Explained with ayahs 4–6
خود فریب مشرک
مشرکین ایک جہالت اوپر کی آیتوں میں بیان ہوئی۔ جو ذات الہٰی کی نسبت تھی۔ یہاں دوسری جہالت بیان ہو رہی ہے جو ذات رسول ﷺ کی نسبت ہم وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو تو اس نے اوروں کی مدد سے خود ہی جھوٹ موٹ گھڑ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ ان کا ظلم اور جھوٹ ہے جس کے باطل ہونے کا خود انہیں بھی علم ہے۔ جو کچھ کہتے ہیں وہ خود اپنی معلومات کے بھی خلاف کہتے ہیں۔ کبھی ہانک لگانے لگتے ہیں کہ اگلی کتابوں کے قصے اس نے لکھوالئے ہیں وہی صبح شام اس کی مجلس میں پڑھے جا رہے ہیں۔ یہ جھوٹ بھی وہ ہے جس میں کسی کو شک نہ ہوسکے اس لئے کہ صرف اہل مکہ ہی نہیں بلکہ دنیا جانتی ہے کہ ہمارے نبی امی تھے نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
سورة الْفُرْقَان 11
دوسرا ترجمہ " بڑی بےانصافی کی بات " بھی ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
خلاصہ تفسیر
اور کافر لوگ (قرآن کے بارے میں) یوں کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) تو کچھ بھی نہیں نرا جھوٹ (ہی جھوٹ) ہے جس کو اس شخص (یعنی پیغمبر) نے گھڑ لیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اس (گھڑت) میں اس کی مدد کی ہے (مراد وہ اہل کتاب ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے یا آپ کی خدمت میں ویسے ہی حاضر ہوا کرتے تھے) سو (ایسی بات کہنے سے) یہ لوگ بڑے ظلم اور جھوٹ کے مرتکب ہوئے (اس کا ظلم اور جھوٹ ہونا آگے بیان میں آئے گا) اور یہ (کافر) لوگ (اپنے اسی اعتراض کی تائید میں) یوں کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) بےسند باتیں ہیں جو اگلے لوگوں سے منقول ہوتی چلی آئی ہیں جن کو اس شخص (پیغمبر) نے (عمدہ عبارت میں سوچ سوچ کر اپنے صحابہ کے ہاتھ سے)…
Read the full tafseer →اکتتب فلان کا صحیح مفہوم لعنت میں یہ ہے کہ سال ان یکتب لہ اس نے درخواست کی کہ اس کے لئے لکھ دیا جائے۔
تملی کے بعد علی کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ تلفی علیہ یا تقرر علیہ کے مضمون پر متضمن ہے۔ اس وجہ سے اس کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ اس کو لکھوائے جاتے ہیں اور یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ اس کو لکھ کر تعلیم کئے جاتے ہیں۔ یہاں یہ دوسرے معنی میں ہے، اس لئے کہ قریش جانتے تھے کہ آنحضرت ﷺ امی ہیں۔ آپ لکھنا نہیں جانتے۔
قریش کی طرف سے آفتاب پر خاک ڈالنے کی کوشش
یہ اوپر والے الزام ہی کی مزید وضاحت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن میں کیا ؟ محض اگلوں کے فسانے ہیں جو اس میں دہرائے گئے ہیں ! اس شخص نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4-1مشرکین کہتے تھے کہ محمد ﷺ نے یہ کتاب گھڑنے میں یہود سے یا ان کے بعض دوست
(مثلاً ابو فکیہہ یسار، عداس اور جبرو غیرہ) سے مدد لی۔ جیسا کہ سورة النحل آیت13میں اس کی ضروری تفصیل گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
2: یعنی یہ لوگ جو باتیں بنا رہے ہیں، ان کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ حق کے طلب گار ہیں، اور ان کے شبہات دور ہوجائیں تو یہ ایمان لے آئیں، بلکہ اصل وجہ ان کی بےفکری ہے، چونکہ ان کو قیامت اور آخرت پر ایمان نہیں ہے، اس لیے ان کو بےہودہ اعتراضات کرتے ہوئے کوئی خوف نہیں ہوتا کہ آخرت میں ان پر سزا بھی مل سکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غفورا رحیما) (4 تا 6) ” “۔ “۔
