لکھ رکھا ہے، سو وہ ہی لکھوائی جاتی ہیں اس کے پاس صبح اور شام3

3 یعنی محمد ﷺ نے اہل کتاب سے کچھ قصے کہانیاں سن کر نوٹ کرلی ہیں۔ یا کسی سے نوٹ کرا لی ہیں۔ وہ ہی شب و روز ان کے سامنے پڑھی اور رٹی جاتی ہیں۔ نئے نئے اسلوب سے ان ہی کا الٹ پھیر رہتا ہے اور کچھ بھی نہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ اول نماز کے دو وقت مقرر تھے صبح اور شام۔ مسلمان حضرت کے پاس جمع ہوتے جو نیا قرآن اترا ہوتا لکھ لیتے یاد کرنے کو۔ اس کو کافر یوں کہنے لگے۔ "
Ayah 25:6

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

تو کہہ اس کو اتارا ہے اس نے جو جانتا ہے چھپے ہوئے بھید آسمانوں میں اور زمین میں4 بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے5

4 یعنی کتاب خود بتلا رہی ہے کہ وہ کسی ایک انسان یا کمیٹی کی بنائی ہوئی نہیں، بلکہ اس خدا کی اتاری ہوئی ہے جس کے احاطہ علمی سے زمین و آسمان کی کوئی چیز باہر نہیں ہوسکتی۔ اس کلام کی معجزانہ فصاحت و بلاغت، علوم و معارف، اخبار غیبیہ، احکام و قوانین اور وہ اسرار مکنونہ جن کی تہ تک بدون توفیق الٰہی کے عقول و افہام کی رسائی نہیں ہوسکتی صاف ظاہر کرتے ہیں کہ یہ کسی محدود علم والے آدمی یا سازشی جماعت کا کلام نہیں۔ 5 یعنی اپنی بخشش اور مہر سے ہی قرآن اتارا (موضح القرآن) پھر جو لوگ ایسی روشن حقیقت کے منکر ہیں باوجود ان کے جرائم کا تفصیلی علم رکھنے کے فوراً سزا نہیں دیتا۔ یہ بھی اس کی بخشش اور مہر ہی کا پرتو ہے۔
Ayah 25:7

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور کہنے لگے یہ کیسا رسول ہے کھاتا ہے کھانا اور پھرتا ہے بازاروں میں6 کیوں نہ اترا اس کی طرف کوئی فرشتہ کہ رہتا اس کے ساتھ ڈرانے کو

6 یعنی جب ہماری طرح کھانا کھائے اور ہماری طرح خریدو فروخت کے لیے بازاروں میں جائے تو ہم میں اس میں فرق کیا رہا۔ اگر واقعی رسول تھا تو چاہیے تھا کہ فرشتوں کی طرح کھانے پینے اور طلب معاش کے بکھیڑوں سے فارغ ہوتا۔
Ayah 25:8

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا آپڑتا اس کے پاس خزانہ یا ہوجاتا اس کے لیے ایک باغ کہ کھایا کرتا اس میں سے7 اور کہنے لگے بےانصاف تم پیروی کرتے ہو اس ایک مرد جادو مارے کی8

7 یعنی اگر فرشتوں کی فوج نہیں تو کم ازکم خدا کا ایک آدھ فرشتہ ان کو سچا ثابت کرنے اور رعب جمانے کے لیے ساتھ رہتا جسے دیکھ کر خواہ مخواہ لوگوں کو جھکنا پڑتا۔ یہ کیا کہ کس مپرسی کی حالت میں اکیلے دعویٰ کرتے پھر رہے ہیں۔ یا اگر فرشتے بھی ہمراہ نہ ہوں تو کم از کم آسمان سے سونے چاندی کا کوئی غیبی خزانہ مل جاتا کہ لوگوں کو بےدریغ مال خرچ کر کے ہی اپنی طرف کھینچ لیا کرتے۔ اور خیر یہ بھی نہ سہی معمولی رئیسوں اور زمینداروں کی طرح انگور کھجور وغیرہ کا ایک باغ تو ان کی ملک میں ہوتا جس سے دوسروں کو نہ دیتے تو کم ازکم خود بےفکری سے کھایا پیا کرتے جب اتنا بھی نہیں تو کس طرح یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ نے رسالت کے عہدہ جلیلہ پہ معاذ اللہ ایسی معمولی حیثیت کے آدمی کو مامور کیا ہے۔ 8 یعنی میاں کی یہ پوزیشن اور اتنے اونچے دعوے ؟ بجز اس کے کیا کہا جائے کہ عقل کھوئی گئی ہے یا کسی نے جادو کے زور سے دماغ مختل کردیا ہے جو ایسی بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں۔ (العیاذ باللہ)
Ayah 25:9

