25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 25:1–2

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

بڑی عالی ذات ہے وہ جس نے یہ فیصلہ (کی کتاب) اپنے بندۂ (خاص) پر اتاری تاکہ وہ (بندہ) سارے دنیا جہان والوں کے لئے ڈرانے والا ہو

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

وہی ہے کہ آسمان اور زمین اسی کی ملک ہیں اور اس نے کسی کو اپنی اولاد نہیں قرار دیا اور نہ اس کا کوئی حکومت میں شریک ہے اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر سب کا الگ الگ اندازہ رکھا،1۔

1۔ (اور کوئی شے نہ اس کے دائرہ تخلیق سے باہر ہے نہ دائرہ تقدیر سے) (آیت) ’ الفرقان “۔ فرقان کے معنی پر حاشیہ سورة بقرہ پ 1 میں گزر چکا۔ یہاں (آیت) ” الفرقان “۔ سے مراد قرآن کے ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔ ولا نزاع ان الفرقان ھو القران (کبیر) (آیت) ” عبدہ “۔ مراد رسول اللہ ﷺ کا ہونا ظاہر ہے۔ عبد پر حاشیہ سورة بقرہ پ 1 آیت (آیت) ” وان کنتم فی ریب مما “۔ الخ پر گزرچکا۔ (آیت) ’ ’ للعلمین “۔ عالمین کے لفظ نے ایک بار پھر واضح کردیا کہ اسلام ایک عالمگیر دین ہے کوئی نسلی، قومی یا وطنی مذہب نہیں، قرآن کی مخاطب ساری دنیا ہے، کوئی مخصوص قوم نہیں۔ وعموم الرسالۃ من خصائصہ (علیہ السلام) (مدارک) (آیت) ” لم یتخذ .... الملک “۔ مسیحی شرک کے مظہر خصوصی بھی دو ہیں۔ جن کی تردید یہاں کردی گئی۔ ملاحظہ ہو پ 15 سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت۔ (آیت) ” خلق ..... تقدیرا “۔ یونان کے مشرک فلسفی تقدیر الہی کے منکر ہوئے ہیں، اور انہیں کی پیروی میں ان کی ” حکمت “ سے مرعوب ہو کر یہود کا بھی ایک فرقہ تقدیر الہی کا منکر ہوگیا تھا۔ آیت کے اس جزو کا اشارہ اسی گمراہی کی جانب ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ عقیدہ جس طرح جبر محض کا غلط ہے اسی طرح اختیار محض کا بھی، کائنات میں جو کچھ بھی ہورہا ہے سب مشیت الہی تکوینی کے مطابق ہی ہورہا ہے اور بندہ کے اعمال اختیاری میں ارادۂ عبد اس کا منافی نہیں۔
Ayah 25:3

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور (مشرکوں نے) اللہ کے علاوہ (اور ایسے) خدا قرار دے رکھے ہیں جو کسی چیز کے خالق نہیں اور خود ہی مخلوق ہیں اور خود اپنے لئے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ کسی نفع کا اور نہ (کسی کی) موت کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ (کسی کی) زندگی کا اور نہ (کسی کے) دوبارہ اٹھانے کا،2۔

2۔ مشرکین کے جہل وغباوت کا بیان ہورہا ہے کہ ایسے قادر مطلق ہمہ بین وہمہ تواں، خدا کا شریک بےبس مخلوق کو بھی بنائے جاتے ہیں، ان گڑھے ہوئے معبودوں کا اختیار اتنا بھی تو نہیں کہ کوئی نقصان اپنے سے دور کرسکیں، کوئی نفع اپنے لیے حاصل کرسکیں، کسی کی جان نکال سکیں، کسی میں جان ڈال سکیں، حشر میں دوبارہ کسی کو اٹھا سکیں۔ (آیت) ” لا یملکون ...... نشورا “۔ مراتب وجود یہی تین، یعنی حیات وموت ونشور ہی ممکن ہیں۔ اور ان سب پر قدرت کی یہاں نفی کی جارہی ہے۔
Ayah 25:4

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) بس نرا جھوٹ ہے جس کو اس شخص نے گڑھ لیا ہے اور دوسروں نے اس کی مدد کی ہے،3۔ یہ لوگ بڑے ظلم اور جھوٹ کے مرتکب ہوئے،4۔

3۔ بعینہ یہی جاہلانہ، بیدردانہ الزام آج بھی سینکڑوں یہودی، مسیحی، ملحد مستشرقین اپنی کتابوں میں دہرا رہے ہیں۔ اور اس جہل کو سند اپنی ” روشن خیالی “ کی سمجھ رہے ہیں ! فرماتے ہیں اور کس قدر مضحکہ انگیز نمائش علم وفضل کے ساتھ فرماتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) محمد تھے بڑے ذہین، زیرک و چالاک، ایک اثر انگیز کتاب اپنی طرف سے گڑھ کر اسے خدا کی جانب منسوب کردیا ! 4۔ (کہ حقیقت اور اصلیت سے اس قدر بعید، ثبوت وتحقیق سے اس قدر معری، دعوی کربیٹھے ثبوت کوئی ادنی سا بھی پیش نہیں کرسکتے۔
Ayah 25:5

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) تو اگلوں کی بےسند باتیں ہیں جن کو اس شخص نے لکھوا لیا ہے پھر وہی اس (شخص) کو صبح وشام پڑھ کر سنایا جاتا ہے،5۔

