Al-Furqaan 25:14

Al-Furqaan · from ayah 14

25:14

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا ۟لَا تَدۡعُوا الۡيَوۡمَ ثُبُوۡرًا وَّاحِدًا وَّادۡعُوۡا ثُبُوۡرًا كَثِيۡرًا

آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بہت سی موتوں کو پکارو

— Fateh Muhammad Jalandhari

[They will be told], "Do not cry this Day for one destruction but cry for much destruction."

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 2 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:14

(اُس وقت ان سے کہا جائے گا کہ) آج ایک موت کو نہیں بہت سی موتوں کو پکارو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بہت سی موتوں کو پکارو

— مولانا فتح محمد جالندہری

(ان سے کہا جائے گا) آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی اموات کو پکارو

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ) آج تم موت کو صرف ایک بار نہ پکارو، بلکہ بار بار موت کو پکارتے ہی رہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرمایا جائے گا آج ایک موت نہ مانگو اور بہت سی موتیں مانگو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(ان سے کہا جائے گا:) آج (صرف) ایک ہی ہلاکت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی ہلاکتوں کو پکارو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

آج ایک ہلاکت کو مت پکارو، بلکہ بہت زیادہ ہلاکتوں کو پکارو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اس وقت انھیں کہا جائے گا) آج ایک نہیں بہت سی موتوں کو پکارو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

آج ایک ہی ہلاکت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی ہلاکتوں کو پکارو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ آج تم ایک موت کو نہیں بہت سی موتوں کو پکاروف

— مولانا اسحاق مدنی

تو وہاں موت کو پکاریں گے آج ایک ہی موت نہ پکاروبہت سی موتوں کا پکارو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(تب ان سے کہا جائے گا کہ) آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں کو پکارو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بہت سی موتوں کو پکارو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(Then it will be said to them:) "Do not call for one death today, but call for many deaths."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Then it will be said to them,) :Do not call for one death today, but call for many a death.

— Muhammad Taqi Usmani

(Then it will be said to them,) :Do not call for one death today, but call for many a death.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Exclaim not today for one destruction, but exclaim for many destructions.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Pray not that day for one destruction, but pray for many destructions!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[They will be told], "Do not cry this Day for one destruction but cry for much destruction."

— Saheeh International

They will be told, "Do not pray to die only once but pray to die many times."

— Muhammad Sarwar

Call not this day for one destruction, but call for destructions many.

— Muhammad Habib Shakir

Call not to-day for a single death but call for death manifold.

— Abdul Majid Daryabadi

"This day plead not for a single destruction: plead for destruction oft-repeated!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–14

مشرکین کی حماقتیں اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کی انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے ؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لئے آتا جاتا کیوں ہے ؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الہٰی سے آگاہ کرتا۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ آیت (فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاۗءَ مَعَهُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ 53؀) 43۔ الزخرف :53) ، اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے ؟ یا اس کی مدد کے لئے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ چونکہ دل ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 12–15

سورة الْفُرْقَان 22 آگ کا کسی کو دیکھنا ممکن ہے کہ استعارے کے طور پر ہو، جیسے ہم کہتے ہیں، وہ جامع مسجد کے مینار تم کو دیکھ رہے ہیں، اور ممکن ہے، حقیقی معنوں میں ہو، یعنی جہنم کی آگ دنیا کی آگ کی طرح بےشعور نہ ہو بلکہ دیکھ بھال کر جلانے والی ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–19

