Al-Furqaan 25:8

Al-Furqaan · from ayah 8

25:8

اَوْ یُلْقٰۤی اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا ؕ— وَقَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا ۟اَوۡ يُلۡقٰٓى اِلَيۡهِ كَنۡزٌ اَوۡ تَكُوۡنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاۡكُلُ مِنۡهَا‌ ؕ وَقَالَ الظّٰلِمُوۡنَ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًا

یا اس کی طرف (آسمان سے) خزانہ اتارا جاتا یا اس کا کوئی باغ ہوتا کہ اس میں کھایا کرتا۔ اور ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک جادو زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or [why is not] a treasure presented to him [from heaven], or does he [not] have a garden from which he eats?" And the wrongdoers say, "You follow not but a man affected by magic."

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:8

یا اور کچھ نہیں تو اِس کے لیے کوئی خزانہ ہی اتار دیا جاتا، یا اس کے پاس کوئی باغ ہی ہوتا جس سے یہ (اطمینان کی) روزی حاصل کرتا" اور ظالم کہتے ہیں "تم لوگ تو ایک سحر زدہ آدمی کے پیچھے لگ گئے ہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یا اس کی طرف (آسمان سے) خزانہ اتارا جاتا یا اس کا کوئی باغ ہوتا کہ اس میں کھایا کرتا۔ اور ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک جادو زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

یا اس کے پاس کوئی خزانہ ہی ڈال دیا جاتا یا اس کا کوئی باغ ہی ہوتا جس میں سے یہ کھاتا۔ اور ان ﻇالموں نے کہا کہ تم ایسے آدمی کے پیچھے ہو لئے ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یا اس کے اوپر کوئی خزانہ ہی آپڑتا، یا اس کے پاس کوئی باغ ہوتا جس میں سے یہ کھایا کرتا۔ اور یہ ظالم (مسلمانوں سے) کہتے ہیں کہ : تم جس کے پیچھے چل رہے ہو، وہ اور کچھ نہیں، بس ایک شخص ہے جس پر جادو ہوگیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یا غیب سے انہیں کوئی خزانہ مل جاتا یا ان کا کوئی باغ ہوتا جس میں سے کھاتے اور ظالم بولے تم تو پیروی نہیں کرتے مگر ایک ایسے مرد کی جس پر جادو ہوا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یا اس کی طرف کوئی خزانہ اتار دیا جاتا یا (کم از کم) اس کا کوئی باغ ہوتا جس (کی آمدنی) سے وہ کھایا کرتا اور ظالم لوگ (مسلمانوں) سے کہتے ہیں کہ تم تو محض ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کر رہے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا اس کی طرف کوئی خزانہ اتارا جاتا، یا اس کا کوئی باغ ہوتا جس سے وہ کھایا کرتا اور ظالموں نے کہا تم تو بس ایسے آدمی کی پیروی کر رہے ہو جس پر جادو کیا ہوا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس پر کوئی خزانہ ہی اتار دیا جاتا یا اس کا کوئی باغ ہی ہوتا، جس سے یہ (اطمینان کی) روزی کھا سکتا۔ اور ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک جادو شدہ آدمی کے پیچھے لگ گئے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یا اس کے لئے کوئی خزانہ اتارا جاتا یا اس کے لئے کوئی باغ ہوتا جس سے وہ اپنی معاش حاصل کرتا ! … اور ان ظالموں نے کہا کہ تم لوگ تو بس ایک سحر زدہ شخص کے پیچھے لگ لئے ہو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یا اس کے لیے غیب سے کوئی خزانہ آپڑتا، یا اس کے پاس کم از کم کوئی ایسا باغ ہوتا جس سے یہ خود کھایا پیا کرتا اور یہ ظالم تو مسلمانوں سے یہاں تک کہتے ہیں کہ تم لوگ تو بس جادو کے مارے ہوئے ایک شخص کے پیچھے چلتے ہو۔

— مولانا اسحاق مدنی

یا اس کے پاس کوئی خزانہ غیب سے آپڑتا یا اس کے پاس کوئی باغ ہوتا جس سے یہ کھاتا (پیتا)۔ اور (یہ) ظالم کہتے ہیں کہ تم لوگ تو بس ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کررہے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یا اتارا جاتا اس پر کوئی خزانہ یا اس کے لیے کوئی باغ ہوتا جس میں سے یہ کھاتا پیتا اور ان ظالموں نے تو یہ تک کہا کہ تم لوگ صرف ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کر رہے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یا اس کی طرف (آسمان سے) خزانہ اتارا جاتا ‘ یا اس کا کوئی باغ ہوتا کہ اس میں سے کھایا کرتا۔“ اور ظالم تو کہتے ہیں کہ تم جادو میں مبتلا ایک مرد کی پیروی کرتے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Or why has not at least a treasure been sent down for him or a garden given to him for (easy) sustenance?" And the wicked people say, "You are following a man bewitched."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Or a treasure should have been thrown down to him, or he should have a garden to eat from it? And the transgressors said (to the believers,) :You are following none but a bewitched man.

— Muhammad Taqi Usmani

Or a treasure should have been thrown down to him, or he should have a garden to eat from it? And the transgressors said (to the believers,) :You are following none but a bewitched man.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Or (why) has not a treasure been granted to him, or why has he not a garden whereof he may eat" And the wrongdoers say: "You follow none but a man bewitched."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or (why is not) treasure thrown down unto him, or why hath he not a paradise from whence to eat? And the evil-doers say: Ye are but following a man bewitched.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or [why is not] a treasure presented to him [from heaven], or does he [not] have a garden from which he eats?" And the wrongdoers say, "You follow not but a man affected by magic."

