25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

سورة نمبر 25 کل رکوع 6 آیات 77 الفاظ و کلمات 906 حروف 9319 سورۃ الفرقان مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اس میں اور سورتوں کی طرح توحید و رسالت ‘ قیامت ‘ جزا و سزا ‘ کفر و شرک کی برائی اور مشرکین کی مذمت کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وہ مقام اور عظمت عطا فرمائی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کی طرح کسی خاص قوم ‘ نسل ‘ یا خطے کے لئے نہیں بلکہ قیامت تک پوری انسانیت کی اصلاح کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا ؛ آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو ! میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں “ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ؛ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے آپ کو تمام انسانوں کی طرف مبشر و نذیر بنا کر بھیجا ہے “۔ سورۃ الفرقان میں فرمایا گیا ہے کہ اے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ” نذیر اللعالمین “ یعنی تمام جہان والوں کے لیے (برے انجام سے) ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صرف عرب والوں یا کسی خاص قوم کی طرف رسول اور نبی بنا کر نہیں بھیجا بلکہ قیامت تک ساری انسانیت کی اصلاح اور راہ ہدایت متعین کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے پیغام کو پہنچانے کی کوشش فرماتے تو کفار مکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقام عظمت کو پہچاننے کے بجائے طرح طرح کے اعتراضات کیا کرتے تھے۔ اللہ تالیٰ نے کفار کے تمام اعتراضات کے جوابات عطا فرمائے ہیں۔ کفارو مشرکین کبھی طنز کرتے ہوئے یہ کہتے کہ اچھا یہ ہیں وہ جن کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ کبھی کہتے کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھاتا پیتا ہے اور بزاروں میں چلتا پھرتا ہے ؟ کبھی کہتے کہ انکے ساتھ کوئی خزانہ کیوں نہ بھیجا گیا جس سے یہ خوب آرام سے کھاتے پیتے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رسول بنا کر بھیجا ہے یہ انسان ہی ہیں کھاتے بھی ہیں اور پیتے بھی ہیں۔ اپنی ضروریات اور تجارت کے لیے بازاروں میں بھی جاتے ہیں جس طرح ان سے پہلے تمام نبی اور رسول انسان ہی تھے اور ان کے ساتھ جو بھی ضروریات تھیں اور بشری تقاضے تھے وہ ان کو پورا کرتے تھے۔ اس سے ان کی شان رسالت و نبوت میں کوئی فرق نہیں پڑتا یہ اور اس قسم کی بہت سی باتیں سمجھانے کے باوجود یہ کفار ایمان نہ لاتے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رنجیدہ ہوجاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان کے یہ اعتراضات محض عمل سے بھاگنے اور سچائی سے منہ موڑنے کے لیے ہیں۔ اگر ان کو اس بات کا ذرا بھی احساس ہوتا کہ ان کو مرنے کے بعد اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور اپنے ایک ایک عمل کا جواب دینا ہے تو یہ لوگ کبھی ایسا نہ کرتے۔ ٭اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی خاص زمانے اور کسی خاص خطے کے لیے نہیں بھیجا بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ساری دنیا کی ہدایت و رہنمائی کے لیے بھیجا ہے چناچہ اس سورة میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ساری دنیا کے انسانوں کو برے اعمال کے برے نتائج سے آگاہ کر دیجئے شاید اس طرح وہ حق اور باطل میں فرق کرسکیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا کہ آپان کی طرف نہ دیکھیے بلکہ اللہ کے ان نیک بندوں کی طرف دیکھیے جو ” عبادالرحمن “ ہیں۔ فرمایا کہ اللہ کے یہ نیک بندے وہ ہیں کہ (١) جب وہ زمین پر چلتے ہیں تو نہایت عاجزی اور وقار کے ساتھ چلتے ہیں غرور اور تکبر کا کوئی انداز ان میں موجود نہیں ہوتا۔ (٢) جب وہ جاہلوں اور نادانوں سے بات کرتے ہیں تو ان سے الجھنے کے بجائے نہایت نرمی اور اخلاق سے کہہ دیتے ہیں کہ ” تم سلام رہو تم پر سلامتی ہو “۔ (٣) ان کی راتیں غفلت اور سستی کے بجائے اللہ کے سامنے سجدے کرنے اور نماز کو قائم کرنے میں گزرتی ہیں۔ (٤) وہ اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں جہنم سے پناہ مانگتے رہتے ہیں اور ہر اس عمل سے دور رہتے ہیں جس سے ان کا رب ان سے ناراض ہوجائے۔ (٥) اللہ کے بندے وہ ہیں جو اپنا مال خرچ کرنے میں اعتدال اور تو ازن کا راستہ اختیار کرتے ہیں نہ تو فضول خرچی میں سب کچھ اڑادیتے ہیں اور نہ کنجوسی کرتے ہیں بلکہ وہ درمیان کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ (٦) وہ بد عقیدگی اور برے اعمال سے دور رہتے ہوئے شرک اور بدعات اور کفر کے ہر انداز سے اپنے آپ کو بچا کر توحید خالص پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (٧) وہ انسانی جان کا احترام کرتے ہیں اور قتل ناحق سے دور رہتے ہیں۔ (٨) ناجائز جنسی تعلق (زنا) اور بدکاری اور طرح کے گناہوں سے اپنے دامن کو بچائے رکھتے ہیں۔ ٭رحمن کے بندے وہ ہیں جھوٹ ‘ فریب ‘ بےہودہ مشغلوں اور ناجائز حرکتوں سے دوررہتے ہیں۔ جب وہ چلتے ہیں تو نہایت عاجزی اور وقار سے چلتے ہیں۔ رحمن کے بندوں کے کئی میں عمل تکبر اور غرور کا کوئی انداز نہیں ہوتا۔ (٩) اللہ کے بندے وہ ہیں کہ جھوٹ ‘ فریب ‘ بےہو دہ مشغلوں اور ناجائز حرکتوں سے بچ کر چلتے ہیں۔ (١٠) اگر وہ کسی غلط اور بےہو وہ جگہ سے گزرتے ہیں تو اس میں الجھنے کے بجائے متانت ‘ سنجیدگی ‘ اور وقار سے گزرجاتے ہیں۔ (١١) جب ان کے سامنے اللہ کا کلام پڑھا جاتا ہے تو وہ اس کو نہایت غورو فکر سے سن کر اس کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔ (٢) وہ اپنے لیے اپنے گھر والوں اور متعلقین کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ اے اللہ ان کو نیکیوں اور پرہیزگاری کے کاموں کے لیے ثابت قدم رکھیے گا۔ اللہ تعالیٰ ان ” عبادالرحمن “ (رحمن کے بندوں) کو اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ ان کو دنیا اور آخرت میں بلند ترین مقامات عطا کئے جائیں گے اور جنہوں نے کفر و شرک کے طریقے اختیار کر رکھے ہیں اور اللہ کے دین اور رسولوں کی عظمت کا انکار کرتے ہیں تو ان کا یہ انکار اور بد عملی قیامت میں وبال جان بن جائے گی۔ اس سے ان کو واسطہ پڑے گا اور ان کو عذاب بھگتنا پڑے گا۔

