25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 25:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

وہ (خدائے غزوجل) بہت ہی بابرکت ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ اہل حال کو ہدایت کرے

تبارک بڑی خیر والا ہے۔ 1 ؂] 1 ؂ امام مالک ‘ امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت عمر ؓ بن خطاب کا بیان نقل کیا ہے حضرت عمر ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ : کی زندگی ہی میں میں نے ہشام بن حکیم کو سورة فرقان پڑھتے سنا اور کان لگا کر سنا تو محسوس کیا کہ ہشام ان کثیر الفاظ پر سورة فرقان پڑھ رہے تھے جن پر رسول اللہ ﷺ نے مجھے نہیں پڑھایا تھا (کثیر الفاظ سے غالباً مراد الفاظ ادا کرنے کی کیفیت ہے جیسے امالہ اشمام وغیرہ۔ حروف کثیرہ کے مفہوم کی تشریح میں علماء کے 21 اقوال آئے ہیں اس فقیر کی نظر میں کیفیت ادا مراد لینا زیادہ مناسب ہے۔ واللہ اعلم۔ مترجم) قریب تھا کہ نماز ہی میں میں ان کو جا کو دوں لیکن میں رکا رہا۔ جب انہوں نے سلام پھیر دیا تو فوراً جا کر ان کا گریبان پکڑ لیا اور دریافت کیا ‘ یہ سورت جو تم پڑھ رہے تھے تم کو کس نے پڑھائی تھی۔ ہشام نے کہا رسول اللہ ﷺ نے پڑھائی تھی۔ میں نے کہا تم جھوٹ کہتے ہو مجھے تو رسول اللہ ﷺ نے اس قرأت کے خلاف پڑھائی تھی جو تم نے پڑھی۔ غرض میں ہشام کو کھینچتا ہوا رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں لے گیا اور عرض کیا میں نے ان کو سورة فرقان ان طریقوں سے پڑھتے نہیں سنا جن کے مطابق حضور ﷺ نے مجھے یہ سورة پڑھائی تھی۔ حضور ﷺ نے ہشام سے فرمایا ‘ ہشام پڑھو ‘ ہشام نے جس طریقے سے پہلے پڑھا تھا اسی طریقے سے پڑھ کر سنا دیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا اسی طرح ہے یونہی نازل کی گئی ‘ پھر مجھ سے فرمایا تم پڑھو۔ حسب الحکم میں نے اس طریقے سے یہ سورت پڑھی جس طریقہ سے حضور ﷺ نے مجھے پڑھائی تھی ‘ فرمایا یہ اسی طرح نازل ہوئی یہ قرآن سات حرفوں (لہجوں یا طرق ادا وغیرہ) پر نازل ہوا ہے ‘ تم کو جو طریقہ سہل معلوم ہو اس طریقہ سے پڑھو۔ (مؤلف)[ تبارک (باب تفاعل کا ماضی ہے لیکن اس) کی صرفی گردان نہیں آتی اس کا استعمال صرف اللہ کے لئے مخصوص ہے۔ یہ لفظ برکت سے بنایا گیا ہے ‘ برکت کا معنی ہے کثرت خیر۔ یعنی اس کی خیر کثیر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا یعنی ہر خیر اسی کی طرف سے آئی ہے۔ کذا قال حسن۔ بعض علماء نے تبارک کا ترجمہ کیا وہ ہر چیز سے بڑھ چڑھ کر ہے اور اپنی صفات و افعال میں سب سے اعلیٰ وبالا ہے برکت کے معنی کے اندر زیادتی کا مفہوم داخل ہے اسی لئے ضحاک نے اس لفظ کا ترجمہ کیا وہ عظمت والا ہے۔ الذی نزل الفرقان علی عبدہ وہ جس نے قرآن اپنے بندے (یعنی محمد ﷺ پر تھوڑا تھوڑا (تدریجاً ) اتارا۔ فرقان مصد رہے۔ فَرَّقَ بَیْنَ الشَّیئین دو چیزوں کو الگ الگ کردیا۔ قرآن کو فرقان کہنے کی یہ وجہ ہے کہ یہ اپنے بیان سے حق و باطل کو الگ الگ کردیتا ہے اور اپنے اعجاز سے اہل حق و اہل باطل میں فرق کردیتا ہے یا فرقان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ (پورے قرآن کا نزول یکدم نہیں ہو ابل کہ) تھوڑا تھوڑا الگ الگ (مختلف اوقات و مقامات میں) نازل ہوا۔ چونکہ قرآن کے اندر خیر کثیر ہے اور اللہ کا برتر و اعلیٰ ہونا اس سے ثابت ہے اس لئے قرآن نازل کرنے والے کو خیر کثیر کا مالک قرار دیا اور تبارک فرمایا۔ لیکون للعلمین نذیرا۔ تاکہ وہ (یعنی عبد یا فرقان سارے) جہانوں کے لئے (یعنی تمام جن و انس کو (مخالفت اور اللہ کے عذاب سے) ڈرانے والا ہو۔ عَالَمِیْنَ سے مراد ہیں جنات اور انسان کیونکہ خصوصیت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ : کی رسالت جنات اور انسانوں کے لئے عام تھی۔ نَذِیْربمعنی منذر (ڈرانے والا) یا بمعنی انذار (مصدر ڈرانا) جیسے نکیر بمعنی انکار آتا ہے۔
Ayah 25:2

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

وہی کہ آسمان اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور جس نے (کسی کو) بیٹا نہیں بنایا اور جس کا بادشاہی میں کوئی شریک نہیں اور جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور پھر اس کا ایک اندازہ ٹھہرایا

الذی لہ ملک السموت والارض وہ اللہ کہ اسی کا اقتدار آسمانوں اور زمین میں ہے۔ ولم یتخذ ولدا اور اس نے (اپنے لئے) کوئی بیٹا نہیں اختیار کیا (جیسا کہ عیسائیوں کا خیال ہے کہ مسیح ( علیہ السلام) خدا کا بیٹا تھا) ۔ ولم یکن لہ شریک فی الملک اور نہ حکومت میں کوئی اس کا ساجھی ہے۔ جیسا کہ مجوسی اور ثنویہ فرقہ والے کہتے ہیں (مجوسی اور ثنویہ فرقہ والے دو خالق مانتے ہیں۔ ایک خیر اور بھلائی کا خالق ‘ دوسرا شر اور برائی کا خالق۔ مجوسی اوّل خالق کو یزداں اور دوسرے کو اہرمن کہتے ہیں) ۔ اس آیت میں اللہ نے اپنے لئے اقتدار ‘ مطلق ہونے کا اظہار فرمایا اور اس کی دلیل پر آئندہ آیت میں تنبیہ فرمائی۔ وخلق کل شی اور اسی نے ہر چیز پیدا کی۔ یعنی ایک خاص اندازے کے ماتحت ہر چیز کو نیستی سے ہستی میں لایا۔ مثلاً انسان کو خاص مادہ سے مخصوص معین شکل دے کر پیدا کیا۔ فقدرہ تقدیرا۔ پھر سب کا الگ الگ اندازہ رکھا۔ یعنی اس کو ٹھیک بنایا ‘ جو خواص و افعال اس میں پیدا کرنا مقصود تھا اس کے مطابق اس چیز میں تخلیقی صلاحیت پیدا کردی۔ جیسے انسان میں فہم ‘ ادراک ‘ غور و فکر ‘ تدبیر ‘ نوع در نوع صنعتوں کے اختراع اور گونا گوں افعال و اعمال پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کردی۔ یا یہ مطلب ہے کہ معین و مقرر وقت تک باقی رکھنا اس کے لئے مقدر کردیا۔ کبھی لفظ خلق کے مفہوم اشتقاقی سے قطع نظر کر کے صرف ایجاد کے معنی میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے ‘ اس وقت یہ مطلب ہوگا کہ اللہ ہر چیز کو عدم سے وجود میں لایا پھر اس کی ایجاد میں ایک قدر خاص کا لحاظ رکھا تاکہ تفاوت نہ ہونے پائے۔ بعض علماء نے قَدّرَ کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اللہ نے ہر چیز کے لئے مدت زندگی ‘ عمل اور رزق پہلے سے ہی مقدر کردیا۔ اب (اس دنیا میں آ کر) یہ تینوں چیزیں تخلیق کے مطابق ہوتی ہیں۔ (اللہ کے اندازۂ تخلیقی کے خلاف نہیں ہوسکتیں) ۔ چونکہ توحید و نبوت کے اثبات کا مفہوم (زیر ذکر) کلام کے اندر تھا ‘ اس لئے جو لوگ ان دونوں کے منکر تھے ان کے عقائد و اقوال کی ذیل کی آیت میں تردید فرمایا (اوّل) باطل معبودوں کا نقص ظاہر فرمایا (پھر نبوت پر ان کو جو بےہودہ اعتراض اور شبہ تھا اس کا ازالہ کیا) ۔
Ayah 25:3

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور (لوگوں نے) اس کے سوا اور معبود بنا لئے ہیں جو کوئی چیز بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کئے گئے ہیں۔ اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے اور نہ جینا اور نہ مر کر اُٹھ کھڑے ہونا

