25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 25:1–11

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

وہ ذات بابکرت ہے جس نے اپنے بندہ پر فیصلہ کرنے والی کتاب نازل فرمائی تاکہ وہ جہانوں کا ڈرانے والا ہوجائے

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

اللہ کی وہ ذات ہے جس کے لیے ملک ہے آسمانوں اور زمین کا، اور اس نے کسی کو اپنی اولاد قرار نہیں دیا۔ اور حکومت میں اس کا کوئی شریک نہیں، اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا، پھر اس کا ٹھیک اندازہ مقرر فرمایا

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور لوگوں نے اسکے علاوہ معبود بنا لیے جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے اور حال یہ ہے کہ وہ پیدا کیے جاتے ہیں اور وہ اپنی جانوں کے لیے کسی ضرر اور کسی نفع کے مالک نہیں ہیں، اور نہ وہ کسی کی موت کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ حیات کا اور نہ کسی کو زندہ کرکے اٹھانے کا

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے کہا کہ یہ کچھ نہیں ہے صرف ایک جھوٹ ہے جسے اپنے پاس سے بنا لیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اس بارے میں اس کی مدد کی ہے، سو یہ لوگ بڑا ظلم اور جھوٹ لے کر آئے

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے کہا کہ یہ پرانے لوگوں کی باتیں ہیں جو منقول ہوتی چلی آئی ہیں جن کو اس نے لکھوا لیا ہے سو وہی صبح شام اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ اس کو اس ذات نے نازل فرمایا ہے جو چھپی ہوئی باتوں کو جانتا ہے آسمانوں میں ہوں یا زمین میں، بلاشبہ وہ بخشنے والا ہے مہربان ہے

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے کہا اس رسول کو کیا ہوا کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے اس پر کیوں نازل ہوا ایک فرتہ جو اس کے ساتھ ڈرانے والا ہوتا

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا اس کی طرف کوئی خزانہ ڈال دیا جاتا، یا اس کے پاس کوئی باغ ہوا جس میں سے کھاتا اور ظالموں نے کہا کہ تم ایسے ہی آدمی کا اتباع کرتے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

آپ دیکھ لیجئے انہوں نے آپ کے لیے کیسی عجیب عجیب باتیں بیان کی ہیں سو وہ گمراہ ہوگئے پھر وہ کئی راہ نہیں پائیں گے۔

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

بابرکت ہے وہ ذات جو اگر چاہے تو آپ کے لیے اس سے بہتر نعمتیں عطا فرمادے یعنی ایسے باغ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں اور آپ کے لیے محل بنا دے

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

بلکہ ان لوگوں نے قیامت کو جھٹلایا اور جو شخص قیامت کو جھٹلائے ہم نے اس کے لیے دہکتی آگ تیار کر رکھی یہ