خلاصہ تفسیر وہ ذات بڑی عالی شان ہے کہ اگر وہ چاہے تو آپ کو (کفار کی) اس (فرمائش) سے (بھی) اچھی چیز دیدے یعنی بہت سے (غیبی) باغات جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں (بہتر اس لئے کہا کہ وہ تو مطلق باغ کی فرمائش کرتے تھے گو ایک ہی ہو اور متعدد باغ کا ایک سے بہتر ہونا ظاہر ہے) اور (بلکہ ان باغوں کے ساتھ اور بھی مناسب چیزیں دیدے جن کی انہوں نے فرمائش بھی نہیں کی یعنی) آپ کو بہت سے محل دیدے (جو ان باغوں میں بنے ہوں یا باہر ہی ہوں جس سے ان کی فرمائش اور بھی زیادہ نعمتوں کے ساتھ پوری ہوجاوے۔ مطلب یہ کہ جو جنت میں ملے گا اگر اللہ چاہے تو آپ کو دنیا ہی میں دیدے لیکن بعض حکمتوں سے نہیں چاہا اور فی نفسہ ضروری…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اس دن ان سے کہا جائے گا کہ آج ایک ہی موت کے دہائی نہ دو بلکہ بہت سی موتوں کی دہائی دو۔ یعنی آج تم پر نئی نئی بیشمار مصیبتیں ٹوٹیں گی اور تم کو ہر مصیبت پر اسی طرح واویلا کرنا ہے لیکن تمہارا یہ سارا واویلا بالکل بےسود ہوگا۔ یہ بات قولاً بھی ہو سکتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہنم کے داروغوں کے ذریعہ سے ان کو کہلائے جائے گی اور صورت حال کی تعبیر بھی ہو سکتی ہے۔ اس اسلوب کی وضاحت دوسرے مقامات میں ہم کرچکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

14-1یعنی جہنمی جب جہنم کے عذاب سے تنگ آ کر آرزو کریں گے کہ کاش انھیں موت آجائے، وہ فنا کے گھاٹ اتر جائیں۔ تو ان سے کہا جائے گا کہ اب ایک موت نہیں کئی موتوں کو پکارو۔ مطلب یہ ہے کہ اب تمہاری قسمت میں ہمیشہ کے لئے انواع و اقسام کے عذاب ہیں یعنی موتیں ہی موتیں ہیں، تم کہاں تک موت کا مطالبہ کرو گے

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–14

3: یہ ترجمہ مشہور مفسر ابو السعود ؓ کی تفسیر پر مبنی ہے جسے علامہ آلوسی نے بھی نقل فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عذاب کی جس شدت سے گھبرا کر تم موت کو پکار رہے ہو، وہ تو آنے والی نہیں ہے، بلکہ تمہیں بار بار نت نئے عذاب سے سابقہ پڑے گا، اور ہر مرتبہ تمہیں اس کی شدت سے گھبرا کر موت کو پکارنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 11–16

(بل کذبوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعیرا) (11) اذاراتھم من۔۔۔۔ وعدا مسولا ـ یعنی وہ کفر اور ضلالت کی حدوں کو پار کرکے اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ قیامت کا انکار کر رہے ہیں۔ قرآن کا انداز تعبیر ” بل “ کا لفظ استعمال کر کے ان کی گمراہی یوں مجسم کرتا ہے کہ وہ اس راہ پر بہت دور چلے گئے ہیں یعنی پہلی باتوں کو چھوڑو ‘ انہوں نے تو قیامت کا انکار کردیا ہے۔ اس کے بعد یہ انکشاف کیا جاتا ہے کہ ان فتنہ پر دازون کے لیے کس قدر خوفناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔ یہ آگ ہے جو حاضر ہے ‘ دہکائی ہوئی ہے۔ واعتدنا۔۔۔۔ سعیرا (25 : 11) ” اور جو اس گھڑی کو جھٹلائے ‘ اس کے لیے ہم نے بڑھکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے “۔ یہاں قرآن کریم مجسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی ایک بار مریں تو چھوٹ جائیں۔ دن میں ہزار بار مرنے سے بدترحال ہوتا ہے۔ (موضح القرآن)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14 لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّادْعُوْا ثُبُوْرًا کَثِیْرًا اب تم موت کو پکارتے رہو ‘ اس کے لیے مسلسل دعائیں مانگتے رہو ‘ مگر تمہاری ان دعاؤں سے تمہیں موت آئے گی نہیں۔ اب تو تمہیں مسلسل زندہ رہنا اور عذاب کی تکلیف کو جھیلنا ہوگا۔ اس عذاب کی شدت میں نہ تو کوئی تخفیف کی جائے گی اور نہ ہی موت آکر تمہیں اس سے چھٹکارا دلائے گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

