Al-Furqaan 25:6

Al-Furqaan · from ayah 6

25:6

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ— اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ۟قُلۡ اَنۡزَلَهُ الَّذِىۡ يَعۡلَمُ السِّرَّ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا

کہہ دو کہ اُس نے اُس کو اُتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔ بےشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, [O Muhammad], "It has been revealed by He who knows [every] secret within the heavens and the earth. Indeed, He is ever Forgiving and Merciful."

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:6

اے محمدؐ، ان سے کہو کہ "اِسے نازل کیا ہے اُس نے جو زمین اور آسمانوں کا بھید جانتا ہے" حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا غفور رحیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ اُس نے اُس کو اُتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔ بےشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہہ دیجیئے کہ اسے تو اس اللہ نے اتارا ہے جو آسمان وزمین کی تمام پوشیده باتوں کو جانتا ہے۔ بےشک وه بڑا ہی بخشنے واﻻ مہربان ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : یہ کلام تو اس (اللہ) نے نازل کیا ہے جو ہر بھید کو پوری طرح جانتا ہے، آسمانوں میں بھی، زمین میں بھی۔ بیشک وہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ اسے تو اس نے اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر بات جانتا ہے بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: اِس (قرآن) کو اُس (اللہ) نے نازل فرمایا ہے جو آسمانوں اور زمین میں (موجود) تمام رازوں کو جانتا ہے، بیشک وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو کہہ اسے اس نے نازل کیا ہے جو آسمانوں اور زمین میں سب پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔ بیشک وہ ہمیشہ سے بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے کہ قرآن کو اس ذات نے نازل کیا ہے جو آسمانوں اور زمین کے بھید جانتا ہے اور وہ یقینا بہت بخشنے والا، رحم والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان سے کہہ دو کہ اس کو اس نے اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کے بھید کو جانتا ہے۔ بیشک وہ بڑا ہی غفور رحیم ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو اس کلام حق کو تو اتارا ہے اس ذات اقدس و اعلیٰ نے جو جانتی ہے آسمانوں اور زمین کے بھیدوں کو بیشک وہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ اس کو اس ذات نے اتارا ہے جسے آسمانوں اور زمین کے ہر راز کی خبر ہے۔ بیشک وہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ اس کو اس نے نازل کیا ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر چھپی ہوئی چیز کو جانتا ہے یقیناً وہ بہت بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہہ دو کہ اس کو اس نے اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔ بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

O Muhammad, say to them, "This has been sent down by Him, Who knows the secret of the heavens and the earth." The fact is that He is very Forgiving and Merciful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :It is sent down by the One who knows the secret in the heavens and the earth. Indeed He is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :It is sent down by the One who knows the secret in the heavens and the earth. Indeed He is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "It has been sent down by Him Who knows the secret of the heavens and the earth. Truly, He is Oft-Forgiving, Most Merciful."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say (unto them, O Muhammad): He who knoweth the secret of the heavens and the earth hath revealed it. Lo! He ever is Forgiving, Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, [O Muhammad], "It has been revealed by He who knows [every] secret within the heavens and the earth. Indeed, He is ever Forgiving and Merciful."

— Saheeh International

(Muhammad), tell them, "The One who knows all the secrets of the heavens and the earth has revealed it; He is All-forgiving and All-merciful."

— Muhammad Sarwar

Say: He has revealed it Who knows the secret in the heavens and the earth; surely He is ever Forgiving, Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou; He hath sent it down Who knoweth the secret of the heavens and the earth; verily He is ever Forgiving, Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "The (Qur'an) was sent down by Him who knows the mystery (that is) in the heavens and the earth: verily He is Oft-Forgiving, Most Merciful."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–6

خود فریب مشرک مشرکین ایک جہالت اوپر کی آیتوں میں بیان ہوئی۔ جو ذات الہٰی کی نسبت تھی۔ یہاں دوسری جہالت بیان ہو رہی ہے جو ذات رسول ﷺ کی نسبت ہم وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو تو اس نے اوروں کی مدد سے خود ہی جھوٹ موٹ گھڑ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ ان کا ظلم اور جھوٹ ہے جس کے باطل ہونے کا خود انہیں بھی علم ہے۔ جو کچھ کہتے ہیں وہ خود اپنی معلومات کے بھی خلاف کہتے ہیں۔ کبھی ہانک لگانے لگتے ہیں کہ اگلی کتابوں کے قصے اس نے لکھوالئے ہیں وہی صبح شام اس کی مجلس میں پڑھے جا رہے ہیں۔ یہ جھوٹ بھی وہ ہے جس میں کسی کو شک نہ ہوسکے اس لئے کہ صرف اہل مکہ ہی نہیں بلکہ دنیا جانتی ہے کہ ہمارے نبی امی تھے نہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 12 یہ وہی اعتراض ہے جو اس زمانے کے مستشرقین مغرب قرآن مجید کے خلاف پیش کرتے ہیں۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ نبی ﷺ کے ہم عصر دشمنوں میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ تم بچپن میں بحیرا راہب سے جب ملے تھے اس وقت یہ سارے مضامین تم نے سیکھ لیے تھے۔ اور نہ یہ کہا کہ جوانی میں جن تجارتی سفروں کے سلسلے میں تم باہر جایا کرتے تھے اس زمانے میں تم نے عیسائی راہبوں اور یہودی ربّیوں سے یہ معلومات حاصل کی تھیں۔ اس لیے کہ ان سارے سفروں کا حال ان کو معلوم تھا۔ یہ سفر اکیلے نہیں ہوئے تھے، ان کے اپنے قافلوں کے ساتھ ہوئے تھے اور وہ جانتے تھے کہ ان میں کچھ سیکھ آنے کا الزام ہم لگائیں گے تو ہمارے اپنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–8