واتخذوا من دونہ الہۃ لا یخلقون شیئاً وہم یخلقون اور بنا رکھے ہیں انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود ان کو پیدا کیا جاتا ہے۔ اتَّخَذُوْا یعنی کفار مکہ نے بنا رکھے ہیں۔ مِنْ دُوْنِہٖاللہ کے سوا۔ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْءًا جو نہ کسی جوہر کو پیدا کرتے نہ عرض کو نہ عمل و فعل کو نہ حالت کو۔ 1 ؂] 1 ؂ جو ممکن خود مستقل بالذات ہو اپنے وجود خارجی میں دوسرے کا محتاج نہ ہو اس کو جوہر کہتے ہیں جیسے تمام اجسام اور وجود خارجی میں اگر دوسرے کا محتاج ہو تو اس کو عرض کہتے ہیں جیسے سیاہی ‘ سرخی جسم کی محتاج ہے۔[ وَہُمْ یُخْلَقُوْنَ اور وہ پیدا کئے جاتے ہیں ‘ وہ مخلوق ہیں ‘ اللہ سب کا خالق ہے۔ عبارت کے الفاظ و معانی میں عموم ہے۔ تمام باطل معبودوں کو یہ لفظ شامل ہے لیکن مراد صرف بت ہیں۔ اس لئے یخلقون کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ پجاری خود اپنے بتوں کو تراشتے اور صورتیں بناتے ہیں۔ ولا یملکون لا نفسہم ضرا ولا نفعا اور وہ خود نہ اپنے ضرر پر قابو رکھتے ہیں نہ نفع پر۔ یعنی اگر اللہ ان کو دکھ پہنچانا چاہے تو وہ دکھ کو دفع نہیں کرسکتے۔ اگر مکھی سے کوئی چیز اڑا کرلے جائے تو وہ چھڑا نہیں سکتے اور نہ فائدہ حاصل کرنے کی ان میں قدرت ہے۔ نفع و نقصان پر قادر نہ ہونا صرف بتوں ہی کی خصوصیت نہیں بلکہ عالی مرتبہ پیغمبر جیسے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور حضرت عزیر اور تمام فرشتے سبھی عاجز ہیں ‘ اللہ نے فرمایا ہے قُلْ لاَّ اَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفَعًا وَلاَ ضَرًّا الاَّ مَا شَآء اللّٰہُ وَلَوْ کُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَاسْتَکْثَرْثُ مِنَ الْخَیْرِ وَمَا مَسَّنِیَ السُّوْءُ ۔ ولا یملکون موتا ولا حیوۃ ولا نشورا۔ اور نہ وہ قابو رکھتے ہیں موت پر نہ زندگی پر نہ (دوبارہ) اٹھنے پر۔ یعنی ان میں قدرت نہیں کہ کسی پر موت کو مسلط کرسکیں یا کسی کو (ابتداً ) زندگی دے سکیں یا (مرنے کے بعد) دوبارہ زندہ کر کے اٹھا سکیں اور یہ تمام امور الوہیت کے لوازم ہیں جس کے اندر یہ لوازم نہیں وہ الٰہ نہیں ہوسکتا۔ آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ الٰہ کے لئے ضروری ہے کہ دوبارہ زندہ کر کے سزا و جزا دے سکے۔
Ayah 25:4

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) من گھڑت باتیں ہی جو اس (مدعی رسالت) نے بنالی ہیں۔ اور لوگوں نے اس میں اس کی مدد کی ہے۔ یہ لوگ (ایسا کہنے سے) ظلم اور جھوٹ پر (اُتر) آئے ہیں

وقال الذین کفروا اور کافروں نے کہا۔ صراحت کے ساتھ کفروا کہنے میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ انکار توحید کی طرح انکار نبوت بھی کفر ہے۔ کیونکہ (خالص) توحید تک پہنچنے کے لئے تنہا عقل کافی نہیں ہے بلکہ حقیقی توحید وہ ہے جو شریعت میں بیان کی گئی ہے۔ فلاسفہ اور متبعین نے الٰہیات (یعنی مافوق الطبیعیات مسائل) میں بہت سے غوطے کھائے ہیں راہ حقیقت سے واقف نہ تھے اس لئے خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ صحیحین میں حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے قبیلۂ عبدالقیس کے وفد کے قصہ میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ ایک اللہ کے ماننے کے معنی کیا ہیں ؟ اہل وفد نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی بخوبی واقف ہے۔ فرمایا (اللہ کی توحید کو) ماننا یہ ہے کہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دو ۔ ان ہذا الا افک افترہ کہ یہ تو کچھ بھی نہیں نرا جھوٹ ہے۔ ہذا یعنی قرآن جو محمد ﷺ پیش کر رہے ہیں۔ اِفْکٌجھوٹ کا رخ (حق و صداقت کی سمت سے) پھیر دیا جاتا ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے بلکہ محمد نے خود گھڑ لیا ہے (یہ محمد ﷺ : کا خود تراشیدہ ہے) ۔ واعانہ علیہ قوم اخرون اور اس کام میں کچھ دوسرے لوگوں نے ان کی مدد کی ہے۔ مجاہد نے کہا قَوْمٌ اٰخَرُوْنَسے ان کی مراد تھی یہودیوں کی ایک جماعت۔ حسن نے کہا ایک حبشی (غلام) مراد تھا جس کا نام عبید بن الحصر تھا۔ یہ کاہن تھا۔ بعض نے کہا مکہ میں کچھ غلام تھے جن کے نام تھے ‘ جبر ‘ یسار ‘ عداس۔ یہ لوگ کتابی تھے ‘ قوم آخرون سے یہی لوگ مراد تھے۔ مشرکوں کا خیال تھا کہ محمد ﷺ ان سے ہی قرآن سیکھ لیتے ہیں۔ فقد جآء وا ظلما وزورا۔ پس بلاشبہ انہوں نے بہت ہی بےجا بات کی اور جھوٹ (کہا) ۔ ظلم (بےجا حرکت) یہ کہ اللہ کے کلام کو یہودیوں سے سیکھا ہوا من گھڑت کلام قرار دیا اور زور (جھوٹ) یہ بنایا کہ ایسے شخص کو تہمت تراش اور دروغ باف قرار دیا جو قطعاً ان کے الزامات سے پاک تھا۔ بیضاوی نے لکھا ہے لفظ جآء یا اتیٰ کا استعمال فعل (کیا) کے معنی میں بھی ہوتا ہے اس وقت یہ فعل متعدی بنفسہٖ ہوجاتے ہیں۔
Ayah 25:5

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جس کو اس نے لکھ رکھا ہے اور وہ صبح وشام اس کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں

وقالوا اساطیر الاولین اور (کافر) کہتے ہیں کہ یہ تو بےسند باتیں ہیں جو اگلوں سے منقول ہوتی چلی آئی ہیں۔ یعنی ان میں سے بعض نے جیسے نضر بن حارث نے کہا قرآن اللہ کا بھیجا ہوا نہیں ہے بلکہ پچھلے گزرے ہوئے لوگوں کی لکھی ہوئی داستانیں ہیں۔ جیسے رستم و اسفند یار کے قصے ہیں۔ اکتتبہا فہی تملی علیہ بکرۃ واصیلا۔ (محمد ﷺ نے) یہ لکھوا لی ہیں ‘ پس صبح و شام ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔ یعنی جبر ‘ یسار ‘ عداس وغیرہ سے رسول اللہ ﷺ نے لکھوا لی ہیں ‘ خود امی ہیں لکھ پڑھ نہیں سکتے صبح و شام پڑھوا کر سن لیتے ہیں تاکہ یاد رکھ سکیں۔
Ayah 25:6

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

کہہ دو کہ اُس نے اُس کو اُتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔ بےشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

قل انزلہ الذی یعلم السر فی السموت والارض آپ (ان کے قول کی تردید میں) کہہ دیجئے کہ (یہ انسانی کلام نہیں ہے بلکہ) اس کو اس خدا نے اتارا ہے جو آسمانوں کی اور زمین کی چھپی باتوں کو جانتا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس کے مقابل بڑے بڑے زبان آور اہل ادب عاجز ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس کلام کے اندر ایسے علوم ہیں جن سے وہی ذات واقف ہوسکتی ہے جو ہر پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والی ہو (اور چونکہ کوئی گزشتہ ‘ موجودہ انسانی ہستی ایسی نہیں جو ان علوم سے واقف ہو) اس لئے یہ انسان کا کلام نہیں ہے۔ انہ کان غفورا رحیما۔ بلاشبہ وہ بڑا معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے اسی لئے باوجود کامل قدرت کے تم کو اس نے اب تک عذاب نہیں دیا ‘ حالانکہ تم مستحق عذاب ہو۔
Ayah 25:7

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ کیسا پیغمبر ہے کہ کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ کیوں نازل نہیں کیا گیا اس کے پاس کوئی فرشتہ اس کے ساتھ ہدایت کرنے کو رہتا

وقالوا مال ہذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق اور ان (کافر) لوگوں نے کہا یہ کیسا رسول ہے کہ (ہماری طرح) کھانا کھاتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ یعنی یہ رسول ہوتا تو اس کی دوسرے انسانوں سے کوئی امتیازی حیثیت ہوتی (کھانے پینے کی اس کو ضرورت نہ ہوتی اور بازاروں میں کبھی نہ گھومتا اور جب اس کی یہ امتیازی حیثیت نہیں ہے تو یہ رسول بھی نہیں ہے) ۔ بغوی نے لکھا ہے ‘ کافر کہتے تھے تم فرشتہ نہیں ہو۔ فرشتہ کھاتا پیتا نہیں ا ورتم کھاتے پیتے ہو اور تم بادشاہ بھی نہیں ہو ‘ بادشاہ بازاروں میں نہیں گھومتا پھرتا اور تم گھومتے پھرتے ہو۔ میں کہتا ہوں یہ بات غلط ہے رسول اللہ ﷺ نے تو نہ کبھی فرشتہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور نہ بادشاہ ہونے کا (پھر کافر اس کی تردید ہی کیوں کرتے) بلکہ آپ نے تو فرمایا تھا اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلَکُمْ یُوْحٰی اِلَیَّمیں تم جیسا انسان ہوں (مگر) میرے پاس وحی آتی ہے۔ آپ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا اور نبوت کا دعویٰ کھانا کھانے اور بازاروں میں چلنے پھرنے کے منافی نہیں ہے۔ یہ چیزیں تو مقتضائے بشریت ہیں اور بشریت نبوت کے لئے لازم ہے ‘ افادہ اور استفادہ کے لئے ہم جنس ہونا ضروری ہے۔ اللہ نے فرمایا اگر زمین پر ملائکہ (آباد) ہوتے ‘ اطمینان کے ساتھ زمین پر چلتے پھرتے تو ہم ان پر آسمان سے فرشتے ہی رسول اتارتے (انسانوں کے لئے انسان ہی پیغمبر ہونا چاہئے) ۔ لو لا انزل الیہ ملک فیکون معہ نذیرا۔ اس کے پاس فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا کہ وہ اس کے ساتھ رہ کر ڈراتا۔ یعنی یہ کیسا رسول ہے کہ نہ تو یہ فرشتہ ہے کہ اس کو اپنی ذاتی قوت حاصل ہوتی نہ اس کے ساتھ کوئی تائید کرنے والا فرشتہ بھیجا گیا ہے کہ فرشتہ کی تصدیق سے ہم اسکی سچائی جان لیتے۔
Ayah 25:8