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

دیکھ کیسی بٹھلاتے ہیں تجھ پر مثلیں سو بہک گئے اب پا نہیں سکتے راستہ9

9 یعنی کبھی کہتے ہیں کہ ان کی باتیں محض مفتریات ہیں۔ کبھی دعوے کرتے ہیں کہ نہیں دوسروں سے سیکھ کر اپنے سانچے میں ڈھال لی ہیں کبھی آپ ﷺ کو مسحور بتلاتے ہیں کبھی ساحر، کبھی کاہن، کبھی شاعر، کبھی مجنوں، یہ اضطراب خود بتلاتا ہے کہ ان میں سے کوئی چیز آپ ﷺ پر منطبق نہیں ہوتی۔ اسی لیے کسی ایک بات پر قرار نہیں۔ اور الزام لگانے کا کوئی راستہ ہاتھ نہیں آتا۔ جو لوگ انبیاء کی جناب میں اس طرح کی گستاخیاں کر کے گمراہ ہوتے ہیں ان کے راہ راست پر آنے کی کوئی توقع نہیں۔
Ayah 25:10

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

بڑی برکت ہے اس کی جو چاہے تو کر دے تیرے واسطے اس سے بہتر باغ کہ نیچے بہتی ہیں ان کے نہریں اور کر دے تیرے واسطے محل10

10 یعنی اللہ کے خزانہ میں کیا کمی ہے، وہ چاہے تو ایک باغ کیا، بہت سے باغ اس سے بہتر عنایت فرما دے جس کا یہ لوگ مطالبہ کرتے ہیں۔ بلکہ اس کو قدرت ہے کہ آخرت میں جو باغ اور نہریں اور حورو قصور ملنے والے ہیں وہ سب آپ ﷺ کو ابھی دنیا میں عطا کر دے۔ لیکن حکمت الٰہی بالفعل اس کو مقتضی نہیں۔ اور معاندین کے سارے مطالبات اور فرمائشیں بھی اگر پوری کردی جائیں تب بھی یہ حق و صداقت کو قبول کرنے والے نہیں ہیں۔ باقی پیغمبر ﷺ کی صداقت ثابت کرنے کے لیے جو دلائل و معجزات پیش کیے جا چکے وہ کافی سے زیادہ ہیں۔
Ayah 25:11

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

کچھ نہیں وہ جھٹلاتے ہیں قیامت کو اور ہم نے تیار کی ہے اس کے واسطے کہ جھٹلایا ہے قیامت کو آگ11

11 یعنی یہ لوگ جن چیزوں کا مطالبہ کر رہے ہیں، فی الحقیقت طلب حق کی نیت نہیں۔ محض شرارت اور تنگ کرنے کے لیے ہے۔ اور شرارت کا سبب یہ ہے کہ انھیں ابھی تک قیامت اور سزا و جزاء پر یقین نہیں آیا۔ سو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے جھٹلانے سے کچھ نہیں بنتا، قیامت آکر رہے گی اور ان مکذبین کے لیے آگ کا جو جیل خانہ تیار کیا گیا ہے اس میں ضرور رہنا پڑے گا۔
Ayah 25:12

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

جب وہ دیکھے گی ان کو دور کی جگہ سے سنیں گے اس کا جھنجھلانا اور چلانا12

12 یعنی دوزخ کی آگ محشر میں جہنمیوں کو دور سے دیکھ کر جوش میں بھر جائے گی اور اس کی غضبناک آوازوں اور خوفناک پھنکاروں سے بڑے بڑے دلیروں کے پتے پانی ہوجائیں گے۔
Ayah 25:13

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب ڈالے جائیں گے اس کے اندر ایک جگہ تنگ میں ایک زنجیر میں کئی کئی بندھے ہوئے پکاریں گے اس جگہ موت کو1

1 یعنی دوزخ میں ہر مجرم کے لیے خاص جگہ ہوگی جہاں سے ہل نہ سکے گا۔ اور ایک نوعیت کے کئی کئی مجرم ایک ساتھ زنجیروں میں جکڑے ہوں گے۔ اس وقت مصیبت سے گھبرا کر موت کو پکاریں گے کہ کاش موت آکر ہماری ان دردناک مصائب کا خاتمہ کر دے۔
Ayah 25:14

