Al-Furqaan 25:12

Al-Furqaan · from ayah 12

25:12

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّزَفِیْرًا ۟اِذَا رَاَتۡهُمۡ مِّنۡ مَّكَانٍۢ بَعِيۡدٍ سَمِعُوۡا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيۡرًا

جس وقت وہ ان کو دور سے دیکھے گی (تو غضبناک ہو رہی ہوگی اور یہ) اس کے جوش (غضب) اور چیخنے چلانے کو سنیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

When the Hellfire sees them from a distant place, they will hear its fury and roaring.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 2 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:12

وہ جب دور سے اِن کو دیکھے گی تو یہ اُس کے غضب اور جوش کی آوازیں سن لیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس وقت وہ ان کو دور سے دیکھے گی (تو غضبناک ہو رہی ہوگی اور یہ) اس کے جوش (غضب) اور چیخنے چلانے کو سنیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب وه انہیں دور سے دیکھے گی تو یہ اس کا غصے سے بپھرنا اور دھاڑنا سنیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جب وہ ان کو دور سے دیکھے گی تو یہ لوگ اس کے بپھرنے اور پھنکارنے کی آوازیں سنیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جب وہ انہیں دور جگہ سے دیکھے گی تو سنیں گے اس کا جوش مارنا اور چنگھاڑنا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جب وہ (آتشِ دوزخ) دور کی جگہ سے (ہی) ان کے سامنے ہوگی یہ اس کے جوش مارنے اور چنگھاڑنے کی آواز کو سنیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جب وہ انھیں دور جگہ سے دیکھے گی تو وہ اس کے لیے سخت غصے کی اور گدھے کی سی آواز سنیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جب وہ دور سے انھیں (اپنے شکار کو) دیکھے گی تو یہ اس کے جوش و خروش کی آوازیں خود ہی سن لیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ دور ہی سے جب ان کو دیکھے گی تو وہ اس کا بپھرنا اور دھاڑنا بنیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ایسی ہولناک آگ کہ جب وہ ان کو دور سے دیکھے گی تو یہ لوگ اس کے غیظ و غضب اور دہاڑنے کی آوازیں سنیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

وہ ان کو دور سے دیکھے گی تو یہ اس کا جوش و خروش سنیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ جب دور سے ان کو دیکھے گی تو وہ سنیں گے اس کے جوش اور اس کی پھنکار کو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس وقت وہ ان کو دور سے دیکھے تو یہ اس کا غصے سے چلانا اور چیخنا سنیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

When it will see them from afar, they will hear the sounds of its raging and roaring.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When it will see them from a distant place, they will hear (the sounds of) its raging and breathing,

— Muhammad Taqi Usmani

When it will see them from a distant place, they will hear (the sounds of) its raging and breathing,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

When it sees them from a far place, they will hear its raging and its roaring.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When it seeth them from afar, they hear the crackling and the roar thereof.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

When the Hellfire sees them from a distant place, they will hear its fury and roaring.

— Saheeh International

Even if they were to see [this fire] from a distant place, they would only listen to its raging and roaring.

— Muhammad Sarwar

When it shall come into their sight from a distant place, they shall hear its vehement raging and roaring.

— Muhammad Habib Shakir

When it beholdeth them from afar, they shall hear it raging and roaring.

— Abdul Majid Daryabadi

When it sees them from a place far off, they will hear its fury and its ranging sigh.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–14

مشرکین کی حماقتیں اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کی انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے ؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لئے آتا جاتا کیوں ہے ؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الہٰی سے آگاہ کرتا۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ آیت (فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاۗءَ مَعَهُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ 53؀) 43۔ الزخرف :53) ، اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے ؟ یا اس کی مدد کے لئے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ چونکہ دل ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 12–15

سورة الْفُرْقَان 22 آگ کا کسی کو دیکھنا ممکن ہے کہ استعارے کے طور پر ہو، جیسے ہم کہتے ہیں، وہ جامع مسجد کے مینار تم کو دیکھ رہے ہیں، اور ممکن ہے، حقیقی معنوں میں ہو، یعنی جہنم کی آگ دنیا کی آگ کی طرح بےشعور نہ ہو بلکہ دیکھ بھال کر جلانے والی ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–19

خلاصہ تفسیر وہ ذات بڑی عالی شان ہے کہ اگر وہ چاہے تو آپ کو (کفار کی) اس (فرمائش) سے (بھی) اچھی چیز دیدے یعنی بہت سے (غیبی) باغات جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں (بہتر اس لئے کہا کہ وہ تو مطلق باغ کی فرمائش کرتے تھے گو ایک ہی ہو اور متعدد باغ کا ایک سے بہتر ہونا ظاہر ہے) اور (بلکہ ان باغوں کے ساتھ اور بھی مناسب چیزیں دیدے جن کی انہوں نے فرمائش بھی نہیں کی یعنی) آپ کو بہت سے محل دیدے (جو ان باغوں میں بنے ہوں یا باہر ہی ہوں جس سے ان کی فرمائش اور بھی زیادہ نعمتوں کے ساتھ پوری ہوجاوے۔ مطلب یہ کہ جو جنت میں ملے گا اگر اللہ چاہے تو آپ کو دنیا ہی میں دیدے لیکن بعض حکمتوں سے نہیں چاہا اور فی نفسہ ضروری…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

