25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 25:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

وہ (خدائے عزوجل) بہت ہی بابرکت ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ اہل عالم کو ہدایت کرے

(1) بڑی برکتوں والی یا یہ کہ بڑی عالی شان شریک اور اولاد سے پاک ذات ہے جس نے قرآن کریم بذریعہ جبریل امین ؑ رسول اکرم ﷺ پر نازل فرمایا تاکہ آپ بذریعہ قرآن کریم تمام جن وانس کو عذاب الہی سے ڈرانے والے رسول ہوں۔
Ayah 25:2

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

وہی کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور جس نے (کسی کو) بیٹا نہیں بنایا جس کا بادشاہی میں کوئی شریک نہیں اور جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کا ایک اندازہ ٹھہرایا

(2) وہ ایسی ذات ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمین یعنی نظام بارش ونباتات وغیرہ کی حکومت حاصل ہے اور بقول یہود و نصاری کے اس نے کسی کو اولاد قرار نہیں دیا اور نہ کوئی اس کا شریک ہے حکومت میں جیسا کہ مشرکین عرب بکتے رہتے ہیں اور اس نے ہر موجود چیز کو پیدا کیا خواہ وہ شے موجود اس کی عابد ہو یا نہ ہو اور پھر سب کی عمریں رزق اور اعمال کا الگ الگ انداز رکھا یا یہ کہ ہر ایک نر کے لیے مادہ بنائی۔
Ayah 25:3

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور (لوگوں نے) اس کے سوا اور معبود بنا لئے ہیں جو کوئی چیز بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کئے گئے ہیں اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے اور نہ جینا اور نہ مر کر اٹھ کھڑے ہونا

(3) مگر ان کفار مکہ یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے اللہ کو چھوڑ کر ایسے معبودوں کی پرستش شروع کردی ہے کہ ان میں اتنی بھی طاقت نہیں کہ وہ کسی چیز کو پیدا کرسکیں بلکہ وہ تو خود مخلوق ان بتوں کے بچاریوں نے انکو خود اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے اور یہ بت خود اپنے لیے نہ کسی نقصان کے رفع کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ فائدہ حاصل کرنے کا تو پھر دوسروں کا کیا کام کرسکتے ہیں اور نہ کسی کے مارنے پر ان کو قدرت ہے اور نہ کسی کی زندگی میں اضافہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں یا یہ کہ نہ یہ نطفہ پیدا کرنے اک اختیار رکھتے ہیں اور نہ اس میں روح ڈالنے کا اور نہ کسی کو مرنے کے بعد جلانے کا اختیار رکھتے ہیں۔
Ayahs 25:4–5

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) من گھڑت باتیں ہیں جو اس (مدعی رسالت) نے بنا لی ہیں اور لوگوں نے اس میں اس کی مدد کی ہے یہ لوگ (ایسا کہنے سے) ظلم اور جھوٹ پر (اتر) آئے ہیں

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جس کو اس نے لکھ رکھا ہے اور وہ صبح و شام اس کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں

(4) اور کفار مکہ یوں کہتے ہیں کہ یہ قرآن کریم کچھ بھی نہیں محض جھوٹ ہے جس کو رسول اکرم ﷺ نے گھڑ لیا ہے اور جبر ویسار اور ابو فکیہ راوی نے اس چیز میں ان کی مدد کی ہے تو یہ لوگ بڑے ظلم اور جھوٹ کے مرتکب ہوئے۔
Ayah 25:6

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

کہہ دو کہ اس نے اس کو اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

(6) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ قرآن کریم ﷺ کو تو جبریل امین ؑ کے ذریعے اس ذات نے نازل کیا ہے جس کو ہر ایک پوشیدہ بات کی خواہ آسمانوں میں ہو یا زمین میں خبر ہے اور وہ توبہ کرنے والے کی مغفرت فرمانے والا اور جو توبہ پر مرے اس پر رحم کرنے والا ہے۔
Ayah 25:7

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ کیسا پیغمبر ہے کہ کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اس پر کیوں نازل نہیں کیا گیا اس کے پاس کوئی فرشتہ کہ اسکے ساتھ ہدایت کرنے کو رہتا ؟

