Al-Furqaan 25:7

Al-Furqaan · from ayah 7

25:7

وَقَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ ؕ— لَوْلَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًا ۟ۙوَقَالُوۡا مَالِ هٰذَا الرَّسُوۡلِ يَاۡكُلُ الطَّعَامَ وَيَمۡشِىۡ فِى الۡاَسۡوَاقِ‌ ؕ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَلَكٌ فَيَكُوۡنَ مَعَهٗ نَذِيۡرًا

اور کہتے ہیں کہ یہ کیسا پیغمبر ہے کہ کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ کیوں نازل نہیں کیا گیا اس کے پاس کوئی فرشتہ اس کے ساتھ ہدایت کرنے کو رہتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they say, "What is this messenger that eats food and walks in the markets? Why was there not sent down to him an angel so he would be with him a warner?

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:7

کہتے ہیں "یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے؟ کیوں نہ اس کے پاس کوئی فرشتہ بھیجا گیا جو اس کے ساتھ رہتا اور (نہ ماننے والوں کو) دھمکاتا؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کہتے ہیں کہ یہ کیسا پیغمبر ہے کہ کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ کیوں نازل نہیں کیا گیا اس کے پاس کوئی فرشتہ اس کے ساتھ ہدایت کرنے کو رہتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور انہوں نے کہا کہ یہ کیسا رسول ہے؟ کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا جاتا؟ کہ وه بھی اس کے ساتھ ہو کر ڈرانے واﻻ بن جاتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا بھی کھاتا ہے، اور بازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے ؟ اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا جو اس کے ساتھ رہ کر لوگوں کو ڈراتا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بولے اور رسول کو کیا ہوا کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے (ف۹۱۶ کیوں نہ اتارا گیا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کہ ان کے ساتھ ڈر سناتا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ کہتے ہیں کہ اس رسول کو کیا ہوا ہے، یہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا کہ وہ اس کے ساتھ (مل کر) ڈر سنانے والا ہوتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھوں نے کہا اس رسول کو کیا ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا کہ اس کے ساتھ ڈرانے والا ہوتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا جو اس کے ساتھ رہتا اور لوگوں کو ڈرایا کرتا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کہتے ہیں کہ کیا بات ہے اس رسول کی کہ یہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ! اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا کہ وہ اس کے ساتھ لوگوں کو ڈرانے والا بنتا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اس کے پاس کوئی ایسا فرشتہ کیوں نہ بھیج دیا گیا جو اس کے ساتھ رہ کر نہ ماننے والوں کو ڈراتا دھمکاتا رہتا ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیسا ہے یہ رسول جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا کہ وہ اس کے ساتھ ڈراتا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ کہتے ہیں یہ کیسا رسول ہے جو کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا بھی ہے کیوں نہیں اتارا گیا اس پر کوئی فرشتہ کہ وہ اس کے ساتھ ہو کر ڈرانے والا ہوتا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کہتے ہیں کہ ”یہ کیسا پیغمبر ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ اس پر کوئی فرشتہ کیوں نازل نہیں کیا گیا کہ اس کے ساتھ ڈرانے (ہدایت) کو رہتا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They say, "What sort of a Messenger is he that he eats food and moves about in the streets? Why has not an angel been sent down to accompany him and threaten (the disbelievers)?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :What sort of messenger is this who eats food and walks in the markets? Why is it that an angel has not been sent down to him who would have been a warner along with him.

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :What sort of messenger is this who eats food and walks in the markets? Why is it that an angel has not been sent down to him who would have been a warner along with him.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they say: "Why does this Messenger eat food, and walk about in the markets. Why is not an angel sent down to him to be a warner with him"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they say: What aileth this messenger (of Allah) that he eateth food and walketh in the markets? Why is not an angel sent down unto him, to be a warner with him.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they say, "What is this messenger that eats food and walks in the markets? Why was there not sent down to him an angel so he would be with him a warner?

— Saheeh International

They say, "Why does this Messenger eat food, and walk in the streets? Why has not an angel been sent to him so that they could preach the message together?

— Muhammad Sarwar

And they say: What is the matter with this Apostle that he eats food and goes about in the markets; why has not an angel been sent down to him, so that he should have been a warner with him?

— Muhammad Habib Shakir

And they say: what aileth this apostle: he eateth food and walketh about the market-places: wherefore is not an angel sent down unto him, so thathe may be along with him a warner '

— Abdul Majid Daryabadi

And they say: "What sort of a messenger is this, who eats food, and walks through the streets? Why has not an angel been sent down to him to give admonition with him?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–14