Ayahs 25:1–6

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

بڑی برکت والا ہے وہ جس نے اپنے بندے (حضرت محمد ﷺ پر فیصلہ کرنے والی کتاب نازل فرمائی تاکہ وہ تمام اہل جہان کو ڈر سنانے والے ہوں۔

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی سلطنت اسی کی ہے اور اس نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنا یا اور نہ اس کی حکومت میں کوئی شریک ہے۔ اس نے ہر چیز کو پیدا کرکے اس کو مناسب و متوازن بنایا ہے۔

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر ان کو معبود بنا رکھا ہے جو کسی چیز کے خالق نہیں ہیں بلکہ وہ خود پیدا کئے جاتے ہیں۔ وہ اپنے کسی نفع اور نقصان تک کا اختیار نہیں رکھتے۔ نہ وہ موت اور زندگی کا اختیار رکھتے ہیں او نہ مر کر دوبارہ زندہ ہونے کا ۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) تو کچھ بھی نہیں ہے سوائے جھوٹ کے ۔ جسے اس شخص نے خود گھڑ لیا ہے۔ اور دوسرے کچھ لوگوں نے اس کے گھڑ نے میں اس کی مدد کی ہے۔ پس یقیناً وہ زیادتی اور جھوٹ پر اتر آئے ہیں۔

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جن کو اس نے لکھوا لیا ہے۔ پھر وہی صبح و شام اس کو پڑھ پڑھ کر سنادی جاتی ہیں۔