18 یعنی آج ایک موت کے لئے کیا چیخ و پکار کرتے ہو۔ سینکڑوں موتیں مانگو، تب بھی تمہارا یہ پکارنا لاحاصل ہے۔ وہ آرزو تو کریں گے کہ ایک بار مریں تو چھٹکارا حاصل ہوجائے۔ دن میں ہزار بار مرنے سے جو بری حالت ہو رہی ہے ہے اسے نجات پاجائیں گے مگر یہ پکار بالکل بےسود ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 13–14

14۔ وہ بدبخت دوزخی جو دوزخ ہی کی ناقابل برداشت ہولناکیوں سے گھبرا کر چیخ اٹھیں گے کہ کاش ہمیں موت آجاتی ! انہیں جواب ملے گا کہ ایک ہی موت کیسی، اب تو تمہاری قسمت میں موتوں ہی موتوں کی تکلیفیں ہیں !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–20

آیت نمبر 10 تا 20 ترجمہ : اللہ کی ذات تو بڑی عالی شان ہے یعنی خیر کثیر والی ہے اگر وہ چاہے تو ان کے بیان کردہ باغ اور خزانہ سے بہتر باغات عطا کر دے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں یعنی دنیا میں (عطا کردے) اس لئے کہ آخرت میں ایسے باغات آپ ﷺ کو عطا کرنا تو اس کی مشیت میں ہے ہی، اور آپ کو بہت سے محل (بھی) دیدے یَجْعَلْ لام کے جزم کے ساتھ اور ایک قرأۃ میں (یَجْعَلُ ) رفع کے ساتھ ہے، جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے بلکہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھ رہے ہیں اور قیامت کو جھوٹ سمجھنے والوں کیلئے ہم نے دہکتی ہوئی شدید آگ تیار کر رکھی ہے جن ان کو وہ آگ دور سے دیکھے گی تو وہ لوگ اس کا جوش خروش سنیں گے یعنی غضبناک کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا تدعوا الیوم ثبورا واحدا و ادعوا ثبورا کثیرا۔ آج ایک (طرح کی) ہلاکت کو نہ پکارو بلکہ (طرح طرح کی) بہت ہلاکتوں کو پکارو۔ یعنی تمہاری ایک ہی ہلاکت نہیں بلکہ بہت ہلاکتیں ہیں عذاب کی گونا گوں قسمیں ہیں اور ہر قسم کا عذاب بجائے خود ایک ہلاکت ہے یا یہ وجہ ہے کہ نو بہ نو (بار بار ایک ہی طرح کا) عذاب ہوگا (پس بہت سی ہلاکتیں ہوجائیں گی) اللہ نے فرمایا ہے ( کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُہُمْ بَدَّلْنَا ہُمْ جُلُوْدًا غَیْرَہَا لِیَذُوْقُوْا الْعَذَابَ ) جتنی مرتبہ ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کی (جلی ہوئی) کھالیں دوسری کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھیں۔ یا ثبور کثیر کا یہ معنی ہے کہ کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(14) اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ اپنی ان لامتناہی مصیبتوں کی وجہ سے ایک موت کو نہ پکارو بلکہ بہت ہی موتوں کو پکارو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا۔۔ : یعنی انھیں یہ جواب دیا جائے گا۔ دیکھیے سورة زخرف (77) اور مومن (49، 50)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 11–14

(بل کذبو بالساعۃ۔۔۔۔۔ ) بل کذبوا بالساعۃ اس ساعت سے مراد یوم قیامت ہے۔ واعتدنالمن کذب بالساعۃ سعیرا۔ سعیر سے مراد جہنم ہے جو ان پر جوش مار رہی ہوگی۔ اذا اتھم من مکان بعید وہ پانچ سو سال کی مسافت سے انہیں دیکھے گی۔ سمعوا لھا تعیظا وزفیرا ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب جہنم انہیں دیکھے گی تو وہ اس کی آواز سنیں گے جو آواز اس کے ان پر حد درجہ غصے ہونے کی ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے جب جہنم کے خازن انہیں دیکھیں گے تو وہ لوگ ان خازنوں کے غصے ہونے کی آواز سنیں گے جو ان کو عذاب دینے کے حریص ہوں گے، پہلا قول زیادہ صحیح ہے، کیونکہ مرفوع روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جس نے جان بوجھ کر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 13–14