یہ تھا وہ جھوٹ جو اہل قریش نبی ﷺ پر باندھتے تھے۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ بہت ہی بڑا افتراء ہے۔ کیونکہ قریش کے کبراء عوام کو جن باتوں کی تعلیم دیتے تھے ‘ ان سے یہ بات کس طرح مخفی رہ سکتی تھی کہ حضرت محمد ﷺ جس قرآن کی تلاوت فرما رہے ہیں وہ بشری اسالیب کلام سے بالکل ایک مختلف کلام ہے۔ وہ اس بات کو اپنے دل میں اچھی طرح محسوس کرتے تھے کیونکہ وہ انسانی اسالیب کلام سے اچھی طرح واقف تھے۔ جب وہ قرآن سنتے تھے تو وہ خود بھی اس سے بےحد متاثر ہوجاتے تھے۔ پھر بعثت سے قبل حضرت محمد ﷺ کے بارے میں ان کو پورا پورا یقین تھا کہ حضرت محمد ﷺ…
Read the full tafseer →3 یعنی محمد ﷺ نے اہل کتاب سے کچھ قصے کہانیاں سن کر نوٹ کرلی ہیں۔ یا کسی سے نوٹ کرا لی ہیں۔ وہ ہی شب و روز ان کے سامنے پڑھی اور رٹی جاتی ہیں۔ نئے نئے اسلوب سے ان ہی کا الٹ پھیر رہتا ہے اور کچھ بھی نہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ اول نماز کے دو وقت مقرر تھے صبح اور شام۔ مسلمان حضرت کے پاس جمع ہوتے جو نیا قرآن اترا ہوتا لکھ لیتے یاد کرنے کو۔ اس کو کافر یوں کہنے لگے۔ "
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
آیت 5 وَقَالُوْٓا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اکْتَتَبَہَا ”
کَتَبَ یَکْتُبُ : لکھنا۔ اس سے اِکْتَتَبَ باب افتعال ہے ‘ یعنی کسی سے لکھوا لینا۔
فَہِیَ تُمْلٰی عَلَیْہِ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا ”
ان کے پیچھے خفیہ طور پر جو لوگ یہ قصے کہانیاں گھڑ رہے ہیں وہ صبح شام ان سے ملتے ہیں اور اپنی گھڑی ہوئی باتیں انہیں لکھوا دیتے ہیں۔ پھر وہی باتیں یہ ہمیں سنا کر دھونس جماتے ہیں کہ مجھ پر وحی آئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
8 رسول اللہ ﷺ کی ذات پر قرآن کو تصنیف کرنے کا الزام اس دور کے مشرکین مکہ کو ہی نہ تھا، آج کے مستشرقین بھی اپنی تحقیق و تنقید کی آڑ میں کچھ ایسا ہی الزام لگا رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج کے ان محققین کا یہ کہنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نبوت سے پیشتر کئی تجارتی سفر کئے یہود و نصاریٰ کے کئی علماء سے آپ کی ملاقات ہوئیں اور اس سلسلسہ میں بالخصوص بحیرا راہب کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ تو انھیں ملاقاتوں کے دوران آپ نے ان علماء سے کسب فیض کیا۔ پھر اسے اپنے انداز میں اور اپنی زبان میں عربوں کے سامنے پیش کیا تھا۔ یہی وہ ق انبیاء یا سابقہ اقوام کی تاریخ تھی۔ جسے آپ نے نبوت کے نام سے پیش کیا۔
مستشرقین کے اس…
Read the full tafseer →5۔ ملاحظہ ہو پ 14 سورة النحل آیت لقد نعلم انھم یقولون انما یعلمہ بشر کا حاشیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان اور نہایت رحم والا ہے، برکت والی برتر ہے وہ ذات جس نے فرقان یعنی قرآن اپنے بندے محمد ﷺ پر نازل کیا قرآن کو فرقان اس لئے کہا گیا ہے کہ اس نے حق و باطل کے درمیان فرق کردیا، تاکہ عالم والوں یعنی انسانوں اور جنوں کے لئے نہ کہ فرشتوں کے لئے ڈرانے والا ہو یعنی اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا ہو ایسی ذات کہ اس کے لئے آسمانوں اور زمین کی حکومت حاصل ہے اور اس نے کسی کو اولاد قرار نہیں دیا اور نہ ملک میں اس کا کوئی شریک ہے اور اس نے ہر اس شئ کو پیدا کیا جس کی شان مخلوق ہونا ہے پھر اس کو اچھی طرح درست کیا اور کفار نے…
Read the full tafseer →وقالوا اساطیر الاولین اور (کافر) کہتے ہیں کہ یہ تو بےسند باتیں ہیں جو اگلوں سے منقول ہوتی چلی آئی ہیں۔
یعنی ان میں سے بعض نے جیسے نضر بن حارث نے کہا قرآن اللہ کا بھیجا ہوا نہیں ہے بلکہ پچھلے گزرے ہوئے لوگوں کی لکھی ہوئی داستانیں ہیں۔ جیسے رستم و اسفند یار کے قصے ہیں۔