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

مت پکارو آج ایک مرنے کو اور پکارو بہت سے مرنے کو2

2 یعنی ایک بار مریں تو چھوٹ جائیں۔ دن میں ہزار بار مرنے سے بدترحال ہوتا ہے۔ (موضح القرآن)
Ayah 25:15

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

تو کہہ بھلا یہ چیز بہتر ہے یا باغ ہمیشہ رہنے کا جس کا وعدہ ہوچکا پرہیزگاروں سے3 وہ ہوگا ان کا بدلہ اور پھرجانے کی جگہ

3 یعنی مکذبین کا انجام سن لیا۔ اب خود فیصلہ کرلو کہ یہ پسند ہے یا وہ جس کا وعدہ مومنین متقین سے کیا گیا۔
Ayah 25:16

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

ان کے واسطے وہاں ہے جو وہ چاہیں4 رہا کریں ہمیشہ ہوچکا تیرے رب کے ذمہ وعدہ مانگا ملتا5

4 اور چاہیں گے وہی جو ان کے مرتبہ کے مناسب ہوگا۔ 5 " وَعْدًا مَّسْئُولاً " سے مراد حتمی وعدہ ہے جو خدا تعالیٰ نے محض فضل و عنایت سے اپنے ذمہ لازم کرلیا۔ یا یہ مطلب کہ اس وعدہ کے افاء کا متقین سوال کریں گے۔ جو یقینا پورا کیا جائے گا جیسا کہ دعا میں ہے۔ (رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰي رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭاِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ ) 3 ۔ آل عمران :194)
Ayah 25:17

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور جس دن جمع کر بلائے گا ان کو اور جن کو وہ پوجتے ہیں اللہ کے سوائے پھر ان سے کہے گا کیا تم نے بہکایا میرے ان بندوں کو یا وہ آپ بہکے راہ سے6

6 یعنی عابدین کو سناکر معبودوں سے دریافت کیا جائے گا کہ کیا تم نے ان کو شرک کی اور اپنی پرستش کرانے کی ترغیب دی تھی یا یہ خود اپنی حماقت و جہالت اور غفلت و بےتوجہی سے گمراہ ہوئے۔
Ayah 25:18

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

بولیں گے تو پاک ہے ہم سے بن نہ آتا تھا کہ پکڑلیں کسی کو تیرے بغیر رفیق7 لیکن تو ان کو فائدہ پہنچاتا رہا اور ان کے باپ دادوں کو یہاں تک کہ بھلا بیٹھے تیری یاد اور یہ تھے لوگ تباہ ہونے والے8

7 یعنی ہماری کیا مجال تھی کہ تجھ سے ہٹ کر کسی دوسرے کو اپنا رفیق و مددگار سمجھتے۔ پھر جب ہم اپنے نفس کے لیے تیرے سوا کوئی سہارا نہیں رکھتے تو دوسروں کو کیسے حکم دیتے کہ ہم کو اپنا معبود اور حاجت روا سمجھیں۔ 8 یعنی اصل یہ ہے کہ یہ بدبخت اپنی سوء استعداد سے خود ہی تباہ ہونے کو پھر رہے تھے ہلاکت ان کے لیے مقدر ہوچکی تھی، ظاہری سبب اس کا یہ ہوا کہ عیش و آرام میں پڑ کر اور غفلت کے نشہ میں چور ہو کر آپ کی یاد کو بھلا بیٹھے، کسی نصیحت پر کان نہ دھرا، پیغمبروں کی ہدایت و ارشاد کی طرف سے بالکل آنکھیں بند کرلیں اور دنیاوی تمتع پر مغرور ہوگئے۔ آپ نے اپنی نوازش سے جس قدر ان کو اور ان کے باپ دادوں کو دنیا کے فائدے پہنچائے، یہ اسی قدر غفلت و نسیان میں ترقی کرتے گئے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ انعامات الٰہیہ کو دیکھ کر منعم حقیقی کی بندگی اور شکر گزاری اختیار کرتے، الٹے مغرور و مفتون ہو کر فکر و عصیان پر تل گئے۔ گویا جو امرت تھا، بدبختی سے ان کے حق میں زہر بن گیا۔
Ayah 25:19