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اس (قرآن) کو اس نے نازل کیا ہے جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی باتوں کا علم رکھتا ہے۔ وہ بہت بخشنے والا اور نہایت رحم و کرم کرنے والا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 : (تبارک) برکت والا۔ خود بخود بڑھنے والا ‘(الفرقان) حق و باطل میں فرق کرنے والا ‘(الملک) سلطنت۔ حکومت ‘ (قدر) اس نے اندازہ ٹھرایا ‘ (تقدیر) اندازہ متوازن ہونا ‘ (یخلقون) وہ پیدا کئے گئے ہیں۔ (ضر) نقصان ‘(نشور) دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنا ‘ (افک) جھوٹ۔ بےبنیاد بات ‘(افتری) اس نے گھڑ لیا ‘ (اعان) اس نے مدد کی ‘(زور) جھوٹ۔ غلط بات ‘(تملی) پڑھی اور رٹی جاتی ہیں ‘( السر) بھید۔ چھپی باتیں۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 : دنیا اور آخرت میں وہی افراد اور قومیں کامیاب و بامراد ہوتی ہیں جو اللہ کی ذات وصفات کو مان کر اس کے بھیجے ہوئے نبیوں اور رسولوں کی مکمل اطاعت و فرماں برداری کرتی ہیں۔ لیکن جنہوں نے اللہ کی ذات وصفات میں شرک کیا اور اس کی بھیجی ہوئی تعلیمات ‘ اس کے نبیوں اور رسولوں کو جھٹلایا ‘ ان کا مذاق اڑایا اور اہل ایمان کے راستے کو روکنے کی کوشش کی اور بےحقیقت چیزوں اور بتوں کو معبود بنایا ان کی دینا بھی برباد ہوئی اور آخرت بھی۔ چناچہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ وہ بابرکت ذات ہے جو تمام بھلائیوں ‘ خوبیوں اور قدرت و طاقت اور عظمتوں والی ذات ہے۔ اس نے اپنے فضل وکرم سے اپنے محبوب بندے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر وہ عظیم کتاب (قرآن مجیدض نازل فرمائی ہے جس نے حق و باطل ‘ سچ اور جھوٹ ‘ اچھے اور برے کو واضح طریقے پر بیان کر کے اس کے اچھے اور برے انجام کو بیان فرمادیا ہے تا دنیا بھر کو ان کے برے اور بدترین انجام سے ڈرایا جاسکے۔ اللہ کے نور ہدایت سے یہ دنیا روشن و منو رہے۔ وہ اپنی قدرت کاملہ سے اس پوری کائنات کو اس طرح چلا رہا ہے کہ وہ اس کے چلانے میں دنیا کے کسی بھی شخص یا اسباب کا محتاج نہیں ہے ‘ نہ کوئی اس کے کام میں شریک ہے نہوہ اولاد یا بیوی کا محتاج ہے۔ وہ ساری مخلوق کو ایک خاص انداز اور مقدار کیساتھ رزق پہنچا رہا ہے۔ اس نے ہر چیز کو ایسا ماپ تول کر بنایا ہے کہ اس کی تقدیر اور اندازے سے کوئی چیزباہر نہیں نکل سکتی۔ لیکن وہ کتنے بد نصیب لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کو چھوڑ کر چاند ‘ سورج ‘ ستاروں ‘ پانی ‘ ہوا ‘ آگ اور مٹی کو اور ‘ پتھر ‘ لکڑی سے بنائے گئے بےجان بتوں کو اپنا معبود سمجھ رکھا ہے اور ان سے اپنی مرادوں کے پورا ہونے کی توقع لگائے بیٹھے ہیں۔ غور کرنے کی یہ بات ہے کہ جو اپنے پیدا ہونے میں بھی انسانی ہاھتوں کے محتاج ہیں وہ دنیا کے ایک معمولی سیذریکو پیدا کرنے کی بھی اہلیت و صلاحیت نہیں رکھتے۔ جو اپنے نفع نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ جن کے ہاتھ میں کسی کی زندگی یا موت کا اختیار نہیں ہے۔ نہ یہ دنیا میں کسی کے کام آئیں گے اور نہ آخرت میں وہ دنیا اور آخرت میں کسی کے نفع نقصان اور اچھے برے کے مالک کیسے ہوسکتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ صرف ان بےحقیقت چیزوں سے امید لگائے زندگی گذار رہے ہیں بلکہ وہ حق و صداقت کی ہر بات کو جھٹلاتے جھٹلاتے قرآن کریم جیسی سچائی کو جھٹلانے سے بھی باز نہیں آتے۔ قرآن کریم جسکی ایک آیت بنا کر لانے سے عرب کے بڑے بڑے فصیح وبلیغ ادیب و شاعر۔ وہ جن کو اپنی زبان دانی پر اتنا فخر و غرور تھا کہ اپنے سوا سب کو ” عجم “ یعنی گونگا کہا کرتے تھے کہ ساری دنیا مل کر بھی قرآن جیسی ایک سورت یا ایک آیت بنا کر نہیں لاسکتی۔ اس حقیقت کی موجودگی میں کفارو منافقین کا یہ کہنا کہ نبی کریم ﷺ نے چند عجمی غلاموں سے سن کر یا پڑھ کر نعوذ باللہ خود ہی قرآن کی آیات وگھڑ لیا ہے۔ اور اسکلام کو اللہ کی طرف سے منسوب کردیا ہے کائنات کا سب سے بڑاجھوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ کلام اس علیم وخبیر ذات کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو زمین اور آسمانوں کے تمام بھیدوں سے واقف ہے۔ وہ قرآن مجید جس کی عظمت ‘ بلندی مضامین اور الفاظ کی شان و شوکت کو کوئی نہیں پہنچ سکتا وہ اس قدر معمولی کلام نہیں ہے کہ جسے کچھ عجمی پڑھے لکھے غلام اپنی طرف سے پیش کرتے اور سارے عرب کے شاعر وادیب اس کلام کے سامنے عاجزو بےبس ہو کر رہ جاتے۔ ایسی بات کہنا اتنی بڑی گستاخی ‘ جہالت اور نادانی ہے کہ اس پر اللہ کا غضب نازل ہو سکتا تھا لیکن اللہ کی ہر صفت پر صفت رحمت غالب ہے اس لئے وہ ایسے گستاخوں کو اچھی طرح موقع دینا چاہتا ہے کہ وہ اس بات پر خوب غور و فکر کرلیں تاکہ ان کی عاقبت خراب نہ ہو۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جھوٹ اور فریب کا چشمہ لگا کر جھوٹی زندگی گذارنے والے لوگ اس سے آگے سوچ ہی نہیں سکتے حالانکہ اگر وہ کفار و مشرکین ذرا بھی غور وفکر سے کام لیتے تو قرآن مجیدعلم و حکمت اور عقل و بصیرت سے بھر وپر خزانہ نظر آتا جوان لوگوں کے لئے ہے جنہیں آخرت کی ابدی راحتیں مطلوب ومحبوب ہیں۔ اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ جو بھی اس قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ کی شان نبوت کی مکمل اطاعت کرے گا اس کو جنت کی ابدی راحتیں عطا کی جائیں گی۔ لیکن اگر جھوٹ ‘ فریب اور شک و شبہ میں زندگی گذاردی جائے گی تو ایسے لوگوں کی دنیا کے ساتھ آخرت بھی برباد ہوکر رہ جائے گی۔
Ayahs 25:7–16

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

انہوں نے کہا یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ اسکے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا کہ وہ اس کیساتھ ڈرانے والا ہوتا

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا اسے کوئی خزانہ دے دیا ہوتا یا اس کے پاس کوئی باغ ہوتی کہ اس میں سے کھایا کرتا۔ اور یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم ایک جادو میں مبتلا شخص کے پیچھے چل رہے ہو۔

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ ذرا دیکھئے یہ کیسی (فضول اور بےہودہ ) باتیں کررہے ہیں ( حقیقت یہ ہے کہ ) یہ لوگ گمراہ ہوچکے ہیں۔ اب یہ کوئی راستہ نہیں پاسکتے۔

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

اللہ بڑی برکت والا ہے۔ اگر چاہے تو تمہارے واسطے اس سے بہتر (ایسے) باغات بنادے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں اور تمہارے لئے بہت سے محل بنادے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں اور تمہارے لئے بہت سے محل بنادے

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

(اصل بات یہ ہے کہ) یہ لوگ قیامت کو جھٹلاتے ہیں۔ اور ہم نے ایسے لوگوں کے لئے جو قیامت کو جھوٹ سمجھتے ہیں بھڑکتی آگ تیار کررکھی ہے۔

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

جب دور سے دوزخ انہیں دیکھے گی تو وہ اسے جوش مارتا اور چنگھاڑتا سنیں گے۔

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب یہ اس جہنم کی تنگ جگہ میں ہاتھ پائوں جکڑ کر ڈال دیئے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

( ان سے کہا جائے گا کہ ) آج تم ایک موت کو نہیں بلکہ بہت سی موتوں کو پکارو۔

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ ان سے پوچھئے کہ جہنم کا عذاب بہتر ہے یا ہمیشہ رہنے والی جنت کا جس کا وعدہ پرہیز گاروں سے کیا گیا ہے وہ ان (کی نیکیوں) کا صلہ اور ٹھکانا ہوگا۔