دوزخ اور اہل دوزخ کی تصویر تغیظ کے معنی غصہ سے بپھرنے اور زفیر کے معنی چیخنے اور دھاڑنے کے ہیں۔ یہ اس دوزخ کی صفت بیان ہوئی ہے جو ان ظالموں کے لئے اللہ تعالیٰ نے تیار کر رکھی ہے۔ فرمایا کہ وہ ان سے انتقام کے جوش میں پہلے سے بپھری ہوئی ہے اور ان کو دور ہی سے دیکھ کر اس طرح دھاڑے گی جس طرح بھوکا شیر دھاڑتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 12–13

12-1یعنی جہنم ان کافروں کو دور سے میدان محشر میں دیکھ کر ہی غصے سے کھول اٹھے گی اور ان کو اپنے دامن غضب میں لینے کے لئے چلائے گی اور جھنجھلائے گی، جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا (اِذَآ اُلْقُوْا فِيْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِيْقًا وَّهِىَ تَفُوْرُ ۝ ۙ تَكَادُ تَمَــيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ) 67۔ الملک :8-7) ' ' جب جہنمی، جہنم میں ڈالے جائیں گے تو اس کا دھاڑنا سنیں گے اور وہ (جوش غضب سے) اچھلتی ہوگی، ایسے لگے گا کہ وہ غصے سے پھٹ پڑے گی ' جہنم کا دیکھنا اور چلانا ایک حقیقت ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–14

3: یہ ترجمہ مشہور مفسر ابو السعود ؓ کی تفسیر پر مبنی ہے جسے علامہ آلوسی نے بھی نقل فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عذاب کی جس شدت سے گھبرا کر تم موت کو پکار رہے ہو، وہ تو آنے والی نہیں ہے، بلکہ تمہیں بار بار نت نئے عذاب سے سابقہ پڑے گا، اور ہر مرتبہ تمہیں اس کی شدت سے گھبرا کر موت کو پکارنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 11–16

(بل کذبوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعیرا) (11) اذاراتھم من۔۔۔۔ وعدا مسولا ـ یعنی وہ کفر اور ضلالت کی حدوں کو پار کرکے اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ قیامت کا انکار کر رہے ہیں۔ قرآن کا انداز تعبیر ” بل “ کا لفظ استعمال کر کے ان کی گمراہی یوں مجسم کرتا ہے کہ وہ اس راہ پر بہت دور چلے گئے ہیں یعنی پہلی باتوں کو چھوڑو ‘ انہوں نے تو قیامت کا انکار کردیا ہے۔ اس کے بعد یہ انکشاف کیا جاتا ہے کہ ان فتنہ پر دازون کے لیے کس قدر خوفناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔ یہ آگ ہے جو حاضر ہے ‘ دہکائی ہوئی ہے۔ واعتدنا۔۔۔۔ سعیرا (25 : 11) ” اور جو اس گھڑی کو جھٹلائے ‘ اس کے لیے ہم نے بڑھکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے “۔ یہاں قرآن کریم مجسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی دوزخ کی آگ محشر میں جہنمیوں کو دور سے دیکھ کر جوش میں بھر جائے گی اور اس کی غضبناک آوازوں اور خوفناک پھنکاروں سے بڑے بڑے دلیروں کے پتے پانی ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 12 اِذَا رَاَتْہُمْ مِّنْ مَّکَانٍم بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَہَا تَغَیُّظًا وَّزَفِیْرًا ” جہنم جب دور سے ہی ایسے مجرموں کی صورت میں اپنے شکار کو آتے دیکھے گی تو غضبناک ہو کر جوش مارے گی اور اس کے دھاڑنے اور پھنکارنے کی خوفناک آوازوں کو مجرم لوگ بہت دور سے سن سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