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

سو وہ تو جھٹلا چکے تم کو تمہاری بات میں9 اب نہ تم لوٹا سکتے ہو اور نہ مدد کرسکتے ہو10 اور جو کوئی تم میں گناہ گار ہے اس کو ہم چکھائیں گے بڑا عذاب11

9 یہ حق تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوگا کہ لو ! جن کی اعانت پر تم کو بڑا بھروسہ تھا وہ خود تمہارے دعاوی کو جھٹلا رہے اور تمہاری حرکات سے اعلانیہ بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں۔ 10 یعنی اب نہ عذاب الٰہی کو پھیر سکتے ہو نہ بات کو پلٹ سکتے ہو نہ ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہو، جس کو جو سزا ملنے والی ہے اس کا پڑے مزہ چکھتے رہو۔ 11 شاید ظلم سے مراد یہاں شرک ہو، اور ممکن ہے ہر قسم کا ظلم و گناہ مراد لیا جائے۔
Ayah 25:20

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور جتنے بھیجے ہم نے تجھ سے پہلے رسول سب کھاتے تھے کھانا اور پھرتے تھے بازاروں میں12 اور ہم نے رکھا ہے تم میں ایک دوسرے کے جانچنے کو دیکھیں ثابت بھی رہتے ہو13 اور تیرا رب سب کچھ دیکھتا ہے14

12 یہ جواب ہوا۔ (مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ ) 25 ۔ الفرقان :7) کا۔ یعنی آپ سے پہلے جتنے پیغمبر دنیا میں آئے سب آدمی تھی۔ آدمیوں کی طرح کھاتے پیتے اور معاشی ضروریات کے لیے بازار بھی جاتے تھے۔ ان کو فرشتہ بنا کر نہیں بھیجا جو کھانے پینے اور حوائج بشریہ سے مستغنی ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے لیے بازاروں میں پھرنا شان تقدس اور بزرگی کے منافی نہیں۔ بلکہ اگر بازار نہ جانے کا منشاء کبرو خودبینی ہو تو یہ بزرگی کے خلاف ہے۔ 13 یعنی پیغمبر ہیں کافروں کا ایمان جانچنے کو۔ اور کافر ہیں پیغمبروں کا صبر جانچنے کو۔ اب دیکھیں کافروں کے سفیہانہ طعن وتشنیع اور لغو اعتراضات سن کر تم کس حد تک صبر واستقلال دکھاتے ہو۔ 14 یعنی کافروں کو کفر و ایذاء دہی اور صابروں کا صبر و تحمل سب اس کی نظر میں ہے۔ ہر ایک کو اس کے کیے کا پھل دے کر رہے گا۔
Ayah 25:21

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور بولے وہ لوگ جو امید نہیں رکھتے کہ ہم سے ملیں گے کیوں نہ اترے ہم پر فرشتے یا ہم دیکھ لیتے اپنے رب کو1 بہت بڑائی رکھتے ہیں اپنے جی میں اور سر چڑھ رہے ہیں بڑی شرارت میں2

1 یعنی جن کو یہ امید نہیں کہ ایک روز ہمارے روبرو حاضر ہو کر حساب و کتاب دینا ہے وہ سزا کے خوف سے بالکل بےفکر ہو کر معاندانہ اور گستاخانہ کلمات زبان سے بکتے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں کہ محمد ﷺ کی طرح ہم پر فرشتے وحی لے کر کیوں نہ اترے۔ یا خدا تعالیٰ سامنے آکر ہم سے ہمکلام کیوں نہیں ہوگیا۔ کم از کم فرشتے تمہاری تصدیق ہی کے لیے آجاتے یا خود خداوند رب العزت کو ہم دیکھتے کہ سامنے ہو کر تمہارے دعوے کی تائید و تصدیق کر رہا ہے کما فی موضوع آخر۔ (قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ ۂاَللّٰهُ ) 6 ۔ الانعام :124) وفی سورة الاسراء۔ (اَوْ تَاْتِيَ باللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ قَبِيْلًا) 17 ۔ الاسراء :92) 2 یعنی انہوں نے اپنے دل میں اپنے کو بہت بڑا سمجھ رکھا ہے جو وحی اور فرشتوں کے آنے کی تمنا رکھتے ہیں شرارت و سرکشی کی حد ہوگئی کہ باوجود ایسی سیاہ کاریوں کے دنیا میں ان آنکھوں سے خداوند قدوس کو دیکھنے اور شرف ہم کلامی سے مشرف ہونے کا مطالبہ کریں۔
Ayah 25:22