5۔ ملاحظہ ہو پ 14 سورة النحل آیت لقد نعلم انھم یقولون انما یعلمہ بشر کا حاشیہ۔
Ayah 25:6

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ اس کو اس ذات نے اتارا ہے جسے آسمانوں اور زمین کے ہر راز کی خبر ہے،6۔ بیشک وہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے،7۔

6۔ (اور جس طرح اس کا علم کامل ہے جس سے مخلوقات کا علم کوئی نسبت نہیں رکھتا، اسی طرح اس کا کلام بھی بیشمار وجوہ اعجاز کا جامع ہے) 7۔ (اسی لیے وہ ایسا بیہودہ بکنے والوں پر فورا گرفت نہیں کرتا، بلکہ انہیں مہلت دیتا جاتا ہے۔ اور اگر وہ تائب ہوجائیں تو انہیں معاف بھی کردے گا)
Ayahs 25:7–8

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیسا ہے یہ رسول جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا کہ وہ اس کے ساتھ ڈراتا

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا اس کے پاس کوئی خزانہ غیب سے آپڑتا یا اس کے پاس کوئی باغ ہوتا جس سے یہ کھاتا (پیتا) ،8۔ اور (یہ) ظالم کہتے ہیں کہ تم لوگ تو بس ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کررہے ہو،9۔

8۔ (اور اس کو فکر معاش سے غیبی طور پر فارغ البالی حاصل رہتی) جاہلی قوموں کے احولی اعتراضات نقل ہورہے ہیں، وحی ونبوت کا مسئلہ اصلا ہی ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ وہی دیوی دیوتا والا، اوتار والا عقیدہ دلوں میں جما ہوا تھا۔ خدا خود تو دنیا میں آسکتا ہے۔ کسی انسان بلکہ حیوان کے قالب میں آسکتا ہے۔ لیکن کسی بشر کو اپنا نائب، اپنا سفیر، اپنا پیامبر بنانا کیا معنی ؟۔ وہی بنیادی گمراہی جو جاہلی قوموں میں آج تک چلی آرہی ہے۔ (آیت) ” یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق “۔ یعنی کھانے پینے، چلنے پھرنے، خرید وفروخت کی ضرورتیں پوری کرنے میں یہ تو بالکل عام انسانوں کی طرح ہیں۔ انہیں پیغمبر کیسے مان لیا جائے ؟۔ گویا پیغمبری عام بشری ضرورتوں کے منافی تھی ! اسلام کی بنیاد خوارق پر نہیں بلکہ اصل تعلیمات پر ہے۔ بہ خلاف اس کے مسیحیوں خصوصا فرقہ کتھولک کے ہاں تو مذہب کی روح یا جان ہی خوارق ہیں۔ مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ آیت سے مشی فی الاسواق کا غیر مکروہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اور حدیث میں جو اس کی کراہت آئی ہے تو وہاں بلاضرورت بازاروں میں گھومنا پھرنا مراد ہے۔ بلکہ اگر عدم مشی فی الاسواق از راہ تکبر ہے تو مذموم عدم مشی قرار پائے گی اور محمودمشی ٹھیرے گی، جاہل مسلمانوں نے بھی آج انہیں جاہلی قوموں کے اثر سے یہی توقعات اولیاء امت سے متعلق قائم کرلی ہیں۔ بجائے ان کی زندگی کی صالحیت اور پاکیزگی پر نظر کرکے تلاش ہر وقت عجائب وخوارق کی کی جاتی ہے، اور عوام کے خیال میں اب بزرگی اور مقبولیت کا اصل معیار کرامتیں ہی رہ گئی ہیں ! 9۔ یہ وہ مسلمانوں کی طرف اشارہ کرکے کہتے تھے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ جب ان میں خدائی یا ملکوتی قوت کچھ بھی موجود نہیں اور پھر بھی یہ دعوی مامور من اللہ ہونے کا کیے جاتے ہیں تو لامحالہ ان کی عقل میں فتو رہے اور یہ سحر زدہ یا مجنون ہی ہیں۔
Ayah 25:9

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

دیکھئے تو یہ لوگ آپ کے لئے کیسی عجیب عجیب باتیں بیان کرتے ہیں سو وہ (بالکل) گمراہ ہوگئے پھر وہ (بالکل) راہ نہ پاسکے،10۔

10۔ قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ ذرادیکھئے کہ یہ لوگ آپ کے دعوی نبوت کا انکار کرکے کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور ایک نبوت کو نہ مان کر کیسی کیسی عجیب اور بےسروپا باتوں کے ماننے پر مجبور ہوگئے ! ان کی عقلوں پر یہ کیسے مار پڑ کر رہی ! یہی حال آج یورپ کے بڑے بڑے نامور مستشرقین کا ہے۔ سیدھے سادہ دعوی نبوت سے انکار کے بعد انہیں کیسے کیسے بےسروپانظریات ماننے اور فرض کرنے پڑتے ہیں !
Ayah 25:10

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

وہ ذات بڑی عالی شان ہے کہ اگر وہ چاہے تو آپ کو اس سے بھی بہتر چیز دے دے (یعنی بہت سے) باغات کہ ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور آپ کو (بہت سے) محل دے دے،11۔