مشرکین کی حماقتیں اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کی انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے ؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لئے آتا جاتا کیوں ہے ؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الہٰی سے آگاہ کرتا۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ آیت (فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاۗءَ مَعَهُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ 53؀) 43۔ الزخرف :53) ، اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے ؟ یا اس کی مدد کے لئے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ چونکہ دل ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 14 یعنی اول تو انسان کا رسول ہونا ہی عجیب بات ہے۔ خدا کا پیغام لے کر آتا تو کوئی فرشتہ آتا نہ کہ ایک گوشت پوست کا آدمی جو زندہ رہنے کے لیے غذا کا محتاج ہو۔ تاہم اگر آدمی ہی رسول بنایا گیا تھا تو کم از کم وہ بادشاہوں اور دنیا کے بڑے لوگوں کی طرح ایک بلند پایہ ہستی ہونا چاہیے تھا جسے دیکھنے کے لیے آنکھیں ترستیں اور جس کے حضور باریابی کا شرف بڑی کوششوں سے کسی کو نصیب ہوتا، نہ یہ کہ ایک ایسا عامی آدمی خداوند، عالم کا پیغمبر بنادیا جائے جو بازاروں میں جوتیاں چٹخاتا پھرتا ہو۔ بھلا اس آدمی کو کون خاطر میں لائے گا جسے ہر راہ چلتا روز دیکھتا ہو اور کسی پہلو سے بھی اس کے اندر کوئی غیر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–8

معارف و مسائل کفار و مشرکین جو آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن پر اعتراضات کیا کرتے تھے یہاں سے ان کے اعتراضات اور پھر جوابات کا سلسلہ شروع ہو کر کچھ دور تک چلا ہے۔ پہلا اعتراض یہ تھا کہ قرآن کوئی اللہ کی طرف سے نازل کیا ہوا کلام نہیں بلکہ آپ نے اس کو خود ہی جھوٹ گھڑ لیا ہے یا پچھلے لوگوں کے قصے یہود و نصاری وغیرہ سے سن کر اپنے صحابہ سے لکھوا لیتے ہیں اور چونکہ خود امی ہیں، نہ لکھنا جانتے ہیں نہ پڑھنا اس لئے ان لکھے ہوئے قصوں کو صبح شام سنتے رہتے ہیں تاکہ وہ یاد ہوجاویں پھر لوگوں کے سامنے جا کر یہ کہہ دیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اس اعتراض کا جواب قرآن کریم نے یہ دیا قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِيْ يَعْلَمُ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 7–8

آیت 8-7 یہ مخالینر کے بعض اور اعترضا ات کا حوالہ دیا ہے۔ معترضین کے بعض اور اعتراضات رسول پر مال ھذا الرسول کے اسلوب میں استعجاب اور طنز و استہزا دونوں ہے۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ یہ خوب رسول ہیں کہ اللہ کے رسول ہونے کے مدعی ہیں اور حال یہ ہے کہ ہمارے ہی طرح یہ بھی کھانے پینے کے محتاج ہیں اور اپنی ضروریات و مایحتاج کی فراہمی کے لئے ہما شما کی طرح یہ بھی بازاروں میں پھرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر خدا کو کوئی رسول ہی بھیجنا ہوتا تو کیا ہمارے ہی جیسے ایک بشر کو رسول بناتا، آخر اس کے پاس فرشتوں کی ایک فوج ہے ان میں سے کسی کو اس نے رسول بنا کر کیوں نہ بھیجا۔ لولا انزل الیہ ملک فیکون معہ نذیراً یعنی اگر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

7-1قرآن پر طعن کرنے کے بعد رسول پر طعن کیا جا رہا ہے اور یہ طعن رسول کی بشریت پر ہے۔ کیونکہ ان کے خیال میں بشریت، عظمت رسالت کی متحمل نہیں۔ اس لئے انہوں نے کہا کہ یہ تو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں آتا جاتا ہے اور ہمارے ہی جیسا بشر ہے۔ حالانکہ رسول کو تو بشر نہیں ہونا چاہیئے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–11

2: یعنی یہ لوگ جو باتیں بنا رہے ہیں، ان کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ حق کے طلب گار ہیں، اور ان کے شبہات دور ہوجائیں تو یہ ایمان لے آئیں، بلکہ اصل وجہ ان کی بےفکری ہے، چونکہ ان کو قیامت اور آخرت پر ایمان نہیں ہے، اس لیے ان کو بےہودہ اعتراضات کرتے ہوئے کوئی خوف نہیں ہوتا کہ آخرت میں ان پر سزا بھی مل سکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–8