1۔ ابن ابی حاتم نے یحییٰ بن اسید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت واذا القو منہا مکانا ضیقا سے مراد ہے جیسے نیزے کا پچھلا حصہ نیزے میں ہوتا ہے۔ جہنم جہنمیوں کے لیے تنگ ہوگی 3۔ ابن المبارک نے الزہد میں وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بتایا گیا کہ عبداللہ ؓ فرمایا کرتے تھے کہ جہنم کافر پر ایسی تنگ کردی جائے گی جیسے نیزے کے نچلے حصے کا لوہا نیزے پر تنگ ہوتا ہے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ مقرنین سے مراد ہے کہ ان کے ہاتھ پاؤں جکڑے ہوئے ہوں گے۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَا تَدْعُوا [ تم لوگ دعا مت کرو ] الْيَوْمَ [ آج کے دن ] ثُبُوْرًا وَّاحِدًا [ ایک مرتبہ ہلاک ہونے کی ] وَّادْعُوْا [ اور دعا کرو ] ثُبُوْرًا كَثِيْرًا [ کثرت سے (یعنی بار بار) ہلاک ہونے کی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 11–14

قیامت کے دن کافروں پر دوزخ کا غیظ و غضب، دوزخ کی تنگ جگہوں میں ڈالا جانا، اہل جنت کا جنت میں داخل ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ جی چاہی زندگی میں رہنا مشرکین جو طرح طرح سے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتے تھے جس میں فرمائشی معجزات کا طلب کرنا بھی تھا اور یہ کہنا بھی تھا کہ آپ کی طرف خزانہ کیوں نہ ڈالا گیا اور آپ کے پاس کوئی باغ کیوں نہیں ہے جس میں سے آپ کھاتے پیتے، اس کے جواب میں فرمایا کہ اللہ پاک جو کثیر البرکات اور کثیر الخیرات ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اگر وہ چاہے تو آپ کو اس سے بہتر عطا فرما دے گا جن کا انہوں نے تذکرہ کیا ہے وہ چاہے تو آپ کو ایسے باغ عطا فرما دے جن کے نیچ نہریں جاری ہوں اور آپ کو محل عطا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–20

تنبیہ برمنشا انکار رسالت وبیان بعض احوال واھوال روز قیامت بل کذبوا بالساعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وکان ربک بصیرا۔ اب آئندہ آیات میں ان منکرین رسالت اور معترضین نبوت کے انکار کا منشا بیان کرتے ہیں کہ آخر اس کی کیا یہ وجہ ہے کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی تکذیب پر اس درجہ تلے ہوئے ہیں تو بتلاتے ہیں کہ ان شبہات اور اعتراضان کا منشا یہ نہیں کہ آپ ﷺ کی شان درویشی وفقیری ان کے ایمان اور ہدایت سے مانع بنی ہوئی ہے بلکہ اصلی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھتے ہیں جس سے آپ ان کو ڈراتے ہیں پس انکار نبوت اور تکذیب رسالت کا اصل منشاء تکذیب قیامت ہے۔ ان کی نظر صرف اسی عطام دنیا پر مقصود ہے ان کا گمان یہ ہے کہ عزت و کرامت کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 12–14

11:۔ ” اذا راتھم الخ “ یہ آتش جہنم کی شدت کا بیان ہے۔ ” رات “ کی ضمیر جہنم کی طرف راجع ہے۔ قیامت کے دن جب جہنم کی آگ دور سے دوزخیوں کے سامنے ہوگی اور وہ اسے دیکھ لیں گے تو اس کا غیظ و غضب اس قدر جوش میں آجائے گا کہ وہ دور ہی سے اس کی غضبناک آوازیں اور خوفناک پھنکاریں سن کر دہشت زدہ ہوجائیں گے ” زفیر “ سے آتش جہنم کی وہ خوفناک آواز مراد ہے جو اس کے شدید جوش اور غلیان سے پیدا ہوگی۔ سمعوا صوت طیبھا واشتعالھا (بحر ج 6 ص 485) ۔ ” واذا القوا منہا الخ “ ” مکانا “ مفعول فیہ ہے اور ” منھا “ اس سے حال مقدم ہے۔ ای فی مکان فھو منصوب علی الظرفیۃ و (منھا) حال منہ (روح ج 18 ص 243) ۔ ” مقرنین “ القوا کے نائب…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–16

