25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 25:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

بڑا بابرکت ہے وہ جس نے اپنے بندے (محمد ﷺ پر فرقان نازل کیا تاکہ سارے جہان کے (لوگوں کے) لئے (انکار و بدعملی کے نتائج سے) خبردار کردینے والا ہو۔

[1] یعنی خبردار کرنے والا، غفلت اور گمراہی کے برے نتائج سے ڈرانے والا۔ اس سے مراد '' فرقان '' بھی ہوسکتا ہے اور وہ '' بندہ '' بھی جس پر فرقان نازل کیا گیا۔ الفاظ ایسے جامع ہیں کہ دونوں مراد ہوسکتے ہیں کیونکہ حقیقت کے اعتبار سے دونوں ایک ہی کام کے لئے بھیجے گئے ہیں۔
Ayah 25:2

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

(وہی ہے) جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور جس نے کسی کو (اپنی) اولاد قرار نہیں دیا اور نہ بادشاہی میں اس کا کوئی شریک ہے، جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقرر کی۔

[2] یعنی ہر چیز کو پیدا کرنے سے پہلے یہ طے کردیا کہ اسے دنیا میں کیا کام کرنا ہے اور اس کام کے لئے اس کی مقدار کیا ہو، اس کی شکل کیا ہو، اس کی صفات کیا ہوں، اس کا مقام کس جگہ ہو، اس کی بقائ، قیام اور فعل کے لئے کیا مواقع فراہم کئے جائیں، کس وقت وہ وجود میں آئے، کب تک اپنے حصے کا کام کرے، اور کب اور کس طرح ختم ہوجائے۔ اس پوری اسکیم کا نام اس چیز کی '' تقدیر '' ہے۔
Ayahs 25:3–4

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

(باوجود اللہ کے ایسے یکتا ہونے کے مشرکین نے) اسے چھوڑ کر (ایسے) معبود بنا لئے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں اور خود اپنے لئے بھی نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ کسی نفع کا، نہ (کسی کی) موت کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ (کسی کی) زندگی کا اور نہ (کسی کو) دوبارہ زندہ کرنے کا۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ہے وہ (قرآن کے بارے میں) کہتے ہیں کہ یہ تو نرا جھوٹ ہے جس کو اس شخص نے گھڑ لیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اس میں اس کی مدد کی ہے۔ (یہ بات کہہ کر) یہ لوگ (بڑے ہی) ظلم اور (سرتاسر) جھوٹ پر اتر آئے ہیں۔

[3] یعنی وہ معبود بھی جن کو اللہ نے پیدا کیا اور انسان ان کو معبود بنا بیٹھا، مثلاً فرشتے، جنات، انبیائ، اولیاء، سورج، چاند، درخت وغیرہ اور وہ بھی جس کو انسان خود بناتا ہے اور پھر ان کی پوجا پرستش کرتا ہے، مثلاً پتھر اور لکڑی کے بت۔
Ayahs 25:5–13

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور وہ (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) تو اگلوں کی کہانیاں ہیں جن کو اس (شخص) نے کسی سے لکھوا لیا ہے اور وہی صبح و شام اسے پڑھ پڑھ کر سنائی (اور یاد کرائی) جاتی ہیں۔

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ یہ (قرآن تو) اس (ہستی) نے نازل کیا ہے جو آسمانوں اور زمین کے تمام راز جانتا ہے۔ بلاشبہ وہ (بڑا) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے (کہ تم کو اس بہتان کی فوراً سزا نہیں دیتا) ۔

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا (پھرتا) ہے۔ کیوں نہ اس کے پاس کوئی فرشتہ بھیجا گیا جو اس کے ساتھ رہ کر (لوگوں کو عذاب الٰہی سے) ڈراتا،

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا (غیب سے) کوئی خزانہ اس کے پاس اترتا، یا (زیادہ نہیں تو) اس کے پاس (ایک) باغ (ہی) ہوتا جس سے یہ کھاتا (پیتا) ؟ اور (یہ) ظالم (مسلمانوں سے) کہتے ہیں کہ تم لوگ تو بس ایک سحرزدہ آدمی کی پیروی کر رہے ہو

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) دیکھو (تو سہی یہ لوگ) تمہارے بارے میں کیسی کیسی باتیں بناتے ہیں۔ پس یہ ایسے گمراہ ہوئے ہیں کہ (کسی طرح) راہ پر نہیں آسکتے۔

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

(اے پیغمبر، اللہ کے ہاں کسی چیز کی بھی کمی نہیں) ۔ وہ بڑی برکت والا ہے اگر وہ چاہے تو (ایک باغ کیا) اس سے بڑھ چڑھ کر (بہتیرے) باغ تمہارے لئے (مہیا) کر دے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں اور (باغوں کے علاوہ) تمہارے لئے (بہت سے) محل (بھی) بنا دے۔