— Saheeh International

Why has a treasure not been laid out for him or a garden from which he could eat been given to him." The unjust ones say, "You are merely following a bewitched person".

— Muhammad Sarwar

Or (why is not) a treasure sent down to him, or he is made to have a garden from which he should eat? And the unjust say: You do not follow any but a man deprived of reason.

— Muhammad Habib Shakir

Or, whereforeis not there cast down unto him a treasure or he has a garden whereof he may eat! And the wrong-doeray: ye follow only a man bewitched.

— Abdul Majid Daryabadi

"Or (Why) has not a treasure been bestowed on him, or why has he (not) a garden for enjoyment?" The wicked say: "Ye follow none other than a man bewitched."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–14

مشرکین کی حماقتیں اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کی انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے ؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لئے آتا جاتا کیوں ہے ؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الہٰی سے آگاہ کرتا۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ آیت (فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاۗءَ مَعَهُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ 53؀) 43۔ الزخرف :53) ، اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے ؟ یا اس کی مدد کے لئے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ چونکہ دل ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 16 یہ گویا بدرجہ آخر ان کا مطالبہ تھا کہ اللہ میاں کم از کم اتنا تو کرتے کہ اپنے رسول کے لیے معاش کا کوئی اچھا انتظام کردیتے۔ یہ کیا ماجرا ہے کہ خدا کا رسول ہمارے معمولی رئیسوں سے بھی گیا گزرا ہو۔ نہ خرچ کے لیے مال میسر، نہ پھل کھانے کو کوئی باغ نصیب، اور دعویٰ یہ کہ ہم اللہ رب العالمین کے پیغمبر ہیں۔ سورة الْفُرْقَان 17 یعنی دیوانہ۔ اہل عرب کے نزدیک دیوانگی کے دو ہی وجوہ تھے۔ یا تو کسی پر جن کا سایہ ہوگیا ہو۔ یا کسی دشمن نے جادو کر کے پاگل بنادیا ہو۔ ایک تیسری وجہ ان کے نزدیک اور بھی تھی، اور وہ یہ کہ کسی دیوی، یا دیوتا کی شان میں آدمی کوئی گستاخی کر بیٹھا ہو اور اس کی مار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–8

معارف و مسائل کفار و مشرکین جو آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن پر اعتراضات کیا کرتے تھے یہاں سے ان کے اعتراضات اور پھر جوابات کا سلسلہ شروع ہو کر کچھ دور تک چلا ہے۔ پہلا اعتراض یہ تھا کہ قرآن کوئی اللہ کی طرف سے نازل کیا ہوا کلام نہیں بلکہ آپ نے اس کو خود ہی جھوٹ گھڑ لیا ہے یا پچھلے لوگوں کے قصے یہود و نصاری وغیرہ سے سن کر اپنے صحابہ سے لکھوا لیتے ہیں اور چونکہ خود امی ہیں، نہ لکھنا جانتے ہیں نہ پڑھنا اس لئے ان لکھے ہوئے قصوں کو صبح شام سنتے رہتے ہیں تاکہ وہ یاد ہوجاویں پھر لوگوں کے سامنے جا کر یہ کہہ دیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اس اعتراض کا جواب قرآن کریم نے یہ دیا قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِيْ يَعْلَمُ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 7–8

آیت 8-7 یہ مخالینر کے بعض اور اعترضا ات کا حوالہ دیا ہے۔ معترضین کے بعض اور اعتراضات رسول پر مال ھذا الرسول کے اسلوب میں استعجاب اور طنز و استہزا دونوں ہے۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ یہ خوب رسول ہیں کہ اللہ کے رسول ہونے کے مدعی ہیں اور حال یہ ہے کہ ہمارے ہی طرح یہ بھی کھانے پینے کے محتاج ہیں اور اپنی ضروریات و مایحتاج کی فراہمی کے لئے ہما شما کی طرح یہ بھی بازاروں میں پھرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر خدا کو کوئی رسول ہی بھیجنا ہوتا تو کیا ہمارے ہی جیسے ایک بشر کو رسول بناتا، آخر اس کے پاس فرشتوں کی ایک فوج ہے ان میں سے کسی کو اس نے رسول بنا کر کیوں نہ بھیجا۔ لولا انزل الیہ ملک فیکون معہ نذیراً یعنی اگر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8-1تاکہ طلب رزق سے بےنیاز ہو۔ 8-2تاکہ اس کی حیثیت تو ہم سے کچھ ممتاز ہوجاتی۔ 8-3یعنی جس کی عقل و فہم سحر زدہ ہے

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–11

2: یعنی یہ لوگ جو باتیں بنا رہے ہیں، ان کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ حق کے طلب گار ہیں، اور ان کے شبہات دور ہوجائیں تو یہ ایمان لے آئیں، بلکہ اصل وجہ ان کی بےفکری ہے، چونکہ ان کو قیامت اور آخرت پر ایمان نہیں ہے، اس لیے ان کو بےہودہ اعتراضات کرتے ہوئے کوئی خوف نہیں ہوتا کہ آخرت میں ان پر سزا بھی مل سکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–8

