Ayah 25:1(25:1) تبارک۔ وہ بہت برکت والا ہے۔ وہ بڑی برکت والا ہے تبارک (تفاعل) سے۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ یہ صرف ماضی کا صیغہ مستعمل ہے اور وہ بھی صرف اللہ کے لئے اس کی گردان نہیں آتی۔
الفرقان۔ الفرق سے ہے جو الگ الگ ہونے کے معنی میں آتا ہے الفرق اور الفلق کے قریب قریب ایک ہی معنی ہیں۔ لیکن معنی انشقاق یعنی پھٹ جانا کے لحاظ سے فلق کا لفظ بولا جاتا ہے اور معنی انفصال یعنی الگ الگ ہونے کے لحاظ سے فرق آتا ہے مثلاً فانفلق فکان کل فرق کا طور العظیم (26:63) تو دریا پھٹ گیا اور ہر ایک ٹکڑ ایوں ہوگیا (کہ) گویا بڑا پہاڑ ہے۔ دیکھو فرقہ (گروہ) فریق (جماعت ) تفریق (قاعدہ ریاضی) فرق (مانگ سر کے بالوں میں) سب الگ الگ ہونے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔
الفرقان۔ فرق یفرق (نصر) فرق یفرق (ضرب) کا مصدر بھی ہے ۔ یعنی الگ الگ کرنا اور صیغہ صفت بھی مستعمل ہے۔ یعنی الگ الگ کردینے والی چیز حق کو باطل سے ۔ نور کو ظلمت سے صبح کو رات سے (وغیرہ وغیرہ) ۔ قرآن حکیم میں یہ لفظ قرآن کے لئے۔ تورات کے لئے (کہ دونوں آسمانی کتابیں حق و باطل کو واضح طور پر الگ الگ کردینے والی ہیں)
(2) دلیل وحجت کے لئے (کہ یہ اصل کو لغو سے ممیز کرتی ہے ) کے لئے استعمال ہوا ہے۔
(3) جنگ بدر کے دن کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔ کیونکہ وہ تاریخ اسلام میں پہلا دن ہے جس میں حق و باطل میں کھلا امتیاز ہوگیا تھا۔ اور آیت ہذا میں الفرقان۔ القران کے لئے آیا ہے۔
عبدہ کا اشارہ رسول کریم ﷺ کی طرف ہے۔ لیکون۔ میں لام تعلیل کے لئے ہے اور نزل سے متعلق ہے یکون میں ضمیر فاعل کا مرجع عبدہ ہے یا الفرقان ہے۔ عالمین (سارے) جہان۔ (تمام) عالم۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا سب مخلوق کو عالم کہتے ہیں۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد فرشتے ، جن اور انسان ہیں اور ان کے علاوہ دیگر مخلوق نہیں اور بعض کے نزدیک صرف انسان ہیں
نذیرا۔ صفت مشبہ کا صیغہ بمعنی منذرا۔ ڈرانے والا۔ یعنی نافرمانوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا منصوب بوجہ خبر کے ہے۔
Ayah 25:2(25:2) لہ۔ میں لام اختصاص کے لئے ہے۔ خاص اسی کے لئے ۔ بلا شرکت غیرے۔ ملک۔ بادشاہت ۔ سلطنت۔
لم یتخذ۔ مضارع نفی حجد بلم مجزوم بوجہ عمل لم۔ اتخاذ (افتعال) مصدر۔ اس نے نہیں بنایا۔ اس نے قرار نہیں دیا۔ ولم یتخذ ولدا۔ اور نہیں بنایا اس نے (کسی کو اپنا) بیٹا۔ ای لم ینزل احدا منزلۃ الولد۔ کسی کو بطور پسر نہیں ٹھہرایا۔ یہ جملہ، جملہ ماقبل (الذی لہ ملک السموت والارض) پر معطوف ہے۔ اسی طرح جملہ ولم یکن لہ شریک فی الملک اور جملہ وخلق کل شیء اور جملہ فقدرہ تقدیرا کا عطف اسی جملہ (الذی لہ ملک السموت والارض) پر ہے۔
قذرہ۔ ماضی واحد مذکر غائب تقدیر (تفعیل) مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع کل شیء ہے۔ القدر (ضرب) اور التقدیر (تفعیل) کسی چیز کی مقدار (کمیت) کو بیان کرنے کے معنی میں آتے ہیں۔ جیسے فقدرنا فنعم القدرون (77 : 23) پھر ہم نے اندازہ مقرر کیا اور ہم کیا ہی خوب اندازہ کرنے والے ہیں۔ اور واللہ یقدر اللیل والنھار (73:20) اور اللہ تعالیٰ رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے۔ اسی سے قدر بمعنی مقدور ۔ حیثیت ۔ بساط ہے۔ جیسے علی الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ (2: 236) یعنی مقدور والا اپنے مقدور کے مطابق (دے) اور تنگدست اپنی حیثیت کے مطابق۔
فقدرہ تقدیرا۔ پھر ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کردیا۔ باب تفعیل سے جب استعمال ہو تو معنی ہوتے ہیں سوچ سمجھ کر۔ پورے غوروخوض کے بعد۔ اور جب مصدر کو بھی تاکید کے لئے لایا جائے تو مطلب ہوگا کہ اس نے جو اندازہ مقرر کیا ہے اس میں کسی تغیر وتبدل کی گنجائش نہیں ہے (تا آنکہ خود اس قادر مطلق کی مشیت ایسا چاہے) ۔
اس آیت میں الذی (فی قولہ تعالیٰ تبارک الذی) کی مندرجہ ذیل صفات بیان کی گئی ہیں۔
(1) انہ ھو الذی لہ ملک السموت والارض۔ وہ وہ ذات ہے کہ زمین و آسمان کی بادشاہت اسی کی ہے۔
(2) انہ لم یتخذ ولدا۔ اس کی کوئی اولاد نہیں ہے۔
(3) انہ لا شریک لہ فی ملکہ۔ اس کی حکومت میں کوئی اور اس کا شریک نہیں ہے۔
(4) انہ خالق کل شیئ۔ وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔
(5) انہ قدر کل شیء تقدیرا۔ اس نے ہر چیز کا جسے اس نے پیدا کیا ایک اندازہ مقرر کردیا ہے۔
Ayah 25:3(25:3) واتخذوا۔ ماضی جمع مذکر غائب اتخاذ (افتعال) مصدر۔ انہوں نے ٹھہرا لیا ۔ انہوں نے اختیار کرلیا۔ ضمیر جمع مذکر غائب مشرکین اور کفار کے لئے ہے۔ واو بمعنی لیکن ہے۔
نشورا۔ مصدر منصوب۔ جی اٹھنا۔ یعنی جزاوسزا کے لئے قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہوکر اٹھ کھڑا ہونا۔ محض میت کے از سر نو زندہ ہونے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ نشر المیت نشورا۔ مردہ دوبارہ زندہ ہوگیا۔ اور فانشرنا بہ بلدۃ میتا (43:11) پھر ہم نے اس سے شہر مردہ کو زندہ کردیا۔
اس آیت میں خداوند تعالیٰ کی صفات متذکرہ آیت 2 کے مقابلہ میں مشرکین کے معبودان باطل کی چھ کمزوریاں بیان کی گئی ہیں :۔
(1) انھا لا تخلق شیئا۔ وہ کوئی چیز پیدا نہیں کرسکتے۔
(2) انھا مخلوقۃ کلھا وہ تمام کی تمام خود مخلوق ہیں۔
(3) انھا لا تملک لا نفسھا ضرا ولا نفعا۔ وہ اپنی ذات کے نفع و نقصان پر قادر نہیں ہیں۔
(4) انھا لا تملک موتا۔ وہ موت پر کوئی قدرت نہیں رکھتے۔
(5) ولا حیوۃ۔ نہ زندگی پر۔ (6) ولا نشورا۔ اور نہ ہی موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر۔
Ayah 25:4(25:4) ان ھذا۔ میں ان نافیہ ہے۔ اور ھذا کا مشار الیہ القرآن ہے۔ افک۔ الافک ہر اس چیز کو کہتے ہیں کہ جو اپنے صحیح رخ سے پھیر دی گئی ہو اسی بنا پر ان ہوائوں کو جو اپنا اصلی رخ چھوڑ دیں موتفکۃ کہا جاتا ہے۔ اور جھوٹ بھی چونکہ اصلیت اور حقیقت سے پھرا ہوا ہوتا ہے اس لئے جھوٹ اور بہتان کو بھی افک کہتے ہیں۔