16 ایسے معاند اور ہٹ دھرم لوگوں کے استعمال کے لئے ہم نے جہنم کی بھڑکتی آگ کو پہلے سے ہی تیار کر رکھا ہے جب وہ اپنا شکار دیکھے گی تو فوراً جوش میں آجائے گی اور آگ کی لپٹوں کی تیزی و تندی کی وجہ سے اس میں سے کئی طرح غضبناک آوازیں اور پھنکاریں پیدا ہونے لگیں گی اور اس کی یہ آواز سن کر ایسے معاند اور ہٹ دھرم لوگوں کے جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہی پتے پانی ہوجائیں گے۔ اس آیت میں جہنم کے لئے دیکھنے کا فعل یا تو مجازاً استعمال ہوا ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ ہمارا گھر تو ایک عرصہ سے آپ کی راہ تک رہا ہے یا حقیقی معنوں میں بھی ہوسکتا ہے جسکا مطلب یہ ہوتا کہ جہنم کی آگ میں شعور بھی ہوگا اور جو کوئی جتنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

13۔ یعنی دوزخ ان بدبختوں کو دیکھ کر اس قدر غضبناک ہوگی کہ یہ دورہی سے اس کا جوش خروش سن لیں گے۔ (آیت) ” راتھم “ سے استدلال کیا گیا ہے کہ دوزخ بھی صاحب شعور وادراک ہے۔ (آیت) ” سعیرا “۔ سعیر مذکر ہے، یہاں نار کے معنی میں ہے اور معنی کی مناسبت سے مؤنث لایا گیا ہے۔ لھا کی ضمیر مؤنث بھی اسی جانب ہے۔ انما جاء مؤنثا علی معنی النار (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–20

آیت نمبر 10 تا 20 ترجمہ : اللہ کی ذات تو بڑی عالی شان ہے یعنی خیر کثیر والی ہے اگر وہ چاہے تو ان کے بیان کردہ باغ اور خزانہ سے بہتر باغات عطا کر دے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں یعنی دنیا میں (عطا کردے) اس لئے کہ آخرت میں ایسے باغات آپ ﷺ کو عطا کرنا تو اس کی مشیت میں ہے ہی، اور آپ کو بہت سے محل (بھی) دیدے یَجْعَلْ لام کے جزم کے ساتھ اور ایک قرأۃ میں (یَجْعَلُ ) رفع کے ساتھ ہے، جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے بلکہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھ رہے ہیں اور قیامت کو جھوٹ سمجھنے والوں کیلئے ہم نے دہکتی ہوئی شدید آگ تیار کر رکھی ہے جن ان کو وہ آگ دور سے دیکھے گی تو وہ لوگ اس کا جوش خروش سنیں گے یعنی غضبناک کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اذا راتہم من مکان بعید جب وہ آگ ان کو دور کے مقام سے دیکھے گی۔ بعض اہل تحقیق نے لکھا ہے کہ آگ کی طرف دیکھنے کی نسبت حقیقی ہے۔ (واقع میں آگ دیکھے گی) بغوی نے لکھا ہے ‘ ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ مجھ پر کوئی شخص قصداً دروغ بندی کرے اس کو اپنی جگہ آگ کی دونوں آنکھوں کے درمیان بنا لینی چاہئے۔ صحابہ نے عرض کیا کیا آگ کی بھی آنکھیں ہوں گی ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم نے نہیں سنا کہ اللہ نے فرمایا ہے اِذَا رَاَتْہُمْ مِّنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ ۔ بعض علماء نے کہا آگ کی طرف دیکھنے کی نسبت مجازی ہے یعنی دوزخ کے فرشتے دیکھیں گے یا یہ مطلب ہے کہ آگ اتنی دوری پر ہوگی کہ دیکھی جاسکے گی۔ ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(12) اور جب وہ دوزخ ان کو پانچ سو سال کی مسافت سے دیکھے گی تو یہ لوگ دور ہی سے اس کا جوش و خروش سنیں گے یعنی وہ غصہ میں انسان کی طرح غضب ناک ہوگی اور گدھے کی طرح چیخے گی ،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ۔۔ : جہنم جب ان کافروں کو بہت دور سے دیکھے گی تو وہ جہنم کی ایسی آواز سنیں گے جو شدید غصے والی اور گدھے کی آواز جیسی ہوگی۔ اس وقت جہنم کے غصے کا حال سورة ملک (6 تا 8) میں بیان ہوا ہے۔ اس سے جہنم کا صاحب شعور ہونا ثابت ہوتا ہے، اس کے علاوہ بھی کئی آیات و احادیث سے جہنم کا صاحب شعور ہونا، غصے ہونا، گدھے جیسی آواز نکالنا، کلام کرنا سب کچھ ثابت ہے، جیسا کہ فرمایا : (يَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَتَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِيْدٍ) [ ق : 30 ] ”جس دن ہم جہنم سے کہیں گے کیا تو بھر گئی ؟ اور وہ کہے گی کیا کچھ مزید ہے ؟“ اور صحیح بخاری میں جنت اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 11–14