(وقالوا مال۔۔۔۔۔۔۔ قصورا) (7 تا 10) یہ کیسا رسول ہے جو کھاتا پیتا ‘ چلتا پھرتا انسان ہے اور تمام تصرفات و حرکات انسانوں جیسے کرتا ہے۔ یہ وہی گھسا پٹا اعتراض ہے جو لوگ ہمیشہ رسولوں پر کرتے چلے آئے ہیں کہ فلاں شخص نے رسول ہونے کا دعویٰ کردیا ہے۔ دیکھو بھائی فالاں کا بیٹا بھی اب رسول بن گیا۔ یہ تو ہم جیسا انسان ہے جس طرح ہم کھاتے پیتے ہیں اور چلتے پھرتے ہیں۔ یہ بھی ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ ہو اور اللہ کی طرف سے اس پر وحی آرہی ہو۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کا اتصال اور رابطہعالم بالا سے ہوجائے۔ اور یہ عالم بالا سے ہدایات لے رہا ہو۔ جبکہ وہ ہمارے جی اس گوشت و پوست کا بنا ہوا انسان ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی جب ہماری طرح کھانا کھائے اور ہماری طرح خریدو فروخت کے لیے بازاروں میں جائے تو ہم میں اس میں فرق کیا رہا۔ اگر واقعی رسول تھا تو چاہیے تھا کہ فرشتوں کی طرح کھانے پینے اور طلب معاش کے بکھیڑوں سے فارغ ہوتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7 وَقَالُوْا مَالِ ہٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ ط ” کہ ایک ایسا شخص اللہ کا بھیجا ہوا رسول کیسے ہوسکتا ہے جس کو کھانے کی حاجت بھی ہو اور وہ عام انسانوں کی طرح بازاروں میں خریدو فروخت بھی کرتا پھرتا ہو۔ لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَلَکٌ فَیَکُوْنَ مَعَہٗ نَذِیْرًا ” ہاں اگر یہ واقعی اللہ کے رسول ہیں تو ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا جو ہماری آنکھوں کے سامنے پرواز کرتے ہوئے نازل ہوتا ‘ ان کے رسول ہونے کی گواہی دیتا اور پھر یہ جدھر بھی جاتے ‘ وہ فرشتہ لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے ہٹو بچو کا نعرہ لگاتے ہوئے ان کے ساتھ ساتھ چلتا اور نہ ماننے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

10 کفار کا یہ جاہلانہ اعتراض بھی قرآن میں متعدد مقامات پر دہرایا گیا ہے اور وہ اعتراض یہ ہے کہ رسول کم از کم کوئی مافوق البشر ہستی ہونا چاہئے۔ جو حوائج بشریہ سے بےنیاز ہو۔ یا کم از کم دنیوی دھندوں سے آزاد اور تارک دنیا قسم کے لوگوں سے ہو۔ اس اعتراض کا جواب بھی پہلے کئی مقامات پر دیا جاچکا ہے۔ 11 یعنی وہ کافر اس پیغمبر کی بات کو درست تسلیم نہ کرتا، فرشتہ اسے ڈراتا، دھمکاتا یا مار مار کر کچومر نکال دیتا۔ تاکہ لوگ نبی کی دعوت کا انکار کرنے کی جرات ہی نہ کرسکتے اور اس طرح اس کی اپنی ہی ایک جمعیت بن جاتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 7–8

8۔ (اور اس کو فکر معاش سے غیبی طور پر فارغ البالی حاصل رہتی) جاہلی قوموں کے احولی اعتراضات نقل ہورہے ہیں، وحی ونبوت کا مسئلہ اصلا ہی ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ وہی دیوی دیوتا والا، اوتار والا عقیدہ دلوں میں جما ہوا تھا۔ خدا خود تو دنیا میں آسکتا ہے۔ کسی انسان بلکہ حیوان کے قالب میں آسکتا ہے۔ لیکن کسی بشر کو اپنا نائب، اپنا سفیر، اپنا پیامبر بنانا کیا معنی ؟۔ وہی بنیادی گمراہی جو جاہلی قوموں میں آج تک چلی آرہی ہے۔ (آیت) ” یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق “۔ یعنی کھانے پینے، چلنے پھرنے، خرید وفروخت کی ضرورتیں پوری کرنے میں یہ تو بالکل عام انسانوں کی طرح ہیں۔ انہیں پیغمبر کیسے مان لیا جائے ؟۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان اور نہایت رحم والا ہے، برکت والی برتر ہے وہ ذات جس نے فرقان یعنی قرآن اپنے بندے محمد ﷺ پر نازل کیا قرآن کو فرقان اس لئے کہا گیا ہے کہ اس نے حق و باطل کے درمیان فرق کردیا، تاکہ عالم والوں یعنی انسانوں اور جنوں کے لئے نہ کہ فرشتوں کے لئے ڈرانے والا ہو یعنی اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا ہو ایسی ذات کہ اس کے لئے آسمانوں اور زمین کی حکومت حاصل ہے اور اس نے کسی کو اولاد قرار نہیں دیا اور نہ ملک میں اس کا کوئی شریک ہے اور اس نے ہر اس شئ کو پیدا کیا جس کی شان مخلوق ہونا ہے پھر اس کو اچھی طرح درست کیا اور کفار نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقالوا مال ہذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق اور ان (کافر) لوگوں نے کہا یہ کیسا رسول ہے کہ (ہماری طرح) کھانا کھاتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ یعنی یہ رسول ہوتا تو اس کی دوسرے انسانوں سے کوئی امتیازی حیثیت ہوتی (کھانے پینے کی اس کو ضرورت نہ ہوتی اور بازاروں میں کبھی نہ گھومتا اور جب اس کی یہ امتیازی حیثیت نہیں ہے تو یہ رسول بھی نہیں ہے) ۔ بغوی نے لکھا ہے ‘ کافر کہتے تھے تم فرشتہ نہیں ہو۔ فرشتہ کھاتا پیتا نہیں ا ورتم کھاتے پیتے ہو اور تم بادشاہ بھی نہیں ہو ‘ بادشاہ بازاروں میں نہیں گھومتا پھرتا اور تم گھومتے پھرتے ہو۔ میں کہتا ہوں یہ بات غلط ہے رسول اللہ ﷺ نے تو نہ کبھی فرشتہ ہونے کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(7) اور ابوجہل، نضر اور امیہ بن خلف اور ان کے ساتھی یوں کہتے ہیں کہ اس رسول کو کیا ہوا کہ وہ ہماری طرح کھانا کھاتا ہے اور ہماری طرح بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا جو اس کا مددگار اور محافظ رہتا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ۔۔ : یہ قرآن پر طعن کے بعد رسول پر طعن ہے اور بہت گھٹیا طعن ہے، کفار کا یہ جاہلانہ طعن قرآن میں متعدد مقامات پر دہرایا گیا ہے، ان کے خیال میں کوئی بشر رسول نہیں ہوسکتا۔ (دیکھیے بنی اسرائیل : 94، 95) اس لیے انھوں نے کہا، یہ رسول (جو ہماری طرف بھیجے جانے کا دعویٰ کرتا ہے) اسے کیا ہے کہ ہماری طرح کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، ہم میں اور اس میں فرق کیا ہے ؟ اسے تو فرشتہ ہونا چاہیے تھا، جو بشری ضرورتوں سے پاک ہوتا اور اگر انسان ہوتے ہوئے اسے یہ مقام مل گیا تھا، تو اس کی شان کم از کم اتنی تو ہوتی جتنی دنیا کے کسی بادشاہ کی ہوتی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 7–8