حقانیات گزشتہ آیات میں کفار و مشرکین کی طرف سے قرآن پاک کی حقانیت کے متعلق اعتراض تھا کہ یہ خود ساختہ ہے اور پرانے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں ۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ یہ کسی مخلوق کا کلام نہیں بلکہ خدائے علیم وخبیر کا نازل کردہ ہے۔ ان کا دوسرا اعتراض رسالت پر تھا کہ یہ کیسے نبی ہو سکتا ہے جو ہماری طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا ہے۔ کہتے تھے کہ اس کے ساتھ ایک فرشتہ ہونا چاہئے تھا جو اس کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈراتا ۔ نیز یہ ہے کہ پیغمبر کے خزانے اور باغات ہونے چاہئیں ۔ اللہ نے جواب میں فرمایا کہ لوازمات بشریت رسالت و نبوت کے مانع نہیں ہیں ۔ رسول بھی انسان ہی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِيْرًا۝ 14 ثبر الثُّبُور : الهلاک والفساد، المُثَابِر علی الإتيان، أي : المواظب، من قولهم : ثَابَرْتُ. قال تعالی: دَعَوْا هُنالِكَ ثُبُوراً لا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُوراً واحِداً وَادْعُوا ثُبُوراً كَثِيراً [ الفرقان/ 13- 14] ، وقوله تعالی: وَإِنِّي لَأَظُنُّكَ يا فِرْعَوْنُ مَثْبُوراً [ الإسراء/ 102] ، قال ابن عباس رضي اللہ عنه : يعني ناقص العقل «1» . ونقصان العقل أعظم هلك . وثبیر جبل بمكة . ( ث ب ر ) الثبور ( مصدر ن ) کے معنی ہلاک ہونے یا ( زخم کے ) خراب ہونے کے ہیں اور المنابر کسی کام کو مسلسل کرنے والا ) سے ( اسم فاعل کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–17

مصنف میں ابن ابی شبیہ نے اور جریروابن ابی حاتم نے حلیمہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ سے کہا گیا تھا اگر آپ کی خوشی ہو تو آپکے ہاتھ میں زمین بھر کے خزانوں کی کنجیاں دی جاویں اور اس سے آخرت میں آپ کا کچھ بھی نقصان نہ ہو اور مرضی ہو تو یہ سب کچھ آخرت میں دیا جاوے۔ آپ نے فرمایا آخرت ہی میں چاہتا ہوں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور بہت جگہ اسی قسم کا مضمون احادیث صحیحہ میں آیا ہے چونکہ آپ کی نظر آخرت پر تھی اور ہونی بھی چاہیے اور کفار آخرت کے منکر تھے ان کے نزدیک جو کچھ انعام و افضال ہوں یہیں ہوں تو ہوں نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بل کذبوا بالساعۃ کہ وہ آخرت کے منکر ہیں۔ پھر واعتدنالمن کذب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لاَ تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُـبُوْرًا وَّ احِدًا وَّادْعُوْا ثُـبُوْرًا کَثِیْرًا۔ (الفرقان : 14) (آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں کو پکارو۔ ) تم یہ سمجھتے ہو کہ موت تمہاری تکلیف کا خاتمہ کر دے گی، لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہے کہ ابھی تو تمہیں ایک مصیبت میں مبتلا کیا گیا ہے مزید بیشمار مصیبتیں تم پر حملہ آور ہونے کے لیے تیار ہیں۔ تم کس کس مصیبت پر موت مانگو گے۔ آہ، اس شخص کے بارے میں کیا کہا جائے جو اپنی مصیبت میں تخفیف کے لیے بھی کوئی راستہ نہ پائے۔ اس کے پاس ایک ہی خواہش باقی رہ جاتی ہے کہ وہ موت کی تمنا کرے جبکہ وہ ہمیشہ موت سے بھاگتا رہا۔ لیکن جب یہ تمنا بھی اس کے کام نہ آئے تو اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–14