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا اس کی طرف (آسمان سے) خزانہ اتارا جاتا یا اس کا کوئی باغ ہوتا کہ اس میں کھایا کرتا۔ اور ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک جادو زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو

او یلقی الیہ کنز او تکون لہ جنۃ یا کل منہا یا (آسمان سے) اس کی طرف کوئی خزانہ ڈال دیا جاتا (کہ وہ خرچ کرتا رہتا اور معاش کی طلب میں بازاروں میں گھومنے پھرنے کا محتاج نہ رہتا) یا اس کا کوئی باغ ہی ہوتا جس کے پھل وہ کھالیا کرتا (اور روزی پیدا کرنے کا ضرورت مند نہ رہتا) ۔ مذکورہ بالا عبارت میں کافروں نے تین اقوال کا ذکر کیا اور تنزلی ترتیب کے ساتھ کیا۔ اوّل یہ کہ رسول فرشتہ کیوں نہیں۔ دوسری بات یہ کہ اگر وہ فرشتہ نہیں بھی ہوتا تو کم از کم کوئی فرشتہ تصدیق کرنے والا اس کے ساتھ ہوتا ‘ تیسرے یہ کہ اگر ایسا بھی نہیں ہوا تو کم از کم اس کی روزی کا کوئی انتظام ہی ہوتا۔ (جس کی دو صورتیں تھی ‘ ایک غیبی اور دوسری ظاہری غیبی تو یہ کہ) اس کے پاس آسمان سے کوئی خزانہ آجاتا اور (ظاہری یہ کہ) یا اس کے پاس کھانے اور روزی حاصل کرنے کے لئے کوئی باغ ہوتا ‘ جیسے زمین داروں اور مالدار لوگوں کے پاس ہوتا ہے۔ وقال الظلمون ان تتبعوان الا رجلا مسحورا۔ اور ظالموں نے (یہ بھی) کہا کہ تم لوگ محض جادو زدہ آدمی کا ساتھ دے رہے ہو۔ جادو کی وجہ سے اس کی عقل ماری گئی ہے۔ (پاگل ہوگیا ہے) ۔ کافروں کی طرف سے یہ خطاب مسلمانوں کو تھا۔ بعض علماء نے مسحور کا ترجمہ کیا ہے۔ فریب خوردہ بعض نے ترجمہ کیا حق سے پھرا ہوا ‘ بعض نے کہا اسم مفعول بمعنی فاعل ہے۔ یعنی جادوگر۔
Ayah 25:9

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

(اے پیغمبر) دیکھو تو یہ تمہارے بارے میں کس کس طرح کی باتیں کرتے ہیں سو گمراہ ہوگئے اور رستہ نہیں پاسکتے

انظر کیف ضربوا لک الامثال (اے محمد ﷺ ! ) آپ دیکھئے یہ آپ ﷺ کے لئے کیسی عجیب عجیب باتیں بیان کر رہے ہیں۔ امثال بمعنی اشباہ ‘ یعنی انہوں نے آپ کو چھوٹے افترا پردازوں اور بےہودہ قصہ بیان کرنے والوں کی طرح قرار دے رکھا ہے یہی تو وجہ ہے کہ وہ آپ کو مفتری اور دوسروں سے افسانے لکھوانے والا کہتے ہیں اور (کبھی) سحر زدہ لوگوں کی طرح (بدحواس پاگل) کہتے ہیں اور (کبھی) فرشتہ ہونے یا بادشاہ ہونے کے مدعی کی طرح قرار دیتے ہیں اور (یہ مان کر کہ آپ کو اپنے فرشتہ ہونے اور بادشاہ ہونے کا دعویٰ ہے) کہنے لگتے ہیں فرشتہ کا کھانا کھانا اور بازاروں میں گھومنا ناممکن ہے اور بادشاہوں نیز دولت مندوں کے خزانے اور باغات ہونے چاہئیں اس لئے آپ کا دعوئے ملوکیت غلط ہے۔ فضلوا پس (دیکھو یہ کس طرح) گمراہ ہوگئے۔ حق تک پہنچانے والا راستہ اور آپ کی نبوت کو پہچاننے کا طریقہ تو یہ تھا کہ انبیاء کی خصوصیت کو پہچانتے کہ وہ بھی انسان ہوتے غلطیوں سے معصوم ہوتے ہیں ان کے پاس رب کی طرف سے وحی آتی ہے ان کو معجزات دیئے جاتے ہیں جن سے جھوٹے مدعیان نبوت اور سچے انبیاء میں امتیاز ہوجاتا ہے۔ فلا یستطیعون سبیلا۔ اب ان کو (ہدایت کا) راستہ نہیں مل سکتا یا یہ مطلب ہے کہ جب ان کی تمثیلات و تشبیہات میں خود تناقض اور تضاد ہے تو پھر آپ کی نبوت پر جرح و قدح کرنے کا ان کو کوئی راستہ نہیں مل سکتا ‘ کیونکہ جو کلام خود ہی متناقض ہو وہ ساقط الاعتبار ہوتا ہے۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے نیز ابن ابی شیبہ نے مصنف میں حضرت خثیمہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ (اللہ کی طرف سے) رسول اللہ ﷺ سے فرمایا گیا اگر آپ چاہیں تو ہم آپ کو زمین کے خزانے اور خزانوں کی کنجیاں عطا کردیں اور اس سے آپ کے اس اجر میں کمی نہ ہوگی جو قیامت کے دن ہمارے پاس سے آپ ﷺ کو ملے گا اور اگر آپ چاہیں تو اس (نعمت) کو بھی ہم آخرت (کی نعمتوں) کے ساتھ جمع کردیں۔ حضور ﷺ نے جواب دیا نہیں (میں یہاں نہیں لینا چاہتا) میرے لئے آخرت میں دونوں (نعمتوں) کو جمع کرلیا جائے اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 25:10

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

وہ (خدا) بہت بابرکت ہے جو اگر چاہے تو تمہارے لئے اس سے بہتر (چیزیں) بنا دے (یعنی) باغات جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں۔ نیز تمہارے لئے محل بنادے

تبرک الذی ان شآء جعل لک خیرا من ذلک جنت تجری من تحتہا الانہر ویجعل لک قصورا۔ بڑی برکت والا ہے وہ اللہ کہ اگر وہ چاہے تو آپ کے لئے اس سے بہتر (دنیا ہی میں) نعمتیں عطا فرما دے (یعنی) ایسے باغ جن کے (درختوں کے) نیچے نہریں جا ری ہوں (آپ کو دے دے) اور آپ ﷺ کے لئے محلات (تیار) کر دے۔ یعنی خزانوں اور باغوں سے بہتر نعمتیں دنیا میں ہی اگر دینا چاہے تو وہ دے دے لیکن اس نے یہ چیزیں آپ کے لئے آخرت میں مقرر کردی ہیں۔ بغوی نے بروایت عکرمہ حضرت ابن عباس ؓ : کا قول اس طرح نقل کیا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اس سے یعنی بازاروں میں گھومنے اور معاش کی تلاش میں پھرنے سے بہتر عنایت کر دے۔ قصوراً مضبوط مکان۔ عرب ہر پختہ مکان کو قصر کہتے ہیں۔ امام احمد اور ترمذی نے حضرت ابو امامہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے اور ترمذی نے اس روایت کو حسن کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے وادئ مکہ کو میرے لئے سونا بنا دینے کی مجھ سے پیش کش کی۔ میں نے عرض کیا نہیں میرے رب۔ میں تو ایک دن سیر شکم ہوں اور ایک دن بھوکا رہوں (یہی مجھے پسند ہے) جب میں بھوکا ہوں تو تیرے سامنے زاری کروں اور سیر شکم ہوں تو تیری تعریف اور شکر کروں۔ حضرت عائشہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں چاہتا تو میرے ساتھ سونے کے پہاڑ چلتے ایک فرشتہ جس کی کمر کعبے کے برابر تھی میرے پاس آیا اور اس نے کہا آپ ﷺ : کا رب آپ کو سلام فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو نبی (اور) بندہ (غلام) رہیں اور اگر چاہیں تو نبی (اور) بادشاہ ہوجائیں۔ میں نے جبرئیل ( علیہ السلام) کی طرف دیکھا۔ جبرئیل ( علیہ السلام) نے اشارہ کیا کہ اپنے آپ کو نچلا رکھو۔ میں نے کہہ دیا میں نبی اور بندہ (غلام) رہنا چاہتا ہوں۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا ‘ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ : تکیہ لگائے کھانا نہیں کھاتے تھے اور فرماتے تھے میں غلاموں کی طرح کھاتا ہوں اور غلاموں کی طرح بیٹھتا ہوں۔
Ayah 25:11

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

بلکہ یہ تو قیامت ہی کو جھٹلاتے ہیں اور ہم نے قیامت کے جھٹلانے والوں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے

بل کذبوا بالساعۃ بلکہ انہوں نے قیامت کی تکذیب کی۔ (یعنی وقوع قیامت کا تعیین نہیں کیا) اس جملہ کا عطف قالوا پر ہے (اور بل کا استعمال ترقی کے لئے) مطلب یہ ہے کہ (انہوں نے صرف اوّل الذکر بات ہی نہیں کہی) بلکہ اس سے بھی زیادہ عجیب بات کہی ‘ یا اس آیت کا تعلق گزشتہ متصل آیت سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ آپ کو مفلسی کا طعن دے کر اور دوسرے بےہودہ طنز کر کے صرف آپ ہی تکذیب نہیں کرتے بلکہ ان کی نظریں محض حقیر سامان دنیا سے آگے نہیں بڑھتیں ان کا خیال ہے عزت کی چیز صرف مال ہے۔ یا یہ معنیٰ ہے کہ یہ قیامت کو ہی نہیں مانتے ‘ پھر اس جواب کی طرف التفات ہی کیسے کریں گے اور آخرت میں اللہ نے جن نعمتوں کے دینے کا آپ سے وعدہ کیا ہے اس کو سچا کیسے جانیں گے یا یہ معنی ہے کہ آپ اس پر تعجب نہ کریں کہ وہ آپ کی تکذیب کرتے ہیں بلکہ اس سے زیادہ تعجب انگیز یہ بات ہے کہ وہ وجود قیامت کی تکذیب کرتے ہیں۔ واعتدنا لمن کذب بالساعۃ سعیرا۔ اور ہم نے تیار کر رکھی ہے تکذیب کرنے والوں کے لئے سخت بھڑکتی آگ۔ بعض علماء نے کہا سعیر ایک دوزخ کا نام ہے۔
Ayah 25:12

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

جس وقت وہ ان کو دور سے دیکھے گی (تو غضبناک ہو رہی ہوگی اور یہ) اس کے جوش (غضب) اور چیخنے چلانے کو سنیں گے

اذا راتہم من مکان بعید جب وہ آگ ان کو دور کے مقام سے دیکھے گی۔ بعض اہل تحقیق نے لکھا ہے کہ آگ کی طرف دیکھنے کی نسبت حقیقی ہے۔ (واقع میں آگ دیکھے گی) بغوی نے لکھا ہے ‘ ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ مجھ پر کوئی شخص قصداً دروغ بندی کرے اس کو اپنی جگہ آگ کی دونوں آنکھوں کے درمیان بنا لینی چاہئے۔ صحابہ نے عرض کیا کیا آگ کی بھی آنکھیں ہوں گی ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم نے نہیں سنا کہ اللہ نے فرمایا ہے اِذَا رَاَتْہُمْ مِّنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ ۔ بعض علماء نے کہا آگ کی طرف دیکھنے کی نسبت مجازی ہے یعنی دوزخ کے فرشتے دیکھیں گے یا یہ مطلب ہے کہ آگ اتنی دوری پر ہوگی کہ دیکھی جاسکے گی۔ ایک حدیث میں آیا ہے ان دونوں کے آپس میں اتنی ہی مسافت ہوگی کہ دکھائی نہیں پڑے گی ‘ یعنی دونوں میں اتنا فاصلہ نہ ہوگا کہ ایک دوسرے کو دیکھ سکیں۔ (بلکہ فاصلہ بہت ہوگا) ۔ مَکَانٍ بَعِیْدٍ کی تشریح میں کلبی نے کہا سو سال کی راہ۔ بعض نے کہا پانچ سو برس راہ کی مسافت۔ سمعوا لہا تغیظا وزفیرا۔ تو وہ (کافر) سنیں گے اس آگ کے غضبناک ہونے کی آواز اور غراہٹ۔ تغیظ جوش مارنے کی آواز جو غضبناک آدمی کی غصیلی آواز کی طرح ہو۔ زَفِیْر پیٹ کے اندر گڑگڑاہٹ ‘ غراہٹ۔
Ayah 25:13

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب یہ دوزخ کی کسی تنگ جگہ میں (زنجیروں میں) جکڑ کر ڈالے جائیں گے تو وہاں موت کو پکاریں گے

واذا القوا منہا مکانا ضیقا مقرنین دعوا ہنا لک ثبورا۔ اور جب ان کو دوزخ کے تنگ مقام میں باندھ جکڑ کر ڈالا جائے گا تو وہاں وہ ہلاکت (یعنی موت) کو پکاریں گے۔ تنگ مقام میں ڈالے جانے کی غرض ہوگی عذاب کی شدت۔ تنگی میں بےچینی اور وسعت مکان میں کچھ راحت ہوتی ہی ہے۔ ابن ابی حاتم نے یحییٰ بن اسید کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا گیا ‘ فرمایا قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ان کو دوزخ میں اس طرح ٹھونسا جائے گا جیسے دیوار میں میخ۔ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت میں آیا ہے جیسے برچھے بوری میں۔ ابن مبارک نے بطریق قتادہ بیان کیا کہ حضرت عبداللہ (بن عمر) فرماتے تھے کافروں پر دوزخ کی ایسی تنگی ہوگی جیسے نیزے بوری میں۔ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے حضرت ابن مسعود ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ جب ان لوگوں کو جن کو ہمیشہ دوزخ میں رہنا ہے دوزخ میں ڈالا جائے گا (یعنی ڈالے جانے کا حکم ہوگا) تو اوّل ان کو لوہے کے صندوقوں میں بند کر کے لوہے کی کیلیں ٹھونک دی جائیں گی پھر ان صندوقوں کو دوسرے آہنی صندوقوں میں بند کردیا جائے گا۔ پھر جہنم کی تہ میں ان کو پھینک دیا جائے گا۔ پس کوئی بھی سوا اپنے کسی دوسرے کو عذاب میں مبتلا دیکھ نہ سکے گا۔ سوید بن غفلہ کی روایت سے بھی ابو نعیم اور بیہقی نے اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے۔ مُقَرَّنِیِنَْیعنی گردن سے ہاتھ بندھے ہوئے ‘ زنجیروں سے جکڑے ہوئے ‘ بعض نے کہا شیطانوں کے ساتھ ساتھ باندھے گئے۔ شیطانوں کی جٹ میں بندھے ہوئے۔ ثُبُوْربمعنی ہلاکت یہ ترجمہ ضحاک نے کیا ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ثبورا یعنی ویلاً (ویل بمعنی ہلاکت) احمد بزار ‘ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت انس ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے ابلیس کو آگ کا لباس پہنایا جائے گا وہ اس لباس کو اپنی دونوں بھنوؤں پر رکھ کر کھینچے گا اور ریا ثبور پکارے گا (ہائے میری ہلاکت) اس کی ذریات اس کے پیچھے (اسی طرح کا لباس پہنے) یا ثبور پکارتی ہوگی ‘ آخر سب دوزخ میں جا کر ٹھہریں گے اس وقت ان سے کہا جائے گا۔
Ayah 25:14

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بہت سی موتوں کو پکارو

لا تدعوا الیوم ثبورا واحدا و ادعوا ثبورا کثیرا۔ آج ایک (طرح کی) ہلاکت کو نہ پکارو بلکہ (طرح طرح کی) بہت ہلاکتوں کو پکارو۔ یعنی تمہاری ایک ہی ہلاکت نہیں بلکہ بہت ہلاکتیں ہیں عذاب کی گونا گوں قسمیں ہیں اور ہر قسم کا عذاب بجائے خود ایک ہلاکت ہے یا یہ وجہ ہے کہ نو بہ نو (بار بار ایک ہی طرح کا) عذاب ہوگا (پس بہت سی ہلاکتیں ہوجائیں گی) اللہ نے فرمایا ہے ( کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُہُمْ بَدَّلْنَا ہُمْ جُلُوْدًا غَیْرَہَا لِیَذُوْقُوْا الْعَذَابَ ) جتنی مرتبہ ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کی (جلی ہوئی) کھالیں دوسری کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھیں۔ یا ثبور کثیر کا یہ معنی ہے کہ کسی وقت ہلاکت منقطع نہ ہوگی۔
Ayah 25:15

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

پوچھو کہ یہ بہتر ہے یا بہشت جاودانی جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ ہے۔ یہ ان (کے عملوں) کا بدلہ اور رہنے کا ٹھکانہ ہوگا

قل اذلک خیر ام جنۃ الخلد التی وعد المتقون آپ کہئے کیا یہ بہتر ہے یا وہ دوامی جنت بہتر ہے جس کا وعدہ مؤمنوں سے کیا گیا ہے۔ قُلْ اے محمد ﷺ ! آپ کہہ دیجئے۔ اَذٰلِکَکیا یہ دوزخ جس کی حالت مذکورہ عبارت میں بیان کی گئی۔ اور دوزخ والے یا ذٰلِکَسے اشارہ دنیوی خزانہ اور یہاں کے باغات کی طرف ہے۔ یہ استفہام تقریری ہے جس کے اندر استہزاء اور سرزنش شامل ہے۔ الْمُتَّقُوْنَ سے مراد ہیں شرک اور تکذیب سے بچنے والے (یعنی تمام مؤمن) کیونکہ متقیوں کے مقابلہ میں کفار کا ذکر کیا گیا ہے۔ مؤمن مراد لینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جنت ہر مؤمن کو ملے گی۔ جَنَّۃُ الْخُلْدِمیں اس بات پر دلالت ہے کہ جنت ہمیشہ رہے گی۔ کانت لہم جزآء ومصیرا۔ ان کے لئے جنت (ان کے اعمال کی) جزا تھی اور (عظیم الشان) لوٹنے کی جگہ۔ یعنی اللہ کے علم میں یالوح محفوظ میں جنت مؤمنوں کے اعمال کی جزا تھی یا یوں کہا جائے کہ اللہ کا وعدہ ایسا ہی یقینی الوقوع ہے جیسے کہ واقع ہوگیا (اس لئے کانت ماضی کا صیغہ استعمال کیا) ۔ جَزَآءً یعنی ثواب اعمال۔ مَصِیْرًا لوٹنے کی جگہ جہاں پلٹ کر جائیں۔ مصیراً میں تنوین اظہار عظمت کے لئے ہے۔
Ayah 25:16