افترہ۔ ماضی واحد مذکر غائب افتری یفتری افتراء (افتعال) سے ہ ضمیر واحد مذکر غائب اس کا مرجع افک ہے ۔ وہ جھوٹ جو اس نے گھڑ لیا ہے۔ افتراء جھوٹ باندھنا۔ بہتان تراشنا۔ ضمیر فاعل نبی کریم ﷺ کی طرف راجع ہے۔ اعان کی ضمیر فاعل قوم اخرون کی طرف راجع ہے علیہ میں ضمیر ہ افک کے لئے ہے۔ یعنی اس افترا میں اس کی (نبی کریم ﷺ کی) امداد ایک دوسری قوم نے کی ہے۔
جاء وا۔ ماضی جمع مذکر غائب (باب ضرب) مجیئۃ مصدر۔ وہ آئے ۔ لیکن کلام عرب میں جاء واتی (مصدر اتیان) بمعنی فعل بھی مستعمل ہے۔ فقد جاء وا ظلما۔ ای فعلوہ۔ انہوں نے بڑا ظلم کیا۔ ظلما منصوب بوجہ مفعول کے ہوا اور تنوین تفخیم (عظمت اور بڑائی۔ یعنی ظلم عظیم کے لئے ہے۔ اتی بمعنی فعل کی مثال لا تحسبن الذین یفرحون بما اتوا۔۔ (3:188) ہرگز خیال نہ کرو ان لوگوں کو جو اپنے کئے پر خوش ہوتے ہیں (کہ وہ عذاب سے حفاظت میں رہیں گے) یہاں اتوا بمعنی فعلوا آیا ہے۔ الظلم کے معنی اہل لغت و اکثر علما کے نزدیک کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنے کے ہیں۔
زورا۔ الزور کے معنی سینہ کے ایک طرف جھکا ہونے کے ہیں اور جس کے سینہ میں ٹیڑھا پن ہو اسے الازور کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے وتری الشمس اذا طلعت تز اور عن کھفہم (18:17) اور تو دیکھے گا سورج کو جب وہ ابھرتا ہے کہ وہ ایک طرف کو ہٹ کر نکل جاتا ہے۔ تز اور عنہ۔ اس نے اس سے پہلو تہی کی۔ اس سے ایک جانب ہٹ گیا۔ اور جھوٹ بھی چونکہ جہت حق سے ہٹا ہوا ہوتا ہے اس لئے اس کو بھی الزور کہتے ہیں۔ زورا۔ بہت بڑا جھوٹ۔ نصب اور تنوین کے لئے جاء وا کے تحت ظلما ملاحظہ ہو۔
Ayah 25:5(25:5) اساطیر۔ اسطورۃ کی جمع (وہ جھوٹی خبر جس کے متعلق یہ اعتقاد ہو کہ وہ جھوٹ گھڑ کر لکھ دی گئی ہے۔ اسی طرح ارجوحۃ (لکڑی کا جھولا) کی جمع اراجیح ہے اثفیۃ (ہنڈیا کا پایہ) کی جمع اثافی اور احدوثۃ (قصہ ، کہانی، خبر) کی جمع احادیث ہے۔ السطر والسطر قطار کو کہتے ہیں خواہ کتاب کی ہو یا درختوں اور آدمیوں کی۔ سطر یسطر (نصر) لکھنا۔ جیسے ن والقلم وما یسطرون (68: 1) ن : قسم ہے قلم کی اور اس کی جو وہ لکھتے ہیں۔
اکتتبھا۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب اس نے اس کو گھڑ کر لکھ رکھا ہے۔ اس نے اس کو لکھوا دلیا ہے۔ اکتتاب (افتعال) من گھڑت چیز کو لکھنا۔ کسی سے لکھوانا۔ ھا کا مرجع اساطیر ہے۔ فھی۔ میںھی اساطیر کی طرف راجع ہے
تملی۔ مضارع مجہول واحد مؤنث غائب وہ لکھوائی جاتی ہیں۔ (اساطیر) وہ پڑھی جاتی ہیں۔ املاء کی صورت یہ ہے کہ ایک بولتا جائے یا پڑھتا جائے اور دوسرا لکھتا جائے۔ املاء دراصل املال تھا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے فلیکتب ولیملل الذی علیہ الحق (2:282) پس چاہیے کہ وہ لکھ دے اور چاہیے کہ وہ شخص بول کر لکھوائے جس کے ذمہ حق واجب ہے لام کو ہمزہ سے تخفیف کے لئے بدل دیا گیا ہے۔ ملل مادہ ہے۔ بکرۃ دن کا اول حصہ ۔ صبح۔ اصیلا۔ شام ۔ عصر ومغرب کے درمیان وقت کو کہتے ہیں۔
فائدہ :۔ کفار مکہ و مشرکین انکار رسالت میں اس حد تک بڑھ گئے تھے کہ انہوں نے کتاب اللہ کے متعلق بھی بہتان تراشی میں بڑے شد ومد سے کام لینے لگے۔ کبھی کہتے کہ اسے تو ایک دوسرا آدمی سکھلاتا ہے حالانکہ جس آدمی کی طرف ان کا اشارہ تھا وہ عجمی تھا اور عربی اس کی مادری زبان ہی نہ تھی۔ کبھی کہتے کہ یہ من گھڑت کہانیوں کا مجموعہ ہے اور اس میں اس کی ایک دوسری قوم کے افراد مدد کررہے ہیں۔ جن میں عبید بن الحصر حبشی کاہن، ابو فکیہہ، یسار، عدس، جبر وغیرہ کا نام لیتے تھے۔ حالانکہ یہ ان ہی مشرکین کے آزاد کردہ غلام تھے۔ اور ان کی مادری زبان عربی نہیں تھی۔ بھلا ایسے آدمی ایسی کتاب کے مصنف کیسے ہوسکتے تھے ؟ جس کی فصاحت و بلاغت، حسن بیان اور زور استدلال نے عرب بھر کے ادیبوں، دانشوروں، فصحا وبلغا کے چھکے چھڑا دئیے تھے۔
Ayahs 25:6–7(25:6) انزلہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع القرآن ہے۔ السر۔ چھپی ہوئی بات۔ بھید ۔ راز۔ دل میں جو بات چھپی ہوئی ہو اسے سر کہتے ہیں۔ الاسرار کسی بات کا چھپانا ۔ یہ اعلان کی ضد ہے۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے یعلم ما یسرون وما یعلنون (2: 77) جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ خدا کو (سب) معلوم ہے۔
(25:7) مال ھذا الرسول۔ اصل میں ما لھذا الرسول ہے۔ لام کو خط عربی کی عام وضع سے ہٹ کر ھذا سے الگ لکھا گیا ہے اس میں مشرکین کی طرف سے آپ حضور ﷺ کے بارے میں اہانت تصغیر شان اور رسول من اللہ ہونے میں تمسخر اور طنز کا اظہار ہے۔ جیسا کہ وہ کہتے ہوں دیکھو تو کیسا ہے یہ رسول (ہماری طرح کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اللہ کا فرستادہ ہوں) ۔ قرآن مجید میں سورة الکہف میں ہے مال ھذا الکتب لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ (18:49) عجیب ہے یہ کتاب (نامہ اعمال) کہ اس نے نہ کوئی چھوٹا (گناہ) چھوڑا ہے اور نہ کوئی بڑا۔ اسواق۔ سوق کی جمع۔ بازار۔
لولا۔ کیوں نہیں۔ یہاں بطور حرف تخصیص (کسی کو فعل پر سختی سے ابھارنا یا اکسانا۔ اس وقت لولا کے بعد مضارع آنا چاہیے جیسے لولا تستغفرون اللہ (27:46) تم لوگ اللہ سے معافی کیوں نہیں مانگتے خواہ معنا جیسے لولا اخرتنی الی اجل قریب (63: 10) تو نے مجھے کچھ دن اور مہلت کیوں نہ دی۔ پہلی صورت میں تخصیص اس امر کی ہے کہ انہیں معافی مانگنی چاہیے اور دوسری صورت میں یہ کہ تو مجھے مہلت عطا کردیتا ) یہاں لولا کے بعد انزل معنا مضارع کے معنی میں آیا ہے لولا انزل الیہ ملک اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا۔ یعنی چاہیے تو یہ تھا کہ اس کے پاس کوئی فرشتہ بھیجا جاتا۔
فیکون۔ میںجواب تحضیض میں ہے۔ تاکہ وہ ہوتا (اس کے ساتھ ڈرانے والا) یکون کا نصب بھی لولا کے جواب کی وجہ سے ہے۔ اس کی مثال لولا اخرتنی الی اجل قریب فاصدق واکن من الصالحین۔ (63:10) تو نے مجھے اور کچھ دن مہلت کیوں نہ دی تاکہ میں خیر خیرات دے لیتا ۔ اور نیک کاروں میں شامل ہوجاتا ۔ نذیرا۔ صفت مشبہ منصوب۔ ڈرانے والا۔
