Ayah 25:1اثبات توحید و رسالت، مشرکین کی حماقت اور عناد کا تذکرہ
یہاں سے سورة فرقان شروع ہو رہی ہے اوپر پہلے رکوع کا ترجمہ لکھا کیا ہے، اس میں قرآن مجید کی صفت بیان فرمائی ہے اور اس کے ساتھ ہی صاحب قرآن رسول اللہ ﷺ کی صفت بھی بیان فرمائی، ارشاد فرمایا کہ وہ ذات بابرکت ہے جس نے اپنے بندہ پر فرمان یعنی فیصلہ کرنے والی کتاب یعنی قرآن نازل فرمایا جو حق اور باطل میں فرق کرنے والا ہے اور واضح طور پر ہدایت اور ضلالت کو متعین کر کے بتانے والا ہے یہ قرآن اپنے بندہ پر اس لیے نازل فرمایا ہے کہ وہ جہانوں کے لیے ڈرانے والا ہوجائے اس میں رسول اللہ ﷺ کی بعثت عامہ کو بیان فرمایا ہے قیامت آنے تک جتنے بھی جنات اور انسان ہیں آپ سب کی طرف مبعوث ہیں آپ کو دین حق دے کر اللہ تعالیٰ نے بھیجا آپ نے حق کی تبلیغ فرمائی قبول کرنے والوں کو بشارتیں دیں اور جو قبول حق سے منکر ہوئے انہیں ڈرایا اور بتایا کہ آخرت میں منکر کا برا انجام ہے جس نے اللہ کے بھیجے ہوئے دین کا انکار کیا اس کے لیے نار جہنم ہے قال الطیبی فی اختصاص النذیر دون البشیر سلوک طریقۃ براعۃ الاستھلال والا یذان بان ھذہ السورۃ مشتملۃ علی ذکر المعاندین الخ۔ (ذکرہ صاحب الروح ج 18 ص 431)
Ayah 25:2پھر قرآن نازل فرمانے والی ذات بابرکات کی صفات بیان فرمائیں جس کی طرف سے ہر طرح کی برکت اور خیر کثیر ملتی ہے فرمایا (الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) (جس کے لیے ملک ہے آسمانوں کا اور زمین کا) (وَلَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا) (اور اس نے اپنے لیے کوئی اولاد تجویز نہیں کی) (وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ ) (اور ملک میں اس کا کوئی شریک نہیں) (وَخَلَقَ کُلَّ شَیْءٍ ) (اور اس نے ہر چیز کو پیدا فرمایا) (فَقَدَّرَہٗ تَقْدِیْرًا) یعنی جس چیز کو پیدا فرمایا اس کی ساخت اور شکل و صورت کا ایک خاص انداز بنایا اور اس کے آثار و خواص بھی پیدا فرمائے اور ہر چیز کو اپنی حکمت کے مطابق اعمال و اشغال میں لگا دیا۔ آسمان کی ساخت اس کے اجزاء ترکیبی اس کی ہیئت اس کے حال کے مناسب ہے اسی طرح سیاروں اور ستاروں کی تخلیق میں وہ چیزیں رکھی گئیں جو ان کے احوال کے مناسب ہیں زمین اور اس کے پیٹ میں پیدا ہونے والی جس چیز پر نظر ڈالو ہر ایک کی ساخت شکل و صورت، نرمی سختی وغیرہ ہر حالت اور ہر صفت اس کام کے مناسب بنائی ہے جس کے لیے اس کو پیدا فرمایا زمین کو نہ اتنا رقیق مادہ بنایا کہ جو کچھ اس پر رکھا جائے وہ اس کے اندر ڈوب جائے اور نہ پتھر اور لوہے کی طرح ایسا سخت بنایا کہ اس کو کھود نہ سکیں چونکہ اس سے یہ ضرورتیں بھی متعلق تھیں کہ اس کو کھود کر پانی نکالا جاسکے اور بنیادیں کھود کر بڑی بڑی عمارتیں کھڑی کی جاسکیں اس لیے اس کو ایسی ہی ہیئت کذائیہ پر رکھا گیا، پانی کو سیال بنایا جس میں ہزاروں حکمتیں ہیں ہوا بھی سیال مادہ کی طرح ہے مگر پانی سے مختلف ہے پانی ہر جگہ خود بخود نہیں پہنچتا اس میں انسان کو کچھ محنت بھی کرنی پڑتی ہے ہوا کو قادر مطلق نے اپنا ایسا جبری انعام بنایا کہ وہ بغیر کسی محنت و عمل کے ہر جگہ پہنچ جاتی ہے بلکہ کوئی شخص ہوا سے بچنا چاہے تو اس کو اس کے لیے بڑی محنت کرنی پڑتی ہے قال صاحب الروح فقدرہ ای ھیاہ لما ارادبِہٖ من الخصائص والا فعال اللّائقہ بِہٖ تقدیرا بدیعًا لا یقادرُ قدرہ ولا یبلغ کنھہ کھیءۃ الانسان للفھم والا دراک والنظر والتدبر فی امور المعاد والمعاش واستنباط الصنائع المتنوعۃ و مزاولۃ الاعمال المختلفۃ الی غیر ذلک۔
Ayah 25:3اس کے بعد مشرکین کی گمراہی کا تذکرہ فرمایا کہ ان لوگوں نے اس ذات پاک کو چھوڑ کر جو آسمان اور زمین کا خالق ہے جس کا ملک میں کوئی شریک نہیں اور جس کی کوئی اولاد نہیں بہت سے معبود بنا لیئے یہ معبود کسی بھی چیز کو پیدا نہیں کرتے وہ تو خود ہی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور ان کی عاجزی کا یہ عالم ہے کہ وہ خود اپنی جانوں کے لیے کسی بھی ضرر اور نفع کے مالک اور مختار نہیں ہیں نہ اپنی ذات سے کسی ضرر کو دفع کرسکتے ہیں اور نہ اپنی جانوں کو نفع پہنچا سکتے ہیں نیز وہ موت وحیات کے بھی مالک نہیں، نہ زندوں کو موت دے سکتے ہیں اور نہ مردوں کو زندہ کرسکتے ہیں پھر جب قیامت کا دن ہوگا اس وقت ان کو بھی اللہ تعالیٰ زندہ فرمائے گا مردوں کو یہ باطل معبود دو بارہ زندہ نہیں کرسکتے۔
Ayah 25:4اہل کفر کا شرک اختیار کرنے کی ضلالت اور سفاہت بیان کرنے کے بعد ان کا ایک اور عقیدہ کفریہ بیان فرمایا اور وہ یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن مجید کے بارے میں یوں کہتے ہیں کہ محمد ﷺ کا یہ کہنا کہ یہ کتاب جو میں پڑھ کر سناتا ہوں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل فرمائی ہے ایک افتراء ہے نازل تو کچھ بھی نہیں ہوا ہاں انہوں نے اپنے پاس سے عبارتیں بنا لی ہیں اور اس بارے میں دوسرے لوگوں نے بھی ان کی مدد کی ہے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی تردید کرتے ہوئے فرمایا (فَقَدْ جَاءُوا ظُلْمًا وَّزُورًا) کہ ان لوگوں نے بڑے ظلم کی بات کہی ہے اور بڑے جھوٹ کا ارتکاب کیا ہے (اللہ تعالیٰ کی نازل فرمودہ کتاب کو مخلوق کی تراشیدہ بات بتادیا ہے) ۔
ان لوگوں نے جو یوں کہا کہ دوسرے لوگوں نے عبارتیں بنانے میں ان کی مدد کی ہے اس کے بارے میں مفسرین نے فرمایا کہ اس سے مشرکین کا اشارہ یہود کی طرف تھا وہ کہتے تھے کہ انہیں یہودی پرانی امتوں کے واقعات سنا دیتے ہیں اور یہ انہیں بیان کردیتے ہیں اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ان لوگوں کا اشارہ ان اہل کتاب کی طرف تھا جو پہلے سے توریت پڑھتے تھے پھر مسلمان ہوگئے تھے وجہ انکار کے لیے ان لوگوں کو کچھ نہ ملا اور قرآن جیسی چیز بنا کر لانے سے عاجز ہوگئے تو اپنی خفت مٹانے کے لیے ایسی باتیں کرنے لگے۔
