Ayahs 25:1–3تبرک الذی نزل الفرقان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولا نشورا) (ا : 3)
یہ آغاز ہی صاف صاف ظاہر کردیتا ہے کہ اس سورت کا بڑا محور اور موضوع کیا ہے ؟ یہ کہ یہ کتاب من جانب اللہ نازل شدہ ہے اور یہ کہ حضرت محمد ﷺ کی رسالت تمام انسانوں کے لیے ہے۔ یہ کہ اس دعوت کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے ‘ اس کا نہ کوئی بیٹا ہے اور نہ کوئی شریک ہے ‘ وہ وحدہ اس پوری کائنات کا مالک ہے ‘ وحدہ مدبر ہے اور اپنی حکمت و تدبیر کے ساتھ اسے چلارہا ہے۔ ان حقائق کے باوجود شرک کرنے والے شرک کرتے ہیں۔ افتراء پر دازی کرنے والے افتراء باندھتے ہیں اور جھگڑنے والے جھگڑتے ہیں اور حد سے بڑھنے والے حدود پار کرتے رہتے ہیں۔
(تبرک الذی۔۔۔۔۔۔۔۔ نذیرا) (25 : 1) ” نہایت متبرک ہے وہ جس نے یہ فرقان ‘ اپنے بندے پر نازل کیا تاکہ سارے جہاں والوں کے لیے خبردار کردینے والا ہو “۔ تبارک ‘ برکت سے باب مفاعلہ ہے یعنی نہایت متبرک ہے۔ یعنی وہ بہت زیادہ فیوض و برکات و الا ہے۔ یہاں اللہ جل شانہ ‘ کا نام لینے کے بجائے اسم موصول سے ذات باری کو الذی نزل الفرقان (25 : 1) لایا گیا ہے ‘ کیونکہ یہاں سورت میں مباحثہ ” صداقت و رسالت “ پر ہے۔ اور اس کے ساتھ ذات باری کا گہرا تعلق ہے نیز نزول قرآن کے ساتھ بھی ذات باری کا تعلق ہے کہ یہ ذات ہی نازل کرنے والی ہے۔
یہاں قرآن مجید کو فرقان اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں جو تعلیمات دی گئی ہیں وہ حق و باطل اور ہدایت و ضلالت کے درمیان بہت ہی واضح فرق کردیتی ہیں بلکہ اس کے ذریعہ اسلامی نظام زندگی اور غیر اسلامی نظام زندگی کے درمیان اور عہد جاہلیت اور عہد اسلام کے درمیان واضح فرق و امتیاز دکھایا گیا ہے اس لیے کہ اسلام انسانی شعور اور انسانی ضمیر کے اندر ایک واضح طریق زندگی بٹھاتا ہے۔ پھر اس طریق زندگی کو انسانی زندگی کے اندر عملاً قائم کرتا ہے۔ اس طرح اس نظام کو اس کتاب و فرقان نے دنیا کے تمام نظاموں سے علیحدہ اور ممتاز کر کے رکھ دیا ہے۔ گویا قرآن فرقان بایں معنی ہے کہ یہ انسانیت کے لیے ایک اہد جدید ہے۔ تصورات و خیالات کے اعتبار سے بھی اور عملی زندگی کے اعتبار سے بھی ہی عہد جدید ‘ عہد قدیم سے جدا اور ممتاز ہے۔ قرآن کریم اس وسیع مفہوم میں بھی فرقان ہے۔ یہ ایک نکتہ افتراق ہے کہ جہاں سے آگے اب انسانیت نے بلوغ حاصل کرلیا اور اس کا زمانہ طفولیت اب ختم ہوے۔ اب وہ دور ختم ہوگیا ہے کہ لوگوں کو مادی معجزات دکھائے جاتے تھے اور حق و باطل کا فرق سمجھا یا جاتا تھا۔ اب تو قاضی عقل کے ذریعہ یہ فرق سمجھایا جائے گا۔ پھر اس سے قبل رسالتوں کا دائرہ محدود اور مقامی ہوتا تھا اور اب یہ رسالت عمومی رنگ اختیار کرگئی ہے۔ لیکون للعلمین نذیرا (25 : 1) ” تاکہ تمام جہاں والوں کے لیے ڈرانے والا ہو “۔ غرض ان تمام معنوں اور دائروں میں یہ کتاب فرقان ہے۔
نبی ﷺ کی تکریم اور تعظیم کے مقام پر ان کے لیے عہدہ ‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اس کا بندہ ‘ عبدہ کے لفظ کے ساتھ نبی ﷺ کی تعظیم اور تکریم اسراء اور معراج کے اموقعہ پر بھی کی گئی ھی۔
(سبحن الذی اسری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الی المسجد الاقصی) (17 : 1) ” پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے رات کے وقت مسجد حرام مسجد اقصیٰ تک لے گئی “۔ اور سورت جن میں جب آپ ﷺ کو رب کریم کے سامنے کھڑے ہو کر دعا اور مناجات کی حالت میں دکھایا گیا ہے وہاں بھی آپ کے لیے لفظ عبد اللہ استعمال ہوا ہے اور جس طرح یہاں آپ کے لیے تنزیل قرآن کے وقت عبدہ کا لفظ استعمالہوا ہے۔ اسی طرح سورت کہف میں بھی استعمال ہوا ہے۔
الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ الکتب ولم یجعل لہ عوجا ” تعریف ہے اس ذات کے لیے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی اور اس میں کوئی کجی نہ چھوڑی “۔ ان مقامات پر رسول اکرم ﷺ کے لیے بندے کا لفظ استعمال کرنا رفعت شان ہے۔ اور آپ کی بہت بڑی تکریم ہے۔ انسان کے لیے اعلیٰ ترین مقام یہ ہے کہ وہ اللہ کا بندہ بن جائے۔ اس لیے یہاں آپ کے لیے بندے کا لفظ استعمال ہوا۔ اس سے آگے مقام الوہیت ہے جو اللہ وحدہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ اور اللہ کے ساتھ نہ کوئی شریک ہے اور نہ اللہ کے ساتھ مشارکت کا کوئی شبہ ہو سکتا ہے چاہے نزول قرآن کا مقام ہو ‘ چاہے انسان کو آسمانوں پر لے جایا گیا ہو ‘ چاہے ایک بشر اپنے اعلیٰ مقام معرفت و مناجات میں ہو ‘ ایسے مقامات ہی بعض متعبین انبیائے سابقہ کے لیے مغالطے کا سبب بنے ہیں۔ ایسے ہی مقامات پھسل کر عقیدت مندوں نے بعض انبیاء کو خدا کا بیٹا قرار دینے کے افسانوی عقائد گھڑے یا انہوں نے بندے اور خدا کے درمیان بندگی اور خدائی کے تعلق کے سوا کسی اور قسم کے رابطے کا تصور اپنایا۔ یہی وجہ ہے کہ جب انبیاء کی تکریم اور اعزاز کا مقام آتا ہے تو قرآن کریم میں ان کے لیے بندے کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ تصور یہ دلانا مقصود ہوتا ہے کہ وہ اعلیٰ اور بلند مقام ہے جس تک کوئی بشر ترقی کرسکتا ہے۔
یہاں بتایا جاتا ہے کہ اپنے اس بر گزیدہ بندے پر قرآن نازل کرنے کا مقصد لیکون للعلمین نذیرا (25 : 1) ” تاکہ وہ سارے جہاں کے لیے خبردار کردینے والا ہو “۔ یہ آیات مکی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نبی ﷺ کو ابتداء ہی سے پوری دنیا کے لیے رسول مقرر کردیا گیا تھا۔ بعض مستشرقین نے جو یہ دعویٰ کیا ہے کہ دعوت اسلامی ابتداء میں ایک مقامی دعوت تھی لیکن بعد میں جب اسے عالمی فتوحات حاصل ہوگئیں تو اس نے ایک عالمی تحریک کی شکل اختیار کرلی۔ ان لوگوں کی یہ رائے غلط تھی ‘ یہ دعوت ابتداء ہی سے عالمی تھی۔ اگر قرآن کی تعلیمات پر پوری طرح غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مزاج ہی عالمی ہے۔ اس دعوت کو پھیلانے کے لیے اسلام نے جو طریق کار اور جو وسائل اختیار کیے وہ سب کے سب عالمی تھے۔ اور ان تعلیمات کا مقصد ہی یہ تھا کہ پوری انسانیت کو ایک دور سے نکال کر دوسرے دور میں داخل کیا جائے۔ اس کے اندر سے ایک نظام کو ختم کر کے اسے ایک دوسرا نظام دیا جائے اور یہ کام اس کتاب فرقان کے ذریعے کیا جائے جو اللہ نے تمام جہاں کے لوگوں کو انجام بد سے خبردار کرنے کے لیے نازل کی ہے۔ اور اپنے بندے پر نازل کرے تاکہ وہ تمام لوگوں کے لیے خبردار کرنے والے کا کام کرے۔ یہ دعوت تو عالمی تھی لیکن رسول اللہ ﷺ چونکہ مکہ میں رہنے والے تھے اس لیے ان کا پہلا مقابلہ اہل مکہ ہی سے ہونا تھا۔ اس لیے اس دعوت کا انکار اور مقابلہ اہل مکہ نے کیا تھا۔