(وقالو مال ھذا۔۔۔۔۔۔ 7۔ 8) وقالو مال ھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسقواق اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 :۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : وقالو ان کے طعنوں میں سے ایک اور چیز کا ذکر کیا۔ قالوا میں ضمیر قریش کے لیے ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مشہور ملاقات ہوئی۔ سورة اسراء میں یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن اسحاق نے سیرت میں اور دوسرے علمائنے ذکر کیا ہے : اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کے سردار عتبہ بن ربیعہ وغیرہ رسول اللہ ﷺ کو ملے اور عرض کیا : اے محمد ﷺ ! اگر تو سرداری کو پسند کرتا ہے تو ہم تجھے اپنے اوپر حاکم بنا دیتے ہیں، اگر تو مال سے محبت کرتا ہے تو ہم اپنے اموال میں سے آپ کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ تبارک تفاعل کے وزن پر ہے برکت سے۔ 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ آیت تبرک الذی نزل الفرقان علی عبدہ سے مراد یہ قرآن ہے جس میں اللہ کی حلال کردہ اور اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور اس کے شرائع اور دین کے احکام ہیں اللہ تعالیٰ نے فرق کردیا ہے حق اور باطل کے درمیان آیت لیکون للعالمین نذیرا یعنی اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا اللہ تعالیٰ سے ڈرانے والا بنا کر تاکہ وہ لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں اور ان واقعات سے ڈرائیں جو پہلی قوموں میں ہوئے آیت وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا اور اپنی مخلوق کی ہر چیز کے لیے اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقَالُوْا [ اور انہوں نے کہا ] مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ [ اس رسول ﷺ کو کیا ہے (یعنی کیسا ہے) يَاْكُلُ [ جو کھاتا ہے ] الطَّعَامَ [ کھانا ] وَيَمْشِيْ [ اور چلتا ہے ] فِي الْاَسْوَاقِ ۭ [ بازاروں میں ] لَوْلَآ [ کیوں نہیں ] اُنْزِلَ [ اتارا گیا ] اِلَيْهِ [ اس کی طرف ] مَلَكٌ [ کوئی فرشتہ ] فَيَكُوْنَ [ تو وہ ہوجانا ] مَعَهٗ [ اس کے ساتھ ] نَذِيْرًا [ ایک خبردار کرنے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد مشرکین مکہ کی انکار رسالت والی باتوں کا تذکرہ فرمایا (وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ ) (اور ان لوگوں نے یوں کہا کہ اس رسول کو کیا ہوا یہ تو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے) ان لوگوں نے اپنی طرف سے نبوت اور رسالت کا ایک معیار بنالیا تھا اور وہ یہ تھا کہ رسول کوئی ایسی شخصیت ہونی چاہئے جو اپنے اعمال و احوال میں دوسرے انسانوں سے ممتاز ہو جو شخص ہماری طرح کھانا کھاتا ہے اور اپنی ضرورتوں کے لیے بازار میں جاتا ہے چونکہ یہ شخص ہماری ہی جیسا ہے اس لیے یہ رسول نہیں ہوسکتا یہ ان لوگوں کی حماقت کی بات ہے خود تراشیدہ معیار ہے صحیح بات یہ ہے کہ انسانوں کی طرف جو شخص مبعوث ہو وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–10