اکتتبہا فہی تملی علیہ بکرۃ واصیلا۔ (محمد ﷺ نے) یہ لکھوا لی ہیں ‘ پس صبح و شام ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔
یعنی جبر ‘ یسار ‘ عداس وغیرہ سے رسول اللہ ﷺ نے لکھوا لی ہیں ‘ خود امی ہیں لکھ پڑھ نہیں سکتے صبح و شام پڑھوا کر سن لیتے ہیں تاکہ یاد رکھ سکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(4) اور کفار مکہ یوں کہتے ہیں کہ یہ قرآن کریم کچھ بھی نہیں محض جھوٹ ہے جس کو رسول اکرم ﷺ نے گھڑ لیا ہے اور جبر ویسار اور ابو فکیہ راوی نے اس چیز میں ان کی مدد کی ہے تو یہ لوگ بڑے ظلم اور جھوٹ کے مرتکب ہوئے۔
Read the full tafseer →وَقَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا۔۔ : یعنی خود تو اَن پڑھ ہے، اس لیے دوسرے لوگوں کے ذمے اس نے یہ کام لگا رکھا ہے کہ صبح و شام یہ لکھوائی ہوئی کہانیاں اسے پڑھ پڑھ کر سنائیں، تاکہ اسے زبانی یاد ہوجائیں۔ یہ بات ایسی تھی جس کے جھوٹ اور بہتان ہونے میں کسی کو شبہ نہیں ہوسکتا۔ چالیس سال آپ ﷺ ان میں رہ چکے تھے، اگر کوئی شخص چھوٹے سے شہر میں چند دن صبح و شام کسی کے پاس رہے تو اس کا پتا ہر ایک کو چل جاتا ہے اور ان لوگوں کا اصرار ہے کہ اب بھی دوسروں کی لکھوائی ہوئی باتیں صبح و شام آپ کے سامنے پڑھی جاتی ہیں۔ پھر اگر ایسا ہی تھا تو وہ بھی کسی سے لکھو اکر ایسی ایک سورت ہی پیش کردیتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(وقال الذین کفرو۔۔۔۔۔۔۔۔
وقا الذین کفروا مراد مشرکین قریش ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ان میں سے یہ بات کرنے والا نضر بن حارث تھا اور اس طرح قرآن میں جہاں اساطیر کا ذکر ہے اس کا کہنے والا بھی یہی تھا (1) محمد بن اسحاق نے کہا : وہ نبی کریم ﷺ کو اذیت دیا کرتا تھا۔ ان ھذا اسم اشارہ سے مراد قرآن حکیم ہے الا افک افترہ یعنی جھوٹ ہے جو خود انہوں نے گھڑا ہے۔ واعانہ علیہ وقم اخرون مراد یہودی ہیں، یہ مجاہد کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : قوم اخرون سے مراد ابوفکیہ جو بنی حضری کا غلام تھا، عداس اور جبر ہے، یہ تینوں اہل کتاب تھے۔ سورة نحل میں ان کا ذکر گزر چکا ہے۔ فقد جاء وظلماً انہوں نے ظلم کیا، ظلم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ تبارک تفاعل کے وزن پر ہے برکت سے۔
2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ آیت تبرک الذی نزل الفرقان علی عبدہ سے مراد یہ قرآن ہے جس میں اللہ کی حلال کردہ اور اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور اس کے شرائع اور دین کے احکام ہیں اللہ تعالیٰ نے فرق کردیا ہے حق اور باطل کے درمیان آیت لیکون للعالمین نذیرا یعنی اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا اللہ تعالیٰ سے ڈرانے والا بنا کر تاکہ وہ لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں اور ان واقعات سے ڈرائیں جو پہلی قوموں میں ہوئے آیت وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا اور اپنی مخلوق کی ہر چیز کے لیے اس…
Read the full tafseer →وَقَالُوْٓا [ اور انھوں نے کہا ] اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ [ پہلے لوگوں کے قصے ہیں ] اكْتَتَبَهَا [ اس نے تصنیف کیا ان کو ] فَهِيَ [ پس وہ ] تُمْلٰى عَلَيْهِ [ پڑھ کر سنائے جاتے ہیں اس پر ] بُكْرَةً [ صبح ] وَّاَصِيْلًا [ اور شام ]