(بل کذبو بالساعۃ۔۔۔۔۔ ) بل کذبوا بالساعۃ اس ساعت سے مراد یوم قیامت ہے۔ واعتدنالمن کذب بالساعۃ سعیرا۔ سعیر سے مراد جہنم ہے جو ان پر جوش مار رہی ہوگی۔ اذا اتھم من مکان بعید وہ پانچ سو سال کی مسافت سے انہیں دیکھے گی۔ سمعوا لھا تعیظا وزفیرا ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب جہنم انہیں دیکھے گی تو وہ اس کی آواز سنیں گے جو آواز اس کے ان پر حد درجہ غصے ہونے کی ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے جب جہنم کے خازن انہیں دیکھیں گے تو وہ لوگ ان خازنوں کے غصے ہونے کی آواز سنیں گے جو ان کو عذاب دینے کے حریص ہوں گے، پہلا قول زیادہ صحیح ہے، کیونکہ مرفوع روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جس نے جان بوجھ کر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذا رأتہم من مکان بعید سے مراد ہے کہ جہنم سو سال کی مسافت سے ان کو دیکھے گی۔ 2۔ الطبرانی وابن مردویہ من طریق مکحول ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا تو اس کو چاہیے کہ جہنم کی آنکھوں کے درمیان اپنی جگہ بنا لے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا جہنم کی آنکھیں ہوں گی فرمایا ہاں، کیا تم نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اذا رأتہم من مکان بعید وہ ان کو نہیں دیکھے گی مگر اپنی آنکھوں سے۔ 3۔ عبدبن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم من طریق خالد بن دریک صحابہ کرام ؓ میں سے ایک صحابی سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِذَا [ جب ] رَاَتْهُمْ [ وہ (آگ) دیکھے گی ان کو ] مِّنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ [ دور والی جگہ سے ] سَمِعُوْا [ تو وہ سنیں گے ] لَهَا [ اس کو ] تَغَيُّظًا [ غصہ سے کھولتے ہوئے ] وَّزَفِيْرًا [ اور چنگھاڑتے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 11–14

قیامت کے دن کافروں پر دوزخ کا غیظ و غضب، دوزخ کی تنگ جگہوں میں ڈالا جانا، اہل جنت کا جنت میں داخل ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ جی چاہی زندگی میں رہنا مشرکین جو طرح طرح سے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتے تھے جس میں فرمائشی معجزات کا طلب کرنا بھی تھا اور یہ کہنا بھی تھا کہ آپ کی طرف خزانہ کیوں نہ ڈالا گیا اور آپ کے پاس کوئی باغ کیوں نہیں ہے جس میں سے آپ کھاتے پیتے، اس کے جواب میں فرمایا کہ اللہ پاک جو کثیر البرکات اور کثیر الخیرات ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اگر وہ چاہے تو آپ کو اس سے بہتر عطا فرما دے گا جن کا انہوں نے تذکرہ کیا ہے وہ چاہے تو آپ کو ایسے باغ عطا فرما دے جن کے نیچ نہریں جاری ہوں اور آپ کو محل عطا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–20

تنبیہ برمنشا انکار رسالت وبیان بعض احوال واھوال روز قیامت بل کذبوا بالساعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وکان ربک بصیرا۔ اب آئندہ آیات میں ان منکرین رسالت اور معترضین نبوت کے انکار کا منشا بیان کرتے ہیں کہ آخر اس کی کیا یہ وجہ ہے کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی تکذیب پر اس درجہ تلے ہوئے ہیں تو بتلاتے ہیں کہ ان شبہات اور اعتراضان کا منشا یہ نہیں کہ آپ ﷺ کی شان درویشی وفقیری ان کے ایمان اور ہدایت سے مانع بنی ہوئی ہے بلکہ اصلی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھتے ہیں جس سے آپ ان کو ڈراتے ہیں پس انکار نبوت اور تکذیب رسالت کا اصل منشاء تکذیب قیامت ہے۔ ان کی نظر صرف اسی عطام دنیا پر مقصود ہے ان کا گمان یہ ہے کہ عزت و کرامت کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 12–14

11:۔ ” اذا راتھم الخ “ یہ آتش جہنم کی شدت کا بیان ہے۔ ” رات “ کی ضمیر جہنم کی طرف راجع ہے۔ قیامت کے دن جب جہنم کی آگ دور سے دوزخیوں کے سامنے ہوگی اور وہ اسے دیکھ لیں گے تو اس کا غیظ و غضب اس قدر جوش میں آجائے گا کہ وہ دور ہی سے اس کی غضبناک آوازیں اور خوفناک پھنکاریں سن کر دہشت زدہ ہوجائیں گے ” زفیر “ سے آتش جہنم کی وہ خوفناک آواز مراد ہے جو اس کے شدید جوش اور غلیان سے پیدا ہوگی۔ سمعوا صوت طیبھا واشتعالھا (بحر ج 6 ص 485) ۔ ” واذا القوا منہا الخ “ ” مکانا “ مفعول فیہ ہے اور ” منھا “ اس سے حال مقدم ہے۔ ای فی مکان فھو منصوب علی الظرفیۃ و (منھا) حال منہ (روح ج 18 ص 243) ۔ ” مقرنین “ القوا کے نائب…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–16