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

وہ اس جنت میں جو خواہش کریں گے ان کو ملے گا اور اس میں ہمیشہ رہیں گے ‘ یہ آپ کے رب کا وعدہ ہے جس (کا پورا ہونا) لازم ہے اور پوچھے جانے کے قابل ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 16 : (مالھذالرسول) یہ کیسا رسول ہے ‘(یمشی) چلتا ہے ‘(الاسواق (سوق) بازار ‘(کنز) خزانہ ‘(مسحور) جادو میں پھنسا ہوا ‘(ضلوا) وہ گمراہ ہوگئے ‘ قصور (قصر) محل۔ محلات ‘(سعیر) بھڑکتی آگ ‘(تغیظ) غصہ سے جوش مارنا ‘(زفیر) غصہ سے نکلی ہوئی تیز آواز ‘ (ضیق) تنگ ‘ مقرنین (آپس میں جکڑے ہوئے) (ثبور) موت۔ ہلاکت ‘(مایشآء و ن) جو کچھ وہ چاہیں گے ‘(مسئولا) سوال کیا گیا۔ درخواست کا حق ‘۔ تشریح : آیت نمبر 7 تا 16 : سچی اور عظیم تحریک اور مضبوط دلائل کے سامنے شکست کھاجانے والے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ ہر شخص متاثر ہورہا ہے تو وہ طرح طرح کے اعتراضات ‘ الزامات اور ذاتیات پر اتر آتے ہیں چناچہ جب قرآن کریم کی واضح اور کھلی کھلی آیات اور نبی کریم ﷺ کی پر تاثیر شخصیت اور اعلیٰ ترین سیرت نے ہر شخص کو دین اسلام کی طرف متوجہ کرنا شروع کیا تو کفار و مشرکین نے قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ کی ذات کو اعتراضات کا نشانہ بنانا شروع کردیا تھا۔ چنانچہ قرآن کریم جیسی عظیم کتاب جس کے سامنے وقت کے شاعر اور زباں داں عاجز اور بےبس ہو کر رہ گئے تھے اس کو پرانے زمانے کے قصے اور من گھڑت کہانیاں قرار دینے کا پروپیگنڈا شروع کردیا گیا۔ نبی کریم ﷺ کو شاعر ‘ مجنون ‘ کاہن اور نجانے کن کن القابات سے یاد کیا جانے لگا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ اگر یہ واقعی اللہ کے نبی ہیں تو ان کا کوئی شاہانہ انداز ہونا چاہیے تھا ‘ خوب ٹھاٹ باٹ ہوتے ‘ آسمان سے فرشتے نازل ہوتے ‘ مال و دولت کا زبردست خزانہ ہوتا جس کو وہ دونوں ہاتھوں سے خوب لٹاتے ‘ خود بھی کھاتے اور دوسروں کو بھی کھلاتے یا کوئی خوبصورت ساباغ ہوتا جس میں ہر طرف سر سبزی و شادابی ہوتی۔ لیکن یہاں تو صورت حال یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے اوپر ایمان لانے والے غریب ‘ مسکین اور پھٹے حال لوگ ہیں جن کے نہ کھانے کو نہ پینے کو ہر طرف فقروفاقہ ہی فقرو فاقہ ہے۔ وہ یہاں تک گستاخی پر اتر آئے تھے کہ لوگوں سے کہتے کہ کیا تم ایسے شخص کی بات کا یقین کرنے چلے ہو جس پر کسی نے جادو کردیا ہے جس کی وجہ سے نعوذ باللہ ان کے ہوش و حواس بگڑ چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! ذرا دیکھئے تو سہی یہ لوگ جو کل تک آپ کو صادق ‘ امین اور ذہین و سمجھ دار کہا کرتے تھے آج کیسی پھبتیاں کس رہے ہیں ‘ کیسے کیسے القابات دے رہے ہیں۔ فرمایا کہ آپ اس کی پروا نہ کیجئے کیونکہ یہ لوگ راستے سے بھٹک چکے ہیں نہ خود صراط مسقیم پر چلنا چاہتے ہیں اور نہ دوسروں کو اس سیدھی سچی راہ پر دیکھنا گوارا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! اگر اللہ چاہتا تو آپ کو حضرت دائود (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرح دولت و سلطنت سے نواز سکتا تھا۔ وہ آپ کو ایسے سر سبز و شاداب اور ہرے بھرے باغات عطا کرسکتا تھا کہ جس کے نیچے سے نہریں جاری ہوتیں اور رہنے کے لئے عالی شان محلات اور حسین ترین مکانات ہوتے لیکن یہ سب کچھ مقصود نہیں ہے بلکہ آخرت کی زندگی کی طرف متوجہ کرنا اصل مقصد ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ جس بات کو ظاہر کررہے ہیں اور اعتراضات کررہے ہیں بات یہ نہیں ہے۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور قیامت ‘ آخرت اور تمام اعمال کی جزا و سزا پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ دنیا کی زنذگی ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہمارا مرنا جینا اسی دنیا تک محدود ہے۔ آخرت ‘ جنت ‘ جہنم اور اچھے برے اعمال کی سزا اور جزا کوئی چیز نہیں ہے۔ فرمایا کہ ان لوگوں کے اس طرح سوچنے سے حقائق تبدیل نہیں ہوں گے کیونکہ مرنے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ ہونا ہے اور پھر جب ان کو جہنم کی وہ آگ جوان کے لئے تیار کی گئی ہے اس میں جھونکا جائے گا اس وقت ان کی آنکھوں سے سارے پردے ہٹ جائیں گے۔ جہنم کی کیفیات کو ظاہر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب یہ جہنم کفار کو دیکھے گی تو وہ غیض و غضب کے ساتھ ایک ڈراونی اور ہیبت ناک آواز سے دھاڑنا شروع کردے گی اور اس کے جوش کا ٹھکانا نہ ہوگا۔ اس کی ہیبت ناک آوازوں کو یہ کفار و مشرکین خود اپنے کانوں سے سنیں گے۔ فرمایا کہ ان مجرمین کو جب زنجیروں میں جکڑ کر جہنم کے تنگ و تاریک حصے میں پھینک دیاجائے گا تو پھر ان کی بےچینی اور گھبراہٹ اپنی انتہاؤں پر ہوگی۔ وہ روئیں گے ‘ چلائیں گے اور شدید ترین اذیت کی وجہ سے موت کو یاد کر کے کہیں گے کہ اس سے بہتر تھا کہ ہمیں موت آجاتی۔ ہمارا وجود مٹ جاتا اور اس کی اذیت و مصیبت سے جان چھوٹ جاتی۔ مگر اس وقت ان کا رونا ‘ چلانا ‘ چیخنا اور دھاڑنا ان کے کام نہ آسکے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ آج کے دن تم صرف ایک موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں کو آواز دو ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے فرمایا ہے کہ آپ ذرا ان سے پوچھئیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی وجہ سے جہنم کی جس اذیت میں مبتلا ہوگے یہ بہتر ہے یا وہ جنت بہتر ہے جس کا وعدہ اللہ نے ان لوگوں سے کیا ہوا ہے جوتقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی کو اپنائے ہوئے ہیں۔ ان جنتوں میں ان کو بہترین بدلہ اور جزاء عطا کی جائے گی جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان جنتیوں کا یہ حال ہوگا۔ کہ اہل جنت جس چیز کی خواہش اور تمنا کریں گے ان کو عطاکی جائے گی۔ یہ اللہ کا سچاوعدہ ہے جو پورا ہوکررہنے والا ہے۔
Ayahs 25:17–20

