Explained with ayahs 7–14
مشرکین کی حماقتیں
اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کی انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے ؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لئے آتا جاتا کیوں ہے ؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الہٰی سے آگاہ کرتا۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ آیت (فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاۗءَ مَعَهُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ 53) 43۔ الزخرف :53) ، اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے ؟ یا اس کی مدد کے لئے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ چونکہ دل ان…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 20
اصل میں لفظ " السّاعۃ " استعمال ہوا ہے۔ ساعت کے معنی گھڑی اور وقت کے ہیں اور ال اس پر عہد کا ہے، یعنی وہ مخصوص گھڑی جو آنے والی ہے، جس کے متعلق ہم پہلے تم کو خبر دے چکے ہیں۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ یہ لفظ ایک اصطلاح کے طور پر اس وقت خاص کے لیے بولا گیا ہے جبکہ قیامت قائم ہوگی، تمام اولین و آخرین از سرنو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے، سب کو اکٹھا کر کے اللہ تعالیٰ حساب لے گا، اور ہر ایک کو اس کے عقیدہ و عمل کے لحاظ سے جزا یا سزا دے گا۔
سورة الْفُرْقَان 21
یعنی جو باتیں یہ کر رہے ہیں ان کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کو واقعی کسی قابل لحاظ بنیاد پر قرآن کے جعلی کلام ہونے کا شبہ ہے، یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
خلاصہ تفسیر
وہ ذات بڑی عالی شان ہے کہ اگر وہ چاہے تو آپ کو (کفار کی) اس (فرمائش) سے (بھی) اچھی چیز دیدے یعنی بہت سے (غیبی) باغات جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں (بہتر اس لئے کہا کہ وہ تو مطلق باغ کی فرمائش کرتے تھے گو ایک ہی ہو اور متعدد باغ کا ایک سے بہتر ہونا ظاہر ہے) اور (بلکہ ان باغوں کے ساتھ اور بھی مناسب چیزیں دیدے جن کی انہوں نے فرمائش بھی نہیں کی یعنی) آپ کو بہت سے محل دیدے (جو ان باغوں میں بنے ہوں یا باہر ہی ہوں جس سے ان کی فرمائش اور بھی زیادہ نعمتوں کے ساتھ پوری ہوجاوے۔ مطلب یہ کہ جو جنت میں ملے گا اگر اللہ چاہے تو آپ کو دنیا ہی میں دیدے لیکن بعض حکمتوں سے نہیں چاہا اور فی نفسہ ضروری…
Read the full tafseer →یہ ان کے اصل مغالطہ کی طرف اشارہ ہے کہ یہ اپنی دنیوی کامرانیوں کو جو اپنے برحق ہونے کی دلیل سمجھے ہوئے ہیں اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ آخرت کے منکر ہیں حالانکہ انہیں نہیں معلوم کہ جو لوگ آخرت کے منکر ہیں ہم نے ان کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے اگرچہ اس دنیا میں ان کے پاس کتنے ہی مربعے کتنے ہی باغ اور کتنی ہی کوٹھیاں ہوں !
Read the full tafseer →11-1قیامت کا جھٹلانا ہی تکذیب رسالت کا بھی باعث ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
2: یعنی یہ لوگ جو باتیں بنا رہے ہیں، ان کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ حق کے طلب گار ہیں، اور ان کے شبہات دور ہوجائیں تو یہ ایمان لے آئیں، بلکہ اصل وجہ ان کی بےفکری ہے، چونکہ ان کو قیامت اور آخرت پر ایمان نہیں ہے، اس لیے ان کو بےہودہ اعتراضات کرتے ہوئے کوئی خوف نہیں ہوتا کہ آخرت میں ان پر سزا بھی مل سکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
(بل کذبوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعیرا) (11) اذاراتھم من۔۔۔۔ وعدا مسولا ـ