غرض وہ ذات بڑی متبرک ہے جس نے اپنے اس عظیم بندے پر یہ کتاب نازل کی جو حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی ہے اور جو ایک معیار حق ہے۔
(الذی لہ ملک السموات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تقدیرا) (25 : 2) ” وہ جو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مالک ہے ‘ جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا ‘ جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے ‘ جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ‘ پھر اس کی تقدیر مقرر کی “۔
یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے لیے اسم ذات کے استعمال کے بجائے اسم موصولہ کا استعمال ہوا یعنی الذی مقصد یہ ہے کہ جن صفات کا ذکر کیا جارہا ہے ان کے ساتھ اللہ کا دائمی اور مسلسل تعلق ہے۔
الذی لہ ملک السموت والارض (25 : 2) ” وہ جو زمین و آسمان کا مالک ہے “۔ زمینو آسمان پر اس کا مکمل کنٹرول ہے۔ یہ اس کے قبضہ میں ہیں۔ وہ ان کے اندر پوری طرح متصرف ہے اور زمین و آسمان کے اندر تمام تغیرات اس کی مرضی اور حکم سے رونما ہوتے ہیں۔
ولم یتخذ ولدا (25 : 2) ” اس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا “۔ تناسل تو وہ قدرتی قانون ہے جسے اللہ نے اپنی مخلوق کے اندر جاری کیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ ” زندگی “ کا تسلسل قائم رہے۔ جہاں تک ذات باری کا تعلق ہے تو وہ جب ہمیشہ باقی ہے اور لازوال ہے تو وہ سلسلہ تناسل کی محتاج ہی نہیں ہے۔
ولم یکن لہ شریک فی الملک (25 : 2) ” جس کی بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے “۔ زمین و آسمان کے اندر جس قدر مخلوق ہے اگر اس کا مشاہدہ اور تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس کا نقشہ کسی ایک ہی خالق نے تخلیق کیا ہے۔ ہر چیز کے اندر ایک ہی ناموس قدرت ہے اور تمام مخلوق کے اندر تصرف اور تغیر بھی ایک ہی ذات کا نظر آتا ہے۔
وخلق کل شیء فقدر ہ تقدیرا (25 : 2) ” جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی۔ اس کا ایک حجم اور اس کی ایک شکل مقرر کی۔ اس کے لیے ایک کام اور فرض منصبی متعین کیا۔ اس کا زمان و مکان متعین کیا۔ اور اس کو اس کائنات کے عظیم وجود کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔
اس کائنات کے وجود اور انداز کے انداز تخلیق و ترکیب پر جن علماء نے غور کیا ہے اور جو انسان بھی اس پر کبھی غور کرے گا وہ حیران رہ جائے گا۔ جوں جوں تخلیق کائنات کے راز ہائے نہفتہ واشگفتہ ہوں گے اس کو یقین ہوتا جائے گا کہ یہ کائنات از خود بطور انفاق وجود میں نہیں آگئی ہے۔ اس کی ترکیب اس قدر دقیق اور باریک ہے کہ انسان اس کے مظاہر اور اثرات ہی کو معلوم کرنے سے عاجز ہے جبکہ ہم نے ابھی تک اس کائنات کا ایک حقیر پہلو ہی مشاہدہ کیا ہے۔ لیکن جوں جوں ہماری دریافت آگے بڑھتی ہے۔ ہمیں اس کائنات کے اندر نہایت ہی حکیمانہ ضوابط کار فرما نظر آتے ہیں۔ یہ ضوابط اس کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ ہمارا علم جس قدر آگے بڑھتا ہے ہمیں یہ آیت اچھی طرح سمجھ آجاتی ہے۔
وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا (25 : 2) ” اس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک مکمل تقدیر مقرر کی “۔ مسٹراے کریسی مورسن ‘ صدر سائنس اکیڈمی نیوریارک ‘ اپنی کتاب ” انسان ایکلا نہیں کھڑا ہے “ میں لکھتے ہیں :” اس حقیقت کو دیکھ کر انسان حیرت سے دہشت زدہ ہوجاتا جب وہ اس کائنات کی موجودہ شکل میں منظم کیے جانے پر غور کرتا ہے۔ یہ نہایت ہی حکیمانہ تنظیم ہے۔ اگر زمین کا چھلکا اپنی موجودہ مقدار کے مقابلے میں چند قدم اور زیادہ دیر ہوتا تو اور نباتات کا وجود ہی ختم ہوجاتا “۔
” اگر ہوا اپنے موجودہ مقام سے ذرا زیادہ اونچی ہوتی تو آج جو لاکھوں شاب ثاقب بالائی فضا می جل جاتے ہیں ‘ ان کی زد اس کرئہ ارضی پر پڑتی کیونکہ ان شابوں کی رفتار 46 میل فی سیکنڈ ہوتی ہے۔ اس طرح یہ جہاں گرتے ‘ وہاں پر اس چیز کو جلا دیتے جو جلنے کے قابل ہوتی اور اگر ان کی رفتار کم ہو کر بندوق کی گولی کی مقدار پر آجائے تو یہ سب زمین پر آکر چپک جاتے اور اس کے خوفناک نتائج نکلتے۔ رہا انسان تو اس کے پاس سے اگر ایک چھوٹا سا شہاب ثاقب گزر جائے جس کی رفتار بندوق کی گولی سے نوے گنازیادہ ہوتی ہے تو صرف اس کے گزرنے کی رفتار کی گرمی سے وہ چھوٹے چھوٹے ڈروں میں بدل جاتے “۔
” اللہ نے اس ہوا کو ایک خاص مقدار کے مطابق کثیف بنایا ہے اور اس کی اس کثافت سے وہ شعاعیں گزرسکتی ہیں جو فصلوں پر وہی اثرات ڈالتی ہیں ‘ جو جراثیم کو قتل کرتی ہیں اور وٹامن پیدا کرتی ہیں ‘ لیکن یہ شعاعیں انسان کو نقصان نہیں پہنچاتیں الا یہ کہ انسان ان کے اندر ضرورت سے زیادہ رہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ زمین سے ہر وقت زہریلی گیس نکلتی رہتی ہیں لیکن ہوا ان گیسوں سے متاثر ہو کر اس مسلسل آلوگدگی کی وجہ سے بھی اس کی وہ نسبت نہیں بدلتی جو صحت انسانی کے لیے ضروری ہے۔ اور اس توازن کو یہ وسیع سمندر قائم رکھتے ہیں جن کی وجہ سے ہر قسم کی زندگی ‘ غذا ‘ بارش معتدل جائے رہائش اور نباتات کو زندگی حاصل ہوتی ہے اور خود انسان کی زندگی قائم ہے “۔
” اس ہوا میں اس وقت آکسیجن 21 فیصد ہے ‘ اگر یہ بڑھ کر 50 فیصد ہوجائے تو وہ تمام مواد جو اس وقت جلنے کے قابل ہے ‘ سب کا سب آگ پکڑ لے۔ ایک چنگاری جنگلات کو آگ لگا دے اور تمام جنگلات ایک دھماکے سے اڑ جائیں اور اگر ہوا کے اندر آکسیجن کی مقدار 10 فیصد ہوجائے یا اور کم ہوجائے تو انسانی زندگی شاید صدیوں بعد اپنے آپ کو اس نسبت کے ساتھ ساتھ ہم آہنگ تو کر ہی دے لیکن انسانی تمدن موجودہ بیشمار چیزوں سے محروم ہوجائے ‘ مثلاً آگ اور دیگر انرجیز ہے “۔
” ان مخلوقات کی ضابطہ بندی اور ان کے اندر قدرتی توازن بھی نہایت ہی عجیب ہے کہ کوئی حیوان ‘ مخواہ وہ جس قدر عظیم الجثہ اور ہوشیار کیوں نہ ہو ‘ اس کے لیے اس جہاں پر غلبہ حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔
ہاں انسان نے یہ کام کیا کہ اس نے نباتات اور حیوانات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرکے قدرت کے پیدا کردہ اس توازن کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ اور انسان کو اس کی اس حرکت کی سخت سزا بھی ملی اس طرح کہ اس توازن کو خراب کرنے کی وجہ سے حیوانات ‘ حشرات اور نباتات کو مختلف بیماریوں کو سامنا کرنا پڑا “۔