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور جس دن ( آپ کا رب) ان کو اکٹھا کرے گا اور جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے۔ اکٹھا کرے گا تو پھر اللہ ان سے پوچھے گا کیا تم میرے بندوں کو بہکایا تھا یا وہ خود ہی رستے بےبھٹک گئے تھے ؟

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ (اے اللہ) آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے۔ ہماری یہ مجال نہ تھی کہ ہم آپ کے سوا دوسروں کو مدد گا ربناتے بلکہ آپ نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو خوش حالی عطا کی یہاں تک کہ وہ آپ کو بھو ل گئے اور یہ خود ہی ہلاک ہونے والے لوگ تھے۔

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

(اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ) وہ تمہیں تمہاری اس بات میں جھٹلا چکے جو تم کہتے ہو اب تم نہ تو اپنے اوپر سے عذاب کو ٹال سکتے ہو اور نہ تم کسی طرح کی مدد کئے جاسکتے ہو۔ اور تم میں سے جو ظالم ہوگا ہم اسے سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے ہیں وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ اور ہم نے تمہیں ایک دوسرے کے جانچنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ تو کیا تم صبر کرو گے ؟ اور آپ کا پروردگار سب کچھ دیکھنے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 20 : (اضللتم) تم نے گمراہ کیا تھا ‘(ضلو السبیل) راستے سے بھٹک گئے ‘(ماینبغی) مناسب نہیں ہے ‘(متعت) تمہیں خوش حالی دی گئی ‘(نسوا) وہ بھول گئے ‘(بور) تباہ برباد ہونے والے ‘ (نذق) ہم چکھائیں گے ‘(فتنۃ) آزمائش ۔ جانچ۔ تشریح : آیت نمبر 17 تا 20 : ان آیات میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں ایک تو میدان حشر میں وہ سوال کہ یہ لوگ جو بےحقیقت چیزوں کو اپنا معبود بنائے ہوئے تھے اس پر ان کو کس نے مجبور کیا تھا ؟ دوسرا یہ مسئلہ کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) جو انسان ہوتے ہیں مگر انسانیت ناز کرتی ہے کیا وہ انسانی ضروریات سے بےنیا تھے ؟ جب اللہ تعالیٰ پوری کائنات کی بساط الٹ دیں گے اور تمام لوگوں کو دوبارہ زندہ کر کے میدان حشر میں لاکر کھڑا کردیں گے تو اس وقت کفار و مشرکین جن کے سامنے ان کا بھیانک انجام نظر آرہا ہوگا۔ وہ گھبراہٹ میں مجنونا نہ حرکتوں میں مبتلا ہوجائیں گے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ تمام کفار و مشرکین کو اور ان لوگوں کو جمع فرمائیں گے جو ایک اللہ کی عبادت و بندگی چھوڑ کر غیر اللہ کو اپنا معبود بنائے بیٹھے تھے اور ان کو اس بات پر ناز تھا کہ یہ غیر اللہ ان کے کام آئیں گے اور ان کو اللہ کے عذاب سے بچا لیں گے۔ اللہ تعالیٰ سب سیپہلے ان جھوٹے معبودوں سے پوچھیں گے کہ یہ لوگ جو تمہارے سامنے کھڑے ہیں کیا تم نے ان سے کہا تھا کہ ایک اللہ کو چھوڑ کر تمہاری عبادت و بندگیکریں یا یہ لوگ خود ہی تمہاری بندگی کرنے لگے تھے اور تمہارے دھوکے میں آگئے تھے ؟ ۔ ان سب کا ایک ہی جواب ہوگا۔ کہ اے اللہ آپ کی ذات ہر طرح کے عیب سے پاک ہے ‘ آپ کی بڑی شان ہے ‘ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم تو بےبس اور مجبور تھے۔ انہوں نے خود ہمیں اپنے ہاتھوں سے گھڑ کر ہماری عبادت و بندگی شروع کردی تھی۔ ہماری کیا مجال تھی کہ ہم انہیں اپنی عبادت و بندگی پر مجبور کرسکتے۔ اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنی دولت اور راحت و آرام کی دیوانگی میں آپ کی بندگی چھوڑ کر ہمیں اپنا معبود بنا لیا تھا۔ یہ خود اس کے ذمہ دار ہیں۔ اللہ کے بھرے دربار میں جب یہ جھوٹے معبود ان کو ٹکا سے جواب دیں گیا سہ جواب دیں گے اس وقت حق تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے کہ اب تم کیا کہتے ہو ؟ وہ معبود جنہیں اپنا سہارا اور سب کچھ سمجھ رہے تھے وہ تو تمہاری عبادت و بندگی کو حماقت و جہالت اور نادانی قرار دے رہے ہیں۔ ارشاد ہوگا۔ تمہارا اعمال نامہ تمہارے سامنے ہے اب اسی کے مطابق سارے فیصلے کئے جائیں گے اب تمہارا کوئی حامی اور مدد گار نہیں ہوگا۔ دوسرے مسئلے کا اللہ نے یہ جواب دیا ہے کہ اللہ نے تمام انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے انسانوں ہی کو نبی اور رسول بناکر بھیجا ہے کیونکہ انسانوں کی ہدایت و رہبری کے لئے انسان ہی ایک نمونہ عمل بن سکتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) ‘ حضرت نوح (علیہ السلام) ‘ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) ‘ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ‘ حضرت اسحاق (علیہ السلام) ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے بہت سے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو بھیجا جو سب کے سب انسان ہی تھے جو کھانا بھی کھاتے تھے ‘ بازاروں میں چلتے پھرتے بھی تھے اور بیوی بچے بھی رکھتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی طرف وحی کی جاتی تھی جو ان کا اتنا بڑا امتیاز اور عظمت ہے کہ اس کے سامنے بہت سی عظمتیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی فرشتے یا مال دار شخص کو نبی بنا کر بھیجتے جو زبردستی لوگوں پر رعب جما دھونس اور دھاندلی سے اپنی بات منواتا تو یہ بات اللہ کی مصلحت کے خلاف ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ ہر شخص اپنی عقل و فہم استعمال کرکے ایمان کا راستہ منتخب کرے تاکہ اس کی دنیا اور آخرت سنور جائے اور ابدی راحتیں نصیب ہوجائیں۔
Ayahs 25:21–29