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ تبارک تفاعل کے وزن پر ہے برکت سے۔ 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ آیت تبرک الذی نزل الفرقان علی عبدہ سے مراد یہ قرآن ہے جس میں اللہ کی حلال کردہ اور اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور اس کے شرائع اور دین کے احکام ہیں اللہ تعالیٰ نے فرق کردیا ہے حق اور باطل کے درمیان آیت لیکون للعالمین نذیرا یعنی اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا اللہ تعالیٰ سے ڈرانے والا بنا کر تاکہ وہ لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں اور ان واقعات سے ڈرائیں جو پہلی قوموں میں ہوئے آیت وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا اور اپنی مخلوق کی ہر چیز کے لیے اس کی تعداد بیان کی اور اس کے لیے ایک معلوم مقدار بنائی آیت واتخذوا من دونہ اٰلہۃ یعنی اس سیمراد وہ بت ہیں جن کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جاتی ہے آیت لایخلقون شیئا وہم یخلقون یعنی وہ اللہ تعالیٰ ہی خلاق اور رازق ہیں اور یہ بت بنائے جاتے ہیں اور وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے نہ نقصان دیتے ہیں نہ نفع دیتے ہیں اور نہ موت کے مالک ہیں اور نہ زندگی کے اور نہ دوبارہ اٹھانے کے مالک ہیں آیت وقال الذین کفروا ان ہذا یہ قول ہے عرب کے مشرکین کا آیت الا افک یعنی یہ قرآن وہ جھوٹ ہے، آیت افتراہ واعانہ علیہ یعنی اپنی اس بات پر اور وہ اپنے اس کام پر وہ جو ھٹا ہے، آیت قوم اٰخرون، فقد جاء و، آیت اور واقعی بات یہ ہے کہ وہ آئے، آیت ظلم اوزور، وقالو اساطیر الاولین، یعنی پہلے لوگوں کا جھوٹ اور ان کی باتیں، آی وقالو مال ہذا الرسول، یعنی کفار نے اس سے تعجب کیا کہ رسول ایسا ہے، آیت یا کل الطعام ویمشی فی السواق، لولا انزل الیہ ملک فیکون معہ نذیر، او یلقی الیہ کنز او تکون لہ جنۃ یا کل منہا یعنی کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے کیوں نہیں اس کی طرف فرشتہ اتارا گیا جو اس کے ساتھ ڈڑانے والا ہوتا اور اس کی طرف خزانہ دالا جاتا یا اس کے باگ ہوتا جس میں سے کھاتا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پر رد فرمادیا اور فرمایا آیت تبرک الذی ان شاء جعل لک خیر من ذلک، یعنی ان چیزوں میں سے بہتر عطا فرماتے جو کافروں نے کہا خزانوں میں سے اور باغات میں سے آیت جنت تجری من تحتہا الانہار، ویجعل لک قصورا یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ایسے باغات عطا فرماتا کہ جو شخص باغ میں داخل ہوگا تو ایسے محلات کو پائے گا جو نہ بوسیدہ ہوں گے اور نہ منہدم ہوتے۔ 3۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ قرآن مجید میں جہاں بھی افک کا لفظ ہے اس سے مراد جھوٹ ہے۔ 4۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واعانہ علیہ قوم اٰخرون، سے مراد ہے یہودی آیت فقد جاء و ظلما وزورا اور زورا سے مراد ہے جھوٹ 5۔ ابن اسحاق وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عتبہ شیبہ، ربیعہ کے بیٹے ابو سفیان بن حرب نضر بن حارث ابو البختری اسود بن المطلب زمعہ بن اسود ولید بن مغیرہ ابو جہل بن ہشام عبداللہ بن امیہ امیہ بن خلف عاص بن وائل نبیہ بن الحجاج اکٹھے ہوئے اور ان کے بعض نے بعض سے کہا محمد ﷺ کی طرف پیغام بھیجو اور ان سے بات کرو اور دلیل کے ساتھ اپنا مدعا بیان کرو یہاں تک کہ تم اس کے بارے میں اعتراض سے بری ہوجاؤ تو انہوں نے آپ کی طرف پیغام بھیجا کہ تیری قوم کے سردار تیرے لیے جمع ہوئے ہیں تاکہ وہ تجھ سے بات کریں رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے انہوں نے آپ سے کہا اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو اس لیے بلایا ہے تاکہ ہم پر کوئی اعتراض نہ رہے۔ اگر تو یہ دین اس کے لیے لایا ہے تاکہ تو اس کے ذریعہ مال کو طلب کرے تو ہم تیرے لیے اپنے مالوں میں سے جمع کردیتے ہیں اگر سرداری کو چاہتا ہے تو ہم تجھ کو سردار بنا دیتے ہیں اگر تو ملک چاہتا ہے تو ہم تجھ کو سردار بنا دیتے ہیں اگر تو ملک چاہتا ہے تو ہم تجھ کو بادشاہ بنا دیتے ہیں یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے اس سے کوئی غرض نہیں جو تم کہتے ہو جو چیز میں تمہارے پاس لایا ہوں اس کے ساتھ میں تمہارے مالوں کی کوئی طلب نہیں رکھتا ہوں اور نہ میں تم پر بادشاہ بننا چہتا ہوں لیکن اللہ نے مجھ کو تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور مجھ پر کتاب نازل فرمائی ہے اور مجھ کو حکم دیا ہے کہ میں تمہارے لیے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بن جاؤں میں نے تم کو اپنے رب کا پیغام پہنچادیا ہے میں تمہارے لیے مخلص ہوں اگر تم مجھ سے وہ حق کا پیغام قبول کرلو جو میں تمہارے پاس لے کر آیا ہوں تو دنیا اور آخرت تمہاری ہوگی اور اگر تم میری دعوت کو رد کردو تو میں اللہ کا حکم آنے تک صبر کروں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ فرمائیں گے قریش کے سرداروں نے کہا اے محمد ﷺ اگر تو ہم سے کوئی چیز کو بھی قبول کرنے والا نہیں ہے تو ان چیزوں میں سے جو ہم نے پیش کیں تو اپنے رب سے سوال کر کہ وہ تیرے ساتھ کوئی فرشتہ بھیج دے تو تیری تصدیق کرے ان باتوں کی جو تو کہتا ہے اور ہم کو تیری جانب سے جواب دے اور اپنے رب سے اپنے لیے باغات اور سونے اور چاندی کے محلات کا سوال کر جو تم چاہتے ہو اس اس بارے میں یہ چیزیں تم کو نفع دیں کیونکہ آپ بازر جاتے ہیں اور روزی کو تلاش کرتے ہیں جیسے ہم اس کو تلاش کرتے ہیں یہاں تک کہ ہم تیری فضیلت کو اور اللہ کے ہاں تیری قدر ومنزلت کو پہچان لیں اگر تو رسول ہے جیسے تو گمان کرتا ہے رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا میں ایسا کرنے والا نہیں ہوں میں اپنے رب سے ان چیزوں کا سوال نہیں کرتا اور نہ مجھے اس مقصد کے لیے بھیجا گیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ان باتوں کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی۔ آتی وقالوا مال ہذا الرسول یا کل الطعام “ سے لے کر آیت وجعلنا بعضکم لبعض فتنۃ اتصبرون وکان ربک بصیر، یعنی میں نے تم میں سے بعض کو بعض کے لیے آزمائش بنایا تاکہ تم صبر کرو اگر میں چاہوں کہ میں اپنے رسول کے ساتھ دنیا کو بنا دوں اور اس کے باعث تم اس کی مخالفت نہ کروگے تو میں البتہ ایسا کردیتا لیکن میں نے اپنے رسول کو دنیا نہیں دی۔ 6۔ ابن المنذر نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقال الظلومن ان تتبعون سے ولید بن مغیرہ اور اسکے ساتھ دار الندوہ والے مراد ہیں۔ 7۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت انظر کیف ضربوا لک الامثال فضلوا فلا یستطیعون سبیلا، کے بارے میں روایت کیا کہ وہ کوئی نکلنے کا ایسا راستہ نہیں پاتے جو ان کو نکال دے ان مثالوں سے جو تیرے لیے بیان کی گئیں آیت تبارک الذی ان شاء جعل لک خیرا من ذلک جنت تجری سے مراد ہیں باغات آیت ویجعل لک قصورا یعنی ایسے مکانات جو مضبوط بنائے گئے ہوں قریش پتھروں سے بنا ہوا گھر دیکھتے تھے تو اسے محل کہتے۔ 8۔ الواحدی وابن عساکر من طریق جو یبر ضحاک سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب مشرکین نے رسول اللہ ﷺ کو فاقہ تنگدستی کی عار دلائی اور انہوں نے کہا مال ہذا لارسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق۔ تو رسول اللہ ﷺ غمگین ہوئے تو جبرئیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور فرمایا آپ کے رب آپ کو سلام فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں آیت وما ارسلنا قبلک من المرسلین الا انہم لیاکلون الطعام ویمشون فی السواق، یعنی آپ سے پہلے ہم نے جو رسول بھیجے وہ کھاناکھاتے تھے اور بازاروں میں بھی جاتے تھے، جو آپ کے پاس رضوان جنتوں کا منتظم آیا اور اس کے ساتھ نور کی ایک ٹوکری تھی جو جگ مگ کر رہی تھی۔ اس نے کہا یہ دنیا کے خزانوں کی چابیاں ہیں نبی ﷺ تواضح اختیار کریں آپ نے فرمایا اے رضوان مجھے ان خزانوں کی کوئی حاجت نہیں، آواز دی گئی اپنی نظر کو اوپر اٹھائیے آپ نے اوپر اٹھایا اچانک آسمانوں کے دروازے عرش تک کھول دئیے گئے۔ اور جنات عدن کو ظاہر کردیا گیا آپ نے انبیاء کی منازل کو دیکھا اور ان کو پہچان لیا اور اچانک آپ کی منزل انبیاء کی منازل سے بلند تھی آپ نے فرمایا میں اسی پر راضی ہوں اور انہوں نے خیال کیا کہ آیت تبرک الذی ان شاء جعل لک خیر من ذلک رضوان فرشتہ لایا تھا۔ 9۔ الفریابی وابن ابی شیبہ فی المصنف وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے خیثمہ (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ سے پوچھا گیا اگر آپ چاہیں تو ہم آپ کو زمین کے خزانے اور اس کی چابیاں عطا کردیں جو آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں عطا کی گئیں اور آپ کے بعد کسی کو عطا نہیں کی جائیں گی اور یہ چیز اس اجر میں کوئی کمی نہیں کرے گی۔ جو اللہ کے پاس آپ کے لیے موجود ہے اور اگر آپ چاہیں تو ہم ان کو آپ کے لیے آخرت میں جمع کردیں آپ نے فرمایا ان کو میرے لیے آخرت میں جمع کردیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت تبرک الذی ان شاء جعل لک خیر من ذلک جنت تجری من تحتہا الانہر ویجعل لک قصور۔ رسول اللہ ﷺ کی دنیا سے بےرغبتی 10۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے درمیان جبریل (علیہ السلام) نبی ﷺ کے پاس موجود تھے اچانک فرمایا یہ فرشتہ جو لٹک رہا ہے آسمان سے زمین کی طرف اس سے پہلے وہ زمین کی طرف کبھی نازل نہیں ہوا۔ اس نے اپنے رب سے آپ کی زیارت کے لیے اجازت لی ہے تو اس کے لیے اجازت دے دی گئی۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ آپہنچا اور اس نے کہا یارسول اللہ آپ پر سلام ہو آپ نے فرمایا اور تجھ پر بھی سلام ہو اس فرشتے نے کہا اللہ تعالیٰ آپ کو خبر دے رہے ہیں کہ اگر آپ چاہیں تو وہ آپ کو ہر چیز اور ہر چیز کی چابیاں دے دیں آپ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں دی اور نہ آپ کے بعد کسی کو دیں گے اور آپ سے کمی نہیں کریں گے ان چیزوں میں سے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ذخیرہ کردی ہیں آپ نے فرمایا نہیں بلکہ ان دونوں کو جمع کردو میرے لیے آخرت میں تو یہ آیت تبرک الذی انشاء جعل لک خیر من ذلک نازل ہوئی۔
Ayah 25:12