” وجود انسان کے حوالے سے اس توازن کی جو اہمیت ہے اس کی حقیقت درج ذیل واقعہ سے اچھی طرح معلوم ہو سکتی ہے۔ کئی سال ہوئے آسٹریلیا میں ایک قسم کے خاردار خربوزے کی کاشت کی گئی۔ یہ کاشت بطور حفاظتی باڑ کی گئی لیکن یہ فصل اس قدر پھیل گئی کہ اس نے تھوڑے ہی عرصہ میں اس قدر رقبے کو گھیر لیا جو انگلینڈ کے برابر تھا۔ اس نے شہروں کے شہر اجاڑ دیئے اور لوگوں کی فصل تباہ ہوگئی ‘ یہاں تک کہ لوگوں کے لیے فضل بونا مشکل ہوگئی۔ لوگوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح اس کے پھیلائو پر کنٹرول کیا جائے مگر ممکن ہی نہ ہوا۔ پورے آسٹریلیا کے لیے یہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ اس پر خار دار خربوزے کی یہ فضل قابض ہوجائے ‘ کوئی چیز اس کے لیے رکاوٹ نہ تھی “۔
” علماء حشرات الارض پوری دنیا میں پھیل گئے ‘ تحقیقات شروع کردی یہاں تک کہ انہوں نے ایک کیڑا دریافت کرلیا جس کی خوراک صرف یہ خربوزہ تھا۔ یہ کیڑا بھی اسی تیزی سے پھیل رہا تھا جس تیزی سے یہ خاردار خربوزہ پھیلتا تھا۔ آسٹریلیا میں اس کیڑے کے سامنے بھی کوئی طبعی رکاوٹ نہ تھی ‘ یہ کیڑا اس قدر پھیلا کہ اس نے خار دار خربوزے کو ختم کر کے رکھ دیا۔ جو نہی یہ خربوزہ ختم ہوا اس کیڑے نے بھی ختم ہونا شروع کردیا۔ اس کی نہایت ہی قلیل مقدار باقی رہ گئی۔ یہ گویا قدرت نے اس خربوزے کے پھیلائو کے خلاف باقی رکھی۔ یوں قدرت نے ضابطے اور تواز کو قائم رکھنے کا یہ انتظام کیا “۔
” سوال یہ ہے کہ ملیریا کے مچھر نے کیوں نہ اس پوری دنیا پر غلبہ پایا کہ ہمارے آباء واجدا اس سے مرجاتے۔ یا اس سے بچائو کی کوئی تدبیر وہ حاصل کرلیتے۔ اسی طرح زرد بخار کے مچھر کے بارے میں بھی یہی کہا جاسکتا ہے ‘ ایک موسم میں تو اس نے اس قدر پیش قدمی کی کہ نیویارک تک پہنچ گیا۔ بحر منجمد میں بھی کئی قسم کے مچھر پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا زیادہ پھیلائو کن اسباب کی وجہ سے نہ ہوا۔ اور یہ اپنے گرم منطقوں تک ہی محدود رہی اور اس طرح اس کی افواج کی زد سے انسان بچ سکا ورنہ کرئہ ارض پر سے انسان کا وجود ہی ختم ہوجاتا۔ انسان طاعون ‘ دوسری مہلک وبائوں ‘ مہلک جراثیم کے بارے میں یہ کہہ سکتا ہے کہ خود انسان کے پاس ان چیزوں سے بچنے کی دوائیں توکل تک نہ تھیں پھر کیسے بچا۔ پھر کل تک تو انسان حفظان صحت کے بنیادی اصولوں سے بھی نا بلد تھا۔ یکا ایسے حالات میں نوع انسان کا باقی رہنا ایک معجزہ نہیں ہے۔ “
” پھر دیکھئے کہ حشرات الارض کے اس طرح کے پھیپھڑے نہیں ہیں جس طرح کہ انسان کے ہیں۔ یہ حشرات بعض نالیوں کے ذریعے سانس لیتے ہیں جو ان کے جسم میں ہیں۔ جب یہ حشرات ایک حد تک بڑے ہوجاتے ہیں تو ان نالیوں سے اس قدر آکسیجن داخل نہیں ہو سکتی جو ان کے جسم کے لیے کافی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی کیڑا چند انچ سے زیادہ بڑا نہیں ہوتا۔ اسی طرح ان حشرات کے پر بھی زیادہ طویل نہیں ہوتے۔ ان کیڑے مکوڑوں کی تخلیق اور تشکیل کے نظام کی روہی سے وہ یاک مقدار سے زیادہ بڑے نہیں ہوسکتے۔ چناچہ قدر کے نظام نے ان کے پھیلائو کو روک دیا ہے۔ اس طرح اس دنیا کو ان کی زد سے بچا لیا گیا۔ اگر حشرات الارض کے لیے تجدید کا یہ اصول نہ رکھا گیا ہوتا تو اس کرئہ ارض پر انسان کا زندہ رہنا ہی ممکن نہ تھا۔ ذرا فطری انسان کے بارے میں سوچیں کہ اس کے مقابلے میں شیر کے جسم کے برابر سرخ مکھی یا سا کے مقابلے میں شیر کے جسم کے برابر مکڑی آجائے تو کیا انسان ایسی چیزوں کا مقابلہ کرسکتا ہے ؟ “
” حیوانات کی جسمانی طبیعی ساخت میں بعض دوسرے معجزات بھی ہیں کہ اگر حیوانات کے لیے یہ قدرتی انتظامات نہ ہوتے تو کوئی حیوان بلکہ کوئی پودا اس جہاں میں موجود ہی نہ ہوتا “۔
آئے دن انسانوں پر ایسے انکشافات ہو رہے ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق کے اندر نہایت دقیق اور لطیف توازن رکھا ہوا ہے اور کائنات کی تمام مخلوقات کے لیے ایک متعین مقدار اور وزن مقرر ہے۔ جوں جوں انسانی علم آگے بڑھتا ہیانسان اس آیت کے مفہوم کو سمجھنے لگتا ہے۔
وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا (25 : 2) ” اس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی “۔ لیکن یہ بےحد افسوسناک بات ہے کہ مشرکین اس حقیقت کو پا نہیں رہے۔
(واتخذوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولانشورا) (25 : 3) ” لوگوں نے اسے چھوڑ کر ایسے معبود بنا لیے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں جو خود اپنے لیے کسی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ‘ جو نہ مارتے ہیں اور نہ جلا سکتے ہیں اور نہ مرے ہوئے کو پھر اٹھا سکتے ہیں “۔
یوں اللہ تعالیٰ ان کے خود ساختہ خدائوں کو ‘ خدائی کے تمام خصائص سے عاری کردیتا ہے۔
لایخللقون شیئا (25 : 3) ” وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے “۔ جبکہ رب تعالیٰ نے تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے۔
وھم یخلقون (25 : 3) ” وہ خود پیدا کیے ہوئے ہیں “۔ یعنی ان کو خود اللہ نے پیدا کیا ہے ‘ اور ان کو وجود بخشا ہے۔ سب کا خلاق اللہ ہے ‘ چاہے وہ ملائکہ ہوں ‘ جن ہوں ‘ بشر ہوں ‘ درخت ہوں یا پتھر ہوں۔
ولایملکون لانفسھم ضرا ولا نفعا (25 : 3) ” وہ خود اپنے لیے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے “۔ ان کی بندگی کرنے والوں کا نفع و نقصان تو دور کی بات ہے۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ کوئی اپنے لیے نفع کا اختیار نہیں رکھتا مگر نقصان تو دے سکتا ہے مگر یہ الہہ ایسے ہیں کہ اپنے لیے کسی نقصان کا اختیار بھی نہیں رکھتے۔ اس لیے اس کو نفع سے بھی پہلے لایا گیا ہے۔ یعنی اپنے آپ کو نقصان پہنچانا تو بہت ہی آسان کام ہے لیکن یہ لوگ وہ بھی نہیں پہنچا سکتے۔ اس کے بعد ان خصائص کا ذکر کیا جاتا ہے جو صرف اللہ کی خصوصیات میں سے ہیں۔
لایملکون موتا ولا حیوۃ ولا نشورا (25 : 3) ” جو نہ مار سکتے ہیں ‘ نہ جلا سکتے ہیں اور نہ مارے ہوئوں کو پھر اٹھا سکتے ہیں “۔ نہ وہ زندہ کو مار سکتے ہیں ‘ نہ زندگی کو پیدا کرسکتے ہیں ‘ اور نہ مردے کو دوبارہ زندگی دے سکتے ہیں ۔ اگر وہ یہ کام نہیں کرسکتے تو پھر وہ کس چیز کے خدا ہیں۔ اور وہ کیا بات ہے جس کی وجہ سے مشرکین نے ان کو خدا بنا رکھا ہے۔