Ayah 25:8(25:8) یلقی الیہ۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب القاء (افعال) مصدر ڈالا جائے اس کی طرف۔ اتارا جائے اس کی طرف او یلقی الیہ کنزیا کیوں نہ اس کی طرف (غیب سے) خزانہ ہی اتارا گیا۔
او تکون لہ جنۃ۔ یا اس کا ایک باغ ہی ہوتا۔ آیت 7:8 میں یلقی اور تکون اگرچہ فعل مضارع ہیں لیکن ان کا عطف انزل فعل ماضی پر ہے کیونکہ دونوں معطوف الیہ اور معطوف کے درمیان فیکون فعل مضارع داخل ہے۔ کفار کے نزدیک کسی رسول من اللہ کے لئے ضروری تھا کہ :۔
(1) وہ کوئی فرشتہ ہوتا جو انسان کی طرح کھانے پینے کا محتاج نہ ہوتا اور نہ ضروریات زندگی کے لئے اسے بازاروں میں گھومنے پھرنے کی ضرورت ہوتی۔
(2) اگر یہ نہیں تھا تو کم از کم ایک فرشتہ ہر وقت اس کی معیت میں رہتا اور لوگوں کو ڈراتا کہ اگر تم نے رسول کی پیروی نہ کی تو ابھی خدا کا عذاب بسا دیتا ہوں۔
(3) یہ نہیں تو اس کے لئے کوئی غیب سے خزانہ ہی اتار دیا جاتا تاکہ معاش کا خاطر خواہ انتظام ہوجاتا۔
(4) یا بدرجہ آخر اس کا کوئی باغ ہی ہوتا جس کا پھل وہ خود بھی کھاتا (اور دوسرون کو بھی کھلاتا)
وہ کہتے کہ یہ کیا ماجرا ہے کہ خدا کا رسول ہمارے معمولی رئیسوں سے بھی گیا گذرا ہے نہ خرچ کے لئے مال میسر نہ پھل کھانے کو کوئی باغ نصیب۔ اور دعویٰ یہ کہ ہم اللہ رب العالمین کے پیغمبر ہیں۔ الظلمون۔ ای الکفار۔
ان تتبعون میں ان بمعنی ما ہے تتبعون مضارع جمع مذکر حاضر۔ کفار کا خطاب تابعین رسول اللہ ﷺ سے ہے۔
Ayahs 25:9–10(15:9) ضربوا لک الامثال۔ تمہارے لئے طرح طرح کی مثالیں بیان کرتے ہیں۔ فضلوا۔تفسیریہ ہے۔ لا یستطیعون مضارع نفی جمع مذکر غائب وہ استطاعت نہیں رکھتے وہ طاقت یا قدرت نہیں رکھتے ۔
سبیلا۔ ای طریقا الی الحق والصواب پس وہ راہ ہدایت وحق نہ پاسکے۔ خیرا من ذلک۔ اس سے بہتر ۔ خیر کے معنی نیکی و بھلائی۔ نیک کام ہیں۔ لیکن یہاں بمعنی افعل ہے بہتر۔ جنت۔ خیرا کا بدل ہے۔
یجعل مضارع مجزوم ۔ واحد مذکر غائب۔ وہ بنادے۔ وہ دے دے۔ اس کا عطف جعل پر ہے۔ اور جواب شرط میں ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔ قصورا قصر کی جمع۔ محل۔
Ayah 25:11(25:11) بل کذبوا بالساعۃ۔ بل حرف اضراب (روگردانی کرنا) ہے مگر صرف اس صورت میں جبکہ اس کے بعد کوئی جملہ آئے۔ کبھی اضراب سے اس کے ماقبل کا ابطال ہوتا ہے اور کبھی اضراب کے معنی ایک غرض سے دوسری غرض کی طرف منتقل ہونا ہے (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو 2:135 ۔ الاتقان جلد اول نوع چہلم)
یہاں ایک غرض سے دوسری غرض کی طرف منتقلی کے معنی میں آیا ہے یعنی بل اضراب انتقالی کے لئے ہے۔ ای انتقال الی حکایۃ نوع اخر من ابا طیلہم متعلق بامر المعادو ماقبل کان متعلقا بامرالتوحید وامر النبوۃ۔
یہ ان کے باطل امور کی دوسری حکایت ہے جس کا تعلق آخرت کی زندگی سے ہے اور جو اس سے قبل تھا وہ امر توحید اور امر نبوت سے متعلق تھا۔ بل کذبوا بالساعۃ۔ بلکہ یہ لوگ تو قیامت کے منکر ہیں۔
سعیرا۔ دھکتی ہوئی آگ۔ دوزخ۔ سعر سے جس کے معنی آگ بھڑکانے کے ہیں۔ بروزن فعیل بمعنی مفعول۔ سعیر مذکر ہے لیکن یہاں نار کے معنی میں آیا ہے اور اسی رعایت سے اگلی آیت میں صیغہ مؤنث لایا گیا ہے۔
Ayah 25:12(25:12) رأتہم۔ رأت ماضی واحد مؤنث غائب جس کا مرجع سعیرا ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب جس کا مرجع کفار ہیں جن کا اوپر ذکر ہورہا ہے (جب ) وہ دوزخ (کی دہکتی ہوئی) آگ ان کو دیکھے گی۔
تغیظا۔ تفعل کے وزن پر مصدر ہے غصہ کھانا۔ جھنجھلانا۔ اظہار غیظ وغضب ۔ جوش مارنا تنوین تفخیم (شدت و بڑائی کے اظہار) کے لئے ہے۔ زفیرا۔ چلانا۔ چنگھاڑنا۔ بروزن فعیل مصدر ہے۔ یہاں بھی تنوین تفخیم کے لئے ہے۔ سمعوا لھا تغیظا وزفیرا۔ وہ اس کا جوش مارنا اور چنگھاڑنا سنیں گے۔
Ayah 25:13(25:13) القوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب القاء (افعال) مصدر۔ وہ ڈالے جائیں گے (ماضی بمعنی مضارع) ۔ منھا۔ ای من النار
مکانا ضیقا۔ موصوف وصفت ۔ تنگ مکان۔ تنگ جگہ۔ دونوں منصوب بوجہ اسم ظرف ہونے کے۔ اذا القوا منھا مکانا ضیقا۔ ای اذا القوا فی مکان ضیق منھا۔ جب وہ ڈالے جائیں گے جہنم کی کسی تنگ جگہ میں۔
مقرنین۔ اسم مفعول جمع مذکر منصوب مقرن واحد تقرین (تفعیل) مصدر۔ جکڑے ہوئے۔ کس کر باندھے ہوئے۔
الاقتران۔ ازدواج کی طرح اقتران کے معنی بھی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کے کسی معنی میں باہم مجتمع ہونے کے ہیں۔ جیسے اوجاء معہ الملئکۃ مقترنین (43:53) یا یہ ہونا کہ فرشتے جمع ہوکر اس کے ساتھ آتے۔ قرنت البعیر مع البعیر میں نے ایک اونٹ کو دوسرے اونٹ کے ساتھ باندھ دیا۔ جس رسی کے ساتھ باندھا جاتا ہے اس کو قرن کہتے ہیں۔
قرنتہ باب تفعیل میں آئے تو مبالغہ کے معنی پائے جاتے ہیں قرآن مجید میں ہے واخرین مقرنین فی الاصفاد۔ (38:38) اور ادروں کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ دعوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ اصل میں دعو وا تھا۔ وائو متحرک ماقبل مفتوح اس لئے وائو کو الف سے بدلا۔ اب الف اور وائو دو ساکن جمع ہوئے اس لئے الف حذف ہوگیا۔ اور دعوا رہ گیا۔ دعاء مصدر۔ (باب نصر) ۔
ھنالک۔ اسم ظرف زمان واسم ظرف مکان۔ وہاں۔ اس جگہ۔ اس وقت۔ ثبورا۔ ثبر یثبر (نصر) کا مصدر ہے۔ موت، ہلاکت، مرجانا۔
Ayah 25:14(25:14) لا تدعوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم نہ پکارو۔ الیوم۔ آج۔ آج کے دن۔
Ayah 25:15(25:15) اذلک ہمزہ استفہام کے لئے ہے۔ ذلکمشار الیہ النار ہے۔ جنۃ الخلد۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہمیشہ رہنے والی جنت۔ الخلد مصدر۔ ہمیشگی دوام۔ بقا خلد یخلد (نصر) سے۔ کانت فعل ناقص۔ ماضی صیغہ واحد مؤنث غائب۔ ضمیر فاعل جنت کی طرف راجع ہے۔ لہم ای للمتقین۔
جزائ۔ نیک عمل کا صلہ۔ مصیرا۔ لوٹنے کی جگہ۔ ٹھکانہ ۔ قرار گاہ۔ جزاء ومصیرا دونوں منصوب بوجہ خبر کے ہیں۔
Ayah 25:16(25:16) کان میں ضمیر کا مرجع ما یشاء ون ہے۔ وعدا مسئولا۔ یعنی ایسا وعدہ جس کے پورا کرنے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔
واجب الادا۔ وعدہ۔ یعنی ایسا وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے اس کا پورا کرنا اپنے ذمہ لے لیا ہے اور اس کی صفت یہ ہے لا یخلف المیعاد۔ یہاں اہل جنت کی دو صفات بیان کی گئی ہیں۔ (1) جنت میں ان کو ان کی مرضی کے مطابق ہر شے ملے گی۔ (2) وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 25:17(25:17) یوم۔ ای اذکر الیوم یاد کرو وہ دن۔ یا ان سے ذکر کرو اس دن کا۔ یحشرہم۔ مضارع واحد مذکر غائب ضمیر فاعل کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب جس کا مرجع کافرین و مشرکین ہیں۔ (جب ) وہ انہیں جمع کرے گا۔
وما یعبدون من دون اللہ۔ اور (جب وہ جمع کرے گا) ان کو جنہیں خدا کے سوا وہ پوجتے تھے۔ اضللتم۔ تم نے بہکایا۔ تم نے گمراہ کیا۔ اضلال (افعال) مصدر۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر ۔ ضمیر کا مرجع انتم ہے خطاب ہے ان سے جن کو مشرکین خدا کے سوا پوجتے تھے یعنی ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم نے میرے بندوں کو گمراہ کیا تھا ؟ یا وہ خود راہ راست سے بھٹک گئے تھے۔ ام ہم ضلوا السبیل۔
Ayah 25:18(25:18) ماکان ینبغی لنا۔ ما کان ینبغی۔ ماضی استمراری منفی واحد مذکر غائب۔ ہمارے لئے تو (یہ بات بھی) کبھی زیبا نہ ہوئی (کہ ہم تیرے سوا کسی اور کو کارساز بنائیں ( چہ جائیکہ ہم ان کو راہ راست سے بھٹکاتے اور تیرے سوا دوسروں کی عبادت پر ان کو لگاتے) ۔
انبغاء (انفعال) مصدر۔ شان کے شایاں ہونا۔ سزاوار ہونا۔ لائق ہونا۔ قرآن مجید میں ہے وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ (36:69) اور ہم نے اس کو (پیغمبر کو) شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ ہی وہ اس کے شان کے شایاں ہے۔ نتخذ۔ مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) جمع متکلم اتخاذ (افتعال) مصدر ہم بنائیں۔ ہم بنا لیتے۔
من اولیاء میں من زائدہ تاکید نفی کے لئے لایا گیا ہے۔ یا عبارت کی تقدیر یوں ہو۔ ان نتخذ من دونک اولیائ۔ کہ ہم تیرے سوا کسی دوسرے کو کارساز بنا لیتے۔ متعتہم۔ ماضی واحد مذکر حاضر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب تمتیع (تفعیل) مصدر تو نے ان کو دنیوی سازوسامان اور آسودہ حالی سے نوازا۔
واباء ہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ متعت کا مفعول ثانی۔ اور ان کے بڑوں کو (بھی) ۔ نسوا۔ ماضی جمع مذکر غائب نسی ینسی (سمع) نسیان مصدر سے۔ انہوں نے بھلا دیا۔ وہ بھول گئے۔
الذکر۔ یاد ۔ ذکر۔ موعظت۔ یہ نسیان کی ضد ہے۔ جیسے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے وما انسنیہ الا الشیطن ان اذکرہ (18: 63) شیطان نے ہی مجھ کو اس کا ذکر کرنا بھلا دیا۔ یا یہاں اس سے مراد القرآن بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے ۔ ء انزل علیہ الذکرمن بیننا (38:8) کیا ہم سب میں سے بس اسی شخص پر کلام الٰہی نازل کیا گیا، یہاں مراد تیرا ذکرپندونصائح اور ایمان بالقرآن ہے
بورا۔ بور اسم مصدر ہے اور اس کا اطلاق واحدو جمع پر ہوتا ہے۔ ہلاک ہونا۔ جمع کی مثال آیت ہذا ہے۔ وکانوا قوما بورا۔ اور یہ لوگ برباد ہو کر رہے۔ واحد کی مثال عبداللہ بن الزبعری السھمی ؓ کا شعر ہے :۔
یا رسول الملیک ان لسانی راتق ما فتقت اذا نابور۔
(اے بادشاہ کے قاصد جب کہ میں ہلاک ہو رہا ہوں تو میری زبان جو کچھ میں نے توڑا ہے اس کو جوڑ دے گی)
یہاں انا واحد ہے اور بور اس کی صفت ہے۔ بعض کے نزدیک یہ بائر کی جمع ہے۔ جیسے ھود ھائد کی جمع ہے۔
Ayah 25:19(25:19) کذبوکم۔ کذبوا ماضی جمع مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر ضمیر فاعل۔ معبودین کے لئے اور ضمیر مفعول عابدین کے لئے ہے۔ یعنی (سواے کافرو) تمہارے معبودوں نے ہی تم کو جھٹلا دیا۔ بما تقولون ان باتوں میں جو تم کہہ رہے ہو۔
فما تستطیعون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ سو اے کافرو ! نہ تم میں طاقت ہے (اس عذاب کو ٹال دینے کی یا پھیر دینے کی اور نہ ہی تم کو مدد پہنچ سکتی ہے) ۔ صرفا۔ پھیرنا۔ ٹالنا۔ صرف یصرف (ضرب) کا مصدر ہے۔ اسی طرح نصرا۔ نصر ینصر کا مصدر بمعنی مدد ہے۔ یعنی پھر نہ اس عذاب کا ٹال دینا تمہاری استطاعت میں ہے اور نہ ہی کوئی مدد (بالواسطہ یا بلاواسطہ ) تمہارے بس میں ہے۔
من یظلم۔ جو ظلم کرے گا۔ ظلم سے مراد کسی شے کا اپنی صحیح جگہ سے دوسری جگہ رکھ دینا ہے شرک کو بھی ظلم کہتے ہیں کیونکہ خالق کو معبود بنانے کی بجائے مخلوق کو معبود ٹھہرانا کسی شے کو اپنے اصلی موقع کی بجائے غلط جگہ رکھنے کی بدترین مثال ہے۔ اسی لئے شرک کو قرآن میں ظلم عظیم کہا گیا ہے۔ ان الشرک لظلم عظیم (31:13) یظلم مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ شرط کی وجہ سے مجزوم ہے اور اسی طرح نذقہ جواب شرط کی وجہ سے مجزوم ہے۔ (ہم اسے چکھائیں گے) ۔
عذابا کبیرا۔ موصوف وصفت ہو کر نذق کا مفعول ثانی۔
Ayah 25:20(25:20) فتنۃ آزمائش۔ اتصبرون۔ جملہ استفہامیہ ہے کیا تم (اس آزمائش میں) صبر کرو گے۔
لیکن یہاں امر کے معنی آیا ہے۔ تم صبر کرو۔ یعنی ہر حالت میں صبر کا دامن مت چھوڑو۔ اس کی مثال فھل انتم منتھون۔ سو اب بھی تم باز آئو گے۔ مراد یہاں امر ہے۔ ای انتھوا۔ باز آجائو۔
Ayahs 25:21–22(25:1) لا یرجون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ رجا یرجو (نصر) رجو مادہ رجاء ورجومصدر۔ امید کرنا۔ امید رکھنا۔ لا یرجون (جو) امید نہیں رکھتے۔ لقاء نا۔ مضاف مضاف الیہ۔ لقاء حامل مصدر۔ پیشی۔ حاضری۔ لقاء لقی یلقی (سمع) کا مصدر بھی ہے۔ پالینا۔ کسی کے سامنے ہونا۔ مثلاً واعلموا انکم ملاقوہ (2:223) اور جان رکھو کہ ایک دن تمہیں اس کے روبرو حاضر ہونا ہے۔ لا یرجون لقاء نا (جو) ہمارے روبرو ہونے کی امید نہیں رکھتے۔ یعنی جو یوم حشر کے منکر ہیں۔