(وقالوا مال۔۔۔۔۔۔۔ قصورا) (7 تا 10) یہ کیسا رسول ہے جو کھاتا پیتا ‘ چلتا پھرتا انسان ہے اور تمام تصرفات و حرکات انسانوں جیسے کرتا ہے۔ یہ وہی گھسا پٹا اعتراض ہے جو لوگ ہمیشہ رسولوں پر کرتے چلے آئے ہیں کہ فلاں شخص نے رسول ہونے کا دعویٰ کردیا ہے۔ دیکھو بھائی فالاں کا بیٹا بھی اب رسول بن گیا۔ یہ تو ہم جیسا انسان ہے جس طرح ہم کھاتے پیتے ہیں اور چلتے پھرتے ہیں۔ یہ بھی ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ ہو اور اللہ کی طرف سے اس پر وحی آرہی ہو۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کا اتصال اور رابطہعالم بالا سے ہوجائے۔ اور یہ عالم بالا سے ہدایات لے رہا ہو۔ جبکہ وہ ہمارے جی اس گوشت و پوست کا بنا ہوا انسان ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی اگر فرشتوں کی فوج نہیں تو کم ازکم خدا کا ایک آدھ فرشتہ ان کو سچا ثابت کرنے اور رعب جمانے کے لیے ساتھ رہتا جسے دیکھ کر خواہ مخواہ لوگوں کو جھکنا پڑتا۔ یہ کیا کہ کس مپرسی کی حالت میں اکیلے دعویٰ کرتے پھر رہے ہیں۔ یا اگر فرشتے بھی ہمراہ نہ ہوں تو کم از کم آسمان سے سونے چاندی کا کوئی غیبی خزانہ مل جاتا کہ لوگوں کو بےدریغ مال خرچ کر کے ہی اپنی طرف کھینچ لیا کرتے۔ اور خیر یہ بھی نہ سہی معمولی رئیسوں اور زمینداروں کی طرح انگور کھجور وغیرہ کا ایک باغ تو ان کی ملک میں ہوتا جس سے دوسروں کو نہ دیتے تو کم ازکم خود بےفکری سے کھایا پیا کرتے جب اتنا بھی نہیں تو کس طرح یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ نے رسالت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8 اَوْ یُلْقٰٓی اِلَیْہِ کَنْزٌ اَوْ تَکُوْنُ لَہٗ جَنَّۃٌ یَّاْکُلُ مِنْہَا ط ” اور کچھ نہیں تو ان کے لیے زر و جواہر کا کوئی خزانہ ہی اتار دیا جاتا ‘ یا پھر معجزانہ طور پر اس ”وادئ غیر ذی زرع“ میں پھلوں سے لدا ہوا ایک باغ ہی ان کے لیے وجود میں آجاتا اور یہ اس باغ کے پھل کھاتے ہوئے ہمیں نظر آتے۔ اس باغ سے یہ بافراغت روزی حاصل کرتے۔ یہ مشرکین مکہ کا وہی اعتراض ہے جس کا ذکر اس سے پہلے سورة بنی اسرائیل میں بھی آچکا ہے۔ وَقَال الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا ” کہ یہ جو کہتے ہیں کہ مجھ پر فرشتہ نازل ہوتا ہے ان کے اس دعوے میں کوئی سچائی نہیں۔ یہ سب جادو اور آسیب کا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

12 یا اسے کم از کم فکر معاش سے تو آزاد ہونا چاہئے تھا۔ اگر کوئی رئیس اور خزانوں کا مالک ہوتا تو لوگ خود اس سے ملاقات کی آرزو کرتے پھر یہ جسے چاہتا اجازت دیتا ورنہ نہ دیتا اور ٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ رہتا اور خزانوں کا مالک نہیں تو کم از کم کسی باغ کا ہی مالک ہوتا جس سے اس کی گزر بسر ہوتی رہتی۔ 13 جادو شدہ آدمی سے مراد دیوانہ آدمی ہے۔ عرب میں دیوانگی کی تین وجوہ سمجھی جاتی تھیں۔ ایک یہ کہ کسی شخص پر کسی جن بھوت کا سایہ پڑگیا ہو۔ دوسرے یہ کہ کسی معبود، کسی بت، کسی دیوی دیوتا یا ان کے کسی بزرگ کی شان میں گستاخی کی گئی ہو اور اس کی مار پڑگئی ہو اور تیسرے یہ کہ کسی جادوگر نے اس پر جادو کردیا ہو۔ کفار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 7–8

8۔ (اور اس کو فکر معاش سے غیبی طور پر فارغ البالی حاصل رہتی) جاہلی قوموں کے احولی اعتراضات نقل ہورہے ہیں، وحی ونبوت کا مسئلہ اصلا ہی ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ وہی دیوی دیوتا والا، اوتار والا عقیدہ دلوں میں جما ہوا تھا۔ خدا خود تو دنیا میں آسکتا ہے۔ کسی انسان بلکہ حیوان کے قالب میں آسکتا ہے۔ لیکن کسی بشر کو اپنا نائب، اپنا سفیر، اپنا پیامبر بنانا کیا معنی ؟۔ وہی بنیادی گمراہی جو جاہلی قوموں میں آج تک چلی آرہی ہے۔ (آیت) ” یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق “۔ یعنی کھانے پینے، چلنے پھرنے، خرید وفروخت کی ضرورتیں پوری کرنے میں یہ تو بالکل عام انسانوں کی طرح ہیں۔ انہیں پیغمبر کیسے مان لیا جائے ؟۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان اور نہایت رحم والا ہے، برکت والی برتر ہے وہ ذات جس نے فرقان یعنی قرآن اپنے بندے محمد ﷺ پر نازل کیا قرآن کو فرقان اس لئے کہا گیا ہے کہ اس نے حق و باطل کے درمیان فرق کردیا، تاکہ عالم والوں یعنی انسانوں اور جنوں کے لئے نہ کہ فرشتوں کے لئے ڈرانے والا ہو یعنی اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا ہو ایسی ذات کہ اس کے لئے آسمانوں اور زمین کی حکومت حاصل ہے اور اس نے کسی کو اولاد قرار نہیں دیا اور نہ ملک میں اس کا کوئی شریک ہے اور اس نے ہر اس شئ کو پیدا کیا جس کی شان مخلوق ہونا ہے پھر اس کو اچھی طرح درست کیا اور کفار نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