حقانیات گزشتہ آیات میں کفار و مشرکین کی طرف سے قرآن پاک کی حقانیت کے متعلق اعتراض تھا کہ یہ خود ساختہ ہے اور پرانے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں ۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ یہ کسی مخلوق کا کلام نہیں بلکہ خدائے علیم وخبیر کا نازل کردہ ہے۔ ان کا دوسرا اعتراض رسالت پر تھا کہ یہ کیسے نبی ہو سکتا ہے جو ہماری طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا ہے۔ کہتے تھے کہ اس کے ساتھ ایک فرشتہ ہونا چاہئے تھا جو اس کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈراتا ۔ نیز یہ ہے کہ پیغمبر کے خزانے اور باغات ہونے چاہئیں ۔ اللہ نے جواب میں فرمایا کہ لوازمات بشریت رسالت و نبوت کے مانع نہیں ہیں ۔ رسول بھی انسان ہی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِذَا رَاَتْہُمْ مِّنْ مَّكَانٍؚبَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَہَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا۝ 12 رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–17

مصنف میں ابن ابی شبیہ نے اور جریروابن ابی حاتم نے حلیمہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ سے کہا گیا تھا اگر آپ کی خوشی ہو تو آپکے ہاتھ میں زمین بھر کے خزانوں کی کنجیاں دی جاویں اور اس سے آخرت میں آپ کا کچھ بھی نقصان نہ ہو اور مرضی ہو تو یہ سب کچھ آخرت میں دیا جاوے۔ آپ نے فرمایا آخرت ہی میں چاہتا ہوں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور بہت جگہ اسی قسم کا مضمون احادیث صحیحہ میں آیا ہے چونکہ آپ کی نظر آخرت پر تھی اور ہونی بھی چاہیے اور کفار آخرت کے منکر تھے ان کے نزدیک جو کچھ انعام و افضال ہوں یہیں ہوں تو ہوں نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بل کذبوا بالساعۃ کہ وہ آخرت کے منکر ہیں۔ پھر واعتدنالمن کذب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِذَا رَاَ تْھُمْ مِّنْ مَّکَانٍ م بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَھَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا۔ (الفرقان : 12) (وہ جب دور ہی سے ان کو دیکھے گی تو وہ اس کا بپھرنا اور دھاڑنا سنیں گے۔ ) تَغَیُّظ … کے معنی غصہ سے بپھرنے کے ہیں۔ زَفِیْر … کے معنی چیخنے اور دھاڑنے کے ہیں۔ دوزخ اور اہل دوزخ کی تصویر دوزخ آگ کی طرح ایک ایسی مخلوق ہے جس میں نہ روح ہے اور نہ حواس ہیں۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ اس کا دور سے دیکھنا محض ایک استعارہ ہے لیکن اس میں بھی کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ اگر یہ کہا جائے کہ دوزخ اور جہنم کو اللہ تعالیٰ نے دیکھنے اور محسوس کرنے کی قوت عطا فرمائی ہے۔ وہ دور سے آتے ہوئے کافروں کو دیکھ لے گی اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–14

