Al-Furqaan 25:13

Al-Furqaan · from ayah 13

25:13

وَاِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا ۟ؕوَاِذَاۤ اُلۡقُوۡا مِنۡهَا مَكَانًـا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيۡنَ دَعَوۡا هُنَالِكَ ثُبُوۡرًا

اور جب یہ دوزخ کی کسی تنگ جگہ میں (زنجیروں میں) جکڑ کر ڈالے جائیں گے تو وہاں موت کو پکاریں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when they are thrown into a narrow place therein bound in chains, they will cry out thereupon for destruction.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 2 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:13

اور جب یہ دست و پا بستہ اُس میں ایک تنگ جگہ ٹھونسے جائیں گے تو اپنی موت کو پکارنے لگیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب یہ دوزخ کی کسی تنگ جگہ میں (زنجیروں میں) جکڑ کر ڈالے جائیں گے تو وہاں موت کو پکاریں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب یہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں مشکیں کس کر پھینک دیئے جائیں گے تو وہاں اپنے لئے موت ہی موت پکاریں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب ان کو اچھی طرح باندھ کر اس کی ایک تنگ جگہ میں پھینکا جائے گا تو وہاں یہ موت کی آواز دے کر پکاریں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب اس کی کسی تنگ جگہ میں ڈالے جائیں گے زنجیروں میں جکڑے ہوئے تو وہاں موت مانگیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب وہ اس میں کسی تنگ جگہ سے زنجیروں کے ساتھ جکڑے ہوئے (یا اپنے شیطانوں کے ساتھ بندھے ہوئے) ڈالے جائیں گے اس وقت وہ (اپنی) ہلاکت کو پکاریں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب وہ اس کی کسی تنگ جگہ میں آپس میں جکڑے ہوئے ڈالے جائیں گے تو وہاں کسی نہ کسی ہلاکت کو پکاریں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب اس میں دست و پابستہ ایک تنگ جگہ سے پھینکے جائیں گے تو اس وقت موت کو پکاریں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ جب اس کی کسی تنگ جگہ میں باندھ کر ڈال دیئے جائیں گے تو اس وقت اپنی ہلاکت کو پکاریں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب ڈال دیا جائے گا ان بدبختوں کو اس کے کسی تنگ و تاریک مقام میں جکڑا بندھا ہوا، تو یہ وہاں پر رہ رہ کر موت کو پکاریں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب وہ اس میں کسی کو تنگ جگہ ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈالدیئے جائیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب وہ پھینک دیے جائیں گے اس کی ایک تنگ جگہ میں زنجیروں میں جکڑے ہوئے تو اس وقت وہ موت کو پکاریں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب یہ دوزخ کی کسی تنگ جگہ میں زنجیروں میں جکڑ کر ڈالے جائیں گے تو وہاں موت کو پکاریں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And when they are chained together and flung into a narrow space therein, they will begin to call for death.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and when they will be thrown into a narrow place therein, while they will be chained together, they will call for death.

— Muhammad Taqi Usmani

and when they will be thrown into a narrow place therein, while they will be chained together, they will call for death.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when they shall be thrown into a narrow place thereof, chained together, they will exclaim therein for destruction.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when they are flung into a narrow place thereof, chained together, they pray for destruction there.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when they are thrown into a narrow place therein bound in chains, they will cry out thereupon for destruction.

— Saheeh International

When they are thrown, bound, into a narrow place therein, then only will they wish for their death.

— Muhammad Sarwar

And when they are cast into a narrow place in it, bound, they shall there call out for destruction.

— Muhammad Habib Shakir

And when they are flung into a strait place thereof, bound Up, they shall call therein unto death.

— Abdul Majid Daryabadi

And when they are cast, bound together into a constricted place therein, they will plead for destruction there and then!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–14

مشرکین کی حماقتیں اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کی انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے ؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لئے آتا جاتا کیوں ہے ؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الہٰی سے آگاہ کرتا۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ آیت (فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاۗءَ مَعَهُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ 53؀) 43۔ الزخرف :53) ، اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے ؟ یا اس کی مدد کے لئے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ چونکہ دل ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 12–15

سورة الْفُرْقَان 22 آگ کا کسی کو دیکھنا ممکن ہے کہ استعارے کے طور پر ہو، جیسے ہم کہتے ہیں، وہ جامع مسجد کے مینار تم کو دیکھ رہے ہیں، اور ممکن ہے، حقیقی معنوں میں ہو، یعنی جہنم کی آگ دنیا کی آگ کی طرح بےشعور نہ ہو بلکہ دیکھ بھال کر جلانے والی ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–19