Ayah 25:5پھر منکرین کے ایک باطل دعویٰ کا تذکرہ فرمایا (وَقَالُوْا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اکْتَتَبَہَا) (الایۃ) اور ان لوگوں نے کہا کہ محمد ﷺ جو یوں کہتے ہیں کہ میرے اوپر اللہ کا کلام نازل ہوتا ہے اس میں نازل ہونے والی کوئی بات نہیں ہے یہ پرانی لکھی ہوئی باتیں ہیں جو پہلے سے نقل ہوتی چلی آرہی ہیں انہیں کو انہوں نے لکھوا لیا ہے یہ صبح شام بار بار ان کے اوپر پڑھی جاتی ہیں جس کی وجہ سے انہیں یاد ہوجاتی ہیں انہی کو پڑھ کر سنا دیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں یہ مجھ پر اللہ کا کلام نازل ہوا ہے
Ayah 25:6ان لوگوں کی اس بات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا (قُلْ اَنزَلَہُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) (آپ فرما دیجیے کہ ان قرآن کو اس ذات پاک نے نازل فرمایا ہے جسے ہر چھپی ہوئی بات کا علم ہے آسمانوں میں ہو یا زمین میں) تم جو خفیہ مشورے کرتے ہو اور آپس میں جو چپکے چپکے یوں کہتے ہوں کہ یہ قرآن محمد ﷺ نے اپنے پاس سے بنا لیا ہے یا دوسروں سے لکھوا لیا ہے قرآن نازل فرمانے والے کو تمہاری ان سب باتوں کا پتہ ہے وہ تمہیں اس کی سزا دے گا (اِِنَّہٗ کَانَ غَفُوْرًا رَحِیْمًا) (بلاشبہ وہ بخشنے والا ہے مہربان ہے) اس میں یہ بتایا کہ تم نے جو باتیں کہی ہیں یہ کفریہ باتیں ہیں ان کی وجہ سے تم عذاب کے مستحق ہوگئے ہو لیکن جس نے یہ قرآن نازل فرمایا ہے وہ بہت بڑا کریم ہے اگر اپنی کفریہ باتوں سے توبہ کرلو گے اور ایمان لے آؤ گے تو وہ پرانی تمام باتوں کو معاف فرما دے گا۔
Ayah 25:7اس کے بعد مشرکین مکہ کی انکار رسالت والی باتوں کا تذکرہ فرمایا (وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ ) (اور ان لوگوں نے یوں کہا کہ اس رسول کو کیا ہوا یہ تو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے) ان لوگوں نے اپنی طرف سے نبوت اور رسالت کا ایک معیار بنالیا تھا اور وہ یہ تھا کہ رسول کوئی ایسی شخصیت ہونی چاہئے جو اپنے اعمال و احوال میں دوسرے انسانوں سے ممتاز ہو جو شخص ہماری طرح کھانا کھاتا ہے اور اپنی ضرورتوں کے لیے بازار میں جاتا ہے چونکہ یہ شخص ہماری ہی جیسا ہے اس لیے یہ رسول نہیں ہوسکتا یہ ان لوگوں کی حماقت کی بات ہے خود تراشیدہ معیار ہے صحیح بات یہ ہے کہ انسانوں کی طرف جو شخص مبعوث ہو وہ انسان ہی ہونا چاہئے جو قول سے بھی بتائے اور عمل کرکے بھی دکھائے کھانا کھائے کھانے کے احکام بھی بتائے اور خریدو فروخت کے طریقے بھی سمجھائے۔
منکرین رسالت نے رسالت و نبوت کا معیار بیان کرتے ہوئے اور بھی بعض باتیں کہیں۔
اولاً یوں کہا (لَوْلاَ اُنزِلَ اِِلَیْہِ مَلَکٌ فَیَکُوْنَ مَعَہٗ نَذِیرًا) (اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں نازل کیا گیا جو اس کے کام میں شریک ہوتا اور نذیر ہوتا) یعنی وہ بھی لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈراتا۔
Ayah 25:8دوم (اَوْ یُلْقَی اِِلَیْہِ کَنزٌ) (یا اس کی طرف کوئی خزانہ ڈال دیا جاتا)
سوم (اَوْ تَکُوْنُ لَہٗ جَنَّۃٌ یَاْکُلُ مِنْہَا) (یا اس کے لیے کوئی باغ ہوتا جس میں سے کھتا پیتا) انہوں نے جو یوں کہا تھا کہ رسول میں کوئی امتیازی شان ہوئی چاہئے اس امتیازی شان کو انہوں نے خود ہی تجویز کیا کہ ان کے ساتھ کوئی فرشتہ ہوتا جو کار رسالت میں ان کا شریک ہوتا یا ان کے پاس خزانہ ہوتا یا ان کا کوئی باغ ہوتا جب ان میں سے کوئی چیز نہیں تو ہم اور یہ برابر ہوئے پھر اس کے دعوائے رسالت کو کیسے مان لیں ان باتوں کے ساتھ انہوں نے ایک اور ظلم کردیا اور اہل ایمان سے یوں کہہ دیا کہ (اِنْ تَتَّبِعُوْنَ الاَّ رَجُلاً مَّسْحُوْرًا) (تم تو ایک ایسے ہی آدمی کا اتباع کر رہے ہو جس پر جادو کردیا گیا ہے) کسی نے اس پر جادو کردیا ہے جس کی وجہ سے ایسی باتیں کرتا ہے جب قرآن جیسا کلام نہ لاسکے اور دلائل اور معجزات کے سامنے لا جواب ہوگئے تو آخر میں یہ بات نکالی کہ تم جسے رسول مان رہے ہو وہ مسحور ہے اس پر کسی نے جادو کردیا ہے جس کی وجہ سے ایسی باتیں کرتا ہے۔
Ayahs 25:9–10اللہ جل شانہٗ نے ارشاد فرمایا (انظُرْ کَیْفَ ضَرَبُوْا لَکَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلاَ یَسْتَطِیعُوْنَ سَبِیْلًا) آپ دیکھ لیجیے کہ یہ لوگ آپ کے لیے کیسی کیسی باتیں بیان کر رہے ہیں سو وہ گمراہ ہوگئے پھر وہ راہ نہیں پاسکیں گے (اگر غور کرتے اور عقل سے کام لیتے تو یہی قرآن اور یہی رسول جن پر اعتراض کر رہے ہیں ان کی ہدایت کا سبب بن جاتے اب تو وہ اعتراض کر کے دور جا پڑے اب وہ راہ حق پر نہ آئیں گے) ۔
Ayahs 25:11–14قیامت کے دن کافروں پر دوزخ کا غیظ و غضب، دوزخ کی تنگ جگہوں میں ڈالا جانا، اہل جنت کا جنت میں داخل ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ جی چاہی زندگی میں رہنا