او یلقی الیہ کنز او تکون لہ جنۃ یا کل منہا یا (آسمان سے) اس کی طرف کوئی خزانہ ڈال دیا جاتا (کہ وہ خرچ کرتا رہتا اور معاش کی طلب میں بازاروں میں گھومنے پھرنے کا محتاج نہ رہتا) یا اس کا کوئی باغ ہی ہوتا جس کے پھل وہ کھالیا کرتا (اور روزی پیدا کرنے کا ضرورت مند نہ رہتا) ۔ مذکورہ بالا عبارت میں کافروں نے تین اقوال کا ذکر کیا اور تنزلی ترتیب کے ساتھ کیا۔ اوّل یہ کہ رسول فرشتہ کیوں نہیں۔ دوسری بات یہ کہ اگر وہ فرشتہ نہیں بھی ہوتا تو کم از کم کوئی فرشتہ تصدیق کرنے والا اس کے ساتھ ہوتا ‘ تیسرے یہ کہ اگر ایسا بھی نہیں ہوا تو کم از کم اس کی روزی کا کوئی انتظام ہی ہوتا۔ (جس کی دو صورتیں تھی ‘ ایک غیبی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(8) یا اس کو کوئی خزانہ حاصل ہوتا جس سے اس کو تقویت رہتی یا اس کے پاس کوئی باغ ہوتا جس سے یہ بےفکری کے ساتھ کھایا کرتا اور یہ مشرکین یعنی ابوجہل، نضر، امیہ اور ان کے ساتھی یوں کہتے ہیں کہ تم لوگ ایک مسلوب العقل آدمی یعنی رسول اکرم ﷺ کی راہ پر چل رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَوْ يُلْقٰٓى اِلَيْهِ كَنْزٌ : یا اس کی طرف کوئی خزانہ اتارا جاتا جس سے اس کی شان کم از کم قیصر و کسریٰ کی سی تو ہوتی۔ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاْكُلُ مِنْهَا : یا خزانہ نہ سہی، کم از کم اس کا کوئی باغ ہوتا، تاکہ اس باغ سے اطمینان کی روزی حاصل کرتا اور روزی کمانے کے لیے بازاروں کے چکر لگانے سے بچ جاتا۔ کفار کے اس طرح کے مطالبات کی اس سے بھی لمبی فہرست سورة بنی اسرائیل (90 تا 93) میں بیان ہوئی ہے۔ وَقَال الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا : یہی بات فرعون نے موسیٰ ؑ سے کہی تھی۔ دیکھیے بنی اسرائیل (101)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 7–8

(وقالو مال ھذا۔۔۔۔۔۔ 7۔ 8) وقالو مال ھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسقواق اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 :۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : وقالو ان کے طعنوں میں سے ایک اور چیز کا ذکر کیا۔ قالوا میں ضمیر قریش کے لیے ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مشہور ملاقات ہوئی۔ سورة اسراء میں یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن اسحاق نے سیرت میں اور دوسرے علمائنے ذکر کیا ہے : اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کے سردار عتبہ بن ربیعہ وغیرہ رسول اللہ ﷺ کو ملے اور عرض کیا : اے محمد ﷺ ! اگر تو سرداری کو پسند کرتا ہے تو ہم تجھے اپنے اوپر حاکم بنا دیتے ہیں، اگر تو مال سے محبت کرتا ہے تو ہم اپنے اموال میں سے آپ کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ تبارک تفاعل کے وزن پر ہے برکت سے۔ 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ آیت تبرک الذی نزل الفرقان علی عبدہ سے مراد یہ قرآن ہے جس میں اللہ کی حلال کردہ اور اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور اس کے شرائع اور دین کے احکام ہیں اللہ تعالیٰ نے فرق کردیا ہے حق اور باطل کے درمیان آیت لیکون للعالمین نذیرا یعنی اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا اللہ تعالیٰ سے ڈرانے والا بنا کر تاکہ وہ لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں اور ان واقعات سے ڈرائیں جو پہلی قوموں میں ہوئے آیت وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا اور اپنی مخلوق کی ہر چیز کے لیے اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَوْ يُلْقٰٓى [ یا ڈالا جاتا ] اِلَيْهِ [ اس کی طرف ] كَنْزٌ [ کوئی خزانہ ] اَوْ تَكُوْنُ [ یا ہوتا ] لَهٗ [ اس کے لئے ] جَنَّةٌ [ کوئی باغ ] يَّاْكُلُ [ وہ کھاتا ] مِنْهَا ۭ [ اس میں سے ] وَقَالَ الظّٰلِمُوْنَ [ اور ظالموں نے کہا ] اِنْ تَتَّبِعُوْنَ [ تم لوگ پیروی نہیں کرتے ] اِلَّا [ مگر ] رَجُلًا مَّسْحُوْرًا [ ایک جادو کئے ہوئے شخص کی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