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے انہوں نے کہا ہمارے اوپر فرشتے کیوں نازل نہیں کئے جاتے ؟ یا ہم اپنے رب کو (کھلی آنکھوں سے) کیوں نہیں دیکھ سکتے ؟ بیشک انہیں اپنے بارے میں بڑا گھمنڈ ہے اور شرارت میں وہ بہت سرچڑھ گئے ہیں۔

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

اور جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے تو وہ دن مجرموں کے لئے کوئی خوش کا دن نہ ہوگا۔ وہ کہیں گے کہ (اے پروردگار) ہمارے اور اس (عذاب) کے درمیان کوئی پناہ کی جگہ مل جائے۔

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور ہم ان کے کئے ہوئے کاموں کی طرف متوجہ ہوں گے ہم ان کے اعمال کو اڑتا غبار بنادیں گے۔

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

اس دن جنت والے بہترین ٹھکانے اور عمدہ آرام گاہوں میں ہوں گے۔

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اور جس دن آسمان بادل کے اوپر سے پھٹ جائے گا۔ اور لگاتار فرشتے اتارے جائیں گے

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

اس دن کی سچی باشاہت رحمن کے لئے ہوگی۔ اور وہ دن کفار پر بڑا مشکل دن ہوگا۔

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور اس دن ظالم اپنے ہاتھوں کو چبا ڈالے گا اور کہے گا کہ اے کاش ! میں رسول کے ساتھ ہوکر صحیح راستہ اختیار کرلیتا۔

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

ہائے میری بد نصیبی ! میرے لئے کیا اچھا ہوتا کہ میں نے فلانے کو اپنا دوست نہ بنا یا ہوتا