یہ کھلی گمراہی ہے اور اس کے بعد ان سے وہ باتیں بعید ‘ نہیں جو وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف کہتے ہیں۔ کیونکہ جب وہ اللہ کے بارے میں یہ باتیں کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ کے بارے میں وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ ان سے سعبد نہیں ہے۔ کسی انسان کی کیا اس سے بھی کوئی بات قبیح ہو سکتی ہے کہ وہ اللہ پر الزام لگائے ‘ حالانکہ اللہ مالک خالق اور مدبر اور مقدر ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا گناہ سب سے گھنائو نا ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا ” یہ کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے حالانکہ اس نے تمہاری تخلیق کی ہے “۔ ان تجعل للہ ندا وھو خلقک (متفق علیہ)
مقام الوہیت پر ان کی گستاخی کے ذکر کے بعد اب مقام رسالت پر ان کی دست درازی کا ذکر کیا جاتا ہے اور اس پر ایسی تنقید کی جاتی ہے۔ جس سے ان کے اس اعتراض کا چھوٹا اور پوچ ہونا اچھی طرح ظاہر ہوجاتا ہے۔
Ayahs 25:4–6(وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غفورا رحیما) (4 تا 6) ” “۔ “۔
یہ تھا وہ جھوٹ جو اہل قریش نبی ﷺ پر باندھتے تھے۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ بہت ہی بڑا افتراء ہے۔ کیونکہ قریش کے کبراء عوام کو جن باتوں کی تعلیم دیتے تھے ‘ ان سے یہ بات کس طرح مخفی رہ سکتی تھی کہ حضرت محمد ﷺ جس قرآن کی تلاوت فرما رہے ہیں وہ بشری اسالیب کلام سے بالکل ایک مختلف کلام ہے۔ وہ اس بات کو اپنے دل میں اچھی طرح محسوس کرتے تھے کیونکہ وہ انسانی اسالیب کلام سے اچھی طرح واقف تھے۔ جب وہ قرآن سنتے تھے تو وہ خود بھی اس سے بےحد متاثر ہوجاتے تھے۔ پھر بعثت سے قبل حضرت محمد ﷺ کے بارے میں ان کو پورا پورا یقین تھا کہ حضرت محمد ﷺ صادق اور امین ہیں۔ وہ نہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔ نہ خیانت کرنے والے تھے۔ پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ اللہ پر جھوٹ باندھیں۔ ایک بات اللہ نے نہیں کہی اور حضرت محمد ﷺ یہ کہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔
وہ ایک توعناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ الزام لگاتے تھے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کو دوسرے عرب کے مقابلے میں مکہ میں ایک قسم کی دینی سیادت حاصل تھی اور اس کی وجہ سے عربوں میں ان کا ممتاز مقام تھا ‘ اس وجہ سے وہ عام عربوں میں یہ الزام پھیلاتے تھے کیونکہ عام عرب اسالیب کلام سے واقف نہ تھے۔ اور نہ وہ قرآن اور عام کلام میں فرق کرسکتے تھے۔ اس لیے وہ کہتے۔
(ان ھذا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قوم اخرون) (25 : 4) ” یہ فرقان ایک من گھڑت چیز ہے اور اس پر اسے خود گھڑ لیا ہے اور اس پر کچھ دوسرے لوگوں نے اس کی مدد کی ہے “۔ روایات میں تین یا زیادہ عجمی غلاموں کے نام لیے گئے ہیں کہ قوم اخرون (25 : 4) میں یہ لوگ اس طرف اشارہ کرتے تھے۔ یہ بات کس قدر بےتکی تھی۔ یہ اس قابل ہی نہ تھی کہ اس پر کوئی بحث کی جائے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس قسم کا کلام چند عجمی غلاموں کی امداد سے بنایا جاسکتا تھا تو آخر انہوں نے اس کے جواب میں کیوں ایسا کلام نہ بتایا۔ اس طرح تو وہ بڑی آسانی کے ساتھ حضرت محمد ﷺ کے دعوائے نبوت کو باطل کرسکتے تھے جبکہ قرآن کریم نے ان کو بار با چیلنج بھی کیا اور وہ بار بار ایسا کلام لانے میں ناکام بھی رہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے یہاں ان کی اس بات کا کوئی جواب ہی نہیں دیا بلکہ اس کی واضح تردید کردی۔
فقد جآء و اظلما وزورا (25 : 4) ” بڑا ظلم اور سخت جھوٹ ہے جس پر یہ لوگ اتر آئے ہیں “۔ یہ سچائی پر ظلم کرتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ پر ظلم کرتے ہیں ‘ اپنے نفوس پر ظلم کرتے ہیں ‘ ان کا جھوٹ واضح ہے اور بادی النظر میں باطل ہے۔ جس کی تردید کی ضرورت بھی نہیں ہے۔
مزید الزامات حضور اکرم ﷺ پر اور قرآن مجید کے متعلق
(وقالوا۔۔۔۔۔۔۔ واصیلا) (25 : 5) ” کہتے ہیں کہ یہ پرانے لوگوں کی لکھی ہوئی چیزیں ہیں جنہیں یہ شخص نقل کراتا ہے اور وہ اسے صبح و شام سنائی جاتی ہیں “ قرآن کریم نے اقوام سابقہ کے قصص نقل کیے ہیں۔ یہ عبرت ‘ نصیحت ‘ تربیت اور ہدایت کی خاطر۔ ان سچے قصوں کے بارے میں وہ کہتے ہیں۔
اساطیرالآ ولین (25 : 5) کہ یہ پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے کہا کہ یہ اس کے لیے نوٹ کرلی جائیں تاکہ اس پر صبح و شام پڑھی جائیں کیونکہ حضور ﷺ خود تو امی تھے ‘ لکھ پڑھ نہ سکتے تھے اور خود حضور اکرم ﷺ ان کہانیوں کو پھر خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ ان کے اس دعویٰ کے اندر ہی شکست پوشیدہ ہے کیونکہ ان کا دعویٰ ہی بےبنیاد ہے۔ اس قدر پوچ کہ اس پر بحث کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ قرآن کریم نے قصص کو جس انداز میں پیش کیا ہے۔ وہ جس مقصد کے لیے لائے جاتے ہیں۔ ان سے جو استدلال کیا جاتا ہے اور جس طرح نفاست کے ساتھ وہ اپنے مقصد کو پورا کرتے ہیں اور ان سے جس گہرائی کے ساتھ مقاصد عالیہ ثابت ہوتے ہیں ‘ ان میں اور پرانے قصے کہانیوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ کیونکہ پرانے قصوں میں کوئی فکر اور کوئی نظر یہ نہیں ہوتا ‘ نہ ان قصوں کے پیش نظر کچھ مقاصد ہوتے ہیں۔ یہ قصے محض تفریح کی لیے اور فارغ اوقات میں اپنے آپ کو مصروف کرنے کے لیے ‘ لکھے اور پڑھے جاتے ہیں فقط۔ (تفصیلات کے لیے دیکھئے ” التصویر الغنی فی القرآن “ کا فصل ” القصہ “۔
انہوں نے قرآن کریم کو اساطیر الاولین (25 : 5) کہا ہے ‘ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ قصے بہت ہی پرانے زمانے کے ہیں۔ لہذا محمد ﷺ پر لازماً وہ لوگ پڑھتے ہوں گے۔ ان کا علم حاصل کرنے چلے آتے ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کے اس الزام کا رد یوں کرتا ہے کہ بیشک حضرت محمد ﷺ پر ان کا نزول اس ذات کی طرف سے ہورہا ہے جو ہر علم والے سے زیادہ علیم ہے۔ وہ تمام اسرار و رموز کا جاننے والا ہے یعنی اللہ اور اللہ پر اولین اور آخرین کا کوئی علم پوشیدہ نہیں ہے۔