یعنی وہ کفر اور ضلالت کی حدوں کو پار کرکے اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ قیامت کا انکار کر رہے ہیں۔ قرآن کا انداز تعبیر ” بل “ کا لفظ استعمال کر کے ان کی گمراہی یوں مجسم کرتا ہے کہ وہ اس راہ پر بہت دور چلے گئے ہیں یعنی پہلی باتوں کو چھوڑو ‘ انہوں نے تو قیامت کا انکار کردیا ہے۔ اس کے بعد یہ انکشاف کیا جاتا ہے کہ ان فتنہ پر دازون کے لیے کس قدر خوفناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔ یہ آگ ہے جو حاضر ہے ‘ دہکائی ہوئی ہے۔
واعتدنا۔۔۔۔ سعیرا (25 : 11) ” اور جو اس گھڑی کو جھٹلائے ‘ اس کے لیے ہم نے بڑھکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے “۔ یہاں قرآن کریم مجسم…
Read the full tafseer →11 یعنی یہ لوگ جن چیزوں کا مطالبہ کر رہے ہیں، فی الحقیقت طلب حق کی نیت نہیں۔ محض شرارت اور تنگ کرنے کے لیے ہے۔ اور شرارت کا سبب یہ ہے کہ انھیں ابھی تک قیامت اور سزا و جزاء پر یقین نہیں آیا۔ سو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے جھٹلانے سے کچھ نہیں بنتا، قیامت آکر رہے گی اور ان مکذبین کے لیے آگ کا جو جیل خانہ تیار کیا گیا ہے اس میں ضرور رہنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
آیت 10 تَبٰرَکَ الَّذِیْٓ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَکَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِکَ ”
یہ لوگ تو آپ ﷺ پر اعتراض کرتے ہوئے اپنی طرف سے بڑی دور کی کوڑی لاتے ہیں اور اپنے فہم و شعور کے مطابق مختلف چیزوں کے نام گنواتے ہیں کہ آپ ﷺ کو فلاں آسائش میسر ہونی چاہیے اور فلاں چیز آپ ﷺ کے تصرف میں ہونی چاہیے۔ ان بےچاروں کو ہماری قدرت کا اندازہ ہی نہیں۔ ہم اگر چاہیں تو ان کی تجویز کردہ چیزوں سے کہیں بہتر ایسی چیزیں آپ ﷺ کے لیے پیدا کردیں جو ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہ ہوں۔
جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُلا وَیَجْعَلْ لَّکَ قُصُوْرًا ”
یہ لوگ تو ایک باغ کی بات کر رہے ہیں۔ ہم آپ ﷺ کے لیے باغات کے ان گنت سلسلے…
Read the full tafseer →15 یعنی اللہ اگر چاہے تو آپ کو ایک باغ کیا، ایسے بیسیوں باغ عطا کرسکتا ہے۔ اسی طرح رہائش کے لئے ایک محل کیا بیسیوں محل بھی عطا کرسکتا ہے۔ اور دوسری جن چیزوں کا یہ نام لیتے ہیں وہ بھی دینے پر قادر ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا پھر یہ لوگ ایمان لے آئیں گے ؟ اور اس سوال کا یقینی جواب یہ ہے کہ یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ بلکہ پھر اور قسم کی باتیں بنانا شروع کردیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ سرے سے قیامت کے دن پر، دوبارہ جی اٹھنے پر اور اللہ کے سامنے حاضر ہونے پر اور اپنے برے اعمال کی سزا بھگتنے پر یقین ہی نہیں رکھتے۔ پھر یہ لوگ ایسی کٹ جحتیاں نہ کریں تو اور کریں بھی کیا ؟
Read the full tafseer →12۔ یعنی یہ لوگ جو ایسے واہی تباہی مطالبات پیش کررہے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ انہیں حق کی تلاش وطلب شروع ہوئی اور دوران تحقیق میں کچھ شبہات پیش آگئے۔ بلکہ دلوں میں انکار جزاء اعمال شروع سے بسا ہوا ہے۔ اس لیے سنجیدگی وذمہ داری سے یہ مسائل دین پر غور وفکر کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے۔ اور ایسی بےسروپا باتیں زبان سے نکال ڈالتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
آیت نمبر 10 تا 20
ترجمہ : اللہ کی ذات تو بڑی عالی شان ہے یعنی خیر کثیر والی ہے اگر وہ چاہے تو ان کے بیان کردہ باغ اور خزانہ سے بہتر باغات عطا کر دے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں یعنی دنیا میں (عطا کردے) اس لئے کہ آخرت میں ایسے باغات آپ ﷺ کو عطا کرنا تو اس کی مشیت میں ہے ہی، اور آپ کو بہت سے محل (بھی) دیدے یَجْعَلْ لام کے جزم کے ساتھ اور ایک قرأۃ میں (یَجْعَلُ ) رفع کے ساتھ ہے، جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے بلکہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھ رہے ہیں اور قیامت کو جھوٹ سمجھنے والوں کیلئے ہم نے دہکتی ہوئی شدید آگ تیار کر رکھی ہے جن ان کو وہ آگ دور سے دیکھے گی تو وہ لوگ اس کا جوش خروش سنیں گے یعنی غضبناک کے…