مشرکین جو طرح طرح سے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتے تھے جس میں فرمائشی معجزات کا طلب کرنا بھی تھا اور یہ کہنا بھی تھا کہ آپ کی طرف خزانہ کیوں نہ ڈالا گیا اور آپ کے پاس کوئی باغ کیوں نہیں ہے جس میں سے آپ کھاتے پیتے، اس کے جواب میں فرمایا کہ اللہ پاک جو کثیر البرکات اور کثیر الخیرات ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اگر وہ چاہے تو آپ کو اس سے بہتر عطا فرما دے گا جن کا انہوں نے تذکرہ کیا ہے وہ چاہے تو آپ کو ایسے باغ عطا فرما دے جن کے نیچ نہریں جاری ہوں اور آپ کو محل عطا فرما دے لیکن وہ کسی کا پابند نہیں ہے کہ لوگوں کو اعتراضات کی وجہ سے کسی کو اموال عطا فرمائے وہ جو چاہتا ہے اپنی حکمت کے مطابق دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس کو دیتا ہے اس کے بعد معاندین کی ایک اور تکذیب کا ذکر فرمایا (بَلْ کَذَّبُوْا بالسَّاعَۃِ ) یعنی یہ لوگ نہ صرف آپ کی رسالت کے منکر ہیں بلکہ وقوع قیامت کے بھی منکر ہیں۔ اور یہ جو شبہات پیش کرتے ہیں ان کا سبب یہ ہے کہ ان کو آخرت کی فکر نہیں ہے آخرت کی بےفکری نے ان کو شرارت نفس پر آمادہ کر رکھا ہے جس کی وجہ سے طلب حق سے بعید ہو رہے ہیں آیت کے شروع میں جو لفظ بل لایا گیا ہے اس سے یہ مضمون واضح ہو رہا ہے (وَاَعْتَدْنَا لِمَنْ کَذَّبَ بالسَّاعَۃِ سَعِیْرًا) (اور جو شخص قیامت کو جھٹلائے ہم نے اس کے لیے دھکتی ہوئی آگ کا عذاب تیار کیا ہے) ۔
قیامت کے دن جب یہ لوگ حاضر ہوں گے تو دوزخ سے ابھی دورہی ہوں گے کہ دوزخ چیخے گی اور چلائے گی اس کی ہیبت ناک غصہ بھری آواز سنیں گے دوزخ کو اللہ تعالیٰ کے مبغوض لوگوں پر غصہ آئے گا اور اس کا یہ غیظ و غضب اس کی کڑی اور سخت آواز سے ظاہر ہوگا جیسے کوئی اونٹ کسی کی دشمنی میں بپھر جائے اور اس کا بدلہ لینے میں آواز نکالے اور جیسے ہی موقع ملے تو کچا چبا کر بھر تہ بنا دے۔
اول تو مکذبین اور معاندین کو دوزخ کا غیظ و غضب ہی پریشان کر دے گا جب اس میں ڈالے جائیں گے تو تنگ مکان میں پھینک دیئے جائیں گے۔
دوزخ اگرچہ بڑی جگہ ہے لیکن عذاب کے لیے دوزخیوں کو تنگ جگہوں میں رکھا جائے گا بعض روایات میں خود رسول اللہ ﷺ سے اس کی تفسیر منقول ہے کہ جس طرح دیوار میں کیل گاڑھی جاتی ہے اسی طرح دوزخیوں کو دوزخ میں ٹھونس دیا جائے گا (ذکرہ ابن کثیر ص 311 ج 3) دوزخ میں ڈالے جانے والوں کی صفت (مقرنین) بیان فرمائی جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا ہاتھ پاؤں بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔
سورة سبا میں فرمایا ہے (وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْٓ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ھَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْن) (اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے ان کو انہی اعمال کی سزا دی جائے گی جو وہ کرتے تھے) جب کفار دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے اور وہاں کا عذاب چکھیں گے تو ہلاکت کو پکاریں گے یعنی موت کو پکاریں گے اور یہ آرزو کریں گے کہ کاش موت آجاتی اور اس عذاب سے چھٹکارا ملتا ان سے کہا جائے گا۔ (لاَ تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّادْعُوْا ثُبُوْرًا کَثِیْرًا) (آج ایک موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں کو پکارو) یعنی یہ آرزو بےکار ہے کہ موت آجائے تو عذاب سے چھٹکارا ہوجائے ایک موت نہیں بلکہ بہت کثیر تعداد میں موتوں کو پکارو بہر حال موت آنے والی نہیں ہے اسی عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ رہو گے سورة فاطر میں فرمایا (لَا یُقْضٰی عَلَیْھِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْھُمْ مِّنْ عَذَابِھَا کَذٰلِکَ نَجْزِیْ کُلَّ کَفُوْرٍ ) (نہ ان کو قضا آئے گی کہ مر ہی جائیں اور نہ ان سے دوزخ کا عذاب ہلکا کیا جائے گا ہم ہر کافر کو ایسی ہی سزا دیں گے) ۔
Ayahs 25:15–16(قُلْ اَذٰلِکَ خَیْرٌ) (الآیۃ) یعنی آپ فرمادیجیے کہ یہ دوزخ اور اس کا عذاب بہتر ہے یا وہ جنت بہتر ہے جو ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ جنت متقیوں کو ان کے اعمال کی جزاء کے طور پر دی جائے گی اور یہ لوگ انجام کے طور پر اس میں جائیں گے وہی ان کا مقام ہوگا اور اسی میں رہیں گے صرف رہنا ہی نہیں ہے بلکہ اس میں بڑی بڑی نعمتوں سے سر فراز کیے جائیں گے وہاں جو چاہیں گے وہ عطا کیا جائے گا وہاں نفسوں کی خواہش کے مطابق زندگی گزاریں گے اور زندگی بھی ابدی اور دائمی ہوگی اس کے بر عکس کسی دوزخی کی کوئی بھی خواہش پوری نہیں کی جائے گی سورة سبا میں فرمایا۔
(وَ حِیْلَ بَیْنَھُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَھُوْنَ کَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِھِمْ مِّنْ قَبْلُ اِنَّھُمْ کَانُوْا فِیْ شَکٍّ مُّرِیْبٍ ) (اور ان کے اور ان کی خواہشوں کے درمیان آڑ کردی جائے گی جیسا کہ اس سے پہلے ان کے ہم مشرب کافروں کے ساتھ کیا گیا بلاشبہ وہ بڑے شک میں تھے جس نے ان کو تردد میں ڈال رکھا تھا)
مزید فرمایا (کَانَ عَلٰی رَبِّکَ وَعْدًا مَّسْءُوْلاً ) یہ جو جنت کی نعمتیں اہل تقویٰ کو دی جائیں گی اللہ تعالیٰ نے ان سے اس کا وعدہ فرمایا ہے اور اس کا پورا کرنا اپنے ذمہ کرلیا ہے اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے رہیں کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق ہمیں اپنے انعام سے نوازے۔ جیسا کہ سورة آل عمران میں (اُولُو الْاَلْبَابِ ) (عقلمندوں) کی دعاء نقل فرمائی ہے۔ (رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَاعَلٰی رُسُلِکَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ) (اے ہمارے رب اپنے رسولوں کی زبانی جو آپ نے ہم سے وعدہ فرمایا ہے اس کے مطابق ہمیں عطا فرما دیجیے اور قیامت کے دن ہمیں عطا فرما دیجیے اور قیامت کے دن ہمیں رسوانہ فرمائیے بیشک آپ وعدہ خلاف نہیں فرماتے) ۔
اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ فرمایا ہے وہ ضرور پورا ہوگا۔ اس کے پورا ہونے کی دعا کرنا شک کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی حاجت کا اظہار کرنے اور دعا کی فضیلت ملنے اور مناجات کی لذت حاصل کرنے کے لیے ہے۔