(7) اور ابوجہل، نضر اور امیہ بن خلف اور ان کے ساتھی یوں کہتے ہیں کہ اس رسول کو کیا ہوا کہ وہ ہماری طرح کھانا کھاتا ہے اور ہماری طرح بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا جو اس کا مددگار اور محافظ رہتا۔
Ayah 25:8

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا اس کی طرف (آسمان سے) خزانہ اتارا جاتا یا اس کا کوئی باغ ہوتا کہ اس میں سے کھایا کرتا اور ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک جادو زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو

(8) یا اس کو کوئی خزانہ حاصل ہوتا جس سے اس کو تقویت رہتی یا اس کے پاس کوئی باغ ہوتا جس سے یہ بےفکری کے ساتھ کھایا کرتا اور یہ مشرکین یعنی ابوجہل، نضر، امیہ اور ان کے ساتھی یوں کہتے ہیں کہ تم لوگ ایک مسلوب العقل آدمی یعنی رسول اکرم ﷺ کی راہ پر چل رہے ہو۔
Ayah 25:9

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ دیکھو تو یہ تمہارے بارے میں کس کس طرح باتیں کرتے ہیں سو گمراہ ہوگئے اور راستہ نہیں پاسکتے

(9) اے محمد ﷺ آپ دیکھیے تو کہ یہ لوگ آپ کے لیے کیسی عجیب عجیب باتیں بیان کررہے ہیں اور ساحر و کاہن جھوٹا شاعر اور مجنون کیا کیا یہ آپ کے نام رکھ رہے ہیں، باقی یہ لوگ خود گمراہ ہوگئے ہیں اور تمام ان کے مکر و فریب خاک میں مل گئے ہیں اور پھر یہ اپنی باتوں سے چھٹکارا نہیں پاسکتے اور نہ ان کے پاس اس بکواس کی کوئی دلیل ہے۔
Ayah 25:10

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

وہ (خدا) بہت بابرکت ہے جو اگر چاہے تو تمہارے لئے اس سے بہتر (چیزیں) بنا دے (یعنی) باغات جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں نیز تمہارے لئے محل بنا دے

(10) وہ ذات بڑی عالی شان ہے اس نے تو ان کفار کی فرمائش سے بھی اچھی چیز آپ کو دے دی، آخرت میں بہت سے باغات جن کے درختوں اور محلات کے نیچے سے دودھ، شہد، شراب اور پانی کی نہریں بہتی ہیں اور جنت میں آپ کے لیے اس نے سونے اور چاندی کے بہت سے محلات تیار کردیے جو ان کفار کی اس فرمایش سے کہیں زیادہ بہتر ہیں جو آپ کے لیے دنیا میں بقول ان کے بنائے جاتے اور یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو بقول ان کے آپ کے لیے دنیا میں بہت سے محلات اور باغات بنادے یعنی مشرق ومغرب میں آپ کے لیے بہت سے شہر اور قلعے فتح فرما دے جن سے یہ کفار رشک کریں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ تبرک الذی نزل الفرقان“۔ (الخ) ابن ابی شیبہ ؒ نے مصنف میں اور ابن جریر ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ نے خیثمہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ سے کہا گیا کہ اگر آپ چاہیں تو آپ کو زمین کے خزانوں کی کنجیاں اور اس کے خزانے دے دیے جائیں اور اس دینے سے آخرت میں آپ کے درجات میں ہمارے یہاں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں ہوگی اور اگر آپ فرمائیں تو یہ سب آخرت میں آپ کو دینے کے لیے جمع کر رکھیں آپ نے اس پر فرمایا آخرت میں مجھے دینے کے لیے جمع رکھیے چناچہ آیت اسی چیز کی تصدیق میں نازل ہوئی ہے (آیت) ”۔ تبرک الذی“۔ (الخ) وہ ذات بہت عالی شان ہے اگر وہ چاہے تو آپ کو اس سے بہتر چیز دے دے۔
Ayah 25:11

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

بلکہ یہ تو قیامت کو ہی جھٹلاتے ہیں اور ہم نے قیامت کے جھٹلانے والوں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے

(11) بلکہ یہ لوگ تو قیامت کے قائم ہونے کو جھوٹ سمجھ رہے ہیں اور ہم نے ایسے شخص کی سزا کے لیے جو قیامت کو جھوٹ سمجھے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے۔
Ayah 25:12

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

جس وقت وہ ان کو دور سے دیکھے گی (تو غضبناک ہو رہی ہوگی اور یہ) اسکے جوش (غضب) اور چیخنے چلانے کو سنیں گے

(12) اور جب وہ دوزخ ان کو پانچ سو سال کی مسافت سے دیکھے گی تو یہ لوگ دور ہی سے اس کا جوش و خروش سنیں گے یعنی وہ غصہ میں انسان کی طرح غضب ناک ہوگی اور گدھے کی طرح چیخے گی ،
Ayah 25:13

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب یہ دوزخ کی کسی تنگ جگہ میں (زنجیروں میں) جکڑ کر ڈالے جائیں گے تو وہاں موت کو پکاریں گے

(13) اور جب یہ لوگ اس دوزخ کی کسی تنگ جگہ میں شیاطین کے ساتھ ہاتھ پیر جکڑ کر ڈال دیے جائیں گے تو اس تنگ جگہ میں یہ موت ہی موت پکاریں گے۔
Ayah 25:14

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بہت سی موتوں کو پکارو

(14) اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ اپنی ان لامتناہی مصیبتوں کی وجہ سے ایک موت کو نہ پکارو بلکہ بہت ہی موتوں کو پکارو۔
Ayah 25:15

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

پوچھو کہ یہ بہتر ہے یا بہشت جاودانی جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ ہے ؟ یہ ان (کے عملوں) کا بدلہ اور رہنے کا ٹھکانا ہوگا

(15) اے محمد ﷺ آپ ان مکہ والوں یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں سے فرمائیے کیا یہ مصیبت وموت اور یہ دوزخ کی حالت اچھی ہے یا وہ ہمیشہ رہنے کی جنت اچھی ہے جس کا کفر وشرک اور برائیوں سے بچنے والوں یعنی رسول اکرم ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے کہ وہ ہمیشہ کی جنت ان کے لیے صلہ ہے اور ان کا آخرت میں ٹھکانا ہے۔
Ayah 25:16

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

وہاں جو چاہیں گے ان کے لئے میسر ہوگا ہمیشہ اس میں رہیں گے یہ وعدہ خدا کو (پورا کرنا) لازم ہے اور اس لائق ہے کہ مانگ لیا جائے

(16) ان کو جنت میں وہ سب چیزیں ملیں گی جو کچھ وہ چاہیں گے اور تمنا کریں گے اور وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں موت آئے گی اور نہ وہاں سے وہ نکالے جائیں گے، یہ ایک وعدے ہے جو آپ کے رب کے ذمہ ہے اور جس کی ان لوگوں نے درخواست کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کی درخواست پوری فرما دی ہے۔
Ayah 25:17

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور جس دن (خدا) ان کو اور ان کو جن ہیں یہ خدا کے سوا پوجتے ہیں جمع کرے گا تو فرمائے گا کیا تم میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود گمراہ ہوگئے تھے ؟

(17) اور قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان کافروں کو اور ان کے بتوں کو جمع کرے گا تو ان کے معبودوں سے فرمائے گا کیا تم نے ان کو میری اطاعت سے گمراہ کیا تھا اور اپنی اطاعت کا حکم دیا تھا یا خود ہی انہوں نے راہ حق کو چھوڑ دیا اور اپنی خواہشات کی وجہ سے تمہاری پرستش شروع کردی۔
Ayah 25:18

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

وہ کہیں گے تو پاک ہے ہمیں یہ بات شایاں نہ تھی کہ تیرے سوا اوروں کو دوست بناتے لیکن تو نے ہی ان کو اور ان کے باپ دادا کو برتنے کی نعمتیں دیں یہاں تک کہ وہ تیری یاد کو بھول گئے اور یہ ہلاک ہونے والے لوگ تھے