خلاصہ تفسیر وہ ذات بڑی عالی شان ہے کہ اگر وہ چاہے تو آپ کو (کفار کی) اس (فرمائش) سے (بھی) اچھی چیز دیدے یعنی بہت سے (غیبی) باغات جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں (بہتر اس لئے کہا کہ وہ تو مطلق باغ کی فرمائش کرتے تھے گو ایک ہی ہو اور متعدد باغ کا ایک سے بہتر ہونا ظاہر ہے) اور (بلکہ ان باغوں کے ساتھ اور بھی مناسب چیزیں دیدے جن کی انہوں نے فرمائش بھی نہیں کی یعنی) آپ کو بہت سے محل دیدے (جو ان باغوں میں بنے ہوں یا باہر ہی ہوں جس سے ان کی فرمائش اور بھی زیادہ نعمتوں کے ساتھ پوری ہوجاوے۔ مطلب یہ کہ جو جنت میں ملے گا اگر اللہ چاہے تو آپ کو دنیا ہی میں دیدے لیکن بعض حکمتوں سے نہیں چاہا اور فی نفسہ ضروری…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ تصویر ہے ان ظالموں کے عذاب دوزخ کی فرمایا کہ جب یہ اس کی کسی نہایت تنگ جگہ میں باندھ کر ڈال دیئے جائیں گے تو وہاں وہ اپنی موت کو پکاریں گے۔ یعنی اول تو جگہ تنگ اور پھر اس میں بھی وہ باندھ کر اور زنجیروں میں جکڑ کر ڈالے جائیں گے۔ دوسرے مقام میں فرمایا ہے انھا علیھم مرصدۃ فی عمد ممددۃ (الھمزۃ 9-8) یعنی وہ ان کے اوپر سے بند ہوگی اور وہ اس کے اندر لمبے لمبے ستونوں کے ساتھ بندھے ہوئے ہوں گے۔۔ ایک اور مقام میں ان کے لئے سلاسل اور اغلال کا ذکر بھی آیا ہے۔ دعواء منالک ثبورًا ثبور کے معنی موت اور ہلاکت کے ہیں یعنی اس وقت وہ موت کی دہائی دیں گے اس لئے کہ اس عذاب سے رہائی کی واحد شکل جو ان کو نظر آئے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 12–13

12-1یعنی جہنم ان کافروں کو دور سے میدان محشر میں دیکھ کر ہی غصے سے کھول اٹھے گی اور ان کو اپنے دامن غضب میں لینے کے لئے چلائے گی اور جھنجھلائے گی، جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا (اِذَآ اُلْقُوْا فِيْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِيْقًا وَّهِىَ تَفُوْرُ ۝ ۙ تَكَادُ تَمَــيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ) 67۔ الملک :8-7) ' ' جب جہنمی، جہنم میں ڈالے جائیں گے تو اس کا دھاڑنا سنیں گے اور وہ (جوش غضب سے) اچھلتی ہوگی، ایسے لگے گا کہ وہ غصے سے پھٹ پڑے گی ' جہنم کا دیکھنا اور چلانا ایک حقیقت ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–14

3: یہ ترجمہ مشہور مفسر ابو السعود ؓ کی تفسیر پر مبنی ہے جسے علامہ آلوسی نے بھی نقل فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عذاب کی جس شدت سے گھبرا کر تم موت کو پکار رہے ہو، وہ تو آنے والی نہیں ہے، بلکہ تمہیں بار بار نت نئے عذاب سے سابقہ پڑے گا، اور ہر مرتبہ تمہیں اس کی شدت سے گھبرا کر موت کو پکارنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 11–16

(بل کذبوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعیرا) (11) اذاراتھم من۔۔۔۔ وعدا مسولا ـ یعنی وہ کفر اور ضلالت کی حدوں کو پار کرکے اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ قیامت کا انکار کر رہے ہیں۔ قرآن کا انداز تعبیر ” بل “ کا لفظ استعمال کر کے ان کی گمراہی یوں مجسم کرتا ہے کہ وہ اس راہ پر بہت دور چلے گئے ہیں یعنی پہلی باتوں کو چھوڑو ‘ انہوں نے تو قیامت کا انکار کردیا ہے۔ اس کے بعد یہ انکشاف کیا جاتا ہے کہ ان فتنہ پر دازون کے لیے کس قدر خوفناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔ یہ آگ ہے جو حاضر ہے ‘ دہکائی ہوئی ہے۔ واعتدنا۔۔۔۔ سعیرا (25 : 11) ” اور جو اس گھڑی کو جھٹلائے ‘ اس کے لیے ہم نے بڑھکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے “۔ یہاں قرآن کریم مجسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی دوزخ میں ہر مجرم کے لیے خاص جگہ ہوگی جہاں سے ہل نہ سکے گا۔ اور ایک نوعیت کے کئی کئی مجرم ایک ساتھ زنجیروں میں جکڑے ہوں گے۔ اس وقت مصیبت سے گھبرا کر موت کو پکاریں گے کہ کاش موت آکر ہماری ان دردناک مصائب کا خاتمہ کر دے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13 وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْہَا مَکَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا ہُنَالِکَ ثُبُوْرًا ” اس وقت وہ دعا کریں گے کہ انہیں موت آجائے۔ شعور کی زندگی کا قصہ تمام ہو اور انہیں نسیاً منسیاً کردیاجائے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