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے مطالبہ کا دوسرا جواب۔ نبی اکرم ﷺ کے سامنے کفار اس لیے مطالبات پیش کرتے تھے کہ آپ کو الجھایا اور لوگوں کے سامنے لاجواب کیا جائے۔ ان کے مطالبے کی حقیقت یوں بیان کی گئی ہے کہ اے پیغمبر ﷺ ان کے مطالبات اور اعتراضات کا یہ مقصد نہیں کہ وہ آپ پر ایمان لانا چاہتے ہیں۔ ہرگز نہیں بلکہ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ آپ کو الجھائیں اور آپ کو لوگوں کے سامنے لا جواب کریں انہوں نے یہ وطیرہ اس لیے اختیار کر رکھا ہے کہ یہ قیامت کو جھٹلا تے ہیں اگر ان کا قیامت پر ایمان ہوتا تو آپ نے جس قدر ان کو سمجھایا ہے یہ آپ پر ایمان لے آتے۔ اب تو ان کے مطالبے کا یہی جواب ہے کہ جس شخص نے قیامت کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مناظر قیامت : 12: اِذَا رَاَتْھُمْ (جب وہ آگ ان کو دیکھے گی) یعنی ان کے سامنے ہوگی : مِّنْ مَّکَ انٍ بَعِیْدٍ (دور مقام سے) یعنی جب آگ ان سے اتنی دور رہ جائے گی جتنی دیکھنے والوں کو آنکھوں سے نظر آسکتی ہے۔ سَمِعُوْا لَھَا تَغَیُّظًا وَّزَفِیْرًا (تو وہ اس آگ کے غضبناک ہونے کی آواز اور غرغراہٹ سنیں گے) وہ اس کے جوش مارنے کو سنیں گے اور اس کو غضبناک اور غرانے والے کی آواز سے تشبیہ دی گئی ہے۔ نمبر 2۔ جب آگ کے نگران ان کو دیکھیں گے غضبناک ہونگے اور کفار پر غصہ سے غرائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 12۔ اذاراتھم من مکان بعید،۔ کلبی کا قول ہے کہ اس سے مراد ایک سال کی راہ اور بعض کے نزدی سو سال کی راہ اور بعض نے کہا پانچ سو سال کی مسافت۔ اور ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا مجھ پر کوئی شخص جھوت کی بات کی نسبت نہ کرے اور جو ایسا کرے گا تو اس کو اپنی جگہ آگ کی دونوں آنکھوں کے درمیان بنالینی چاہیے، صحابہ کرام نے عرض کیا کہ آگ کی بھی آنکھیں ہوں گی، حضور نے فرمایا کیا تم نے نہیں سنا کہ اللہ نے فرمایا، اذاراتھم من مکان بعید، اور بعض نے کہا کہ جہنم کے داروغوں کو جب دیکھیں گے ، سمعوالھا تغیظا، جوش مارنے کی آواز جو غضبناک آدمی کی غصیلی آواز کی طرح ہو۔ وزفیرا، ایک آواز، تغیظ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–13

11۔ 13:۔ مشرکین مکہ اللہ کے رسول کی تنگدستی پر طعن جو کرتے تھے ‘ اوپر اس کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا ‘ ان لوگوں کی یہ طعن کی باتیں معجزہ کی خواہش کے طور پر نہیں بلکہ مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندہ ہونے اور حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کے یہ لوگ منکر ہیں ‘ اس لیے عقبیٰ کی بہتری کو یہ لوگ طعن اور مسخراپن کی باتوں میں اڑا دیتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے بھی ایسے لوگوں کے لیے دوزخ کی آگ کو خوب دہکا کر تیار کر رکھا ہے ‘ صحیح سند سے ترمذی میں ابوہریرہ ؓ 1 ؎ سے روایت ہے ‘ کہ دوزخ کی آگ میں اللہ تعالیٰ نے ایک طرح کی بینائی کی قوت پیدا کی ہے جس سے وہ مشرکوں ‘ ظالموں ‘ مصوروں کو دیکھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–14

(آیت نمبر (7 یہ ان لوگوں کا قول ہے جنہوں نے رسول ﷺ کو جھٹلایا اور آپ کی رسالت میں جرح و قدع کی۔ انہوں نے اعتراض کیا کہ یہ رسول فرشتہ یا کوئی بادشاہ کیوں نہیں یا اس کی خدمت اور مدد کے لیے کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا ؟ چناچہ انہوں نے کہا : (مال ھذ الرسول) یعنی یہ کیسا شخص ہے جو رسالت کا دعویٰ کرتا ہے ( یا کل الطعام ) ” کھانا کھاتا ہے “ حالانکہ یہ تو بش رکی خصوصیات میں سے ہے۔ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ ان امور کا محتاج ہوتا بشر جن کا محتاج ہے۔ ( ویمشی فی الاسواق) یعنی خریدو فروخت کے لیے “ بازاروں میں چلتا پھرتا ہے “ اور یہ ان کے خیال کے مطابق ایک رسول کے لائق نہیں ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–48

پانی کے مسائل قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 12–13

14 آتش دوزخ کی ہولناکی کی تصویر : سو اس سے دوزخ کی آگ کی ہولناکی اور اس کے غیظ و غضب کا کچھ حال بیان فرمایا گیا ہے۔ سو دوزخ کی وہ آگ دنیاوی آگ کی طرح اندھی بہری آگ نہیں ہوگی کہ سب کے ساتھ ایک ہی سلوک کرے۔ بلکہ وہ دیکھتی سنتی اور جانتی پہچانتی ہوگی کہ مجرم کون ہے اور اس کا جرم کیا اور کس درجے کا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا ہے ۔ { تَطَّلِعُ عَلَی الاَفْئِدَۃِ } ۔ یعنی " وہ جھانکتی ہوگی دلوں پر " تاکہ یہ دیکھے کہ کس دل پر کفر و بغاوت کی سیاہی کتنی پکی اور فسق و فجور کا زنگ کس قدر گہرا اور گاڑھا ہے۔ اور وہ پکار پکار کر اپنی طرف بلا رہی ہوگی ان لوگوں کو جنہوں نے راہ حق و ہدایت سے منہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–14