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

جب وہ انہیں دور سے دیکھے گی تو وہ اس کی غضبناک اور جوش و خروش والی آوازیں سنیں گے

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذا رأتہم من مکان بعید سے مراد ہے کہ جہنم سو سال کی مسافت سے ان کو دیکھے گی۔ 2۔ الطبرانی وابن مردویہ من طریق مکحول ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا تو اس کو چاہیے کہ جہنم کی آنکھوں کے درمیان اپنی جگہ بنا لے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا جہنم کی آنکھیں ہوں گی فرمایا ہاں، کیا تم نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اذا رأتہم من مکان بعید وہ ان کو نہیں دیکھے گی مگر اپنی آنکھوں سے۔ 3۔ عبدبن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم من طریق خالد بن دریک صحابہ کرام ؓ میں سے ایک صحابی سے روایت کہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے میری طرف ایسی بات منسوب کی جو میں نے کہی یا اس نے اپنی نسبت اپنے والدین کے علاوہ کسی اور کی طرف کی کہ میں فلاں کا بیٹا ہوں اور اپنے مولی کے علاوہ دوسرے کو اپنا مولی بنایا تو اس کو چاہیے کہ اپنی جگہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان بنا لے پوچھا گیا یا رسول اللہ ! کیا اس کی آنکھیں ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تم نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا۔ آیت اذا رأتہم من مکان بعید۔ 4۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے بسند صحیح ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آدمی گھسیٹا جائے گا آگ کی طرف تو وہ اس کے لیے خچر جیسی آواز نکالے گی۔ پھر وہ ایک سانس اندر لے جائے گی تو کوئی نہیں بچے گا مگر وہ ڈر جائے گا اور بلاشبہ دوزخ میں سے ایک آدمی کی لمبائی اتنی ہوگی کہ کانوں کی لو اور اس کے کندھوں کے درمیان ستر سال کا فاصلہ ہوگا اور جہنم میں پیپ کی وادیاں ہوں گی جس کو ایک پیمانہ میں ڈال دیا جائے گا پھر اسے اس کے منہ میں انڈیل دیا جائے گا۔ 5۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذروابن ابی حاتم نے عبید بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت سمعوا لہا تغیظا وزفیرا سے مراد ہے کہ جہنم ایک سانس لے گی کہ کوئی مقرب فرشتہ اور نبی مرسل باقی نہیں رہے گا کہ اس کے کندھے اور چھاتی کے درمیان کا حصہ کانپنے لگے گا یہاں تک کہ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جائیں گے اور کہیں اے میرے رب میں آج کے دن کسی کے حق میں سوال نہیں کرتا مگر اپنی ذات کے لیے۔ 6۔ ابن وہب نے الاھوال میں عطاف بن خالد (رح) سے روایت کیا کہ جہنم کو اس دن لایا جائے گا اس حال میں کہ اس کا بعض حصہ بعض کو کھا رہا ہوگا اس کو ستر ہزار فرشتے کھینچ رہے ہوں گے جب جہنم لوگوں کو دیکھے گی اسی کو فرمایا آیت اذا رأتہم من مکان بعید سمعوا لہا تغیظا وزفیرا۔ جو ایک سانس لے گی تو نہیں باقی بچے گا کوئی نبی اور نہ کوئی صدیق مگر وہ اپنے گھٹنے کے بل بیٹھ جائے گا اور کہے گا اے میرے رب مجھے بچا لے اے میرے رب مجھے بچالے اور رسول اللہ ﷺ فرمائیں گے میری امت میری امت (کو بچائیے) 7۔ ابو الشیخ فی العظمۃ مغیث بن سمی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی پیدا کی ہے وہ صبح وشام جہنم کی آواز کو سنتی ہے مگر انسان اور جنات نہیں سنتے جن پر حساب اور سزا ہوگی۔ 8۔ آدم بن ابی ایاس نے اپنی تفسیر میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا آیت اذا رأتہم من مکان بعید سے مراد ایک سو سال کی مسافت ہے اور وہ یوں ہوگا کہ جہنم کو ستر ہزار لگاموں کے ساتھ لایا جائے گا اور ہر لگام کو ستر ہزار فرشتے پکرے ہوں گے اگر اس کو چھوڑدیا جائے تو وہ ہر نیک اور بدکار پر غالب آجائے۔ آیت سمعوا لہا تغیظا وزفیرا یعنی وہ ایک سانس لے گی تو آنسوؤں میں سے کوئی قطرہ بھی نہ ہوگا مگر وہ جلدی سے باہر نکل پڑے گا پھر دوسری مرتبہ سانس لے گی تو دل اپنی جگہ چھوڑدیں گے اور دل اوپر والی ہنسلی تک جا پہنچیں گے۔ 9۔ ابو نعیم فی الحلیۃ کعب ؓ سے روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ پہلوں اور پچھلوں کو ایک چٹیل میدان میں جمع فرمائیں گے اور فرشتے صف باندھ کر نازل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ جبرئیل سے فرمائیں گے جہنم کو لے آؤ تو اس کو ستر ہزار لگاموں کے ساتھ کھینچا جا رہا ہوگا۔ یہاں تک کہ جب تک کہ مخلوق سے سو سال کی مسافت ہوگی تو وہ ایک مرتبہ سانس لیے تو مخلوق کے دل اڑ جائیں گے پھر وہ دوسری مرتبہ سانس لے گی تو کوئی مقرب فرشتہ اور نبی مرسل باقی نہیں رہے گا مگر وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ جائے گا پھر تیسری مرتبہ سانس لے گی تو دل ہنسلی کی ہڈی تک پہنچ جائیں گے۔ خوف کی وجہ سے اور عقل زائل ہوجائے گی۔ اور ہر آدمی جلدی کرے گا اپنے عمل کی طرف۔ یہاں تک کہ ابراہیم (علیہ السلام) فرمائیں گے میرے خلیل ہونے کا واسطہ میں آپ سے صرف اپنی نجات کا سوال کرتا ہوں اور موسیٰ کہیں گے میری ہم کلامی کے شرف کے وسیلے سے صرف اپنی بخشش کا سوال کرتا ہوں اور عیسیٰ (علیہ السلام) فرمائیں گے جس طرح سے تو نے مجھے جنا اور محمد ﷺ فرمائیں گے میری امت میری امت (کو بچائیے) میں آج کے دن اپنی ذات کے بارے میں سوال نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس کا جواب دیں گے میرے دوست تیری امت میں سے آج ان پر کوئی خوف اور کوئی غم نہیں ہوگا۔ مجھے اپنی عزت کی قسم میں ضرور ٹھنڈا کروں گا۔ تیری آنکھ کو تیری امت کے بارے میں پھر فرشتے اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے انتظار کریں گے جو ان کو حکم دیا جائے گا۔
Ayahs 25:13–14