11۔ (اسی دنیا میں) یعنی یہ کافر تو صرف ایک باغ غیبی کی فرمائش آپ کے لیے کررہے ہیں۔ ہماری مشیت تکوینی اگر ہوتی تو ہم تو اس سے بھی کہیں بڑھ چڑھ کر چیزیں آپ کو یہیں اور ابھی دے دیتے۔ باغ ایک نہیں کئی ایک، قصر ومحل متعدد وغیرہا۔
Ayah 25:11

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

اصل یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کے منکر ہیں،12۔ اور ہم نے اس کے لئے جو قیامت کو جھٹلائے دوزخ تیار کر رکھی ہے

12۔ یعنی یہ لوگ جو ایسے واہی تباہی مطالبات پیش کررہے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ انہیں حق کی تلاش وطلب شروع ہوئی اور دوران تحقیق میں کچھ شبہات پیش آگئے۔ بلکہ دلوں میں انکار جزاء اعمال شروع سے بسا ہوا ہے۔ اس لیے سنجیدگی وذمہ داری سے یہ مسائل دین پر غور وفکر کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے۔ اور ایسی بےسروپا باتیں زبان سے نکال ڈالتے ہیں۔
Ayah 25:12

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

وہ ان کو دور سے دیکھے گی تو یہ اس کا جوش و خروش سنیں گے،13۔

13۔ یعنی دوزخ ان بدبختوں کو دیکھ کر اس قدر غضبناک ہوگی کہ یہ دورہی سے اس کا جوش خروش سن لیں گے۔ (آیت) ” راتھم “ سے استدلال کیا گیا ہے کہ دوزخ بھی صاحب شعور وادراک ہے۔ (آیت) ” سعیرا “۔ سعیر مذکر ہے، یہاں نار کے معنی میں ہے اور معنی کی مناسبت سے مؤنث لایا گیا ہے۔ لھا کی ضمیر مؤنث بھی اسی جانب ہے۔ انما جاء مؤنثا علی معنی النار (کبیر)
Ayahs 25:13–14

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب وہ اس میں کسی کو تنگ جگہ ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈالدیئے جائیں گے

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

تو وہاں موت کو پکاریں گے آج ایک ہی موت نہ پکاروبہت سی موتوں کا پکارو،14۔

14۔ وہ بدبخت دوزخی جو دوزخ ہی کی ناقابل برداشت ہولناکیوں سے گھبرا کر چیخ اٹھیں گے کہ کاش ہمیں موت آجاتی ! انہیں جواب ملے گا کہ ایک ہی موت کیسی، اب تو تمہاری قسمت میں موتوں ہی موتوں کی تکلیفیں ہیں !
Ayah 25:15

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

آپ کہیے کہ آیا یہ (مصیبت) اچھی ہے یا وہ ہمیشگی کی جنت جس کا وعدہ متقیوں سے کیا جا چکا ہے،15۔ وہ ان کیلئے صلہ ہے اور آخری ٹھکانا

15۔ اب بھی سوچنے سمجھنے کی مہلت ہے۔ یہ لوگ خود غور کرکے یہ فیصلہ کریں کہ ایک طرف دوزخ کی یہ ناقابل برداشت مصیبتیں ہیں جو ثمرہ ہیں۔ کفر و انکار کا، اور دوسری طرف جنت کی بیشمار راحتیں ہیں، جو موعود ہے ایمان وطاعت پر۔
Ayah 25:16

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

انہیں وہاں جو کچھ وہ چاہیں گے ملے گا وہ ہمیشہ رہیں گے (یہ) وعدہ ہے ان کے پروردگار کے ذمہ (اور) قابل درخواست،16۔

16۔ یعنی اللہ نے اپنے فضل و عنایت سے یہ اجر اپنے اوپر لازم کرلیا ہے، اور یہ اس قابل ہے کہ اس کی درخواست کی جائے، (آیت) ” مسؤلا “۔ یہاں قابل درخواست کے معنی میں ہے اے من حقہ ان یکون مسؤلا (کبیر) حقیقا بان یسأل ویطلب (بیضاوی) (آیت) ” لھم فیھا مایشآء ون “۔ اہل جنت کا پہلا وصف یہاں یہ بیان ہوا کہ جنت میں انھیں کی مرضی کار فرما ہوگی۔ وہ جو کچھ بھی چاہیں گے جو بھی نعمتیں، راحتیں، لذتیں، مادی، روحانی جس قسم کی بھی انہیں مرغوب ہوں گی، بس وہ انہیں مہیا و حاضر مل جائیں گے۔ آج اپنی خواہشوں کو مرضی الہی کے تابع کردینے کا یہ نتیجہ کل نکلنا بھی چاہیے تھا۔ (آیت) ” خلدین “۔ دوسرا وصف یہ بیان ہوا کہ یہ نعمتیں ساری کی ساری دائمی، سرمدی اور غیر منقطع ہوں گی، ہرگز کسی تلف ونقصان وختم وفنا کا اندیشہ نہ ہوگا۔ عجب کیا ہے جو اس عالم میں وقت کی رفتار ہی روک دی جائے، اور ہم جس حرکت فرمائی کے خوگر ومانوس ہیں سرے سے یہی باقی نہ رہے۔ یہ دو وصف ایسے جامع ومانع بیان ہوگئے کہ اب ان پر کسی اضافہ کی نہ ضرورت ہے نہ گنجائش ہی۔
Ayah 25:17