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس دن دیکھیں گے فرشتوں کو کچھ خوشخبری نہیں اس دن گناہ گاروں کو اور کہیں گے کہیں روک دی جائے کوئی آڑ3

3 یعنی گھبراؤ نہیں، ایک دن آنے والا ہے جب فرشتے تم کو نظر پڑیں گے، لیکن ان کے دیکھنے سے تم جیسے مجرموں کو کچھ خوشی حاصل نہ ہوگی، بلکہ سخت ہولناک مصائب کا سامنا ہوگا۔ حتی کہ جو لوگ اس وقت فرشتوں کے نزول کا مطالبہ کرنے والے ہیں اس وقت " حِجْرًا مَحْجُورًا " کہہ کر پناہ طلب کریں گے، اور چاہیں گے کہ ان کے اور فرشتوں کے درمیان کوئی سخت روک قائم ہوجائے کہ وہ ان تک نہ پہنچ سکیں لیکن خدا کا فیصلہ کب رک سکتا ہے۔ فرشتے بھی حِجْرًا مَحْجُوْراً کہہ کر بتلا دیں گے کہ آج مسرت و کامیابی ہمیشہ کے لیے تم سے روک دی گئی ہے۔ (تنبیہ) ممکن ہے یہ تذکرہ احتضار (موت) کے وقت کا ہو۔ کماقال تعالیٰ (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ يَتَوَفَّى الَّذِيْنَ كَفَرُوا ۙ الْمَلٰۗىِٕكَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ ) 8 ۔ الانفال :50) وقال تعالیٰ (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ بَاسِطُوْٓا اَيْدِيْهِمْ ۚ اَخْرِجُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ ) 6 ۔ الانعام :93) گویا یہ کیفیت اس کے بالمقابل ہوگی۔ جو دوسری جگہ مومنین کی بیان ہوئی ہے۔ (اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا تَـتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ) 41 ۔ فصلت :30) اور ممکن ہے یہاں قیامت کے دن کا ذکر ہو۔ واللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
Ayah 25:23

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور ہم پہنچے ان کے کاموں پر جو انہوں نے کیے تھے پھر ہم نے کر ڈالا اس کو خاک اڑتی ہوئی4

4 یعنی وہ ہم کو بلاتے تھے تو ہم بھی آپہنچے، مگر ان کی عزت بڑھانے کو نہیں، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے اپنے زعم باطل کے موافق جو بھلے کام کیے تھے جن پر بڑا بھروسہ تھا انھیں ہم قطعاً ملیامیٹ کردیں اور اس طرح بےحقیقت کر کے اڑا دیں جیسے خاک کے حقیر ذرات ہوا میں ادھر ادھر اڑ جایا کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ اعمال روح اخلاص و ایمان سے یکسر خالی یا طریق حق کے بالکل متضاد واقع ہوئے ہیں۔ قال تعالیٰ (مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِۨ اشْـتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ ) 14 ۔ ابراہیم :18) وغیرہ ذلک من الآیات۔
Ayah 25:24

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

بہشت کے لوگوں کا اس دن خوب ہے ٹھکانا اور خوب ہے جگہ دوپہر کے آرام کی5

5 یعنی یہ لوگ تو اس روز اس مصیبت میں گرفتار ہوں گے اور جن کی ہنسی اڑایا کرتے تھے وہ جنت میں خوب عیش و آرام کے مزے لوٹیں گے۔
Ayah 25:25

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اور جس دن پھٹ جائے آسمان بادل سے اور اتارے جائیں فرشتے تار لگا کر6

6 قیامت کے دن آسمانوں کے پھٹنے کے بعد اوپر سے بادل کی طرح کی ایک چیز اترتی نظر آئے گی جس میں حق تعالیٰ کی ایک خاص تجلی ہوگی۔ اسے ہم چترشاہی سے تعبیر کیے لیتے ہیں۔ شاید یہ وہی چیز ہو جسے ابو رزین کی حدیث میں " عَمَاء " سے اور نسائی کی ایک روایت میں جو معراج سے متعلق ہے " غَیَابَہُ " سے تعبیر کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ اس کے ساتھ بیشمار فرشتوں کا ہجوم ہوگا اور آسمانوں کے فرشتے اس روز لگاتار مقام محشر کی طرف نزول فرمائیں گے۔ دوسرے پارہ کے نصف کے قریب آیت (ھَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيَهُمُ اللّٰهُ فِيْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَقُضِيَ الْاَمْرُ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ) 2 ۔ البقرۃ :210) میں بھی اسی طرح کا مضمون گزر چکا ہے۔
Ayah 25:26