دوم (اَوْ یُلْقَی اِِلَیْہِ کَنزٌ) (یا اس کی طرف کوئی خزانہ ڈال دیا جاتا) سوم (اَوْ تَکُوْنُ لَہٗ جَنَّۃٌ یَاْکُلُ مِنْہَا) (یا اس کے لیے کوئی باغ ہوتا جس میں سے کھتا پیتا) انہوں نے جو یوں کہا تھا کہ رسول میں کوئی امتیازی شان ہوئی چاہئے اس امتیازی شان کو انہوں نے خود ہی تجویز کیا کہ ان کے ساتھ کوئی فرشتہ ہوتا جو کار رسالت میں ان کا شریک ہوتا یا ان کے پاس خزانہ ہوتا یا ان کا کوئی باغ ہوتا جب ان میں سے کوئی چیز نہیں تو ہم اور یہ برابر ہوئے پھر اس کے دعوائے رسالت کو کیسے مان لیں ان باتوں کے ساتھ انہوں نے ایک اور ظلم کردیا اور اہل ایمان سے یوں کہہ دیا کہ (اِنْ تَتَّبِعُوْنَ الاَّ رَجُلاً…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–10

منکرین نبوت کا تیسرا شبہ اور اس کا جواب قال اللہ تعالیٰ وقالوا مال ھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق۔۔۔ الی۔۔۔ ویجعل لک قصورا۔ (ربط) منکرین نبوت کا یہ تیسرا شبہ ہے۔ منکرین نبوت یہ کہتے ہیں کہ یہ مدعی نبوت پانچ صفتوں کے ساتھ موصوف ہے اور یہ پانچوں صفتیں نبوت کے منافی ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ شخص ہماری طرح کھانا کھاتا ہے۔ دوم یہ کہ یہ شخص ہماری طرح بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، پھر اس کو کیا فضیلت اور برتری کہ یہ ہمارا نبی بنے۔ سوم یہ کہ آپ ﷺ کے ہمراہ خدا کا کوئی فرشتہ نہیں جو لوگوں کو آپ ﷺ سے ڈرائے۔ چہارم یہ کہ آپ کے پاس آسمان سے کوئی خزانہ نہیں اترتا۔ جسے آپ لوگوں پر بےدریغ خرچ کر کے لوگوں کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–9

9:۔ ” او یلقی الخ “ یہ مشرکین پر چھٹا شکوی ہے اگر یہ واقعی اللہ کا رسول ہوتا تو اس کے پاس آسمانوں سے دولت کا خزانہ نازل کیا جاتا تاکہ وہ کسب معاش کا محتاج نہ رہتا یا اس کا کوئی باغ ہی ہوتا جس پر وہ باعزشت طور سے گذر بسر کرتا۔ ” وقال الظلمون الخ “ یہ مذکورہ تینوں شکو وں سے متعلق ہے یعنی یہ معاندین اور، بےانصاف لوگ محض ازراہ عناد و مکابرہ کہتے ہیں کہ تم جس شخص کو پیغمبر مان کر اس کی پیروی کر رہے ہو وہ تو آسیب زدہ ہے اور (عیاذا باللہ) اس کی عقل ٹھکانے نہیں۔ ” انظر کیف ضربوا الخ “ یہ مشرکین پر زجر ہے۔ یہ ظالم محض ضد وعناد سے آپ کے لیے کیسی کیسی مثالیں بیان کرتے ہیں وہ ضد اور ہٹ کی وجہ سے راہ راست…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 4–9

ربط آیات برکات دینے والی ذات اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو نازل فرمایا ہے جو کہ ایک فیصلہ کن کتاب ہے۔ اس کے نزول کی غایت یہ ہے کہ اللہ کا کامل ترین بندہ اور اس کا آخری رسول اس کتاب کے ذریعے لوگوں کو ڈرانے والا بن جائے۔ گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی آسمان و زمین پر محیط سلطنت کا ذکر بھی ہو۔ اللہ نے مشرکین کا شکوہ بیان کیا کہ وہ اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بناتے ہیں ۔ حالانکہ وہ بےاختیار ہیں ، نہ تو وہ کوئی چیز تخلیق کرسکتے ہیں اور نہ نفع نقصان کے مالک ہیں ، یہ کس قدر ظلم و زیادتی کی بات ہے۔ قرآن پاک پر اعتراض سورۃ کے اس ابتدائی تمہیدی بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَوْ يُلْقٰٓى اِلَيْہِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَہٗ جَنَّۃٌ يَّاْكُلُ مِنْہَا۝ 0ۭ وَقَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا۝ 8 لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–10

ترکیب : افتریٰ کا فاعل ضمیر جو عبد کی طرف راجع ضمیر فرقان کی طرف راجع اعانہ کی عید کی طرف علیہ کی ضمیر افترا کی طرف قوم اخرون اعان کا فاعل ظلما و زورا مفعول جاؤ کا یا مصدر موضع حال میں ان شاء شرط جعل جو ابہ وھولکو نہ ماضیایجوزان یکون فی محل الرفع والجزم فما عطف علیہ یجوزان یکون مرفوعا اومجز و ماکما قرء الجمہور۔ تفسیر : ان آیات میں ان کے اور چند شبہات کا جواب ہے جو رسالت کی بابت تھے کہ محمد ﷺ نے قرآن کو ازخود بنا لیا ہے اور دیگر لوگ (جس سے ان کا اشارہ اہل کتاب کی طرف تھا) اس کے اس کام میں مددگار بن گئے ہیں۔ وہی لوگ انبیائِ سابقین کے حالات اور ان کی شریعتوں کے احکام اس کو بتاتے ہیں۔ یہ اپنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 7–8

وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَاالرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ ط لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَلَکٌ فَیَکُوْنَ مَعَہٗ نَذِیْرًا۔ اَوْیُلْقٰٓی اِلَیْہِ کَنْزٌ اَوْتَـکُوْنُ لَـہٗ جَنَّـۃٌ یَّاکُلُ مِنْھَا ط وَقَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلاَّ رَجُلاً مَّسْحُوْرًا۔ (الفرقان : 7، 8) (اور وہ کہتے ہیں کہ کیا ہے اس رسول کو جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ ایسا کیوں نہ ہوا کہ اتارا جاتا اس کی طرف کوئی فرشتہ اور وہ اس کے ساتھ مل کر لوگوں کو ڈراتا۔ یا اس کے لیے کوئی خزانہ اتارا جاتا، یا اس کے لیے کوئی باغ ہوتا جس سے وہ اپنی معاش حاصل کرتا اور ظالم کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–9

فہم القرآن ربط کلام : رسالت مآب ﷺ پر کفار کے مزید اعتراضات رسالت مآب ﷺ کے بارے میں کفار یہ بھی ہرزاسرائی کرتے کہ یہ تو مالی اعتبار سے غریب آدمی ہے اگر واقعی یہ اللہ کا منتخب اور پسندیدہ نبی ہوتا تو اس کے پاس مال و دولت کی فراوانی ہونا چاہیے تھی۔ نقدی ناسہی کم از کم اس کے پاس کوئی ایسا باغ ہوتا جس سے خود کھاتا اور اپنے بال بچوں کو کھلاتا۔ رسول معظم ﷺ کی غربت کا بہانہ بنا کر وہ لوگ آپ کی رسالت کا انکار کرتے تھے۔ قرآن مجید نے اس سوال کا جواب دینا اس لیے مناسب نہیں سمجھا کیونکہ دولت انسان کے شرف کا معیار نہیں ہے پھر کفار مسلمانوں کو یہ کہہ کر پھسلانے کی کوشش کرتے کہ یہ ایسا شخص ہے جس کو جادو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قراءت : حمزہ و علی نے تاکل پڑھا ہے۔ نحو : مضارع یلقی اور تکون کا انزل پر عطف بہت خوب ہے اگرچہ وہ ماضی ہے اور درمیان میں فیکونؔ مضارع ہے اور اس پر فائ اس لئے کہ وہ لولا کے جواب میں آئی ہے اور یہ قراءۃ مشہورہ کے مطابق منصوب ہے لولاؔ ھلا کے معنی میں ہے اور حکم استفہام والا ہے۔ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ (اور ظالموں نے کہا) ظالموں سے مراد خاص معینہ لوگ ہیں البتہ ضمیر کی جگہ ظاہر اسم لائے تاکہ ان کی بات کا ظالمانہ ہونا تحریر سے ثابت ہوجائے یہ لوگ کفار قریش ہی تھے۔ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا (تم نہیں اتباع کرتے مگر ایک سحر کئے ہوئے آدمی کی) اس کو سحر کیا گیا جس سے جنون ہوگیا۔ نمبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

8۔ اویلقی الیہ کنز، ، اور اس پر آسمان سے کوئی خزانہ نازل ہوتا تو یہ خرچ کرتا کسی تردد کا محتاج نہ ہوتا اور طلب معاش میں اس کو خرچ کرتا۔ ” او تکون لہ جنۃ ، اس کے پاس کچھ باغات ہوں۔ یا کل منھا، حمزہ اور کسائی نے ناکل، نون کے ساتھ پڑھا ہے اور ہم بھی اس کے ساتھ اس باغ سے کھاتے۔ وقال الظالمون ان تتبعون الارجلامسحورا، ، اس سے مراد فریب خوردہ ہوتا ہے اور بعض نے کہا کہ حق سے پھرنے والا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 7–9

7۔ 9:۔ تفسیر ابن جریر 2 ؎ میں عکرمہ اور سعید بن جبیر کی سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے جب آنحضرت ﷺ پر تنگ دستی اور فقروفاقہ کی طعن کی اور کہا یہ کیسے رسول ہیں کہ ذرا ذرا سی چیز بازار میں خریدتے پھرتے ہیں ‘ اگر یہ اللہ کے سچے رسول ہوتے تو ضرور اللہ تعالیٰ ان کو خوشحالی سے رکھتا ‘ مشرکین کی اس طعن سے آنحضرت ﷺ کے دل پر کچھ اثر رنج کا پیدا ہوا ‘ اس رنج کا اثر دور کرنے کو اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا ‘ کہ شیطان نے ان لوگوں کو بہکا دیا ہے ‘ اس واسطے یہ بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں ‘ ورنہ یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–14

(آیت نمبر (7 یہ ان لوگوں کا قول ہے جنہوں نے رسول ﷺ کو جھٹلایا اور آپ کی رسالت میں جرح و قدع کی۔ انہوں نے اعتراض کیا کہ یہ رسول فرشتہ یا کوئی بادشاہ کیوں نہیں یا اس کی خدمت اور مدد کے لیے کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا ؟ چناچہ انہوں نے کہا : (مال ھذ الرسول) یعنی یہ کیسا شخص ہے جو رسالت کا دعویٰ کرتا ہے ( یا کل الطعام ) ” کھانا کھاتا ہے “ حالانکہ یہ تو بش رکی خصوصیات میں سے ہے۔ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ ان امور کا محتاج ہوتا بشر جن کا محتاج ہے۔ ( ویمشی فی الاسواق) یعنی خریدو فروخت کے لیے “ بازاروں میں چلتا پھرتا ہے “ اور یہ ان کے خیال کے مطابق ایک رسول کے لائق نہیں ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–48