17 یعنی جہنم میں ہر مرجم معاند کے لئے اتنی تنگ جگہ ہوگی جہاں سے وہ ہل بھی نہ سکے گا۔ علاوہ ازیں ایک ہی نوعیت کے کئی کئی مجرم ایک ساتھ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔ جہنم کے غیظ و غضب کی لپٹیں انھیں ہر طرف گھیرے ہوں گی۔ اس وقت وہ اس مصیبت سے گھبرا کر موت کو پکاریں گے کہ کاش موت آکر ہماری ان درد ناک مصیبتوں کا خاتمہ کردے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 13–14

14۔ وہ بدبخت دوزخی جو دوزخ ہی کی ناقابل برداشت ہولناکیوں سے گھبرا کر چیخ اٹھیں گے کہ کاش ہمیں موت آجاتی ! انہیں جواب ملے گا کہ ایک ہی موت کیسی، اب تو تمہاری قسمت میں موتوں ہی موتوں کی تکلیفیں ہیں !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–20

آیت نمبر 10 تا 20 ترجمہ : اللہ کی ذات تو بڑی عالی شان ہے یعنی خیر کثیر والی ہے اگر وہ چاہے تو ان کے بیان کردہ باغ اور خزانہ سے بہتر باغات عطا کر دے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں یعنی دنیا میں (عطا کردے) اس لئے کہ آخرت میں ایسے باغات آپ ﷺ کو عطا کرنا تو اس کی مشیت میں ہے ہی، اور آپ کو بہت سے محل (بھی) دیدے یَجْعَلْ لام کے جزم کے ساتھ اور ایک قرأۃ میں (یَجْعَلُ ) رفع کے ساتھ ہے، جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے بلکہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھ رہے ہیں اور قیامت کو جھوٹ سمجھنے والوں کیلئے ہم نے دہکتی ہوئی شدید آگ تیار کر رکھی ہے جن ان کو وہ آگ دور سے دیکھے گی تو وہ لوگ اس کا جوش خروش سنیں گے یعنی غضبناک کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا القوا منہا مکانا ضیقا مقرنین دعوا ہنا لک ثبورا۔ اور جب ان کو دوزخ کے تنگ مقام میں باندھ جکڑ کر ڈالا جائے گا تو وہاں وہ ہلاکت (یعنی موت) کو پکاریں گے۔ تنگ مقام میں ڈالے جانے کی غرض ہوگی عذاب کی شدت۔ تنگی میں بےچینی اور وسعت مکان میں کچھ راحت ہوتی ہی ہے۔ ابن ابی حاتم نے یحییٰ بن اسید کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا گیا ‘ فرمایا قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ان کو دوزخ میں اس طرح ٹھونسا جائے گا جیسے دیوار میں میخ۔ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت میں آیا ہے جیسے برچھے بوری میں۔ ابن مبارک نے بطریق قتادہ بیان کیا کہ حضرت عبداللہ (بن عمر) فرماتے تھے کافروں پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(13) اور جب یہ لوگ اس دوزخ کی کسی تنگ جگہ میں شیاطین کے ساتھ ہاتھ پیر جکڑ کر ڈال دیے جائیں گے تو اس تنگ جگہ میں یہ موت ہی موت پکاریں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا۔۔ :”مُّقَرَّنِيْنَ“ ”قَرَنَ الثَّوْرَیْنِ“ (ض) اس نے دو بیل ایک لکڑی میں اکٹھے جوڑ دیے۔ ”قَرَنَ الْبَعِیْرَیْنِ“ اس نے دو اونٹ ایک رسی میں اکٹھے باندھ دیے۔ ”مُّقَرَّنِيْنَ“ باب تفعیل سے اسم مفعول ہے، اس میں باندھنے کی شدت کا اظہار ہو رہا ہے۔ اس سے دو چیزوں کا مفہوم ظاہر ہوتا ہے، ایک ان کے ہاتھوں، پاؤں اور گردنوں کا زنجیروں سے بندھا ہوا ہونا اور دوسرا ایک قسم کے کئی مجرموں کا ایک ہی جگہ ہونا۔ (دیکھیے نمل : 83۔ حم السجدہ : 19) یعنی جہنم میں ہر مجرم کے لیے اتنی تنگ جگہ ہوگی جہاں سے وہ ہل بھی نہیں سکے گا، اس کے علاوہ ایک ہی قسم کے کئی مجرم ایک ساتھ ہوں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 11–14