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

بادشاہی اس دن سچی ہے رحمان کی اور ہے وہ دن منکروں پر مشکل7

7 یعنی ظاہراً و باطناً ، صورۃً معنی، من کل الوجوہ اکیلے رحمان کی بادشاہت ہوگی اور صرف اسی کا حکم چلے گا۔ (لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ) 40 ۔ غافر :16) پھر جب رحمان کی حکومت ہوئی تو جو مستحق رحمت ہیں ان کے لیے رحمت کی کیا کمی، بےحساب رحمتوں سے نوازے جائیں گے مگر باوجود ایسی لامحدود رحمت کے کافروں کے لیے وہ دن بڑی سخت مشکل اور مصیبت کا ہوگا۔ کہ بازار چنداں کہ آگندہ تر تہی دست را دل پراگندہ تر
Ayah 25:27

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور جس دن کاٹ کاٹ کھائے گا گناہ گار اپنے ہاتھوں کو کہے گا اے کاش کہ میں نے پکڑا ہوتا رسول کے ساتھ راستہ8

8 یعنی مارے حسرت و ندامت کے اپنے ہاتھ کاٹے گا اور افسوس کرے گا کہ میں نے کیوں دنیا میں رسول خدا کا راستہ اختیار نہ کیا اور کیوں شیاطین الانس والجن کے بہکائے میں آگیا جو آج یہ روز بد دیکھنا پڑا۔
Ayah 25:28

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

اے خرابی میری کاش کہ نہ پکڑا ہوتا میں نے فلانے کو دوست9

9 یعنی جن کی دوستی اور اغواء سے گمراہ ہوا تھا یا گمراہی میں ترقی کی تھی، اس وقت پچھتائے گا کہ افسوس ایسوں کو میں نے اپنا دوست کیوں سمجھا۔ کاش میرے اور ان کے درمیان کبھی دوستی اور رفاقت نہ ہوئی ہوتی۔ (تنبیہ) مفسرین نے یہاں عقبہ بن ابی معیط اور ابی بن خلف کا جو واقعہ نقل کیا ہے، کچھ ضرورت نہیں کہ آیت کے مدلول کو اس پر مقصود کیا جائے۔ ہاں جو تقریر ہم نے کی ہے اس میں وہ بھی داخل ہے۔
Ayah 25:29

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

اس نے تو بہکا دیا مجھ کو نصیحت سے مجھ تک پہنچ چکنے کے پیچھے اور ہے شیطان آدمی کو وقت پر دغا دینے والاف 10

10 یعنی پیغمبر کی نصیحت مجھ کو نہیں پہنچ چکی تھی جو ہدایت کے لیے کافی تھی، اور امکان تھا کہ میرے دل میں گھر کرلے۔ مگر اس کم بخت کی دوستی نے تباہ کیا اور دل کو ادھر متوجہ نہ ہونے دیا۔ بیشک شیطان بڑا دغا باز ہے آدمی کو عین وقت پر دھوکا دیتا اور بری طرح رسوا کرتا ہے۔
Ayah 25:30

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور کہا رسول نے اے میرے رب میری قوم نے ٹھہرایا ہے اس قرآن کو جھک جَھک11

11 یعنی ضدی معاندین نے جب کسی طرح نصیحت پر کان نہ دھرا، تب پیغمبر ﷺ نے بارگاہ الٰہی میں شکایت کی کہ خداوند میری قوم نہیں سنتی، انہوں نے قرآن کریم جیسی عظیم الشان کتاب کو (العیاذ باللہ) بکواس قرار دیا ہے، جب قرآن پڑھا جاتا ہے تو خوب شور مچاتے اور بک بک جھک جھک کرتے ہیں۔ تاکہ کوئی شخص سن اور سمجھ نہ سکے۔ اس طرح ان اشقیاء نے قرآن جیسی قابل قدر کتاب کو بالکل متروک و مہجور کر چھوڑا ہے۔ (تنبیہ) آیت میں اگرچہ مذکور صرف کافروں کا ہے تاہم قرآن کی تصدیق نہ کرنا، اس میں تدبر نہ کرنا، اس پر عمل نہ کرنا اس کی تلاوت نہ کرنا، اس کی صحیح قراءت کی طرف توجہ نہ کرنا، اس سے اعراض کر رکے دوسری لغویات یا حقیر چیزوں کی طرف متوجہ ہونا، یہ سب صورتیں درجہ بدرجہ ہجران قرآن کے تحت میں داخل ہوسکتی ہے۔ فنسال اللہ الکریم المنان القادر علی ما یشآء ان یخلصنا مما یسخطہ ویستعملنا فیما یرضیہ من حفظ کتابہ وفھمہ والقیام بمقتضاہ اناء اللیل واطراف النھار علی الوجہ الذی یحبہ ویرضاہ انہ کریم وھاب۔
Ayah 25:31