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

بلکہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھتے ہیں اور جو قیامت کو جھوٹ سمجھے اس کے لئے ہم نے دوزخ تیار کر رکھی ہے۔

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

جب وہ ان کو دور سے دیکھے گی تو (دیکھتے ہی جوش مارے گی اور یہ دور ہی سے) اس کا جوش و خروش سنیں گے۔

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب وہ اس میں کسی تنگ جگہ مشکیں باندھ کر ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت (ہی موت) پکاریں گے

[4] یعنی محمد ﷺ نے۔
Ayahs 25:14–15

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا کہ) ایک موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں کو پکارو۔

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) پوچھو کہ یہ (دوزخ) بہتر ہے یا وہ ابدی جنت جس کا وعدہ متقیوں سے کیا گیا ہے۔ وہ ان (کی اطاعت) کا صلہ ہوگی اور (ان کا) آخری ٹھکانا۔

[5] جب آدمی سخت تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو موت کی آرزو کرتا ہے کہ موت بھی ایک طرح کی راحت ہے۔ قرآن میں ایک جگہ مذکور ہے کہ دوزخیوں کی کھالیں جل جل کر اور گل گل کر گرپڑیں گی اور پھر نئی کھال پیدا ہوگی۔ یہ بھی ایک طرح کی موت ہے۔ تو مطلب آیت کا یہ ہے کہ ایک موت کو کیا پکارتے ہو۔ اس سے تمہاری مصیبت کا خاتمہ نہیں ہوتا کیونکہ تم کو کئی دفعہ مرنا اور جینا اور عذاب بھگتنا ہے، پکارتے ہو تو بہت سی موتوں کو پکارو۔
Ayah 25:16

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

جو چیز وہ چاہیں گے ان کے لئے وہاں (موجود) ہوگی اور وہ (اس میں) ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ (اے پیغمبر، ) یہ (ایک) وعدہ ہے (جس کا پورا کرنا) تمہارے رب پر (لازم ہے اور یہ) قابل درخواست ہے۔

[6] یعنی یہ اس قابل ہے کہ اس کی درخواست کی جائے۔
Ayah 25:17

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور جس دن ( اللہ) ان لوگوں کو اور (ان معبودوں کو) جن کو (یہ لوگ) اللہ کو چھوڑ کر پوجتے ہیں (اپنے حضور میں) جمع کرے گا، پھر وہ (ان کے معبودوں سے) پوچھے گا۔ '' کیا میرے ان بندوں کو تم نے گمراہ کیا تھا یا یہ (خود ہی) راہ (راست) سے بھٹک گئے تھے ؟ ''

[7] اللہ تعالیٰ حقیقت حال کا جاننے والا ہے۔ اس سے کچھ بھی مخفی نہیں۔ یہ سوال مشرکوں کو ذلیل کرنے کے لئے ہے کہ ان کے معبود ان کو جھٹلائیں تو ان کو حسرت و ذلت زیادہ ہو۔
Ayahs 25:18–19

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

وہ عرض کریں گے، '' تو پاک (ذات) ہے، (ہم تو خود بندے تھے، ) ہمیں تو یہ بات بھی کسی طرح زیبا نہ تھی کہ تیرے سوا کسی اور کو اپنا کارساز بناتے، (تو ہم ان کے کارساز بننے کا کیونکر دعویٰ کرسکتے تھے، ) مگر (بات یہ ہوئی کہ) تو نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو (خوب) سامان زندگی دیا یہاں تک کہ یہ (تیری) یاد کو بھلا بیٹھے اور یہ لوگ خود ہی برباد ہوئے ''

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

(اس وقت اللہ مشرکین سے فرمائے گا، ) '' پس انہوں نے تم کو تمہاری باتوں میں جھوٹا ٹھہرا دیا تو نہ (ہمارے عذاب کو اپنے اوپر سے) ٹال سکتے ہو اور نہ (کسی سے) مدد لے سکتے ہو۔ اور جو (کوئی) تم میں ظالم ہوگا ہم اس کو بڑے (سخت) عذاب (کامزا) چکھائیں گے ''۔

[8] آیت کے مضمون سے ظاہر ہے کہ یہاں معبودوں سے مراد بت نہیں بلکہ فرشتے، گزرے ہوئے انبیاء، اولیا، اور صالحین ہیں۔ جنہیں لوگوں نے اپنا معبود بنا لیا تھا۔
Ayah 25:20

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے وہ کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں (بھی) چلتے (پھرتے) تھے۔ اور (بات یہ ہے کہ) ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لئے آزمائش (کا ذریعہ) بنادیا ہے۔ تو (مسلمانو، ) تم (اب بھی کافروں کی ایذا رسانیوں پر) صبر کرو گے (یا نہیں) ؟ اور (اے پیغمبر، ) تمہارا رب سب کچھ دیکھ رہا ہے۔