(18) تو ان کے معبود یعنی بت وغیرہ عرض کریں گے معاذ باللہ ہماری کیا مجال تھی کہ ہم اس کے سوا اور کارسازوں کو تجویز کریں یعنی وہ معبود کہیں گے کہ معاذ اللہ ہماری کیا مجال تھی کہ ہم آپ کے سوا اوروں کی عبادت کریں تو پھر ہماری کیسے جرأت ہوسکتی تھی کہ ہم ان بدبختوں کو اپنی عبادت کا حکم دیتے لیکن آپ نے ان کو اور ان سے قبل ان کے بڑوں کو حالت کفر میں بہت ڈھیل اور آسودگی دی یہاں تک کہ یہ لوگ توحید اور آپ کی اطاعت ہی کو بھلا بیٹھے تو یہ لوگ خود ہی تباہ اور برباد ہوئے۔
Ayah 25:19

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

تو (کافرو) انہوں نے تو تم کو تمہاری بات سے جھٹلا دیا پس (اب) تم (عذاب) نہ پھیر سکتے ہو (کسی سے) مدد لے سکتے ہو اور جو شخص تم میں سے ظلم کرے گا ہم کو اس کو بڑے عذاب کا مزہ چکھائیں گے

(19) اس وقت اللہ تعالیٰ ان غیر اللہ کے پجاریوں سے فرمائے گا سو تمہارے ان معبودوں نے تو تمہیں تمہاری سب باتوں میں جھوٹا ٹھہرا دیا سو تم اب ان فرشتوں یا بتوں کی گواہی کو اپنے سے نہ تو خود ٹال سکتے ہو یا یہ کہ اس دوزخ کے عذاب کو اپنے سے نہ تو خود ٹال سکتے ہو اور نہ کوئی تمہاری مدد کرسکتا ہے۔ اور اے گروہ مسلمین جو جو تم میں سے کفر کرے گا یا یہ کہ اے گروہ کفار جو جو تم میں سے کفر پر قائم رہے گا تو ہم اس کا دوزخ میں بڑ عذاب دیں گے۔
Ayah 25:20

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے ہیں سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تمہیں ایک دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے کیا تم صبر کرو گے ؟ اور تمہارا پروردگار تو دیکھنے والا ہے

(20) اب اللہ تعالیٰ کفار کی اس بات کا جواب دیتا ہے کہ اس رسول کو کیا ہوا کھاتا پیتا ہے الخ چناچہ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ ہم نے آپ سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے اور ہم نے ایک کو دوسرے کے لے آزمائش بنایا ہے یعنی عربی کو غیر عربی اور غنی کو فقیر اور شریف کو رذیل کے ذریعے آزماتے ہیں جب یہ بات معلوم ہوگئی تو ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے کہا کیا تم رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کے ساتھ صبر کرو گے تاکہ تم دین الہی اور حکم خداوندی کی اطاعت میں اس جماعت میں شامل ہوجاؤ اور ان لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے لگو باقی آپ کا پروردگار خوب دیکھ رہا ہے کہ یہ اس چیز پر صبر نہیں کریں گے یا آیت مبارکہ کا یہ مطلب ہے کہ اے صحابہ کرام ؓ کیا تم ان کفار کی تکالیف پر صبر کرو گے تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں وہ پورا پورا بدلہ دے جو صبر کرنے والوں کو ملتا ہے اور آپ کا پروردگار خوب دیکھ رہا ہے کہ ان کفار میں سے کون ایمان لاتا ہے اور کون ایمان نہیں لاتا۔ شان نزول : (آیت) ”۔ وماارسلنا قبلک من المرسلین“۔ (الخ) اور واحدی ؒ نے جبیر ؒ کے طریق سے بذریعہ ضحاک ؒ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جس وقت مشرکین نے رسول اکرم ﷺ کو روزی کی تلاش پر طعنہ دیا اور کہنے لگے کہ اس رسول کو کیا ہوا کہ ہماری طرح کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا بھی ہے تو یہ بات سن کر رسول اکرم ﷺ کو افسوس ہوا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی ہم نے آپ سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے، سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے بھی تھے اور ابن جریر ؒ نے بواسطہ سعید ؓ ، یا عکرمہ ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔
Ayah 25:21

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہ نازل کیے گئے یا ہم اپنی آنکھ سے اپنے پروردگار کو دیکھ لیں ؟ یہ اپنے خیال میں بڑائی رکھتے ہیں اور (اسی بنا پر) بڑے سرکش ہو رہے ہیں