معارف و مسائل کفار و مشرکین جو آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن پر اعتراضات کیا کرتے تھے یہاں سے ان کے اعتراضات اور پھر جوابات کا سلسلہ شروع ہو کر کچھ دور تک چلا ہے۔ پہلا اعتراض یہ تھا کہ قرآن کوئی اللہ کی طرف سے نازل کیا ہوا کلام نہیں بلکہ آپ نے اس کو خود ہی جھوٹ گھڑ لیا ہے یا پچھلے لوگوں کے قصے یہود و نصاری وغیرہ سے سن کر اپنے صحابہ سے لکھوا لیتے ہیں اور چونکہ خود امی ہیں، نہ لکھنا جانتے ہیں نہ پڑھنا اس لئے ان لکھے ہوئے قصوں کو صبح شام سنتے رہتے ہیں تاکہ وہ یاد ہوجاویں پھر لوگوں کے سامنے جا کر یہ کہہ دیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اس اعتراض کا جواب قرآن کریم نے یہ دیا قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِيْ يَعْلَمُ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

معترضین پر ایک لطیف طنز اور ان کو تنبیہ فرمایا کہ ان لوگوں کو بتا دو کہ اس کتاب کو اتارنے والا وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کے سارے بھیدوں اور تمام اسراروموز سے خود اچھی طرح باخبر ہے۔ وہ اس کی تصنیف ہیں کسی عربی و عجمی کی مدد کا محتاج نہیں ہے۔ کوئی کتنا ہی بڑا عالم و حکیم ہو وہ اس کتاب سے بصیرت و رہنمائی تو حاصل کرسکتا ہے لیکن اس طرح کی کتاب تصنیف کرنا تو درکنار وہ اس کے علم و حکمت میں کوئی اضافہ بھی نہیں کرسکتا۔ یہ حقیقت اس کتاب کی سطر سطر سے واضح ہے کہ اس کا اتارنے والا وہی ہے جو اس کائنات کے تمام بھیدوں سے واقف اور اس کے ظاہر و باطن اور آغاز و انجام ہر چیز سے باخبر ہے چناچہ اس نے ماضی کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

6-1یہ ان کے جھوٹ اور افترا کے جواب میں کہا کہ قرآن کو تو دیکھو، اس میں کیا ہے ؟ کیا اس کی کوئی بات غلط اور خلاف واقعہ ہے ؟ یقینا نہیں ہے، بلکہ ہر بات بالکل صحیح اور سچی ہے، اس لئے کہ اس کو اتارنے والی ذات وہ ہے جو آسمان و زمین کی ہر پوشیدہ بات کو جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–11

2: یعنی یہ لوگ جو باتیں بنا رہے ہیں، ان کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ حق کے طلب گار ہیں، اور ان کے شبہات دور ہوجائیں تو یہ ایمان لے آئیں، بلکہ اصل وجہ ان کی بےفکری ہے، چونکہ ان کو قیامت اور آخرت پر ایمان نہیں ہے، اس لیے ان کو بےہودہ اعتراضات کرتے ہوئے کوئی خوف نہیں ہوتا کہ آخرت میں ان پر سزا بھی مل سکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 4–6

(وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غفورا رحیما) (4 تا 6) ” “۔ “۔ یہ تھا وہ جھوٹ جو اہل قریش نبی ﷺ پر باندھتے تھے۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ بہت ہی بڑا افتراء ہے۔ کیونکہ قریش کے کبراء عوام کو جن باتوں کی تعلیم دیتے تھے ‘ ان سے یہ بات کس طرح مخفی رہ سکتی تھی کہ حضرت محمد ﷺ جس قرآن کی تلاوت فرما رہے ہیں وہ بشری اسالیب کلام سے بالکل ایک مختلف کلام ہے۔ وہ اس بات کو اپنے دل میں اچھی طرح محسوس کرتے تھے کیونکہ وہ انسانی اسالیب کلام سے اچھی طرح واقف تھے۔ جب وہ قرآن سنتے تھے تو وہ خود بھی اس سے بےحد متاثر ہوجاتے تھے۔ پھر بعثت سے قبل حضرت محمد ﷺ کے بارے میں ان کو پورا پورا یقین تھا کہ حضرت محمد ﷺ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی کتاب خود بتلا رہی ہے کہ وہ کسی ایک انسان یا کمیٹی کی بنائی ہوئی نہیں، بلکہ اس خدا کی اتاری ہوئی ہے جس کے احاطہ علمی سے زمین و آسمان کی کوئی چیز باہر نہیں ہوسکتی۔ اس کلام کی معجزانہ فصاحت و بلاغت، علوم و معارف، اخبار غیبیہ، احکام و قوانین اور وہ اسرار مکنونہ جن کی تہ تک بدون توفیق الٰہی کے عقول و افہام کی رسائی نہیں ہوسکتی صاف ظاہر کرتے ہیں کہ یہ کسی محدود علم والے آدمی یا سازشی جماعت کا کلام نہیں۔ 5 یعنی اپنی بخشش اور مہر سے ہی قرآن اتارا (موضح القرآن) پھر جو لوگ ایسی روشن حقیقت کے منکر ہیں باوجود ان کے جرائم کا تفصیلی علم رکھنے کے فوراً سزا نہیں دیتا۔ یہ بھی اس کی بخشش اور مہر ہی کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 5–6