Ayah 25:17مشرکین جن کی عبادت کرتے تھے ان سے سوال و جواب، یہ لوگ مال و متاع کی وجہ سے ذکر کو بھول گئے روز قیامت عذاب میں داخل ہونگے وہاں کوئی مددگار نہ ہوگا
قیامت کے دن مشرکین بھی محشور ہونگے اور وہ معبود بھی موجود ہوں گے جن کی عبادت کر کے مشرک بنے۔
اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑ کر جن کی عبادت کی ان میں فرشتے بھی ہیں اور حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر ( علیہ السلام) بھی، اور اوثان و اصنام یعنی بت بھی ہیں ان سے اللہ تعالیٰ کا سوال ہوگا کہ یہ میرے بندے جنہوں نے شرک کیا اور تمہاری عبادت کی کیا تم نے انہیں گمراہ کیا یا یہ خود ہی گمراہ ہوگئے ؟ وہ اس کے جواب میں کہیں گے کہ اے اللہ آپ کی ذات پاک ہے۔ ہمیں یہ زیب نہیں دیتا کہ ہم آپ کو چھوڑ کر دوسروں کو ولی بنائیں ہم ان مشرکین سے دوستی رکھنے والے اور تعلق جوڑنے والے نہیں تھے ان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔
بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ جن سے مذکورہ بالا سوال و جواب ہوگا اس سے ملائکہ اور دیگر عقلاء مراد ہیں اور جن حضرات نے الفاظ عموم میں اصنام کو بھی شامل کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ اس دن اصنام کو بھی زبان دے دی جائے گی اور وہ بھی اپنے معبودوں سے برأت ظاہر کریں گے۔
جواب دینے والے کہیں گے کہ ہم نے ان کو گمراہ نہیں کیا آپ نے انہیں اور ان کے باپ دادوں کو مال و دولت عطا فرمایا یہ لوگ شہوتوں اور خواہشوں میں پڑکر آپ کی بھی یاد بھول گئے نہ تو خود ہدایت کے لیے فکر مند ہوئے اور نہ اللہ تعالیٰ کی کتابوں کی طرف دھیان دیا لہٰذا ہلاک ہونے والے بن گئے۔
Ayah 25:18قولہ تعالیٰ : (قوما بورا) ای ھالکین علی ان بورا مصدر و صف بہ الفاعل مبالغۃ او جمع بائر کعوذ جمع عائذ، قال ابن عباس ھالکین فی لغۃ عمان وھم من الیمن، وقیل بورا فاسدین فی لغۃ الازدو یقولون امر بائر ای فالد و بارت البضاعۃ اذا فسدت و قال الحسن بورا لاخیر فیھم من قولھم ارض بور ای متعطلۃ لانبات فیھا وقیل بورا عمیا عن الحق والجملۃ اعتراض تذییلی مقرر لمضمون ماقبلہ علی ماقال و ابو السعود۔
Ayah 25:19اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کی گئی ان سے مذکورہ بلا سوال ہوگا ان کا جواب نقل فرما کر ارشاد فرمایا (فَقَدْ کَذَّبُوکُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ فَمَا تَسْتَطِیعُوْنَ صَرْفًا وَلاَ نَصْرًا) اس میں اس خطاب کا ذکر ہے جو غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں سے ہوگا کہ تم جو ان کی عبادت کرتے تھے اور ان کے معبود ہونے کا دعویٰ کرتے تھے اسے تمہارے معبودین نے جھٹلا دیا اب تمہیں عذاب ہی میں جانا ہے عذاب دفع کرنے کی تمہارے پاس کوئی تدبیر نہیں ہے اور کوئی مدد کا راستہ بھی نہیں ہے نہ تم خود اپنی کوئی مدد کرسکتے ہو نہ کوئی تمہاری مدد کرسکتا ہے۔
مذکورہ سوال و جواب سے مشرکین کی بیوقوفی اور حماقت ظاہر ہوجائے گی دنیا میں جن لوگوں کی عبادت کرتے تھے وہ ان سے بیزاری ظاہر کریں گے۔ ان سے جو نفع کی امید کی تھی وہ منقطع ہوجائے گی۔
(وَّمَنْ یَّظْلِمْ مِنْکُمْ نُذِقْہُ عَذَابًا کَبِیْرًا) اس میں ان لوگوں سے خطاب ہے جو دنیا میں موجود ہیں کہ موت سے پہلے ایمان لے آؤ ظلم یعنی کفر کو چھوڑو جو شخص کفر پر مرجائے ہم اسے آخرت میں بڑا عذاب چکھا دیں گے۔
قال صاحب الروح و تفسیر الظلم بالکفر ھو المروی عن ابن عباس والحسن و ابن جریج وایدبان المقام یقتضیہ فان الکلام فی الکفر و عیدہٖ من مفتتح السورۃ
Ayah 25:20انبیاء کرام (علیہ السلام) کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے تھے تم میں بعض بعض کے لیے آزمائش ہیں
چند آیات پہلے مشرکین کا یہ قول گزرا ہے کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے یہاں ان کی باتوں کا جواب دے دیا کہ کھانا کھانا اور بازاروں میں چلنا پھرنا نبوت و رسالت کے خلاف نہیں ہے آپ سے پہلے جو پیغمبر بھیجے گئے وہ کھانا کھانے والے تھے اور بازاروں میں بھی آتے جاتے اور چلتے پھرتے تھے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے رسول بھیجے اور انہیں ان صفات سے متصف فرمایا جو رسول کی شان کے لائق تھیں اور جن کا صاحب رسالت کے لیے ہونا ضروری تھا ان صفات کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے کسی کو اپنے پاس سے یہ طے کرنے کا حق نہیں کہ صاحب نبوت میں فلاں وصف ہونا چاہئے جب اللہ تعالیٰ کے نزدیک نبی کی صفات و شرائط میں یہ نہیں ہے کہ کھانا نہ کھائے اور بازار میں نہ جائے تو تم اپنے پاس سے نبوت کی صفات کیسے طے کرتے ہو اور اس بنیاد پر کیسے تکذیب کرتے ہو کہ یہ کھانا کھاتے ہیں اور بازار میں جاتے ہیں انبیائے سابقین ( علیہ السلام) بشر تھے آنحضرت ﷺ بھی بشر ہیں کھانا پینا، بازار جانا بشریت کے تقاضوں میں سے ہے ان تقاضوں کو پورا کرنا نبوت و رسالت کی شان کے خلاف نہیں ہے۔