Read the full tafseer →بل کذبوا بالساعۃ بلکہ انہوں نے قیامت کی تکذیب کی۔
(یعنی وقوع قیامت کا تعیین نہیں کیا) اس جملہ کا عطف قالوا پر ہے (اور بل کا استعمال ترقی کے لئے) مطلب یہ ہے کہ (انہوں نے صرف اوّل الذکر بات ہی نہیں کہی) بلکہ اس سے بھی زیادہ عجیب بات کہی ‘ یا اس آیت کا تعلق گزشتہ متصل آیت سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ آپ کو مفلسی کا طعن دے کر اور دوسرے بےہودہ طنز کر کے صرف آپ ہی تکذیب نہیں کرتے بلکہ ان کی نظریں محض حقیر سامان دنیا سے آگے نہیں بڑھتیں ان کا خیال ہے عزت کی چیز صرف مال ہے۔ یا یہ معنیٰ ہے کہ یہ قیامت کو ہی نہیں مانتے ‘ پھر اس جواب کی طرف التفات ہی کیسے کریں گے اور آخرت میں اللہ نے جن نعمتوں کے دینے کا آپ…
Read the full tafseer →(11) بلکہ یہ لوگ تو قیامت کے قائم ہونے کو جھوٹ سمجھ رہے ہیں اور ہم نے ایسے شخص کی سزا کے لیے جو قیامت کو جھوٹ سمجھے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے۔
Read the full tafseer →بَلْ كَذَّبُوْا بالسَّاعَةِ ۣ۔۔ : پچھلی آیت کے ساتھ اس کا تعلق یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو اس سے کہیں بہتر چیزیں عطا کر بھی دے تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ لوگ ایمان لے آئیں گے ؟ یقینی جواب اس کا یہ ہے کہ یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے، بلکہ پھر اور قسم کی باتیں بنانا شروع کردیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ سرے سے قیامت کے دن کو، دوبارہ جی اٹھنے کو، اللہ کے سامنے حاضر ہونے کو اور اپنے برے اعمال کی سزا بھگتنے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، بلکہ انھوں نے اسے صاف جھٹلا دیا ہے، کیونکہ اس سے انھیں دنیا میں اپنی خواہش پرستی سے دست بردار ہونا پڑتا ہے، پھر اگر یہ لوگ ایسی کٹ حجتیاں نہ کریں تو اور کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
(بل کذبو بالساعۃ۔۔۔۔۔ )
بل کذبوا بالساعۃ اس ساعت سے مراد یوم قیامت ہے۔ واعتدنالمن کذب بالساعۃ سعیرا۔ سعیر سے مراد جہنم ہے جو ان پر جوش مار رہی ہوگی۔ اذا اتھم من مکان بعید وہ پانچ سو سال کی مسافت سے انہیں دیکھے گی۔ سمعوا لھا تعیظا وزفیرا ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب جہنم انہیں دیکھے گی تو وہ اس کی آواز سنیں گے جو آواز اس کے ان پر حد درجہ غصے ہونے کی ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے جب جہنم کے خازن انہیں دیکھیں گے تو وہ لوگ ان خازنوں کے غصے ہونے کی آواز سنیں گے جو ان کو عذاب دینے کے حریص ہوں گے، پہلا قول زیادہ صحیح ہے، کیونکہ مرفوع روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جس نے جان بوجھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ تبارک تفاعل کے وزن پر ہے برکت سے۔
2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ آیت تبرک الذی نزل الفرقان علی عبدہ سے مراد یہ قرآن ہے جس میں اللہ کی حلال کردہ اور اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور اس کے شرائع اور دین کے احکام ہیں اللہ تعالیٰ نے فرق کردیا ہے حق اور باطل کے درمیان آیت لیکون للعالمین نذیرا یعنی اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا اللہ تعالیٰ سے ڈرانے والا بنا کر تاکہ وہ لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں اور ان واقعات سے ڈرائیں جو پہلی قوموں میں ہوئے آیت وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا اور اپنی مخلوق کی ہر چیز کے لیے اس…
Read the full tafseer →بَلْ [ بلکہ ] كَذَّبُوْا [ انہوں نے جھٹلایا ] بِالسَّاعَةِ ۣ [ اس گھڑی (یعنی قیامت) کو ] وَاَعْتَدْنَا [ اور ہم نے تیار کیا ] لِمَنْ [ اس کے لئے جس نے ] كَذَّبَ [ جھٹلایا ] بِالسَّاعَةِ [ اس گھڑی کو ] سَعِيْرًا [ ایک شعلوں والی آگ ]