(بل کذبو بالساعۃ۔۔۔۔۔ ) بل کذبوا بالساعۃ اس ساعت سے مراد یوم قیامت ہے۔ واعتدنالمن کذب بالساعۃ سعیرا۔ سعیر سے مراد جہنم ہے جو ان پر جوش مار رہی ہوگی۔ اذا اتھم من مکان بعید وہ پانچ سو سال کی مسافت سے انہیں دیکھے گی۔ سمعوا لھا تعیظا وزفیرا ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب جہنم انہیں دیکھے گی تو وہ اس کی آواز سنیں گے جو آواز اس کے ان پر حد درجہ غصے ہونے کی ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے جب جہنم کے خازن انہیں دیکھیں گے تو وہ لوگ ان خازنوں کے غصے ہونے کی آواز سنیں گے جو ان کو عذاب دینے کے حریص ہوں گے، پہلا قول زیادہ صحیح ہے، کیونکہ مرفوع روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جس نے جان بوجھ کر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 13–14

1۔ ابن ابی حاتم نے یحییٰ بن اسید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت واذا القو منہا مکانا ضیقا سے مراد ہے جیسے نیزے کا پچھلا حصہ نیزے میں ہوتا ہے۔ جہنم جہنمیوں کے لیے تنگ ہوگی 3۔ ابن المبارک نے الزہد میں وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بتایا گیا کہ عبداللہ ؓ فرمایا کرتے تھے کہ جہنم کافر پر ایسی تنگ کردی جائے گی جیسے نیزے کے نچلے حصے کا لوہا نیزے پر تنگ ہوتا ہے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ مقرنین سے مراد ہے کہ ان کے ہاتھ پاؤں جکڑے ہوئے ہوں گے۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِذَآ [ اور جب ] اُلْقُوْا [ وہ لوگ ڈالے جائیں گے ] مِنْهَا [ اس میں سے ] مَكَانًا ضَيِّقًا [ ایک تنگ جگہ میں ] مُّقَرَّنِيْنَ [ جکڑے ہوئے ] دَعَوْا [ تو وہ دعا کریں گے ] هُنَالِكَ [ وہیں ] ثُبُوْرًا [ ہلاک ہونے کی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 11–14

قیامت کے دن کافروں پر دوزخ کا غیظ و غضب، دوزخ کی تنگ جگہوں میں ڈالا جانا، اہل جنت کا جنت میں داخل ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ جی چاہی زندگی میں رہنا مشرکین جو طرح طرح سے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتے تھے جس میں فرمائشی معجزات کا طلب کرنا بھی تھا اور یہ کہنا بھی تھا کہ آپ کی طرف خزانہ کیوں نہ ڈالا گیا اور آپ کے پاس کوئی باغ کیوں نہیں ہے جس میں سے آپ کھاتے پیتے، اس کے جواب میں فرمایا کہ اللہ پاک جو کثیر البرکات اور کثیر الخیرات ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اگر وہ چاہے تو آپ کو اس سے بہتر عطا فرما دے گا جن کا انہوں نے تذکرہ کیا ہے وہ چاہے تو آپ کو ایسے باغ عطا فرما دے جن کے نیچ نہریں جاری ہوں اور آپ کو محل عطا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–20

تنبیہ برمنشا انکار رسالت وبیان بعض احوال واھوال روز قیامت بل کذبوا بالساعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وکان ربک بصیرا۔ اب آئندہ آیات میں ان منکرین رسالت اور معترضین نبوت کے انکار کا منشا بیان کرتے ہیں کہ آخر اس کی کیا یہ وجہ ہے کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی تکذیب پر اس درجہ تلے ہوئے ہیں تو بتلاتے ہیں کہ ان شبہات اور اعتراضان کا منشا یہ نہیں کہ آپ ﷺ کی شان درویشی وفقیری ان کے ایمان اور ہدایت سے مانع بنی ہوئی ہے بلکہ اصلی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھتے ہیں جس سے آپ ان کو ڈراتے ہیں پس انکار نبوت اور تکذیب رسالت کا اصل منشاء تکذیب قیامت ہے۔ ان کی نظر صرف اسی عطام دنیا پر مقصود ہے ان کا گمان یہ ہے کہ عزت و کرامت کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 12–14