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

جس نے اس وقت جب کہ مجھے نصیحت پہنچ چکی تھی بھٹکا دیا اور شیطان تو انسان کے لئے بڑا دغا باز ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 29 : (لایرجعون) وہ امید نہیں رکھتے ہیں ‘(لقائ) ملاقات ‘(عتو کبیر) بہت زیادہ۔ حد سے زیادہ بڑھنا ‘ (لا بشری) خوشخبری نہیں ہے ‘ (حجر) کوئی روک ۔ کوئی آڑ ‘( محجور) آڑ کھڑ کردی گئی ‘ (قدمنا) ہم آگے آئے ‘ (ھبائ) وہ ذرات جو سورج چمکنے سے نظر آتے ہیں ‘( منثور) اڑایا ہوا۔ پھیلا ہوا ‘(مستقر) ٹھکانا ‘(مقیل) آرام کی جگہ ‘ (تشقق) پھٹ جائے گی ‘ (الغمام) بادل ‘(عسیر) سخت۔ مشکل ‘(یعض) کاٹے گا ‘ (یلیتنی) ‘ اے کاش کہ میں ‘(یویلتی) ہائے میری بدنصیبی ‘ خلیل (دوست) (اضلنی) مجھے بہکادیا ‘ (خذول) دغا باز۔ چھوڑ جانے والا ‘ تشریح آیت نمبر 21 تا 29 : جو لوگ اللہ پر ‘ آخرت اور اس کے رسول پر ایمان و یقین رکھتے ہیں انہیں کسی محسوس دلیل اور معجزے کی ضرورت نہیں ہوتی اور جن لوگوں کو محض باتیں بنانا اور عمل سے فرار اختیار کرنا ہے وہ طرح طرح کی نشانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں ان کی غیر سنجیدگی اور بےعقلی کی انتہا یہ مطالبہ ہے کہ ہم رسولوں کو مان تو لیں مگر اس کی شرط یہ ہے کہ یا تو فرشتے خود آکر ہمیں بتائیں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں۔ یا خود اللہ تعالیٰ ہی آکر اس کی تصدیق کردیں تو ہم ماننے کے لئے تیار ہیں فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے یعنی وہ اپنے تکبر ‘ غرور اور بڑائی میں اس قدر ڈوب چکی ہیں کہ انہیں یہ بھی یاد نہیں رہا کہ جب اللہ کے فرشتے اور خود اللہ رب العالمین ان کے سامنے ہوں گے تو ان مجرمین کے لئے وہ کوئی خوش خبری کا دن نہ ہوگا بلکہ ان کو جب سامنے سے آتا ہوا عذاب اور اس کی ہولناکی نظر آئے گی تو وہ چلا اٹھیں گے کہ اے ہمارے رب ہم سے خطا ہوگئی ہے اور وہ چلا چلا کر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے اور اس کے درمیان کوئی پناہ کی جگہ بنادیجئے جس میں ہم چھپ سکیں۔ لیکن اس دن یہ حال ہوگا۔ کہ لوگوں کے اعمال بھی اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور اہل جنت بہترین ٹھکانوں اور آرام گاہوں میں عیش و آرام کررہے ہوں گے۔ اس دن آسمان پھٹ کر ایک رقیق بادل کی شکل اختیار کرلے گا۔ جس کے چاروں طرف فرشتے ہوں گے۔ یہ بادل ایک سائے کی طرح آسمان سے آئے گا جس میں اللہ کی تجلیات ہوں گی۔ میدان حشر قائم ہوگا۔ اور ہر شخص کو اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب دینا ہوگا ۔ اس وقت کفارومشرکین اور گناہ گاروں کی ساری خوش گمانیاں دور جائیں گی اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ حقیقی بادشاہت و سلطنت صرف اللہ کی ہے۔ یہ دن ظالموں کے لئے بڑا بھاری دن ہوگا۔ جب یہ لوگ رنج و غم میں اپنے ہاتھوں تک کو چبا ڈالیں گے ان کی زبان پر صرف یہی ہوگا کہ کاش ہم نے رسول کی اطاعت و فرماں برداری کا اقرار کرلیا ہوتا اور ان لوگوں کا کہا نہ مانا ہوتا جنہوں نے دوست بن کر ہمیں تباہ وبرباد کردیا کاش ہم ایسے لوگوں کو اپنا دوست نہ بناتے جنہوں نے ایک سیدھے راستے کی ہدایت آجانے کے بعد ہمیں راہ مستقیم سے بھٹکادیا اور یہ سب کچھ اس دغا باز شیطان کا کام ہے جو لوگوں کو صراط مستقیم سے ڈگمگا دیتا ہے۔
Ayahs 25:30–34

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور رسول ﷺ کہیں گے کہ اے میرے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو بالکل چھوڑ دیا تھا۔

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ہم اس طرح گناہ گاروں میں سے ہر نبی کے دشمن بناتے رہے ہیں۔ اور آپ کا پروردگار ہدایت دینے اور مدد کرنے کے لئے کافی ہے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور کافروں نے کہا کہ اس قرآن کو اس پر ایک ہی مرتبہ نازل کیوں نہیں کیا گیا۔ اللہ نے فرمایا یہ اس لئے ہے تاکہ ہم اس قرآن کے ذریعے آپ کے دل کو قوی رکھیں اور ہم نے اس قرآن کو آہستہ آہستہ پڑھ کر سنایا ہے۔

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

یہ کفار آپ سے کیسے ہی انوکھے اور عجیب سوال کریں ۔ ہم اس کا ٹھیک اور بہتر جواب دے ہی دیتے ہیں۔