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب وہ اس میں ایسی حالت میں ڈالے جائیں گے کہ ان کے ہاتھ پاؤں جکڑے ہوئے ہوں گے تو وہ وہاں ہلاکت کو پکاریں گے

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

آج ایک ہلاکت کو مت پکارو اور بہت سی ہلاکتوں کو پکارو

1۔ ابن ابی حاتم نے یحییٰ بن اسید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت واذا القو منہا مکانا ضیقا سے مراد ہے جیسے نیزے کا پچھلا حصہ نیزے میں ہوتا ہے۔ جہنم جہنمیوں کے لیے تنگ ہوگی 3۔ ابن المبارک نے الزہد میں وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بتایا گیا کہ عبداللہ ؓ فرمایا کرتے تھے کہ جہنم کافر پر ایسی تنگ کردی جائے گی جیسے نیزے کے نچلے حصے کا لوہا نیزے پر تنگ ہوتا ہے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ مقرنین سے مراد ہے کہ ان کے ہاتھ پاؤں جکڑے ہوئے ہوں گے۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ دعوا ہنالک ثبورا سے مراد ہے کہ و ہلاکت کو پکاریں گے اور کہیں گے ہائے ہماری ہلاکت ہائے ہماری ہلاکت ان سے کہا جائے گا آج کے ایک ہلاکت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی ہلاکتوں کو پکارو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے آگ کا حلہ ابلیس کو پہنایا جائے گا وہ اس کو اپنے آبروں پر رکھے گا اور وہ اس کو اپنے پیچھے سے گھسیٹے گا اور اس کی ذریت اس کے بعد ہوگی اور وہ پکار رہا ہوگا ہائے ہلاکت اس پر پیروکار کہیں گے ہائے ان کی ہلاکت یہاں تک کہ آگ پر کھڑے ہو کر کہے گا ہائے ہلاکت اور اس کے پیروکار کہیں گے ہائے ان کی ہلاکت پھر ان سے کہا جائے گا آیت لا تدعوا الیوم ثبورا واحد وادعوا ثبورا کثیرا (یعنی اب تم ایک ہلاکت کو نہ پکارو بہت سی ہلاکتوں کو پکارو۔ 7۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت دعوا ہنالک ثبورا سے مراد ہے خرابی اور ہلاکت۔
Ayahs 25:15–16

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ یہ بہتر ہے یا ہمیشہ کی رہنے والی جنت بہتر ہے جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے یہ جنت ان کے لیے بطور بدلہ عطا کی جائے گی اور ان کا ٹھکانہ ہوگی۔

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

اور ان کے لیے اس میں وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے اس میں ہمیشہ رہیں گے یہ آپ کے رب کا وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اس نے اپنے ذمہ لیا ہے جس کی درخواست کرنی چاہیے۔

1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کانت لہم جزاء یعنی ان کے لیے جزاء ہوگی اللہ کی طرف سے آیت ” ونصیرا “ اور ٹھکانہ ہوگا۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے عطاء بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ کعب احبار ؓ نے فرمایا کہ جو شخص مرگیا اور وہ شراب پیتا تھا تو اس کو آخرت میں نہیں پی سکے اگرچہ وہ جنت میں داخل ہوجائے عطاء نے کہا کہ میں نے اس سے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لہم فیہا مایشاؤن یعنی ان کے لیے وہ ہوگا جو وہ چاہیں گے۔ کعب نے فرمایا کہ وہ اس کو بھول جائے گا اور اس کو یاد بھی نہیں کرے گا۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت کان علی ربک وعدا مسؤلا سے مراد ہے کہ تم سوال کرو جو تم وعدہ دئیے جاتے تھے تمہارے لیے اس وعدہ کو پورا کیا جائے گا۔ 4۔ ابن ابی حاتم والبیہقی سعید بن سدی کے طریق سے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ آیت کان علی ربک وعدا مسؤلا سے مراد ہے کہ فرشتے ان کے لیے سوال کریں گے اس بارے میں جیسے فرمایا آیت ربنا وادخلہم جنت عدن ن التی وعدتہم۔ سعید نے کہا اور میں نے ابو حازم کو یہ فرماتے ہوئے سنا جب قیامت کا دن ہوگا تو مومن کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے تیرے لیے عمل کیا جو تو نے ہم کو حکم کیا اب پورا کردیجے جو آپ نے ہم سے وعدہ کیا تھا اسی کو فرمایا آیت وعدا مسؤلا۔
Ayahs 25:17–19

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور یاد کرو جس دن اللہ تعالیٰ انہیں جمع فرمائے گا اور ان کو بھی جن کی وہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کا سوال ہوگا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا یا وہ خود ہی گمراہ ہوگئے