آیت 5 وَقَالُوْٓا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اکْتَتَبَہَا ” کَتَبَ یَکْتُبُ : لکھنا۔ اس سے اِکْتَتَبَ باب افتعال ہے ‘ یعنی کسی سے لکھوا لینا۔ فَہِیَ تُمْلٰی عَلَیْہِ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا ” ان کے پیچھے خفیہ طور پر جو لوگ یہ قصے کہانیاں گھڑ رہے ہیں وہ صبح شام ان سے ملتے ہیں اور اپنی گھڑی ہوئی باتیں انہیں لکھوا دیتے ہیں۔ پھر وہی باتیں یہ ہمیں سنا کر دھونس جماتے ہیں کہ مجھ پر وحی آئی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

9 اس کے بعد اب ایک ہی صورت باقی رہ جاتی ہے کہ یہ قرآن کسی ایسی باخبر اور حکیم ہستی کی طرف نازل شدہ ہو۔ جو ماضی کے حالات سے خوب واقف اور ان یہود و نصاریٰ کی کارستانیوں سے بھی باخبر ہو۔ زمانہ حال کے حالات سے بھی پوری طرح باخبر ہو اور موقع و محل اور احوال و ظروف کے مطابق ایسے احکام نازل کردہ ہو جو سراسر عدل اور حکمت پر مبنی ہوں اور مستقبل میں پیش آنے والے واقعات بھی اس کے سامنے ہوں۔ پھر اس کا انداز خطاب بڑا دل نشین اور اثر کے لحاظ سے دل کی گہرائیوں تک اتر جانے والا ہو۔ اور اس کے مقابلہ میں کلام پیش کرنا ناممکنات سے ہو اور وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

6۔ (اور جس طرح اس کا علم کامل ہے جس سے مخلوقات کا علم کوئی نسبت نہیں رکھتا، اسی طرح اس کا کلام بھی بیشمار وجوہ اعجاز کا جامع ہے) 7۔ (اسی لیے وہ ایسا بیہودہ بکنے والوں پر فورا گرفت نہیں کرتا، بلکہ انہیں مہلت دیتا جاتا ہے۔ اور اگر وہ تائب ہوجائیں تو انہیں معاف بھی کردے گا)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان اور نہایت رحم والا ہے، برکت والی برتر ہے وہ ذات جس نے فرقان یعنی قرآن اپنے بندے محمد ﷺ پر نازل کیا قرآن کو فرقان اس لئے کہا گیا ہے کہ اس نے حق و باطل کے درمیان فرق کردیا، تاکہ عالم والوں یعنی انسانوں اور جنوں کے لئے نہ کہ فرشتوں کے لئے ڈرانے والا ہو یعنی اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا ہو ایسی ذات کہ اس کے لئے آسمانوں اور زمین کی حکومت حاصل ہے اور اس نے کسی کو اولاد قرار نہیں دیا اور نہ ملک میں اس کا کوئی شریک ہے اور اس نے ہر اس شئ کو پیدا کیا جس کی شان مخلوق ہونا ہے پھر اس کو اچھی طرح درست کیا اور کفار نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل انزلہ الذی یعلم السر فی السموت والارض آپ (ان کے قول کی تردید میں) کہہ دیجئے کہ (یہ انسانی کلام نہیں ہے بلکہ) اس کو اس خدا نے اتارا ہے جو آسمانوں کی اور زمین کی چھپی باتوں کو جانتا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس کے مقابل بڑے بڑے زبان آور اہل ادب عاجز ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس کلام کے اندر ایسے علوم ہیں جن سے وہی ذات واقف ہوسکتی ہے جو ہر پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والی ہو (اور چونکہ کوئی گزشتہ ‘ موجودہ انسانی ہستی ایسی نہیں جو ان علوم سے واقف ہو) اس لئے یہ انسان کا کلام نہیں ہے۔ انہ کان غفورا رحیما۔ بلاشبہ وہ بڑا معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے اسی لئے باوجود کامل قدرت کے تم کو اس نے اب تک عذاب نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(6) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ قرآن کریم ﷺ کو تو جبریل امین ؑ کے ذریعے اس ذات نے نازل کیا ہے جس کو ہر ایک پوشیدہ بات کی خواہ آسمانوں میں ہو یا زمین میں خبر ہے اور وہ توبہ کرنے والے کی مغفرت فرمانے والا اور جو توبہ پر مرے اس پر رحم کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِيْ يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ : یہ ان کے جھوٹ اور افترا کے جواب میں فرمایا کہ قرآن کو تو دیکھو اس میں کیا ہے ؟ کیا اس کی کوئی بات غلط اور خلاف واقعہ ہے ؟ یقیناً نہیں ہے، بلکہ ہر بات بالکل سچی اور صحیح ہے، اس لیے کہ اس کو اتارنے والی وہ ذات ہے جس کے پاس زمین و آسمان کی ظاہر باتوں ہی کا نہیں تمام پوشیدہ باتوں کا بھی پورا علم ہے۔ وہ ماضی کو جانتا ہے، حال اور مستقبل کو بھی۔ اس لیے اس کی نازل کردہ کتاب میں گزشتہ زبانوں کی باتیں ہیں، حال کی بھی اور آئندہ زمانے کی بھی اور ان میں سے کوئی بات غلط ثابت ہوئی ہے نہ ہوگی۔ جو شخص آسمانوں اور زمین کے تمام راز نہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 4–6