[9] مشرکین کا اعتراض رسول اللہ ﷺ کی صفات بشری پر آیت 7 میں گزر چکا ہے۔ یہاں اس کا جواب ہے کہ بشریت اور رسالت میں ذرا بھی منافات نہیں۔ [10] جتنے رسول اور اہل ایمان کی آزمائش اس میں ہے کہ وہ کفار کے جوروستم برداشت کرتے ہوئے اپنے ایمان پر قائم رہتے ہیں یا نہیں۔ دوسری طرف کافر کی آزمائش یہ ہے کہ ان کی اپنی ہی قوم سے ایک عام انسان کا رسول بنادیا جانا اور اس کے ابتدائی پیروؤں میں زیادہ تر غریبوں، غلاموں اور نوعمر لوگوں کا شامل ہونا ہے۔ چناچہ کفار قریش استہزاء کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اس رسول کا اتباع کرنے والے وہ لوگ ہیں جو رذیل اور ہمارے غلام ہیں۔ [11] یعنی کافروں کی ایذا دہی اور تمہارا صبروتحمل سب اس کی نظر میں ہے اور ہر ایک کو کئے کا پھل دے کر رہے گا۔
Ayah 25:21

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور جو لوگ (آخرت میں) ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اترتے ؟ یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیتے۔ یقینا ان لوگوں نے اپنے دلوں میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ لیا ہے اور سرکشی میں حد سے گزر گئے ہیں۔

[12] اور اللہ کی زبانی رسول کے دعوؤں کی تصدیق سن لیتے یا کم از کم فرشتے ہی تصدیق کے لئے آجاتے۔
Ayah 25:22

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ مجرموں کے لئے خوشخبری کا دن نہ ہوگا۔ (فرشتوں کو دیکھ کر) وہ چیخ اٹھیں گے کہ اللہ کی پناہ !

[13] اصل میں '' حجراً محجوراً '' استعمال ہوا ہے جس کا لفظی ترجمہ ہے روک آڑ (کی گئی) ۔ یعنی ہم میں اور فرشتوں میں آڑ ہو کہ ان کی صورت ہم کو دکھائی نہ دے۔ اس کے لئے اردو کا محاورہ '' خدا کی پناہ '' اختیار کیا گیا ہے۔
Ayahs 25:23–30

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور (دنیا میں) جو وہ (کوئی نیک) عمل کر گئے ہیں اب ہم ان (اعمال) کی طرف متوجہ ہوں گے اور ان کو (ایسا) کردیں گے (جیسے) اڑتی ہوئی خاک۔

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

(البتہ) اہل جنت کا اس دن اچھا ٹھکانا ہوگا اور آرام کی جگہ بھی عمدہ (ہو گی)

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اس دن آسمان ایک بدلی سے پھٹ جائے گا اور (اسی بدلی میں سے) فرشتے جوق در جوق (زمین پر) اتارے جائیں گے۔

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

اس دن حقیقی بادشاہی (اللہ) رحمن (ہی) کی ہوگی اور وہ دن کافروں پر (بڑا) سخت ہوگا۔

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اس دن ظالم انسان (مارے افسوس کے) اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا (اور) کہے گا، '' کاش میں (بھی) رسول کے ساتھ (دین کی) راہ پکڑ لیتا۔

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

ہائے میری کمبختی، کاش میں نے فلاں (شخص) کو دوست نہ بنایا ہوتا !

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

اس (کمبخت) نے میرے پاس آئی ہوئی نصیحت سے مجھے بہکا دیا ''۔ اور شیطان (کا تو قاعدہ ہے کہ وقت پڑنے پر) انسان کو چھوڑ کر الگ ہوجاتا ہے

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور (اس وقت) رسول کہے گا،'' اے میرے رب، میری قوم نے قرآن کو نظرانداز کر رکھا تھا ''۔

[14] یعنی کافروں نے اپنے زعم باطل کے موافق جو بھلے کام کئے تھے اور جن پر انھیں بڑا بھروسہ تھا انھیں ہم ملیامیٹ کردیں گے اور اس طرح بےحقیقت کر کے اڑا دیں گے جیسے خاک کے حقیر ذرات ہوا میں ادھر ادھر اڑ جایا کرتے ہیں، کیونکہ وہ اعمال روح ایمان سے یکسر خالی ہوں گے۔ یہ مضمون سورة ابراہیم کی آیت 18 میں بھی گزر چکا ہے۔
Ayah 25:31