Read the full tafseer →پھر منکرین کے ایک باطل دعویٰ کا تذکرہ فرمایا (وَقَالُوْا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اکْتَتَبَہَا) (الایۃ) اور ان لوگوں نے کہا کہ محمد ﷺ جو یوں کہتے ہیں کہ میرے اوپر اللہ کا کلام نازل ہوتا ہے اس میں نازل ہونے والی کوئی بات نہیں ہے یہ پرانی لکھی ہوئی باتیں ہیں جو پہلے سے نقل ہوتی چلی آرہی ہیں انہیں کو انہوں نے لکھوا لیا ہے یہ صبح شام بار بار ان کے اوپر پڑھی جاتی ہیں جس کی وجہ سے انہیں یاد ہوجاتی ہیں انہی کو پڑھ کر سنا دیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں یہ مجھ پر اللہ کا کلام نازل ہوا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
منکرین نبوت کا دوسرا شبہ اور اس کا جواب
قال اللہ تعالیٰ وقالوا اساطیر الاولین اکتتبھا۔۔۔ الی۔۔۔ انہ کان غفورا رحیما۔
(ربط) یہ منکرین نبوت کا دوسرا شبہ بلکہ دوسرا بہتان ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ قرآن منجانب اللہ نہیں بلکہ اگلے لوگوں کے قصوں اور کہانیوں کا ایک مجموعہ ہے چناچہ فرماتے ہیں اور ایک جھوٹ ان لوگوں نے یہ بولا کہ یہ قرآن تو پہلے لوگوں کے قصے اور افسانے ہیں جن کو اس نبی نے اپنے لئے لکھوا لیا ہے کیونکہ وہ خود تو لکھ نہیں سکتے اس لئے دوسروں سے لکھوا لیے ہیں پس وہ نوشتے صبح وشام اس پر پڑھے جاتے ہیں تاکہ سن سن کر وہ ان کو یاد کرے، چناچہ جب وہ آپ ﷺ کو یاد ہوجاتا ہے تو اس کو پڑھ کر ہمیں سنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
6:۔ ” وقال الذین کفروا الخ “ یہ پہلا شکوی ہے۔ مشرکین کہتے تھے محمد ﷺ کا یہ دعوی کہ برکات دہندہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، اس کا خود ساختہ ہے، اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ ” واعانہ علیہ قوم اخرون “ یہ دوسرا شکوی ہے اور اس خیال کی ساخت پرداخت میں کئی دوسرے لوگ بھی اس کے معاون ہیں۔ ” فقد جاء وا ظلما و زورا “ یہ ادخال الٰہی ہے اس میں مشرکین کے قول مذکور کو سراسر بےانصافی اور جھوٹ قرار دیا گیا۔ ” وقالوا اساطیر الاولین الخ “ یہ تیسرا شکوی ہے۔ مشرکین کہتے یہ قرآن تو محض اگلے لوگوں کے قصے کہانیوں کا مجموعہ ہے جو اس نے کسی سے لکھوا رکھا ہے بس صبح و شام عبارت اور اسلوب کے الٹ پھیر سے وہی اس کے سامنے پڑھا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
ربط آیات
برکات دینے والی ذات اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو نازل فرمایا ہے جو کہ ایک فیصلہ کن کتاب ہے۔ اس کے نزول کی غایت یہ ہے کہ اللہ کا کامل ترین بندہ اور اس کا آخری رسول اس کتاب کے ذریعے لوگوں کو ڈرانے والا بن جائے۔ گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی آسمان و زمین پر محیط سلطنت کا ذکر بھی ہو۔ اللہ نے مشرکین کا شکوہ بیان کیا کہ وہ اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بناتے ہیں ۔ حالانکہ وہ بےاختیار ہیں ، نہ تو وہ کوئی چیز تخلیق کرسکتے ہیں اور نہ نفع نقصان کے مالک ہیں ، یہ کس قدر ظلم و زیادتی کی بات ہے۔
قرآن پاک پر اعتراض
سورۃ کے اس ابتدائی تمہیدی بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی طرف سے…
Read the full tafseer →وَقَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَہَا فَہِيَ تُمْلٰى عَلَيْہِ بُكْرَۃً وَّاَصِيْلًا 5
سطر
السَّطْرُ والسَّطَرُ : الصّفّ من الکتابة، ومن الشّجر المغروس، ومن القوم الوقوف، وسَطَّرَ فلان کذا : كتب سطرا سطرا، قال تعالی: ن وَالْقَلَمِ وَما يَسْطُرُونَ [ القلم/ 1] ، وقال تعالی: وَالطُّورِ وَكِتابٍ مَسْطُورٍ [ الطور/ 1- 2] ، وقال : كانَ ذلِكَ فِي الْكِتابِ مَسْطُوراً [ الإسراء/ 58] ، أي : مثبتا محفوظا، وجمع السّطر أَسْطُرٌ ، وسُطُورٌ ، وأَسْطَارٌ ، قال الشاعر :
233-
إنّي وأسطار سُطِرْنَ سطرا«6» وأما قوله : أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ [ الأنعام/ 24] ، فقد قال المبرّد : هي جمع أُسْطُورَةٍ ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