نوٹ۔ 1: بل کذبوا بالساعۃ کا مطلب یہ ہے کہ جو باتیں یہ کر رہے ہیں ان کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کو واقعی قرآن کے جعلی کلام ہونے کا خدشہ ہے یا ایمان نہ لانے کی وجہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کھانا کھاتے ہیں ، بازاروں میں چلتے ہیں، نہ آپ ﷺ کے ساتھ کوئی فرشتہ ہے، نہ کوئی خزانہ ہے۔ اصل وجہ ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ آخرت کو نہیں مانتے۔ جس نے ان کو حق اور باطل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
قیامت کے دن کافروں پر دوزخ کا غیظ و غضب، دوزخ کی تنگ جگہوں میں ڈالا جانا، اہل جنت کا جنت میں داخل ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ جی چاہی زندگی میں رہنا
مشرکین جو طرح طرح سے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتے تھے جس میں فرمائشی معجزات کا طلب کرنا بھی تھا اور یہ کہنا بھی تھا کہ آپ کی طرف خزانہ کیوں نہ ڈالا گیا اور آپ کے پاس کوئی باغ کیوں نہیں ہے جس میں سے آپ کھاتے پیتے، اس کے جواب میں فرمایا کہ اللہ پاک جو کثیر البرکات اور کثیر الخیرات ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اگر وہ چاہے تو آپ کو اس سے بہتر عطا فرما دے گا جن کا انہوں نے تذکرہ کیا ہے وہ چاہے تو آپ کو ایسے باغ عطا فرما دے جن کے نیچ نہریں جاری ہوں اور آپ کو محل عطا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
تنبیہ برمنشا انکار رسالت
وبیان بعض احوال واھوال روز قیامت
بل کذبوا بالساعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وکان ربک بصیرا۔
اب آئندہ آیات میں ان منکرین رسالت اور معترضین نبوت کے انکار کا منشا بیان کرتے ہیں کہ آخر اس کی کیا یہ وجہ ہے کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی تکذیب پر اس درجہ تلے ہوئے ہیں تو بتلاتے ہیں کہ ان شبہات اور اعتراضان کا منشا یہ نہیں کہ آپ ﷺ کی شان درویشی وفقیری ان کے ایمان اور ہدایت سے مانع بنی ہوئی ہے بلکہ اصلی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھتے ہیں جس سے آپ ان کو ڈراتے ہیں پس انکار نبوت اور تکذیب رسالت کا اصل منشاء تکذیب قیامت ہے۔ ان کی نظر صرف اسی عطام دنیا پر مقصود ہے ان کا گمان یہ ہے کہ عزت و کرامت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
10:۔ ” تبرک الذی الخ “ یہ دعوی سورت کا اعادہ ہے اور لف و نشر غیر مرتب کے طور پر چھٹے شکوے کا جواب ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے دنیا میں آپ کو دولت کے خزانے اور باغات نہیں دئیے تو اس میں بھی اس کی حکمت پوشیدہ ہے وہ دنیا کے عوض آخرت میں آپ کو نہایت عمدہ باغات اور عالیشان محلات عطا کرے گا۔ ” بل کذبوا بالساعۃ الخ “ یہ ماقبل سے ترقی ہے اس میں مشرکین کے شکوے کی وجہ بتائی گئی ہے یعنی وہ چونکہ آخرت کے منکر ہیں اس لیے کہتے ہیں کہ پیغمبر کو دنیا میں دولت اور باغات کیوں نہیں دئیے گئے یا مطلب یہ ہے کہ وہ صرف غیر اللہ کو برکات دہندہ سمجھتے ہیں بلکہ وہ تو قیامت کا بھی انکار کرتے ہیں۔ ” واعتدنا لمن کذب “ سے ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
حقانیات
گزشتہ آیات میں کفار و مشرکین کی طرف سے قرآن پاک کی حقانیت کے متعلق اعتراض تھا کہ یہ خود ساختہ ہے اور پرانے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں ۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ یہ کسی مخلوق کا کلام نہیں بلکہ خدائے علیم وخبیر کا نازل کردہ ہے۔ ان کا دوسرا اعتراض رسالت پر تھا کہ یہ کیسے نبی ہو سکتا ہے جو ہماری طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا ہے۔ کہتے تھے کہ اس کے ساتھ ایک فرشتہ ہونا چاہئے تھا جو اس کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈراتا ۔ نیز یہ ہے کہ پیغمبر کے خزانے اور باغات ہونے چاہئیں ۔ اللہ نے جواب میں فرمایا کہ لوازمات بشریت رسالت و نبوت کے مانع نہیں ہیں ۔ رسول بھی انسان ہی…
