25. Surah Al-Furqaan
الفرقانThe Criterion · 77 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
سورة نمبر 25 کل رکوع 6 آیات 77 الفاظ و کلمات 906 حروف 9319 سورۃ الفرقان مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اس میں اور سورتوں کی طرح توحید و رسالت ‘ قیامت ‘ جزا و سزا ‘ کفر و شرک کی برائی اور مشرکین کی مذمت کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وہ مقام اور عظمت عطا فرمائی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کی طرح کسی خاص قوم ‘ نسل ‘ یا خطے کے لئے نہیں بلکہ قیامت تک پوری انسانیت کی اصلاح کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا ؛ آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو ! میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں “ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ؛ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے آپ کو تمام انسانوں کی طرف مبشر و نذیر بنا کر بھیجا ہے “۔ سورۃ الفرقان میں فرمایا گیا ہے کہ اے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ” نذیر اللعالمین “ یعنی تمام جہان والوں کے لیے (برے انجام سے) ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صرف عرب والوں یا کسی خاص قوم کی طرف رسول اور نبی بنا کر نہیں بھیجا بلکہ قیامت تک ساری انسانیت کی اصلاح اور راہ ہدایت متعین کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے پیغام کو پہنچانے کی کوشش فرماتے تو کفار مکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقام عظمت کو پہچاننے کے بجائے طرح طرح کے اعتراضات کیا کرتے تھے۔ اللہ تالیٰ نے کفار کے تمام اعتراضات کے جوابات عطا فرمائے ہیں۔ کفارو مشرکین کبھی طنز کرتے ہوئے یہ کہتے کہ اچھا یہ ہیں وہ جن کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ کبھی کہتے کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھاتا پیتا ہے اور بزاروں میں چلتا پھرتا ہے ؟ کبھی کہتے کہ انکے ساتھ کوئی خزانہ کیوں نہ بھیجا گیا جس سے یہ خوب آرام سے کھاتے پیتے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رسول بنا کر بھیجا ہے یہ انسان ہی ہیں کھاتے بھی ہیں اور پیتے بھی ہیں۔ اپنی ضروریات اور تجارت کے لیے بازاروں میں بھی جاتے ہیں جس طرح ان سے پہلے تمام نبی اور رسول انسان ہی تھے اور ان کے ساتھ جو بھی ضروریات تھیں اور بشری تقاضے تھے وہ ان کو پورا کرتے تھے۔ اس سے ان کی شان رسالت و نبوت میں کوئی فرق نہیں پڑتا یہ اور اس قسم کی بہت سی باتیں سمجھانے کے باوجود یہ کفار ایمان نہ لاتے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رنجیدہ ہوجاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان کے یہ اعتراضات محض عمل سے بھاگنے اور سچائی سے منہ موڑنے کے لیے ہیں۔ اگر ان کو اس بات کا ذرا بھی احساس ہوتا کہ ان کو مرنے کے بعد اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور اپنے ایک ایک عمل کا جواب دینا ہے تو یہ لوگ کبھی ایسا نہ کرتے۔ ٭اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی خاص زمانے اور کسی خاص خطے کے لیے نہیں بھیجا بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ساری دنیا کی ہدایت و رہنمائی کے لیے بھیجا ہے چناچہ اس سورة میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ساری دنیا کے انسانوں کو برے اعمال کے برے نتائج سے آگاہ کر دیجئے شاید اس طرح وہ حق اور باطل میں فرق کرسکیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا کہ آپان کی طرف نہ دیکھیے بلکہ اللہ کے ان نیک بندوں کی طرف دیکھیے جو ” عبادالرحمن “ ہیں۔ فرمایا کہ اللہ کے یہ نیک بندے وہ ہیں کہ (١) جب وہ زمین پر چلتے ہیں تو نہایت عاجزی اور وقار کے ساتھ چلتے ہیں غرور اور تکبر کا کوئی انداز ان میں موجود نہیں ہوتا۔ (٢) جب وہ جاہلوں اور نادانوں سے بات کرتے ہیں تو ان سے الجھنے کے بجائے نہایت نرمی اور اخلاق سے کہہ دیتے ہیں کہ ” تم سلام رہو تم پر سلامتی ہو “۔ (٣) ان کی راتیں غفلت اور سستی کے بجائے اللہ کے سامنے سجدے کرنے اور نماز کو قائم کرنے میں گزرتی ہیں۔ (٤) وہ اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں جہنم سے پناہ مانگتے رہتے ہیں اور ہر اس عمل سے دور رہتے ہیں جس سے ان کا رب ان سے ناراض ہوجائے۔ (٥) اللہ کے بندے وہ ہیں جو اپنا مال خرچ کرنے میں اعتدال اور تو ازن کا راستہ اختیار کرتے ہیں نہ تو فضول خرچی میں سب کچھ اڑادیتے ہیں اور نہ کنجوسی کرتے ہیں بلکہ وہ درمیان کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ (٦) وہ بد عقیدگی اور برے اعمال سے دور رہتے ہوئے شرک اور بدعات اور کفر کے ہر انداز سے اپنے آپ کو بچا کر توحید خالص پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (٧) وہ انسانی جان کا احترام کرتے ہیں اور قتل ناحق سے دور رہتے ہیں۔ (٨) ناجائز جنسی تعلق (زنا) اور بدکاری اور طرح کے گناہوں سے اپنے دامن کو بچائے رکھتے ہیں۔ ٭رحمن کے بندے وہ ہیں جھوٹ ‘ فریب ‘ بےہودہ مشغلوں اور ناجائز حرکتوں سے دوررہتے ہیں۔ جب وہ چلتے ہیں تو نہایت عاجزی اور وقار سے چلتے ہیں۔ رحمن کے بندوں کے کئی میں عمل تکبر اور غرور کا کوئی انداز نہیں ہوتا۔ (٩) اللہ کے بندے وہ ہیں کہ جھوٹ ‘ فریب ‘ بےہو دہ مشغلوں اور ناجائز حرکتوں سے بچ کر چلتے ہیں۔ (١٠) اگر وہ کسی غلط اور بےہو وہ جگہ سے گزرتے ہیں تو اس میں الجھنے کے بجائے متانت ‘ سنجیدگی ‘ اور وقار سے گزرجاتے ہیں۔ (١١) جب ان کے سامنے اللہ کا کلام پڑھا جاتا ہے تو وہ اس کو نہایت غورو فکر سے سن کر اس کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔ (٢) وہ اپنے لیے اپنے گھر والوں اور متعلقین کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ اے اللہ ان کو نیکیوں اور پرہیزگاری کے کاموں کے لیے ثابت قدم رکھیے گا۔ اللہ تعالیٰ ان ” عبادالرحمن “ (رحمن کے بندوں) کو اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ ان کو دنیا اور آخرت میں بلند ترین مقامات عطا کئے جائیں گے اور جنہوں نے کفر و شرک کے طریقے اختیار کر رکھے ہیں اور اللہ کے دین اور رسولوں کی عظمت کا انکار کرتے ہیں تو ان کا یہ انکار اور بد عملی قیامت میں وبال جان بن جائے گی۔ اس سے ان کو واسطہ پڑے گا اور ان کو عذاب بھگتنا پڑے گا۔
تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader
بڑی برکت والا ہے وہ جس نے اپنے بندے (حضرت محمد ﷺ پر فیصلہ کرنے والی کتاب نازل فرمائی تاکہ وہ تمام اہل جہان کو ڈر سنانے والے ہوں۔
اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader
آسمانوں اور زمین کی سلطنت اسی کی ہے اور اس نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنا یا اور نہ اس کی حکومت میں کوئی شریک ہے۔ اس نے ہر چیز کو پیدا کرکے اس کو مناسب و متوازن بنایا ہے۔
وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader
اور انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر ان کو معبود بنا رکھا ہے جو کسی چیز کے خالق نہیں ہیں بلکہ وہ خود پیدا کئے جاتے ہیں۔ وہ اپنے کسی نفع اور نقصان تک کا اختیار نہیں رکھتے۔ نہ وہ موت اور زندگی کا اختیار رکھتے ہیں او نہ مر کر دوبارہ زندہ ہونے کا ۔
وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader
اور کافر کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) تو کچھ بھی نہیں ہے سوائے جھوٹ کے ۔ جسے اس شخص نے خود گھڑ لیا ہے۔ اور دوسرے کچھ لوگوں نے اس کے گھڑ نے میں اس کی مدد کی ہے۔ پس یقیناً وہ زیادتی اور جھوٹ پر اتر آئے ہیں۔
وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader
اور وہ کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جن کو اس نے لکھوا لیا ہے۔ پھر وہی صبح و شام اس کو پڑھ پڑھ کر سنادی جاتی ہیں۔
قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اس (قرآن) کو اس نے نازل کیا ہے جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی باتوں کا علم رکھتا ہے۔ وہ بہت بخشنے والا اور نہایت رحم و کرم کرنے والا ہے۔
وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader
انہوں نے کہا یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ اسکے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا کہ وہ اس کیساتھ ڈرانے والا ہوتا
اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader
یا اسے کوئی خزانہ دے دیا ہوتا یا اس کے پاس کوئی باغ ہوتی کہ اس میں سے کھایا کرتا۔ اور یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم ایک جادو میں مبتلا شخص کے پیچھے چل رہے ہو۔
اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ ذرا دیکھئے یہ کیسی (فضول اور بےہودہ ) باتیں کررہے ہیں ( حقیقت یہ ہے کہ ) یہ لوگ گمراہ ہوچکے ہیں۔ اب یہ کوئی راستہ نہیں پاسکتے۔
تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader
اللہ بڑی برکت والا ہے۔ اگر چاہے تو تمہارے واسطے اس سے بہتر (ایسے) باغات بنادے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں اور تمہارے لئے بہت سے محل بنادے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں اور تمہارے لئے بہت سے محل بنادے
بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader
(اصل بات یہ ہے کہ) یہ لوگ قیامت کو جھٹلاتے ہیں۔ اور ہم نے ایسے لوگوں کے لئے جو قیامت کو جھوٹ سمجھتے ہیں بھڑکتی آگ تیار کررکھی ہے۔
اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader
جب دور سے دوزخ انہیں دیکھے گی تو وہ اسے جوش مارتا اور چنگھاڑتا سنیں گے۔
وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader
اور جب یہ اس جہنم کی تنگ جگہ میں ہاتھ پائوں جکڑ کر ڈال دیئے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے
لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader
( ان سے کہا جائے گا کہ ) آج تم ایک موت کو نہیں بلکہ بہت سی موتوں کو پکارو۔
قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ ان سے پوچھئے کہ جہنم کا عذاب بہتر ہے یا ہمیشہ رہنے والی جنت کا جس کا وعدہ پرہیز گاروں سے کیا گیا ہے وہ ان (کی نیکیوں) کا صلہ اور ٹھکانا ہوگا۔
لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader
وہ اس جنت میں جو خواہش کریں گے ان کو ملے گا اور اس میں ہمیشہ رہیں گے ‘ یہ آپ کے رب کا وعدہ ہے جس (کا پورا ہونا) لازم ہے اور پوچھے جانے کے قابل ہے۔
وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader
اور جس دن ( آپ کا رب) ان کو اکٹھا کرے گا اور جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے۔ اکٹھا کرے گا تو پھر اللہ ان سے پوچھے گا کیا تم میرے بندوں کو بہکایا تھا یا وہ خود ہی رستے بےبھٹک گئے تھے ؟
قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader
وہ کہیں گے کہ (اے اللہ) آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے۔ ہماری یہ مجال نہ تھی کہ ہم آپ کے سوا دوسروں کو مدد گا ربناتے بلکہ آپ نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو خوش حالی عطا کی یہاں تک کہ وہ آپ کو بھو ل گئے اور یہ خود ہی ہلاک ہونے والے لوگ تھے۔
فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader
(اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ) وہ تمہیں تمہاری اس بات میں جھٹلا چکے جو تم کہتے ہو اب تم نہ تو اپنے اوپر سے عذاب کو ٹال سکتے ہو اور نہ تم کسی طرح کی مدد کئے جاسکتے ہو۔ اور تم میں سے جو ظالم ہوگا ہم اسے سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے ہیں وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ اور ہم نے تمہیں ایک دوسرے کے جانچنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ تو کیا تم صبر کرو گے ؟ اور آپ کا پروردگار سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader
اور جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے انہوں نے کہا ہمارے اوپر فرشتے کیوں نازل نہیں کئے جاتے ؟ یا ہم اپنے رب کو (کھلی آنکھوں سے) کیوں نہیں دیکھ سکتے ؟ بیشک انہیں اپنے بارے میں بڑا گھمنڈ ہے اور شرارت میں وہ بہت سرچڑھ گئے ہیں۔
یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader
اور جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے تو وہ دن مجرموں کے لئے کوئی خوش کا دن نہ ہوگا۔ وہ کہیں گے کہ (اے پروردگار) ہمارے اور اس (عذاب) کے درمیان کوئی پناہ کی جگہ مل جائے۔
وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader
اور ہم ان کے کئے ہوئے کاموں کی طرف متوجہ ہوں گے ہم ان کے اعمال کو اڑتا غبار بنادیں گے۔
اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader
اس دن جنت والے بہترین ٹھکانے اور عمدہ آرام گاہوں میں ہوں گے۔
وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader
اور جس دن آسمان بادل کے اوپر سے پھٹ جائے گا۔ اور لگاتار فرشتے اتارے جائیں گے
اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader
اس دن کی سچی باشاہت رحمن کے لئے ہوگی۔ اور وہ دن کفار پر بڑا مشکل دن ہوگا۔
وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader
اور اس دن ظالم اپنے ہاتھوں کو چبا ڈالے گا اور کہے گا کہ اے کاش ! میں رسول کے ساتھ ہوکر صحیح راستہ اختیار کرلیتا۔
یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader
ہائے میری بد نصیبی ! میرے لئے کیا اچھا ہوتا کہ میں نے فلانے کو اپنا دوست نہ بنا یا ہوتا
لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader
جس نے اس وقت جب کہ مجھے نصیحت پہنچ چکی تھی بھٹکا دیا اور شیطان تو انسان کے لئے بڑا دغا باز ہے۔
وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader
اور رسول ﷺ کہیں گے کہ اے میرے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو بالکل چھوڑ دیا تھا۔
وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ ہم اس طرح گناہ گاروں میں سے ہر نبی کے دشمن بناتے رہے ہیں۔ اور آپ کا پروردگار ہدایت دینے اور مدد کرنے کے لئے کافی ہے۔
وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader
اور کافروں نے کہا کہ اس قرآن کو اس پر ایک ہی مرتبہ نازل کیوں نہیں کیا گیا۔ اللہ نے فرمایا یہ اس لئے ہے تاکہ ہم اس قرآن کے ذریعے آپ کے دل کو قوی رکھیں اور ہم نے اس قرآن کو آہستہ آہستہ پڑھ کر سنایا ہے۔
وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader
یہ کفار آپ سے کیسے ہی انوکھے اور عجیب سوال کریں ۔ ہم اس کا ٹھیک اور بہتر جواب دے ہی دیتے ہیں۔
اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader
یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے چہروں کے بل جہنم میں گھسیٹے جائیں گے ان کا ٹھکانا بھی برا ہے اور یہ راستے سے بھی بھٹکے ہوئے ہیں۔