Al-Furqaan 25:10

Al-Furqaan · from ayah 10

25:10

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ۙ— وَیَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا ۟تَبٰـرَكَ الَّذِىۡۤ اِنۡ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَيۡرًا مِّنۡ ذٰ لِكَ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ۙ وَيَجۡعَلْ لَّكَ قُصُوۡرًا‏

وہ (خدا) بہت بابرکت ہے جو اگر چاہے تو تمہارے لئے اس سے بہتر (چیزیں) بنا دے (یعنی) باغات جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں۔ نیز تمہارے لئے محل بنادے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Blessed is He who, if He willed, could have made for you [something] better than that - gardens beneath which rivers flow - and could make for you palaces.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 2 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:10

بڑا بابرکت ہے وہ جو اگر چاہے تو ان کی تجویز کردہ چیزوں سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر تم کو دے سکتا ہے، (ایک نہیں) بہت سے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں، اور بڑے بڑے محل

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ (خدا) بہت بابرکت ہے جو اگر چاہے تو تمہارے لئے اس سے بہتر (چیزیں) بنا دے (یعنی) باغات جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں۔ نیز تمہارے لئے محل بنادے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ تو ایسا بابرکت ہے کہ اگر چاہے تو آپ کو بہت سے ایسے باغات عنایت فرما دے جو ان کے کہے ہوئے باغ سے بہت ہی بہتر ہوں جن کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہوں اور آپ کو بہت سے (پختہ) محل بھی دے دے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بڑی شان ہے اس (اللہ) کی جو اگر چاہے تو تمہیں ان سب سے کہیں بہتر چیز، (ایک باغ کے بجائے) بہت سے باغات دیدے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں، اور تمہیں بہت سے محلات کا مالک بنا دے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بڑی برکت والا ہے وہ کہ اگر چاہے تو تمہارے لیے بہت بہتر اس سے کردے جنتیں جن کے نیچے نہریں بہیں اور کرے گا تمہارے لیے اونچے اونچے محل،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ بڑی برکت والا ہے اگر چاہے تو آپ کے لئے (دنیا ہی میں) اس سے (کہیں) بہتر باغات بنا دے جن کے نیچے سے نہریں رواں ہوں اور آپ کے لئے عالی شان محلات بنا دے (مگر نبوت و رسالت کے لئے یہ شرائط نہیں ہیں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بہت برکت والا ہے وہ کہ اگر چاہے تو تیرے لیے اس سے بھی بہتر بنادے ایسے باغات جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہیں اور تیرے لیے کئی محل بنادے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ بڑی برکت والی ذات ہے۔ وہ چاہے تو آپ کو ان چیزوں سے بھی بہتر چیزیں دے سکتا ہے (ایک نہیں) کئی باغ جن میں نہریں جاری ہوں اور کئی محل دے سکتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جو چاہے تو تمہیں اس سے بھی کہیں بہتر چیزیں بخش دے … ایسے باغ جن کے نیچے نہریں جا رہی ہوں اور تمہارے لئے محل بنوا دے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بڑی ہی برکت والی ہے وہ ذات جو اگر چاہے تو اس دنیا میں ہی اور ان کی ان فرمائشوں سے بھی کہیں بڑھ کر اچھی چیز آپ کو عطا فرما دے یعنی ایک نہیں کئی ایسے عظیم الشان باغ جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں اور اسی طرح وہ بنا دے آپ کے لیے طرح طرح کے عظیم الشان محل بھی

— مولانا اسحاق مدنی

وہ ذات بڑی عالی شان ہے کہ اگر وہ چاہے تو آپ کو اس سے بھی بہتر چیز دے دے (یعنی بہت سے) باغات کہ ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور آپ کو (بہت سے) محل دے دے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بڑی ہی بابرکت ہے وہ ہستی جو اگر چاہے تو آپ ﷺ کے لیے ان سے کہیں بہتر چیزیں بنا دے ایسے باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور آپ ﷺ کے لیے محلات تعمیر کر دے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ اللہ بڑی برکت والا ہے جو اگر چاہے تو تمہارے لیے اس سے بہتر چیزیں بنا دے یعنی باغات جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں اور تمہارے لیے محل بنا دے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Highly blessed is He, Who, if He wills, could give you much more and better things than what they propose for you: (Not one but) many gardens, beneath which rivers flow; and big castles:

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Glorious is the One who, if He so wills, would give you better than that - gardens beneath which rivers flow, and would give you palaces.

— Muhammad Taqi Usmani

Glorious is the One who, if He so wills, would give you better than that - gardens beneath which rivers flow, and would give you palaces.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Blessed be He Who, if He wills, will assign you better than (all) that -- Gardens under which rivers flow and will assign you palaces.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Blessed is He Who, if He will, will assign thee better than (all) that - Gardens underneath which rivers flow - and will assign thee mansions.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Blessed is He who, if He willed, could have made for you [something] better than that - gardens beneath which rivers flow - and could make for you palaces.

— Saheeh International

Blessed is He who could give you palaces and gardens wherein streams would flow, far better than what they want you to have.

— Muhammad Sarwar

Blessed is He Who, if He please, will give you what is better than this, gardens beneath which rivers flow, and He will give you palaces.

— Muhammad Habib Shakir

Blest is He Who, if He willed, shall appoint for them something better than that: gardens whereunder the rivers flow, and appoint for them palaces.