11:۔ ” اذا راتھم الخ “ یہ آتش جہنم کی شدت کا بیان ہے۔ ” رات “ کی ضمیر جہنم کی طرف راجع ہے۔ قیامت کے دن جب جہنم کی آگ دور سے دوزخیوں کے سامنے ہوگی اور وہ اسے دیکھ لیں گے تو اس کا غیظ و غضب اس قدر جوش میں آجائے گا کہ وہ دور ہی سے اس کی غضبناک آوازیں اور خوفناک پھنکاریں سن کر دہشت زدہ ہوجائیں گے ” زفیر “ سے آتش جہنم کی وہ خوفناک آواز مراد ہے جو اس کے شدید جوش اور غلیان سے پیدا ہوگی۔ سمعوا صوت طیبھا واشتعالھا (بحر ج 6 ص 485) ۔ ” واذا القوا منہا الخ “ ” مکانا “ مفعول فیہ ہے اور ” منھا “ اس سے حال مقدم ہے۔ ای فی مکان فھو منصوب علی الظرفیۃ و (منھا) حال منہ (روح ج 18 ص 243) ۔ ” مقرنین “ القوا کے نائب…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–16

حقانیات گزشتہ آیات میں کفار و مشرکین کی طرف سے قرآن پاک کی حقانیت کے متعلق اعتراض تھا کہ یہ خود ساختہ ہے اور پرانے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں ۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ یہ کسی مخلوق کا کلام نہیں بلکہ خدائے علیم وخبیر کا نازل کردہ ہے۔ ان کا دوسرا اعتراض رسالت پر تھا کہ یہ کیسے نبی ہو سکتا ہے جو ہماری طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا ہے۔ کہتے تھے کہ اس کے ساتھ ایک فرشتہ ہونا چاہئے تھا جو اس کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈراتا ۔ نیز یہ ہے کہ پیغمبر کے خزانے اور باغات ہونے چاہئیں ۔ اللہ نے جواب میں فرمایا کہ لوازمات بشریت رسالت و نبوت کے مانع نہیں ہیں ۔ رسول بھی انسان ہی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْہَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا ہُنَالِكَ ثُبُوْرًا۝ 13ۭ لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–17

مصنف میں ابن ابی شبیہ نے اور جریروابن ابی حاتم نے حلیمہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ سے کہا گیا تھا اگر آپ کی خوشی ہو تو آپکے ہاتھ میں زمین بھر کے خزانوں کی کنجیاں دی جاویں اور اس سے آخرت میں آپ کا کچھ بھی نقصان نہ ہو اور مرضی ہو تو یہ سب کچھ آخرت میں دیا جاوے۔ آپ نے فرمایا آخرت ہی میں چاہتا ہوں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور بہت جگہ اسی قسم کا مضمون احادیث صحیحہ میں آیا ہے چونکہ آپ کی نظر آخرت پر تھی اور ہونی بھی چاہیے اور کفار آخرت کے منکر تھے ان کے نزدیک جو کچھ انعام و افضال ہوں یہیں ہوں تو ہوں نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بل کذبوا بالساعۃ کہ وہ آخرت کے منکر ہیں۔ پھر واعتدنالمن کذب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذَ آ اُلْقُوْا مِنْھَا مَکَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا ھُنَا لِکَ ثُـبُوْرًا۔ (الفرقان : 13) (اور جب وہ اس کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پائوں باندھ کر ڈال لیے جائیں گے تو وہ اس وقت اپنی موت کو پکارنے لگیں گے۔ ) اہلِ دوزخ کی آخری خواہش یہ تصویر ہے اس وقت کی جب ان ظالموں کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ یوں تو اس سے بھی بڑھ کر اور عذاب کیا ہوگا کہ کسی کو جہنم کی آگ کے حوالے کردیا جائے لیکن ایسے بدترین کافر جو نبی کریم ﷺ کو ذہنی اذیت دیتے رہے اور آپ ﷺ کا جینا دوبھر کیے رکھا، انھیں جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پائوں باندھ کر پھینکا جائے گا۔ اس سے عذاب کی شدت کا تصور میں اندازہ کیا جاسکتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–14

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے مطالبہ کا دوسرا جواب۔ نبی اکرم ﷺ کے سامنے کفار اس لیے مطالبات پیش کرتے تھے کہ آپ کو الجھایا اور لوگوں کے سامنے لاجواب کیا جائے۔ ان کے مطالبے کی حقیقت یوں بیان کی گئی ہے کہ اے پیغمبر ﷺ ان کے مطالبات اور اعتراضات کا یہ مقصد نہیں کہ وہ آپ پر ایمان لانا چاہتے ہیں۔ ہرگز نہیں بلکہ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ آپ کو الجھائیں اور آپ کو لوگوں کے سامنے لا جواب کریں انہوں نے یہ وطیرہ اس لیے اختیار کر رکھا ہے کہ یہ قیامت کو جھٹلا تے ہیں اگر ان کا قیامت پر ایمان ہوتا تو آپ نے جس قدر ان کو سمجھایا ہے یہ آپ پر ایمان لے آتے۔ اب تو ان کے مطالبے کا یہی جواب ہے کہ جس شخص نے قیامت کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