Read the full tafseer →بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَۃِ 0ۣ وَاَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَۃِ سَعِيْرًا 11ۚ
كذب
وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:
إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ،
( ک ذ ب ) الکذب
قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
ساعة
السَّاعَةُ : جزء من أجزاء الزّمان، ويعبّر به عن القیامة، قال : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] ، يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187]
( س و ع )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
مصنف میں ابن ابی شبیہ نے اور جریروابن ابی حاتم نے حلیمہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ سے کہا گیا تھا اگر آپ کی خوشی ہو تو آپکے ہاتھ میں زمین بھر کے خزانوں کی کنجیاں دی جاویں اور اس سے آخرت میں آپ کا کچھ بھی نقصان نہ ہو اور مرضی ہو تو یہ سب کچھ آخرت میں دیا جاوے۔ آپ نے فرمایا آخرت ہی میں چاہتا ہوں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور بہت جگہ اسی قسم کا مضمون احادیث صحیحہ میں آیا ہے چونکہ آپ کی نظر آخرت پر تھی اور ہونی بھی چاہیے اور کفار آخرت کے منکر تھے ان کے نزدیک جو کچھ انعام و افضال ہوں یہیں ہوں تو ہوں نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بل کذبوا بالساعۃ کہ وہ آخرت کے منکر ہیں۔ پھر واعتدنالمن کذب…
Read the full tafseer →بَلْ کَذَّبُوْا بِالسَّاعَۃِ قف وَاَعْتَدْنَا لِمَنْ کَذَّبَ بِالسَّاعَۃِ سَعِیْرًا۔ (الفرقان : 11)
(بلکہ ان لوگوں نے اس گھڑی کو جھٹلا دیا ہے اور جو اس گھڑی کو جھٹلائے اس کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ )
اَلسَّاعَۃ … ساعت کے معنی گھڑی اور وقت کے ہیں اور اس پر ال عہد کا ہے۔ یعنی وہ مخصوص گھڑی جو قیامت کے نام سے معروف ہے اور قرآن کریم میں جابجا اس لفظ کو قیامت کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
ایک مغالطہ
آنحضرت ﷺ کی غربت اور دنیوی مال و اسباب میں کمی کے حوالے سے قریش جس طرح تمسخر اڑاتے تھے اور دولت و ثروت اور دنیوی کامرانیوں کو وہ جس طرح بڑائی کی علامت اور اپنے برحق ہونے کی دلیل سمجھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کے مطالبہ کا دوسرا جواب۔
نبی اکرم ﷺ کے سامنے کفار اس لیے مطالبات پیش کرتے تھے کہ آپ کو الجھایا اور لوگوں کے سامنے لاجواب کیا جائے۔ ان کے مطالبے کی حقیقت یوں بیان کی گئی ہے کہ اے پیغمبر ﷺ ان کے مطالبات اور اعتراضات کا یہ مقصد نہیں کہ وہ آپ پر ایمان لانا چاہتے ہیں۔ ہرگز نہیں بلکہ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ آپ کو الجھائیں اور آپ کو لوگوں کے سامنے لا جواب کریں انہوں نے یہ وطیرہ اس لیے اختیار کر رکھا ہے کہ یہ قیامت کو جھٹلا تے ہیں اگر ان کا قیامت پر ایمان ہوتا تو آپ نے جس قدر ان کو سمجھایا ہے یہ آپ پر ایمان لے آتے۔ اب تو ان کے مطالبے کا یہی جواب ہے کہ جس شخص نے قیامت کو…
Read the full tafseer →اصل قیامت کو جھٹلا دیا ہے :
11: بَلْ کَذَّبُوْا بِالسَّاعَۃِ (بلکہ انہوں نے قیامت کو جھٹلایا) ان سے جو کچھ بیان کیا گیا یہ اس پر عطف ہے فرماتے ہیں بلکہ انہوں نے ان سب سے عجیب تر بات کہی ہے اور وہ قیامت کو جھٹلانے والی بات ہے۔
نمبر 2۔ یہ قریب سے متصل و منسلک ہو۔ گویا انہوں نے اس طرح کہا بلکہ انہوں نے قیامت کو جھٹلایا اس لئے وہ اس جواب کی طرف کیسے توجہ دے سکتے ہیں ؟ اور کس طرح وہ ان چیزوں کا جلد ملنا مان سکتے ہیں جن جیسی چیزوں کا وعدہ آخرت میں آپ سے کیا گیا جبکہ ان کو آخرت پر ایمان ہی نہیں۔ وَاَعْتَدْنَا لِمَنْ کَذَّبَ بِالسَّا عَۃِ سَعِیْرًا (اور ہم نے اس شخص کیلئے جس نے قیامت کو جھٹلایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