— Abdul Majid Daryabadi

Blessed is He who, if that were His will, could give thee better (things) than those,- Gardens beneath which rivers flow; and He could give thee palaces (secure to dwell in).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–14

مشرکین کی حماقتیں اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کی انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے ؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لئے آتا جاتا کیوں ہے ؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الہٰی سے آگاہ کرتا۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ آیت (فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاۗءَ مَعَهُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ 53؀) 43۔ الزخرف :53) ، اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے ؟ یا اس کی مدد کے لئے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ چونکہ دل ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 19 یہاں پھر وہی تبارک کا لفظ استعمال ہوا ہے اور بعد کا مضمون بتارہا ہے کہ اس جگہ اس کے معنی ہیں " بڑے وسیع ذرائع کا مالک ہے "۔ ‘’ غیر محدود قدرت رکھنے والا ہے "۔ " اس سے بالا تر ہے کہ کسی کے حق میں کوئی بھلائی کرنا چاہے اور نہ کرسکے "۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–19

خلاصہ تفسیر وہ ذات بڑی عالی شان ہے کہ اگر وہ چاہے تو آپ کو (کفار کی) اس (فرمائش) سے (بھی) اچھی چیز دیدے یعنی بہت سے (غیبی) باغات جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں (بہتر اس لئے کہا کہ وہ تو مطلق باغ کی فرمائش کرتے تھے گو ایک ہی ہو اور متعدد باغ کا ایک سے بہتر ہونا ظاہر ہے) اور (بلکہ ان باغوں کے ساتھ اور بھی مناسب چیزیں دیدے جن کی انہوں نے فرمائش بھی نہیں کی یعنی) آپ کو بہت سے محل دیدے (جو ان باغوں میں بنے ہوں یا باہر ہی ہوں جس سے ان کی فرمائش اور بھی زیادہ نعمتوں کے ساتھ پوری ہوجاوے۔ مطلب یہ کہ جو جنت میں ملے گا اگر اللہ چاہے تو آپ کو دنیا ہی میں دیدے لیکن بعض حکمتوں سے نہیں چاہا اور فی نفسہ ضروری…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون ……آیات 34-10 آگے مذکورہ بالا اعتراضات کے جواب بھی دیئے، ان کے ال محرکات پر بھی روشنی ڈالی اور اس اندھی بہری مخالفت کا جو انجام ان لوگوں کے سامنے آنے والا ہے اس کی طرف بھی اشارہ فرمایا۔ اسی ضمن میں بعض نئے اعتراضات بھی زیر بحث آگئے ہیں اور پیغمبر ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کو صبر و استقامت کے ساتھ ان تمام خرافات کو نظر انداز کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمایئے۔ اعتراضات کا جواب جس طرح نقل اعتراضات کی تمہید لفظ تبارک سے اٹھائی ہے اسی طرح جواب کی تمہید بھی اسی لفظ سے اٹھائی ہے اور سب سے پہلے معترضین کے اس اعتراض کو لیا ہے جو سب سے آخر میں آیت 8 میں نقل ہوا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10-1یعنی یہ آپ کے لئے جو مطالبے کرتے ہیں، اللہ کے لئے ان کا کردینا کوئی مشکل نہیں ہے، وہ چاہے تو ان سے بہتر باغات اور محلات دنیا میں آپ کو عطا کرسکتا ہے جو کہ ان کے دماغوں میں ہیں۔ لیکن ان کے مطالبے تو تکذیب وعناد کے طور پر ہیں نہ کہ طلب ہدایت اور تلاش نجات کے لئے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–11

2: یعنی یہ لوگ جو باتیں بنا رہے ہیں، ان کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ حق کے طلب گار ہیں، اور ان کے شبہات دور ہوجائیں تو یہ ایمان لے آئیں، بلکہ اصل وجہ ان کی بےفکری ہے، چونکہ ان کو قیامت اور آخرت پر ایمان نہیں ہے، اس لیے ان کو بےہودہ اعتراضات کرتے ہوئے کوئی خوف نہیں ہوتا کہ آخرت میں ان پر سزا بھی مل سکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–10

انظر کیف ضربوا لک الامثال (25 : 9) ” دیکھو ‘ یہ تمہارے بارے میں کیا حجتیں کرتے ہیں “۔ آپ ﷺ کو سحرزدہ لوگوں کے ساتھ مشابہ قرار دیتے ہیں ‘ کبھی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنی طرف سے باتیں بناتے ہیں ‘ کبھی کہتے ہیں کہ پرانے زمانے کی باتیں ہیں جو آپ لکھواتے ہیں۔ یہ سب گمراہی کی باتیں ہیں۔ اور سچائی سے دور کی باتیں ہیں۔ یہ سچائی کے تمام راستوں سے بےراہ ہوگئے ہیں۔ اور اب ان کے اندر ہدایت کی راہ پانے کی استطاعت ہی نہیں رہی۔ فلایستطیعون سبیلا (25 : 9) اب یہ بحث یوں ختم کی جاتی ہے کہ یہ لوگ جو تجاویز دیتے ہیں وہ احمقانہ ہیں۔ ان کے تصورات دنیا پرستی کے محدود دائرے میں محدود ہیں۔ یہ کنوئیں کے مینڈک کی طرح اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی اللہ کے خزانہ میں کیا کمی ہے، وہ چاہے تو ایک باغ کیا، بہت سے باغ اس سے بہتر عنایت فرما دے جس کا یہ لوگ مطالبہ کرتے ہیں۔ بلکہ اس کو قدرت ہے کہ آخرت میں جو باغ اور نہریں اور حورو قصور ملنے والے ہیں وہ سب آپ ﷺ کو ابھی دنیا میں عطا کر دے۔ لیکن حکمت الٰہی بالفعل اس کو مقتضی نہیں۔ اور معاندین کے سارے مطالبات اور فرمائشیں بھی اگر پوری کردی جائیں تب بھی یہ حق و صداقت کو قبول کرنے والے نہیں ہیں۔ باقی پیغمبر ﷺ کی صداقت ثابت کرنے کے لیے جو دلائل و معجزات پیش کیے جا چکے وہ کافی سے زیادہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 10–11