منکرین نبوت کا تیسرا شبہ اور اس کا جواب قال اللہ تعالیٰ وقالوا مال ھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق۔۔۔ الی۔۔۔ ویجعل لک قصورا۔ (ربط) منکرین نبوت کا یہ تیسرا شبہ ہے۔ منکرین نبوت یہ کہتے ہیں کہ یہ مدعی نبوت پانچ صفتوں کے ساتھ موصوف ہے اور یہ پانچوں صفتیں نبوت کے منافی ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ شخص ہماری طرح کھانا کھاتا ہے۔ دوم یہ کہ یہ شخص ہماری طرح بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، پھر اس کو کیا فضیلت اور برتری کہ یہ ہمارا نبی بنے۔ سوم یہ کہ آپ ﷺ کے ہمراہ خدا کا کوئی فرشتہ نہیں جو لوگوں کو آپ ﷺ سے ڈرائے۔ چہارم یہ کہ آپ کے پاس آسمان سے کوئی خزانہ نہیں اترتا۔ جسے آپ لوگوں پر بےدریغ خرچ کر کے لوگوں کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

8:۔ ” وقالوا مال الخ “ یہ مشرکین پر چوتھا شکوی ہے۔ وہ کہتے یہ پیغمبر تو کھانے پینے کا محتاج ہے اور کسب معاش کے لیے بازاروں کا چکر بھی کاٹتا ہے پھر ہم ہیں اور اس میں کیا فرق باقی رہا اور اسے ہم پر کیا فوقیت حاصل ہے کہ اس کو نبوت مل گئی۔ و اذا کان کذلک فمن این لہ الفضل علینا ولا یجوز ان یمتاز عنا بالنبوۃ (خازن ج 5 ص 94) ۔ ” لولا انزل الیہ الخ “ یہ پانچواں شکوی ہے۔ ینی اول تو یہ چاہئے تھا کہ پیغمبر بشر نہ ہوتا بلکہ ہوتا ہی فرشتہ یا پھر کم از کم اس کے ساتھ کوئی فرشتہ آتا جو اس کی تصدیق و تائید کرتا ھلا انزل الیہ ملک من عند اللہ فیکون لہ شاھدا علی صدق ما یدعیہ (ابن کثیر ج 3 ص 310) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 4–9

ربط آیات برکات دینے والی ذات اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو نازل فرمایا ہے جو کہ ایک فیصلہ کن کتاب ہے۔ اس کے نزول کی غایت یہ ہے کہ اللہ کا کامل ترین بندہ اور اس کا آخری رسول اس کتاب کے ذریعے لوگوں کو ڈرانے والا بن جائے۔ گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی آسمان و زمین پر محیط سلطنت کا ذکر بھی ہو۔ اللہ نے مشرکین کا شکوہ بیان کیا کہ وہ اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بناتے ہیں ۔ حالانکہ وہ بےاختیار ہیں ، نہ تو وہ کوئی چیز تخلیق کرسکتے ہیں اور نہ نفع نقصان کے مالک ہیں ، یہ کس قدر ظلم و زیادتی کی بات ہے۔ قرآن پاک پر اعتراض سورۃ کے اس ابتدائی تمہیدی بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ۝ 0ۭ لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَيْہِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَہٗ نَذِيْرًا۝ 7ۙ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–10

ترکیب : افتریٰ کا فاعل ضمیر جو عبد کی طرف راجع ضمیر فرقان کی طرف راجع اعانہ کی عید کی طرف علیہ کی ضمیر افترا کی طرف قوم اخرون اعان کا فاعل ظلما و زورا مفعول جاؤ کا یا مصدر موضع حال میں ان شاء شرط جعل جو ابہ وھولکو نہ ماضیایجوزان یکون فی محل الرفع والجزم فما عطف علیہ یجوزان یکون مرفوعا اومجز و ماکما قرء الجمہور۔ تفسیر : ان آیات میں ان کے اور چند شبہات کا جواب ہے جو رسالت کی بابت تھے کہ محمد ﷺ نے قرآن کو ازخود بنا لیا ہے اور دیگر لوگ (جس سے ان کا اشارہ اہل کتاب کی طرف تھا) اس کے اس کام میں مددگار بن گئے ہیں۔ وہی لوگ انبیائِ سابقین کے حالات اور ان کی شریعتوں کے احکام اس کو بتاتے ہیں۔ یہ اپنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 7–8

وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَاالرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ ط لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَلَکٌ فَیَکُوْنَ مَعَہٗ نَذِیْرًا۔ اَوْیُلْقٰٓی اِلَیْہِ کَنْزٌ اَوْتَـکُوْنُ لَـہٗ جَنَّـۃٌ یَّاکُلُ مِنْھَا ط وَقَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلاَّ رَجُلاً مَّسْحُوْرًا۔ (الفرقان : 7، 8) (اور وہ کہتے ہیں کہ کیا ہے اس رسول کو جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ ایسا کیوں نہ ہوا کہ اتارا جاتا اس کی طرف کوئی فرشتہ اور وہ اس کے ساتھ مل کر لوگوں کو ڈراتا۔ یا اس کے لیے کوئی خزانہ اتارا جاتا، یا اس کے لیے کوئی باغ ہوتا جس سے وہ اپنی معاش حاصل کرتا اور ظالم کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : کفار کا قرآن مجید پر اعتراضات کرنے کے بعد سروردو عالم ﷺ کی ذات پر اعتراضات۔ رسول اکرم ﷺ کی ذات اطہر پر اہل مکہ کو یہ بھی اعتراض تھا کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اس کے ساتھ فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ جو اس کی بات نہ ماننے والوں کو ڈرا دھما کر اس کی رسالت منواتا۔ یہاں تک ان لوگوں کا رسول اکرم ﷺ پر یہ اعتراض کہ آپ انسان ہونے کے ناطے سے کھانے پینے کے محتاج تھے اور سودا سلف کے لیے بازار جاتے یہ ایسا بوسیدہ اور قدیم ترین اعتراض ہے جو ہزاروں سال پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) پر بھی کیا گیا۔ قرآن مجید نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ کیوں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