تفسیر۔
10۔ تبارک الذی ان شاء جعل لک خیرامن ذالک، ، خزانوں اور باغوں سے بہتر نعمتیں دنیامیں ہی دے دیتا۔ عکرمہ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کرتے ہیں کہ اگر وہ چاہے تو اس سے یعنی بازاروں میں گھومنے اور معاش کی تلاشی میں پھرنے سے بہتر عنایت کردے پھر آگے خیرکوبیان کیا اور فرمایا، جنات تجری من تحتھا الانھار، ویجعل لک قصورا، مضبوط مکان، عرب کے نزدیک ہر مضبوط مکان کو قصر کہتے ہیں۔ ابن کثیر ، ابن عامر اور عاصم نے بروایت ابوبکر، یجعل ، لام پر پیش پڑھا ہے دوسرے قراء نے جزم پڑھا ہے کیونکہ یہ جزاء کی جگہ واقع ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے، ان شاء جعل لک، ،
حضرت ابوامامہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
11۔ 13:۔ مشرکین مکہ اللہ کے رسول کی تنگدستی پر طعن جو کرتے تھے ‘ اوپر اس کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا ‘ ان لوگوں کی یہ طعن کی باتیں معجزہ کی خواہش کے طور پر نہیں بلکہ مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندہ ہونے اور حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کے یہ لوگ منکر ہیں ‘ اس لیے عقبیٰ کی بہتری کو یہ لوگ طعن اور مسخراپن کی باتوں میں اڑا دیتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے بھی ایسے لوگوں کے لیے دوزخ کی آگ کو خوب دہکا کر تیار کر رکھا ہے ‘ صحیح سند سے ترمذی میں ابوہریرہ ؓ 1 ؎ سے روایت ہے ‘ کہ دوزخ کی آگ میں اللہ تعالیٰ نے ایک طرح کی بینائی کی قوت پیدا کی ہے جس سے وہ مشرکوں ‘ ظالموں ‘ مصوروں کو دیکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
(آیت نمبر (7
یہ ان لوگوں کا قول ہے جنہوں نے رسول ﷺ کو جھٹلایا اور آپ کی رسالت میں جرح و قدع کی۔ انہوں نے اعتراض کیا کہ یہ رسول فرشتہ یا کوئی بادشاہ کیوں نہیں یا اس کی خدمت اور مدد کے لیے کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا ؟ چناچہ انہوں نے کہا : (مال ھذ الرسول) یعنی یہ کیسا شخص ہے جو رسالت کا دعویٰ کرتا ہے ( یا کل الطعام ) ” کھانا کھاتا ہے “ حالانکہ یہ تو بش رکی خصوصیات میں سے ہے۔ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ ان امور کا محتاج ہوتا بشر جن کا محتاج ہے۔ ( ویمشی فی الاسواق) یعنی خریدو فروخت کے لیے “ بازاروں میں چلتا پھرتا ہے “ اور یہ ان کے خیال کے مطابق ایک رسول کے لائق نہیں ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–48
پانی کے مسائل
قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…
Read the full tafseer →13 منکرین کا انجام دوزخ کی ہولناک آگ ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ منکرین و مکذبین قیامت کے لیے دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ تیار ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قیامت کو جھٹلانے والوں کیلئے ہم نے دوزخ کی دہکتی بھڑکتی ہولناک آگ تیار کر رکھی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی اصل بات یہ نہیں کہ یہ لوگ فی الواقع ایمان لانے کے لئے ایسے مطالبے کرتے ہیں۔ نہیں یہ تو محض ان لوگوں کے حیلے بہانے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت اور وہاں کی سزا و جزا کے تصور ہی کے منکر ہیں۔ ان کے سامنے تو بس یہی دنیا اور اس کی یہ عارضی اور فانی لذتیں ہی سب کچھ ہیں۔ یہ انہی کے لئے جیتے اور انہی کیلئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
نبی کریم ﷺ پر فضل اور منکرین پر عذاب