آیت 10 تَبٰرَکَ الَّذِیْٓ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَکَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِکَ ” یہ لوگ تو آپ ﷺ پر اعتراض کرتے ہوئے اپنی طرف سے بڑی دور کی کوڑی لاتے ہیں اور اپنے فہم و شعور کے مطابق مختلف چیزوں کے نام گنواتے ہیں کہ آپ ﷺ کو فلاں آسائش میسر ہونی چاہیے اور فلاں چیز آپ ﷺ کے تصرف میں ہونی چاہیے۔ ان بےچاروں کو ہماری قدرت کا اندازہ ہی نہیں۔ ہم اگر چاہیں تو ان کی تجویز کردہ چیزوں سے کہیں بہتر ایسی چیزیں آپ ﷺ کے لیے پیدا کردیں جو ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہ ہوں۔ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُلا وَیَجْعَلْ لَّکَ قُصُوْرًا ” یہ لوگ تو ایک باغ کی بات کر رہے ہیں۔ ہم آپ ﷺ کے لیے باغات کے ان گنت سلسلے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 9–10

14 یعنی کبھی کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے جو کہتا ہے کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے کبھی کہتے ہیں کہ یہ قرآن اس نے خود ہی تصنیف کر ڈالا ہے۔ البتہ اس سلسلہ میں دوسروں سے بھی مدد لیتا ہے۔ کبھی آپ کو کاہن کہتے ہیں، کبھی شاعر، کبھی ساحر، جادوگر اور کبھی مسحور۔ پھر کہیں یہ کہتے ہیں کہ اسے فرشتہ ہونا چاہئے تھا۔ کبھی کہتے ہیں کہ اگر بشر ہی تھا تو کم از کم اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہی رہا کرتا۔ کبھی یہ اس نبی کے پاس مال و دولت کی کثرت ہونا چاہئے تھی۔ یہ سب باتیں دراصل ان کے دعوت حق کو قبلو نہ کرنے کے بہانے ہیں۔ ہٹ دھرمی اور تعصب نے ان کو اندھا کر رکھا ہے اور ایسی بےتکی باتیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

11۔ (اسی دنیا میں) یعنی یہ کافر تو صرف ایک باغ غیبی کی فرمائش آپ کے لیے کررہے ہیں۔ ہماری مشیت تکوینی اگر ہوتی تو ہم تو اس سے بھی کہیں بڑھ چڑھ کر چیزیں آپ کو یہیں اور ابھی دے دیتے۔ باغ ایک نہیں کئی ایک، قصر ومحل متعدد وغیرہا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–20

آیت نمبر 10 تا 20 ترجمہ : اللہ کی ذات تو بڑی عالی شان ہے یعنی خیر کثیر والی ہے اگر وہ چاہے تو ان کے بیان کردہ باغ اور خزانہ سے بہتر باغات عطا کر دے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں یعنی دنیا میں (عطا کردے) اس لئے کہ آخرت میں ایسے باغات آپ ﷺ کو عطا کرنا تو اس کی مشیت میں ہے ہی، اور آپ کو بہت سے محل (بھی) دیدے یَجْعَلْ لام کے جزم کے ساتھ اور ایک قرأۃ میں (یَجْعَلُ ) رفع کے ساتھ ہے، جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے بلکہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھ رہے ہیں اور قیامت کو جھوٹ سمجھنے والوں کیلئے ہم نے دہکتی ہوئی شدید آگ تیار کر رکھی ہے جن ان کو وہ آگ دور سے دیکھے گی تو وہ لوگ اس کا جوش خروش سنیں گے یعنی غضبناک کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تبرک الذی ان شآء جعل لک خیرا من ذلک جنت تجری من تحتہا الانہر ویجعل لک قصورا۔ بڑی برکت والا ہے وہ اللہ کہ اگر وہ چاہے تو آپ کے لئے اس سے بہتر (دنیا ہی میں) نعمتیں عطا فرما دے (یعنی) ایسے باغ جن کے (درختوں کے) نیچے نہریں جا ری ہوں (آپ کو دے دے) اور آپ ﷺ کے لئے محلات (تیار) کر دے۔ یعنی خزانوں اور باغوں سے بہتر نعمتیں دنیا میں ہی اگر دینا چاہے تو وہ دے دے لیکن اس نے یہ چیزیں آپ کے لئے آخرت میں مقرر کردی ہیں۔ بغوی نے بروایت عکرمہ حضرت ابن عباس ؓ : کا قول اس طرح نقل کیا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اس سے یعنی بازاروں میں گھومنے اور معاش کی تلاش میں پھرنے سے بہتر عنایت کر دے۔ قصوراً مضبوط مکان۔ عرب ہر پختہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(10) وہ ذات بڑی عالی شان ہے اس نے تو ان کفار کی فرمائش سے بھی اچھی چیز آپ کو دے دی، آخرت میں بہت سے باغات جن کے درختوں اور محلات کے نیچے سے دودھ، شہد، شراب اور پانی کی نہریں بہتی ہیں اور جنت میں آپ کے لیے اس نے سونے اور چاندی کے بہت سے محلات تیار کردیے جو ان کفار کی اس فرمایش سے کہیں زیادہ بہتر ہیں جو آپ کے لیے دنیا میں بقول ان کے بنائے جاتے اور یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو بقول ان کے آپ کے لیے دنیا میں بہت سے محلات اور باغات بنادے یعنی مشرق ومغرب میں آپ کے لیے بہت سے شہر اور قلعے فتح فرما دے جن سے یہ کفار رشک کریں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ تبرک الذی نزل الفرقان“۔ (الخ) ابن ابی شیبہ ؒ نے مصنف میں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