ترکیب : افتریٰ کا فاعل ضمیر جو عبد کی طرف راجع ضمیر فرقان کی طرف راجع اعانہ کی عید کی طرف علیہ کی ضمیر افترا کی طرف قوم اخرون اعان کا فاعل ظلما و زورا مفعول جاؤ کا یا مصدر موضع حال میں ان شاء شرط جعل جو ابہ وھولکو نہ ماضیایجوزان یکون فی محل الرفع والجزم فما عطف علیہ یجوزان یکون مرفوعا اومجز و ماکما قرء الجمہور۔
تفسیر : ان آیات میں ان کے اور چند شبہات کا جواب ہے جو رسالت کی بابت تھے کہ محمد ﷺ نے قرآن کو ازخود بنا لیا ہے اور دیگر لوگ (جس سے ان کا اشارہ اہل کتاب کی طرف تھا) اس کے اس کام میں مددگار بن گئے ہیں۔ وہی لوگ انبیائِ سابقین کے حالات اور ان کی شریعتوں کے احکام اس کو بتاتے ہیں۔ یہ اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَٓا اِلَّآ اِفْکُ نِ افْـتَرٰ ہُ وَاَعَانَـہٗ عَلَیْہِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ ج فَقَدْجَآئُ وْ ظُلْمًا وَّزُوْرًا۔ وَقَالُوْٓا اَسَاطِیْرُالْاَوَّلِیْنَ اکْـتَـتَـبَـھَا فَھِیَ تُمْلٰی عَلَیْہِ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً ۔
(الفرقان : 4، 5)
(اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہے کہ یہ ( قرآن کریم) محض جھوٹ ہے جس کو اس شخص نے گھڑ لیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس کام میں اس کی مدد کی ہے، بڑا ظلم اور سخت جھوٹ ہے جس پر یہ لوگ اتر آئے ہیں۔ اور کہتے ہیں یہ پہلے لوگوں کے فسانے ہیں جو اس شخص نے کسی سے لکھوالیے ہیں اور وہ صبح و شام اس کو پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔ )
مشکل الفاظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
فہم القرآن
ربط کلام : عقیدہ توحید کے مختصر دلائل کے بعد قرآن مجید پر اٹھنے والے اعتراضات کا مختصر جواب۔
اہل مکہ کی بوکھلاہٹ کا عالم یہ تھا کہ وہ ایک ہی مجلس اور موقعہ پر کئی قسم کے قرآن مجید پر اعتراض اور سوالات اٹھاتے تھے ایک لمحہ ان کا الزام تھا کہ محمد ﷺ اپنی طرف سے عبارات بنا کر قرآن کی آیات کی شکل میں ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ دوسرے لمحہ میں کہتے کہ قرآن بنانے میں اس کے اور لوگ بھی معاون و مددگار ہیں۔ تیسرے لمحہ ان کی زبان پر یہ الزام ہوتا کہ یہ قرآن تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جو اسے لکھوائی جاتی ہیں اور یہ صبح وشام ہمارے سامنے پڑھ دیتا ہے۔ اہل مکہ کی دریدہ دھنی حد سے گزر چکی تھی جس وجہ…
Read the full tafseer →بےسند باتیں قرار دیا :
5: وَ قَالُوْا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّ لِیْنَ (اور وہ کہتے ہیں کہ یہ پہلے لوگوں کی بےسند باتیں ہیں) یعنی پہلے لوگوں کی منقول شدہ باتیں یا مکتوب شدہ باتیں ہیں۔ جیسے رستم اسفند یار وغیرہ ( اساطیر) جمع اسطار یا اسطور جیسے احدوثۃ۔ اکْتَتَبَھَا (جن کو اس نے اپنے لیے لکھ لیا ہے) فَھِیَ تُمْلٰی عَلَیْہِ بُکْرَۃً وَّ اَصِیْلًا (اور وہ اس پر اس لکھی ہوئی کتاب میں سے صبح و شام پڑھی جاتی ہے۔ ) بکرۃؔ دن کے پہلے حصہ کو کہتے ہیں اور اصیلؔ دن کے آخری حصہ کو۔ یہ محمد ﷺ ان پڑھے جانے والے واقعات کو یاد کرکے ہمیں سنا دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →5۔ وقالوا اساطیر الاولین اکتتبھا، ، نضر بن حارث کہا کرتا تھا، کہ یہ قران اللہ کی طرف سے نہیں ہے یہ توگزرے ہوئے لوگوں کی بنائی ہوئی کہانیاں ہیں۔ رستم اور اسفند یار کے قصے۔ اس کو محمد نے جبر ویسار اور عداس سے لکھوائے ہیں۔ یہاں اکتب کا معنی ہے طلب کرنا، یعنی وہ لکھا ہوا ان سے طلب کرتا تھا، کیونکہ یہ خود نہیں لکھ سکتے تھے ۔ فھی تملی علیہ، ان کے سامنے ان کو پڑھ کر سنائی جاتی تاکہ ان کو یاد ہوجائے ۔ بکرۃ واصیلا، صبح وشام اللہ ان کی تردید میں فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