رسالت پر اعتراض : 7، 8: وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ (اور انہوں نے کہا یہ کیسا رسول ہے) قرآن مجید میں ہاء کو لام سے الگ لکھا گیا ہے۔ قرآن مجید کا یہ رسم الخط سنت ہے اس کو تبدیل نہ کیا جائے گا کفار نے الرسول کا لفظ آپ ﷺ کے لئے بطور مذاق کے استعمال کیا گویا ان کی بات کا مطلب یہ تھا کہ اس اپنے آپ کو رسول کہنے والے کو کیا ہوا۔ یَاْکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ (وہ کھانا کھاتا اور بازاروں میں چلتا ہے) نحو : یہ حال ہے اور اس کا عامل ھذا ہے۔ لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَلَکٌ فَیَکُوْنَ مَعَہٗ نَذِیْرًا (کیوں نہیں اس کے ساتھ فرشتہ بھیجا گیا کہ جو اس کے ساتھ رہ کر ڈراتا) اَوْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7۔ وقالوا مال ھذا الرسول، ، اس سے مراد محمد ﷺ ہیں ، یا کل اطعام، جیسا کہ ہم سب کھاتے ہیں ، ویمشی فی الاسواق، اور وہ معاش تلاش کرتے ہیں اور چلتا ہے جیسے ہم چلتے ہیں اس کی امتیاز نبوت کے باعث ایسا کام نہ کرنے والا ہو۔ یعنی یہ رسول ہوتاتودوسرے انسانون سے کوئی امتیازی حیثیت ہوتی ، کافر کہتے تھے کہ تم فرشتہ نہیں ہو، فرشتہ کھاتاپیتا نہیں اور تم کھاتے پیتے ہو اور تم بادشاہ بھی نہیں ہو، اور بادشاہ بازاروں میں نہیں گھومتا پھرتا اور تم گھومتے پھرتے ہو۔ یہ سب صفات اپ کی ہیں لیکن یہ تمام صفات نبوی کے منافی نہیں، لولاانزل الیک ملک، پھرس کی تصدیق کرتے۔ فیکون معہ نذیرا، جو فرشتہ اس کے ساتھ رہ کرڈراتا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 7–9

7۔ 9:۔ تفسیر ابن جریر 2 ؎ میں عکرمہ اور سعید بن جبیر کی سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے جب آنحضرت ﷺ پر تنگ دستی اور فقروفاقہ کی طعن کی اور کہا یہ کیسے رسول ہیں کہ ذرا ذرا سی چیز بازار میں خریدتے پھرتے ہیں ‘ اگر یہ اللہ کے سچے رسول ہوتے تو ضرور اللہ تعالیٰ ان کو خوشحالی سے رکھتا ‘ مشرکین کی اس طعن سے آنحضرت ﷺ کے دل پر کچھ اثر رنج کا پیدا ہوا ‘ اس رنج کا اثر دور کرنے کو اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا ‘ کہ شیطان نے ان لوگوں کو بہکا دیا ہے ‘ اس واسطے یہ بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں ‘ ورنہ یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–14

(آیت نمبر (7 یہ ان لوگوں کا قول ہے جنہوں نے رسول ﷺ کو جھٹلایا اور آپ کی رسالت میں جرح و قدع کی۔ انہوں نے اعتراض کیا کہ یہ رسول فرشتہ یا کوئی بادشاہ کیوں نہیں یا اس کی خدمت اور مدد کے لیے کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا ؟ چناچہ انہوں نے کہا : (مال ھذ الرسول) یعنی یہ کیسا شخص ہے جو رسالت کا دعویٰ کرتا ہے ( یا کل الطعام ) ” کھانا کھاتا ہے “ حالانکہ یہ تو بش رکی خصوصیات میں سے ہے۔ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ ان امور کا محتاج ہوتا بشر جن کا محتاج ہے۔ ( ویمشی فی الاسواق) یعنی خریدو فروخت کے لیے “ بازاروں میں چلتا پھرتا ہے “ اور یہ ان کے خیال کے مطابق ایک رسول کے لائق نہیں ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–48

پانی کے مسائل قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

9 کفار کی طرف سے پیغمبر پر انکے بشری تقاضوں کی بنا پر اعتراض : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے "۔ سو ان اعجوبہ پرستوں کے لئے یہ بات سمجھنا بڑا مشکل تھا کہ کوئی شخص عام انسانوں کی طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا بھی ہو اور وہ نبی اور رسول بھی ہوجائے۔ ان دونوں میں سے کوئی ایک ہی چیز ہوسکتی ہے۔ یعنی ان دونوں کے درمیان منافات ہے۔ اور یہی حال آج کے اعجوبہ پرستوں کا بھی ہے کہ ان دونوں چیزوں کی یکجائی کو یہ بھی ماننے کے لئے تیار نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کل کے ان اعجوبہ پرستوں نے ان بشری خصائص کو دیکھتے ہوئے حضرات…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 3–9