(وقال الذین کفرو۔۔۔۔۔۔۔۔ وقا الذین کفروا مراد مشرکین قریش ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ان میں سے یہ بات کرنے والا نضر بن حارث تھا اور اس طرح قرآن میں جہاں اساطیر کا ذکر ہے اس کا کہنے والا بھی یہی تھا (1) محمد بن اسحاق نے کہا : وہ نبی کریم ﷺ کو اذیت دیا کرتا تھا۔ ان ھذا اسم اشارہ سے مراد قرآن حکیم ہے الا افک افترہ یعنی جھوٹ ہے جو خود انہوں نے گھڑا ہے۔ واعانہ علیہ وقم اخرون مراد یہودی ہیں، یہ مجاہد کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : قوم اخرون سے مراد ابوفکیہ جو بنی حضری کا غلام تھا، عداس اور جبر ہے، یہ تینوں اہل کتاب تھے۔ سورة نحل میں ان کا ذکر گزر چکا ہے۔ فقد جاء وظلماً انہوں نے ظلم کیا، ظلم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ تبارک تفاعل کے وزن پر ہے برکت سے۔ 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ آیت تبرک الذی نزل الفرقان علی عبدہ سے مراد یہ قرآن ہے جس میں اللہ کی حلال کردہ اور اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور اس کے شرائع اور دین کے احکام ہیں اللہ تعالیٰ نے فرق کردیا ہے حق اور باطل کے درمیان آیت لیکون للعالمین نذیرا یعنی اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا اللہ تعالیٰ سے ڈرانے والا بنا کر تاکہ وہ لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں اور ان واقعات سے ڈرائیں جو پہلی قوموں میں ہوئے آیت وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا اور اپنی مخلوق کی ہر چیز کے لیے اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [ آپ ﷺ کہیے ] اَنْزَلَهُ [ اس کا اتارا ] الَّذِيْ [ اس نے جو ] يَعْلَمُ [ جانتا ہے ] السِّرَّ [ سارے بھیدوں کو ] فِي السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں میں ] وَالْاَرْضِ ۭ [ اور زمین میں ] اِنَّهٗ [ یقینا وہ ] كَانَ [ ہے ] غَفُوْرًا [ بےانتہا بخشنے والا ] رَّحِيْمًا [ ہمیشہ رحم کرنے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ان لوگوں کی اس بات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا (قُلْ اَنزَلَہُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) (آپ فرما دیجیے کہ ان قرآن کو اس ذات پاک نے نازل فرمایا ہے جسے ہر چھپی ہوئی بات کا علم ہے آسمانوں میں ہو یا زمین میں) تم جو خفیہ مشورے کرتے ہو اور آپس میں جو چپکے چپکے یوں کہتے ہوں کہ یہ قرآن محمد ﷺ نے اپنے پاس سے بنا لیا ہے یا دوسروں سے لکھوا لیا ہے قرآن نازل فرمانے والے کو تمہاری ان سب باتوں کا پتہ ہے وہ تمہیں اس کی سزا دے گا (اِِنَّہٗ کَانَ غَفُوْرًا رَحِیْمًا) (بلاشبہ وہ بخشنے والا ہے مہربان ہے) اس میں یہ بتایا کہ تم نے جو باتیں کہی ہیں یہ کفریہ باتیں ہیں ان کی وجہ سے تم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–6