پانی کے مسائل قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

10 ابنائے دنیا کا مادہ پرستانہ معیار شرف و فضیلت : یعنی وہی مادہ پرستانہ معیار جس کو آج کی مادہ پرستانہ ذہنیت بھی اپنائے ہوئے ہے کہ اگر یہ صاحب اپنے دعوے میں سچے ہیں تو ان کے پاس خوب خوب دنیاوی ٹھاٹھ باٹھ کیوں نہیں۔ ہٹو بچو کی صدا لگانے اور ڈرانے دھمکانے کے لئے کوئی فرشتہ ان کے ساتھ ہوتا یا اوپر سے کوئی خزانہ ان پر گرا دیا جاتا۔ یا کم از کم اپنے گزارے کے لئے ان کے پاس کوئی باغ تو ہوتا وغیرہ وغیرہ۔ مگر یہاں تو ان میں سے کوئی بھی چیز نہیں۔ تو پھر ہم انہیں دعوائے نبوت میں سچا کس طرح مان لیں حالانکہ مادہ اور معدہ کے ان بندوں کو یہ خبر نہیں کہ اللہ پاک کے نزدیک یہ چند چیزیں تو کیا اس ساری دنیا کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 3–9

منکرین حق اور نبی کے سوال و جواب تشریح : کفار مکہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میری اتنی نعمتیں برکتیں لوگوں کو ملی ہوئی ہیں پھر بھی یہ لوگ دوسرے معبود بنا بیٹھے ہیں۔ اصل میں انسان خود بہت بڑا معمہ ہے اور سب سے بڑا معمہ اس کا دماغ ہے جس میں ذہانت ‘ عقل ‘ فکر ‘ جستجو ‘ حافظہ ‘ فہم اور حکمت سب کچھ موجود ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ یہ تمام صلاحیتیں کس نے دی ہیں ؟ انسان کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ اس کا جواب ہر کوئی یہی دیتا ہے کہ ” اللہ نے “ جسے دل نے تو ہمشہ مان لیا لیکن عقل اس سے انکار کرتی ہے اور یہی لوگ مشرک ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ خالق کو چھوڑ کر مخلوق ( پیدا کیا ہوا) کے آگے جھکتے ہیں مرادیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

سورة الفرقان : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف یہ سورة بھی مکی سورتوں میں سے ہے اور اسی مضمون کو آگے بڑھاتی ہے جو سورة نور میں زیر بحث ہے ۔ (آپ ﷺ کی نبوت سب جہانوں کے لیے) اللہ کریم بہت ہی برکت والے اور خیر کے مالک ہیں جنہوں نے اپنے بندے حضرت محمد رسول ﷺ پر ایسی کتاب نازل فرمائی جس نے حق کو حق اور باطل کو باطل قرار دے کر دونوں میں حد فاصل قائم کردی اور تمام جہانوں کو ان کے غلط کاموں کے خطرناک انجام سے اللہ جل جلالہ کے رسول ﷺ نے بروقت مطلع فرما دیا کہ آپ ﷺ کی نبوت نہ صرف سارے جہان کے لیے ہے بلکہ سب جہانوں کے لیے ہے ، ہاں مکلف مخلوق یعنی انسان اور جن اطاعت احکام کے مکلف ہیں اور ساری مخلوق بھی آپ ﷺ کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

5 ۔ جس سے اس کی شان کم از کم قیصر و کسریٰ کی سی تو ہوتی۔ 6 ۔ یعنی اطمینان کی روزی حاصل کرتا اور معاش کیلئے بازاروں کے چکر لگانے سے بچ جاتا۔ 7 ۔ یعنی مسلمانوں سے کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:8) یلقی الیہ۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب القاء (افعال) مصدر ڈالا جائے اس کی طرف۔ اتارا جائے اس کی طرف او یلقی الیہ کنزیا کیوں نہ اس کی طرف (غیب سے) خزانہ ہی اتارا گیا۔ او تکون لہ جنۃ۔ یا اس کا ایک باغ ہی ہوتا۔ آیت 7:8 میں یلقی اور تکون اگرچہ فعل مضارع ہیں لیکن ان کا عطف انزل فعل ماضی پر ہے کیونکہ دونوں معطوف الیہ اور معطوف کے درمیان فیکون فعل مضارع داخل ہے۔ کفار کے نزدیک کسی رسول من اللہ کے لئے ضروری تھا کہ :۔ (1) وہ کوئی فرشتہ ہوتا جو انسان کی طرح کھانے پینے کا محتاج نہ ہوتا اور نہ ضروریات زندگی کے لئے اسے بازاروں میں گھومنے پھرنے کی ضرورت ہوتی۔ (2) اگر یہ نہیں تھا تو کم از کم ایک فرشتہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–16

لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 16 : (مالھذالرسول) یہ کیسا رسول ہے ‘(یمشی) چلتا ہے ‘(الاسواق (سوق) بازار ‘(کنز) خزانہ ‘(مسحور) جادو میں پھنسا ہوا ‘(ضلوا) وہ گمراہ ہوگئے ‘ قصور (قصر) محل۔ محلات ‘(سعیر) بھڑکتی آگ ‘(تغیظ) غصہ سے جوش مارنا ‘(زفیر) غصہ سے نکلی ہوئی تیز آواز ‘ (ضیق) تنگ ‘ مقرنین (آپس میں جکڑے ہوئے) (ثبور) موت۔ ہلاکت ‘(مایشآء و ن) جو کچھ وہ چاہیں گے ‘(مسئولا) سوال کیا گیا۔ درخواست کا حق ‘۔ تشریح : آیت نمبر 7 تا 16 : سچی اور عظیم تحریک اور مضبوط دلائل کے سامنے شکست کھاجانے والے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ ہر شخص متاثر ہورہا ہے تو وہ طرح طرح کے اعتراضات ‘ الزامات اور ذاتیات پر اتر آتے ہیں چناچہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–9