منکرین حق اور نبی کے سوال و جواب تشریح : کفار مکہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میری اتنی نعمتیں برکتیں لوگوں کو ملی ہوئی ہیں پھر بھی یہ لوگ دوسرے معبود بنا بیٹھے ہیں۔ اصل میں انسان خود بہت بڑا معمہ ہے اور سب سے بڑا معمہ اس کا دماغ ہے جس میں ذہانت ‘ عقل ‘ فکر ‘ جستجو ‘ حافظہ ‘ فہم اور حکمت سب کچھ موجود ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ یہ تمام صلاحیتیں کس نے دی ہیں ؟ انسان کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ اس کا جواب ہر کوئی یہی دیتا ہے کہ ” اللہ نے “ جسے دل نے تو ہمشہ مان لیا لیکن عقل اس سے انکار کرتی ہے اور یہی لوگ مشرک ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ خالق کو چھوڑ کر مخلوق ( پیدا کیا ہوا) کے آگے جھکتے ہیں مرادیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

سورة الفرقان : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف یہ سورة بھی مکی سورتوں میں سے ہے اور اسی مضمون کو آگے بڑھاتی ہے جو سورة نور میں زیر بحث ہے ۔ (آپ ﷺ کی نبوت سب جہانوں کے لیے) اللہ کریم بہت ہی برکت والے اور خیر کے مالک ہیں جنہوں نے اپنے بندے حضرت محمد رسول ﷺ پر ایسی کتاب نازل فرمائی جس نے حق کو حق اور باطل کو باطل قرار دے کر دونوں میں حد فاصل قائم کردی اور تمام جہانوں کو ان کے غلط کاموں کے خطرناک انجام سے اللہ جل جلالہ کے رسول ﷺ نے بروقت مطلع فرما دیا کہ آپ ﷺ کی نبوت نہ صرف سارے جہان کے لیے ہے بلکہ سب جہانوں کے لیے ہے ، ہاں مکلف مخلوق یعنی انسان اور جن اطاعت احکام کے مکلف ہیں اور ساری مخلوق بھی آپ ﷺ کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

3 ۔ یعنی اللہ کا بھیجا ہوا رسول اتنی معمولی شخصیت کا مالک نہیں ہوتا کہ عام لوگوں کی طرح کھانا کھائے اور بازاروں میں چلے پھرے۔ اسے اول تو فرشتہ ہونا چاہیے تھا جو ان لوازم بشریت سے پاک ہوتا۔ اور اگر انسان ہوتے ہوئے اسے یہ مقام مل گیا تھا تو اس کی شان کم از کم اتنی تو ہوتی جتنی دنیا کے دوسرے بادشاہوں کی ہوتی ہے۔ 4 ۔ یعنی جو لوگ اس کا کہنا نہ مانتے انہیں خدا کے عذاب کی دھمکی دیتا رہتا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 6–7

(25:6) انزلہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع القرآن ہے۔ السر۔ چھپی ہوئی بات۔ بھید ۔ راز۔ دل میں جو بات چھپی ہوئی ہو اسے سر کہتے ہیں۔ الاسرار کسی بات کا چھپانا ۔ یہ اعلان کی ضد ہے۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے یعلم ما یسرون وما یعلنون (2: 77) جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ خدا کو (سب) معلوم ہے۔ (25:7) مال ھذا الرسول۔ اصل میں ما لھذا الرسول ہے۔ لام کو خط عربی کی عام وضع سے ہٹ کر ھذا سے الگ لکھا گیا ہے اس میں مشرکین کی طرف سے آپ حضور ﷺ کے بارے میں اہانت تصغیر شان اور رسول من اللہ ہونے میں تمسخر اور طنز کا اظہار ہے۔ جیسا کہ وہ کہتے ہوں دیکھو تو کیسا ہے یہ رسول (ہماری طرح کھاتا پیتا ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–16

لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 16 : (مالھذالرسول) یہ کیسا رسول ہے ‘(یمشی) چلتا ہے ‘(الاسواق (سوق) بازار ‘(کنز) خزانہ ‘(مسحور) جادو میں پھنسا ہوا ‘(ضلوا) وہ گمراہ ہوگئے ‘ قصور (قصر) محل۔ محلات ‘(سعیر) بھڑکتی آگ ‘(تغیظ) غصہ سے جوش مارنا ‘(زفیر) غصہ سے نکلی ہوئی تیز آواز ‘ (ضیق) تنگ ‘ مقرنین (آپس میں جکڑے ہوئے) (ثبور) موت۔ ہلاکت ‘(مایشآء و ن) جو کچھ وہ چاہیں گے ‘(مسئولا) سوال کیا گیا۔ درخواست کا حق ‘۔ تشریح : آیت نمبر 7 تا 16 : سچی اور عظیم تحریک اور مضبوط دلائل کے سامنے شکست کھاجانے والے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ ہر شخص متاثر ہورہا ہے تو وہ طرح طرح کے اعتراضات ‘ الزامات اور ذاتیات پر اتر آتے ہیں چناچہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–9