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے مطالبہ کا دوسرا جواب۔ نبی اکرم ﷺ کے سامنے کفار اس لیے مطالبات پیش کرتے تھے کہ آپ کو الجھایا اور لوگوں کے سامنے لاجواب کیا جائے۔ ان کے مطالبے کی حقیقت یوں بیان کی گئی ہے کہ اے پیغمبر ﷺ ان کے مطالبات اور اعتراضات کا یہ مقصد نہیں کہ وہ آپ پر ایمان لانا چاہتے ہیں۔ ہرگز نہیں بلکہ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ آپ کو الجھائیں اور آپ کو لوگوں کے سامنے لا جواب کریں انہوں نے یہ وطیرہ اس لیے اختیار کر رکھا ہے کہ یہ قیامت کو جھٹلا تے ہیں اگر ان کا قیامت پر ایمان ہوتا تو آپ نے جس قدر ان کو سمجھایا ہے یہ آپ پر ایمان لے آتے۔ اب تو ان کے مطالبے کا یہی جواب ہے کہ جس شخص نے قیامت کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

4 1: لَاتَدْعُوْا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُورًا کَثِیْرًا (تم ایک ہلاکت کو مت پکارو بلکہ یہ تو مجموعہ ہلاکت ہے۔ )

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

14۔ لاتدعوالیوم ثبورا واحداوادعوا ثبوراکثیرہ، ان کی ہلاکت بہت دفعہ ہوگی، خواہ وہ ایک دفعہ پکاریں یا کئی بار پکاریں ان کو نوبنوعذاب میں مبتلا کیا جائے گا، یا اس کا معنی ہے ان کی ہلاکت میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

14:۔ قیامت کے دن اہل دوزخ پر طرح طرح کی سختیاں گریں گی ‘ ان سختیوں سے یہ بھی ایک سختی ہے ‘ جس کا ذکر اس آیت میں ہے ‘ صحیح سند سے بعث ونشور بیہقی میں انس بن مالک کی روایت 3 ؎ ہے جو حدیث ہے ‘ اس میں اس آیت کی تفسیر جو آئی ہے ‘ حاصل اس کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ‘ دوزخ میں داخل ہونے سے پہلے شیطان کو کھڑا کیا جائے گا اور اس کے تمام شیاطین اور سارے اس کے پیرو اس کے پیچھے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سب سے پہلے شیطان کو ایک آگ کا لباس پہنایا جاوے گا اور پھر سب اس کے ساتھیوں کو بھی آگ کا لباس پہنایا جاوے گا ‘ اس وقت شیطان اور اس کے ساتھی اپنی ہلاکت کی حالت پر افسوس کریں گے اور کہیں گے کہ ہائے افسوس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–14

(آیت نمبر (7 یہ ان لوگوں کا قول ہے جنہوں نے رسول ﷺ کو جھٹلایا اور آپ کی رسالت میں جرح و قدع کی۔ انہوں نے اعتراض کیا کہ یہ رسول فرشتہ یا کوئی بادشاہ کیوں نہیں یا اس کی خدمت اور مدد کے لیے کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا ؟ چناچہ انہوں نے کہا : (مال ھذ الرسول) یعنی یہ کیسا شخص ہے جو رسالت کا دعویٰ کرتا ہے ( یا کل الطعام ) ” کھانا کھاتا ہے “ حالانکہ یہ تو بش رکی خصوصیات میں سے ہے۔ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ ان امور کا محتاج ہوتا بشر جن کا محتاج ہے۔ ( ویمشی فی الاسواق) یعنی خریدو فروخت کے لیے “ بازاروں میں چلتا پھرتا ہے “ اور یہ ان کے خیال کے مطابق ایک رسول کے لائق نہیں ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–48