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ آپ کی ذات پاک ہے ہمارے لیے یہ درست نہیں ہے کہ ہم آپ کے علاوہ دوسروں کو اولیاء بنا لیں لیکن بات یہ ہے کہ آپ نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو نعمتیں دیدیں یہاں تک کہ وہ ذکر کو بھول گئے اور وہ لوگ ہلاک ہونے والے تھے

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

سو انہوں نے تمہاری بات کو جھٹلا دیا سو تم کسی بھی طرح عذاب دفع نہیں کرسکتے اور نہ کسی طرح کی مدد پاسکتے ہو اور تم میں سے جو شخص ظلم کرے گا ہم اسے بڑا عذاب چکھائیں گے

1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویوم یحشرہم وما یعبدون من دون اللہ فیقول ا انتم اضللتم عبادی سے مراد ہے کہ عیسیٰ اور عزیر اور فرشتے (علیہم السلام) سے یہ سوال کیا جائے گا۔ 2۔ الحاکم وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ عبداللہ بن غنم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے معاذ بن جبل ؓ کے اس قول آیت ” ماکان ینبغی لنا ان نتخذ من دونک من اولیاء “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا میں نے نبی ﷺ کو یوں پڑھتے وہئے سنا آیت ان نتخذ نون کے نصب کے ساتھ پھر میں نے ان سے آیت الم غلب الروم کے بارے میں پوچھا کہ غلبت معروف کا صیغہ ہے یا مجہول کا۔ تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یوں پڑھایا ہے آیت غلبت الروم 3۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیک آدمی نے علقمہ ؓ کے پاس یوں پڑھا آیت ماکان ینبغی لنا ان نتخذ من دونک نون کے رفع اور خاء کے نصب کے ساتھ تو علقمہ نے فرمایا آیت ” ان نتخذ نون کے نصب اور خاء کے زیر کے ساتھ ہے یعنی معروف کا صیغہ ہے۔ 4۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا ماکان ینبغی لنا ان نتخذ من دونک نون کے رفع اور خاء کے نصب ساتھ (یعنی مجہول کے صیغہ کے ساتھ) 5۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت قالو سبحنک ماکان ینبغی لنا ان نتخذ من دونک من اولیا کے بارے میں روایت کیا کہ یہ قول معبودوں کا ہے، آیت ولکن متعتہم واٰباء ہم حتی نسوا لذکر وکانو قوم بورا میں بورا سے مراد ہے تباہ ہونے والا اور بلاشبہ جو قوم اللہ کے ذکر کو کبھی بھول گئی تو وہ تباہ و برباد ہوگئی۔ 6۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” قوما بورا سے مراد ہے ہلاک ہونے والے۔ 7۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے اللہ کے اس قول آیت ” قوما بورا “ کے بارے میں پوچھاتو انہوں نے فرمایا اس کا معنی ہے ہلاک ہونے والے عمان کی لغت میں اور وہ یمن سے تھے پھر پوچاھ کی اعرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا یہ قول نہیں سنا وہ کہتا ہے۔ فلا تکفر واما قد صنعنا الیکم و کافر بہ فالکفر پور لصانعہ ترجمہ : اس کی ناشکری نہ کرو جو کچھ ہم نے تمہارے ساتھ کیا ہے بےناشکری کرنے والے کے لیے ہلاکت ہے 8۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ البورا عمان کا کلام ہے۔ 9۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” بورا “ سے مراد ہے سخت دل جس میں کوئی چیز نہیں ہوتی۔ 10۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت قوما بورا سے مراد ہے ہلاک ہونے والے آیت فقد کذبوکم بما تقولون یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو عیسیٰ عزیر اور فرشتوں کی عبادت کرتے تھے جب انہوں نے کہا اے اللہ تیریزذات پاک ہے تو ہی ہمارا پروردگار ہے ان کے علاوہ اور واقعی بات یہ ہے کہ انہوں نے تمہاری تکذیب کردی جو تم کہتے تھے عیسیٰ عزیر (علیہ السلام) اور فرشتوں کے بارے میں جب انہوں نے مشرکین کو جھٹلایا اپنی اس بات کے ساتھ پھر فرمایا آیت فما تستطیعون صرفا ولا نصرا یعنی مشرکین طاقت نہیں رکھتے عذاب کو بنانے کی اور نہ اپنی مدد کرنے کی۔ 11۔ ابن ابی حاتم نے وہب بن منہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے بہتر کتابیں پڑھیں جو آسمانوں سے نازل ہوئی جو آسمانوں سے نازل ہوئیں میں نے کسی کتاب کو نہیں سنا قرآن مجید سے بڑھ کر جس میں ظلم پر تو عتاب کیا گیا ہو اور یہ اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے جان لیا کہ اس امت کا فتنہ یعنی آزمائش ظلم میں ہوگا اور جہاں تک دوسری کتابیں ہیں تو ان میں زیادہ عتاب شرک اور بت پرستی کے بارے میں ہے۔ 12۔ عبدالرزاق وابن جریر نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن یظلم منکم میں ظلم سے مراد ہے شرک 13۔ ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ومن یظلم منکم “ یعنی تم میں سے جو شرک کرے گا۔
Ayah 25:20

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور بات یہی ہے کہ آپ سے پہلے جو پیغمبر ہم نے بھیجے وہ کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے تھے اور ہم نے تم میں سے بعض کو بعض کے لیے امتحان بنایا ہے کیا تم صبر کرتے ہو ؟ اور آپ کا رب دیکھنے والا ہے