قل انزلہ الذی یعلم السر فی السموت والارض (25 : 6) ” اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ اسے نازل کیا ہے ‘ اس نے جو زمین و آسمان کا بھید جانتا ہے “۔ قصص گویا ن دنیا کہاں اور وہ علیم وخبیر کہاں۔ انسان کا محدود علم اور ارض و سما کے وسیع علم رکھنے والے اللہ کے علم کامل و شامل کا مقابلہ ہی کیا ہے۔ یاک حقیر قطرے اور ایک بحرنا پیدا کنار کا کیا مقابلہ ہوسکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ بڑی غلطی کررہے ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر یہ بوگس اور پوچ الزام عائد کرتے ہیں جبکہ وہ اللہ کے ساتھ شرک کے قائل ہیں حالانکہ اللہ نے ان کی تخلیق کی ہے۔ لیکن اس کے باوجود توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور اس عظیم گناہ سے وہ باز آسکتے ہیں۔ اللہ جو زمین و آسمانوں کے بھیدوں کا واقف ہے۔ وہ ان کی افتراء پر دازیوں اور ان کی سازشوں سے خوب خبردار ہے لیکن اس کے باوجود وہ غفور و رحیم ہے۔ انہ کان غفورا رحیما (25 : 6)
اسی موضوع پر بات مزید آگے بڑھتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ان کے مزید اعتراضات کہ آپ بشر کیوں ہیں اور دسرے لفو مطالبات کو یہاں بیان کیا جاتا ہے۔
Ayahs 25:7–8(وقالوا مال۔۔۔۔۔۔۔ قصورا) (7 تا 10)
یہ کیسا رسول ہے جو کھاتا پیتا ‘ چلتا پھرتا انسان ہے اور تمام تصرفات و حرکات انسانوں جیسے کرتا ہے۔ یہ وہی گھسا پٹا اعتراض ہے جو لوگ ہمیشہ رسولوں پر کرتے چلے آئے ہیں کہ فلاں شخص نے رسول ہونے کا دعویٰ کردیا ہے۔ دیکھو بھائی فالاں کا بیٹا بھی اب رسول بن گیا۔ یہ تو ہم جیسا انسان ہے جس طرح ہم کھاتے پیتے ہیں اور چلتے پھرتے ہیں۔ یہ بھی ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ ہو اور اللہ کی طرف سے اس پر وحی آرہی ہو۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کا اتصال اور رابطہعالم بالا سے ہوجائے۔ اور یہ عالم بالا سے ہدایات لے رہا ہو۔ جبکہ وہ ہمارے جی اس گوشت و پوست کا بنا ہوا انسان ہے۔ آخر ہماری طرف وحی کیوں نہیں آتی۔ اور وہ جس علم کا دعویٰ کرتا ہے وہ ہمارے پاس کیوں نہیں آتا۔ جبکہ ہمارے اور اس رسول کے درمیان کوئی بات ایسی نہیں ہے جو امتیازی ہو۔
اس لحاظ سے یہ بات واقعی انوکھی معلوم ہوتی ہے اور مسعبد نظر آتی ۔ لیکن دوسرے لحاظ سے طبعی اور معقول ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کے اندر اپنی روح پھونکی ہے اور اسی روح کی وجہ سے انسان ‘ انسان بنا ہے اور اسی وجہ سے اللہ نے اسے خلافت ارضی سپرد کی ہے حالانکہ انسان ایک محدود علم رکھتا ہے۔ اس کا تجربہ محدود ہے اور اس کے پاس بہت کم وسائل ہیں اس لیے یہ ممکن ہی نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ انسان کو یہ عظیم فریضہ ادا کرنے کے لیے بےآسرا اور بغیر معاونت کے چھوڑ دے اور بغیر ہدایت اور راہنمائی کے یوں ہی چھوڑ دے۔ جبکہ اس کے اندر اللہ نے یہ صلاحیت بھی رکھی کہ وہ عالم بالا سے تعلق بھی قائم کرسکتا ہے۔ چناچہ یہ بات تعجب خیز نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں میں سے کسی ایک انسان کو اس مقصد کے لیے چن لے کہ وہ عالم بالا کی ہدایات اخذ کرے اور لوگوں تک پہنچائے۔ اور اس شخص کو اللہ اس مقصد کے لیے خصوصی استعداد بھی دے تاکہ جب بھی ان پر کوئی مسئلہ مشتبہ ہو تو یہ شخص اللہ کی ہدایت کی روشنی میں اسے حل کر دے اور جب بھی راہ ہدایت کے اختیار کرنے میں ان کو ضرورت ہو وہ ان کی معاونت کرے۔
یہ تو انسان کے لیے ‘ اس پہلو سے ‘ اور اس شکل میں ایک بہت بڑا اعزاز ہے لیکن بعض لوگ ایسے ہیں جو اس اعزاز کو سمجھتے نہیں ہیں۔ نہ وہ انسان کے اس اعزاز اور تکریم کی قدر کرتے ہیں۔ اس لیے جن لوگوں کے ذہن میں یہ بات نہیں بیٹھتی وہ اس اعزاز کا انکار کرتے ہیں کہ انسانوں میں سے کوئی شخص کس طرح رسول ہو سکتا ہے۔ انسانوں کے مقابلے میں اس مقصد کے لیے فرشتہ زیادہ موزوں تھا۔
(لو لآ انزل۔۔۔۔۔۔۔۔ نذیرا) (25 : 7) ” کیوں نہ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجا گیا جو اس کے ساتھ ساتھ چلتا اور نہ ماننے والوں کو دھمکاتا “۔ جبکہ اللہ نے تمام فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ وہ انسان کو سجدہ کریں کیونکہ اللہ نے انسان کو اس کی بعض خصوصیات کی وجہ سے مکرم بنایا تھا اور یہ خصائص خود انسان کے اندر عالم بالا کی طرف سے پھونکی ہوئی روحانیت کی وجہ سے پیدا ہوئے تھے ۔
پھر ایک انسان کو انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجنے کی ایک اور حکمت بھی ہے۔ ایک انسان انسانوں جیسے احساسات رکھتا ہے وہ انسان جیسا ذوق رکھتا ہے۔ پھر اس کے تجرباتا بھی ایسے ہوتے ہیں جو دوسرے انسانوں جیسے ہوتے ہیں۔ وہ ان کے دکھ درد اور ان کی خواہشتا کو انسان ہونے کے ناطے سمجھ سکتا ہے۔ وہ ان کے جذبات اور میلانات کو بھی سمجھ سکتا ہے۔ وہ انسانوں کی ضروریات اور ان کی ذمہ داریوں سے بھی واقف ہوتا ہے۔ چناچہ وہ ان کی کمزوریوں اور نقائص کا خیال کرتا ہے ‘ وہ ان کی قوت اور ان کی استعداد سے پر امید بھی ہوتا ہے۔ اور ان کو لے کر قدم بقدم آگے چلتا ہے ‘ وہ ان کے تاثرات اور ان کے ردعمل سے اچھی طرح باخبر ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ بھی انہی میں سے ایک ہے۔ اور انہی کی ہدایت اور راہنمائی کے لیے مبعوث ہا ہے اور اللہ کی ہدایت اور امداد سے ان کی راہنمائی کررہا ہے۔
پھر ان لوگوں کے لیے بھی ممکن ہے کہ وہ حضرت رسول اکرم ﷺ کی پیروی کریں کیونکہ وہ انہی جیسا انسان ہے۔ وہ ان انسانوں کو لے کر آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے۔ وہ ان کے اندر رہ کر ایک اخلاقی نمونہ پیش کرتا ہے۔ اور ان کو عملاً ان اخلاق و فرائض کی تعلیم دیتا ہے جو اللہ نے ان پر فرض کیے ہیں اور جن کا اللہ ان سے مطالبہ فرماتا ہے۔ گویا وہ اس نظریہ اور عمل کا ایک نمونہ ہوتا ہے جسے وہ لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اس کی زندگی ‘ اس کے اعمال اور اس کی تمام حرکات ایک کھلی کتاب ہوتی ہے ‘ جسے وہ ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور وہ اس کتاب کی ایک ایک سطر کو نقل کرتے ہیں۔ اور اس کتاب کے ایک ایک لفظ کو حقیقت کا روپ عطا کرتے ہیں اور وہ دیکت ہیں کہ ان کا رسول ہر بات کو عملاً پیش کرتا ہے تو وہ بھی اس کی تقلید کرتے ہیں کیونکہ یہ نظریہ اور ہدایت ایک شخص کی زندگی میں عملاً نظر آتی ہے۔ اگر رسول کوئی فرشتہ ہوتا تو لوگ نہ اس کے عمل دیکھ سکتے اور نہ اس کی تقلید کے بارے میں سوچ سکتے۔ کیونکہ ان کے اندر آغاز ہی سے یہ بات آجاتی کہ وہ تو ایک فرشتہ ہے۔ اس کا مزاج ہی ایسا ہے اور ہم ضعیف انسان ہیں۔ ہم اس جیسا طرز عمل کب اختیار کرسکتے ہیں۔ یا ہم اس کی تقلید کس طرح کرسکتے ہیں یا اس جیسا نمونہ وہ کس طرح پیش کرسکتے ہیں۔