نبی کریم ﷺ پر فضل اور منکرین پر عذاب تشریح : پہلے تو پیارے نبی ﷺ سے اللہ نے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے کہ آپ کے لیے محلات و باغات کیا معنی رکھتے ہیں۔ مگر آپ جس حال میں ہیں سب اللہ کی خاص حکمت کی وجہ سے ہے ورنہ نبوت سے بڑی اور کون سی چیز ہے۔ اتنا بڑا عزاز دنیاوی عیش و آرام کے سامنے کیا حقیقت رکھتا ہے۔ آپ کا دل امیر ہے تو آپ امیر ترین انسان ہیں آپ کی روح نورالٰہی سے منور ہے تو آپ دنیا کے عظیم ترین انسان ہیں۔ یہی چیزیں تو ہیں جو موت کے بعد ہمیشہ کا آرام و عیش دلوائیں گی ورنہ یہ دنیا کے محلات باغات اور عیش و آرام تو یہیں پر رہ جائے گا۔ بلکہ یہ لوگ جو قیامت کو جھٹلاتے ہیں ان کو اچھی طرح خبردار کر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–20

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف ان کی سمجھ اتنی بات نہیں آتی کہ جس خالق کائنات نے ساری کائنات بنائی ہے وہ چاہتا تو ان کے اندازے سے زیادہ خوبصورت باغات جو ہمیشہ شاداب رہتے ، اور ان کی امیدوں سے بڑے دولت کے انبار آپ ﷺ کو عطا فرما دیتا ، ان کی امیدوں سے زیادہ عالی شان محلات آپ ﷺ کے لیے بنا دیتا ، یہ اس کی حکمت کہ اس نے عام آدمی کی خوش نصیبی سے آپ ﷺ کا مزاج عالی ہی ایسا بنایا کہ آپ ﷺ عام زندگی پسند فرماتے اور اپنی رحمت سے آپ ﷺ کو دنیا میں عام لوگوں ہی کی زندگی دی کہ آپ ﷺ ساری انسانیت کے لیے اللہ جل جلالہ کی رحمت ہیں تو ہر عام آدمی کی رسائی آپ ﷺ کی بارگاہ تک رہے ورنہ آپ ﷺ اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

11 ۔ ممکن ہے دوزخ کا یہ دیکھنا ” ظھرت لھم “ کے معنی میں ہو یعنی جب دوزخ ان کے سامنے ظاہر ہوگی اور انہیں نظر آئیگی اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس میں حقیقتاً دیکھنے کی قوت پیدا کر دے آخرت میں دوزخ کا کلام کرنا بھی تو ثابت ہی ہے۔ فتقول ھل من فرید۔ ( سورة ق :30) 12 ۔ حدیث میں ہے کہ جب کسی کو دوزخ کی طرف کھینچ کر لایا جائیگا تو اسے دیکھ کر جہنم اس شوق ورغبت سے بلائے گی جیسے جو کو دیکھ کر خچر آواز نکالتا ہے۔ اعاذنا اللہ منھا۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:12) رأتہم۔ رأت ماضی واحد مؤنث غائب جس کا مرجع سعیرا ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب جس کا مرجع کفار ہیں جن کا اوپر ذکر ہورہا ہے (جب ) وہ دوزخ (کی دہکتی ہوئی) آگ ان کو دیکھے گی۔ تغیظا۔ تفعل کے وزن پر مصدر ہے غصہ کھانا۔ جھنجھلانا۔ اظہار غیظ وغضب ۔ جوش مارنا تنوین تفخیم (شدت و بڑائی کے اظہار) کے لئے ہے۔ زفیرا۔ چلانا۔ چنگھاڑنا۔ بروزن فعیل مصدر ہے۔ یہاں بھی تنوین تفخیم کے لئے ہے۔ سمعوا لھا تغیظا وزفیرا۔ وہ اس کا جوش مارنا اور چنگھاڑنا سنیں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–16

لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 16 : (مالھذالرسول) یہ کیسا رسول ہے ‘(یمشی) چلتا ہے ‘(الاسواق (سوق) بازار ‘(کنز) خزانہ ‘(مسحور) جادو میں پھنسا ہوا ‘(ضلوا) وہ گمراہ ہوگئے ‘ قصور (قصر) محل۔ محلات ‘(سعیر) بھڑکتی آگ ‘(تغیظ) غصہ سے جوش مارنا ‘(زفیر) غصہ سے نکلی ہوئی تیز آواز ‘ (ضیق) تنگ ‘ مقرنین (آپس میں جکڑے ہوئے) (ثبور) موت۔ ہلاکت ‘(مایشآء و ن) جو کچھ وہ چاہیں گے ‘(مسئولا) سوال کیا گیا۔ درخواست کا حق ‘۔ تشریح : آیت نمبر 7 تا 16 : سچی اور عظیم تحریک اور مضبوط دلائل کے سامنے شکست کھاجانے والے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ ہر شخص متاثر ہورہا ہے تو وہ طرح طرح کے اعتراضات ‘ الزامات اور ذاتیات پر اتر آتے ہیں چناچہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–13