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت وما ارسلناقبلک من المرسلین الا انہم لیاکلون الطعام ویمشون فی الاسواق کے بارے میں روایت کیا کہ محمد ﷺ سے پہلے بھی رسول کہ آیت لیاکلون النطعام ویمشون فی الاسواق وجعلنا بعضکم لبعض فتنۃ کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے تھے اور ہم نے تمہارے بعض کو بعض کے لیے آزمائش بنادیا۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن لمنذر وابن ابی حاتم والبیہقی فی الشعب حسن (رح) سے آتی وجعلنا بعضکم لبعض فتنۃ کے بارے میں روایت کیا کہ فقیر کہتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو مجھے فلاں کی طرح مالدار بنادیتے اور بیمار کہتا ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو مجھے فلاں کی طرح صحت مند بنا دیتے اور اندھا کہتا ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو مجھے فلاں کی طرح دیکھنے والا بنا دیتے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے آتی وجعلنا بعضکم لبعض فتنۃ کے بارے میں روایت کیا کہ فتنہ کا معنی دنیا میں ایک دوسرے پر فضیلت اور قدرت کا اظہار کرنا ہے رزق میں تنگی وفراخی اللہ کی طرف سے ہے 4۔ ابن جریر وابن المنذر وابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجعلنا بعضکم لبعض فتنۃ فتنہ سے مراد رزق تنگ کردیتا ہے اور دوسرے پر رزق وسیع کردیتا ہے اور وہ کہتا ہے میرے رب نے مجھے نہیں دیا جو فلاں کو دیا اور کسی انسان کو تکلیف میں مبتلا کرتا ہے وہ کہتا ہے کہ مجھے میرے رب نے فلاں کی طرح تندرست نہیں بنایا اور اس قسم کی آزمائش میں اسے ڈالا جاتا ہے تاکہ وہ جان لیں کون صبر کرتا ہے ان لوگوں میں سے جو جزع فزع کرتا ہے آیت وکان ربک بصیرا یعنی کون صبر کرتا ہے اور کون جزع فزع کرتا ہے 5۔ ابن ابی شیبہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو تم سب کو مالدار بنا دیتے تم میں سے کوئی فقیر نہ ہوتا اور اگر اللہ چاہتے تو تم سب کو فقیر بنا دیتے کوئی تم میں سے مالدار نہ ہوتا لیکن تمہارے بعض کو بعض کے ساتھ آزماتا ہے۔ 6۔ الحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں رفاعہ بن رافع ازرقی (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یارسول اللہ ہمارے گلاموں کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں کہ وہ مسلمان قوم ہیں ہماری نماز کی طرح نمازیں پڑھتے ہیں اور ہمارے روزوں کی طرح روزے رکھتے ہیں ہم ان کو مارتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان کے گناہوں اور تمہاری سزا کا وزن کیا جائے گا۔ اگر تمہاری سزا ان گناہوں سے زیادہ ہوگی تو تم سے بدلہ لیا جائے گا پھر اس نے پوچھا ہم ان کو جو گالیاں دیتے ہیں اس کے بارے میں ہم کو بتایا جائے فرمایا ان کے گناہوں اور تمہاری سزا کا وزن کیا جائے گا۔ اگر تمہاری سزا ان گناہوں سے زیادہ ہوگی تو تم سے بدلہ لیا جائے گا۔ اس آدمی نے کہا میں نے کسی ایسے دشمن کے بارے میں نہیں سنا جو غلاموں سے بڑھ کر میرے قریب ہو تو رسول اللہ ﷺ نے یہ آتی وجعلنا بعضکم لبعض فتنۃ اتصبرون وکان ربک بصیرا۔ تلاوت فرمائی اس آدمی نے کہا یا رسول اللہ میری اولاد کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں کہ میں ان کو مارتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ بلاشبہ تیری اولاد کے بارے میں تجھ پر کوئی تہمت نہ ہوگی تاہم اپنے آپ کو اس حال میں خوش نہ ہونا کہ تو خود سیر ہو کر کھائے اور وہ بچہ بھوکا رہے اور تو کپڑے پہنے اور وہ ننگا ہے۔ حکیم ترمذی کی روایات محل کلام ہیں۔
Ayah 25:21

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے کہا جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے کہ ہمارے اوپر فرشتے کیوں نہ نازل کیے گئے یا یہ کیوں نہ ہوا کہ ہم رب کو دیکھ لیتے، بلاشبہ انہوں نے اپنے نفسوں کو بڑا سمجھا اور انہوں نے بڑی سرکشی اختیار کی

1۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا آیت ” وقال الذین لایرجون لقاء نا “ کہ یہ کفار قریش کا قول ہے آیت ” لو لا انزل علینا الملائکۃ او نری ربنا “ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیتے لیکن ہم کو خبر دی گئی کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے عبید بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقال الذین لایرجون لقاء نا سے مراد ہے کہ وہ سوال نہیں کرتے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لو لاانزل علینا المئکۃ یعنی ہم فرشتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے 4۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وعتوا عتوا کبیرا یعنی انہوں نے کفر میں سختی کی 5۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” العتو “ سے مراد ہے اللہ کی کتاب میں تکبر کرنا
Ayah 25:22

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرمین کے لیے کوئی بشارت کی چیز نہیں ہوگی اور وہ کہیں گے ہٹاؤ اور بچاؤ

1۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یرون الملئکۃ یعنی قیامت کے دن فرشتوں کو دیکھیں گے 2۔ ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت لابشری یومئذ للجرمین کے بارے میں روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو مومن کو خوشخبری دی جائے جب کافر اس کو دیکھیں گے تو فرشتوں سے کہیں گے ہم کو بھی خوشخبری دو تو وہ کہیں گے آیت حجرا محجورا یعنی یہ چیز بالکل حرام ہے ہم تم کو خوشخبری دیں۔ 3۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویقولون حجرا محجورا کہ وہ فرشتوں سے مانگیں گے اور دوسرے لفظ میں یوں فرمایا کیہ یہ بات قطعی حرام ہے کہ آج کا دن ایمان والوں کے علاوہ کسی اور کے لیے خوشخبری ہو۔ 4۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ ویقولون حجرا محجورا “ یعنی فرشتے کہیں گے کہ اس وقت کافروں پر قیامت کے دن خوشخبری قطعا حرام ہے۔ 5۔ عبد بن حمید وابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ویقولون حجرا محجورا یعنی فرشتے کہیں گے کہ کافروں پر خوشخبری قطعا حرام ہے جب وہ ہم کو دیکھیں گے۔ 6۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم عطیہ العوفی کے طریق سے ابو سعید خدری رجی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ آیت ” ویقولون حجرا محجورا یعنی قطعی حرام ہے کہ ہم تم کو ایسی خوشخبری دیں جو ہم متقی لوگوں کو خوشخبریاں دیتے ہیں۔ 7۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن اور قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ویقولون حجرا محجورا “ سے مراد ہے کہ یہ وہ کلمات ہیں جس کو عرب کے لوگ بولتے ہیں جب کسی آدمی پر کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے تو کہتا ہے آیت ” حجرا محجورا “ یعنی قطعی حرام ہے۔ 8۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ عورت جب کسی چیز کو دیکھتی اور اس کو ناپسند کرتی تو کہتی آیت ” حجرا من ہذی “ یعنی اس سے پناہ۔ قیامت کے دن زلزلے اور مجرموں کی کیفیت 9۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا جب قیامت کے دن زلزلے آئیں گے تو اس کے زلزلوں میں سے یہ ہوگا کہ آسمان پھٹ جائے گا اور وہ اس دن کمزور ہوجائے گا اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے ہر چیز اپنی وسعت کے باوجود پھٹ جائے گی اور یہ پھٹنے کا سلسلہ آسمان سے شروع ہوگا اللہ تعلیٰ کا یہ قولی اسی کے متعلق ہے ” یوم یرون المئکۃ لا بشری یومئذ للمجرمین ویقولون حجرا محجورا “ فرشتے کہیں گے ایسے مجرم لوگو یہ امر تمہارے لیے قطعی حرام ہے کہ تمہارے لیے آج کے دن خوشخبری ہو جب تم ہم کو دیکھوگے۔
Ayah 25:23