تَبٰرَكَ الَّذِيْٓ اِنْ شَاۗءَ جَعَلَ لَكَ خَيْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ۔۔ : بہت برکت اور لامحدود قوتوں اور اسباب کا مالک ہے وہ اللہ کہ اگر چاہے تو جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں آپ کو اس سے کہیں بہتر چیزیں دنیا ہی میں دے دے، ایک باغ نہیں بیشمار باغات دے دے، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور ایک محل نہیں بہت سے محل عطا کر دے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 9–10

انظر کیف ضربوا۔۔۔۔۔۔ ) انظر کیف ضربوا لک الا مثال انہوں نے آپ ﷺ کے لیے یہ امثال بیان کیں تاکہ وہ آپ کو جھٹلانے تک پہنچ سکیں۔ فضلوا وہ حق کے راستہ اور جس کا انہوں نے ارادہ کیا اس تک پہنچنے سے گمراہ ہوگئے۔۔ فلا یستطیعون سبیلا انہوں نے جو کچھ آپ کے متعلق کہا اس کی صحت تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں پاتے۔ تبرک الذی ان شاء جعل لک خیرا من ذلک جنت یہ کلام شرط و جزا ہے۔ جعل لک میں ادغام نہیں کیا کیونکہ دونوں کلمے منفصل ہیں دو ہم مثل حروف کے اجتماع سے ادغام جائز ہوتا ہے۔ ویجعل لک محل جزم میں ہے اس کا عطف جعل کے محل پر ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ محل رفع میں ہو جب کہ ما قبل سے اس کو قطع کردیا گیا ہو، اہل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ تبارک تفاعل کے وزن پر ہے برکت سے۔ 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ آیت تبرک الذی نزل الفرقان علی عبدہ سے مراد یہ قرآن ہے جس میں اللہ کی حلال کردہ اور اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور اس کے شرائع اور دین کے احکام ہیں اللہ تعالیٰ نے فرق کردیا ہے حق اور باطل کے درمیان آیت لیکون للعالمین نذیرا یعنی اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا اللہ تعالیٰ سے ڈرانے والا بنا کر تاکہ وہ لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں اور ان واقعات سے ڈرائیں جو پہلی قوموں میں ہوئے آیت وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا اور اپنی مخلوق کی ہر چیز کے لیے اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

تَبٰرَكَ [ بابرکت ہوا ] الَّذِيْٓ [ وہ جو ] اِنْ شَاۗءَ [ اگر چاہے ] جَعَلَ [ تو بنادے ] لَكَ [ آپ ﷺ کے لئے ] خَيْرًا مِّنْ ذٰلِكَ [ اس سے بہتر ] جَنّٰتٍ [ باغات ] تَجْرِيْ [ بہتی ہوں ] مِنْ تَحْتِهَا [ جن کے نیچے سے ] الْاَنْهٰرُ ۙ [ نہریں ] وَيَجْعَلْ [ اور وہ بنا دے ] لَّكَ [ آپ ﷺ کے لئے ] قُصُوْرًا [ کچھ محلات ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–10

اللہ جل شانہٗ نے ارشاد فرمایا (انظُرْ کَیْفَ ضَرَبُوْا لَکَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلاَ یَسْتَطِیعُوْنَ سَبِیْلًا) آپ دیکھ لیجیے کہ یہ لوگ آپ کے لیے کیسی کیسی باتیں بیان کر رہے ہیں سو وہ گمراہ ہوگئے پھر وہ راہ نہیں پاسکیں گے (اگر غور کرتے اور عقل سے کام لیتے تو یہی قرآن اور یہی رسول جن پر اعتراض کر رہے ہیں ان کی ہدایت کا سبب بن جاتے اب تو وہ اعتراض کر کے دور جا پڑے اب وہ راہ حق پر نہ آئیں گے) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–10