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

وہاں جو چاہیں گے ان کے لئے میسر ہوگا ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ یہ وعدہ خدا کو (پورا کرنا) لازم ہے اور اس لائق ہے کہ مانگ لیا جائے

لہم فیہا ما یشآء ون خلدین جو کچھ وہ چاہیں گے جنت میں ان کو ملے گا (یا ان کے لئے موجود ہے) ہمیشہ (وہاں) رہیں گے۔ یعنی اپنے مرتبے کے لائق مؤمن جنت کے اندر جو کچھ چاہے گا وہ اس کو ملے گا۔ ظاہر ہے کہ ناقص کو وہ نعمت نہیں ملے گی جو کامل کو ملے گی۔ آیت میں تنبیہ ہے اس امر پر کہ تمام ارمان تو صرف جنت میں ہی پورے ہوں گی (دنیا میں پورے نہیں ہوسکتے) ۔ کان علی ربک وعدا مسؤلا۔ اے پیغمبر یہ ایک وعدہ ہے جو آپ کے رب کے ذمے ہے اور قابل درخواست ہے۔ عَلٰی رَبِّکَیعنی آپ کے رب پر لازم ہے اور واجب ہے کیونکہ اس نے وعدہ کرلیا ہے اور وعدۂ خداوندی کے خلاف ہونا ممکن نہیں (یعنی اللہ پر کوئی بات فی نفسہٖ واجب نہیں وجوب مجبور ‘ عاجز پر ہوتا ہے اور خدا ہر عجز سے پاک ہے لیکن اس نے اپنے ارادے اور اختیار سے وعدہ فرما لیا ہے اس لئے وعدے کو پورا کرنا اس پر لازم ہے۔ پس یہ وجوب اضافی ہے خود اسی کا اختیار کردہ ہے) پہلے ارادے کے ساتھ اس نے وعدہ کیا پھر وعدے کے مطابق ایفاء کو اس نے اپنے اوپر واجب کیا (اس لئے اگر ایفاء وعدہ اس پر واجب ہوا تو اس کے اختیار کے ماتحت ہوا) ۔ مَسْءُوْلاً یعنی وہ مستحق ہے کہ اس سے سوال کیا جائے اور طلب و دعا کی جائے۔ یا اس کے مسؤل ہونے کا یہ مطلب ہے کہ لوگ اس سے سوال کرتے ہیں اور مانگتے ہیں اور امید رکھتے ہیں۔ رَبَّنَا اٰتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلٰی رُسُلِکَ اے ہمارے رب ہم کو وہ جنت عطا فرمانا جس کا وعدہ اپنے پیغمبروں کی زبانی ہم سے کیا ہے۔ محمد بن کعب قرظی نے کہا فرشتے ایفاء وعدہ کی اس سے درخواست کریں گے اور کہیں گے رَبَنَّا وَاَدْخِلْہُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ نِ الَّتِیْ وَعَدْتُّہُمْ ۔
Ayah 25:17

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور جس دن (خدا) ان کو اور اُن کو جنہیں یہ خدا کے سوا پوجتے ہیں جمع کرے گا تو فرمائے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود گمراہ ہوگئے تھے

ویوم یحشرہم وما یعبدون من دون اللہ فیقول ءانتم اضللتم عبادی ہولآء ام ہم ضلوا السبیل اور جس روز اللہ ان کو اور اللہ کے سوا جن کو یہ پوجتے تھے ان کو سب کو اکٹھا کرے گا پھر ان (معبودوں) سے فرمائے گا کیا تم نے میرے بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود ہی راہ حق سے گمراہ ہوگئے تھے۔ مَا یَعْبُدُوْنَ سے مراد ہیں تمام باطل معبود۔ عقل والے ہوں یا عقل سے محروم کیونکہ زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ لفظ ما دونوں کو شامل ہوتا ہے اہل عقل کو اور بےعقل چیزوں کو اور مجاہد نے سوال و جواب کے قرینہ کا لحاظ کرتے ہوئے کہا کہ اس جگہ ملائکہ ‘ جنات ‘ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور حضرت عزیر مراد ہیں۔ عکرمہ ‘ ضحاک اور کلبی کے نزدیک صرف اصنام (بت) مراد ہیں کیونکہ (اہل نحو کا مشہور قول یہ ہے کہ) ما کا استعمال بےعقل چیزوں کے لئے ہوتا ہے اس قول کا مطلب یہ ہوا کہ قیامت کے دن اللہ ان بتوں کو زندہ کر دے گا اور بولنے پر قدرت عطا کر دے گا جس طرح انسانوں کے ہاتھ پاؤں اور مقاماتِ (گناہ) گویا بنا دیئے جائیں گے۔ اَضْلَلْتُمْ کیا تم نے گمراہ کیا تھا ‘ یعنی کیا تم نے ان کو اپنی پوجا کی دعوت دی تھی۔ اَمْ ہُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَیا وہ خود معرفت حق کا راستہ کھو بیٹھے تھے ‘ انہوں نے خود صحیح غور و فکر نہیں کیا اور ہادئ برحق کی نصیحت سے سے گریز کیا۔ اس سوال کی غرض معبودان باطل کے پرستاروں کو سرزنش اور زجر ہوگی۔
Ayah 25:18

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

وہ کہیں گے تو پاک ہے ہمیں یہ بات شایان نہ تھی کہ تیرے سوا اوروں کو دوست بناتے۔ لیکن تو نے ہی ان کو اور ان کے باپ دادا کو برتنے کو نعمتیں دیں یہاں تک کہ وہ تیری یاد کو بھول گئے۔ اور یہ ہلاک ہونے والے لوگ تھے

قالوا سبحنک ما کان ینبغی لنا ان نتخذ من دونک من اولیآء وہ کہیں گے تو پاک ہے۔ ہمارے لئے تو تیرے سوا دوسروں کو کارساز قرار دینا جائز ہی نہیں تھا۔ قالواصیغۂ ماضی بمعنئ مستقبل ہے کیونکہ مستقبل میں ان کا یہ بات کہنا یقینی ہے۔ سُبْحٰنَکَ یعنی بطور تعجب وہ یہ لفظ کہیں گے کیونکہ معبودان باطل اگر ملائکہ یا انبیاء ہوں گے تو اس سوال پر ان کا تعجب ظاہر ہی ہے۔ اللہ نے ان کو معصوم بنایا تھا ان سے ایسا جرم کیسے سرزد ہوسکتا تھا اور اگر مخاطب ‘ جمادات اور پتھروں وغیرہ کو مانا جائے تب بھی ان کا تعجب صحیح ہے ان کو اللہ کی طرف سے تخلیقاً قدرت ہی نہیں دی گئی ‘ پھر وہ کیسے گمراہ کرسکتے تھے ان سے ایسا سوال تعجب انگیز تھا۔ یا ان کو اس بات پر تعجب اس وجہ سے ہوا کہ ہمارے متعلق تو فرما دیا گیا کہ ہم اللہ کی تسبیح وتحمید میں مشغول رہتے ہیں۔ اللہ نے فرما دیا ہے وَاِنْ مِّنْ شَیْ ءٍ الاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ ۔ پھر ہم کس طرح گمراہ کرسکتے ہیں اور کیونکر شرک کی تعلیم دے سکتے ہیں۔ مَا کَاَن یَنْبَغِیْ لَنَاہمارے لئے تو یہ بھی جائز نہیں ‘ یعنی اللہ نے ہم کو معصوم بنایا ہے یا قدرت ہی نہیں دی ‘ اس لئے کسی دوسرے کو اللہ کے سوا ہم اپنا کارساز قرار دیں۔ یہ ہمارے لئے درست ہی نہیں ہے ‘ دوسروں کو بہکانے یا گمراہ کرنے کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ یہ جواب انبیاء ‘ ملائکہ اور جمادات کی طرف سے ہوگا ‘ لیکن جو لوگ خود معبود اور رب بن بیٹھے ہیں خواہ وہ انسان ہوں یا جنات ‘ ان کی طرف سے یہ جواب نہ ہوگا بلکہ وہ اس طرح کے جواب دیں گے واللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَقسم اللہ کی جو ہمارا رب ہے ‘ ہم مشرک نہیں تھے۔ شیطان کہے گا اِنَّ اللّٰہَ وَعَدَکُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْنَّکُمْ فَاَخْلَفْتُکُمْ وَمَا کَانَ لِیَ عَلَیْکُمْ مِنْ سُلْطَانٍاللہ نے تم سے وعدہ کیا تھا وہ سچا وعدہ تھا اللہ نے وہ پورا کیا اور میں نے جو تم سے وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا میرا تم پر کوئی جبر نہ تھا۔ الآیۃ۔ ولکن متعتہم وابآء ہم حتی نسوا الذکر وکانوا قوما بورا۔ و لیکن تم نے ان کو اور ان کے بڑوں کو آسودگی دی کہ وہ تیری یاد کو بھلا بیٹھے اور یہ لوگ خود ہی برباد ہوئے۔ مَّتَّعُتَہُمْیعنی تو نے ان کو عمر ‘ صحت اور طرح طرح کی نعمتوں سے اتنا نوازا کہ وہ خواہشات میں ڈوب گئے اور تیری یاد سے غافل ہوگئے۔ تیری نعمتوں کی یاد ان کو نہ رہی ‘ تیری آیات میں غور کرنے سے انہوں نے اعراض کیا اور بھول گئے کہ وہ تیرے محتاج ہیں۔ یا ذکر کو بھول جانے کا یہ مطلب ہے کہ نصیحت کو اور قرآن پر ایمان لانے کو انہوں نے ترک کردیا (انسان کے لئے ترک لازم ہے ملزوم بول کر لازم مراد لیا) ۔ (معتزلہ کہتے ہیں کہ بندہ اپنے افعال کا خود خالق ہے گناہوں کے پیدا کرنے کی نسبت اللہ کی طرف سے نہیں کی جاسکتی چناچہ گمراہ کرنے اور گمراہ ہونے کی نسبت اس آیت میں بندوں کی طرف کی گئی ہے اس کا جواب مفسر (رح) نے یہ دیا کہ) ضلالت کی نسبت بندوں کی طرف اس لئے کی گئی کہ انسان کا سب گمراہی اور مرتکب گناہ ہے اور اللہ کی طرف ضلالت کی نسبت اس لئے کی گئی کہ اللہ گمراہی کا خالق ہے اور گمراہی کی تخلیق گمراہ ہونے پر آمادہ کرتی ہے اس صورت میں یہ آیت اہل سنت کے مسلک کی تائید کرتی ہے اور معتزلہ کے قول کی تردید۔ وَکَانُوْا یعنی تیرے ازلی فیصلے میں ہی یہ لوگ ہلاک ہونے والے تھے۔ بُوْرًامصدر ہے ‘ واحد پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اور جمع پر بھی۔ بعض کے نزدیک بورا بائر کی جمع ہے جیسے عوذ ‘ عائذ کی جمع ہے۔
Ayah 25:19