یہ تھی اللہ کی حکمت جس نے ہر چیز کی تخلیق کی اور اسے پوری پوری طرح برابر کیا۔ یہ اس کی حکمت تھی کہ اس نے انسانوں کی ہدایت کے لیے ایک انسان کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ وہ ان کی قیادت کرسکے اور رسول کے بشر ہونے پر اعتراض دراصل اس حکمت سے جہالت کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ پھر اس میں اللہ کی طرف سے انسان کی عزت افزائی بھی ہے اور جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں وہ انسان کی تکریم کی نفی کرتے ہیں۔
ان کا دوسرا اعتراض اس سے بھی زیادہ سادگی اور جہالت پر مبنی تھا کہ یہ رسول بازاروں میں پھرتا ہے اور اپنی ضرورت کی چیزیں حاصل کرتا ہے اور محنت کرتا ہے تو کیوں اللہ نے اسے اس قدر دولت نہ دی کہ وہ اپنی ضروریات کی طرف سے بےغم ہوجائے۔ اور بغیر محنت کے اسے ضروریات ملتی رہیں۔
او یلقی الیہ کنز او تکون لہ جنۃ یا کل منھا (25 : 8) ” یا اس کے لیے کوئی خزانہ ہوتا یا اس کے پاس کوئی باغ ہی ہوتا جس سے یہ روزی حاصل کرتا “۔ اللہ نے یہ نہ چاہا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کوئی خزانہ ہوتا یا آپ ﷺ کسی بڑے باغ کے مالک ہوتے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو رسول اللہ ﷺ کو اپنی امت کے لیے ایک نمونہ بنارہا تھا تاکہ آپ ﷺ رسالت کے منصب کے فرائض کو اٹھائیں اور ان فرائض کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ اپنی امت کے دوسرے انسانوں کی طرح بطور انسان اپنی ذمہ داریاں خود اٹھائیں۔ اپنے رزق کے لیے خود سعی کریں تاکہ امت میں سے کوئی شخص یہ اعتراض نہ کرسکے کہ یہ شخص کوئی کاروبار کررہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ ‘ قناعت اختیار کرنے والے تھے۔ اس لیے آپ کو ضروریات زندگی کے لیے بہت زیادہ جدوجہد نہیں کرنی پڑتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ مبلغ رسالت کے فرائض کی ادائیگی کے لیے فارغ ہوگئے تھے۔ لہٰذا اس سلسلے میں آپ ﷺ کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں آئی۔ چناچہ آپ اپنی ضروریات کے لیے بھی بقدر ضرورت جدوجہد فرماتے تھے۔ اور رسالت کے فرائض بھی سرانجام دیتے تھے تاکہ آپ ﷺ کو نمونہ بنا کر آپ کی امت کا ہر فرد تبلیغ رسالت کے فرائض کا کچھ حصہ اپنے ذمہ لے اور اپنی ضروریات کے لیے بھی جدوجہد کرے۔ بعد کے ادوار میں دولت کا ایک سیلاب آپ ﷺ کے قدموں میں جاری ہوگیا۔ اور اللہ نے رسول کی زندگی کو اس پہلو سے بھی آزمایا تاکہ لوگوں کے لیے یہ پہلو بھی نمونہ ہو۔ چناچہ آپ نے کبھی دولت کے اس سیلاب کی طرف توجہ نہیں دی۔ آپ ﷺ ہوا کے طوفان کی طرح سخی تھے۔ چناچہ آپ ﷺ نے دولت مندی کے فتنے پر بھی قابو پایا۔ یوں لوگوں کے دلوں سے دولت مندی کی ہوس کو بھی نکال دیا۔ تاکہ لوگ یہ اعتراض نہ کریں کہ محمد ﷺ پیغام لے کر نکلے ‘ ایک غریب آدمی تھے ‘ آپ کی کوئی مالی سرگرمی نہ تھی ‘ نہ مالی حیثیت تھی اور اب آپ لاکھوں اربوں میں کھیل رہے ہیں۔ ہر طرف سے آپ پر مال و دولت کی بارش ہے لیکن حضور ﷺ نے دولت کے اس سیلاب کو بھی اپنے آپ سے دور رکھا اور دعوت اسلامی کے کام میں اسی طرح مشغول ہوگئے جس طرح کہ وہ زمانہ فقر میں مشغول تھے۔
مال کیا چیز ہے ‘ خزانوں کی حقیقت کیا ہے ؟ باغات کی کیا حیثیت ہے۔ جب ایک ضعیف اور فانی انسان خدا تک رسائی حاصل کرلیتا ہے تو پھر اس کے لیے اس پورے کرئہ ارض اور ما فیہا کی کوئی وقعت نہیں ہوتی بلکہ اس کے نزدیک اس پوری کائنات میں بسنے والی اس پوری مخلوقات کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ لیکن اس کی یہ حالت تب ہوتی ہے کہ جب اس نے خالق کائنات تک رسائی حاصل کرلی جو قلیل و کثیر کا بخشنے والا ہے لیکن اس وقت لوگ اس حقیقت کا ادراک کرنے سے قاصر تھے۔
وقال الظلمون ان تتبعون الا رجلا مسحورا (25 : 8) ” اور یہ ظالم کہتے ہیں تم تو ایک سحر زدہ آدمی کے پیچھے لگ گئے “۔ یہ وہ ظالمانہ بات ہے جو اللہ نے ان لوگوں کی زبان سے نقل کیا ہے۔ سورت اسرا میں بھی ان لوگوں کا یہ الزام لفظاً اللہ نے نقل فرمایا ہے۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا۔
انظر کیف ضربوا لک الامثال فضلوا فلا یستطیعون سبیلا (25 : 9) ” دیکھئے ‘ یہ لوگ آپ کے بارے میں کیسی باتیں کرتے ہیں ‘ یہ گمراہ ہوچکے ہیں ‘ اب ان کی استطاعت ہی میں یہ بات نہیں رہی کہ یہ راہ راست پالیں “۔ اس سورت اور سورة اسرا کا مضمون و موضوع ایک ہی جیسا ہے اور یہ دونوں سورتوں کی بات ایک ہی ماحول میں ہو رہی ہے۔ دونوں جگہ ان لوگوں نے یہ اعتراض کیا ہے ‘ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی ذات پر حملہ کیا ہے اور ذاتی نقص نکالا ہے یعنی وہ لوگوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ اس شخص کی عقل ماری گئی ہے ‘ کیونکہ یہ عجیب و غریب باتیں کرتا ہے ‘ ایک عام نارمل شخص ایسی باتیں نہیں کیا کرتا۔ لیکن اس اعتراض سے ان کے لا شعور سے یہ بات خود بخود باہر رہ گئی کہ رسول اللہ جو باتیں فرماتے ہیں وہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ عام طور پر بڑے سے بڑا عقلمند شخص بھی ایسی باتیں نہیں کرتا۔ یہ باتیں انسانی طاقت سے بالا باتیں ہیں۔ اس لیے ان پر رد کرتے وقت بھی اللہ نے ان کے اس رویے پر صرف تعجب کا اظہار کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔
Ayahs 25:9–10انظر کیف ضربوا لک الامثال (25 : 9) ” دیکھو ‘ یہ تمہارے بارے میں کیا حجتیں کرتے ہیں “۔
آپ ﷺ کو سحرزدہ لوگوں کے ساتھ مشابہ قرار دیتے ہیں ‘ کبھی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنی طرف سے باتیں بناتے ہیں ‘ کبھی کہتے ہیں کہ پرانے زمانے کی باتیں ہیں جو آپ لکھواتے ہیں۔ یہ سب گمراہی کی باتیں ہیں۔ اور سچائی سے دور کی باتیں ہیں۔ یہ سچائی کے تمام راستوں سے بےراہ ہوگئے ہیں۔ اور اب ان کے اندر ہدایت کی راہ پانے کی استطاعت ہی نہیں رہی۔
فلایستطیعون سبیلا (25 : 9) اب یہ بحث یوں ختم کی جاتی ہے کہ یہ لوگ جو تجاویز دیتے ہیں وہ احمقانہ ہیں۔ ان کے تصورات دنیا پرستی کے محدود دائرے میں محدود ہیں۔ یہ کنوئیں کے مینڈک کی طرح اپنی دنیا ہی میں مگن ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ رسالت ﷺ کے مقابلے میں چند ٹکٹوں کی قیمت زیادہ ہے لہٰذا رسول ﷺ کے پاس ٹکے ہونے چاہیں۔ اس پر ہدایت الہٰی کے بجائے خزانہ عامرہ نازل ہونا چاہیے تھا ‘ یا اس کے مقابلے میں ایک باغ اس کے پاس ہونا چاہیے تھا جس میں وہ صبح و شام کھاتا ۔ یہ تھی ان کی سوچ ‘ لیکن اگر اللہ چاہتا اور اس کی اسکیم یہ ہوتی تو وہ اپنے رسول ﷺ کو اس سے بھی زیادہ دیتا جس کا یہ کہتے ہیں۔
