25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 25:40–44

وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا Open ayah 25:40 in the Quran reader

اور یہ (کفار مکہ) تو اس بستی پر (بھی) ہو گزرے ہیں جس پر بدترین بارش برسائی گئی تھی۔ کیا انہوں نے اس کو نہ دیکھا ہوگا ؟ مگر بات یہ ہے کہ یہ لوگ (مرنے کے بعد دوبارہ) جی اٹھنے کی توقع ہی نہیں رکھتے۔

وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا Open ayah 25:41 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) جب یہ لوگ تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں (اور کہتے ہیں) کیا یہی ہیں جن کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟

اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَا١ؕ وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 25:42 in the Quran reader

اس نے تو ہم کو ہمارے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا اگر ہم ان (کی پرستش) پر ثابت قدم نہ رہتے۔ (اچھا) عنقریب یہ جان لیں گے جب عذاب دیکھ لیں گے کہ کون گمراہ تھا۔

اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ Open ayah 25:43 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا تم نے اس شخص (کے حال) پر بھی نظر کی جس نے اپنی خواہش (نفس) کو اپنا معبود بنا لیا ہے ؟ کیا تم اس (کو راہ راست پر لانے) کا ذمہ لے سکتے ہو ؟۔

اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:44 in the Quran reader

یا تم خیال کرتے ہو کہ ان (کافروں) میں اکثر (بات کو) سنتے یا سمجھتے ہیں ؟ یہ تو بس چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ (ان سے بھی) گئے گزرے۔

[23] یعنی قوم لوط کی بستی۔ [24] یعنی پتھروں کی بارش۔ [25] یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے قائل نہ تھے کہ انھیں آخرت کے عذاب وثواب کی پروا ہوتی۔
Ayah 25:45

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ Open ayah 25:45 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا تم نے اپنے رب (کی اس قدرت) پر نظر نہیں کی کہ اس نے سائے کو کس طرح پھیلا رکھا ہے ؟ وہ اگر چاہتا تو اس کو (ایک حالت پر) ٹھہرا ہوا رکھتا۔ پھر ہم نے آفتاب کو اس کا سبب ٹھہرا دیا۔

[26] یعنی اللہ چاہتا تو سائے کو ایک ایسی چیز بنا دیتا جس کو آفتاب سے کچھ تعلق نہ ہوتا۔ آفتاب طلوع ہوتا اور دوپہر تک سر پر آجاتا اور پھر ڈھلتا یہاں تک کہ غروب ہوجاتا اور سایہ ایک ہی حالت پر رہتا۔ لیکن اللہ نے سائے کو ایسا بنایا جو آفتاب کی وجہ سے گھٹتا بڑھتا ہے اور شام کو بڑھتے بڑھتے آخر کو ناپید ہوجاتا ہے۔
Ayah 25:46

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا Open ayah 25:46 in the Quran reader

پھر ہم اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف کھینچ کر سمیٹ لیتے ہیں۔

[27] سائے کے معدوم ہوجانے کو فرمایا کہ سایہ اپنی اصل کو جا لگتا ہے اور سب کی اصل اللہ ہے۔ ہر چیز اللہ کی طرف سے آتی ہے اور اسی کی طرف جاتی ہے۔ اس آیت میں ایک لطیف اشارہ یہ ہے کہ جس طرح مادی دنیا میں سورج آہستہ آہستہ ہی چڑھتا اور سایہ آہستہ آہستہ ہی سکڑتا ہے اسی طرح روحانی دنیا میں بھی آفتاب ہدایت کا عروج اور سایہ ضلالت کو زوال آہستہ آہستہ ہی ہوگا۔
Ayahs 25:47–48

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا Open ayah 25:47 in the Quran reader

اور وہ ( اللہ) ہی ہے جس نے تم لوگوں کے لئے رات کو پردہ پوش، نیند کو (موجب) راحت اور دن کو (گویا) جی اٹھنے کا وقت بنادیا۔