منکرین نبوت کا دوسرا شبہ اور اس کا جواب قال اللہ تعالیٰ وقالوا اساطیر الاولین اکتتبھا۔۔۔ الی۔۔۔ انہ کان غفورا رحیما۔ (ربط) یہ منکرین نبوت کا دوسرا شبہ بلکہ دوسرا بہتان ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ قرآن منجانب اللہ نہیں بلکہ اگلے لوگوں کے قصوں اور کہانیوں کا ایک مجموعہ ہے چناچہ فرماتے ہیں اور ایک جھوٹ ان لوگوں نے یہ بولا کہ یہ قرآن تو پہلے لوگوں کے قصے اور افسانے ہیں جن کو اس نبی نے اپنے لئے لکھوا لیا ہے کیونکہ وہ خود تو لکھ نہیں سکتے اس لئے دوسروں سے لکھوا لیے ہیں پس وہ نوشتے صبح وشام اس پر پڑھے جاتے ہیں تاکہ سن سن کر وہ ان کو یاد کرے، چناچہ جب وہ آپ ﷺ کو یاد ہوجاتا ہے تو اس کو پڑھ کر ہمیں سنا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 7:۔” قل انزلہ الخ “ یہ تینوں مذکورہ شکو وں کا جواب ہے نیز دعوی سورت پر چوتھی عقلی دلیل ہے یہ دعوی اور یہ قرآن جو اس دعوی کو بیان کر رہا ہے، کسی بشر کا خود ساختہ نہیں اور قرآن قصے کہانیوں کی کتاب ہے۔ بلکہ یہ قرآن جو دعوی مذکورہ کا حامل ہے اول سے آخر تک اس رب جہاں کا نازل کردہ ہے جو سارے جہان کی تمام پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے، وہ ایسا در گذر کرنے والا اور مہربان ہے کہ ایسے معاندین کو بھی مہلت دیتا ہے اور جلدی نہیں پکڑتا یمھلھم ولا یعاجلھم بالعقوبۃ وان اسوجبوھا بمکابرتھم (مدارک ج 3 ص 122) ۔ جب عالم الغیب بھی وہی ہے اور غفور رحیم بھی تو برکات دہندہ بھی وہی ہے اور کوئی نہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 4–9

ربط آیات برکات دینے والی ذات اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو نازل فرمایا ہے جو کہ ایک فیصلہ کن کتاب ہے۔ اس کے نزول کی غایت یہ ہے کہ اللہ کا کامل ترین بندہ اور اس کا آخری رسول اس کتاب کے ذریعے لوگوں کو ڈرانے والا بن جائے۔ گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی آسمان و زمین پر محیط سلطنت کا ذکر بھی ہو۔ اللہ نے مشرکین کا شکوہ بیان کیا کہ وہ اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بناتے ہیں ۔ حالانکہ وہ بےاختیار ہیں ، نہ تو وہ کوئی چیز تخلیق کرسکتے ہیں اور نہ نفع نقصان کے مالک ہیں ، یہ کس قدر ظلم و زیادتی کی بات ہے۔ قرآن پاک پر اعتراض سورۃ کے اس ابتدائی تمہیدی بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اَنْزَلَہُ الَّذِيْ يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ 0ۭ اِنَّہٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۝ 6 نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–10

ترکیب : افتریٰ کا فاعل ضمیر جو عبد کی طرف راجع ضمیر فرقان کی طرف راجع اعانہ کی عید کی طرف علیہ کی ضمیر افترا کی طرف قوم اخرون اعان کا فاعل ظلما و زورا مفعول جاؤ کا یا مصدر موضع حال میں ان شاء شرط جعل جو ابہ وھولکو نہ ماضیایجوزان یکون فی محل الرفع والجزم فما عطف علیہ یجوزان یکون مرفوعا اومجز و ماکما قرء الجمہور۔ تفسیر : ان آیات میں ان کے اور چند شبہات کا جواب ہے جو رسالت کی بابت تھے کہ محمد ﷺ نے قرآن کو ازخود بنا لیا ہے اور دیگر لوگ (جس سے ان کا اشارہ اہل کتاب کی طرف تھا) اس کے اس کام میں مددگار بن گئے ہیں۔ وہی لوگ انبیائِ سابقین کے حالات اور ان کی شریعتوں کے احکام اس کو بتاتے ہیں۔ یہ اپنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ اَنْزَلَـہُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط اِنَّـہٗ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ (الفرقان : 6) (ان سے کہہ دیجیے کہ اس کو اس نے اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کے بھید کو جانتا ہے، واقعی وہ بہت بخشنے والا اور ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔ ) معترضین پر ایک لطیف طنز نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ ایسے لچر اور بےسروپا اعتراضات کا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ البتہ اتمامِ حجت کے لیے آپ ﷺ انھیں یہ بتادیں کہ قرآن کریم کی تصنیف انسانوں کے بس کی بات نہیں۔ ایسا کارنامہ نہ کوئی عربی انجام دے سکتا ہے اور نہ کوئی عجمی۔ کیونکہ اس میں جو کچھ فرمایا گیا ہے وہ اس وسیع علم پر موقوف ہے جس کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–6