اس کے بعد فرمایا (وَجَعَلْنَا بَعْضَکُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَۃً ) (اور ہم نے تم میں سے بعض کو بعض کے لیے فتنہ یعنی امتحان کا ذریعہ بنایا ہے) اس فتنہ میں تنگدستی بھی ہے اور مالداری بھی، غریبوں کو دیکھ کر مالدار یوں کہتے ہیں کہ اگر یہ اللہ کے مقبول بندے ہوتے تو غریب کیوں ہوتے اور رسول ﷺ کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ رسول ﷺ ہوتے تو ان کے پاس خزانہ ہوتا۔ یا باغ ہوتا اس میں سے کھاتا پیتے، یہ سب باتیں مالداری کے کبر اور نخوت کی وجہ سے زبان سے نکلتی ہیں ان باتوں کو بہانہ بنا کر زمانہ نبوت کے مخالفین رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتے تھے تکذیب کرنے والوں کا مالدار ہونا اور اہل امتحان کا مالدار نہ ہونا ذریعہ امتحان ہے ایمان لانے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے مالدار ہونے کی شرط لگانا اپنے مالدار ہونے کی وجہ سے ہے خودغریب ہوتے تو ایسا نہ کہتے۔ یہ مضمون سورة الانعام کی آیت (وَ کَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْٓا اَھآؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنْ بَیْنِنَا) کے مضمون کے ہم معنی ہے جیسے فقراء مالداروں کے لیے فتنہ ہیں ایسے ہی مالدار بھی فقراء کے لیے فتنہ ہیں۔ صاحب روح المعانی نے آیت کی یہی تفسیر کی ہے وہ لکھتے ہیں و جعلنا اغنیاء کم ایھا الناس ابتلاء لفقرائکم لننظر ھل یصبرون ان تفسیر کی بنا پر اتصبرون کا تعلق ماقبل سے زیادہ واضح ہوجاتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کو مال نہیں دیا گیا ان کے لیے مالداروں کا وجود فتنہ ہے یعنی آزمائش ہے فقراء سے خطاب فرمایا اَتَصْبِرِوْنَ (کیا تم صبر کرتے ہو) یعنی تمہیں صبر کرنا چاہیے فالا ستفھام بمعنی الامر۔
(وَکَانَ رَبُّکَ بَصِیْرًا) (اور آپ کا رب دیکھنے والا ہے) فتنہ میں پڑنے والوں کو بھی دیکھتا ہے اور صبر کرنے والوں کو بھی جانتا ہے ہر ایک کو اس کی نیت اور اعمال کے مطابق جزاء دے گا۔
Ayah 25:21معاندین اور مکذبین کے لیے وعید، اصحاب جنت کے لیے خوشخبری
معاندین و مکذبین کی جاہلانہ باتوں میں سے ایک یہ بات بھی تھی کہ ہم رسالت کا دعویٰ کرنے والے کو اس وقت رسول مانیں گے جب فرشتوں کو اتار کر ہمارے سامنے لے آئے بلکہ اللہ تعالیٰ کو ہمیں دکھا دے اگر ایسا ہوجائے تو ہم ایمان لے آئیں گے یہ لوگ آخرت کے قائل نہیں تھے اس لیے ایسی باتیں کرتے تھے جس کا آخرت پر ایمان ہو وہ تو یہ سوچے گا کہ جو شخص نبوت کا مدعی ہے مجھے اس کی باتوں پر غور کرنا چاہئے جو معجزات پیش کیے ان پر کفایت کر کے ایمان لانا چاہئے جو لوگ آخرت کو مانتے ہی نہیں وہ لوگ ایسی بےتکی معاندانہ باتیں کرتے ہیں اسی لیے (وَقَالَ الَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ لِقَاءَنَا) فرمایا کہ یہ باتیں ان لوگوں کی ہیں جنہیں یہ امید نہیں ہے کہ قیامت کے دن پیشی ہوگی اور حق و ناحق کے فیصلے ہوں گے اور کفر کی سزا ملے گی اور اہل ایمان کو انعامات ملیں گے۔ یہاں معاندین کی دو باتیں نقل فرمائیں اول یہ کہ محمد ( رسول اللہ ﷺ واقعی رسول ہیں تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے آئیں جو ان کی تصدیق کردیں ان کے جواب میں فرمایا (لَقَدْ اسْتَکْبَرُوْا فِیْ اَنفُسِہِمْ ) کہ ان لوگوں نے اپنے نفسوں میں بڑا تکبر اختیار کیا صاحب روح المعانی لکھتے ہیں اوقعوا الا ستکبار فی شانھا و عدوھا کبیرۃ الشان یعنی انہوں نے اپنی جانوں کے بارے میں یہ سمجھ لیا کہ ان کے نفوس اتنے بڑے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ سکتے ہیں (وَعَتَوْا عُتُوًّا کَبِیْرًا) ( اور انہوں نے بڑی سر کشی اختیار کی) یعنی انہوں نے اپنے کو اس لائق سمجھا کہ فرشتے آکر ہمارے سامنے بیان دیں اور اپنے کو اس لائق سمجھا کہ اس دنیا میں رب جل شانہٗ کو دیکھ لیں یہ تکبر میں بہت آگے بڑھ گئے اور اپنے لیے وہ بات تجویز کی جس کے اہل نہیں ہیں۔
Ayahs 25:22–24پھر فرمایا (یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلآءِکَۃَ ) (الآیۃ) اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ وقت بھی آنے والا ہے جبکہ فرشتوں کو دیکھیں گے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا ہے اس سے موت کا دن مراد ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے قیامت کا دن مراد ہے مطلب یہ ہے کہ فرشتوں کو دیکھنے کا جو مطالبہ کر رہے ہیں اس کا وقوع بھی ہوجائے گا جب مرنے لگیں گے تو فرشتے نظر آجائیں گے لیکن اس وقت فرشتوں کی حاضری مکذبین کے حق میں نا مبارک ہوگی اس دن مجرمین یعنی مکذبین کے لیے کسی بھی طرح کی کوئی بشارت یعنی خوشخبری نہیں ہوگی موت کے وقت سے لے کر ابدالا باد ہمیشہ عذاب اور تکلیف میں رہیں گے جب قیامت کا دن ہوگا عذاب میں مبتلا ہوں گے اس وقت عذاب سے محفوظ ہونے کی دہائی دیتے ہوئے یوں کہیں گے (حِجْرًا مَّحْجُوْرًا) کہ کسی بھی طرح یہ عذاب روک دیا جائے اور یہ مصیبت ٹل جائے لیکن عذاب دفع نہیں ہوگا اور چیخ و پکار اور مصیبت ٹلنے کی دہائی ذرا بھی فائدہ مند نہ ہوگی۔
اور کافر لوگ دنیا میں بعض اعمال نیکیوں کے عنوان سے کرتے ہیں (اس میں راہبوں کی عبادات اور جوگیوں کی ریاضات بھی داخل ہیں) اس میں سے اگر کوئی چیز ایسی تھی جسے نیکی قرار دیا جاسکے جیسے صلہ رحمی وغیرہ تو کفر کی وجہ سے اس کا کچھ بھی ثواب نہیں ملے گا آخرت میں کافروں کے سارے اعمال اکارت اور باطل ہوں گے سورة ابراہیم میں فرمایا (مَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ اَعْمَالُھُمْ کَرَمَادِ نِ اشْتَدَّتْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا کَسَبُوْا عَلٰی شَیْءٍ ذٰلِکَ ھُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ ) (جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ان کے اعمال کی یہ حالت ہے جیسے راکھ ہو جسے تیز آندھی کے دن میں تیز ہوا اڑا کرلے جائے ان لوگوں نے جو اعمال کیے ان کا کچھ بھی ان کو حاصل نہ ہوگا یہ دور کی گمراہی ہے) ۔
یہاں سورة الفرقان میں کافروں کے اعمال کو (ھَبَآءً مَّنْثُورًا) فرمایا ھباء اس غبار کو کہتے ہیں جو کسی روشن دان سے اس وقت نظر آتا ہے جب اس پر سورج کی دھوپ پڑ رہی ہو یہ غبار اول تو بہت زیادہ باریک ہوتا ہے پھر کسی کام کا نہیں ہوتا ہاتھ بڑھاؤ تو ہاتھ میں نہیں آتانہ پینے کا نہ پوتنے کا، جس طرح یہ بےکار غبار روشن دان میں پھیلا ہوا نظر آتا ہے لیکن کام کا نہیں اسی طرح کافروں کے اعمال بھی بیکار ثابت ہوں گے اور ان کے حق میں ذرا بھی فائدہ مند نہ ہوں گے۔