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے چہروں کے بل جہنم میں گھسیٹے جائیں گے ان کا ٹھکانا بھی برا ہے اور یہ راستے سے بھی بھٹکے ہوئے ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 30 تا 34 : (مھجور) چھوڑا ہوا۔ چھوڑا گیا ‘(عدو) دشمن ‘(ھادی) ہدایت دینے والا۔ راستے دکھانے والا ‘(نصیر) مدد کرنیوالا ‘(نزل ) اتارا گیا ‘(جملۃ واحدۃ) ایک ہی مرتبہ ‘(نثبت) ہم مضبوط کریں گے ‘(فئواد) دل ‘ (رتلنا) ہم نے آہستہ پڑھا ‘(احسن) بہترین ‘۔ تشریح : آیت نمبر 30 تا 34 : جب کوئی قوم علم و عمل سے دور اور جہالت سے قریب ہوتی ہے تو ان میں ایک خاص ٹیڑھے پن کا مزاج پیدا ہوجاتا ہے اور وہ سوائے بےتکی بحثوں ‘ کٹ حجتیوں ‘ ضد ‘ بےفائدہ سوالات اور بےعملی کے کچھ بھی نہیں کرتے۔ ان کو سچائی اور بھلی بات سے نفرت اور ہر جہالت سے خاص دلی لگائوہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ ہر سچی بات کو لوگوں کی نظروں میں بےقیمت بنا دیا جائے اور ہر جھوٹی بات کو خوبصورت رنگ دے کر لوگوں کی نگاہوں میں با عظمت بنا دیا جائے۔ چنانچہ جب نبی کریم ﷺ نے کفار مکہ کے سامنے قرآن کریم کی سچی اور حقیقی تعلیم کو پہنچانے کی جدوجہد فرمائی تو جہالت میں ڈوبے ہوئے عرب معاشرہ میں ہر ایک کی ایک ہی کوشش رہتی تھی کہ نبی کریم ﷺ کی ذات مبارکہ اور قرآن کریم کی سچائیوں کو بےقیمت بنادیا جائے اور اتنے بےت کے اعتراضات اور الزامات کی بوچھاڑ کردی جائے اور ایسے ایسے سوالات کئے جائیں کہ لوگ سوچنے پر مجبور ہوجائیں کہ ان سچائیوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ آپ نیگذشتہ آیات میں پڑھ لیا ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کو جادو گر ‘ مجنون ‘ کاہن ‘ کسی جادو کے زیر اثر اور بہکا ہوا انسان ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ آپ کی لائی ہوئی تعلیمات کو لوگوں کی نظروں سے گرانے کے لیے کہتے تھے کہ یہ قرآن کیا ہے ؟ یہ تو ہمارے گذرے ہوئے بزرگوں کے قصے کہانیاں ہیں جن کو اللہ کا کلام کہہ کر پیش کردیا جاتا ہے اور نعوذ باللہ اس کلام کو آپ خود ہی گھڑ کر پیش کردیتے ہیں۔ جو نبی گذرے ہیں ان پر چند روز میں پوری پوری کتابیں نازل کی گئی تھیں یہ کیسا قرآن ہے کہ تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا جارہا ہے۔ اور مکمل ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کے بےت کے سوالات اور باتوں کا بھر پورجواب دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اے ہمارے پیارے حبیب ﷺ آپ ان کی باتوں کی پروانہ کیجئے کیونکہ یہ لوگ اس سے زیادہ نہ سوچ سکتے ہیں اور نہ کرسکتے ہیں۔ آپ اللہ کے دین کو پہنچانے کی کوشش اور جدوجہد کرتے رہیے۔ اس طرح کی باتیں ہر اس شخص کے ساتھ پیش آتی ہیں جو حق و صداقت کے راستے پر چلتا ہے۔ چنانچہ جب بھی اللہ کے نبی اور رسول آئے ہیں ان پر ان کی قوم کے جاہلوں اور مفاد پرستوں نے اسی طرح کے اعتراضات کئے ہیں اور نبی کی دشمنی میں بہت آگے تک جاپہنچے تھے۔ کفار کے اس اعتراض کا جواب کہ قرآن ایک دم نازل کیوں نہیں کیا گیا فرمایا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ کا دل قوی اور مضبوط رہے یعنی ہر شخص کے دل میں اس قرآن کی سچائی کو اتار دیا جائے۔ ہر شخص اسکو پڑھ کر ‘ سمجھ کر اور عمل کر کی نہایت مضبوطی اور اخلاص سے اس کو اپنے دل میں جمالے اور یاد کر دلے۔ اگر ذرا بھی غر کیا جائے تو یہ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ آپ پہل جتنی کتابیں نازل کی گئی ہیں وہ وقتی طور پر ہدایت و رہنمائی کیلئے اتاری گئی تھیں۔ صحابہ کرام ؓ ان کو یاد کرلیا کرتے تھے ‘ ان کو سمجھ کر عمل کر کے اپنے دل کا نور بنا لیا کرتے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن کریم آیات کے لاکھوں حافظ پیدا ہوگئے۔ اور جہری نمازوں میں پڑھے جانے سے اور بھی قرآن کریم کا ورد جاری ہوگیا اور قرآن کریم کی ہر آیت عمل میں ڈل کر آسان ہوگئی۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جو نبی کریم ﷺ اور قرآنی تعلیمات سے دشمنی کا انداز اختیار کئے ہوئے تھے فرمایا گیا کہ ان کا انجام بہت بھیانک ہے کیونکہ جب قیامت کی دن ایسے لوگوں کو چہروں کے بل گھسیٹ کر جہنم میں جھونکا جائے گا تو اس وقت ان کو معلوم ہوگا۔ کہ انہوں نے وقتی فائدوں کے پیچھے پڑ کر اپنے لئے آخرت میں کس قدر برا اور گھٹیامقام بنایا ہے۔ لیکن اس وقت شرمندہ ہونے سے ان کو کوئی فائدہ نہ پہنچے گا۔ نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں یہ شکوہ کریں گے الہی ! جب میں نے اپنی قوم کو سچائی پر لانا چاہا تو انہوں نے اس کو ماننے اور اس پر عمل کرنے سے صاف انکار کردیا اور قرآنی تعلیمات کیا نکار نے انہیں حقیقت سے بہت دور کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان کی پروانہ کیجئے کیونکہ اللہ نے ہر نبی کے دشمن پیداکئے ہیں لیکن جن لوگوں نے بھی اسلام دشمنی میں ان شیطانوں کی پیروی کی ہے ان کی آخرت برباد ہو کر رہی۔ ان ہی باتوں کو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ عرض کریں گے الہی ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا تھا یعنی میں نے آپ کا کلام ان تک پہنچانے کی جدوجہد کی مگر انہوں نے اس پر عمل کرنے سے صاف انکار کردیا اور دشمنی میں بہت آگے نکل گئے تھے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ اس سے نہ گھبرائیں کیونکہ اس طرح کے گناہ گاروں نے ہمیشہ دین اسلام اور نبیوں کی اسی طرح دشمنی کی ہے لیکن اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو ہدایت دینا چاہتا ہے اور جو لوگ چاہتے ہیں کہ وہ سچائی کے راستے پر چلیں اور ہدایت حاصل کریں اللہ تعالیٰ ان کو توفیق ضرور عطا فرماتا ہے۔ اور ان کفار کا یہ کہنا کہ ہم نے اس قرآن کو ایک دم کیوں نازل نہیں کیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ وحی کا یہ سلسلہ جتنے عرصے بھی قائم رہے گا اس سے آپ کے دل کو قوت و طاقت ملتی رہے گی کیونکہ کفار اسلام دشمنی میں جتنے آگے جاتے رہیں گے اللہ ان کی بروقت گرفت کرسکے گا اور اس طرح آہستہ آہستہ قرآن کے اترنے سے آپ کی ڈھارس بھی بند رہے گی۔ آپ ان کفار کو اعتراضات کرنے دیجئے ہم ان کے ہر اعتراض کا جواب دیتے رہیں گے۔ فرمایا کہ ان لوگوں کو اپنا برا انجام سامنے رکھنا چاہیے۔ جب قیامت کے دن فرشتے ان کفار اور اسلام دشمنوں کو چہروں کے بل گسیٹ گھسیٹ کر جہنم میں ڈالیں گے تو ان کو اندازہ ہوجائے گا کہ انہوں نے اپنے لئے کتنے برے ٹھکانے کا انتخاب کیا تھا اور راستے سے بھٹکنے کا برانجام کتنا بھیانک ہے۔