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، جس طرح تمہارے زمانے کے کافر تمہارے دشمن ہیں) اسی طرح مجرموں کو ہم ہر نبی کا دشمن بناتے آئے ہیں۔ اور تمہارا رب ہی (تمہاری) رہنمائی اور مدد کے لئے کافی ہے۔

[15] یعنی یہ سنت قدیمہ ہے کہ کفار انبیاء کے ساتھ دشمنی کرتے رہے ہیں، تو یہ کوئی نئی بات نہیں جس کا غم کیا جائے۔
Ayahs 25:32–33

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) پر قرآن (سارے کا سارا) یکبارگی کیوں نہ نازل کردیا گیا ؟ (ہم کہتے ہیں کہ جیسا تدریجاً یہ اترا ہے) ایسا ہی (اترنا چاہئے تھا۔ اے پیغمبر، اس میں مصلحت یہ ہے) کہ ہم (وقتاً فوقتاً ) اس کے ذریعے سے تمہارا دل مضبوط کرتے رہیں اور (اس وجہ سے) ہم نے اس کو ٹھہر ٹھہر کر اتارا ہے۔

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور (اس میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ) جب کبھی یہ لوگ کوئی (عجیب) سوال تمہارے سامنے لے کر آتے ہیں (تو) ہم اس کا ٹھیک جواب (بروقت) تمہیں بتاتے ہیں اور بہترین طریقے سے وضاحت (کر دیتے ہیں) ۔

[16] کفار مکہ کا اعتراض تھا کہ قرآن اگر واقعی اللہ کی کتاب ہے تو ایک ہی دفعہ کیوں نہ اتارا گیا ؟ برسوں میں جو تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا گیا تو کیا اللہ میاں کو کچھ سوچنا پڑتا تھا ؟ اس سے تو یہ شبہ ہوتا ہے کہ خود محمد ﷺ سوچ سوچ کر بناتے ہیں۔ پھر موقع مناسب دیکھ کر تھوڑا تھوڑا سناتے رہتے ہیں۔
Ayahs 25:34–35

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

(اس طرح کے بےجا اعتراض کرنے والے) وہ لوگ ہیں جو (قیامت کے دن) اپنے منہ کے بل جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے۔ ان کی جگہ سب سے بری اور وہ (سب سے) زیادہ گمراہ۔ (ہوں گے )

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم نے موسیٰ کو کتاب (تورات) عطا کی اور اس کے بھائی ہارون کو مددگار کے طور پر اس کے ساتھ کردیا۔

[17] جگہ سے مراد دوزخ ہے۔ [18] یعنی جو لوگ سیدھی بات کو الٹی طرح سوچتے ہیں ان کی عقل بالکل اوندھی ہے اس وجہ سے وہ اوندھے منہ جہنم کی طرف لے جائے جائیں گے۔ آگے ایسی چند اقوام کا جو حشر ہوا عبرت کے لئے ان کا حال بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 25:36

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

پھر ہم نے حکم دیا کہ تم دونوں اس قوم کی طرف جاؤ جس نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے۔ (چنانچہ دونوں گئے اور انھیں سمجھایا مگر انہوں نے نہ مانا) تو ہم نے انھیں ہلاک کر مارا۔

[19] مراد فرعون اور اس کی قوم ہے۔ [20] یعنی ان آیتوں کو جو یعقوب (علیہ السلام) اور یوسف (علیہما السلام) کے ذریعے ان کو پہنچی تھیں اور جن کی تبلیغ ایک مدت تک بنی اسرائیل کے صالح لوگ کرتے رہے تھے۔
Ayah 25:37

وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ Open ayah 25:37 in the Quran reader

اور قوم نوح نے بھی جب (ہمارے) رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو غرق کردیا اور ان کو لوگوں کے لئے نشان (عبرت) بنادیا اور ان ظالموں کے لئے ہم نے عذاب دردناک تیار کر رکھا ہے۔

[21] سب پیغمبروں کا دین ایک رہا ہے تو ایک پیغمبر کے جھٹلانے سے تمام پیغمبروں کا جھٹلانا لازم آیا۔
Ayahs 25:38–39

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا Open ayah 25:38 in the Quran reader

اور (اسی طرح) عاد اور ثمود اور کنویں والوں اور ان کے بیچ بیچ میں بہت سی امتوں کو (ہم نے ہلاک کر مارا) ۔

وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا Open ayah 25:39 in the Quran reader

اور (ان میں سے) ہر ایک کو ہم نے (ان سے پہلے تباہ ہونے والوں کی) مثالیں دے دے کر سمجھایا تھا (مگر کسی نے نہ سمجھا) اور (آخرکار) ہم نے ہر ایک کو غارت کردیا۔

[22] کنوئیں والے کون تھے ؟ ان کے بارے میں مفسرین میں سخت اختلاف ہے۔