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اور اسی طرح رکھے ہیں ہم نے ہر نبی کے لیے دشمن گناہ گاروں میں سے1 اور کافی ہے تیرا رب راہ دکھلانے کو اور مدد کرنے کو2

1 جو نبی کی بات ماننے میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں اور لوگوں کو قبول حق سے روکتے ہیں۔ 2 یعنی کافر پڑے بہکایا کریں، جس کو اللہ چاہے گا راہ پر لے آئے گا یا یہ مطلب ہے کہ اللہ جس کو چاہے گا ہدایت کر دے گا اور جن کو ہدایت نصیب نہ ہوگی ان کے سب کے مقابلہ میں تیری مدد کرے گا۔ یا یہ کہ حق تعالیٰ تیری مدد کر کے مقام مطلوب تک پہنچا دے گا۔ کوئی رکاوٹ مانع نہ ہو سکے گی۔
Ayah 25:32

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور کہنے لگے وہ لوگ جو منکر ہیں کیوں نہ اترا اس پر قرآن سارا ایک جگہ ہو کر3 اسی طرح اتارا تاکہ ثابت رکھیں ہم اس سے تیرا دل اور پڑھ سنایا ہم نے اس کو ٹھہر ٹھہر کر4

3 یعنی نبی کے دشمن لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ایسے ایسے اعتراض چھانٹتے ہیں کہ صاحب ! دوسری کتابوں کی طرح پورا قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہ اتارا گیا، برسوں میں جو تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا، کیا اللہ میاں کو کچھ سوچنا پڑتا تھا، اس سے تو شبہ ہوتا ہے کہ خود محمد ﷺ سوچ سوچ کر بناتے ہیں۔ پھر موقع مناسب دیکھ کر تھوڑا تھوڑا سناتے رہتے ہیں۔ 4 یعنی یہ کیا ضروری ہے کہ تھوڑا تھوڑا کر کے اتارنا اس سبب سے ہو جو تم نے سمجھا۔ اگر غور کرو گے تو اس طرح نازل کرنے میں بہت سے فوائد ہیں جو دفعتاً نازل کرنے کی صورت میں پوری طرح حاصل نہ ہوتے۔ مثلاً اس صورت میں قرآن کا حفظ کرنا زیادہ آسان ہوا، سمجھنے میں سہولت رہی، کلام پوری طرح منضبط ہوتا رہا اور جن مصالح و حکم کی رعایت اس میں کی گئی تھی، لوگ موقع بہ موقع ان کی تفاصیل پر مطلع ہوتے رہے۔ ہر آیت کی جداگانہ شان نزول کو دیکھ کر اس کا صحیح مطلب متعین کرنے میں مدد ملی۔ ہر ضرورت کے وقت ہر بات کا بروقت جواب ملتے رہنے سے پیغمبر اور مسلمانوں کے قلوب تسکین پاتے رہے اور ہر آیت کے نزول پر گویا دعویٰ اعجاز کی تجدید ہوتی رہی۔ اس سلسلہ میں جبرائیل کا بار بار آنا جانا ہوا جو ایک مستقل برکت تھی، وغیر ذلک من الفوائد۔ ان ہی میں سے بعض فوائد کی طرف یہاں اشارہ فرمایا۔
Ayah 25:33

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور نہیں لاتے تیرے پاس کوئی مثل کہ ہم نہیں پہنچا دیتے تجھ کو ٹھیک بات اور اس سے بہتر کھول کر5

5 یعنی کفر جب کوئی اعتراض قرآن پر یا کوئی مثال آپ پر چسپاں کرتے ہیں تو قرآن اس کے جواب میں ٹھیک ٹھیک بات بتلا دیتا ہے جس میں کسی قسم کا ہیر پھیر نہیں ہوتا۔ بلکہ صاف واضح، معتدل اور بےغل و غش بات ہوتی ہے ہاں جن کی عقل اوندھی ہوگئی ہو وہ سیدھی اور صاف بات کو بھی ٹیڑھی سمجھیں، یہ الگ چیز ہے، ایسوں کا انجام اگلی آیت میں بیان فرمایا۔
Ayah 25:34