4۔ 6:۔ صحیح 1 ؎ بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے ہرقل بادشاہ روم اور ابوسفیان کا جو قصہ ہے ‘ اس میں ہرقل نے ابو سفیان سے پوچھا ہے کے نبوت سے پہلے تم قریش کے لوگوں کو ان نبی کے جھوٹ بولنے کا کچھ تجربہ ہوا ہے ‘ اس کے جواب میں ابو سفیان کیونکہ روا رکھے گا۔ ان آیتوں میں مشرکین مکہ کو بےانصاف اور جھوٹا جو فرمایا ‘ اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ نبوت سے پہلے چالیس برس تک جب یہ آزما چکے کہ محمد ﷺ کی عادت ہرگز جھوٹ بولنے کی نہیں ہے تو اب نبوت کے بعد ان لوگوں کا اللہ کے رسول کو جھٹلانا اور یہ کہنا بڑی ناانصافی اور بالکل جھوٹ ہے ‘ کہ مکہ میں چند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
آیت نمبر 4
یعنی اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والے، جن کے قرآن اور رسول کے بارے میں قول باطل کی بنا پر للہ تعالیٰ نے ان پر کفر واجب کیا۔۔۔ کہتے ہیں کہ یہ قرآن جھوٹ ہے جسے محمد ﷺ نے خود تصنیف کیا ہے، ایک بہتان ہے جسے محمد ﷺ نے گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیا ہے اور ایسا کرنے میں کچھ دوسرے لوگوں نے اس کی مدد کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ان کا انکار حق، ظلم اور باطل پر مبنی اقدام ہے جو کسی کی عقل میں نہیں آسکتا، حالانکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے احوال، آپ کے کامل صدق و امانت اور آپ کی کامل نیکی کی پوری پوری معرفت رکھتے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ محمد ﷺ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–48
پانی کے مسائل
قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…
Read the full tafseer →7 منکرین کا قرآن کو قصوں کہانیوں کا مجموعہ قرار دینا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ قرآن تو محض پہلے لوگوں کے قصوں کہانیوں کا مجموعہ ہے دن کو اس شخص نے کسی سے لکھوا لیا ہے جو اس کو صبح وشام پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔ سو ظالموں نے بڑے ظلم اور جھوٹ کا رتکاب کیا ہے۔ سو ان کے اس کہنے کا مطلب یہ تھا کہ نہ تو اس کتاب میں کوئی ایسی حکمت ہے جس سے خواہ مخواہ مرعوب ہوا جائے اور نہ ہی اس کے پیش کرنے والے کا اس سے متعلق دعوی صحیح ہے کہ یہ اسمانی وحی اور خدائی کلام ہے جو بطور اضطرار اس پر نازل کیا جاتا ہے۔ سو ایسی کوئی بات نہیں بلکہ یہ تو محض قوموں اور ان کے پیغمبروں سے متعلق من گھڑت قصے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
منکرین حق اور نبی کے سوال و جواب
تشریح : کفار مکہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میری اتنی نعمتیں برکتیں لوگوں کو ملی ہوئی ہیں پھر بھی یہ لوگ دوسرے معبود بنا بیٹھے ہیں۔ اصل میں انسان خود بہت بڑا معمہ ہے اور سب سے بڑا معمہ اس کا دماغ ہے جس میں ذہانت ‘ عقل ‘ فکر ‘ جستجو ‘ حافظہ ‘ فہم اور حکمت سب کچھ موجود ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ یہ تمام صلاحیتیں کس نے دی ہیں ؟ انسان کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ اس کا جواب ہر کوئی یہی دیتا ہے کہ ” اللہ نے “ جسے دل نے تو ہمشہ مان لیا لیکن عقل اس سے انکار کرتی ہے اور یہی لوگ مشرک ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ خالق کو چھوڑ کر مخلوق ( پیدا کیا ہوا) کے آگے جھکتے ہیں مرادیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة الفرقان :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