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور جس روز (اللہ) جمع کرے گا انہیں اور ان لوگوں کو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے پھر ان سے کہے گا کہ کیا تمہیں نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا،17۔ یا یہ (خود ہی) راہ سے بھٹک گئے تھے ؟

17۔ یہ سوال مشرکوں کو اور زیادہ قائل اور نادم کرنے کے لیے انبیاء، ملائکہ، اولیاء سے ہوگا، جنہیں مشرکین ان بیچاروں کے شائبہ رضا کے بغیر الوہیت وصفات الوہیت میں شریک رکھتے تھے۔
Ayah 25:18

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

وہ کہیں گے سبحان اللہ ہماری مجال نہ تھی کہ ہم تیرے سوا اور کارسازوں کو تجویز کریں ہاں تو نے ان کو اور ان کے بڑوں کو خوب آسودہ کیا، یہاں تک کہ یہ (تیری) یاد ہی کو بھلا بیٹھے اور یہ لوگ برباد ہو کر رہے،18۔

18۔ یعنی تو نے ان کے لیے اسباب شکر فراہم کردیئے تھے، جن کا مقتضایہ تھا کہ منعم کی معرفت اور اس کے شکر و اطاعت میں خوب لگ جاتے۔ لیکن انہوں نے اس کے برعکس راستہ اختیار کرکے انہیں کو اسباب کفر بنالیا۔
Ayah 25:19

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

سو (تمہارے معبودوں ہی نے) تمہاری باتوں کو جھٹلادیا سو (اب) تم نہ (تو خود) ٹال سکتے ہو اور نہ (تمہیں) مدد ہی پہنچ سکتی ہے۔ اور جو تم میں سے ظلم کرے گا (اپنے اوپر) اسے ہم بڑا عذاب چکھائیں گے،19۔

19۔ (قیامت میں) (آیت) ’ ’ ومن یظلم منکم “۔ ظلم سے مراد کفر وشرک ہے۔ ابن عباس صحابی اور تابعین سے یہی مروی ہے۔ اے یشرک باللہ (ابن کثیر) یشرک بہ (معالم) الظلم ھنا الشرک قال ابن عباس والحسن وابن جریج (بحر)
Ayah 25:20

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے ہیں سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے،20۔ اور ہم نے تم میں ایک دوسرے کیلئے آزمائش بنایا ہے،21۔ تو اب بھی صبر کروگے ؟ اور آپ کا پروردگار بڑا دیکھنے والا ہے،22۔

20۔ مشرکین کا اعتراض رسول اللہ ﷺ کی صفات بشری پر، اوپر نقل ہوچکا ہے۔ یہاں اسی کا جواب ہے کہ بشریت اور رسالت میں ذرا بھی منافات نہیں، سلسلہ نبوت کے جتنے حامل گزرے ہیں۔ یہ صفات بشری تو سب ہی کے ساتھ لگے ہوئے رہے ہیں۔ 21۔ (اے انسانو ! چناچہ انبیاء کو بھی ایسے حالات میں رکھا جس نے امت کی پوری آزمائش ہوجائے گی۔ کہ کون ان کے صفات بشری پر نظر کرکے تکذیب کرتا ہے، اور کون ان کے کمالات نبوت پر نظر کرکے تصدیق) 22۔ (چنانچہ ان کے حالات بھی خوب دیکھ رہا ہے، اور وقت موعود پر انہیں سزا دے کر رہے گا) ۔
Ayah 25:21

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

وہ لوگ جو ہمارے پاس آنے کی امید نہیں رکھتے،23۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے یا ہم اپنے پروردگار کو دیکھ ہی لیتے،24۔ یقیناً انہوں نے اپنے دلوں میں اپنے کو بہت بڑا سمجھ لیا ہے اور حد سے بہت ہی دور نکل گئے ہیں،25۔

23۔ یعنی یوم حشر کے منکرین، ساتھ ہی شرک اور ادہام پرستی میں مبتلا۔ مشرکین عرب میں یہ دونوں باتیں موجود تھیں۔ 24۔ مشرکین عرب دیوتاؤں کے قائل تھے، اور انہیں کو فرشتہ کہتے تھے۔ دعوی رسالت سے انکار کے وقت کہتے تھے کہ یہ ” رسول “ اگر اپنے دعوی میں سچے ہیں تو آسمانی دیوتا مجسم اور متشکل ہو کر ان کے ساتھ کیوں نہیں جو ان کے دعوی کی تصدیق کرتے رہیں، یا خود خدا ہی کو ہمیں کیوں نہیں دکھا دیا جاتا جو ہم براہ راست اسی کی زبان سے ان دعو وں کی تصدیق سن لیں۔ 25۔ یعنی کافروں میں خود کفر وعدم ایمان ہی کی بناء پر، صلاحیت نہ رؤیت باری کی رہ گئی ہے اور نہ ملائکہ رحمت سے دوچار ہونے کہ، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جو سلوک میں احوال باطنی غیر اختیاری کا منتظر رہتا ہے، اس کے انتظار کا منشاء یہی تکبر ہوتا ہے، گویا وہ اپنے اعمال ومجاہدات کو استحقاق کی بنیاد قرار دیتا ہے۔
Ayah 25:22