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ Open ayah 25:48 in the Quran reader

اور وہی ہے جو اپنی (باران) رحمت سے پہلے ہواؤں کو (بارش کی) خوشخبری دینے کے لئے بھیجتا ہے اور (پھر) آسمان سے پاک (صاف) پانی نازل کرتا ہے۔

[28] اسی طرح موت کی نیند کے بعد قیامت کی صبح آئے گی جب تمام انسان دوبارہ اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اور یہی حالت اس وقت پیش آتی ہے جب ہدایت و معرفت کا روز روشن نمودار ہوتا ہے۔ پس ناگزیر ہے کہ جہل و غفلت کی نیند کے ماتے بیدار ہوں۔ البتہ جن کے لئے رات کی نیند موت کی نیند تھی وہ نہ جاگیں گے۔
Ayah 25:49

لِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا Open ayah 25:49 in the Quran reader

تاکہ اس سے مردہ زمین میں جان ڈال دے اور اپنی مخلوق میں بہت سے چوپایوں اور انسانوں کو اس سے سیراب کر دے۔

[29] یعنی جس طرح باران رحمت سے مردہ زمینوں میں جان پڑتی ہے اور کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں اسی طرح قیامت کے دن ایک غیبی بارش کے ذریعے مردہ جسموں کو جو خاک میں مل چکے تھے زندہ کردیا جائے گا۔ دنیا میں بھی وحی الٰہی کی بارش سے انسانیت کی بنجر زمین میں جان پڑگئی اور بہت سی مردہ روحیں ہدایت وسعادت کی شادابیوں سے فیضیاب ہوگئیں۔
Ayah 25:50

وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 25:50 in the Quran reader

اس (کرشمے) کو ہم باربار لوگوں کے سامنے لاتے ہیں تاکہ وہ غور کریں۔ لیکن اکثر لوگوں نے سوائے ناشکری کے (دوسرا رویہ اختیار) کرنے سے انکار کردیا۔

[30] یعنی بارش کے اس مضمون کو ہم نے باربار قرآن میں بیان کر کے حقیقت سمجھانے کی کوشش کی ہے تاکہ لوگ اس سے سبق لیں۔
Ayah 25:51

وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ Open ayah 25:51 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں (انکار و بدعملی کے نتائج سے) ایک خبردار کرنے والا اٹھا کھڑا کرتے۔

[31] مگر ہم نے ایسا نہیں کیا اور ساری دنیا کے لئے ایک ہی نبی بھیجا۔ جس طرح ایک سورج سارے جہان کے لئے کافی ہو رہا ہے اسی طرح یہ اکیلا آفتاب ہدایت تمام جہان کے لئے کافی ہے۔
Ayah 25:52

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا Open ayah 25:52 in the Quran reader

پس تم کافروں کا کہا نہ مانو (کہ لگو دعوت اسلام میں کسی طرح کی کوتاہی کرنے) اور اس (قرآن کے ہتھیار) سے ان سے جہاد کبیر کرو۔

[32] جہاد کبیر کے تین معنی ہیں۔ ایک، انتہائی کوشش جس میں آدمی سعی و جانفشانی کا کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھے۔ دوسرے، بڑے پیمانے پر جدوجہد جس میں آدمی اپنے تمام ذرائع لاکر ڈال دے۔ تیسرے، جامع جدوجہد جس میں آدمی کوشش کا کوئی پہلو اور مقابلے کا کوئی محاذ نہ چھوڑے۔ جس جس پہلو سے بھی حق کی سربلندی کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہو کرے۔ اس میں زبان و قلم کا جہاد بھی شامل ہے اور جان و مال کا بھی توپ و تفنگ کا بھی۔
Ayah 25:53

وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:53 in the Quran reader

اور وہی ( اللہ) ہے جس نے دو دریا ملے ہوئے رواں کئے، ایک (کا پانی) میٹھا مزیدار، دوسرا کھاری کڑوا اور دونوں کے درمیان (اپنی قدرت سے) ایک پردہ اور آڑ (حائل) کردی (جو انھیں گڈمڈ ہونے سے روکے ہوئے ہے) ۔

[33] چناچہ بنگال میں اس طرح کے دریا پائے جاتے ہیں۔ ارکان سے چاٹگام تک دو دریا بالکل الگ تھلگ نوعیت کے نظر آتے ہیں۔ ایک کا پانی سفید ہے اور دوسرے کا سیاہ اور دونوں کے بیچ ایک دھاری چلی گئی ہے۔ سفید پانی میٹھا ہے اور سیاہ کڑوا۔ اس طرح بنگال کے ضلع باریسال میں دوندیاں ایک ہی دریا سے نکلی ہیں، ایک کا پانی کھاری اور کڑوا اور دوسرے کا لذیذ و شیریں۔ خلیج فارس کی تہہ سے بہت سے چشمے نکلے ہیں جن سے لوگ میٹھا پانی حاصل کرتے ہیں۔
Ayah 25:54

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا Open ayah 25:54 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے آدمی کو پانی سے پیدا کیا اور پھر اسے خاندان والا اور سسرال والا بنایا۔ (اے پیغمبر، ) تمہارا رب بڑی قدرت والا ہے۔

[34] یعنی منی سے۔ [35] یعنی ایک ناچیز قطرے کو کیا سے کیا کردیا اور کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔
Ayah 25:55

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا Open ayah 25:55 in the Quran reader

اس اللہ کو چھوڑ کر یہ لوگ ان کو پوجتے ہیں جو ان کو نہ نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان اور (اوپر سے مزید یہ کہ) کافر اپنے رب کے مقابلے میں (ہر باغی کا) مددگار (بنا ہوا) ہے۔

[36] یعنی کافروں کی ہمدردیاں ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہیں جو اللہ کے نافرمان ہیں۔
Ayahs 25:56–58

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا Open ayah 25:56 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ہم نے تو تمہیں صرف ایک خوشخبری سنانے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 25:57 in the Quran reader

ان (لوگوں) سے کہہ دو کہ میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کوئی معاوضہ تو مانگتا نہیں، ہاں (البتہ یہ چاہتا ہوں کہ) جو کوئی چاہے اپنے رب تک پہنچنے کا راستہ اختیار کرلے۔

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ Open ayah 25:58 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) تم ہمیشہ زندہ رہنے والے پر بھروسہ رکھو جو کبھی مرنے والا نہیں اور اس کی حمد (وثنا) کے ساتھ اس کی تسبیح (وتقدیس) کرتے رہو۔ اپنے بندوں کے گناہوں سے اس کا باخبر ہونا کافی ہے (وہ خود ان سے نبٹ لے گا) ۔

[37] یعنی رسول کی ذمہ داری اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ وہ لوگوں کو نیک کے انجام کی خوشخبری سنائے اور سرکشی و بدعملی کے نتائج سے خبردار کرے۔ اس طرح کے اشارات جہاں کہیں بھی قرآن میں آئے ہیں ان کا اصل روئے سخن کفار کی طرف ہے اور مقصد یہ بتانا ہے کہ پیغمبر پر تبلیغِ حق سے بڑھ کر کوئی ذمہ داری نہیں۔ وہ لوگوں کو پیغامِ حق قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمانوں کے معاملے میں بھی پیغمبر کا کام بس اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے۔ قرآن میں کئی جگہ نہایت صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ پیغمبر کا کام مسلمانوں کو صرف اللہ کا پیغام سنانا ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ان کو کتاب الٰہی کی تعلیم دینا، حکمت و دانائی کی باتیں بتانا اور ان کا تزکیہ نفس کرنا بھی ہے۔
Ayah 25:59