(21) ابوجہل اور اس کے ساتھی جو بعث بعد الموت کا فکر نہیں کرتے وہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں بھیجے جاتے جو ہم سے آکر کہیں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں اور اس سے خود آپ کے بارے میں دریافت کرلیں یہ لوگ ایمان سے تکبر کر رہے ہیں اور اپنے دلوں میں خود کو بہت بڑا سمجھ رہے ہیں کہ اللہ کو دیکھنے کی درخواست کرتے ہیں اور ایمان سے بہت زیاد تکبر کر رہے ہیں یا یہ کہ بہت ہی دلیری اور بدتمیزی پہ اتر رہے ہیں کہ فرشتوں کے نزول کی خواہش کیے بیٹھے ہیں۔
Ayah 25:22

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن گنہگاروں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں ہوگی اور کہیں گے (خدا کرے تم) روک لیے (اور) بند کردیے جاؤ

(22) جس دن یہ لوگ مرنے کے وقت فرشتوں کو دیکھیں گے اور وہ قیامت کا دن ہے تو فرشتے ان سے کہیں گے آج مشرکین کو خوشی کی بات یعنی جنت نصیب نہ ہوگی اور عذاب کے فرشتوں کو دیکھ کر کفار کہیں گے پناہ ہے پناہ یا یہ مطلب ہے کہ فرشتے ان کافروں سے کہیں گے کہ کفار کے لیے قطعی طور پر جنت کی بشارت بھی حرام کردی گئی ،
Ayah 25:23

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور جو انہوں نے عمل کئے ہوں گے ہم ان کی طرف متوجہ ہوں گے تو انکو اڑتی خاک کردیں گے

(23) اور ہم اس روز ان کے ان نیک کاموں کی طرف جو کہ وہ دنیا میں کرچکے تھے متوجہ ہوں گے تو آخرت میں ان کو ایسا بےکار کردیں گے جیسا کہ جانوروں کے قدموں سے دھول اڑتی ہے یا یہ کہ ایسا کردیں گے جیسا کہ کسی کمرہ میں سوراخ میں سے دھوپ کی روشنی جاتی ہے اور اس روشنی میں غبار کی سی ایک لکیر نظر آتی ہے پر اس کو کوئی ہاتھ میں نہیں لے سکتا اسی طرح ان کے اعمال کو ختم کردیں گے۔
Ayah 25:24

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

اس دن اہل جنت کا ٹھکانا بھی بہتر ہوگا اور مقام استراحت بھی عمدہ ہوگا

(24) البتہ رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ قیامت کے دن ابو جہل وغیرہ سے قیام گاہ میں بھی اچھے ہوں گے اور آرام گاہ میں بھی بہت اچھے ہوں گے۔
Ayah 25:25

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اور جس دن آسمان ابر کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے نازل کئے جائیں گے

(25) اور نزول خداوندی کے لیے جس روز آسمان ایک بدلی پر سے پھٹ جائے گا اور فرشتے زمین پر ترتیب وار اتارے جائیں گے۔
Ayah 25:26

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

اس دن سچی بادشاہی خدا ہی کی ہوگی اور وہ دن کافروں پر (سخت) مشکل ہوگا

(26) اس روز حقیقی حکومت اور عادلانہ فیصلہ اللہ ہی کا ہوگا اور وہ دن کفار پر بہت ہی سخت ہوگا۔
Ayahs 25:27–28

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور جس دن (ناعاقبت اندیش) ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا (اور کہے گا) کہ اے کاش میں نے پیغمبر کے ساتھ رشتہ اختیار کیا ہوتا

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

ہائے شامت کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا

(27۔ 28) اور جس روز عقبہ بن ابی معیط کافر غایت و حسرت میں اپنے ہاتھ چبالے گا اور کہے گا کیا ہی اچھا ہوتا کہ میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ دین کی راہ پر لگ جاتا، ہائے میری شامت کیا اچھا ہوتا کہ میں دین کے بارے میں ابی بن خلف کو دوست نہ بناتا۔ شان نزول : (آیت) ”۔ ویوم یعض الظالم“۔ (الخ) اور ابن جریر ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ابی بن خلف رسول اکرم ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوا کرتا تھا تو اس کو عقبہ بن ابی معیط ڈانٹا کرتا تھا، اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی یعنی جس روز یہ کافر حسرت میں اپنے ہاتھ چبا لے گا، نیز اسی طرح شعبی ؒ اور مقسم ؒ سے روایت کی گئی ہے۔
Ayah 25:29