فہم القرآن ربط کلام : عقیدہ توحید کے مختصر دلائل کے بعد قرآن مجید پر اٹھنے والے اعتراضات کا مختصر جواب۔ اہل مکہ کی بوکھلاہٹ کا عالم یہ تھا کہ وہ ایک ہی مجلس اور موقعہ پر کئی قسم کے قرآن مجید پر اعتراض اور سوالات اٹھاتے تھے ایک لمحہ ان کا الزام تھا کہ محمد ﷺ اپنی طرف سے عبارات بنا کر قرآن کی آیات کی شکل میں ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ دوسرے لمحہ میں کہتے کہ قرآن بنانے میں اس کے اور لوگ بھی معاون و مددگار ہیں۔ تیسرے لمحہ ان کی زبان پر یہ الزام ہوتا کہ یہ قرآن تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جو اسے لکھوائی جاتی ہیں اور یہ صبح وشام ہمارے سامنے پڑھ دیتا ہے۔ اہل مکہ کی دریدہ دھنی حد سے گزر چکی تھی جس وجہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اس کو کائنات کے رازدان نے اتارا : 6: قُلْ (کہہ دیں محمد ﷺ اَنْزَلَہٗ (اس کو اتارا ہے) یعنی قرآن کو الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اس ذات نے جو آسمان و زمین کی پوشیدہ باتیں جانتے ہیں) یعنی ہر وہ پوشیدہ سے پوشیدہ تر چیز جو آسمان و زمین میں پائی جاتی ہے یعنی قرآن مجید جب ایسی غیب کی اطلاعات پر مشتمل ہے جن کا عادۃً جان لینا بغیر تعلیم کے محمد ﷺ کے لیے محال ہے تو یہ اس بات کی خود دلیل بن گئی کہ قرآن علام الغیوب کی طرف سے ہے : اِنَّہٗ کَانَ غَفُوْرًا رَّ حِیْمًا (بلاشبہ وہ بڑا معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے) اسی لیے ان کو مہلت دے رہا ہے اور جلدی سز انہیں دیتا۔ حالانکہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6۔ قل انزلہ ، یہ قرآن آسمانی خدا نے اتارا ہے۔ الذی یعلم السر، جو غیب کو جانتا ہے ، فی السماوات والارض انہ کان غفورارحیما۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 4–6

4۔ 6:۔ صحیح 1 ؎ بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے ہرقل بادشاہ روم اور ابوسفیان کا جو قصہ ہے ‘ اس میں ہرقل نے ابو سفیان سے پوچھا ہے کے نبوت سے پہلے تم قریش کے لوگوں کو ان نبی کے جھوٹ بولنے کا کچھ تجربہ ہوا ہے ‘ اس کے جواب میں ابو سفیان کیونکہ روا رکھے گا۔ ان آیتوں میں مشرکین مکہ کو بےانصاف اور جھوٹا جو فرمایا ‘ اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ نبوت سے پہلے چالیس برس تک جب یہ آزما چکے کہ محمد ﷺ کی عادت ہرگز جھوٹ بولنے کی نہیں ہے تو اب نبوت کے بعد ان لوگوں کا اللہ کے رسول کو جھٹلانا اور یہ کہنا بڑی ناانصافی اور بالکل جھوٹ ہے ‘ کہ مکہ میں چند…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–6

آیت نمبر 4 یعنی اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والے، جن کے قرآن اور رسول کے بارے میں قول باطل کی بنا پر للہ تعالیٰ نے ان پر کفر واجب کیا۔۔۔ کہتے ہیں کہ یہ قرآن جھوٹ ہے جسے محمد ﷺ نے خود تصنیف کیا ہے، ایک بہتان ہے جسے محمد ﷺ نے گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیا ہے اور ایسا کرنے میں کچھ دوسرے لوگوں نے اس کی مدد کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ان کا انکار حق، ظلم اور باطل پر مبنی اقدام ہے جو کسی کی عقل میں نہیں آسکتا، حالانکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے احوال، آپ کے کامل صدق و امانت اور آپ کی کامل نیکی کی پوری پوری معرفت رکھتے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ محمد ﷺ اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–48

پانی کے مسائل قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

8 یہ کلام حق سراسر اللہ تعالیٰ کا اتارا ہوا کلام ہے : یعنی تم مانو یا نہ مانو۔ حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ اس کلام معجز نظام کو اس ذات اقدس نے نازل فرمایا ہے جو آسمانوں اور زمین کی چھپی باتوں کو جانتی ہے۔ اور تمہاری ان گستاخیوں پر اس نے تمہیں جو ڈھیل دے رکھی ہے تو وہ اس لئے کہ وہ بڑا ہی بخش نہار اور درگزر کرنے والا ہے۔ فوراً نہیں پکڑتا۔ بلکہ وہ ڈھیل پر ڈھیل دئیے چلا جاتا ہے تاکہ جس نے سنبھلنا ہو سنبھل جائے۔ نہیں تو پھر اپنا پیمانہ جرم اچھی طرح لبریز کرلے تاکہ اس کے مطابق وہ اپنے کئے کا بھرپور بدلہ پا سکے۔ سو تم لوگ اگر اے منکرو اور باغیو ! اب بھی باز آجاؤ تو اس کی رحمت بےپایاں تمہیں اب بھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 3–9