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس روز یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے اس روز مجرموں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہ ہوگی اور یہ کہیں گے کہ پناہ پناہ ! ،26۔

26۔ کافروں کا سامنا فرشتوں سے جب بھی ہوگا عذاب ہی کے فرشتوں سے ہوگا، اور وہ وقت کافروں کی مسرت کا نہیں، انتہائی مصیبت کا ہوگا۔ (آیت) ” حجرا محجورا “۔ ایک محاورہ ہے عہد جاہلیت میں جب کسی کو کوئی بلا پیش آتی یا کوئی اپنے دشمن کو دیکھ پاتا اور خیال یہ ہوتا کہ وہ اس پر حملہ کرے گا تو یہی لفظ پکار کر کہتا، جیسے اردو محاورہ میں کہتے ہیں دور، دور ! ھذہ کلمۃ کانوا یتکلمون بھا عند لقاء عدو موفوراو ھجوم نازلۃ اونحو ذلک یصنعونھا موقع الاستعاذۃ (کشاف) کان الرجل اذا لقی من یخاف یقول ذلک (راغب) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ سلوک میں حالات محمود غیراختیاری کا پیش آجانا بعض طالبین کے حق میں مضر ہوتا ہے اور اس کی فہم مشائخ اہل تربیت رکھتے ہیں۔
Ayahs 25:23–24

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور ہم ان کے کاموں کی طرف متوجہ ہوں گے جو یہ کرچکے ہیں سو ان کو ایسا کردیں گے جیسے پریشان غبار

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

اہل جنت اس روز قیام گاہ میں بھی اچھے رہیں گے اور آرام گاہ میں بھی خوب اچھے،27۔

27۔ ماجرا قیامت کا بیان ہورہا ہے۔ کافروں کو اپنے اپنے جن جن اعمال پر غرہ ہوگا کہ ہم نے دنیا میں فلاں فلاں اعمال خیر بھی تو کیے ہیں، چونکہ وہ ایمان سے خالی ہوں گے قیامت کے دن انہیں غبار پریشان کی طرف بالکل بےمصرف کرکے دکھا دیا جائے گا۔ (آیت) ” مستقرا ....... ومقیلا “۔ مستقر جائے قیام اور مقیل جائے آرام دونوں سے مراد جنت ہے۔ اور جنت کا ہر حیثیت سے بہترین ہونا ظاہر ہے۔ صوفیہ نے (آیت) ” وقدمنا الی ماعملوا “۔ الخل “۔ سے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ بدون باطن کے محض ظاہری عمل ہرگز معتبر نہیں۔
Ayah 25:25

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اور جس روز آسمان پھٹ جائے گا ایک بدلی پر سے اور فرشتے بکثرت اتارے جائیں گے،28۔

28۔ (زمین پر) یہ وقت وہ ہوگا، جب صور کے نفخ ثانی کے بعد زمین و آسمان سب از سر نو درست ہوجائیں گے، حساب کتاب شروع ہورہا ہوگا حق تعالیٰ کی ایک تجلی خاص حساب و کتاب کی غرض سے ہوگی۔ ملائکہ اردگرد کثرت سے ہوں گے۔ سورة بقرہ کی آیت (آیت) ” ھل ینظرون الا ان یاتیھم اللہ فی ضلل من الغمام والملئکۃ “۔ الخ میں بھی اسی موقع کا ذکر ہے۔ (آیت) ” بالغمام “ میں ب یا تو مرادف عن کے ہے یا سببیہ ہے بہ معنی بسبب الغمام یا بسبب طلوعہ منھا۔ اور یا حالیہ ہے یعنی ملتبسۃ بالغمام (جمل) (آیت) ” تشقق السمآء “۔ آسمان کا یہ پھٹنا بطور کھلنے کے ہوگا جو پھٹنا بہ طور تخریب وافناء کے ہوگا وہ نفخ اول کے وقت ہوچکا ہوگا۔
Ayah 25:26

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

اس روز حکومت حقیقی (خدائے) رحمن ہی کی ہوگی،29۔ اور وہ دن کافروں پر بہت سخت ہوگا

29۔ (عیاناوشہوداہی اور کسی کو ظاہرا گنجائش بھی کسی دخل و تصرف کی نہ ہوگی جیسا کہ دنیا میں رہتی ہے)
Ayah 25:27

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور جس روز ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا کہے گا کہ کاش میں رسول کے ساتھ راہ پر لگ لیتا ! ،30۔

30۔ یہ ہاتھوں کا کاٹنا فرط حسرت سے ہوگا۔ عض الیدین والافاصل کنایۃ عن الغیظ والحسرۃ (کشاف) من فرط الحسرۃ (بیضاوی) الظالم “۔ ظالم سے رماد اردو کا ظالم نہیں بلکہ اپنے نفس پر ظلم کرنے والا، یعنی کافر یا منکرین دین مراد ہے۔
Ayahs 25:28–29

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

ہائے میری شامت ! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا !

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

یقیناً اس نے نصیحت آئے پیچھے مجھے اس سے بہکا دیا اور شیطان تو انسان کو امداد کرنے سے جواب دے ہی دیتا ہے،31۔

31۔ (چنانچہ قیامت میں زبانی ہمدردی تک کے بھی کام نہ آئے گا) (آیت) ” یویلتی لیتنی “۔ الخ۔ بڑا عبرت کا مضمون اپنے اندر رکھتا ہے۔ دنیا میں جتنی بھی گمراہیاں آتی ہیں کسی نہ کسی انسانی ہی ذریعہ سے آتی ہیں اور شیطان جب آتا ہے، کسی دوست وآشنا راز دان ہی کے قالب میں آتا ہے۔ فقہاء نے اس آیت سے بہ طور اشارۃ النص نکالا ہے کہ صحبت بد کا ترک واجب ہے۔ خصوصا اس شخص کا جو اغوا کرتا رہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں صحبت اشرار سے بچنے کی تعلیم ہے اور شریر کی تفسیر یہ ہے کہ جو کوئی ذکر الہی سے بعید ہونے کا سبب بن جائے۔ (آیت) ” لقد ...... جآءنی “۔ آیت میں صاف اشارہ اس طرف موجود ہے کہ جن کافروں پر مؤاخذہ کا ذکر ہے، یہ وہی ہیں جنہوں نے تبلیغ کے بعد اور تبلیغ کے باوجود کفر اختیار کیا۔
Ayah 25:30

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور رسول کہیں گے کہ اے میرے پروردگار میری (اس) قوم نے اس قرآن کو بالکل نظر انداز کر رکھا تھا،32۔

32۔ ذکر وہی قیامت کا چل رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ جناب باری میں بہ طور شکایت عرض کریں گے کہ جو قوم میری مخاطب دعوت تھی اس نے قرآن کو ماننا اور اس پر عمل کرنا الگ رہا، اسے قابل التفات ہی نہ سمجھا، (آیت) ” قومی “۔ قوم سے مراد صرف قوم قریش ہے یا امت دعوت۔ قریشا (مدارک وبیضاوی) (آیت) ” مھجورا “۔ ھجر کے ایک معنی تو اعراض کرنے کے ہیں، جیسا کہ متن ترجمہ میں درج ہوئے، اور دوسرے معنی ہذیان سمجھنے کے ہیں، منقول یہ دونوں معنی ہیں۔ یعنی متروکا فاعرضوا عنہ ولم یؤمنوا بہ (معالم) من الایمان بہ مبعدا مقصیا من الھجر (بحر۔ عن النخعی و مجاھد واتباعہ) جعلہ بمنزلۃ الھجر وھو الھذیان (معالم عن النخعی ومجاہد) اے ترکوا ولم یؤمنوا بہ من الھجران (مدارک) بہرحال اس شکایت کا تعلق منکرین قرآن سے ہے نہ کہ ضعیف العمل مسلمانوں سے۔ قرآن مجید سے تعلق واجب کا ادنی درجہ یہ ہے کہ اسے کلام الہی اور واجب العمل مانا جائے، اور یہ تعلق بھی اگر ٹوٹ گیا تو یہ کفر ہے۔ اعلی درجہ تعلق کا یہ ہے کہ قرآن کو قولا وفعلا تمامتر اپنے اوپر حاوی کرلیا جائے۔ اور اگر یہ درجہ تعلق کا یہ ہے کہ قرآن کو قولا وفعلا تمامتر اپنے اوپر حاوی کرلیا جائے۔ اور اگر یہ درجہ نہیں قائم ہے۔ تو یا تو معصیت ہے، اور یا بعض صورتوں میں صرف حجاب۔ مہجوریت کا تعلق بالفرض مسلمانوں ہی سے سمجھا جائے، تو مراد اعلی اور اوسط درجہ کے تعلق کا ترک ہوگا۔ اس سے زیادہ ترک تعلق کا اشارا مسلمانوں کی جانب سمجھنا اہل سنت کا مذہب نہیں مسلک خوارج میں جو کچھ بھی ہو۔
Ayah 25:31

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اور اہم اسی طرح ہر نبی کے دشمن مجرم لوگوں میں سے بناتے رہتے ہیں،33۔ اور آپ کا پروردگار ہی کافی ہادی اور مددگار ہے،34۔

33۔ (اپنی تکوینی کے ماتحت) مطلب یہ ہے کہ ناحق شناس لوگ تو ہر زمانہ میں اپنے وقت کے پیغمبر کے دشمن رہے ہیں سو آپ کے بھی کفر پسند معاصرین آپ سے عداوت ٹھانے ہوئے ہیں آپ اس پر اتنا غم نہ کیجئے۔ عارفین کہتے ہیں چونکہ ہر ولی نبی ہی کے قدم پر ہوتا ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر ولی کا بھی ایک عدو ہوتا ہے۔ 34۔ (چنانچہ جن کے لیے ہدایت منظور ہے انہیں ہدایت ہوتی رہے گی، اور مجرموں، سرکشوں سے مقابلہ کی جب ضرورت ہوگی، آپ کی مدد بھی ہوتی رہے گی) ” یعنی غم کے دو سبب ہوسکتے ہیں۔ ایک ان کا گمراہ رہنا، اور دوسرا ان کا درپے ایذا ہونا، سو اللہ تعالیٰ ہدایت کے لیے بھی کافی ہے اور اگر حکمت مقتضی ہوگی تو ہدایت کی توفیق دے دے گا۔ جب ہدایت نہیں ہوتی تو اسی میں حکمت ہے۔ اور ایذا کے دفع کرنے کے لیے بھی اللہ کافی ہے۔ اگر چندے دفع نہ کرے تو اسی میں حکمت ہوگی۔ غرض نہ اس سے غم کیجئے نہ اس سے “۔ (تھانوی (رح )
Ayah 25:32