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

اس نے مجھ کو (کتاب) نصیحت کے میرے پاس آنے کے بعد بہکا دیا اور شیطان انسان کو وقت پر دغا دینے والا ہے

(29) اس کم بخت نے جب کہ رسول اکرم ﷺ توحید کا پیغام لے آئے تھے مجھ کو توحید اور اطاعت خداوندی سے بہکا دیا، اور شیطان تو انسان کو عین امداد کے وقت امداد دینے سے جواب دے کر رسوا کر ہی دیتا ہے۔
Ayah 25:30

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور پیغمبر کہیں گے کہ اے پروردگار ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا

(30) اس روز رسول اکرم ﷺ فرمائیں گے اے میرے پروردگار اس قوم نے اس قرآن کریم کو جو واجب العمل اور واجب الاعتقاد تھا، بالکل نظر انداز کر رکھا تھا کہ اس کی طرف التفات ہی نہیں کرتے تھے اس پر عمل تو درکنار۔
Ayah 25:31

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے گنہگاروں میں سے ہر پیغمبر کا دشمن بنادیا اور تمہارا پروردگار ہدایت دینے اور مدد کرنے کو کافی ہے

(31) اور ہم اسی طرح جیسا کہ ابوجہل آپ کا دشمن ہے مشرک لوگوں میں سے ہر نبی کے دشمن بناتے رہتے ہیں کہ آپ سے پہلے انبیاء کرام ؑ کی ان کی قوم دشمن رہی ہے اور آپ کا رب آپ کی حفاظت کرنے اور آپ کے دشمن کے مقابلہ میں آپ کی مدد کرنے کے لیے کافی ہے۔
Ayah 25:32

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ اس طرح آہستہ آہستہ اس لئے اتارا گیا کہ اس سے تمہارے دل کو قائم رکھیں اور اسی واسطے ہم اسکو ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے ہیں

(32) اور ابوجہل اور اس کے ساتھی کہتے ہیں کہ جیسا کہ توریت موسیٰ ؑ اور زبور داؤد ؑ پر اور انجیل عیسیٰ ؑ پر ایک ہی دفعہ نازل کی گئی ہے اسی طرح یہ قرآن کریم ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا اسی طرح بذریعہ جبریل امین ؑ تدریجا اس لیے نازل کیا ہے تاکہ اس کے ذریعے ہم آپ کے دل کو قوی رکھیں اور آپ کے دل میں اس کو محفوظ کردیں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ وقال الذین کفروا لوانزل“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ اور حاکم ؒ نے تصحیح کے ساتھ اور ضیاء نے مختارہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مشرکین کہنے لگے اگر محمد ﷺ اپنے دعوے کے مطابق نبی ہیں تو ان کا پروردگار ان کو عذاب نہیں دے گا باقی قرآن کریم ان پر ایک ہی بار کیوں نازل نہیں ہوتا، ایک ایک اور دو دو آیتیں کر کے کیوں نازل ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، یعنی کافر لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان پر یہ قرآن دفعتا کیوں نازل نہیں کیا گیا۔
Ayah 25:33

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور یہ لوگ تمہارے پاس جو (اعتراض کی) بات لاتے ہیں ہم تمہارے پاس اسکا معقول اور خوب مشرح جواب بھیج دیتے ہیں

(33) اور اسی لیے ہم نے اس کو بہت ٹھہر اٹھہرا کر ایک ایک آیت کرکے نازل کیا ہے اور اوامرو نواہی اس میں صاف طور پر بیان کیے ہیں اور یہ لوگ آپ کے سامنے کیسا بھی عجیب سوال پیش کریں مگر ہم اس کا ٹھیک اور ٹھوس اور وضاحت کے ساتھ جواب آپ کو عنایت کردیتے ہیں۔
Ayah 25:34