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

تو (کافرو) انہوں نے تو تم کو تمہاری بات میں جھٹلا دیا۔ پس (اب) تم (عذاب کو) نہ پھیر سکتے ہو۔ نہ (کسی سے) مدد لے سکتے ہو۔ اور جو شخص تم میں سے ظلم کرے گا ہم اس کو بڑے عذاب کا مزا چکھائیں گے

فقد کذبوکم بما تقولون پس تمہارے معبود ہی (قیامت کے دن) تمہارے قول کی تکذیب کریں گے۔ یہ خطاب دنیا میں مشرکوں کو ہے ‘ یعنی آخرت میں تمہارے معبود تمہارے قول کی تکذیب کریں گے چونکہ قیامت میں ہونے والا واقعہ یقینی تھا اس لئے مستقبل کی تعبیر بصیغۂ ماضی کی جیسے اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْمیں۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ہم قیامت کے دن مشرکوں سے کہیں گے کہ تمہارے معبود ہی تم کو جھوٹا قرار دے رہے ہیں۔ بِمَا تَقُوْلُوْنَ یعنی یہ بات جو تم کہتے ہو کہ یہ ہمارے معبود ہیں یا کہتے تھے کہ ہمارے ان معبودوں نے ہم کو گمراہ کیا ‘ اس بات کی تکذیب تمہارے معبودوں نے ہی کردی ہے۔ فما تستطیعون صرفا ولا نصرا سو اب تم نہ (عذاب کو) لوٹانے کی طاقت رکھتے ہو نہ مدد کی۔ یعنی تمہارے معبود نہ عذاب کو پھیرنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ تمہاری مدد کرنے کی۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم عذاب کو پھیرنے کی طاقت رکھتے ہو نہ اپنی مدد کرنے کی۔ بعض نے کہا صرف کا معنی ہے حیلہ تدبیر ‘ عرب کہتے ہیں۔ فلانٌ یتصرف فلاں شخص کچھ حیلہ کرے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اب تم نہ کوئی حیلہ کرسکتے ہو نہ مدد۔ ومن یظلم منکم نذقہ عذابا کبیرا۔ اور (اے انسانو ! ) تم میں سے جو کوئی ظلم (یعنی شرک) کرے گا ہم اس کو بڑے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ اس ترجمہ پر ظلم سے مراد ہوگا شرک ‘ اس صورت میں شرک کی سزا یعنی عذاب باتفاق علماء لازم ہے اور اگر ظلم کے اندر فسق کو بھی شامل قرار دیا جائے تو پھر سزا کا لزوم عمومی نہ ہوگا بلکہ عدم مانع کے ساتھ مشروط ہوگا ‘ یعنی گناہ کبیرہ کی سزا ضروری نہیں قرار پائے گی۔ توبہ اور طاعت کے بعد بالاتفاق ساقط کردی جائے گی اور (بغیر توبہ کے بھی) ہمارے نزدیک (برحمت خداوندی یا بشفاعت) معاف ہوسکتی ہے۔ واحدی نے بطریق جویبر اور بغوی نے بطریق ضحاک اور ابن جریر نے بروایت سعید و عکرمہ حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ جب مشرکوں نے رسول اللہ ﷺ پر مفلس و نادار ہونے کا طنز کیا اور کہا مَا لہذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواقتو حضور ﷺ : کو اس سے رنج ہوا اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 25:20

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے ہیں سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ اور ہم نے تمہیں ایک دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے۔ کیا تم صبر کرو گے۔ اور تمہارا پروردگار تو دیکھنے والا ہے

وما ارسلنا قبلک من المرسلین الا انہم لیاکلون الطعام ویمشون فی الاسواق اور ہم نے آپ سے پہلے پیغمبر نہیں بھیجے مگر ایسے ہی پیغمبر بھیجے جو یقیناً کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے بھی تھے۔ (یعنی آپ سے پہلے ہم نے جتنے پیغمبر بھیجے وہ کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے) اس میں رسول اللہ ﷺ کے رنج کو دور کرنا اور تسلی دینا مقصود ہے۔ وجعلنا بعضکم لبعض فتنۃ اور ہم نے تم میں سے بعض کو بعض کے لئے مصیبت بنا دیا ہے۔ مالدار کو نادار کے لئے مصیبت بنا دیا ‘ فقیر کہتا ہے میں اس مال دار کی طرح کیوں نہیں ہوا تندرست بیمار کے لئے مصیبت ہے ‘ اور شریف ذیل کے لئے حضرت ابن عباس ؓ نے (فتنہ کا معنی آزمائش (بیان کیا اور) فرمایا ہم نے تم میں سے بعض کو بعض کے لئے آزمائش بنا دیا ہے تاکہ جو لوگ تمہارے مخالف ہیں اور تمہاری مخالفت میں باتیں کرتے ہیں اور تم ان کی باتوں کو سنتے اور ان کی مخالفتوں کو دیکھتے ہو تم ان کی اس اذیت رسانی پر صبر کرو اور اپنے سیدھے راستے پر چلتے رہو۔ بعض اہل روایت نے کہا اس آیت کا نزول صرف اونچے اور نیچے کے طبقوں کے سلسلہ میں ہوا ‘ اعلیٰ طبقہ کے لوگوں میں سے اگر کوئی شخص مسلمان ہونا چاہتا اور اس سے پہلے کوئی زیریں طبقے کا شخص مسلمان ہوچکا ہوتا تو اس بالا طبقہ کے آدمی کو خیال ہوتا کہ اب اگر میں مسلمان ہوا تو اس ذلیل رذیل مسلمان کو مجھ پر برتری حاصل رہے گی اور مجھے اس کے پیچھے رہنا پڑے گا یہ سوچ کر وہ اپنا ارادہ بدل دیتا اور مسلمان نہ ہوتا۔ بعض کے بعض کے لئے آزمائش بنائے جانے کا یہی مطلب ہے یہ بیان کلبی کا ہے۔ مقاتل نے کہا اس آیت کا نزول ابو جہل ‘ ولید بن عتبہ ‘ عاص بن وائل اور نضر بن حارث کے حق میں ہوا تھا ‘ انہوں نے دیکھا کہ حضرت ابوذر ؓ :‘ حضرت ابن مسعود ؓ :‘ حضرت عمار : ؓ ‘ حضرت بلال ؓ :‘ حضرت صہیب ؓ اور حضرت عامر ؓ بن فہیرہ مسلمان ہوچکے ہیں۔ کہنے لگے اب اگر ہم مسلمان ہوئے تو ان کے برابر ہونا پڑے گا۔ قتادہ نے کہا قریش مؤمنوں کا مذاق بناتے تھے اور کہتے تھے ذرا محمد ﷺ کے ساتھیوں کو تو دیکھو جن لوگوں نے ان کا ساتھ دیا ہے وہ تو ہمارے غلام ہیں ‘ کمینے ہیں ذلیل طبقے کے ہیں ‘ اللہ نے ان مؤمنوں کو خطاب کر کے فرمایا۔ اتصربون کیا اس فقر و مصیبت اور کافروں کی طرف سے اذیت پہنچنے پر تم صبر رکھو گے۔ یا صبر نہ رکھو گے ‘ صبر رکھو گے تو اجر پاؤ گے۔ صبر نہ رکھو گے تو غم والوں میں مزید مبتلا ہو گے مطلب یہ کہ صبر رکھو۔ وکان ربک بصیرا۔ اور آپ کا رب (صبر رکھنے والوں اور صبر نہ رکھنے والوں کو) خوب دیکھ رہا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی مال اور جسم کے لحاظ سے اپنے سے اونچے کو دیکھے تو اپنے سے نیچے کو بھی دیکھے (یعنی اپنے سے اونچے کو مت دیکھو کہ حسرت ہو نیچے کو دیکھو کہ تسلی ہو اور شکر کی توفیق ہو) ۔ رواہ الشیخان فی الصحیحین واحمد۔ (اٹھارہواں پارہ ختم)
Ayah 25:21

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے۔ کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہ نازل کئے گئے۔ یا ہم اپنی آنکھ سے اپنے پروردگار کو دیکھ لیں۔ یہ اپنے خیال میں بڑائی رکھتے ہیں اور (اسی بنا پر) بڑے سرکش ہو رہے ہی