13: وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْہَا (اور جب ان کو ڈالا جائے گا) آگ میں مَکَانًا ضَیِّقًا (تنگ مقام میں) قراءت : مکی نے ضیقًا پڑھا ہے۔ الضیق : دکھ، تنگی سمیت جیسا کہ الروح آرام بمعہ وسعت کو کہتے ہیں۔ نکتہ : اسی وجہ سے جنت کی تعریف اس طرح فرمائی کہ اس کی وسعت آسمان و زمین کے برابر ہے۔ قول ابن عباس ؓ : ان پر اس طرح تنگی ہوگی جیسے پوری نیزے میں مُّقَرَّ نِیْنَ (گردن سے ہاتھ باندھ کر) وہ اس تنگی کے ساتھ ساتھ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہونگے۔ اور ان کے ہاتھوں کو زنجیروں کے ذریعہ ان کی گردنوں سے باندھ دیا جائے گا۔ نمبر 2۔ ہر کافر کے ساتھ اس کے شیطان کو ملا کر باندھ دیا جائے گا۔ اور ان کی ٹانگوں میں بیڑیاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13۔ واذا القوا منھامکانا ضیقا، ، ابن عباس کا قول ہے کہ ان کو تنگ مقام میں جکڑکرڈالاجائے گا، اور نیزوں سے ماراجائے گا، مقرنین، گردن سے ہاتھ بندھے ہوئے زنجیروں سے جکڑے ہوئے ہوں گے۔ بعض حضرات نے کہا کہ شیطانوں کے ساتھ ساتھ باندھے گئے شیطانوں کی جٹ میں بندھے ہوئے۔ دعواھنالک ثبورا، ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد ہلاکت ہے۔ ضحاک کا بھی یہی قول ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے دن آگ کالباس سب سے پہلے جس کو پہنایاجائے گا وہ ابلیس ہے۔ وہ اس لباس کو اپنی دونوں بھنوؤں پرکھ کر کھینچے گا، اور یاثبوراہ پکارے گا، اس کی ذریت اس کے پیچھے یاثبور پکارتی ہوگی، آخر سب دوزخ میں جاکر ٹھہریں گے اس وقت ان سے کہاجائے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–13

11۔ 13:۔ مشرکین مکہ اللہ کے رسول کی تنگدستی پر طعن جو کرتے تھے ‘ اوپر اس کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا ‘ ان لوگوں کی یہ طعن کی باتیں معجزہ کی خواہش کے طور پر نہیں بلکہ مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندہ ہونے اور حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کے یہ لوگ منکر ہیں ‘ اس لیے عقبیٰ کی بہتری کو یہ لوگ طعن اور مسخراپن کی باتوں میں اڑا دیتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے بھی ایسے لوگوں کے لیے دوزخ کی آگ کو خوب دہکا کر تیار کر رکھا ہے ‘ صحیح سند سے ترمذی میں ابوہریرہ ؓ 1 ؎ سے روایت ہے ‘ کہ دوزخ کی آگ میں اللہ تعالیٰ نے ایک طرح کی بینائی کی قوت پیدا کی ہے جس سے وہ مشرکوں ‘ ظالموں ‘ مصوروں کو دیکھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–14

(آیت نمبر (7 یہ ان لوگوں کا قول ہے جنہوں نے رسول ﷺ کو جھٹلایا اور آپ کی رسالت میں جرح و قدع کی۔ انہوں نے اعتراض کیا کہ یہ رسول فرشتہ یا کوئی بادشاہ کیوں نہیں یا اس کی خدمت اور مدد کے لیے کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا ؟ چناچہ انہوں نے کہا : (مال ھذ الرسول) یعنی یہ کیسا شخص ہے جو رسالت کا دعویٰ کرتا ہے ( یا کل الطعام ) ” کھانا کھاتا ہے “ حالانکہ یہ تو بش رکی خصوصیات میں سے ہے۔ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ ان امور کا محتاج ہوتا بشر جن کا محتاج ہے۔ ( ویمشی فی الاسواق) یعنی خریدو فروخت کے لیے “ بازاروں میں چلتا پھرتا ہے “ اور یہ ان کے خیال کے مطابق ایک رسول کے لائق نہیں ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–48