لولا انزل۔۔ نری ربنا۔ یہ قال الذین کا مقولہ ہے لولا ای ھلا۔ کیوں نہ۔ استکبروا فی انفسہم۔ استکبر (باب استفعال) اپنے کو بڑا سمجھنا۔ بڑا شمار کرنا۔ استکبروا فی انفسہم۔ وہ اپنے آپ کو اپنے دلوں میں بہت بڑا سمجھنے لگے تھے۔ یقینا انہوں نے اپنے دلوں میں اپنے کو بڑا سمجھ لیا تھا۔
عتوا۔ ماضی جمع مذکر غائب (باب نصر) انہوں نے نافرمانی کی۔ وہ سرتابی میں حد سے گذر گئے۔ وہ شرارت میں انتہا کو پہنچ گئے۔ عتو مصدر عما یعتوا سے۔
لقد استکبروا فی انفسہم وعتوا کبیرا۔ میں لام جواب قسم میں ہے اور عتوا مصدر کو تاکید کے لئے لایا گیا ہے ۔ ای واللہ لقد استکبروا فی شان انفسہم وتجاوزو الحد فی الظلم والطغیان تجاوزا کبیرا بالغا اقصی غایتہ۔ خدا کی قسم وہ اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھنے لگے تھے اور ظلم و سرکشی میں حد سے تجاوز کر گئے تھے اور ان کا تجاوز اپنی انتہائی حد تک پہنچ گیا تھا۔
یوم۔ ای اذکر یوم یرون الملئکۃ۔ یاد کرو وہ دن جب وہ فرشتوں کو دیکھیں گے لا بشری یومئذ للمجرمین مجرموں کے لئے اس دن کوئی خوشخبری نہ ہوگی۔ یا یوم بوجہ ظرفیت منصوب ہے۔ ای انہم یوم یرون الملئکۃ لا بشری لہم جس روزہ وہ فرشتوں کو دیکھیں گے ان کے لئے کوئی خوشی کی بات نہ ہوگی۔ یوم سے یہاں مراد یوم الموت بھی ہوسکتا ہے اور یوم القیامۃ بھی۔
حجرا محجورا۔ الحجر۔ سخت پتھر کو کہتے ہیں۔ الحجر والتحجیر کے معنی کسی جگہ پتھروں سے احاطہ کرنا کے ہیں۔ کہا جاتا ہے حجرتہ حجرا فھو محجور وحجرتہ تحجیرا فھو محجر۔ جس جگہ کے اردگرد پتھروں سے احاطہ کیا گیا ہو اسے حجرکہا جاتا ہے۔ اس لئے حطیم کعبہ کو اور دیار ثمود کو حجر کہا گیا ہے۔
مؤخر الذکر کے متعلق قرآن مجید میں ہے ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین (15:80) اور وادی حجر کے رہنے والوں نے بھی پیغمبرون کی تکذیب کی ! اور حجر (پتھروں سے احاطہ کرنا) سے حفاظت اور روکنے کے معنی لے کر عقل انسانی کو بھی حجر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ بھی انسان کو نفسانی بےاعتدالیوں سے روکتی ہے۔ قرآن مجید میں ہے ھل فی ذلک قسم لذی حجر (89:5) اور بیشک یہ چیزیں عقلمندوں کے نزدیک قسم کھانے کے قابل ہیں۔
حجر حرام چیز کو بھی کہتے ہیں کیونکہ اس کا کھانا ممنوع ہوتا ہے چناچہ قرآن مجید میں ہے وقالوا ھذہ انعام وحرث حجر (6 :138) اور یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ چوپائے اور کھیتی حرام ہیں۔ جاہلیت کے زمانہ میں دستور تھا کہ جب کسی کے سامنے کوئی ایسا شخص آجاتا جس سے اذیت کا خوف ہوتا اور اپنی بےبسی اور بےچارگی کا احساس ہوتا کہہ دیتا حجرا محجورا (یعنی ہم تمہاری پناہ چاہتے ہیں) یہ الفاظ سن کر دشمن اسے کچھ نہ کہتا۔ یا وہ بےبس شخص پکار اٹھتا حجرا محجورا اور مراد اس کی اللہ تعالیٰ سے مخالفت کی اذیت سے عافیت اور خدا کی پناہ طلب کرنا ہوتی۔ جیسے کہ کہے خدا یا پناہ۔ ان ہی معنوں میں جریج کا قول ہے :۔ عرب جب کسی مصیبت میں گھر جاتے ہیں تو کہتے ہیں حجرا محجورا۔ معناہ عوذا معوذا۔ ہائے بچائو۔ ہائے بچائو۔
دو چیزوں کے درمیان مضبوط آڑ یا اوٹ کو بھی حجرا محجورا کہتے ہیں یعنی ایسی مضبوط رکاوٹ جو دور نہ ہو سکے۔ اس میں روکاوٹ اور حفاظت کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے :۔ وجعل بینھما برزخا وحجرا محجورا (25:53) اور دونوں کے درمیان ایک آڑ اور مضبوط اوٹ بنادی۔
قرآن مجید میں حجرا محجورا صرف دو جگہ استعمال ہوا ہے اور وہ بھی اسی سورة الفرقان کی آیۃ ہذا میں اور دوسرے آیت (25 :53) محولہ بالا۔ ویقولون حجرا محجورا میں ضمیر فاعل یقولون کے متعلق دو اقوال ہیں :۔
(1) ضمیر فاعل الملئکۃ کے لئے ہے اور حضرت ابو سعید الخدری، الضحاک، قتادہ، عطیہ و مجاہد سے یہی روایت ہے اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ اور فرشتے کہیں گے کہ (جنت کا داخلہ تم پر) قطعا حرام ہے۔ ای تقول الملکۃ حراما محرما ان یدخل الجنۃ الا من قال لا الہ الا اللہ وقام شرائعھا ومحجورا صفۃ توکد معنی حجرا۔ فرشتے کہیں گے کہ جنہوں نے کلمہ لا الہ نہیں پڑھا اور شریعت کے احکام کی پابندی نہیں کی ان کا جنت میں داخلہ قطعا حرام اور ممنوع ہے اس صورت میں حجرا موصوف اور محجورا صفت برائے تاکید ہے۔
(2) ضمیر فاعل الکفار کی طرف راجع ہے یقولون عطف یرون پر ہے۔ یعنی جب وہ اس دن کی ہولناکیوں کو دیکھیں گے۔ اور عذاب کو متوقع پائیں گے تو چلا اٹھیں گے حجرا محجورا۔ پناہ ! پناہ ! ان الکفار الذین اقترحوا انزال الملائکۃ اذا راوا الملائکہ توقعوا العذاب من قبلہم فیقولون حینئذ للملائکۃ حجرا محجورا۔ کفار فرشتوں کے انزال کے لئے مطالبہ کیا کرتے تھے جب وہ اس دن فرشتوں کو دیکھیں گے اور ان سے (بجائے بشارت کے) عذاب متوقع پائیں گے تو اس وقت وہ فرشتوں سے التجا کریں گے بچائو۔ بچائو ۔
Ayah 25:23(25:23) قدمنا الی۔ ماضی جمع متکلم (باب سمع ) قدم مصدر۔ آگے بڑھنا۔ ہم آگے بڑھیں گے ہم متوجہ ہوں گے۔ لیکن اگر قدوم یا قدمان مصدر سے اسی باب سے آئے تو معنی سفر سے واپسی کے ہوں گے۔ یہاں ماضی بمعنی مستقبل استعمال ہوا ہے۔
ھبائ۔ اسم مفرد۔ باریک خاک۔ باریک ذرات۔ جو سورج کے رخ پر کواڑ کے سوراخوں میں سے دکھائی دیتے ہیں۔ جعلنہ کا مفعول ثانی ہے۔ مفعول اول ہ ضمیر واحد مذکر غائب ہے۔ منثورا۔ ھباء کی صفت ہے۔ بکھیرا ہوا۔ غیر منظوم۔
Ayah 25:24(25:24) اصحب الجنۃ۔ مضاف مضاف الیہ۔ آیت (25:15) میں ان کی طرف اشارہ ہے ہم المومنون المتقون۔ وہ وہی متقون ہوں گے جن کا ذکر آیت 15 میں ہے۔
خیر۔ بہتر۔ اچھا۔ اور احسن بہت اچھا، بہتر۔ تفضیل کا صیغہ۔ یا تو خیریت اور حسن کی زیادتی کو بیان کرنے کے لئے ہے کہ وہ خیریۃ المستقر او حسن المقیل کے انتہائی مدارج میں ہوں گے یا مقابلہ کیا ہے کفار کے تنعم، سامان عیش و عشرت سے جو انہیں دنیا میں حاصل رہا۔ مستقرا خیر کی تمیز ہے۔ مستقر اسم ظرف مکان۔ قرار گاہ ۔ یعنی جہاں تک ان کی قیام گاہ کا تعلق ہے وہ سب سے اچھے رہیں گے۔
مقیلا۔ اسم ظرف مکان وزمان۔ قیلولہ کرنے کی جگہ یا قیلولہ کرنے کا وقت ۔ قیلولۃ مصدر دوپہر میں آرام کرنا۔ مطلقا بمعنی آرام گاہ۔ یا وقت استراحت۔ مقیلا بھی احسن کی تمیز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے لئے (جنت) بہترین قرار گاہ ہوگی اور بہترین آرام گاہ