(تبرک الذی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قصورا (25 : 1) ” بڑا بابرکت ہے وہ جو اگر چاہے تو ان کی تجویز کردہ چیزوں سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر تم کو دے سکتا ہے۔ بہت سے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور بڑے بڑے محل “۔ لیکن اللہ کی مشیت یہ تھی کہ آپ کو ایسے باغات و محلات سے بھی زیادہ قیمتی دولت دے۔ یعنی باغات اور محلات دینے والے کے ساتھ تعلق اور دوستی۔ یہ شعور کہ محمد اس کی نگرانی میں ہیں۔ اس کے قبضے میں ہیں اس کی ہدایت اور توفیق کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ اور آپ ﷺ اس مٹھاس کو ہر وقت چکھتے رہتے ہیں۔ یہ روحانی غذا آپ کو ہر وقت دی جاتی ہے اور اس کے مقابلے میں جسمانی غذا کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ دنیا کا ما ومنال خواہ کم ہو یا زیادہ ‘ اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اے کاش کہ وہ اس فرق کو سمجھتے کہ آپ کو جو دولت دی گئی ہے وہ کس قدر قیمتی ہے۔ اور اس کے مقابلے میں دنیا کے باغ دراغ کچھ بھی نہیں۔
یہاں تک تو قرآن نے خدا اور رسول اللہ ﷺ پر ان کے اعتراضات کو نقل فرمایا ‘ اب بات ان کے فکر و نظر کے فساد کے ایک دوسرے میدان میں داخل ہوتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ ضلال بعید میں مبتلا ہیں اور یہ تو قیام قیامت کے منکر ہیں۔ یہ چونکہ قیامت کی جوابدہی کے منکر ہیں اس لیے یہ اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ باتیں کرتے ہیں۔ ظلم کرتے ہیں افتراء باندھتے ہیں کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق انکو قیامت کی جوابدہی کا کوئی ڈر نہیں ہے۔ اگر ان کے دل میں اللہ کے سامنے حاضر ہونے اور حساب دینے کا ڈر ہوتا تو وہ یہ افتراء پر دازیاں ہر گز نہ کرتے۔ یہاں اب قیامت کے مناظر میں سے ایک ایسا منظر لایا جاتا ہے جو سخت سے سخت دل کو بھی ریزہ ریز کردیتا ہے۔ جسک و دیکھ کر پوری طرح بجھے ہوئے دلوں میں بھی آگ لگ جاتی ہے۔ اور وہ بھی اس دن کی ہولناکی سے کانپ اٹھتے ہیں۔ ان کافروں کے لیے یہ ہولناکی اور اہل ایمان کے لیے یہ حسن انجام۔
Ayahs 25:11–16(بل کذبوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعیرا) (11) اذاراتھم من۔۔۔۔ وعدا مسولا ـ
یعنی وہ کفر اور ضلالت کی حدوں کو پار کرکے اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ قیامت کا انکار کر رہے ہیں۔ قرآن کا انداز تعبیر ” بل “ کا لفظ استعمال کر کے ان کی گمراہی یوں مجسم کرتا ہے کہ وہ اس راہ پر بہت دور چلے گئے ہیں یعنی پہلی باتوں کو چھوڑو ‘ انہوں نے تو قیامت کا انکار کردیا ہے۔ اس کے بعد یہ انکشاف کیا جاتا ہے کہ ان فتنہ پر دازون کے لیے کس قدر خوفناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔ یہ آگ ہے جو حاضر ہے ‘ دہکائی ہوئی ہے۔
واعتدنا۔۔۔۔ سعیرا (25 : 11) ” اور جو اس گھڑی کو جھٹلائے ‘ اس کے لیے ہم نے بڑھکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے “۔ یہاں قرآن کریم مجسم اور مشخص انداز میں آگ کو پیش کرتا ہے۔ تجسیم اور تشخیص قرآن مجید کا وہ انداز ہے جس میں ایسی اشیاء ایسے معافی اور ایسے مفہومات کو زندہ شخص کے انداز میں پیش کرتا ہے جن کے لیے زندہ ہونا ممکن نہیں ہے۔ چناچہ قرآن مجید مفاہیم و مناظر کو زندہ اشخاص کی شکل میں اس طرح پیش کرتا ہے کہ کلام کے اند اعلیٰ درجے کا اعجاز پیدا ہوجاتا ہے۔
ذرا سوچئے۔ ہم دہکتی ہوئی آگ کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہ آگ ہمارے سامنے ایک زندہ غضبناک شخص کا روپ اختیار کرتی ہے کہ یہ دور سے ان مکذبین کو دیکھتی ہے۔ دیکھتے ہی یہ آگ غیض و غضب میں مبتلا ہوجاتی ہے اور یہ لوگ دور سے اس کے اظہار غضب اور سخت کلامی کو پالیتے ہیں گویا وہ دور ہی سے ان پر حملہ آور ہونے کے لیے جوش دکھاتی ہے۔ اور جوش انتقام میں آپے سے باہر ہو رہی ہے حالانکہ یہ لوگ ابھی تک راستے میں ہوتے ہیں ‘ پہنچے نہیں ہوتے۔ غرض یہ ایک نہایت ہی جھنجھوڑنے والا منظر ہے جسے دیکھنے والوں کی ٹانگوں پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔
دیکھئے اب یہ پہنچ گئی اپنی منزل تک۔ اب یہ لوگ کھلے نہیں چھوڑے جاتے کہ ہاتھ پائوں سے یہ آگ کے ساتھ مقابلہ کریں اور آگ انہیں شکست دے دے۔ یہ اس سے بچنے کی کوشش کریں۔ اور وہ انہیں پکڑلے۔ بلکہ انہیں پکڑ کر اس میں پھینک دیا جاتا ہے ، اس حال میں کہ ان کے ہاتھ پائوں زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں اور ان کو آگ کے کھلے ہال میں بھی نہیں پھینک دیا جاتا بلکہ دوزخ کی آگ کے ایک نہایت ہی تنگ مقام پر ان کو اندر کردیا جاتا ہے۔ جس میں یہ بمشکل سماتے ہیں ‘ اس سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں ہے۔ اب یہ لوگ اس آگ سے رہائی پانے کے بارے میں بےحد مایوس ہوگئے ہیں۔ نہایت یہ کرب میں ہیں۔ اب مایوس ہو کر یہ صرف ہلاکت اور موت کی دعا کرتے ہیں۔
واذا القو۔۔۔۔۔ ھنالک ثبورا (25 : 13) ” اور جب یہ اس میں تنگ جگہ ٹھونسے جائیں گے تو اپنی موت کو پکارنے لگیں گے “۔ لیکن اب جہنم میں موت تو نہ پوری ہونے والی آرزو ہے۔ جبکہ یہ لوگ اس عذاب سے صرف موت کے ذریعہ ہی خلاصی پا سکتے ہیں کیونکہ یہ دردوکرب ناقابل برداشت ہے لیکن ان کو ان کی اس درخواست اور اس تمنا کا جواب بھی استہزاء اور مذاق کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ جس طرح وہ رسولوں کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ یہ ایک تلخ مذاق ہے۔
لاتدعوا۔۔۔۔۔ ثبورا کثیرا (25 : 14) ” آج ایک موت کو نہیں بہت سی موتوں کو پکارو “۔ کیونکہ ایک بار کی ہلاکت تو تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ نہ ایک بار کی موت تمہارے لیے کافی ہے۔ تم بار بار مرو گے اور بار بار زندہ ہو گے۔
ان کے اس حال کو پیش کرنے کے بعد اب ان کے بالمقابل متقین مومنین کے انجام کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ‘ جو اللہ سے ڈرتے تھے جو اللہ کے سامنے حاضر ہونے کی امید رکھتے تھے اور قیامت پر ان کا پختہ ایمان تھا۔ یہ انجام بھی ان کفار کو خطاب کرتے ہوئے نہایت ہی طنزیہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