منکرین نبوت کا تیسرا شبہ اور اس کا جواب قال اللہ تعالیٰ وقالوا مال ھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق۔۔۔ الی۔۔۔ ویجعل لک قصورا۔ (ربط) منکرین نبوت کا یہ تیسرا شبہ ہے۔ منکرین نبوت یہ کہتے ہیں کہ یہ مدعی نبوت پانچ صفتوں کے ساتھ موصوف ہے اور یہ پانچوں صفتیں نبوت کے منافی ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ شخص ہماری طرح کھانا کھاتا ہے۔ دوم یہ کہ یہ شخص ہماری طرح بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، پھر اس کو کیا فضیلت اور برتری کہ یہ ہمارا نبی بنے۔ سوم یہ کہ آپ ﷺ کے ہمراہ خدا کا کوئی فرشتہ نہیں جو لوگوں کو آپ ﷺ سے ڈرائے۔ چہارم یہ کہ آپ کے پاس آسمان سے کوئی خزانہ نہیں اترتا۔ جسے آپ لوگوں پر بےدریغ خرچ کر کے لوگوں کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 10–11

10:۔ ” تبرک الذی الخ “ یہ دعوی سورت کا اعادہ ہے اور لف و نشر غیر مرتب کے طور پر چھٹے شکوے کا جواب ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے دنیا میں آپ کو دولت کے خزانے اور باغات نہیں دئیے تو اس میں بھی اس کی حکمت پوشیدہ ہے وہ دنیا کے عوض آخرت میں آپ کو نہایت عمدہ باغات اور عالیشان محلات عطا کرے گا۔ ” بل کذبوا بالساعۃ الخ “ یہ ماقبل سے ترقی ہے اس میں مشرکین کے شکوے کی وجہ بتائی گئی ہے یعنی وہ چونکہ آخرت کے منکر ہیں اس لیے کہتے ہیں کہ پیغمبر کو دنیا میں دولت اور باغات کیوں نہیں دئیے گئے یا مطلب یہ ہے کہ وہ صرف غیر اللہ کو برکات دہندہ سمجھتے ہیں بلکہ وہ تو قیامت کا بھی انکار کرتے ہیں۔ ” واعتدنا لمن کذب “ سے ”…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–16

حقانیات گزشتہ آیات میں کفار و مشرکین کی طرف سے قرآن پاک کی حقانیت کے متعلق اعتراض تھا کہ یہ خود ساختہ ہے اور پرانے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں ۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ یہ کسی مخلوق کا کلام نہیں بلکہ خدائے علیم وخبیر کا نازل کردہ ہے۔ ان کا دوسرا اعتراض رسالت پر تھا کہ یہ کیسے نبی ہو سکتا ہے جو ہماری طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا ہے۔ کہتے تھے کہ اس کے ساتھ ایک فرشتہ ہونا چاہئے تھا جو اس کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈراتا ۔ نیز یہ ہے کہ پیغمبر کے خزانے اور باغات ہونے چاہئیں ۔ اللہ نے جواب میں فرمایا کہ لوازمات بشریت رسالت و نبوت کے مانع نہیں ہیں ۔ رسول بھی انسان ہی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تَبٰرَكَ الَّذِيْٓ اِنْ شَاۗءَ جَعَلَ لَكَ خَيْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ۝ 0ۙ وَيَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا۝ 10 برك أصل البَرْك صدر البعیر وإن استعمل في غيره، ويقال له : بركة، وبَرَكَ البعیر : ألقی بركه، واعتبر منه معنی اللزوم، فقیل : ابْتَرَكُوا في الحرب، أي : ثبتوا ولازموا موضع الحرب، وبَرَاكَاء الحرب وبَرُوكَاؤُها للمکان الذي يلزمه الأبطال، وابْتَرَكَتِ الدابة : وقفت وقوفا کالبروک، وسمّي محبس الماء بِرْكَة، والبَرَكَةُ : ثبوت الخیر الإلهي في الشیء . قال تعالی: لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] ( ب رک ) البرک اصل میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–10

ترکیب : افتریٰ کا فاعل ضمیر جو عبد کی طرف راجع ضمیر فرقان کی طرف راجع اعانہ کی عید کی طرف علیہ کی ضمیر افترا کی طرف قوم اخرون اعان کا فاعل ظلما و زورا مفعول جاؤ کا یا مصدر موضع حال میں ان شاء شرط جعل جو ابہ وھولکو نہ ماضیایجوزان یکون فی محل الرفع والجزم فما عطف علیہ یجوزان یکون مرفوعا اومجز و ماکما قرء الجمہور۔ تفسیر : ان آیات میں ان کے اور چند شبہات کا جواب ہے جو رسالت کی بابت تھے کہ محمد ﷺ نے قرآن کو ازخود بنا لیا ہے اور دیگر لوگ (جس سے ان کا اشارہ اہل کتاب کی طرف تھا) اس کے اس کام میں مددگار بن گئے ہیں۔ وہی لوگ انبیائِ سابقین کے حالات اور ان کی شریعتوں کے احکام اس کو بتاتے ہیں۔ یہ اپنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