Ayah 25:25(25:25) یوم۔ کا نصب بوجہ فعل محذوف اذکر کے مفعول ہونے کے ہے۔ ای اذکر یوم۔ یا یہ معطوف ہے اور اس کا عطف (الف) یومئذ آیت 24 پر ہے یا (ب) یوم یرون آیت 22 پر ہے۔
تشقق۔ مضارع واحد مؤنث غائب تشقق (تفعل) مصدر۔ شگافتہ ہونا۔ پھٹ جانا اصل میں تتشقق تھا۔ ایک تا کو حذف کیا گیا۔ باب انفعال سے بھی اسی معنی میں آتا ہے مثلاً اذا السماء انشقت (84:1) جب آسمان پھٹ جائے گا۔ الشقاق (باب مفاعلۃ مشاقۃ) کے معنی مخالفت کے ہیں۔ گویا ہر فریق جانب مخالف کو اختیار کرلیتا ہے۔ الشقۃ پھاڑا ہواٹکڑا۔
غمام۔ ابر (اسم جنس ہے) سفید ابر۔ جمع ہے اس کا واحد غمامۃ ہے۔ غمامۃ کی جمع غمائم بھی ہے۔ سفید ابر۔ رقیق مانند کہر۔ جیسا کہ بنی اسرائیل پر دشت تیہ میں چھایا تھا۔ قرآن میں ہے وظللنا علیہم الغمام وانزلنا علیہم المن والسلوی (7: 160) اور ہم نے ان پر ابر کا سایہ کردیا اور ہم نے ان پر من وسلوی اتارا۔ یا اس بادل کی طرح جو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ظاہر کرے گا مثلاً ھل ینظرون الا ان یاتیہم اللہ فی ظلل من الغمام (2:210) یہ لوگ تو بس اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس خدا بادل کے سائبانوں میں آجائے۔ تشقق السماء بالغمام۔ کی کئی توجیہہ بیان کی گئی ہیں۔
(1) تشقق السماء وعلیھا غمام کما تقول رکب الامیر بسلاحۃ ای وعلیہ سلاحۃ یعنی آسمان پھٹ جائے گا اور اس کے اوپر سفید بادل نمودار ہوگا اور جیسا کہ کہتے ہیں کہ حاکم اسلحہ کے ساتھ سوار ہوا یعنی اس حالت میں سوار ہوا کہ اس کے جسم پر اسلحہ تھا۔
(2) با سببیہ ہے یعنی آسمان بادلوں کے سبب سے پھٹ جائے گا یعنی آسمان سے ایک سفید ابر نکلے گا جس کے سبب آسمان پھٹ جائے گا
(3) باء بمعنی عن ہے یعنی آسمان پھٹ جائے گا اور سفید بادل ظاہر ہوگا۔ باء کو عن کی بجائے اور جگہ بھی استعمال کیا گیا ہے مثلاً من یکفر بالایمان (5:5) اور جو کوئی ایمان سے انکار کرے گا۔ یا فاسئل بہ خبیرا (25:59) پوچھ لے اس کے متعلق کسی باخبر سے۔
(4) باء الحال ہے یعنی آسمان پھٹ جائے گا اور بادلوں کی صورت اختیار کرلے گا۔
(5) باء مصاحبت بمعنی مع۔ یعنی آسمان پھٹ جائے گا اور اس کے ساتھ بادل بھی۔
نزل۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب تنزیل (تفعیل) مصدر اتارا گیا۔ تنزیلا مصدر کو تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔
Ayah 25:26(25:26) الملک الحق۔ موصوف وصفت دونوں مل کر مبتدا للرحمن خبر۔ یومئذ ظرف زمان متعلق مبتدا الملک یومئذ ن الحق للرحمن۔ اس روز حکومت حقیقی (خدائے ) رحمان ہی کی ہوگی۔
کان یوما۔ ای کان ذلک الیوم یوما۔۔ اور وہ دن کافروں پر بہت سخت ہوگا۔ عسیرا (یسیرا کی ضد) سخت ، مشکل ، بھاری، عسر سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
Ayah 25:27(25:27) یوم۔ میں عامل اذکر محذوف ہے۔ یعض۔ عض یعض (باب سمع) عض وعضیض مصدر۔ دانت سے پکڑنا دانت سے کاٹنا۔ فعل مضارع واحد مذکر غائب۔ با اور علی کے صلہ کے ساتھ عض بہ عض علی آتا ہے۔ یعض علی یدیہ وہ اپنے دونوں ہاتھ کاٹ کاٹ کھاتا ہے یا کھائے گا۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے واذا خلوا عضوا علیکم الانامل من الغیظ (3:119) اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر (شدت) غیظ سے انگلیاں کاٹ کاٹ کر کھاتے ہیں۔
الظالم۔ میں ال حرف تعریف ہے۔ پھر اس کی دو صورتیں ہیں۔
(1) یہ حرف تعریف عہد کے لئے ہے ۔ اور اس کا معہود متعین ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے کما ارسلنا الی فرعون رسولا۔ فعصی فرعون الرسول (73:15 ۔ 16) جس طرح ہم نے فرعون کے پاس ایک رسول بھیجا تھا ۔ تو فرعون نے رسول کی نافرمانی کی (اس میں الرسول کی الف لام نے معبود کا تعین کردیا کہ یہ وہی رسول تھا جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا)
مفسرین کا قول ہے کہ یہ آیت عقبہ بن ابی معیط بن امیہ بن عبد شمس کے بارہ میں نازل ہوئی تھی اس صورت میں ال عہدی عقبہ کے لئے ہے اور الظالم سے مراد عقبہ بن ابی معیط ہے۔
(2) یہ حرف تعریف جنس کے لئے ہے اور استغراق افراد کے لئے ہے اور یہ وہ ال ہے کہ جس کی جگہ لفظ کل قائم مقام ہوتا ہے مثلاً قرآن مجید میں ہے وخلق الانسان ضعیفا (4:28) اور انسان کمزور ہی پیدا کیا گیا ہے یعنی تمام بنی نوع انسان۔ اس صورت میں الظالم سے مراد تمام ظالم اشخاص ہوں گے۔
یلیتنی۔ یا حرف ندا ہے قریب اور بعید ہر دو کے لئے آتا ہے یا ہمیشہ اسم پر آتا ہے یعنی منادی ہمیشہ اسم ہوتا ہے جیسے یا زید۔ اے زید۔ لیکن اگر فعل پر داخل ہو جیسے الا یا اسجدوا۔ یا حرف پر داخل ہو جیسے یا لیتنی تو ان صورتوں میں منادی محذوف ہوتا ہے ایۃ ھذا یلیتنی میں منادی محذوف ہے ای یا قومی لیتنی۔ یا یا حرف تنبیہ کے لئے ہے۔
لیتنی۔ لیت حرف مشبہ بالفعل ہے آرزو۔ تمنا کے لئے آتا ہے (اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے جیسے لیت زیدا قائم (کاش زید کھڑا ہوتا) یلیت الشباب یعود (کاش جوانی پھر آتی) کبھی اسم اور خبردونوں کو نصب دیتا ہے۔ مثلاً یلیت ایام الصباد راجعا لیت اکثر ناممکن امر پر واقع ہوتا ہے۔ مثلاً یلیتنی کنت ترابا (78:40) کاش میں مٹی ہوجاتا۔
فیلیت الشباب یعود یوما۔ فاخبرہ بما فعل المشیب۔
ای کاش جوانی کسی دن لوٹ آتی تو بڑھاپے نے جو سلوک کیا ہے میں اس کو بتاتا۔ یا لیتنی یا حرف ندا قومی منادی محذوف لیت حرف مشبہ بالفعل فی اسم (یا بصورت تنبیہ بمعنی ) اے کاش میں (نے اختیار کیا ہوتا) ۔
اتخذت۔ ماضی واحد متکلم اتخاذ (افتعال) مصدر میں نے اختیار کیا۔ یلیتنی اتخذت اے کاش میں نے اختیار کیا ہوتا۔
الرسول کی دو صورتیں ہیں۔
(1) اگر الظالم (مذکورہ بالا) میں ال جنس کا ہے تو الرسول میں بھی الف لام جنس کا ہوگا۔ اور الرسول سے مراد کل رسول (تمام رسول) ہوگی۔
(2) اور اگر الظالم میں ال عہد کا ہے اور اسے مراد عقبہ بن ابی معیط ہے تو الرسول میں بھی ال عہد کے لئے ہے اور اس سے مردا نبی کریم ﷺ کی ذات عالی مقام ہے !