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور کافر یہ کہتے ہیں کہ اس شخص پر قرآن اک بارگی (پورا) کیوں نہیں نازل کردیا گیا ؟ ،35۔ اس طرح اس لئے کہ ہم اس کے ذریعہ سے آپ کے دل کو قوی رکھیں اور ہم نے اسے ٹھہرا ٹھہرا کر اتار ہے،36۔

35۔ یعنی اگر خدا کا کلام ہوتا تو رفتہ رفتہ کیوں نازل ہوتا۔ یہ تو (نعوذ باللہ) انہیں کا کلام ہے، سوچ سوچ کر حسب موقع تھوڑا تھوڑا تصنیف کرتے رہتے ہیں۔ 36۔ یعنی ایک بڑی مصلحت اس تدریجی نزول قرآن میں تو رسول کی تقویت قلب ہے۔ مشائخ نے کہا ہے کہ ثمرات ومقامات میں جو تاخیر و تدریج ہوتی ہے اس میں بھی یہی حکمت ہے کہ ثبات ورسوخ حاصل ہوتا جائے، جو چیز جلدی آتی ہے، وہ جلدی نکل بھی جاتی ہے۔ سالک کو دیر ہونے سے تنگ نہ ہونا چاہیے بلکہ صبر کرنا چاہیے۔ علماء کے ہاں تعلیم کا سبقا سبقا ہونا اور مشائخ کے ہاں افادہ وافاضہ میں تدریج اسی آیت سراپا حکمت کی ماتحتی میں ہے۔ نیت کا مستحکم ہونا، قلب کا تحمل پر قادر ہونا، ملکہ علمی کا راسخ ہونا، سب اسی کے برکات ہیں۔
Ayah 25:33

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور یہ لوگ جیسا بھی عجیب سوال آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں ہم اس کا جواب ٹھیک اور وضاحت میں بڑھا ہوا آپ کو بتاتے ہیں،37۔

37۔ یعنی ایسا جواب جو قطعی بھی ہوتا ہے اور قریب الفہم بھی۔” جواب کی دو خوبیاں ہیں۔ ایک ذاتی کہ فی نفسہ قاطع مادہ شبہ ہو اور دوسری اضافی کہ اپنی وضاحت کے سبب قریب الفہم ہو۔ الحق میں خوبی اول اور احسن تفسیر میں خوبی دوم کی طرف اشارہ ہے “۔ (تھانوی (رح)
Ayah 25:34

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف لے جائے جائیں گے یہ لوگ جگہ کے لحاظ سے بدترین اور طریقہ میں بہت گمراہ ہیں،38۔

38۔ جگہ سے مراد دوزخ اور طریقہ سے مراد مسلک اور مذہب اور یہ سزا متناسب اس لیے ہے کہ اعتراضات نگونساری بدن سے ہوئی “۔ (تھانوی (رح) اشارہ النص سے یہ بات بھی صاف ہوئی کہ قادر مطلق اس پر پوری طرح قادرہ ہے کہ جس عضو جس قوت سے جو کام جس وقت چاہے لے لے، خواہ اس کی عام عادت ومعمول کے موافق خواہ اس کے مخالف۔ اور ان فطرت پرستوں کی سطحیت اور بےمغزی بالکل آشکارا ہوجاتی ہے جو ہمہ تو ان خدا کی قدرت کو ” نیچر کے قوانین “ کا تابع و محکوم سمجھتے ہیں۔
Ayahs 25:35–36

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

اور بہ تحقیق ہم ن ے موسیٰ کو کتاب دی تھی اور ہم نے ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو ان کا معین بنادیا

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

اور پھر ہم نے کہا کہ دونوں آدمی ان لوگوں کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا ہے سو ہم نے انہیں بالکل ہی ہلاک کردیا،39۔

39۔ (چنانچہ قوم فرعون کی غرقابی مشہور واقعہ ہے۔ قرآن میں بھی بار بار اس کا ذکر آچکا ہے) کلمہہمیشہ تأخر زمانی ہی کے لیے نہیں آتا۔ چناچہ یہاں بھی معلوم ہے کہ نزول کتاب (توراۃ) کا واقعہ مخاطبہ قوم فرعون سے قبل کا نہیں بہت بعد کا ہے۔ (آیت) ” اذھبا “۔ کا عطف قبل والی آیت کے ” جعلنا “۔ پر ہے اور جعل اور قول دونوں کے ماتحت واقعات کا وقوع ایتاء کتاب کے قبل کا ہے۔ فقولہ فقلنا اذھبا معطوف علی جعلنا وکل من الجعل والقول کان قبل ایتاء الکتب (جمل) (آیت) ” الکتب “۔ سے مراد توریت کا ہونا بالکل ظاہر ہے۔ (آیت) ” بایتنا “۔ ایتنا میں دلائل سے مراد یا تو دلائل عقلیہ ہیں اور ظاہر ہے کہ بعد سمجھ جانے ان دلائل کے توحید کا انکار ضرور قابل زجر ہے۔ اور یا مراد دلائل نقلیہ ہیں جو انبیاء سابقین سے منقول ہوتے ہوئے ان لوگوں تک پہنچے ہوں گے ان کے انکار کا مذموم ہونا ظاہر ہی ہے “۔ (تھانوی (رح) یہ بھی ممکن ہے کہ ایک طرف احکام وشرائع مراد ہوں اور دوسری طرف خوارق ومعجزات۔ (آیت) ” وزیرا “۔ یہیں سے یہ مسئلہ صاف ہوگیا کہ وزارت نبوت کے منافی نہیں۔ والوزارۃ لاتنافی النبوۃ فقد کان فی الزمان الواحد انبیاء یوزر بعضھم بعضا (بحر) (آیت) ” فدمرنھم تد میرا “۔ تدمیر اہلاک کی شدید ترین شکل کا نام ہے۔ یعنی انہیں بالکل چور چور ریزہ ریزہ ہی کرڈالا۔ والتدمیر اشد الاھلاک واصلہ کسر الشیء علی وجہ لایمکن اصلاحہ (بحر)
Ayah 25:37

وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ Open ayah 25:37 in the Quran reader

اور ہم نے قوم نوح کو بھی (ہلاک کیا) جب انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا،40۔ ہم نے انہیں غرق کردیا اور ہم نے انہیں ایک نشان (عبرت) بنادیا اور ہم نے ظالموں کیلئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،41۔

40۔ شرک وجاہلیت میں مبتلا قوم نوح کا انکار محض شخصی رسالت نوح کا انکار نہ تھا، سارے انبیاء کا اور نفس مسئلہ نبوت کا انکار تھا۔ امام رازی (رح) (اور ان کے اتباع میں بعض دوسرے مفسرین) کی بھی نظر اس نکتہ تک پہنچ گئی تھی کہ ممکن ہے یہ لوگ براہمہ ہند کی طرح سلسلہ نبوت ہی کے منکر ہوں۔ اما کانوا من البراھمۃ المنکرین بکل الرسل (کبیر) اوکذبوا بعثۃ الرسل مطلقا کالبراھمۃ (بیضاوی) اولم یروا بعثۃ الرسل کالبراھمۃ (بحر) 41۔ (آخرت میں، جیسا کہ دنیا میں سزا غرقابی کی ملی) (آیت) ” لظلمین “۔ ظالمون سے یہاں بھی مراد کافر ہی ہیں، جیسا کہ قرآن میں اکثر مقامات پر ہے۔
Ayah 25:38

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا Open ayah 25:38 in the Quran reader

اور ہم نے (اسی طرح ہلاک کیا) عاد اور ثمود اور اصحاب رس کو اور ان کے درمیان میں بہت سی امتوں کو،42۔

42۔ (ان کے انکار، تکذیب ونافرمانی کی بنا پر) (آیت) ” اصحب الرس “۔ اصحاب رس سے متعلق مختلف قول نقل ہوئے ہیں، رس محققین کے قول کے مطابق ایک شہر علاقہ یمامہ میں تھا۔ یہاں قوم ثمود کا کوئی قبیلہ آباد تھا۔ الرس قریۃ بفلج الیمامۃ وھم بقیۃ ثمود (کبیر) ھم اھل قریۃ من قری ثمود (ابن کثیر عن ابن عباس ؓ موجودہ نقشوں میں یہ مقام وادی رمہ کے علاقہ میں ملتا ہے طلول البلد مشرقی 43۔ عرض البلد شمالی 26۔
Ayah 25:39

وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا Open ayah 25:39 in the Quran reader

اور ہم نے ہر ایک کے لئے عجیب عجیب مضامین بیان کئے اور ہر ایک کو ہم نے بالکل ہی برباد کردیا،43۔

43۔ یعنی ان میں سے ہر امت کو تبلیغ ہر اعتبار سے مؤثر وبلیغ ہوتی رہی، اس کے بعد بھی جب یہ لوگ ایمان نہ لائے تو عذاب سے ہلاک کردیئے گئے۔
Ayah 25:40

وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا Open ayah 25:40 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) اس بستی پر سے گذر رہے ہیں جس پر پتھر بری طرح برسائے گئے تھے،44۔ سو کیا یہ لوگ اس کو دیکھتے نہیں رہتے ؟ ،45۔ بات یہ ہے کہ یہ لوگ مر کر جی اٹھنے کا خیال ہی نہیں رکھتے،46۔

44۔ (اور جہاں ہو کر یہ منکرین اپنی آمد ورفت شام میں گزرتے رہتے ہیں) مراد ہیں سدوم وغیرہ قوم لوط کے علاقے۔ 45۔ (اور پھر بھی عبرت نہیں پکڑتے ؟ ) مطلب یہ ہے کہ خدائی قانون سے بغاوت وسرکشی کرنے والی قوموں کی عبرتناک سزائیں اور بربادیاں خوب ان کے علم میں ہیں۔ ان کے کھنڈر اور مٹے ہوئے آثار ان کے مشاہدہ میں آچکے ہیں۔ 46۔ یعنی یہ اس کا یقین ہی نہیں رکھتے کہ عمل کی جزاو سزا کا ایک ضابطہ اور دستور ونظام ہے۔ اور ہر عمل پر ایک ثمرہ دنیا وآخرت میں مرتب ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کفر کو موجب سزا وہلاکت ہی نہیں تصور کرتے۔