یہ تو کافروں کا حال ہے اس کے بعد اہل جنت کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ارشاد فرمایا کہ یہ حضرات اس دن ایسی جگہ میں ہوں گے جو رہنے کی بہترین جگہ ہے اور آرام کرنے کے اعتبار سے نہایت عمدہ ہے لفظ مقیلا قال یقیل قیلولۃ سے ظرف کا صیغہ ہے دوپہر کو آرام کرنے کے لیے جو لیٹتے ہیں اس قیلولہ کہتے ہیں جنت میں نیند نہ ہوگی آرام کی جگہ ہونے کے اعتبار سے (اَحْسَنُ مَقِیْلًا) سے تعبیر فرمایا اسی کو سورة کہف میں (نِعْمَ الثَّوَابُ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا) فرمایا (کیا ہی اچھی آرام کی جگہ ہے) ۔
Ayah 25:25قیامت کے دن کا ہولناک منظر، کافر کی حسرت کہ کاش فلاں شخص کو دوست نہ بناتا
ان آیات میں قیامت کے دن کی سختی اور ہولناکی اور مصیبت کو بیان فرمایا ہے اول تو یہ فرمایا کہ آسمان بادلوں سے پھٹ جائے گا قیامت کے دن آسمان کا پھٹنا دوسری آیات میں بھی مذکور ہے۔ کمافی قولہ تعالیٰ (اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ ) و قولہ تعالیٰ (اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ ) اور یہاں لفظ بالْغَمَامِ کا بھی اضافہ ہے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ بظاہر آسمان سے یہی آسمان مراد ہے جو ہمارے اوپر سایہ فگن ہے اور الغمام سے سحاب معروف یعنی بادل مراد ہیں اور باء سببیت کے لیے ہے مطلب یہ ہے کہ اس دن آسمان بادلوں کے طلوع ہونے کے سبب پھٹ پڑے گا اور اس میں کوئی بعد نہیں اللہ تعالیٰ شانہٗ کو قدرت ہے کہ آسمان کو بادل کی وجہ سے اس طرح پھاڑ دے جیسے اونٹ کے کوہان کو چھری سے شق کردیا جاتا ہے پھر یہ بتایا ہے کہ باء صرف ملابست کے لیے بھی ہوسکتی ہے اس کا یہ معنی بتایا ہے کہ جس وقت آسمان پھٹ جائے گا اس وقت وہ اس حالت میں ہوگا اس پر بادل چھائے ہوئے ہوں۔
اس کے بعد حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے نقل ہے کہ السماء سے نہ صرف السماء الدنیا بلکہ سارے آسمان مراد ہیں۔ (روح المعافی ج 19 ص 9)
(وَنُزِّلَ الْمَلآءِکَۃُ تَنْزِیْلًا) (اور فرشتے عجیب طریقہ سے اتار دیئے جائیں گے ( جسے آج لوگ نہیں جانتے اس کے بعد حضرت ابن عباس ؓ سے ایک طویل روایت نقل کی ہے جو بظاہر اسرائیلات میں سے ہے۔ (روح المعافی ج 19 ص 9)
صاحب بیان القرآن لکھتے ہیں کہ یہ (آسمان کا پھٹنا) حساب شروع ہونے کے وقت ہوگا اس وقت آسمان کا پھٹنا صرف کھلنے کے طور پر ہوگا یہ وہ پھٹنا نہ ہوگا جو نفحہ اول کے وقت اس کے افناء کے لیے ہوگا کیونکہ نزول غمام کا وقت بعد نفحہ ثانیہ کے ہے جس وقت سب آسمان و زمین دو بارہ درست ہوجائیں گے۔
Ayah 25:26(الْمُلْکُ یَوْمَءِذٍ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ ) (آج کے دن صرف رحمن کی حکومت ہوگی) قیامت کے دن جب آسمان پھٹ جائے گا تو ساری بادشاہت ظاہری طور پر اور باطنی طور پر صرف اور صرف رحمن مجدہ ہی کے لیے ہوگی اس دن کوئی مجازی حاکم اور بادشاہ بھی نہ ہوگا، سورة غافر میں فرمایا :
(لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ ) (آج کس کی بادشاہت ہے ؟ اللہ ہی کے لیے ہے جو واحد ہے قہار ہے)
(وَکَانَ یَوْمًا عَلَی الْکٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا) (اور وہ دن کافروں پر سخت ہوگا)
Ayah 25:27(وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ ) (ای الآیات الثلث)
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ عقبہ بن ابی معیط لعنۃ اللہ علیہ جب بھی سفر سے آتا کھانا پکاتا اور اہل مکہ کی دعوت کرتا تھا اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ زیادہ اٹھتا بیٹھتا تھا آپ کی باتیں اسے پسند آتی تھیں ایک مرتبہ جب وہ سفر سے واپس آیا تو کھانا تیار کیا اور حضور اقدس ﷺ کو کھانے کی دعوت دی آپ ﷺ نے فرمایا میں تیرا کھانا نہیں کھا سکتا جب تک کہ تو لا الہ الا اللہ کی اور میرے رسول ہونے کی گواہی نہ دے اس نے پھر کھانے کو کہا آپ نے پھر وہی جواب دیا اس کے بعد اس نے شہادت کی گواہی دیدی اور آپ نے اس کا کھانا کھالیا اس واقعہ کی ابی بن خلف کو خبر ہوئی تو وہ عقبہ کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ اے عقبہ کیا تو بد دین ہوگیا (مشرکین مکہ شرک میں غرق ہونے کی وجہ سے دین توحید کو بد دینی سے تعبیر کرتے تھے والعیاذ باللہ) اس پر عقبہ نے کہا کہ میں دل سے (بد دین) تو نہیں ہوا لیکن بات یہ ہے کہ ایک شخص میرے گھر آیا میں نے اس سے کھانے کے لیے کہا کہ جب تک تو میرے کہنے کے مطابق گواہی نہ دے گا میں تیرا کھانا نہ کھاؤں گا مجھے یہ اچھا نہ لگا کہ ایک شخص میرے گھر آئے اور کھانا کھائے بغیر چلا جائے لہٰذا میں نے اس کے قول کے مطابق گواہی دیدی جس پر اس نے کھانا کھالیا اس پر ابی بن خلف نے کہا کہ میں اس وقت تک تجھ سے راضی نہیں ہوسکتا جب تک تو اس شخص کے پاس جا کر بد تمیزی والی حرکت نہ کرے چناچہ عقبہ آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور بد تمیزی سے پیش آیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو مجھے مکہ معظمہ سے باہر ملے گا تو میں تیری گردن مار دوں گا چناچہ غزوہ بدر کے موقع پر اس کی گردن مار دی گئی اس آیت میں ظالم سے عقبہ بن معیط اور فلان سے ابی ابن خلف مراد ہے مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن جب مشرکین عذاب میں مبتلا ہوں گے اس وقت ندامت و افسوس سے اپنے ہاتھوں کو دانتوں سے کاٹتے ہوئے یوں کہے گا (یَالَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا) کاش میں اللہ کے رسول کے ساتھ اپنا راستہ بنا لیتا