اب آیت کا ترجمہ : تو اس دن ظالم (فرط ندامت سے) اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا (اور کہے گا) کاش ! میں نے رسول (مکرم) کی معیت میں (نجات کا) راستہ اختیار کیا ہوتا۔ سبیلا۔ اتخذت کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
Ayahs 25:28–29(25:28) یویلتی۔ یا حرف ندا ویلۃ اسم مضاف۔ ی برائے نسبت واحد متکلم مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ مل کر منادی۔ ہائے میری بدبختی۔ ہائے افسوس، ویلتی اصل میں ویلتی تھا۔ افسوس اور حسرت کی آواز کو کھینچنے کے لئے یا کو الف سے بدل کر ویلتی کردیا۔
(25:29) اضلنی۔ اضل ماضی واحد مذکر غائب ن وقایہ ی ضمیر مفعول واحد متکلم اس نے مجھے بہکایا۔ اس نے مجھے گمراہ کیا۔
الذکر۔ سے مراد موعظۃ الرسول۔ کلمہ شہادت ۔ یا قرآن مجید ہے۔ جاءنی۔ ضمیر فاعل الذکر کے لئے ہے۔ خذولا۔ فعول کے وزن پر بمعنی فاعل صفت کا صیغہ ہے۔ مبالغہ کا صیغہ ہے۔ خذلان خذلان خذل مصدر۔ مصیبت میں تنہا چھوڑ دینے والا۔ منصوب بوجہ خبر کان کے ہے۔
۔ یلیتنی (آیہ 28: تا اذ جاءنی آیۃ 29) الظالم کا مقولہ ہے اور وکان الشیطن للانسان خذولا۔ جملہ معترضہ ہے
Ayahs 25:30–31(25:30) وقال الرسول۔ اس کا عطف وقال الذین لا یرجون لقاء نا ۔۔ الخ پر ہے۔ اور دونوں جملوں کے درمیان کا کلام بطور جملہ معترضہ ہے۔ اور یہاں الرسول سے مراد نبینا ﷺ ہیں۔
مھجورا۔ اسم مفعول واحد مذکر ھجر سے ای متروکا بالکلیۃ۔ کلی طور پر اس پر ایمان نہ لائے نہ سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ اور غور کیا اور نہ اس کے وعدہ اور وعید کی طرف توجہ کی ۔ یا ھجر سے مراد بکواس ۔ بدگوئی۔ نامناسب کلام۔ یعنی کسی نے قرآن کو بکواس کہا۔ کسی نے سحر کہا ۔ اور کسی نے شعر۔ نشانہ تضحیک۔
کفی۔ کفی یکفی (ضرب) کفایۃ۔۔ الشی کافی ہونا۔ کاف اسم صفت ۔ کہا جاتا ہے کفیتہ شر عدوہ میں نے اس کو اس کے دشمن کے شر سے بچا دیا۔ کفی بربک۔ میں با زائدہ ہے اور رب حالت رفعی میں ہے ای کفی ربک تیرا رب کافی ہے۔ ھادیا ونصیرا۔ منصوب بوجہ حال یا تمیز کے ہیں۔
Ayah 25:32(25:32) جملۃ واحدۃ۔ یکبارگی۔ ایک ہی دفعہ۔ ایک ہی وقت میں ۔ جملۃ بوجہ القران کے حال ہونے کے منصوب ہے۔ اور واحدۃ بوجہ جملۃ کی صفت کے منصوب ہے۔
کذلک۔ کاف حرف تشبیہ ہے اور ذلک اسم اشارہ۔ اسی طرح۔ یعنی یہ تنزیل اسی طرح ہی ہے۔ تھوڑی، تھوڑی، وقفے وقفے کے بعد۔ ضرورت کے پیش نظر۔ حکمت بالغہ کے مطابق مفہوم کو ذہن نشین کرنے کے لئے۔ لنثبت۔ لام تعلیل کی ہے۔ اس لئے کہ نثبت مضارع جمع متکلم منصوب بوجہ عمل لام تثبیت (تفعیل) مصدر۔ ہم قائم رکھیں۔ ہم جمائے رکھیں۔ ہم مضبوط رکھیں، ہم ثابت قدم رکھیں ہم محکم رکھیں۔
رتلناہ۔ رتلنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ جس کا مرجع القرآن ہے ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا۔ یا پڑھ کر سنایا۔ تدریجانازل فرمایا۔ ترتیل (تفعیل) مصدر۔ سہولت اور حسن تناسب کے ساتھ کسی کلمہ کو ادا کرنا۔ ہم نے اسے نہایت عمدہ ترتیب اور تناسب کے ساتھ اتارا ہے ۔ اس کا عطف فعل محذوف پر ہے۔ ای کذلک نزلنہ ورتلنہ ترتیلا۔
Ayah 25:33(25:33) لا یاتونک۔ لا یاتون مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر نہیں لائیں گے تیرے پاس۔ نہیں پیش کریں گے تیرے سامنے۔ مثل۔ اعتراض۔ عجیب سوال۔ مثل یمثل (کرم) الشیء مثولا کے معنی کسی چیز کا سیدھا کھڑا رہنا۔ یا دوسری چیز کی شکل و صورت اختیار کرلینا کے ہیں۔
مثلاً حدیث شریف میں ہے من احب ان یمثل لہ الرجال فلیتبوا مقعدہ من النار۔ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کے سامنے سیدھے کھڑے رہیں تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے۔ الممثل وہ چیز جو کسی نمونہ کے مطابق بنائی گئی ہو۔ تمثیل تصویر۔ المثل ایسی بات جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو۔ مثل ومثل دونوں ہم معنی ہیں المثلۃ عبرتناک سزا۔
جئنک۔ جئنا ماضی جمع متکلم ۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ جئنا ہم آئے۔ جاء سے اور صلہ ب کے ساتھ ۔ ہم لائے ۔ ہم تیرے پاس لائیں گے۔ (ماضی بمعنی مستقبل) ۔ ولا یاتونک۔۔ باحسن تفسیرا۔ اور نہیں لائیں گے تیرے پاس کوئی اعتراض یا عجیب سوال مگر ہم تیرے پاس اس کا صحیح جواب لائیں گے۔ اور عمدہ تفسیر۔ یعنی آپ کے پاس یہ لوگ جیسا بھی عجیب سوال پیش کریں گے ہم اس کا صحیح جواب اور احسن تفسیر آپ کو بتلا دیں گے۔ احسن تفسیرا کا عطف الحق پر ہے۔ ای جئناک باحسن تفسیرا۔
Ayahs 25:34–35(25:34) یحشرون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب ان کو جمع کیا جائے گا۔ ان کو سمیٹ کرلے جایا جائے گا۔ ای یساقون۔ گھسیٹ کرلے جایا جائے گا۔
شر۔ اضل۔ افعل التفضیل کے صیغے ہیں۔ شر کو بصیغہ تفضیل اور جگہ بھی استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً قل ھل انبئکم بشر من ذلک مثوبۃ عند اللہ۔ ہے (5:60) آپ کہہ دیجئے کیا میں تمہیں بتائوں وہ جو اللہ کے ہاں پاداش کے لحاظ سے اس سے بھی برا شر۔ بدترین۔ اضل۔ زیادہ گمراہ۔
ترکیب :۔ ہم (مبتدا محذوف) الذین یحشرون ۔۔ سبیلا خبر۔ یا اولئک اسم اشارہ مبتدا۔ شر مکانا۔ اس کی خبر اول واضل سبیلا۔ خبر ثانی۔ مبتدا وخبر مل کر یہ جملہ الذین اسم موصول مبتدا کی خبر ہوا۔
الذین۔۔ یہ وہ لوگ ہیں (یعنی اعتراض کرنے والے۔ عجیب سوال پوچھنے والے) جو اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف لے جائیں گے۔ یہ لوگ جگہ کے لحاظ سے بدترین اور طریقہ و مذہب کے لحاظ سے بہت گمراہ ہیں۔
Ayah 25:36(25:36) دمرنا ہم۔ ماضی جمع متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب تدمیر (تفعیل) مصدر۔ ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ ہم نے ان کو اکھیڑ مارا۔ تباہ کر کے چھوڑا۔ التدمیر اشد الا ھلاک واصلہ کسر الشیء علی وجہ لا یمکن اصلاحہ۔ تدمیر اہلاک کی شدید ترین شکل ہے اور اس کی اصل کسی شے کو اس طرح توڑ پھوڑ دینا کہ اس کی اصلاح ہی ممکن نہ رہے۔ یعنی بالکل چور چور و ریزہ ریزہ ہی کر ڈالا۔ کلام کچھ یوں ہے :۔
فقلنا اذھبا الی القوم فذھبا الیہم ودعوہم الی الایمان فکذبوھما واستمروا علی ذلک فدمرنہم۔ ہم نے کہا کہ تم دونوں قوم کے پاس جائو پس وہ دونوں ان کی طرف گئے اور ان کو ایمان کی دعوت دی لیکن (اس قوم کے ) لوگوں نے ان دونوں کی تکذیب کی اور ڈٹے رہے پس ہم نے ان کو تباہ کر کے چھوڑا۔