منکرین حق اور نبی کے سوال و جواب تشریح : کفار مکہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میری اتنی نعمتیں برکتیں لوگوں کو ملی ہوئی ہیں پھر بھی یہ لوگ دوسرے معبود بنا بیٹھے ہیں۔ اصل میں انسان خود بہت بڑا معمہ ہے اور سب سے بڑا معمہ اس کا دماغ ہے جس میں ذہانت ‘ عقل ‘ فکر ‘ جستجو ‘ حافظہ ‘ فہم اور حکمت سب کچھ موجود ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ یہ تمام صلاحیتیں کس نے دی ہیں ؟ انسان کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ اس کا جواب ہر کوئی یہی دیتا ہے کہ ” اللہ نے “ جسے دل نے تو ہمشہ مان لیا لیکن عقل اس سے انکار کرتی ہے اور یہی لوگ مشرک ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ خالق کو چھوڑ کر مخلوق ( پیدا کیا ہوا) کے آگے جھکتے ہیں مرادیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

سورة الفرقان : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف یہ سورة بھی مکی سورتوں میں سے ہے اور اسی مضمون کو آگے بڑھاتی ہے جو سورة نور میں زیر بحث ہے ۔ (آپ ﷺ کی نبوت سب جہانوں کے لیے) اللہ کریم بہت ہی برکت والے اور خیر کے مالک ہیں جنہوں نے اپنے بندے حضرت محمد رسول ﷺ پر ایسی کتاب نازل فرمائی جس نے حق کو حق اور باطل کو باطل قرار دے کر دونوں میں حد فاصل قائم کردی اور تمام جہانوں کو ان کے غلط کاموں کے خطرناک انجام سے اللہ جل جلالہ کے رسول ﷺ نے بروقت مطلع فرما دیا کہ آپ ﷺ کی نبوت نہ صرف سارے جہان کے لیے ہے بلکہ سب جہانوں کے لیے ہے ، ہاں مکلف مخلوق یعنی انسان اور جن اطاعت احکام کے مکلف ہیں اور ساری مخلوق بھی آپ ﷺ کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

2 ۔ یعنی یہ ہے قرآن کی حقیقت جس کا اعتراف تمہارے دل بھی کرتے ہیں مگر ظلم و فریب کی راہ سے قرآن کو محمد ﷺ کا تصنیف کیا ہوا ہتے رہتے ہو۔ اگر اللہ چاہتا تو اس گستاخی پر تمہیں سخت سزا دیتا مگر وہ غفورو رحیم ہے اس لئے تم سے درگزر کر رہا ہے۔ اس میں ان کو توبہ وانابت اور اسلام و ہدایت کی طرف پلٹ آنے کی ترغیب ہے۔ (ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں۔ یعنی اپنی بخشش اور مہر ہی سے یہ اتارا ہے۔ (موضح) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 6–7

(25:6) انزلہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع القرآن ہے۔ السر۔ چھپی ہوئی بات۔ بھید ۔ راز۔ دل میں جو بات چھپی ہوئی ہو اسے سر کہتے ہیں۔ الاسرار کسی بات کا چھپانا ۔ یہ اعلان کی ضد ہے۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے یعلم ما یسرون وما یعلنون (2: 77) جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ خدا کو (سب) معلوم ہے۔ (25:7) مال ھذا الرسول۔ اصل میں ما لھذا الرسول ہے۔ لام کو خط عربی کی عام وضع سے ہٹ کر ھذا سے الگ لکھا گیا ہے اس میں مشرکین کی طرف سے آپ حضور ﷺ کے بارے میں اہانت تصغیر شان اور رسول من اللہ ہونے میں تمسخر اور طنز کا اظہار ہے۔ جیسا کہ وہ کہتے ہوں دیکھو تو کیسا ہے یہ رسول (ہماری طرح کھاتا پیتا ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–6

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 : (تبارک) برکت والا۔ خود بخود بڑھنے والا ‘(الفرقان) حق و باطل میں فرق کرنے والا ‘(الملک) سلطنت۔ حکومت ‘ (قدر) اس نے اندازہ ٹھرایا ‘ (تقدیر) اندازہ متوازن ہونا ‘ (یخلقون) وہ پیدا کئے گئے ہیں۔ (ضر) نقصان ‘(نشور) دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنا ‘ (افک) جھوٹ۔ بےبنیاد بات ‘(افتری) اس نے گھڑ لیا ‘ (اعان) اس نے مدد کی ‘(زور) جھوٹ۔ غلط بات ‘(تملی) پڑھی اور رٹی جاتی ہیں ‘( السر) بھید۔ چھپی باتیں۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 : دنیا اور آخرت میں وہی افراد اور قومیں کامیاب و بامراد ہوتی ہیں جو اللہ کی ذات وصفات کو مان کر اس کے بھیجے ہوئے نبیوں اور رسولوں کی مکمل اطاعت و فرماں برداری…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 3–6