یہ سورة بھی مکی سورتوں میں سے ہے اور اسی مضمون کو آگے بڑھاتی ہے جو سورة نور میں زیر بحث ہے ۔
(آپ ﷺ کی نبوت سب جہانوں کے لیے)
اللہ کریم بہت ہی برکت والے اور خیر کے مالک ہیں جنہوں نے اپنے بندے حضرت محمد رسول ﷺ پر ایسی کتاب نازل فرمائی جس نے حق کو حق اور باطل کو باطل قرار دے کر دونوں میں حد فاصل قائم کردی اور تمام جہانوں کو ان کے غلط کاموں کے خطرناک انجام سے اللہ جل جلالہ کے رسول ﷺ نے بروقت مطلع فرما دیا کہ آپ ﷺ کی نبوت نہ صرف سارے جہان کے لیے ہے بلکہ سب جہانوں کے لیے ہے ، ہاں مکلف مخلوق یعنی انسان اور جن اطاعت احکام کے مکلف ہیں اور ساری مخلوق بھی آپ ﷺ کا…
Read the full tafseer →1 ۔ یعنی خود تو ان پڑھ ہے اس لئے دوسرے لوگوں کے ذمہ اس نے یہ کام لگا رکھا ہے کہ صبح و شام یہ لکھوائی ہوئی کہانیاں اسے پڑھ پڑھ کر سنائیں تاکہ اسے زبانی یاد ہوجائیں اور یہ بات ایسی تھی جس کے کذب و بہتان ہونے سے کسی کو شبہ نہیں ہوسکتا۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(25:5) اساطیر۔ اسطورۃ کی جمع (وہ جھوٹی خبر جس کے متعلق یہ اعتقاد ہو کہ وہ جھوٹ گھڑ کر لکھ دی گئی ہے۔ اسی طرح ارجوحۃ (لکڑی کا جھولا) کی جمع اراجیح ہے اثفیۃ (ہنڈیا کا پایہ) کی جمع اثافی اور احدوثۃ (قصہ ، کہانی، خبر) کی جمع احادیث ہے۔ السطر والسطر قطار کو کہتے ہیں خواہ کتاب کی ہو یا درختوں اور آدمیوں کی۔ سطر یسطر (نصر) لکھنا۔ جیسے ن والقلم وما یسطرون (68: 1) ن : قسم ہے قلم کی اور اس کی جو وہ لکھتے ہیں۔
اکتتبھا۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب اس نے اس کو گھڑ کر لکھ رکھا ہے۔ اس نے اس کو لکھوا دلیا ہے۔ اکتتاب (افتعال) من گھڑت چیز کو لکھنا۔ کسی سے لکھوانا۔ ھا کا مرجع اساطیر ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 :
(تبارک) برکت والا۔ خود بخود بڑھنے والا ‘(الفرقان) حق و باطل میں فرق کرنے والا ‘(الملک) سلطنت۔ حکومت ‘ (قدر) اس نے اندازہ ٹھرایا ‘ (تقدیر) اندازہ متوازن ہونا ‘ (یخلقون) وہ پیدا کئے گئے ہیں۔ (ضر) نقصان ‘(نشور) دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنا ‘ (افک) جھوٹ۔ بےبنیاد بات ‘(افتری) اس نے گھڑ لیا ‘ (اعان) اس نے مدد کی ‘(زور) جھوٹ۔ غلط بات ‘(تملی) پڑھی اور رٹی جاتی ہیں ‘( السر) بھید۔ چھپی باتیں۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 :
دنیا اور آخرت میں وہی افراد اور قومیں کامیاب و بامراد ہوتی ہیں جو اللہ کی ذات وصفات کو مان کر اس کے بھیجے ہوئے نبیوں اور رسولوں کی مکمل اطاعت و فرماں برداری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
قرآن شریف کی تصدیق۔
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ یہ کافر لوگ نبوت سے پہلے چالیس سال تک جب یہ آزماچکے کہ رسول اللہ کی عادت ہرگز جھوٹ بولنے کی نہیں ہے تو اب نبوت کے بعد ان لوگوں کا اللہ کے رسول کو جھٹلانا، اور یہ کہنا بڑی ناانصافی اور بالکل جھوت ہے کہ مکہ میں چند یہودی رہتے ہیں وہ صبح وشام پچھلی قوموں کے کچھ قصے رسول اللہ کو لکھ دیتے ہیں رسول اللہ زبردستی ان باتوں کو اللہ کا کلام بتاتے ہیں آگے فرمایا، اے محبوب تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ قرآن میں جو آسمان و زمین کی غیب کی خبریں ہیں ان سے تم لوگ سمجھو تو یہ بات تمہاری سمجھ میں اچھی طرح آسکتی ہے کہ یہ قرآن اس اللہ کا کلام ہے جس کو آسمان و زمین کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–13
[4] یعنی محمد ﷺ نے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
اشتراکیت اور اسلامی تخیل ملک :