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا Open ayah 25:59 in the Quran reader

(وہی تو ہے) جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان ساری چیزوں کو جو ان دونوں کے درمیان ہیں چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر عرش (بریں) پر متمکن ہوگیا۔ (وہی ہے) جو رحم کرنے والا ہے، اس (کی شان) کے متعلق کسی جاننے والے سے پوچھو۔

[38] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة اعراف حواشی 25، 26 صفحہ 283۔
Ayah 25:60

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩ Open ayah 25:60 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں رحمن کیا ہوتا ہے ؟ کیا جسے تم ہمیں (سجدہ کرنے کو) کہو اسی کو ہم سجدہ کرنے لگیں ؟ اس (دعوت) نے ان کی نفرت میں (اور) اضافہ کردیا۔

[39] یہ بات دراصل وہ عناد اور ہٹ دھری کی بناء پر کہتے تھے حالانکہ خوب جانتے تھے کہ رحمن کے معنی نہایت رحمت والا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔
Ayah 25:61

تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا Open ayah 25:61 in the Quran reader

بڑی برکت والا ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور (برجوں کے علاوہ) اس میں ایک چراغ اور ایک جگمگاتا چاند (رکھ دیا) ۔

[40] '' برج کے معنی قلعہ اور محل کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد وہ آسمانی قلعے یا خطے ہیں جو اللہ نے آسمانوں میں بنائے ہیں جن میں اس کے ملائکہ کی فوجیں برابر مامور رہتی ہیں اور ان حدود اور دائروں کی نگرانی کرتی ہیں جن سے آگے بڑھنے کی اجازت نہ شیاطین انس کو ہے اور نہ شیاطین جن کو، اگر کوئی شیطان ملاو اعلیٰ کی باتوں کی کچھ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو ایک دمکتا شہاب اس کا تعاقب کرتا ہے۔ تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة حجر حاشیہ 6 صفحہ۔ 596 [41] یعنی سورج۔
Ayah 25:62

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا Open ayah 25:62 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو (ایک دوسرے کا) جانشین بنایا (اور یہ سب کچھ ہر) اس شخص کے لئے جو (ان باتوں سے) سبق لینا یا شکر گزار ہونا چاہے۔

[42] یعنی ان سب کا ایک نظام کے تحت ہونا، اور ایک آئین میں جکڑا ہونا، ان کے خالق کی قدرت و حکمت کے کمال اور صفت یکتائی پر ایک قوی دلیل ہے اور اس پر غور و فکر کرنے والے کو توحید کا سبق ملتا ہے اور ان کے فوائد و انعامات دیکھ کر اس کا سرجذبہ شکر سے جھک جاتا ہے۔ آگے اللہ کے ایسے ہی مخلص بندوں کا بیان ہے۔
Ayahs 25:63–68

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا Open ayah 25:63 in the Quran reader

رحمن کے (اصل) بندے تو وہ ہیں جو زمین پر دبے پاؤں چلتے ہیں اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ (تم کو) سلام۔

وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا Open ayah 25:64 in the Quran reader

اور جو اپنے رب کے آگے سجود و قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ Open ayah 25:65 in the Quran reader

اور جو دعائیں مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب، دوزخ کے عذاب سے ہمیں بچا لے۔ اس کا عذاب تو چمٹنے والا ہے۔

اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:66 in the Quran reader

(اور) وہ (بڑی ہی) بری جگہ ٹھہرنے اور رہنے کی ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا Open ayah 25:67 in the Quran reader

اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں بلکہ ان کا خرچ اس (افراط وتفریط) کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ Open ayah 25:68 in the Quran reader

اور جو اللہ کے ساتھ (کسی) دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور جس (انسان کی) جان کو اللہ نے حرام کیا ہے اسے ہلاک نہیں کرتے مگر ہاں بربنائے حق اور نہ وہ زنا (کا ارتکاب) کرتے ہیں اور جو کوئی ایسے کام کرے گا وہ (اپنے) گناہ کا بدلہ پائے گا ،