تَبٰرَکَ الَّذِیْٓ اِنْ شَآئَ جَعَلَ لَـکَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِکَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھَرُ لا وَیَجْعَلْ لَّـکَ قُصُوْرًا۔ (الفرقان : 10) (بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات، جو اگر چاہے تو آپ کو اس سے بھی کہیں بہتر چیزیں بخش دے۔ بہت سے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں، اور آپ کے لیے محل بنوا دے۔ ) سورة کا آغاز تبارک کے لفظ سے کیا گیا تھا۔ گزشتہ رکوع میں معترضین کے چند اعتراضات کا ذکر فرمایا گیا تھا، اب ان کا جواب دیا جارہا ہے اور اس کا آغاز اسی لفظ تبارک سے ہورہا ہے۔ اعتراضات کا جواب تبارک کی تشریح میں ہم عرض کرچکے ہیں کہ اس میں افزونی اور کثرت، بقا اور دوام اور مبالغے کا مفہوم پایا جاتا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے مطالبہ کا جواب۔ کفار نے محض حجت بازی کے لیے آپ ﷺ پر یہ اعتراض کیا تھا کہ اگر آپ واقعی ہی اللہ کے رسول ہیں تو پھر آپ کے لیے ایسا باغ ہونا چاہیے جو اپنے پھل سے بھرا ہوا ہو۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ بڑی بابرکت ذات ہے اگر وہ چاہے تو آپ کے لیے کفار کے مطالبہ سے کئی گنا بہتر آپ کو باغ عنایت فرما دے جس کے نیچے نہریں چل رہی ہوں یا اللہ تعالیٰ چاہے تو آپ کو اتنا مال عنایت کرے کہ جس سے آپ بڑے بڑے محلات تیار کرسکیں۔ لیکن اللہ نے آپ کے لیے یہی پسند فرمایا ہے کہ آپ لوگوں کے لیے بہترین نمونہ بنیں نہ کہ لینڈ لارڈ ور سرمایہ دار کے طور پر۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مال والے اعتراض کا جواب : 10: تَبٰرَکَ الَّذِیْ اِنْ شَآ ئَ جَعَلَ لَکَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِکَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْہٰرُ وَیَجْعَلْ لَّکَ قُصُوْرًا (بڑی برکت والا ہے وہ اللہ تعالیٰ کہ اگر چاہے تو آپ کیلئے اس سے بہتر دنیا ہی میں نعمتیں عنایت فرما دے ایسے باغ جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہوں اور آپ کیلئے محلات تیار کردے) مال کی وہ کثرت جس کو اللہ تعالیٰ اگر دنیا میں آپ کو دینا چاہے تو اس سے کہیں بہتر دے سکتا ہے جو انہوں نے کہیں اور وہ یہ ہے کہ آپ کو عنایت فرمائے اسی طرح کے باغات و محلات جن کا وعدہ اس نے آپ سے فرمایا ہے۔ نحو : جناتٍ یہ خبراً سے بدل ہے۔ قراءت : یجعلُ رفع کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 10–11

تفسیر۔ 10۔ تبارک الذی ان شاء جعل لک خیرامن ذالک، ، خزانوں اور باغوں سے بہتر نعمتیں دنیامیں ہی دے دیتا۔ عکرمہ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کرتے ہیں کہ اگر وہ چاہے تو اس سے یعنی بازاروں میں گھومنے اور معاش کی تلاشی میں پھرنے سے بہتر عنایت کردے پھر آگے خیرکوبیان کیا اور فرمایا، جنات تجری من تحتھا الانھار، ویجعل لک قصورا، مضبوط مکان، عرب کے نزدیک ہر مضبوط مکان کو قصر کہتے ہیں۔ ابن کثیر ، ابن عامر اور عاصم نے بروایت ابوبکر، یجعل ، لام پر پیش پڑھا ہے دوسرے قراء نے جزم پڑھا ہے کیونکہ یہ جزاء کی جگہ واقع ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے، ان شاء جعل لک، ، حضرت ابوامامہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے ارشاد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

10:۔ تفسیر سفیان ثوری 2 ؎ اور تفسیر ابن ابی 3 ؎ حاتم وغیرہ میں خیثمہ ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل ہے کہ مشرکین مکہ نے جب آنحضرت ﷺ پر تنگدستی اور فقر وفاقہ کی طعن کی تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے پاس پیغام بھیجا تھا ‘ کہ اے رسول اللہ کے تم اگر دنیا کی تنگدستی سے گھبراتے ہو تو تمام روئے زمین کے خزانوں کی کنجیاں اللہ کے حکم سے تمہارے حوالہ ہوجاویں گی اور دنیا میں یہ خوشحالی دینے کے بعد تمہارے عقبیٰ کے مرتبہ میں اللہ تعالیٰ کچھ کمی نہ کرے گا ‘ اور اگر تمہاری مرضی ہے تو اللہ تعالیٰ دنیا وعقبیٰ کی خوبی کا ذخیرہ تمہارے لیے عقبیٰ ہی میں رکھے گا ‘ دنیا چند روزہ ہے ‘ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–14

(آیت نمبر (7 یہ ان لوگوں کا قول ہے جنہوں نے رسول ﷺ کو جھٹلایا اور آپ کی رسالت میں جرح و قدع کی۔ انہوں نے اعتراض کیا کہ یہ رسول فرشتہ یا کوئی بادشاہ کیوں نہیں یا اس کی خدمت اور مدد کے لیے کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا ؟ چناچہ انہوں نے کہا : (مال ھذ الرسول) یعنی یہ کیسا شخص ہے جو رسالت کا دعویٰ کرتا ہے ( یا کل الطعام ) ” کھانا کھاتا ہے “ حالانکہ یہ تو بش رکی خصوصیات میں سے ہے۔ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ ان امور کا محتاج ہوتا بشر جن کا محتاج ہے۔ ( ویمشی فی الاسواق) یعنی خریدو فروخت کے لیے “ بازاروں میں چلتا پھرتا ہے “ اور یہ ان کے خیال کے مطابق ایک رسول کے لائق نہیں ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–48