(ف 2) شرک اور بت پرستی کی تردید ہے ، ارشاد ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کی بادشاہت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے پھر اس کو بیٹوں کی کیا ضرورت ہے ؟ اور کون ہے جو اس کے اختیارات میں دخل اندازی کرسکے ، اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے ، اور ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کردیا ہے ۔
اشتراکیت کا موجودہ تخیل اگر غور کیا جائے تو اس آیت کی رو سے درست نہیں ، کیونکہ اشتراکیت کے معنے یہ ہیں ، کہ تمام املاک کو حکومت کا ملک قرار دیا جائے ، حالانکہ ہر چیز کا مالک خدا ہے اسی نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور اسی کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ان کو مناسب اور موزوں طریقوں سے اپنے بندوں میں تقسیم کردے ۔ یہ خدا…
Read the full tafseer →(5) اور یہ دین حق کے منکر قرآن کریم کے متعلق یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ قرآن کریم محض اگلے لوگوں کی بےسرد پا کہانیاں ہیں جو بےسند پہلے لوگوں سے منقول ہوتی چلی آرہی ہیں ان کہانیوں کو اس نے کسی سے لکھوا لیا ہے پھر یہی منضبط اور لکھی ہوئی کہانیاں اس کو صبح اور شام پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی اور یاد کرادی جاتی ہیں یعنی اول تو یہ بےسند باتیں ہیں جن کو ایک پارٹی مرتب کرتی اور لکھتی ہے پھرص بح اور شام اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور یہ یاد کرکے لوگوں کے روبرو پڑھ کر خدا کا کلام بتاتا ہے اور عوام کو سنا کر منزل من اللہ بتاتا ہے آگے اس کا جواب ارشاد ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ف 4۔ حاصل جواب یہ ہوا کہ اس کلام کا اعجاز دلیل ہے اس کی کہ کفار کا کہنا اساطیر الاولین غلط ہے، اور اسی سے ثابت ہوگیا کہ وہ لوگ مرتکب ظلم و زور کے ہیں، اگر یہ خود پیغمبر ﷺ کا کلام مفتری یا مکتسب ہوتا یا قوم آخرین کی اعانت سے تصنیف ہوتا تو معجز کیسے ہوگا۔
Read the full tafseer →انہوں نے کہا کہ قرآن کیا ہے ؟ پہلوں کی کہانیاں ہی تو ہیں :
5۔ پیچھے ہم نے بیان کیا ہے کہ انسان جب کسی ضابطہ کا پابند نہ رہے تو وہ جو اس کے منہ میں آتا ہے کہتا جاتا ہے اور لوگوں کی اکثریت بھی کچھ اس قسم کی ہے کہ وہ ہر اس شخص کو اہمیت دینے لگتے ہیں جو بےلگام ہو کر بولتا جاتا ہے اور جو بول کسی کو پسند آیا وہی اس نے جذب کرلیا ، بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی دعوی کرنے والے کے متعلق یہ بھی سوچا جائے کہ آیا اس کا دعوی کیا ہے ، آپ پورا قرآن کریم پڑھ جائیں آپ کو ایک جگہ بھی اس کا اشارہ تک نہیں ملے گا کہ رسول اللہ ﷺ نے قرآن کریم میں کہیں یہ دعوی کیا ہے کہ میں نے جو کچھ تمہارے سامنے پیش کیا ہے یہ مجھ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
Special Wisdom in every creation
فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا (And designed it in a perfect measure - 25:2): Here تَقْدِير (designing in a perfect measure) is mentioned after تخلِیق (Creation). تخلِیق means to create something from nothing that is to bring in something without any pre-existing substance whatsoever. And (designed in a perfect measure) means that, whatever has been created, its components, appearance, properties and signs are made to suit the purpose of its creation. The form of the sky, its constituents and its shape are in conformity to that purpose for which Allah Ta’ ala has…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
11 Another translation may be: "a great injustice."
Read the full tafseer →