[43] یعنی متکبروں کی طرح اکڑ کر پاؤں زور سے زمین پر مارتے ہوئے نہیں چلتے۔ ان کی چال ڈھال سے تواضع، متانت اور خاکساری ٹپکتی ہے۔ یہاں اللہ کے نیک اور مخلص بندوں کی خصوصیات گناتے ہوئے سب سے پہلے ان کی چال کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ آدمی کی چال محض اس کے انداز رفتار ہی کا نام نہیں ہے بلکہ درحقیقت وہ اس کی سیرت و کردار کی آئینہ دار بھی ہوتی ہے۔
Ayahs 25:69–73

یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ Open ayah 25:69 in the Quran reader

اور قیامت کے دن اسے دوہرا عذاب کیا جائے گا۔ اور اس میں وہ ذلیل (وخوار) ہو کر پڑا رہے گا۔

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:70 in the Quran reader

مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل (بھی) کئے تو ایسے لوگوں کے (گزشتہ) گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا اور وہ بڑا غفورُ رَّحیم ہے۔

وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا Open ayah 25:71 in the Quran reader

اور جو شخص توبہ کرے اور (اس کے بعد) نیک عمل (بھی) کرے تو وہ حقیقت میں اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا Open ayah 25:72 in the Quran reader

اور (رحمن کے بندے وہ ہیں) جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے اور اگر (اتفاقاً ) کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہوجائے تو شرافت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا Open ayah 25:73 in the Quran reader

اور وہ لوگ (ایسے ہیں) جب انھیں ان کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ ان پر بہرے اور اندھے بن کر نہیں رہ جاتے،

[44] یعنی اور گناہوں سے یہ گناہ یعنی شرک، قتل ناحق اور زنا بڑے ہیں۔ لہذا عذاب بھی ان پر بڑا ہوگا لہذا اسے دوہرا عذاب ہوگا۔
Ayahs 25:74–76

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا Open ayah 25:74 in the Quran reader

اور وہ دعائیں مانگا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم کو ہماری بیویوں اور ہماری اولاد (کی طرف) سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا دے۔

اُولٰٓئِكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ Open ayah 25:75 in the Quran reader

یہ ہیں وہ لوگ جن کو ان کے صبر کے بدلے میں (بہشت میں رہنے کو) بالاخانے ملیں گے اور (فرشتوں کی طرف سے) ان کا استقبال دعا اور سلام سے ہوگا۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:76 in the Quran reader

(اور) وہ اس (بہشت) میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے (کیا ہی) اچھی جگہ ہے وہ ٹھہرنے کی اور (کیا ہی) خوب جگہ ہے وہ رہنے کی ( ! )

[45] مطلب یہ ہے کہ ہم کو اس درجے کا نیک اور پرہیزگار بنا کہ دوسرے لوگ ہمیں دیکھ کر نیک اور پرہیزگار بن جائیں اور نیکی اور پرہیزگاری میں ہم ان کے امام ہوں۔
Ayah 25:77

قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ١ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا۠ Open ayah 25:77 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہہ دو کہ میرے رب کو تمہاری ذرا پروا نہیں اگر تم اس کو نہ پکارو۔ اب کہ تم نے (اس کی آیتوں کو) جھٹلا دیا ہے تو عنقریب (یہ جھٹلانا تمہارے لئے) وبال (جان) ہوگا۔

[46] یعنی اللہ کو اس کی ذرا پروا نہیں۔ اگر تم اس سے دعائیں نہ مانگو اور اس کی عبادت نہ کرو۔ تم سے اس کی کوئی حاجت اٹکی ہوئی تو ہے نہیں کہ تمہارے بندگی نہ کرنے سے اس کا کوئی کام رکا رہ جائے گا۔