پانی کے مسائل قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 12–13

14 آتش دوزخ کی ہولناکی کی تصویر : سو اس سے دوزخ کی آگ کی ہولناکی اور اس کے غیظ و غضب کا کچھ حال بیان فرمایا گیا ہے۔ سو دوزخ کی وہ آگ دنیاوی آگ کی طرح اندھی بہری آگ نہیں ہوگی کہ سب کے ساتھ ایک ہی سلوک کرے۔ بلکہ وہ دیکھتی سنتی اور جانتی پہچانتی ہوگی کہ مجرم کون ہے اور اس کا جرم کیا اور کس درجے کا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا ہے ۔ { تَطَّلِعُ عَلَی الاَفْئِدَۃِ } ۔ یعنی " وہ جھانکتی ہوگی دلوں پر " تاکہ یہ دیکھے کہ کس دل پر کفر و بغاوت کی سیاہی کتنی پکی اور فسق و فجور کا زنگ کس قدر گہرا اور گاڑھا ہے۔ اور وہ پکار پکار کر اپنی طرف بلا رہی ہوگی ان لوگوں کو جنہوں نے راہ حق و ہدایت سے منہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–14

نبی کریم ﷺ پر فضل اور منکرین پر عذاب تشریح : پہلے تو پیارے نبی ﷺ سے اللہ نے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے کہ آپ کے لیے محلات و باغات کیا معنی رکھتے ہیں۔ مگر آپ جس حال میں ہیں سب اللہ کی خاص حکمت کی وجہ سے ہے ورنہ نبوت سے بڑی اور کون سی چیز ہے۔ اتنا بڑا عزاز دنیاوی عیش و آرام کے سامنے کیا حقیقت رکھتا ہے۔ آپ کا دل امیر ہے تو آپ امیر ترین انسان ہیں آپ کی روح نورالٰہی سے منور ہے تو آپ دنیا کے عظیم ترین انسان ہیں۔ یہی چیزیں تو ہیں جو موت کے بعد ہمیشہ کا آرام و عیش دلوائیں گی ورنہ یہ دنیا کے محلات باغات اور عیش و آرام تو یہیں پر رہ جائے گا۔ بلکہ یہ لوگ جو قیامت کو جھٹلاتے ہیں ان کو اچھی طرح خبردار کر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–20

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف ان کی سمجھ اتنی بات نہیں آتی کہ جس خالق کائنات نے ساری کائنات بنائی ہے وہ چاہتا تو ان کے اندازے سے زیادہ خوبصورت باغات جو ہمیشہ شاداب رہتے ، اور ان کی امیدوں سے بڑے دولت کے انبار آپ ﷺ کو عطا فرما دیتا ، ان کی امیدوں سے زیادہ عالی شان محلات آپ ﷺ کے لیے بنا دیتا ، یہ اس کی حکمت کہ اس نے عام آدمی کی خوش نصیبی سے آپ ﷺ کا مزاج عالی ہی ایسا بنایا کہ آپ ﷺ عام زندگی پسند فرماتے اور اپنی رحمت سے آپ ﷺ کو دنیا میں عام لوگوں ہی کی زندگی دی کہ آپ ﷺ ساری انسانیت کے لیے اللہ جل جلالہ کی رحمت ہیں تو ہر عام آدمی کی رسائی آپ ﷺ کی بارگاہ تک رہے ورنہ آپ ﷺ اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

13 ۔ یعنی دہائی دینگے کہ کاش ہمیں موت آجائے اور ہم اس سے نجات پائیں۔ آنحضرت ﷺ نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا اللہ کی قسم، وہ آگ میں ایسے ٹھونسے جائیں گے جیسے لکڑی میں کیل ٹھونکی جاتی ہے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:13) القوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب القاء (افعال) مصدر۔ وہ ڈالے جائیں گے (ماضی بمعنی مضارع) ۔ منھا۔ ای من النار مکانا ضیقا۔ موصوف وصفت ۔ تنگ مکان۔ تنگ جگہ۔ دونوں منصوب بوجہ اسم ظرف ہونے کے۔ اذا القوا منھا مکانا ضیقا۔ ای اذا القوا فی مکان ضیق منھا۔ جب وہ ڈالے جائیں گے جہنم کی کسی تنگ جگہ میں۔ مقرنین۔ اسم مفعول جمع مذکر منصوب مقرن واحد تقرین (تفعیل) مصدر۔ جکڑے ہوئے۔ کس کر باندھے ہوئے۔ الاقتران۔ ازدواج کی طرح اقتران کے معنی بھی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کے کسی معنی میں باہم مجتمع ہونے کے ہیں۔ جیسے اوجاء معہ الملئکۃ مقترنین (43:53) یا یہ ہونا کہ فرشتے جمع ہوکر اس کے ساتھ آتے۔ قرنت البعیر مع…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–16

لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 16 : (مالھذالرسول) یہ کیسا رسول ہے ‘(یمشی) چلتا ہے ‘(الاسواق (سوق) بازار ‘(کنز) خزانہ ‘(مسحور) جادو میں پھنسا ہوا ‘(ضلوا) وہ گمراہ ہوگئے ‘ قصور (قصر) محل۔ محلات ‘(سعیر) بھڑکتی آگ ‘(تغیظ) غصہ سے جوش مارنا ‘(زفیر) غصہ سے نکلی ہوئی تیز آواز ‘ (ضیق) تنگ ‘ مقرنین (آپس میں جکڑے ہوئے) (ثبور) موت۔ ہلاکت ‘(مایشآء و ن) جو کچھ وہ چاہیں گے ‘(مسئولا) سوال کیا گیا۔ درخواست کا حق ‘۔ تشریح : آیت نمبر 7 تا 16 : سچی اور عظیم تحریک اور مضبوط دلائل کے سامنے شکست کھاجانے والے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ ہر شخص متاثر ہورہا ہے تو وہ طرح طرح کے اعتراضات ‘ الزامات اور ذاتیات پر اتر آتے ہیں چناچہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–13

(ف 2) مشرکین کے عذاب کا ذکر : ان آیتوں میں فرمایا کہ مشرکین مکہ اللہ کے رسول کی تنگ دستی پر طعن جو کرتے تھے اوپر اس کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا ان لوگوں کی یہ طعن کی باتیں معجزے کے خواہش کے طور پر نہیں ہیں بلکہ مرنے کے بعد دوبارہ پھر زندہ ہونے اور حساب وکتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کے یہ لوگ منکر ہیں اس لیے عقبی کی بہترین کو یہ لوگ طعن اور مسخراپن کی باتوں میں اڑادیتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے بھی ایسے لوگوں کے لیے دوزخ کی آگ کو خوب دہکا کرتیارکررکھا ہے اور اس دوزخ کی آگ میں اللہ تعالیٰ نے ایک طرح کی بینائی کی قوت پیدا کی ہے جس سے وہ مشرکوں ظالموں کو دیکھ کر قیامت کے دن…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–14

(ف 2) یعنی یہ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ تمہارے پاس ایک باغ ہونا چاہئے ہم کہتے ہیں کہ ہم جب چاہیں گے جنت ونسیم کا وارث بنا دیں گے ، حدیث میں آیا ہے حضور ﷺ کے پاس جبریل (علیہ السلام) امین آئے ، اور انہوں نے پوچھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں ، کیا دنیا کے تمام لذائذ یا آخرت کی نعمتیں ، اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ دنیا کے تمام حظوظ سے آپ کا دامن بھر دیا جائے ، تو ایسا ہو سکتا ہے ، حضور ﷺ نے فرمایا نہیں میں آخرت کی نعمتوں کو ترجیح دیتا ہوں ۔ حل لغات : قصورا : جمع قصر محلات ۔ زفیرا : گدھے کی آواز ، یہاں مراد جہنم کی آواز ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(13) اور جب یہ منکر اس دوزخ کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پائوں جکڑ کے ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت کو پکاریں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–17

ف 4۔ مطلب یہ کہ انہوں نے تمہاری عبادت کہ واقع میں ضلالت ہے تمہاری امر و رضا سے کی تھی جیسا ان لوگوں کا زعم تھا کہ یہ معبودین خوش ہوتے ہیں اور خوش ہو کر اللہ تعالیٰ سے شفاعت کریں گے یا اپنی رائے فاسد سے اختراع کرلی تھی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بعض دوزخیوں کو دوزخ میں گرائے جانے کے طریقہ کی وضاحت : 13۔ نبی اعظم وآخر ﷺ پر کٹ حجتیاں کرنے والوں کو دوزخ میں گرائے جانے کے طریقہ کی وضاحت فرمائی جارہی ہے فرمایا وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ پر اعتراض کرکے اپنی طرف سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ نبی اعظم وآخر ﷺ اپنی طرف سے قرآن کریم کو گھڑ کر بیان کرتا ہے اور اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے کہ یہ کلام اللہ رب العزت نے ایک تنگ دروازہ کی طرف سے دوزخ میں گرایا جائے گا یہ وہی لوگ ہوں گے جو رسول اللہ ﷺ پر اسی طرح کے اعتراضات کرتے جن اعتراضات والزامات کا اوپر کی آیات میں ذکر کیا گیا ہے ، اس وقت ان کی حالت دیدنی ہوگی وہ چیخ چیخ کر موت اور ہلاکت کا پکاریں گے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–19

The Second Objection was that if the Holy Prophet ﷺ was a prophet, he should not have been eating and drinking like common people; instead he should have been free from eating and drinking like angels. And if this was not so, he should have at least enough wealth and gardens to take care of his day to day needs, so that he may not need to care for his living. Furthermore, how could he be accepted as a prophet when he is neither an angel nor does an angel accompany him to endorse what he preaches, therefore it appears that he has been charmed by someone which has turned his head and that is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–15

22 "The Fire will see them" The words used in the Text may be metaphorical, or they may mean that the Fire of Hell will be endowed with the faculties of seeing, thinking and judging .

Read the full tafseer →