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

جو لوگ کہ گھیر کر لائے جائیں گے اوندھے پڑے ہوئے اپنے منہ پر دوزخ کی طرف انہی کا برا درجہ ہے اور بہت بہکے ہوئے ہیں راہ سے6

6 یہ وہی لوگ ہیں جن کی عقل اوندھی ہوگئی اور علویات کو چھوڑ کر سفلی خواہشات پر جھک پڑے۔ آگے ایسی چند اقوام کا جو حشر ہوا عبرت کے لیے اس کو بیان فرماتے ہیں۔
Ayahs 25:35–36

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

اور ہم نے دی موسیٰ کو کتاب اور کردیا ہم نے اس کے ساتھ اس کا بھائی ہارون کام بٹانے والا

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

پھر کہا ہم نے تم دونوں جاؤ ان لوگوں کے پاس جنہوں نے جھٹلا یا ہماری باتوں کو7 پھر دے مارا ہم نے ان کو اکھاڑ کر

7 یعنی آیات تکوینیہ کو جو اللہ کی توحید وغیرہ پر دال ہیں اور انبیائے سابقین کے متفقہ بیانات کو جن کا تھوڑا بہت چرچا پہلے سے چلا آتا تھا، جھٹلا کر خدائی کے دعوے کرنے لگے تھے۔
Ayah 25:37

وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ Open ayah 25:37 in the Quran reader

اور نوح کی قوم کو جب انہوں نے جھٹلایا پیغام لانے والوں کو8 ہم نے ان کو ڈبا دیا اور کیا ان کو لوگوں کے حق میں نشانی، اور تیار کر رکھا ہے ہم نے گناہ گاروں کے واسطے عذاب دردناک

8 ایک پیغمبر کا جھٹلانا سب کا جھٹلانا ہے۔ کیونکہ اصول دین میں سب انبیاء متحد ہیں۔
Ayah 25:38

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا Open ayah 25:38 in the Quran reader

اور عاد کو اور ثمود کو اور کنوئیں والوں کو9 اور اس کے بیچ میں بہت سی جماعتوں کو

9 " اصحاب الرس " (کنوئیں والے) کون تھے ؟ اس میں سخت اختلاف ہوا ہے۔ " روح المعانی " میں بہت سے اقوال نقل کر کے لکھا ہے۔ " وَمُلَخِّصُ الْاَقْوَال اِنَّہُمْ قَوْمٌ اَہْلَکَہُمُ اللّٰہُ بِتَکْذِیْب مَنْ اُرْسِلَ اِلَیْہِمْ " (یعنی خلاصہ یہ ہے کہ وہ کوئی قوم تھی جو اپنے پیغمبر کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک ہوئی) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " ایک امت نے اپنے رسول کو کنوئیں میں بند کیا پھر ان پر عذاب آیا تب وہ رسول خلاص ہوا۔ "
Ayah 25:39

وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا Open ayah 25:39 in the Quran reader

اور سب کو کہہ سنائیں ہم نے مثالیں اور سب کو کھو دیا ہم نے غارت کر کر10

10 یعنی پہلے سب کو اچھی طرح سمجھایا۔ جب کسی طرح نہ مانا تو تختہ الٹ دیا۔
Ayah 25:40

وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا Open ayah 25:40 in the Quran reader

اور یہ لوگ ہو آئے ہیں اس بستی کے پاس جن پر برسا برا برساؤ1 کیا دیکھتے نہ تھے اس کو2 نہیں پر امید نہیں رکھتے جی اٹھنے کی3

1 یعنی قوم لوط کی بستیاں جن کے کھنڈرات پر سے مکہ والے " شام " کے سفر میں گزرتے تھے۔ 2 یعنی کیا ان کے کھنڈرات کو عبرت کی نگاہ سے نہ دیکھا۔ 3 یعنی عبرت کہاں سے ہوتی جب ان کے نزدیک یہ احتمال ہی نہیں کہ مرنے کے بعد پھر جی اٹھنا اور خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ عبرت تو وہ ہی حاصل کرتا ہے جس کے دل میں تھوڑا بہت ڈر ہو اور انجام کی طرف سے بالکل بےفکر نہ ہو۔