قل اذلک۔۔۔۔۔۔ ومصیرا (25 : 15) لھم فیھا۔۔۔۔ مسئولا (25 : 16) ” ان سے پوچھو یہ انجام اچھا ہے یا وہ ابدی جنت جس کا وعدہ خدا ترس پرہیز گاروں سے کیا گیا ہے ‘ جو ان کے عمل کی جزا اور ان کے سفر کی آخری منزل ہوگی ‘ جس میں ان کی ہر خواہش پوری ہوگی ‘ جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ‘ جس کا عطا کرنا تمہارے رب کے ذمے ایک واجب الادا وعدہ ہے “۔ یہ شرمسار کنندہ عذاب بہتر ہے یا وہ باغات دائمی بہتر ہیں جو اللہ نے متقین کے لیے تیار کر رکھے ہیں۔ اللہ نے متقین کو یہ حق دیا ہے کہ یہ اس کا مطالبہ کریں۔ اور یہ طلب کریں کہ اے اللہ اپنا وعدہ پورا کیجئے اور اللہ وعدہ خلافی کرنے والا تو ہے نہیں۔ پھر یہ بھی ان کو اختیار دیا گیا ہے کہ جو چاہیں وہاں طلب کریں۔ کیا ان دونوں مقامات کے درمیان موازنہ کرنے کی بھی کوئی بات ہے کہ ان سے موازنے کے لیے کہا جارہا ہے۔ دراصل یہ ان کے ساتھ نہایت یہ تلخ مذاق ہے اور یہ ان کے اس مذاق کا جواب ہے جو وہ یہاں اس رسول مقبول سے کرتے تھے۔
اب آخرت کا ایک دوسرا منظر جس کی تکذیب کرنے والے تکذیب کرتے تھے۔ یہ مشرکین کا اجتماع ہے ان کے ساتھ ان کے شرکاء بھی موجود ہیں جن کو یہ لوگ الہٰ اور شفیع سمجھتے تھے۔ یہ سب اللہ کے سامنے کھڑے اپنی اپنی جوابدہی کر رہے ہیں۔ سوال ہو رہے ہیں اور وہ جواب دے رہے ہیں۔
Ayahs 25:17–19و یوم یحشرھم۔۔۔۔۔ نذقہ عذابا کبیرا
جن لوگوں کی مشرکین بندگی کرتے تھے بعض اوقات تو وہ بت ہوتے تھے ‘ کبھی وہ ملائکہ اور جن ہوتے تھے اور کبھی دوسرے معبود ہوتے تھے۔ جن کو اللہ خوب جانتا ہے ‘ لیکن اس کھلے میدان میں ان سے یہ سوال کرنا جواب طلب کرنا جب کہ سب کو اس مقصد کے لیے جمع کیا گیا ہوگا ‘ زیادہ تشہیر اور شرمندہ کرنے کے لیے ہوگا۔ تشہیر جرم اور شرمندہ کرنا بھہ دراصل ایک قسم کی سزا ہے اور جواب جو آ رہا ہے وہ ان نام نہاد الموں کی طرف سے اللہ کے سامنے مکمل طور پر جھکناثابت کرتا ہے۔ اب یہ اللہ قہار اور مالک الملک کے سامنے مطیع فرمان کھڑے ہیں۔ اور نہ صرف یہ کہ وہ اپنی الوہیت کا انکار کرتے ہیں بلکہ وہ اس بات سے بھی انکار کرتے ہیں کہ ان بیوقوفوں سے ان کی کوئی دوستی یا تعلق تھا۔ اس سے زیادہ مشرکین کے لیے اور شرمندگی کیا ہوگی کہ جن کو وہ الہٰ سمجھتے ہیں وہ ان کے اس تعلق سے بھی منکر ہوں گے۔
قالو اسبحنک۔۔۔۔۔ کانو اقوما بورا (25 : 18) ” وہ عرض کریں گے ” پاک ہے آپ کی ذلت ‘ ہماری تو یہ بھی مجال نہ تھی کہ آپ کے سوا کسی کو اپنا مولیٰ بنائیں۔ مگر آپ نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو خوب سامان زندگی دیا حتیٰ کہ یہ سبق بھول گئے اور شامت زدہ ہو کر رہے “۔ تو زندگی کا یہ مال ومتاع جو مسلسل ان لوگوں کو حاصل رہا ‘ جبکہ ان کو یہ معرفت بھی نہ تھی کہ یہ انعامات دینے والا بھی کوئی ہے اور نہ وہ دینے والے کا کوئی شکر ادا کرتے تھے تو اس غفلت نے ان کے دلوں سے ان انعامات کا احساس ہی دور کردیا۔ یہ لوگ سب کچھ بھول گئے۔ چناچہ ان کے دل اس طرح خشک اور غیر آباد ہوگئے جس طرح خشک سالی کے نتیجے میں زمین غیر آباد ہو کر بےآب وگیاہ ہوجاتی ہے۔ یہاں لفظ بوار استعمال ہوا ہے جو ہلاکت کے معنی میں آتا ہے۔ لیکن ہلاکت کے ساتھ اس کے مفہوم میں خشک سالی اور بےآب وگیاہ ہونا بھی داخل ہے یعنی دلوں کی خشکی اور زندگی کا خلا۔
چناچہ یہاں اس مقام پر انہیں توہین آمیز خطاب کے ذریعہ شرمسار کیا جاتا ہے :
فقد کذبو۔۔۔۔۔ صرفا و نانصرا (25 : 19) ” یوں جھٹلادیں گے وہ (تمہارے معبود) تمہاری ان باتوں کو جو آج تم کہہ رہے ہو ‘ پھر تم نہ اپنی شامت کو ٹال سکو گے نہ کہیں سے مدد پاسکو گے “۔ یعنی نہ اس مصیبت کا منہ کسی اور طرف موڑ سکو گے اور نہ کسی جانب سے تمہیں کوئی امداد مل سکے گی۔
یہ منظر تو آخرت کا چل رہا ہے اور حشر کا میدان ہے لیکن بیچ میں ایک جھلک دنیا کی بھی دکھا دی جاتی ہے۔ یہ مکذبین اب زمین پر اس دنیا ہی میں نظر آتے ہیں۔ اور ان سے کہا جاتا ہے۔
ومن یظلم۔۔۔۔۔ کبیرا (25 : 19) ” اور جو تم میں سے ظلم کرے اسے ہم سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے “۔ اور قرآن کریم کا ایک مخصوص اسلوب ہے کہ وہ دلوں کو اس وقت چھوتا ہے جب وہ قبولیت کے لیے تیار ہوتے ہیں اور قیامت کا خوفناک منظر دیکھ کر وہ بات ماننے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں۔
Ayah 25:20اب جبکہ انہوں نے اور رسول اللہ ﷺ نے دیکھ لیا کہ ان لوگوں نے افترائ ‘ تکذیب اور استہزاء کی انتہا کردی ہے اور یہاں تک انہوں نے رسول اللہ کی بشریت ‘ اس کی بازاروں میں چلت پھرت اور کھانے پینے پر بھی اعتراض کردیا ہے ‘ تو حضور اکرم کی طرف روئے سخن پھرجاتا ہے اور آپ کو تسلی دی جاتی ہے اور آپ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ صرف آپ ہی کو رسول ایسا نہیں بنایا گیا کہ ان لوگوں کو تعجب ہو رہا ہے بلکہ تمام رسول ایسے ہی تھے جس طرح آپ ہیں اور ان کے حالات بھی ایسے تھے جس طرح آپ کے ہیں۔
وما ارسلنا۔۔۔۔۔۔ ربک بصیرا اگر یہ لوگ اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ آپ کی ذات پر معترض نہیں ہیں۔ یہ تو ان کی ایک سنت اور اللہ کے ایک مستقل طریقہ کا رپر یہ لوگ معترض ہیں۔ یہ طریق کار طے شدہ ہے۔ مقرر اور متعین ہے۔ اور اس کا ایک متعین انجام ہے۔
وجعلنا ۔۔۔۔ فتنتہ (25 : 20) ” دراصل ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنادیا ہے “۔ تاکہ جو لوگ اللہ کی حکمت اور تدبیر کو نہیں جانتے۔ وہ اعتراض کرتے رہیں اور جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں اور اس کی حکمت اور اس کے تصرفات کو جانتے ہیں وہ صبر کرتے رہیں اور دعوت اسلامی غالب ہو اور غلبے کا مقابلہ کرنے اور اس مقابلے اور کشمکش میں انسانی وسائل استعمال کرتے ہوئے آگے بڑھے۔ اس کشمکش میں جو شخص ثابت قدم رہے وہ کامیاب ہوئے۔
اتصبرون (25 : 20) ” کیا تم صبر کرتے ہو ؟ “ یعنی کیا تم مشکلات پر صبر کروگے۔ تو
وکان ربک بصیرا (25 : 20) ” تمہارا رب سب کچھ دیکھتا ہے “۔ وہ تمام لوگوں کے مزاج کو دیکھ رہا ہے۔ تمام دلوں کو دیکھ رہا ہے ‘ اور تمام لوگوں کے حالات اور انجام کا اسے علم ہے۔ تمہارا پورا اجر ملے گا۔
وکان ربک (25 : 20) میں اللہ نے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کا رب کہہ کر پکارا ہے۔ اس انداز بیان سے دل پر خوب اثر ہوتا ہے۔ دل تروتازہ ہوجاتا ہے۔ اسے تسلی ہوتی ہے اور سکون ملتا ہے۔ اور وہ ازسر نو جدوجہد کے لیے تیار ہوتا ہے۔ یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اے محمد ہم دیکھ رہے ہیں ‘ تمہارے ساتھ ہیں ‘ فکر مت کرو ‘ نہ صرف یہ کہ ظاہری حالات ہماری نظر میں ہیں بلکہ نہایت خفیہ اور دلوں کی بات بھی ہماری نظر میں ہے۔ اس انداز بیان سے اللہ اپنے آپ کو اپنے بندوں کے قریب بتاتا ہے۔