Ayah 25:28(یَاوَیْلَتِی لَیْتَنِی لَمْ اَتَّخِذْ فُلاَنًا خَلِیْلًا) (کہ میں فلاں کو یعنی ابی بن خلف کو اپنا دوست نہ بناتا)
Ayah 25:29(لَقَدْ اَضَلَّنِی عَنْ الذِّکْرِ بَعْدَ اِِذْ جَاءَنِی) (مجھے اللہ کے ذکر سے اس نے ہٹا دیا اس کے بعد کہ ذکر میرے پاس آگیا (یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے واسطہ سے جو میرے پاس اللہ کا ذکر آیا اور جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے نصیحت کی اور ان پر جو قرآن نازل ہوا وہ میں نے سنا میرے اس دوست نے مجھے اس سے روک دیا میں اسے دوست سمجھتا تھا لیکن وہ تو دشمن نکلا) ۔
(وَکَان الشَّیْطَانُ لِلْاِِنسَانِ خَذُولًا) (اور شیطان انسان کو بےیارو مددگار چھوڑنے والا ہے) اس جملہ میں دونوں احتمال ہیں۔ (1) یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو جس میں علی الا طلاق سب کو یہ بتادیا کہ شیطان سے دوستی کرنے کا انجام برا ہے خواہ کفر شرک اختیار کر کے اس کی دوستی اختیار کی جائے خواہ اس کے مشورہ سے معصیت کی زندگی اختیار کی جائے ہر حال میں شیطان دھوکہ دے گا اور عین ایسے وقت پر بےیارو مددگار چھوڑ کر علیحدہ ہوجائے گا جب مدد کی ضرورت ہوگی (2) یہ احتمال بھی ہے کہ مذکورہ جملہ ظالم ہی کے کلام کا تتمہ ہو۔
بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ ظالم سے مطلق کافر اور فلانا سے شیطان مراد ہے یہ پہلی بات کے معارض نہیں ہے سبب نزول چاہے خواہ خاص ہو الفاظ کا عموم چاہتا ہے کہ ہر کافر کہے گا کہ میں گمراہ کرنے والوں کو دوست نہ بناتا تو اچھا ہوتا۔
Ayah 25:30(وَقَال الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہْجُوْرًا) (اور رسول کا کہنا ہوگا کہ اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو نظر انداز کر رکھا تھا) اس آیت کریمہ میں یہ بتایا کہ قیامت کے دن جب کافر اور مشرک پچھتائیں گے کہ اے کاش ہم دنیا میں گمراہ کرنے والوں کو دوست نہ بناتے اور اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ﷺ پرک ایمان لے آتے اور آپ کے ساتھیوں میں شامل ہوجاتے اس وقت رسول اللہ ﷺ بھی ان کے خلاف گواہی دیں گے کہ اے میرے رب میری قوم یعنی امت دعوت نے قرآن کو بالکل نظر انداز کردیا تھا لہٰذا مشرکین اور کافرین کا جرم ان کے اقرار سے بھی ثابت ہوجائے گا اور آنحضرت ﷺ کی شہادت سے بھی الفاظ کے عموم میں وہ لوگ بھی داخل ہیں جو بظاہر اسلام کا نام لیتے ہیں لیکن سیاست اور معیشت اور حکومت اور معاشرت میں نہ صرف قرآن کے خلاف چلتے ہیں بلکہ قرآن کے احکام پر کافروں کے قوانین کو ترجیح دیتے ہیں اور اس پر مزید یہ ہے کہ حدود و قصاص کے احکام کو ظالمانہ بتاتے ہیں ایسی باتیں کرنے والے اگرچہ مدعی اسلام ہیں مگر اپنے اقوال ضلال اور اضلال کی وجہ سے اسلام سے خارج ہیں۔
بعض مفسرین نے فرمایا کہ الفاظ کے عموم میں وہ لوگ بھی داخل ہیں جو قرآن پڑھتے ہی نہیں اور وہ لوگ بھی داخل ہیں جو پڑھ لیتے ہیں لیکن کھول کر کبھی ہاتھ نہیں لگاتے
Ayah 25:31(وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ ) (اور اسی طرح ہم نے مجرم لوگوں میں سے ہر نبی کے لیے دشمن بنائے ہیں) یعنی یہ لوگ جو آپ کی مخالفت کر رہے ہیں کوئی نئی بات نہیں جس کا غم کیا جائے (وَکَفٰی بِرَبِّکَ ھَادِیًا وَّنَصِیْرًا) جس کو ہدایت دینا منظور ہو اس کے لیے آپ کا رب کافی ہے اور جو ہدایت سے محروم ہو اس کے مقابلہ میں آپ کی مدد کرنے کے لیے بھی آپ کا رب کافی ہے۔
Ayah 25:32قرآن کریم کو دفعۃً نازل نہ فرمانے میں کیا حکمت ہے
مشرکین مکہ اپنے عناد سے طرح طرح کے اعتراض تراشتے رہتے تھے انہیں اعتراضات میں سے ایک یہ اعتراض تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ جو یہ کہتے ہیں کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے اور یہ کلام جو تمہیں سناتا ہوں اللہ کا کلام ہے اور اللہ کی کتاب ہے اور اس نے یہ قرآن ایمان لانے کے لیے بھیجا ہے تو یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کیوں نازل ہوتا ہے بیک وقت ایک ہی ساتھ کیوں نازل نہیں ہوا ؟ ان لوگوں کا یہ اعتراض حماقت پر مبنی تھا جس کی کتاب ہے وہ جس طرح بھی نازل فرمائے اسے پورا اختیار ہے کذلک ای نزلناہ کذلک تنزیلا مغایرا لما اقترحوا النثبت بہ فؤادک (تاکہ ہم اس کے ذریعہ آپ کے دل کو تقویت دیں) اس میں تھوڑا تھوڑا نازل فرمانے کی حکمت بیان فرمائی اور وہ یہ کہ تھوڑا تھوڑا نازل کرنا آپ کے قلب مبارک کو تقویت دینے کا سبب ہے۔ صاحب روح المعانی ج 19 ص 15 لکھتے ہیں کہ تھوڑا تھوڑا نازل فرمانے میں حفظ کی آسانی ہے اور فہم معانی اور ان حکمتوں اور مصلحتوں کی معرفت ہے جن کی رعایت انزال قرآن میں ملحوظ رکھی گئی ہے پھر جبرائیل امین (علیہ السلام) کا بار بار آنا جو بھی کوئی چھوٹی یا بڑی سورت نازل ہو اس کا مقابلہ کرنے سے معترضین کا عاجز ہوجانا اور ناسخ اور منسوخ کو پہچاننا وغیرہ یہ سب آپ کے قلب کی تقویت کا سبب ہے۔
جب معترضین کوئی اعتراض اٹھاتے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کوئی نا گوار معاملہ کرتے تو اسی وقت آپ کو تسلی کے لیے آیت نازل ہوجاتی تھی اس سے آپ کو ہر بار تقویت حاصل ہوجاتی تھی اگر پورا قرآن ایک دفعہ نازل ہوگیا ہوتا تو یہ بار بار کی تسلی کا فائدہ حاصل نہ ہوتا واضح رہے کہ یہاں تدریجاً قرآن مجید نازل فرمانے کی ایک حکمت بتائی ہے اس کے علاوہ دوسری حکمتیں بھی ہیں۔
(وَرَتَّلْنَاہُ تَرْتِیْلًا) (اور ہم نے اس کو ٹھہر ٹھہر کر اتارا ہے) صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس کی تفسیر یوں نقل کی ہے کہ بیناہ بیانا فیہ ترسل کہ ہم نے اس قرآن کو واضح طور پر بیان کیا ہے اور وقفہ وقفہ سے نازل فرمایا ہے چناچہ پورا قرآن کریم تیئس سال میں نازل ہوا۔