تشریح : پہلے تو پیارے نبی ﷺ سے اللہ نے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے کہ آپ کے لیے محلات و باغات کیا معنی رکھتے ہیں۔ مگر آپ جس حال میں ہیں سب اللہ کی خاص حکمت کی وجہ سے ہے ورنہ نبوت سے بڑی اور کون سی چیز ہے۔ اتنا بڑا عزاز دنیاوی عیش و آرام کے سامنے کیا حقیقت رکھتا ہے۔ آپ کا دل امیر ہے تو آپ امیر ترین انسان ہیں آپ کی روح نورالٰہی سے منور ہے تو آپ دنیا کے عظیم ترین انسان ہیں۔ یہی چیزیں تو ہیں جو موت کے بعد ہمیشہ کا آرام و عیش دلوائیں گی ورنہ یہ دنیا کے محلات باغات اور عیش و آرام تو یہیں پر رہ جائے گا۔ بلکہ یہ لوگ جو قیامت کو جھٹلاتے ہیں ان کو اچھی طرح خبردار کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
ان کی سمجھ اتنی بات نہیں آتی کہ جس خالق کائنات نے ساری کائنات بنائی ہے وہ چاہتا تو ان کے اندازے سے زیادہ خوبصورت باغات جو ہمیشہ شاداب رہتے ، اور ان کی امیدوں سے بڑے دولت کے انبار آپ ﷺ کو عطا فرما دیتا ، ان کی امیدوں سے زیادہ عالی شان محلات آپ ﷺ کے لیے بنا دیتا ، یہ اس کی حکمت کہ اس نے عام آدمی کی خوش نصیبی سے آپ ﷺ کا مزاج عالی ہی ایسا بنایا کہ آپ ﷺ عام زندگی پسند فرماتے اور اپنی رحمت سے آپ ﷺ کو دنیا میں عام لوگوں ہی کی زندگی دی کہ آپ ﷺ ساری انسانیت کے لیے اللہ جل جلالہ کی رحمت ہیں تو ہر عام آدمی کی رسائی آپ ﷺ کی بارگاہ تک رہے ورنہ آپ ﷺ اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
10 ۔ اسی لئے بےخوفوں کی طرح جو منہ میں آتا ہے بک دیتے ہیں۔ ( ابن کثیر)
Read the full tafseer →(25:11) بل کذبوا بالساعۃ۔ بل حرف اضراب (روگردانی کرنا) ہے مگر صرف اس صورت میں جبکہ اس کے بعد کوئی جملہ آئے۔ کبھی اضراب سے اس کے ماقبل کا ابطال ہوتا ہے اور کبھی اضراب کے معنی ایک غرض سے دوسری غرض کی طرف منتقل ہونا ہے (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو 2:135 ۔ الاتقان جلد اول نوع چہلم)
یہاں ایک غرض سے دوسری غرض کی طرف منتقلی کے معنی میں آیا ہے یعنی بل اضراب انتقالی کے لئے ہے۔ ای انتقال الی حکایۃ نوع اخر من ابا طیلہم متعلق بامر المعادو ماقبل کان متعلقا بامرالتوحید وامر النبوۃ۔
یہ ان کے باطل امور کی دوسری حکایت ہے جس کا تعلق آخرت کی زندگی سے ہے اور جو اس سے قبل تھا وہ امر توحید اور امر نبوت سے متعلق تھا۔ بل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–16
لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 16 :
(مالھذالرسول) یہ کیسا رسول ہے ‘(یمشی) چلتا ہے ‘(الاسواق (سوق) بازار ‘(کنز) خزانہ ‘(مسحور) جادو میں پھنسا ہوا ‘(ضلوا) وہ گمراہ ہوگئے ‘ قصور (قصر) محل۔ محلات ‘(سعیر) بھڑکتی آگ ‘(تغیظ) غصہ سے جوش مارنا ‘(زفیر) غصہ سے نکلی ہوئی تیز آواز ‘ (ضیق) تنگ ‘ مقرنین (آپس میں جکڑے ہوئے) (ثبور) موت۔ ہلاکت ‘(مایشآء و ن) جو کچھ وہ چاہیں گے ‘(مسئولا) سوال کیا گیا۔ درخواست کا حق ‘۔
تشریح : آیت نمبر 7 تا 16 :
سچی اور عظیم تحریک اور مضبوط دلائل کے سامنے شکست کھاجانے والے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ ہر شخص متاثر ہورہا ہے تو وہ طرح طرح کے اعتراضات ‘ الزامات اور ذاتیات پر اتر آتے ہیں چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
(ف 2) مشرکین کے عذاب کا ذکر :
ان آیتوں میں فرمایا کہ مشرکین مکہ اللہ کے رسول کی تنگ دستی پر طعن جو کرتے تھے اوپر اس کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا ان لوگوں کی یہ طعن کی باتیں معجزے کے خواہش کے طور پر نہیں ہیں بلکہ مرنے کے بعد دوبارہ پھر زندہ ہونے اور حساب وکتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کے یہ لوگ منکر ہیں اس لیے عقبی کی بہترین کو یہ لوگ طعن اور مسخراپن کی باتوں میں اڑادیتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے بھی ایسے لوگوں کے لیے دوزخ کی آگ کو خوب دہکا کرتیارکررکھا ہے اور اس دوزخ کی آگ میں اللہ تعالیٰ نے ایک طرح کی بینائی کی قوت پیدا کی ہے جس سے وہ مشرکوں ظالموں کو دیکھ کر قیامت کے دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–13