وقال الذین لا یرجون لقآء نا اور جو لوگ ہم سے ملنے کی امید ہی نہیں رکھتے (کیونکہ وہ دوبارہ زندگی کے منکر ہیں) وہ کہتے ہیں۔ چونکہ دوسری زندگی کے وہ قائل نہیں اس لئے اللہ سے مل کر ان کو کسی بھلائی کی امید بھی نہیں اور نہ کسی برائی کا خوف ہے۔ رجاء کا بمعنئ خوف مجازی استعمال ہے یا (یوں کہا جائے کہ) تہامہ والوں کی زبان میں رجاء امید و خوف دونوں معانی میں مستعمل ہے فراء نے یہی کہا ہے ‘ اللہ نے ایک اور آیت میں فرمایا ہے (مَالَکُمْ لا ترجُوْنَ لِلّٰہِ وَقَارًا) تم اللہ کی عظمت سے کیوں نہیں ڈرتے۔ لغت میں کسی چیز تک پہنچنے کو لقاء کہا جاتا ہے (ملاقات کرنے یعنی) کسی کو دیکھنے کو بھی لقا اسی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ کسی کو دیکھنے کا معنی ہے اس شخص تک پہنچنا۔ آیت میں سزا تک پہنچنا مراد ہے۔ لولا انزل علینا الملئکۃ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے جو محمد ﷺ کے سچا ہونے کی ہم کو اطلاع دیتے۔ یا اللہ کی طرف سے ہمارے پاس قاصد بن کر آتے۔ او نری ربنا یا ہم اپنے رب کو (خود) دیکھتے اور وہ ہم کو محمد کا اتباع کرنے کا حکم دیتا۔ لقد استکبروا فی انفسہم وعتوا عتوا کبیرا۔ یہ لوگ اپنے دلوں میں اپنے کو بہت بڑا سمجھ رہے ہیں اور حد انسانیت سے بہت دور نکل گئے ہیں۔ یعنی انہوں نے اپنے کو بہت بڑا سمجھا ہے کہ ایسی بات کی طلب کی جو انبیاء کرام کو کبھی کبھی بعض خاص حالات و اوقات میں حاصل ہوتی ہے۔ وَعَتَوْا عُتُوًّا کَبِیْرًا اور کفر میں حد سے آگے بڑھ گئے ‘ انتہائی درجہ کفر تک پہنچ گئے۔ مجاہد نے کہا عتوا یعنی انتہائی سرکش ہوگئے۔ مقاتل نے کہا مغرور ہوگئے۔ بغوی نے لکھا ہے عتو کا معنی ہے شدید ترین کفر اور بہت ہی بڑا ظلم۔ عتو کبیر سے مراد ہے کہ (غرور کی) انتہا کو پہنچ گئے۔ یہاں تک کہ خدا کو دیکھنے کے طلبگار ہوگئے۔ بعض علماء نے کہا عتو کبیر یہ تھا کہ انہوں نے کھلے ہوئے واضح معجزات اپنی آنکھوں سے دیکھے اور پھر ان کو نہ مانا اور ایسی چیز کے خواستگار بن گئے جس کا حصول بڑے طالبین کاملین کو بھی نہیں ہوسکا۔
Ayah 25:22

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن گنہگاروں کے لئے خوشی کی بات نہیں ہوگی اور کہیں گے (خدا کرے تم) روک لئے (اور بند کردیئے) جاؤ

یوم یرون الملئکۃ جس روز وہ فرشتوں کو دیکھیں گے۔ یعنی مرنے کے وقت یا قیامت کے دن جب کافر ملائکہ کو دیکھیں گے۔ لا بشری یومئذ للمجرمین اس روز مجرموں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہ ہوگی۔ یہ جملہ معترضہ ہے یا یہ مطلب ہے کہ اس روز فرشتے کہیں گے کافروں کے لئے آج کوئی خوشی کی خبر نہیں۔ عطیہ نے کہا قیامت کے دن ملائکہ مؤمنوں کو بشارت دیں گے اور کافروں سے کہیں گے (آج) تمہارے لئے کوئی خوشی کی خبر نہیں۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا کہ جس روز وہ فرشتوں کو دیکھیں گے (یعنی مرنے کے وقت یا قیامت کے دن) اس روز فرشتے ان کو بشارت نہیں دیں گے۔ مؤمنوں کو جنت کی بشارت دیں گے۔ لِلْمُجْرِمِیْنَرفتار کلام چاہتی تھی کہ لَہُمْکہا جاتا لیکن ضمیر کی جگہ صراحت کے ساتھ مجرمین کہنا ان کے مجرم ہونے پر دلالت کر رہا ہے اور یہ بات بھی معلوم ہو رہی ہے کہ مانع بشارت ان کا مجرم ہونا ہوگا۔ ویقولون حجرا محجورا۔ اور کہیں گے پناہ ہے پناہ ہے۔ بغوی نے بحوالۂ عطاء حضرت ابن عباس ؓ : کا قول اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ فرشتے کہیں گے حرام ہے حرام کردیا گیا ہے کہ جنت میں سوائے ان لوگوں کے جو لا الٰہ الاَّ اللہ محمد رسول اللہ ﷺ کے قائل تھے کوئی اور داخل ہو۔ مقاتل نے کہا جب کافروں کو قبروں سے نکالا جائے گا تو اس وقت ملائکہ ان سے کہیں گے حرام ہے تمہارے لئے جنت حرام کردی گئی ہے ‘ بعض علماء نے کہا جب مجرموں کو قبروں سے نکالا جائے گا اور وہ ملائکہ کو دیکھیں گے تو مجرم خود ہی یہ الفاظ کہیں گے۔ بغوی نے بحوالۂ ابن جریج لکھا ہے کہ عربوں پر جب کوئی مصیبت آتی ہے اور کسی ناخوشگوار امر میں مبتلا ہوتے ہیں تو حجراً محجوراً کہتے ہیں چناچہ مجرم فرشتوں کو دیکھنے کے بعد یہ الفاظ کہیں گے۔ بعض نے اس لفظ کا ترجمہ کیا پناہ ‘ خدا کی پناہ۔ مجاہد نے کہا جب کافر ملائکہ کو دیکھیں گے تو اس روز فرشتوں سے (اللہ کی پناہ) مانیں گے اور حجر محجورا کہیں گے یعنی اللہ سے درخواست کریں گے کہ فرشتوں سے ان کو بچا لے۔
Ayah 25:23

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور جو انہوں نے عمل کئے ہوں گے ہم ان کی طرف متوجہ ہوں گے تو ان کو اُڑتی خاک کردیں گے

وقدمنا الی ما عملوا من عمل فجلعنہ ہبآء منثورا۔ اور ہم ان کے ان (نیک) اعمال کی طرف جو وہ (دنیا میں) کرچکے تھے متوجہ ہوں گے سو ان کو ایسا کردیں گے جیسے پریشان غبار۔ مِنْ عَمَلٍیعنی کافروں کے اچھے اعمال جیسے مہمان نوازی ‘ کنبہ پوری ‘ رشتہ داروں سے حسن سلوک ‘ مصیبت زدہ کی مدد وغیرہ۔ ہَبَآءً مَّنْثُوْرًا یعنی بےکار ‘ رائیگاں جس کا آخرت میں کوئی ثواب نہ ہوگا ‘ کیونکہ ثواب کی شرط ہے ایمان اور محض اللہ کے لئے نیکی کرنا اور یہ دونوں شرطیں کافروں کے اعمال میں مفقود ہیں۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا ہباء ان ذروں کو کہتے ہیں جو روشندانوں (اور کو اڑوں) کے شگافوں سے سورج کی روشنی پر غبار کی طرح نظر آتے ہیں ‘ مگر ہاتھ سے ان کو چھوا نہیں جاسکتا اور نہ وہ سایہ میں نظر آتے ہیں۔ حسن ‘ مجاہد اور عکرمہ نے بھی اس لفظ کی یہی تشریح کی۔ منثور کا معنی ہے پراگندہ۔ حضرت ابن عباس : ؓ ‘ قتادہ اور سعید بن جبیر نے فرمایا ہباء اس دھول کو کہتے ہیں جس کو ہوا اڑاتی ہے اور بکھیرتی ہے۔ مقاتل نے کہا ہباء منثور وہ ذرات ہوتے ہیں جو روشندانوں کے سوراخوں سے سورج کی کرنوں پر نظر آتے ہیں اور ہبا منبث وہ دھول ہوتی ہے جو گھوڑوں کی ٹاپوں سے اٹھتی اور اس کو اڑاتی ہے۔ کافروں کے اچھے اعمال آخرت میں ناکارہ ثابت ہوں گے ان کی کوئی حقیقت نہ ہوگی اس حقارت اور عدم افادیت کو ہباء سے تشبیہ دی۔ پھر منثور فرمایا ہباء منثور کی کوئی تنظیم نہیں۔ کفار کے اعمال کی بھی تنظیم نہ ہوگی (کسی ضابطۂ ایمان کے زبر اثر منظم نہ ہوں گے) یا ہبا منثور کی طرح منتشر ہوجائیں گے۔
Ayah 25:24