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور انہوں نے جو بھی عمل کیے تھے ہم ان کی طرفف متوجہ ہو کر فضاء میں نظر آنے والے مٹی کے باریک ذرات بنا دیں گے

1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وقدمنا الی ما عملوا من عمل سے مراد ہے کہ ہم متوجہ ہوں گے ان کاموں کی طرف جو انہوں نے دنیا میں بڑے کام کیے مگر ان کو قبولیت حاصل نہ ہوئی۔ 2۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ہباء منثورا “ میں ” الھبا “ سے مراد سورج کی شعاع جو سوراخ سے نکلتی ہے۔ 3۔ عبدالرزاق والفریابی وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ” الہباء “ سے مراد ہے غبار والی ہوا جو پھیل جاتی ہے پھر ختم ہوجاتی ہے اور اس میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہتی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو اسی طرح کردیا۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” الہبا ‘ سے مراد وہ چیز ہے جو آگ میں سے اڑتی ہے جب آگ بھڑکتی ہے تو اس میں سے چنگاریاں اڑتی ہیں جب وہ چنگاریاں نیچے گرتی ہیں تو زمین پر کچھ بھی نہیں ہوتا۔ 5۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ہبار منثورا “ سے مراد ہے وہ پانی جو بہا دیا جائے۔ 6۔ عبدبن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ہباء منثورا سے مراد ہے وہ شعاع جو ان میں سے کسی کے روشندان میں سے آتی ہے اگر تو اس کو پکڑنا چاہے تو اس کو نہ پکڑ سکے۔ 7۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن اجریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ہباء منثورا “ سے مراد ہے روشندان میں سے آنے والی سورج کی شعاع۔ 8۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ہباء منثورا “ سے مراد ہے سورج کی شعاع جو روشندان میں سے آتی ہے۔ 9۔ عبد بن حمید نے ابو مالک وعامر (رح) سے آیت ” ہباء منثورا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے سورج کی عاع مراد ہے۔ 10۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ہباء منثورا “ سے غبار مراد ہے۔ 11۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ہباء منثورا “ سے مراد درخت کے وہ چھوٹے چھوٹے ذرات ہیں جن کو ہوائیں اڑاتی ہیں۔ 12۔ ابن ابی حاتم نے معلی بن عبیدہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الہباء “ سے مراد ہے راکھ۔ حرام سے نہ بچنے کی سزا 13۔ سمویہ فی فوائدہ سالم جو حضرت ابو حذیفہ کے غلام ہیں سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ایک قوم کو لایا جائے گا ان کے پاس نیکیاں تہامہ پہاڑ جتنی ہوں گی یہاں تک کہ جب ان کو لے آیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو غبار کی طرح بنا دیں گے پھر ان کو آگ میں پھینک دیا جائیگا سالم ؓ نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ کیا ہمارا اس قوم سے تعلق ہے آپ نے فرمایا وہ نمازیں پڑھتے تھے اور روزے رکھتے تھے اور رات کا کچھ حصہ سوتے تھے لیکن جب ان کو حرام میں سے کوئی چیز پیش کی جاتی تھی تو اس پر کو دپڑتے تھے (یعنی اس کو جلدی سے لے لیتے تھے) تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو باطل کردیا۔
Ayah 25:24

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

اس دن جنت والے بہتر ہوں گے ٹھہرنے کی جگہ کے اعتبار سے اور آرام کرنے کی جگہ کے اعتبار سے

1۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اصحب الجنۃ یومئذ خیر مستقرا واحسن مقیلا “ سے مراد ہے کہ بہترین منزل اور عمدہ ٹھکانہ ہوگا۔ 2۔ ابن المنذر نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واحسن مقیلا “ سے مراد ہے لوٹنے کی جگہ۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” خیر مستقرا واحسن مقیلا “ سے مراد ہے جنت کے بالا خانوں میں اس کا ٹھکانہ ہوگا اور ان کا حساب اس طرح سے ہوگا کہ ان کو اپنے رب کے سامنے ایک دفعہ پیش کیا جائے گا اور وہ آسان حساب ہوگا اور اس کی مثل یہ قول ہے آیت ” فاما من اوتی کتبہ بیمینہ، فسوف یحاسب حسابا یسیرا، وینقلب الی اھلہ مسرورا۔ 4۔ ابن المالک الزہد میں وعبد بن حمید وابن اجریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ قیامت کا دن نصف النہار تک نہیں پہنچے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف متوجہ ہوگا پھر یہ آیت پڑھی آیت ” اصحب الجنۃ یومئذ خیر مستقرا واحسن مقیلا “ اور یہ بھی پڑھا آیت ” ثم ان مقیلہم لا الی الجحیم “ 5۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس رضیا للہ عنہما سے روایت کیا کہ یہ چاشت کا وقت ہوگا کہ اللہ کے دوست حوروں کے ساتھ پلنگوں پر قیلولہ کریں گے اور اللہ کے دشمن شیطانوں کے ساتھ جکڑے ہوئے ہوں گے۔ 6۔ ابن المبارک و سعید بن منصور وابن جریر وابن المنذر وابو نعیم فی الحلیہ ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ ولگوں کا یہ خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے حساب سے فارغ ہوں گے قیامت کے دن آدھے دن میں تو جنت والے جنت میں قیلولہ کریں گے اور دوزخ والے دوزخ میں قیلولہ کریں گے اسی کو فرمایا آیت ” اصحب الجنۃ یومئذن خیر مستقر 4 ا واحسن مقیلا “ کہ جنت والے اس دن ٹھہرنے کی بہترین جگہ میں ہوں گے اور قیلولہ کرنے کی عمدہ جگہ میں ہوں گے۔ 7۔ ابن جریر نے سعید بن صوراف ھمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ قیامت کا دن مومن پر مختصر ہوگا یہاں تک کہ یہ اتنا ہوجائے گا جیسے عصر اور سورج کے غروب ہونے کے درمیان کا وقت ہوتا ہے اور جنتی لوگ جنت کے باغوں میں قیلولہ کریں گے جب تک لوگ حساب سے فارغ ہوں گے اسی کو فرمایا آیت ” اصحب الجنۃ یومئذ خیر مستقرا واحسن مقیلا “ 8۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اصحب الجنۃ یومئذ خیر مستقرا واحسن مقیلا “ یعنی ان کا بہترین ٹھکانہ اور منزل قتادہ (رح) نے کہا تو صفوان بن محرز نے بیان فرمایا کہ قیامت کے دن دو آدمیوں کو لایا جائے گا ان میں سے ایک دنیا میں بادشاہ تھا اس کا حساب لیا جائے گا وہ ایسا بندہ ہوگا جس نے کوئی خیر کا کام نہیں کیا تھا تو اس کو آگ کی طرف حکم دیا جائے گا اور دوسرا وہ ہوگا جس کے پاس صرف ایک چادر تھی اس کا حساب لیا جائے گا تو وہ کہے گا اے میرے رب آپ نے مجھے کوئی چیز دی ہی نہیں تو آپ مجھ سے اس کا حساب لیں گے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے بندے نے سچ کہا اس کو چھوڑ دو اور اس کو جنت کی طرف حکم دیا جائے گا پھر وہ یونہی چھوڑدئیے جائیں گے جب تک اللہ چاہیں گے پھر دوزخ والے کو بلایا جائے گا تو وہ کالے کوئلے کی طرح ہوگا اس سے کہا جائے گا تو نے اپنی آرام کی جگہ کو کیسے پایا۔ وہ کہے گا آرام کی جگہ بہت بری تھی اس سے کہا جائے گا لوٹ جا پھر جنت والے کو بلایا جائے گا تو وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہوا ہوگا اس سے کہا جائے گا تو نے اپنے قیلولے کو کیسا پایا وہ کہے گا اے میرے رب میرے آرام کرنے کی بہترین جگہ ہے۔ اس سے کہا جائے گا لوٹ جا۔ 9۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ میں وہ وقت جانتا ہوں جب جنت والے جنت میں داخل ہوں گے اور دوزخ والے دوزخ میں وہ چاشت کا وقت ہوگا جس میں سورج بلند ہوچکا ہوگا جب لوگ لوٹ جاتے ہیں اپنے اہل و عیال کی طرف قیلولہ کے لیے تو دوزخ والے دوزخ کی طرف چلیں گے اور جنت والوں کو جنت کی طرف لے جایا جائے گا ان کا قیلولہ جنت میں ہوگا اور ان کو مچھلی کا جگر کھلایا جائے گا اور وہ سب پیٹ بھرلیں گے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ” اصحب الجنۃ یقومئذ خیر مستقرا واحسن مقیلا “ 10۔ ابن عساکر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے قیامت کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ دن دنیا میں سے ہوگا یا آخرت میں سے ہوگا۔ تو انہوں نے فرمایا اس کا پہلا حصہ اس دنیا کے دن سے ہے اور اس کا آخری حصہ آخرت سے ہوگا۔
Ayahs 25:25–26