مشرکین کا طعن۔ (ف 1) شان نزول : جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے جب نبی ﷺ پر تنگدستی کی طعن کی اور کہا کہ یہ کیسے رسول ہیں کہ ذراذرا سی چیز بازار میں خریدتے پھرتے ہیں اگر اللہ کے سچے رسول ہوتے تو ضرور اللہ تعالیٰ ان کو خوشحال رکھتا۔ مشرکین کے اس طعن کے بارے میں اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمادیا کہ شیطان نے ان لوگوں کو بہکارکھا ہے اس واسطے یہ بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں اور ورنہ یہ لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی بتلاتے ہیں۔ اور حضرت ابراہیم کو نبی جانتے ہیں پھر یہ نہیں ثابت کرسکتے کہ حضرت ابراہیم فرشتے تھے کچھ کھاتے پیتے نہیں تھے یا غیب سے ان کو خزانہ ملا تھا یا کوئی فرشتہ ان کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–8

قرآن خدا کا کلام ہے : (ف 1) نصر بن حرث اور اس قماش کے دوسرے لوگ جب یہ دیکھتے کہ قرآن کی فصاحت وبلاغت کا جواب بن نہیں آتا تو وہ کہتے کہ یہ خدا کا کلام تھوڑا ہی ہے ، یہ تو افتراء ہے وہ لوگ جو اہل کتاب تھے اور اب مسلمان ہوگئے ہیں ، اس کی ترتیب وتدوین میں محمد ﷺ کا ہاتھ بٹاتے ہیں نیز کہتے کہ یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں اور قصے ہیں ، جس کو اس نے لکھوا لیا ہے اور اب قرآن کے نام سے ہمارے سامنے پیش کر رہا ہے ۔ قرآن کہتا ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، اور خدا کی جانب سے فرستادہ ہیں ، ان کا پیش کردہ کلام خدا کا کلام ہے دلیل یہ ہے کہ اس میں ایسا علم اور ایسا علم اور ایسی وسعت معارف ہے جو اللہ کے ساتھ مختص…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) اور یہ دین حق کے منکر اس پیغمبر کی شان میں یہ بھی کہتے ہیں کہ اس رسول کو کیا ہوگیا کہک یہ کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں جو اس کے ساتھ رہ کر لوگوں کو ڈراتا یعنی یہ جو اپنے کو رسول کہتا ہے یہ تو ہماری طرح کھانا بھی کھاتا ہے اور معاش کا انتظام کرنے کو بازاروں میں چلتا پھرتا بھی ہے مطلب یہ ہے کہ ہماری ہدایت کے لئے فرشتہ آتا اور اگر فرشتہ نہ آتا تو کم از کم اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ رہتا جوا سکے ساتھ مل کر لوگوں کو ڈراتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ یعنی بشر ہے جو کہ محتاج ہوتا ہے طعام و اہتمام معاش کا، مطلب یہ کہ رسول کو فرشتہ ہونا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

معترضین کے اعتراضات کا ایک نیا اور اچھوتا ڈھنگ : 7۔ جب کسی کے پاس طاقت موجود ہو تو وہ جو کچھ کرتا ہے صرف طاقت کے بل بوتے کرتا جاتا ہے اس کے نزدیک حق ناحق کی کوئی بحث نہیں ہوتی ۔ حق کیا ہے ؟ وہی جو زور آور کے منہ سے نکل گیا ہے اور واہ واہ کرنے والوں نے اس پر واہ واہ کردی ہے غور کرو کہ انہوں نے پہلے کیا کہا اور اب کیا کہہ رہے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ اپنی باتوں کی بےسروپائی ان پر بھی عیاں تھی وہ اپنے دل کی گہرائیوں میں خوب جانتے تھے کہ ان کی یہ بہتان تراشیاں کسی خرد مند کو متاثر نہیں کرسکیں گی اور ان کی اس غوغا آرائی سے لوگ اس دین سے متنفر نہیں ہوں گے اس لئے انہوں نے اپنے زور کے بل پر ایک نیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–8

Commentary From this point onward the objections raised by infidels and polytheists against the Holy Qur'an and the prophethood of the Holy Prophet ﷺ are related together with the answers to those objections. The first objection was that the Qur'an was not a revealed book from Allah Ta’ ala, but has been compiled from the old stories and narrations by the Jews and Christians which have been reduced into writing by the Companions of the Holy Prophet ﷺ ، since he himself was illiterate and could not write. And because he could not read or write, he would get them read out to him day and night,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

14 That is, "He cannot be a Messenger of AIIah because he is a human being like us. Had Allah willed to send a Messenger, He would have sent an angel, and f at aII a human being was to be sent, he should have been a king or a millionaire, who would have resided in a castle and been guarded by attendants. A Messenger could not be an ordinary person who has to move about in the market places like the common people, for it is obvious that such a human Messenger cannot attract the attention of the people. In other words, they thought that a Messenger was not meant to guide the people to the right…

Read the full tafseer →