Ayah 25:33اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی مزید تقویت قلب اور تسلی کے لیے ارشاد فرمایا (وَلاَ یَاْتُوْنَکَ بِمَثَلٍ ) (الآیۃ) کہ یہ لوگ آپ پر اعتراض کرنے کے لیے جو بھی عجیب بات پیش کریں گے اس کے مقابلہ میں ہم ضرور حق لے آئیں گے اور واضح طور پر صحیح جواب نازل کردیں گے جس سے ان کا اعتراض باطل ہوجائے گا اور قیل و قال کا مادہ ختم ہوجائے گا۔
Ayahs 25:34–37(الَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰی وُجُوْھِہِمْ ) (الآیۃ) اس آیت میں کافروں کا برا انجام بیان فرمایا اور وہ یہ کہ ان لوگوں کو چہروں کے بل گھسیٹ کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا اور اس میں پھینک دیا جائے گا وہ جگہ عذاب کے اعتبار سے بری جگہ ہے یہاں دنیا میں ان کو بتایا جاتا تھا کہ اپنی حرکتوں کی سزا میں برے عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے اور یہ کہ تم گمراہ ہو راہ حق سے ہٹے ہوئے ہو لیکن یہاں نہیں مانتے تھے وہاں عذاب میں مبتلا ہوں گے تو دونوں باتیں سمجھ میں آجائیں گی لیکن وہاں کا سمجھنا اور ماننا فائدہ مند نہ ہوگا۔
Ayahs 25:38–39نوح (علیہ السلام) کی قوم اور فرعون عاد وثمود اور اصحاب الرس کی بربادی کا تذکرہ مشرکین کی گمراہی اور بدحالی کا حال
ان آیات میں امم سابقہ کی تکذیب اور ہلاکت و تعذیب کا تذکرہ فرمایا ہے جو قرآن مجید کے مخاطبین کے لیے عبرت ہے اس کے بعد مشرکین مکہ کی شر پسندی کا تذکرہ فرمایا۔
ہلاک شدہ اقوام میں یہاں جن کا ذکر ہے ان میں اولاً فرعون اور اس کی قوم کا اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو غرق کردیا اور بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت بنا دیا۔ یہ ان کی دنیاوی سزا تھی اور آخرت میں ظالموں کے لیے عذاب الیم تیار فرمایا ہے اس کے بعد عاد اور ثمود اور اصحاب الرس کی ہلاکت کا تذکرہ فرمایا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا (وَقُرُوْنًام بَیْنَ ذٰلِکَ کَثِیْرًا) کہ ان کے درمیان میں اور بہت سی امتوں کو ہلاک فرما دیا۔ ان لوگوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان کی ہدایت کے لیے مثالیں یعنی موثر مضامین اور عبرت کی باتیں بیان کیں لیکن انہوں نے نہ مانا لہٰذا ہم نے ان کو بالکل ہی ہلاک کردیا۔
اس کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستی کا ذکر فرمایا جن بستیوں میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم رہتی تھی ان بستیوں کو ان لوگوں کی تکذیب اور شرمناک افعال کی وجہ سے پلٹ دیا گیا تھا اور ان پر پتھر بھی برسائے گئے تھے جس کا تذکرہ سورة اعراف اور سورة ھود میں گزر چکا ہے اہل مکہ سال میں دو مرتبہ تجارت کے لیے ملک شام جایا کرتے تھے اور ان بستیوں کے پاس سے گزرا کرتے تھے اور انہیں ان لوگوں کی بربادی کا حال معلوم تھا۔ اسی کو فرمایا (وَلَقَدْ اَتَوْا عَلَی الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ ) (بلاشبہ یہ لوگ اس بستی پر گزرے ہیں جس پر بری بارش برسائی گئی تھی) ہلاک شدہ بستیوں کو دیکھتے ہوئے یہ لوگ گزر جاتے ہیں اور کچھ بھی عبرت حاصل نہیں کرتے۔ اسی کو سورة صافات میں فرمایا (وَاِِنَّکُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْہِمْ مُصْبِحِیْنَ وَبِالَّیْلِ اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ) (بلاشبہ ضرور تم ان بستیوں پر صبح کے وقت اور رات کے وقت گزرتے ہو کیا تم سمجھ نہیں رکھتے) یہ متعدد بستیاں تھیں یہاں لفظ قریہ مفرد لایا گیا ہے جس میں مرکزی اور بڑی بستی کا ذکر ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لفظ القریہ جنس کے لیے لایا گیا ہو۔
Ayah 25:40(اَفَلَمْ یَکُوْنُوْا یَرَوْنَہَا) (کیا یہ لوگ ان بستیوں کو دیکھتے نہیں رہے) (بَلْ کَانُوْا لاَ یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا) یعنی یہ لوگ ان بستیوں پر گزرتے ہیں لیکن ان کا عبرت نہ پکڑنا بےعلمی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ مر کر جی اٹھنے کی امید ہی نہیں رکھتے یعنی آخرت کے منکر ہیں اور ہلاک شدہ بستیوں کو یوں ہی امور اتفاقیہ پر محمول کرتے ہیں اور اپنے کفر کو دنیا یا آخرت میں موجب سزا نہیں سمجھتے۔
جن لوگوں کو کفر کی وجہ سے ہلاک کیا گیا ہے ان میں اصحاب الرس کا ذکر بھی فرمایا الرس عربی میں کنویں کو کہتے ہیں یہ کنویں والے لوگ کون تھے کس علاقہ میں تھے ان کی طرف کس نبی کی بعثت ہوئی تھی ؟ اس بارے میں کوئی یقینی بات نہیں کہی جاسکتی صاحب روح المعانی نے ان کے بارے میں متعدد اقوال لکھے ہیں ایک قول یہ ہے کہ یہ لوگ یمامہ کی ایک بستی میں رہتے تھے جو قوم ثمود کے بقایا تھے اور ایک قول یہ ہے کہ شہر انطا کیہ (شام) میں ایک کنواں تھا یہ لوگ اس کنویں کے آس پاس رہتے تھے اور ایک قول یہ ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) اصحاب الایکہ اور اصحاب الرس دونوں قوموں کی طرف مبعوث ہوئے تھے یہ لوگ بتوں کی پرستش کرتے تھے ان کے بہت سارے کنویں تھے اور کثیر تعداد میں مویشی تھے انہیں اسلام کی دعوت دی تو سر کشی میں آگے بڑھتے چلے گئے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کو برابر ایذاء پہنچاتے رہے حتیٰ کہ ایک دن ایک کنویں کے چاروں طرف جمع تھے جو صرف کھودا ہی گیا تھا پکا نہیں بنایا گیا اس کنویں کی آس پاس کی زمین انہیں لے کر گرتی چلی گئی اور یہ لوگ اسی سے ہلاک ہوگئے ایک قول یہ ہے کہ اصحاب الرس سے اصحاب الاخدود مراد ہیں (جن کا سورة بروج میں ذکر ہے اور الرس سے اخدود یعنی خندق مراد ہے)