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اس وقت کو یاد کرو جب آسمان بادلوں سے پھٹ جائے اور بکثرت فرشتے نازل کیے جائیں گے

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

آج ملک رحمن ہی کے لیے، اور یہ دن کافروں پر سخت ہوگا۔

1۔ عبد بن حمید وابن ابی الدنیا فی الاہوال وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت ” ویوم تشقق السماء بالغمام ونزل المئکۃ تنزیلا “ کے تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو ایک چٹیل میدان میں جمع فرمائیں گے جنات انسان جانور درندے اور پرندے اور ساری مخلوق کو جمع فرمائیں گے آسمان دنیا پھٹ جائے گا اور اس کے رہنے والے نیچے اتریں گے اور وہ زمین میں رہنے والے انسان جنات اور ساری مخلوق سے زیادہ ہوں گے اور وہ جنات کو انسانوں کو اور ساری مخلوق کو گھیر لیں گے اور وہ زمین والے کہیں گے کہ کیا تمہارے اندر ہمارے رب ہیں وہ کہیں گے نہیں۔ پھر دوسرا آسمان پھٹے گا اس کے رہنے والے نیچے اتریں گے اور وہ دنیا کے آسمان کے رہنے والوں اور جنات اور انسان اور ساری مخلوق سے زیادہ ہوں گے اور وہ ان فرشتوں کو گھیر لیں گے جو ان سے پہلے نازل ہوئے اور جنات کو اور اسنسان کو اور ساری مخلوق گھیر لیں گے۔ پھر تیسرے آسمان کے رہنے والے نازل ہوں گے اور وہ ان فرشتوں کو جو ان سے پہلے نازل ہوئے تھے اور جنات اور انسانوں کو اور ساری مخلوق کو گھیر لیں گے پھر چوتھے آسمان کے رہنے والے نازل ہوں گے اور وہ تیسرے اور دوسرے اور پہلے آسمانوں والوں سے اور زمین والوں سے زیادہ ہوں گے پھر پانچویں آسمان والے نازل ہوں گے اور وہ پہلے آنے والوں سے زیادہ ہوں گے پھر اسی طرح چھٹے آسمان والے پھر ساتویں آسمان والے نازل ہوں گے اور آسمان اور زمین کے رہنے والوں سے زیادہ ہوں۔ پھر ہمارے رب بادلوں کے سائے میں نزول فرمائیں گے اور ان کے اردگرد مربین ہوں گے۔ اور ساتویں آسمان اور انسانوں اور جنوں اور ساری مخلوق سے زیادہ ہوں گے اور وہ عرش کو اٹھانے والے ہوں گے ان کی آواز ہوگی تسبیح تحمید اور تقدیس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لیے اور ان میں سے ایک کے پاؤں کے تلوے کے نیچے سے اس کے ٹخنے تک پانچ سو سال کا فاسلہ ہوگا اور اس کے ٹخنے سے اس کے گھٹنے تک پانچ سو سال کا فاصلہ ہوگا اور اس کے گھٹنے اس کی ران تک پانچ سو سال کا فاصلہ ہوگا اور اسکی رات سے اس کی ہنسلی کی ہڈی تک پانچ سو سال کا فاصلہ ہوگا اور اس کی ہنسلی کی ہڈی سے اس کی کان کی بال کی جگہ پانچ سو سال کا فاصلہ ہوگا اور اس سے اوپر بھی ناپچ سو سال کا فاصلہ ہوگا۔ 2۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک سے روایت کیا کہ آیت ” ویوم تشقق اسلماء بالغمام “ یعنی آسمان جب وہ پھٹ جائے گا۔ 3۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک رحمۃ اللہ علی سے روایت کیا کہ آیت ” ویوم تشقق اسلماء بالغمام “ کا وہی معنی ہے جو آیت ” فی ظلل من الغمام “ (البقرہ آیت 210) کا معنی ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تشریف لائیں گے۔ 4۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ بادل کی صورت پھٹ جائے گا کہ جس میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تشریف لائیں گے انہوں نے خیال کیا کہ یہ بادل جنت میں ہوگا۔