مشرکین کا طعن۔ (ف 1) شان نزول : جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے جب نبی ﷺ پر تنگدستی کی طعن کی اور کہا کہ یہ کیسے رسول ہیں کہ ذراذرا سی چیز بازار میں خریدتے پھرتے ہیں اگر اللہ کے سچے رسول ہوتے تو ضرور اللہ تعالیٰ ان کو خوشحال رکھتا۔ مشرکین کے اس طعن کے بارے میں اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمادیا کہ شیطان نے ان لوگوں کو بہکارکھا ہے اس واسطے یہ بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں اور ورنہ یہ لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی بتلاتے ہیں۔ اور حضرت ابراہیم کو نبی جانتے ہیں پھر یہ نہیں ثابت کرسکتے کہ حضرت ابراہیم فرشتے تھے کچھ کھاتے پیتے نہیں تھے یا غیب سے ان کو خزانہ ملا تھا یا کوئی فرشتہ ان کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–8

قرآن خدا کا کلام ہے : (ف 1) نصر بن حرث اور اس قماش کے دوسرے لوگ جب یہ دیکھتے کہ قرآن کی فصاحت وبلاغت کا جواب بن نہیں آتا تو وہ کہتے کہ یہ خدا کا کلام تھوڑا ہی ہے ، یہ تو افتراء ہے وہ لوگ جو اہل کتاب تھے اور اب مسلمان ہوگئے ہیں ، اس کی ترتیب وتدوین میں محمد ﷺ کا ہاتھ بٹاتے ہیں نیز کہتے کہ یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں اور قصے ہیں ، جس کو اس نے لکھوا لیا ہے اور اب قرآن کے نام سے ہمارے سامنے پیش کر رہا ہے ۔ قرآن کہتا ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، اور خدا کی جانب سے فرستادہ ہیں ، ان کا پیش کردہ کلام خدا کا کلام ہے دلیل یہ ہے کہ اس میں ایسا علم اور ایسا علم اور ایسی وسعت معارف ہے جو اللہ کے ساتھ مختص…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) یا فرشتہ نہ اترتا تو اس کی طرف کوئی خزانہ ہی ڈال دیا جاتایا اگر یہ بھی نہ ہوتا تو اس کے پاس کوئی باغ ہی ہوتا کہ یہ اس باغ میں سے کھایا کرتا اور یہ ظالم اور حق نا شناس مسلمانوں سے یوں کہتے ہیں کہ تم لوگ بس ایک ایسے شخص کی پیروی کر رہے ہو اور ایسے آدمی کے پیچھے چل رہے ہو جو سحر زدہ ہے اور جس پر جادو کیا گیا ہے یعنی اگر رسول کو فرشتہ نہیں بنایا اور کوئی فرشتہ بھی اس کے ساتھ نازل نہیں کیا تو اس کو اگر وہ رسول ہوتا تو معاش سے بےفکر کرنے کے لئے غیب سے اس کے پاس خزانہ ہی ڈال دیاجاتا۔ اچھا اگر خزانہ بھی نہیں ڈالا گیا تو پھر کوئی باغ ہی اس کے پاس ہوتا کہ اس کے پھل کھا کر گزر کرتا اور اس سے بڑھ کر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–10

ف 1۔ مطلب یہ کہ جو کچھ جنت میں ملے گا اگر اللہ چاہے تو آپ کو دنیا ہی میں دیدے لیکن بعض حکمتوں سے نہیں چاہا، اور فی نفسہ ضروری تھا نہیں، پس شبہ محض بیہودہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کے مطالبات کی فہرست کی بقیہ چیزیں اس طرح بیان کی گئیں : 8۔ انہوں نے اپنے مطالبات کی فہرست پیش کرتے ہوئے کہ چلو اور کچھ نہیں تو اس کے لئے ایک خزانہ تو ہوتا یا کم از کم کوئی باغ ہی اس کے پاس ہوتا جس سے وہ جب چاہتا پھل کھالیتا جب ان باتوں میں سے ایک بات بھی اس کو میسر نہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ رسول نہین البتہ سحرزدہ ایک انسان ضرور ہو سکتا ہے کہ کسی نے اس پر جادو کردیا ہے اس لئے وہ بہکی بہکی باتیں کرتا ہے اور اس کا یہ دعوی بھی اسی قبیل سے ہے ہمیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی دیوانہ ہے ، اہل عرب میں دیوانگی کی دو صورتیں عام طور پر تسلیم تھیں ایک یہ کہ کسی جن کا اس پر سایہ ہوگیا ہو اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–8

Commentary From this point onward the objections raised by infidels and polytheists against the Holy Qur'an and the prophethood of the Holy Prophet ﷺ are related together with the answers to those objections. The first objection was that the Qur'an was not a revealed book from Allah Ta’ ala, but has been compiled from the old stories and narrations by the Jews and Christians which have been reduced into writing by the Companions of the Holy Prophet ﷺ ، since he himself was illiterate and could not write. And because he could not read or write, he would get them read out to him day and night,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

16 That is, "If nothing else, Allah should at least have made extraordinary arrangements for his livelihood. But this man has no treasure and no gardens; yet he claims to be a Messenger of the Lord of the universe." 17 The disbelievers of Makkah made the false propaganda against the Holy Prophet that he had been bewitched by some jinn or by the sorcery of an enemy or by the curse of some god or goddess for his insolence. But it is strange that they also admitted that he was a clever man who could make use of extracts from the ancient writings for the sake of his "prophethood", could practise…

Read the full tafseer →