[4] یعنی محمد ﷺ نے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
(ف 2) یعنی یہ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ تمہارے پاس ایک باغ ہونا چاہئے ہم کہتے ہیں کہ ہم جب چاہیں گے جنت ونسیم کا وارث بنا دیں گے ، حدیث میں آیا ہے حضور ﷺ کے پاس جبریل (علیہ السلام) امین آئے ، اور انہوں نے پوچھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں ، کیا دنیا کے تمام لذائذ یا آخرت کی نعمتیں ، اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ دنیا کے تمام حظوظ سے آپ کا دامن بھر دیا جائے ، تو ایسا ہو سکتا ہے ، حضور ﷺ نے فرمایا نہیں میں آخرت کی نعمتوں کو ترجیح دیتا ہوں ۔
حل لغات :
قصورا : جمع قصر محلات ۔
زفیرا : گدھے کی آواز ، یہاں مراد جہنم کی آواز ہے ۔
Read the full tafseer →(11) ان کا منشاء حق کی تحقیق نہیں ہے بلکہ یہ قیامت کے منکر ہیں اور وقوع قیامت کے جھوٹ سمجھتے ہیں اور جو لوگ قیامت کی تکذیب کرتے اور قیامت کو جھٹلاتے ہیں ہم نے ان کیلئے بھڑکتی ہوئی آگ یعنی دوزخ تیار کر رکھی ہے یعنی قیامت کو جھٹلانا اور قیامت کا انکار کرنا یا جہنمی ہونے کا موجب ہے ان کا منشاء صرف یہ ہے کہ وقوع قیامت کی تکذیب کی جائے آگے دوزخ اور اس کے عذاب کی مزید تفصیل ہے۔
Read the full tafseer →ف 2۔ اس لئے فکر انجام نہیں ہے، اور جو جی میں آتا ہے کرلیتے ہیں، بک دیتے ہیں۔
3۔ کیونکہ قیامت کی تکذیب سے اللہ و رسول کی تکذیب لازم آتی ہے، جو اصل سبب ہے دوزخ میں جانے کا۔
Read the full tafseer →ان کی ہٹ دھرمی کا اصل باعث ان کا قیامت کے روز سے انکار ہے :
11۔ جن لوگوں نے دنیوی سروسامان ‘ زمینوں ‘ محلات کو ٹھیوں ‘ کارخانوں اور فیکٹریوں کو حق کا معیار سمجھا ہے ان کے پاس کوئی دلیل کتاب وسنت سے موجود نہیں تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں پر ان اشیاء کی کثرت پائی گئی وہ سوئے چند معدودے آدمیوں کے حق سے ہمیشہ دور ہی رہے ‘ ایسا کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ یہ چیزیں حق کا معیار مقرر نہ کی گئی تھیں بلکہ حق کا معیار ہمیشہ امانت ‘ حسن اخلاق اور اچھا کردار ہی قرار پایا ۔ جن لوگوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) سے ان دنیوی چیزوں کو طلب کیا ان کی اس طلب نے یہ بات واضح کردی کہ ان لوگوں کا آخرت پر کوئی یقین نہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
The Second Objection was that if the Holy Prophet ﷺ was a prophet, he should not have been eating and drinking like common people; instead he should have been free from eating and drinking like angels. And if this was not so, he should have at least enough wealth and gardens to take care of his day to day needs, so that he may not need to care for his living. Furthermore, how could he be accepted as a prophet when he is neither an angel nor does an angel accompany him to endorse what he preaches, therefore it appears that he has been charmed by someone which has turned his head and that is…
Read the full tafseer →20 The word As-Sa'at, meaning the Time or the Hour, has been used in the Qur'an as a term for the promised Hour of Resurrection, when all human beings of all ages will be raised from the dead and gathered together before AIIah Almighty to account for their beliefs and deeds, right or wrong, and rewarded or punished accordingly. '
21 That is, "The objections they are raising are not due to the reason that they doubt the authenticity of the Qur'an on some rational ground, or that they do not believe in you for the reason that you eat food and walk about in the streets like the common people, or…
Read the full tafseer →