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

جو لوگ اپنے مونہوں کے بل دوزخ کی طرف جمع کیے جائیں گے ان کا ٹھکانا بھی برا ہے اور وہ راستے بھی بہکے ہوئے ہیں

(34) یہ ابوجہل اور اس کے ساتھی وہ لوگ ہیں جو قیامت کے دن اپنے مونہوں کے بل دوزخ میں ڈالے جائیں گے یہ لوگ آخرت میں جگہ کے اعتبار سے اور دنیا میں عمل کے اعتبار سے بھی بدتر اور حق وہدایت کے راستہ سے گمراہ ہیں۔
Ayah 25:35

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور ان کے بھائی ہارون کو مددگار بنا کر ان کے ساتھ کیا

(35) اور ہم نے موسیٰ ؑ کو توریت دی تھی اور ہم نے ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون ؑ کو معین و مددگار بنایا تھا۔
Ayah 25:36

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

اور کہا کہ دونوں ان لوگوں کے پاس جاؤ جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی (جب تکذیب پر اڑے رہے) تو ہم نے انکو ہلاک کر ڈالا

(36) پھر ہم نے ان دونوں کو حکم دیا کہ فرعون اور اس کی قبطی قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری نو نشانیوں کو جھٹلایا ہے مگر ان کے سمجھانے کے باوجود بھی وہ لوگ ایمان نہیں لائے نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان سب کو غرق کرکے بالکل ہی نیست ونابود کردیا۔
Ayah 25:37

وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ Open ayah 25:37 in the Quran reader

اور نوح کی قوم نے بھی جب پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے انھیں غرق کر ڈالا اور لوگوں کے لئے نشانی بنادیا اور ظالموں کے لئے ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

(37) اور قوم نوح ؑ کو بھی ہم ہلاک کرچکے ہیں جب انہوں نے حضرت نوح ؑ اور پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو طوفان سے غرق کردیا اور ہم نے ان کے واقعہ کو لوگوں کی عبرت کے لیے ایک نشان بنادیا تاکہ بعد میں آنے والے ان کی پیروی نہ کریں۔
Ayah 25:38

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا Open ayah 25:38 in the Quran reader

اور عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں اور ان کے درمیان اور بہت سی جماعتوں کو بھی (ہلاک کر ڈالا)

(38) اور ہم نے ان مشرکین بالخصوص مشرکین مکہ کے لیے دوزخ میں دردناک سزا تیار کر رکھی ہے۔
Ayah 25:39

وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا Open ayah 25:39 in the Quran reader

اور سب کے (سمجھانے کے لئے) ہم نے مثالیں بیان کیں اور (نہ ماننے پر) سب کا تہس نہس کردیا

(39) اور ہم نے قوم ہود ؑ قوم صالح ؑ اور قوم شعیب ؑ اور ان کے درمیان اور بہت سی امتوں کو ہلاک کیا ہے اور ان پہلی قوموں میں سے ہم نے ہر ایک قوم کو عذاب سے ڈرایا مگر اس کے باوجود وہ نہ مانے تو ہم نے ان سب کو یکے بعد دیگرے بالکل ہی تباہ کردیا۔
Ayah 25:40

وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا Open ayah 25:40 in the Quran reader

اور یہ کافر اس بستی پر بھی گزر چکے ہیں جس پر بری طرح مینہ برسایا گیا تھا کیا وہ اس کو دیکھتے نہ ہونگے ؟ بلکہ ان کو (مرنے کے بعد) جی اٹھنے کی امید ہی نہیں تھی

(40) اور یہ کفار مکہ اپنی آمد و رفت میں حضرت لوط ؑ کی بستی سے ہو کر گزرے ہیں جس پر بری طرح پتھر برسائے گئے تو اس بستی اور وہاں کے رہنے والوں کے ساتھ کیا کیا گیا ؟ کیا یہ لوگ اس کو دیکھتے نہیں رہتے کہ پھر بھی عبرت نہیں حاصل کرتے کہ آپ کو نہ جھٹلائیں، بلکہ اصل وجہ یہ ہے یہ ہے کہ یہ لوگ مر کر جی اٹھنے کا احتمال ہی نہیں رکھتے ،