Ayah 25:37(25:37) قوم نوح۔ ای اذکر قوم نوح۔ اور قوم نوح کو یاد کرو۔ بعض کے نزدیک اس سے قبل دمرنا مضمر ہے۔ ای ودمرنا قوم نوح۔ ابوحیان کے نزدیک قوم نوح کا عطف دمرناہم کے مفعول پر ہے۔ اور یہ صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ قوم نوح کی ہلاکت فرعون اور اس کی تکذیب پر ترتب نہیں ہے اول الذکر (اذکر قوم نوح) ہی زیادہ صحیح ہے۔
لما۔ جب (کلمہ ظرف زمانی ہے) ۔ الرسل۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔
(1) اس سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں۔ ای رسولہم اپنے رسول (کی تکذیب کی) ومن کذب رسولا واحدا فقد کذب جمیع الرسل فلذا ذکرہ بلفظ الجمع۔ جس نے ایک رسول کی تکذیب کی اس نے جملہ رسولوں کی تکذیب کی (کیونکہ تمام کی تعلیم وہی توحید الٰہی تھی) اسی وجہ سے اس کو بلفظ جمع ذکر کیا گیا ہے۔
(2) اس سے مراد حضرت نوح اور ان کے ماقبل کے پیغمبران ہیں۔
(3) یا الرسل۔ جنس کے لئے ہے۔ یعنی وہ ہر رسول کے مخالف تھے۔ اور سلسلہ نبوت و رسالت کے منکر تھے۔
ایۃ۔ نشان (عبرت) ۔ اعتدنا۔ ماضی جمع متکلم اعتاد (افعال) سے ہم نے تیار کر رکھا ہے۔ للظلمین۔ ای للکفرین۔ مراد اس سے قوم مذکور ہے۔ عذابا الیما۔ موصوف وصفت۔ اعتدنا کے مفعول ہونے کی وجہ سے عذابا منصوب ہے اور الیما اپنے موصوف کی مطابقت ہوا۔ دردناک عذاب۔
Ayah 25:38(25:38) عادا (قوم عاد) اس کا عطف قوم نوح پر ہے۔ ای دمرنا عادا۔ یا اس سے قبل اذکر محذوف ہے اور یہ اس کا مفعول ہے ثمودا۔ اصحب الرس۔ قرونا۔ (ای اھل قرون بہت سی امتوں کے لوگ ! بہت سی امتیں ، قومیں) عادا کی طرح ان کا عطف بھی قوم نوح پر ہے یا ان کے قبل فعل اذکر محذوف ہے۔
ثمودا۔ بوجہ عجمہ ومعرفہ غیر منصرف ہے اس لئے اس کے آخر میں تنوین نہیں آتی ! بین ذلک۔ ان کے درمیان۔
(1) جن کے علاقے ان قوموں کے علاقوں کے درمیان تھے۔ (2) جو ان قوموں کے درمیانی زمانہ میں گذریں۔
کثیرا۔ قرونا کی صفت ہے۔ ای کثیر التعداد۔
Ayah 25:39(25:39) کلا ضربنا لہ الامثال۔ الامثال۔ مثالیں۔ مثل اور مثل کی جمع ہے۔ جس کے معنی مانند اور نظیر کے ہیں۔ قرآن حکیم میں مثالیں عبرت پکڑنے کی خاطر بیان کی گئی ہیں۔ ضربنا الامثال۔ ہم نے مثالیں بیان کیں (تاکہ مخاطبین عبرت حاصل کریں) ۔ یہاں ضربنا الامثال۔ بمعنی انذرنا وحذرنا ہے۔ یعنی ہم نے ڈرایا اور متنبہ کیا۔ اور اس معنی کی رعایت سے کلا منصوب ہے۔ ای حذرنا کل واحد منہم ہم نے ان میں سے ہر ایک کو مثالیں دے دے کر (اعمال بد کے انجام سے) ڈرایا۔ یا حذرنا کلہم ہم نے ان سب کو متنبہ کیا۔
کلا تبرنا تتبیرا۔ کلا مفعول ہے تبرنا کا ۔ مقدم لایا گیا ہے۔ التبر (ضرب) کے معنی توڑ دینے اور ہلاک کردینے کے ہیں جیسے کہ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ ولیتبروا ما علوا تتبیرا (17:7) اور تاکہ جس چیز پر بھی ان کا زور چلے اسے تہس نہس کر ڈالیں۔
آیت کا مطلب یوں ہے وبینا لکل واحد منہم القصص العجیبۃ من قصص الاولین انذارا فلما اصروا تبرنا ہم تد میرا۔ اور ہم نے ان میں سے ہر ایک کو پہلے ہلاک ہونے والی قوموں کی مثالیں بیان کیں لیکن جب وہ اپنے طریقہ کار پر اڑے رہے تو ہم نے ان کو بالکل ہی برباد کردیا۔
Ayah 25:40(25:40) اتوا۔ اتیان سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب وہ پہنچے ۔ وہ آئے۔ وہ گذرے ۔ وہ لائے۔ ضمیر فاعل اہل مکہ کے لئے ہے۔ اتوا علی۔ کسی شے کے پاس سے گذرے ہیں۔
لقد اتوا علی میں لام تاکید کا ہے۔ اور قد اگرچہ ماضی کے ساتھ تقریب کا فائدہ دیتا ہے یعنی اس کو زمانہ حال سے نزدیک بنا دیتا ہے لیکن فعل ماضی کے ساتھ تحقیق کے معنی دیتا ہے جیسے قولہ تعالی۔ قد افلح المومنون (23:1) بیشک بامراد ہوگئے ایمان والے۔ یہاں آیت ہذا (25:40) میں بھی یہ تحقیق کے معنی دیتا ہے۔ لقد اتوا علی القریۃ بیشک وہ ضرور گذرے ہیں اس بستی کے پاس سے۔ القریۃ سے مراد سدوم وغیرہ قوم لوط کے علاقے ہیں۔
امطرت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب امطار (افعال) مصدر۔ مطر بارش اس پر بارش برسائی گئی۔ ابو عبیدہ نے تصریح کی ہے کہ مطر (باب نصر) مطر ومطر مصدر سے استعمال باران رحمت میں ہوتا ہے اور امطر (باب افعال) سے عذاب میں۔
مطر السوئ۔ سوء ساء یسوء (نصر) کا مصدر ہے ، برا ہونا قبیح ہونا۔ مطر السوئ۔ مضاف مضاف الیہ۔ قباحت کی بارش، بدبختی کی بارش۔ انجام کا رغم کا باعث بننے والی بارش۔ جیسے مذمت کے سلسلے میں کہتے ہیں رجل السوئ۔ قبیح انسان۔ جس کا فعل غم میں منتج ہو۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے علیہم دائرۃ السوء (9:98) انہیں پر بری مصیبت (واقع) ہو۔ یہاں دائرۃ السوء سے مراد ہر وہ چیز ہوسکتی ہے جو انجام کار غم کا موجب ہو ۔ یہاں مطر السوء سے مراد مطر الحجارۃ ہے کیونکہ قوم لوط کی تباہی پتھروں کی بارش سے ہوئی تھی ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ وامطرنا علیھا حجارۃ من سجیل (11:82) اور ہم نے برسا دئیے ان پر پتھر کھنگر کے۔
مطر امطرت کے مفعول ثانی ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ امطرت مطر السوء جس پر پتھروں کی سخت بارش برسائی گئی تھی۔ جس پر بری طرح پتھرائو کیا گیا تھا۔
افلم یکونوا یرونھا۔ ہمزہ استفہام انکاری کا ہے۔ الفاء جملہ مقدرہ کے عطف کے لئے ہے ای الم یکونوا ینظرون الیھا فلم یکونوا یرونھا۔ کیوں نہیں یہ ان برباد (بستیوں) کی طرف نظر کرتے اور کیوں نہیں ان کو (نظر بصیرت سے) دیکھتے (کہ عذاب اللہ کے آثار سے نصیحت پکڑیں) ھا ضمیر القریۃ کی طرف راجع ہے۔
بل۔ یہاں بطور حرف اضراب آیا ہے یعنی ماقبل سے اعراض کے لئے آیا ہے۔ اور تدارک یعنی اصلاح کے لئے استعمال ہوا ہے۔ یعنی بات یہ نہیں کہ اپنی ظاہری نظروں سے ان برباد بستیوں کو نہیں دیکھتے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کانوا لا یرجون نشورا۔ یہ لوگ مر کر جی اٹھنے کی امید ہی نہیں رکھتے۔ اس پر ان کا ایمان ہی نہیں۔ اس لئے اصلاح احوال کی انہیں فکر ہی نہیں۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو (2: 135) ۔ لا یرجون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب رجاء مصدر۔ وہ امید نہیں رکھتے ہیں۔ وہ یقین نہیں رکھتے۔ وہ اندیشہ نہیں کرتے ہیں۔
نشورا۔ قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنا۔ نشر ینشر (نصر) سے مصدر ہے۔