قرآن شریف کی تصدیق۔ (ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ یہ کافر لوگ نبوت سے پہلے چالیس سال تک جب یہ آزماچکے کہ رسول اللہ کی عادت ہرگز جھوٹ بولنے کی نہیں ہے تو اب نبوت کے بعد ان لوگوں کا اللہ کے رسول کو جھٹلانا، اور یہ کہنا بڑی ناانصافی اور بالکل جھوت ہے کہ مکہ میں چند یہودی رہتے ہیں وہ صبح وشام پچھلی قوموں کے کچھ قصے رسول اللہ کو لکھ دیتے ہیں رسول اللہ زبردستی ان باتوں کو اللہ کا کلام بتاتے ہیں آگے فرمایا، اے محبوب تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ قرآن میں جو آسمان و زمین کی غیب کی خبریں ہیں ان سے تم لوگ سمجھو تو یہ بات تمہاری سمجھ میں اچھی طرح آسکتی ہے کہ یہ قرآن اس اللہ کا کلام ہے جس کو آسمان و زمین کی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–8

قرآن خدا کا کلام ہے : (ف 1) نصر بن حرث اور اس قماش کے دوسرے لوگ جب یہ دیکھتے کہ قرآن کی فصاحت وبلاغت کا جواب بن نہیں آتا تو وہ کہتے کہ یہ خدا کا کلام تھوڑا ہی ہے ، یہ تو افتراء ہے وہ لوگ جو اہل کتاب تھے اور اب مسلمان ہوگئے ہیں ، اس کی ترتیب وتدوین میں محمد ﷺ کا ہاتھ بٹاتے ہیں نیز کہتے کہ یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں اور قصے ہیں ، جس کو اس نے لکھوا لیا ہے اور اب قرآن کے نام سے ہمارے سامنے پیش کر رہا ہے ۔ قرآن کہتا ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، اور خدا کی جانب سے فرستادہ ہیں ، ان کا پیش کردہ کلام خدا کا کلام ہے دلیل یہ ہے کہ اس میں ایسا علم اور ایسا علم اور ایسی وسعت معارف ہے جو اللہ کے ساتھ مختص…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(6) اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے کہ یہ قرآن کریم تو اس نے نازل کیا ہے جو آسمان اور زمین کی تمام پوشیدہ اور چھپی ہوئی چیزوں کو جانتا ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے ۔ یعنی آپ جو اب میں فرما دیجئے کہ یہ قرآن کریم تو اس اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے جو آسمان و زمین کے ہر پوشیدہ بھید کو جانتا ہے اور چونکہ اس کا علم سب کو محیط ہے اسی لئے یہ کلام معجز نظام ہے اور اعجاز سے لبریز ہے کسی انسان کا نہ اسقدر علم محیط ہے نہ وہ اعجاز کی اتنی رعایتیں ملحوظ رکھ سکتا ہے لہٰذا کوئی بشر ایسا کلام کر ہی نہیں سکتا ایسے کلام سے جو لوگ سرتابی کریں اور اس کو بشر کا کلام کہیں وہ مستحق سزا ہیں لیکن وہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–6

ف 4۔ حاصل جواب یہ ہوا کہ اس کلام کا اعجاز دلیل ہے اس کی کہ کفار کا کہنا اساطیر الاولین غلط ہے، اور اسی سے ثابت ہوگیا کہ وہ لوگ مرتکب ظلم و زور کے ہیں، اگر یہ خود پیغمبر ﷺ کا کلام مفتری یا مکتسب ہوتا یا قوم آخرین کی اعانت سے تصنیف ہوتا تو معجز کیسے ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

معترضین کے اعتراض کا جواب جو خود اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : 6۔ معترضین کا کہنا کیا تھا ؟ یہی کہ آخر اس کلام میں رکھا کیا ہے یہی چند من گھڑت قصے اور پرانے لوگوں کی داستانیں ہیں جو اس نے قصہ گوؤں سے صبح وشام سنیں اور پھر انہیں مرچ نما لگایا اور ہمیں آکر سنا دیا کیا ایسی کتاب بھی اس قابل ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے جو کسی سے لکھوا لی گئی ہے اس کے جواب میں ارشاد ہو رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ یہ سنے سنائے قصے نہیں ہیں بلکہ یہ تو اس علیم وخبیر کا کلام ہے جو زمین و آسمان کے ہر راز سے واقف ہے ، اگر تم اب بھی اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ دو اور حق کو قبول کرلو تو وہ اپنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–8

Commentary From this point onward the objections raised by infidels and polytheists against the Holy Qur'an and the prophethood of the Holy Prophet ﷺ are related together with the answers to those objections. The first objection was that the Qur'an was not a revealed book from Allah Ta’ ala, but has been compiled from the old stories and narrations by the Jews and Christians which have been reduced into writing by the Companions of the Holy Prophet ﷺ ، since he himself was illiterate and could not write. And because he could not read or write, he would get them read out to him day and night,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

12 This is the same objection which the modern orientalists have raised against the Qur'an, but strange as it may seem, no contemporary of the Holy Prophet ever raised such an objection against him. Nobody, for instance, ever said that Muhammad (Allah's peace be upon him) as a boy had met Buhairah, the monk, and had attained religious knowledge from him, nor did anybody claim that he had obtained all that information from the Christian monks and Jewish rabbis during the trade journeys in his youth. In fact, they knew that he had never travelled alone but in the caravans and if they said such…

Read the full tafseer →