(ف 2) مشرکین کے عذاب کا ذکر : ان آیتوں میں فرمایا کہ مشرکین مکہ اللہ کے رسول کی تنگ دستی پر طعن جو کرتے تھے اوپر اس کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا ان لوگوں کی یہ طعن کی باتیں معجزے کے خواہش کے طور پر نہیں ہیں بلکہ مرنے کے بعد دوبارہ پھر زندہ ہونے اور حساب وکتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کے یہ لوگ منکر ہیں اس لیے عقبی کی بہترین کو یہ لوگ طعن اور مسخراپن کی باتوں میں اڑادیتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے بھی ایسے لوگوں کے لیے دوزخ کی آگ کو خوب دہکا کرتیارکررکھا ہے اور اس دوزخ کی آگ میں اللہ تعالیٰ نے ایک طرح کی بینائی کی قوت پیدا کی ہے جس سے وہ مشرکوں ظالموں کو دیکھ کر قیامت کے دن…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–14

(ف 2) یعنی یہ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ تمہارے پاس ایک باغ ہونا چاہئے ہم کہتے ہیں کہ ہم جب چاہیں گے جنت ونسیم کا وارث بنا دیں گے ، حدیث میں آیا ہے حضور ﷺ کے پاس جبریل (علیہ السلام) امین آئے ، اور انہوں نے پوچھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں ، کیا دنیا کے تمام لذائذ یا آخرت کی نعمتیں ، اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ دنیا کے تمام حظوظ سے آپ کا دامن بھر دیا جائے ، تو ایسا ہو سکتا ہے ، حضور ﷺ نے فرمایا نہیں میں آخرت کی نعمتوں کو ترجیح دیتا ہوں ۔ حل لغات : قصورا : جمع قصر محلات ۔ زفیرا : گدھے کی آواز ، یہاں مراد جہنم کی آواز ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(12) جب وہ دوزخ کی آگ ان دین حق کے منکروں کو دیکھے گی تو یہ بد دین اس کی غضبت آلود آواز اور اس کے چلا نے اور اس کے جوش و خروش کو سنیں گے یعنی قیامت کے دن جب دوزخ ان کو دور سے دیکھے گی تو یہ دور ہی سے اس کے جھنجھلانے اور اس کے شوروغل کو سنیں گے تکاد تمیز من الغیظ

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–17

ف 4۔ مطلب یہ کہ انہوں نے تمہاری عبادت کہ واقع میں ضلالت ہے تمہاری امر و رضا سے کی تھی جیسا ان لوگوں کا زعم تھا کہ یہ معبودین خوش ہوتے ہیں اور خوش ہو کر اللہ تعالیٰ سے شفاعت کریں گے یا اپنی رائے فاسد سے اختراع کرلی تھی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دوزخ اور اہل دوزخ کا نقشہ قرآن کریم کی نظر میں : 12۔ (تغیظ) غیظ وغضب ‘ غصہ سے بپھرنے پر بولا جاتا ہے اور بھڑکتی ہوئی آگ پر جب مزید ایندھن پڑتا ہے اور آگ اس سے مزید بپھر جاتی ہے تو اس پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے اس طرح (زفیر) کے معنی بھی چیخنے اور چلانے بلکہ دھاڑنے کے ہیں اور اس جگہ یہ لفظ بھی آگ کے بھڑکنے کی آواز پر ہی بولا گیا ہے اور عین ممکن ہے کہ اس میں گرائے جانے والوں کی حالت کا یہ بیان ہو رہا ہے اور اس روز کفار ومشرکین پر جو گزرے گی یہ اس کا حال بیان کیا جارہا ہے تاکہ اس کی سختی کا سن کر شاید وہ اب بھی اپنی غوایت وضلالت اور ہٹ دھرمی سے باز آجائیں اور دوزخ کی ان تکلیفوں سے اپنے آپ کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–19

The Second Objection was that if the Holy Prophet ﷺ was a prophet, he should not have been eating and drinking like common people; instead he should have been free from eating and drinking like angels. And if this was not so, he should have at least enough wealth and gardens to take care of his day to day needs, so that he may not need to care for his living. Furthermore, how could he be accepted as a prophet when he is neither an angel nor does an angel accompany him to endorse what he preaches, therefore it appears that he has been charmed by someone which has turned his head and that is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–15

22 "The Fire will see them" The words used in the Text may be metaphorical, or they may mean that the Fire of Hell will be endowed with the faculties of seeing, thinking and judging .

Read the full tafseer →