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

اس دن اہل جنت کا ٹھکانا بھی بہتر ہوگا اور مقام استراحت بھی ہوگا

اصحب الجنۃ یومئذ خیر مستقرا واحسن مقیلا۔ اہل جنت اس روز قیام گاہوں کے اعتبار سے بھی اچھے اور آرامگاہوں کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں گے۔ مُسْتَقر قرارگاہ ‘ جہاں بیشتر اوقات میں آدمی ٹھہرتا ہے۔ مقیلاً ٹھکانا ‘ جس کی طرف آرام لینے اور بیویوں سے تمتع اندوز ہونے کے لئے آدمی رجوع کرتا ہے یا مقیل سے مراد ہے قیلولہ کا مقام۔ جنت میں خواب تو ہوگا ہی نہیں اس لئے (حقیقی معنی مراد نہیں ہوسکتے) مجازی معنی بطور تشبیہ مراد ہیں۔ ازہری نے کہا ‘ قیلولہ اور مقیل دوپہر کے وقت آرام لینے کو کہتے ہیں خواہ نیند نہ ہو کیونکہ اللہ نے وَاَحْسَنْ مَقِیْلاً فرمایا ہے اور جنت میں نیند نہیں ہوگی۔ لفظ احسن کے اندر اشارۂ خفی ہے اس امر کی طرف کہ اہل جنت کی قرارگاہیں طرح طرح کی خوبصورت تصویروں اور حسن سامان آرائش سے سجی ہوئی ہوں گی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مستقر اور مقیل مصدر ہوں۔ یا ظرف زمان ‘ یعنی ان کی قرارگاہیں اور اوقات استراحت اتنے خوش گوار اور اعلیٰ ہوں گے کہ ان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا یا یوں کہو کہ دنیا میں (آرام و آسائش کے جو مکان یا اوقات) عیش پرستوں اور خوش حال لوگوں کے لئے ہوتے ہیں ان سے بہتر زمان و مکان اہل جنت کے لئے ہوں گے۔ کتاب الزہد میں ابن مبارک (رح) نے نیز عبد بن حمید اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم اور حاکم نے حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے اور حاکم نے اس روایت کو صحیح بھی کہا ہے کہ قیامت کا دن آدھا نہ ہونے پائے گا کہ یہ (اہل جنت) اور وہ (دوزخی) اپنی قرارگاہوں میں جا کر ٹھہر جائیں گے۔ بغوی کی روایت میں حضرت ابن مسعود ؓ : کا بیان ان الفاظ کے ساتھ آیا ہے۔ قیامت کا دن آدھا نہ ہونے پائے گا کہ اہل جنت ‘ جنت میں اور اہل نار ‘ دوزخ میں جا کر ٹھہر جائیں گے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی ثُمَّ اِنَّ مَقِیْلَہُمْ لَاِلَی الْجَحِیْمِ حضرت ابن مسعود ؓ کی قرأت میں یہ آیت اسی طرح آئی ہے۔ ابن جریر ‘ ابن المنذر اور ابو نعیم نے الحلیہ میں ابراہیم نخعی کا قول نقل کیا ہے۔ لوگ خیال کرتے تھے کہ قیامت کے دن آدھے دن میں لوگوں کا حساب ختم ہوجائے گا پھر جنت والے جنت میں اور دوزخ والے دوزخ میں قیلولہ کریں گے (دوپہر بسر کریں گے) بغوی نے لکھا ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے تھے اس روز حساب شروع دن میں ہی ہوجائے گا اور جب لوگ قیلولہ کریں گے تو جنت میں پہنچ کر اپنی اپنی فرودگاہوں میں قیلولہ کریں گے۔ بغوی نے لکھا ہے یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ مؤمنوں کے لئے قیامت کا دن چھوٹا کردیا جاتا ہے ‘ جیسے عصر سے غروب آفتاب تک ہوتا ہے۔
Ayah 25:25

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اور جس دن آسمان ابر کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے نازل کئے جائیں گے

ویوم تشقق السمآء بالغمام ونزل الملئکۃ تنزیلا۔ اور جس روز (طلوع) غمام کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا اور فرشتے اتارے جائیں گے یقینا۔ اس غمام سے وہی غمام مراد ہے جس کا ذکر آیت ہَلْ یَنْظُرُوْنَ الاَّ اَنْ یَّاْتِیَہُمُ اللّٰہُ فِی ظُلُلٍ مِّنَ الْضَامِ وَالْمَلٰءِکَۃُ ۔ میں کیا گیا ہے۔ سورة بقرہ کی تفسیر میں اس کا بیان گزر چکا ہے غمام ایک سفید باریک بادل کہر کی طرح ہوگا جو صرف بنی اسرائیل کے لئے (اس دنیا میں) وادی تیہ کے اندر اللہ نے نازل فرمایا تھا۔ بغوی نے لکھا ہے ب بمعنی عَنْ آتا ہے۔ عرب کہتے ہیں رَمَیْتُ السّہم بالقوس میں نے کمان سے تیر پھینکا۔ بالغمام میں بھی ب بمعنی عن ہے یعنی غمام پھٹ کر آسمان نکل آئے گا۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب الاہوال میں نیز حاکم اور ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ ایک میدان میں ساری مخلوق کو جمع کرے گا جن و انس کو ‘ چوپایوں کو ‘ درندوں کو ‘ پرندوں کو غرض سب مخلوق کو اکٹھا کرے گا۔ پھر یہ آسمان دنیا (نچلا آسمان) پھٹ جائے گا اور اس کے باشندے اتنے اتر پڑیں گے کہ سارے جنات اور انسانوں سے کل مخلوق ارضی سے زائد ہوں گے اور اترتے ہیں سب کو گھیرے میں لے لیں گے زمین والے پوچھیں گے کیا تمہاے اندر ہمارا رب بھی ہے وہ جواب دیں گے نہیں ‘ پھر دوسرے آسمان والے اتریں گے جو کل زمین والوں سے اور پہلے دوسرے آسمان والوں سے زیادہ ہوں گے۔ لوگ ان سے پوچھیں گے ‘ کیا تمہارے اندر ہمارا رب ہے وہ جواب دیں گے نہیں اور کل جن و انس اور ملائکہ کو گھیر لیں گے پھر تیسرے آسمان والے اتریں گے ‘ زمین والوں سے اور پہلے ‘ دوسرے آسمان والوں کے آسمان کے مجموعہ سے ان کی گنتی زائد ہوگی ان سے لوگ دریافت کریں گے کیا تمہارے اندر ہمارا رب ہے وہ جواب دیں گے نہیں پھر چوتھے آسمان والے اتریں گے ان کی تعداد تینوں آسمان والوں اور زمین والوں کے مجموعہ سے زیادہ ہوگی۔ لوگ ان سے دریافت کریں گے کیا تمہارے اندر ہمارا رب ہے وہ کہیں گے نہیں۔ پھر پانچویں آسمان والے نازل ہوں گے اور ان کی تعداد تمام پہلے والوں سے زیادہ ہوگی ‘ پھر چھٹے آسمان والے بھی اسی طرح اتریں گے پھر ساتویں آسمان والے بھی اتریں گے اور ان کی گنتی سب کے مجموعہ سے زائد ہوگی۔ ان سے دریافت کیا جائے گا کیا تمہارے اندر ہمارا رب ہے وہ جواب دیں گے نہیں۔ پھر ہمارا عرش غمام کے سائبانوں میں (اس شان کے ساتھ) اترے گا کہ اس کے گرد کروبی ہوں گے کر بیوں کی تعداد ساتوں آسمان والوں اور زمین والوں سے زائد ہوگی اور حاملین عرش بھی ہوں گے عرش کو اٹھانے والے ملائکہ کے سینگ ہوں گے ایسے جیسے بانس کی گانٹھیں۔ ان کے ایک ایک قدم کا فاصلہ اتنا اتنا (یعنی ناقابل اندازہ) ہوگا۔ ان کے پاؤں کے تلوے سے ٹخنے تک کا فاصلہ پانچ سو برس کی راہ کے برابر ہوگا اور ٹخنے سے زانو تک فاصلہ بھی پانچ سو برس کی راہ کے برابر ہوگا اور کو لھے کی نوک سے ہنسلی تک کا فاصلہ بھی پانچ سو برس کی راہ کے برابر ہوگا اور ہنسلی سے کان کی لو تک کا فاصلہ بھی پانچ سو برس کی راہ کے برابر ہوگا۔ یہ حدیث مع اس کی تاویلات کے سورة بقرہ کی آیت (ہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیَہُمُ اللّٰہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَام) ِکی تفسیر کے ذیل میں گزر چکی ہے۔ (یہ حدیث منکر ہے سلسلۂ روایات میں بعض راوی ناقابل اعتبار ہیں) ۔ ابن جریر اور ابن مبارک نے ضحاک کا قول نقل کیا ہے کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ کے حکم سے آسمان اپنے باشندوں سمیت پھٹ پڑے گا اس حکم کے وقت ملائکہ آسمان کے کناروں پر ہوں گے اور نیچے اتر کر ساری زمین اور زمین والوں کو گھیر لیں گے ‘ پھر دوسرے تیسرے چوتھے پانچویں چھٹے اور ساتویں آسمان کا بھی یہی حال ہوگا۔ پھر سب فرشتے صف بستہ ہوجائیں گے ایک قطار کے بعد دوسری قطار (ترتیب دار) ہوجائے گی پھر ایک فرشتہ اترے گا جس کے بائیں جانب جہنم ہوگا۔ زمین والے جہنم کو دیکھ کر ادھر ادھر بھاگ پڑیں گے مگر زمین کے جس کنارے پر پہنچیں گے وہاں ملائکہ کی سات صفیں گھیرے ہوئے ملیں گی مجبوراً اسی جگہ جہاں سے بھاگے تھے لوٹ آئیں گے۔ آیات ذیل میں اسی کا بیان ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے ( اِنِّیْ اَخَافُ عَلَیْکُمْ یَوْمَ التَّنَادِ یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ ۔ وَجَآءَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِبْیَءَی یَوْمَءِذٍ بِجَہَنَّمَ ۔ یَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِن اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اقْطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا وَانْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَہِیَ یَوْمَءِذٍ وَّاہِیَۃٌ وَالْمَلَکُ عَلٰی اَرْجَآءِہَا) لوگ اسی حالت میں ہوں گے کہ اچانک ایک آواز سنائی دے گی اور لوگ حساب (فہمی) کے لئے چل دیں گے۔