پانی کے مسائل قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

12 دنیا دار الامتحان ہے نہ کہ دار الانعام : اور دار الانعام آخرت ہے۔ اور اعمال کا پورا بدلہ وہیں ملے گا۔ اور وہیں مل سکے گا۔ دنیا میں پورا بدلہ نہ ملتا ہے نہ مل سکتا ہے کہ دنیا میں اس کی گنجائش ہی نہیں۔ پس کفار اشرار کا آپ پر اے پیغمبر یہ اعتراض کرنا اور اس طرح کے مطالبے کرنا ان کی اپنی کوتاہ نظری اور کج فہمی کا نتیجہ ہے۔ ورنہ اللہ اگر چاہے تو آپ کو طرح طرح کے عظیم الشان باغات بھی دیدے اور محلات بھی۔ اللہ پاک کے لئے ایسا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ بلکہ وہاں تو محض ارادہ کرنے کی دیر ہے۔ مگر وہ ایسے کرتا اس لئے نہیں کہ یہ اس کی حکمت و مشیت کے خلاف ہے۔ کیونکہ اس طرح کرنے سے پھر امتحان کیسا اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–14

نبی کریم ﷺ پر فضل اور منکرین پر عذاب تشریح : پہلے تو پیارے نبی ﷺ سے اللہ نے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے کہ آپ کے لیے محلات و باغات کیا معنی رکھتے ہیں۔ مگر آپ جس حال میں ہیں سب اللہ کی خاص حکمت کی وجہ سے ہے ورنہ نبوت سے بڑی اور کون سی چیز ہے۔ اتنا بڑا عزاز دنیاوی عیش و آرام کے سامنے کیا حقیقت رکھتا ہے۔ آپ کا دل امیر ہے تو آپ امیر ترین انسان ہیں آپ کی روح نورالٰہی سے منور ہے تو آپ دنیا کے عظیم ترین انسان ہیں۔ یہی چیزیں تو ہیں جو موت کے بعد ہمیشہ کا آرام و عیش دلوائیں گی ورنہ یہ دنیا کے محلات باغات اور عیش و آرام تو یہیں پر رہ جائے گا۔ بلکہ یہ لوگ جو قیامت کو جھٹلاتے ہیں ان کو اچھی طرح خبردار کر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–20

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف ان کی سمجھ اتنی بات نہیں آتی کہ جس خالق کائنات نے ساری کائنات بنائی ہے وہ چاہتا تو ان کے اندازے سے زیادہ خوبصورت باغات جو ہمیشہ شاداب رہتے ، اور ان کی امیدوں سے بڑے دولت کے انبار آپ ﷺ کو عطا فرما دیتا ، ان کی امیدوں سے زیادہ عالی شان محلات آپ ﷺ کے لیے بنا دیتا ، یہ اس کی حکمت کہ اس نے عام آدمی کی خوش نصیبی سے آپ ﷺ کا مزاج عالی ہی ایسا بنایا کہ آپ ﷺ عام زندگی پسند فرماتے اور اپنی رحمت سے آپ ﷺ کو دنیا میں عام لوگوں ہی کی زندگی دی کہ آپ ﷺ ساری انسانیت کے لیے اللہ جل جلالہ کی رحمت ہیں تو ہر عام آدمی کی رسائی آپ ﷺ کی بارگاہ تک رہے ورنہ آپ ﷺ اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–11

10 ۔ اسی لئے بےخوفوں کی طرح جو منہ میں آتا ہے بک دیتے ہیں۔ ( ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 9–10

(15:9) ضربوا لک الامثال۔ تمہارے لئے طرح طرح کی مثالیں بیان کرتے ہیں۔ فضلوا۔تفسیریہ ہے۔ لا یستطیعون مضارع نفی جمع مذکر غائب وہ استطاعت نہیں رکھتے وہ طاقت یا قدرت نہیں رکھتے ۔ سبیلا۔ ای طریقا الی الحق والصواب پس وہ راہ ہدایت وحق نہ پاسکے۔ خیرا من ذلک۔ اس سے بہتر ۔ خیر کے معنی نیکی و بھلائی۔ نیک کام ہیں۔ لیکن یہاں بمعنی افعل ہے بہتر۔ جنت۔ خیرا کا بدل ہے۔ یجعل مضارع مجزوم ۔ واحد مذکر غائب۔ وہ بنادے۔ وہ دے دے۔ اس کا عطف جعل پر ہے۔ اور جواب شرط میں ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔ قصورا قصر کی جمع۔ محل۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–16

لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 16 : (مالھذالرسول) یہ کیسا رسول ہے ‘(یمشی) چلتا ہے ‘(الاسواق (سوق) بازار ‘(کنز) خزانہ ‘(مسحور) جادو میں پھنسا ہوا ‘(ضلوا) وہ گمراہ ہوگئے ‘ قصور (قصر) محل۔ محلات ‘(سعیر) بھڑکتی آگ ‘(تغیظ) غصہ سے جوش مارنا ‘(زفیر) غصہ سے نکلی ہوئی تیز آواز ‘ (ضیق) تنگ ‘ مقرنین (آپس میں جکڑے ہوئے) (ثبور) موت۔ ہلاکت ‘(مایشآء و ن) جو کچھ وہ چاہیں گے ‘(مسئولا) سوال کیا گیا۔ درخواست کا حق ‘۔ تشریح : آیت نمبر 7 تا 16 : سچی اور عظیم تحریک اور مضبوط دلائل کے سامنے شکست کھاجانے والے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ ہر شخص متاثر ہورہا ہے تو وہ طرح طرح کے اعتراضات ‘ الزامات اور ذاتیات پر اتر آتے ہیں چناچہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) دنیا وآخرت کی بھلائی کا ذکر : شان نزول : مشرکین مکہ نے نبی پر تنگ دستی کی طعن کی تو اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے پاس پیغام بھیجا تھا کہ اے محبوب اگر تم دنیا کی تنگ دستی سے گھبراتے ہو تو تمام روئے زمین کے خزانوں کی کنجیاں اللہ تعالیٰ کے حکم سے تمہارا حوالہ ہوجاویں گے اور دنیا میں خوشحالی دینے کے بعد تمہاری عقبی کے مرتبہ میں اللہ تعالیٰ کی کچھ کمی نہ کرے گا، اور اگر تمہاری مرضی ہے تو اللہ دنیا وعقبی کی خوبی کا ذخیرہ تمہارے لیے عقبی میں ہی رکھے گا دنیا چند روزہ ہے نبی نے اس پیغام کے جواب میں فرمایا کہ مجھ کو عقبی میں ہر طرح کی خوبی کا ذخیرہ درکار ہے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا حاصل…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–14

(ف 2) یعنی یہ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ تمہارے پاس ایک باغ ہونا چاہئے ہم کہتے ہیں کہ ہم جب چاہیں گے جنت ونسیم کا وارث بنا دیں گے ، حدیث میں آیا ہے حضور ﷺ کے پاس جبریل (علیہ السلام) امین آئے ، اور انہوں نے پوچھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں ، کیا دنیا کے تمام لذائذ یا آخرت کی نعمتیں ، اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ دنیا کے تمام حظوظ سے آپ کا دامن بھر دیا جائے ، تو ایسا ہو سکتا ہے ، حضور ﷺ نے فرمایا نہیں میں آخرت کی نعمتوں کو ترجیح دیتا ہوں ۔ حل لغات : قصورا : جمع قصر محلات ۔ زفیرا : گدھے کی آواز ، یہاں مراد جہنم کی آواز ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(10) وہ ذات بڑی عالیشان ہے وہ اگر چاہے تو ان کافروں کے اس کہنے سے بھی آپ کو بہتر چیز دیدے وہ بہت سے باغ ہوں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں اور باغات کے علاوہ آپ کو بہت سے محل بھی عطا کردے یعنی اللہ تعالیٰ بہت بلند اور عالیشان ہے وہ اگر چاہے تو ایک باغ کیا بلکہ بہت سے باغات اپنے رسول کو عطا کردے اور جو چیز ان معاندین نے کہی بھی نہیں یعنی بہت سے محلات بھی دیدے لیکن ان شکوک و شبہات کا منشایہ نہیں کہ ان منکرین کو واقعی حق کی تحقیق منظور ہے بلکہ ان شبہات کا منشاء محض شرارت اور دین حق کی مخالفت ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–10

ف 1۔ مطلب یہ کہ جو کچھ جنت میں ملے گا اگر اللہ چاہے تو آپ کو دنیا ہی میں دیدے لیکن بعض حکمتوں سے نہیں چاہا، اور فی نفسہ ضروری تھا نہیں، پس شبہ محض بیہودہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر مشیت ایزدی میں طے ہوتا تو ایک کیا کہتے ہی محل آپ ﷺ کو مل جاتے : 10۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کافر جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ ہمارے علم میں ہے اگر ہماری مشیت میں آپ ﷺ کو محل اور باغ دینا ہوتا تو ایک کیا کتنے ہی محلات اور باغات آپ ﷺ کو دے دیئے جاتے لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا اس وقت یہ لوگ آپ ﷺ کو نبی ورسول مان لیتے ؟ ہرگز نہیں اس لئے کہ ماننے والوں کے لئے ہم نے یہ معیار کب مقرر ہے کہ جس کے پاس باغات اور محلات ہوں وہ نبی ورسول ہوتا ہے اور پھر یہ بھی کہ اگر آپ ﷺ کے پاس محلات و باغات ہوتے اور لوگ آپ ﷺ کو نبی مان لیتے کیا جن لوگوں کے پاس محلات و باغات ہیں ان کو ان لوگوں نے نبی ورسول…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–19

The Second Objection was that if the Holy Prophet ﷺ was a prophet, he should not have been eating and drinking like common people; instead he should have been free from eating and drinking like angels. And if this was not so, he should have at least enough wealth and gardens to take care of his day to day needs, so that he may not need to care for his living. Furthermore, how could he be accepted as a prophet when he is neither an angel nor does an angel accompany him to endorse what he preaches, therefore it appears that he has been charmed by someone which has turned his head and that is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

19 Here again the word tabaraka has been used and in the context it means: "AIIah has full control over everything and has unlimited powers: if he wills to favour somebody, He can do so as and when He wills without Iet or h indrance. " .

Read the full tafseer →