پانی کے مسائل قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 14–17

16 دوزخیوں کے موت کو پکارنے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہاں پر ایسے لوگ موت کو پکاریں گے "۔ اور رہ رہ کر پکاریں گے تاکہ اس طرح اس ہولناک عذاب سے رہائی پاسکیں۔ یعنی وہاں پر " وا ثبوراہ " ۔ " اے موت آ کے ہمارا کام تمام کر دے " ہی کی چیخ و پکار ہوگی کہ سخت مصیبت پر آدمی یونہی کہتا اور کرتا ہے۔ تاکہ اس مصیبت سے جان چھوٹ سکے۔ مگر اس کا موقع اب کہاں ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ وہاں تو ایسے لوگ ۔ { لایموت ولایحیٰی } ۔ والی زندگی گزاریں گے۔ جس میں نہ زندگی ہوگی نہ موت۔ اور خوف اور ہولناکی کا یہ عالم ہوگا کہ موت ان کو وہاں پر ہر طرف سے آتی دکھائی دیگی لیکن یہ مرنے نہیں پائیں گے تاکہ جان چھوٹ جائے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–14

نبی کریم ﷺ پر فضل اور منکرین پر عذاب تشریح : پہلے تو پیارے نبی ﷺ سے اللہ نے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے کہ آپ کے لیے محلات و باغات کیا معنی رکھتے ہیں۔ مگر آپ جس حال میں ہیں سب اللہ کی خاص حکمت کی وجہ سے ہے ورنہ نبوت سے بڑی اور کون سی چیز ہے۔ اتنا بڑا عزاز دنیاوی عیش و آرام کے سامنے کیا حقیقت رکھتا ہے۔ آپ کا دل امیر ہے تو آپ امیر ترین انسان ہیں آپ کی روح نورالٰہی سے منور ہے تو آپ دنیا کے عظیم ترین انسان ہیں۔ یہی چیزیں تو ہیں جو موت کے بعد ہمیشہ کا آرام و عیش دلوائیں گی ورنہ یہ دنیا کے محلات باغات اور عیش و آرام تو یہیں پر رہ جائے گا۔ بلکہ یہ لوگ جو قیامت کو جھٹلاتے ہیں ان کو اچھی طرح خبردار کر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–20

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف ان کی سمجھ اتنی بات نہیں آتی کہ جس خالق کائنات نے ساری کائنات بنائی ہے وہ چاہتا تو ان کے اندازے سے زیادہ خوبصورت باغات جو ہمیشہ شاداب رہتے ، اور ان کی امیدوں سے بڑے دولت کے انبار آپ ﷺ کو عطا فرما دیتا ، ان کی امیدوں سے زیادہ عالی شان محلات آپ ﷺ کے لیے بنا دیتا ، یہ اس کی حکمت کہ اس نے عام آدمی کی خوش نصیبی سے آپ ﷺ کا مزاج عالی ہی ایسا بنایا کہ آپ ﷺ عام زندگی پسند فرماتے اور اپنی رحمت سے آپ ﷺ کو دنیا میں عام لوگوں ہی کی زندگی دی کہ آپ ﷺ ساری انسانیت کے لیے اللہ جل جلالہ کی رحمت ہیں تو ہر عام آدمی کی رسائی آپ ﷺ کی بارگاہ تک رہے ورنہ آپ ﷺ اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–16

لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 16 : (مالھذالرسول) یہ کیسا رسول ہے ‘(یمشی) چلتا ہے ‘(الاسواق (سوق) بازار ‘(کنز) خزانہ ‘(مسحور) جادو میں پھنسا ہوا ‘(ضلوا) وہ گمراہ ہوگئے ‘ قصور (قصر) محل۔ محلات ‘(سعیر) بھڑکتی آگ ‘(تغیظ) غصہ سے جوش مارنا ‘(زفیر) غصہ سے نکلی ہوئی تیز آواز ‘ (ضیق) تنگ ‘ مقرنین (آپس میں جکڑے ہوئے) (ثبور) موت۔ ہلاکت ‘(مایشآء و ن) جو کچھ وہ چاہیں گے ‘(مسئولا) سوال کیا گیا۔ درخواست کا حق ‘۔ تشریح : آیت نمبر 7 تا 16 : سچی اور عظیم تحریک اور مضبوط دلائل کے سامنے شکست کھاجانے والے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ ہر شخص متاثر ہورہا ہے تو وہ طرح طرح کے اعتراضات ‘ الزامات اور ذاتیات پر اتر آتے ہیں چناچہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن اہل دوزخ پر طرح طرح کی سختیاں گزریں گی ان سختیوں پر افسوس کریں گے اور کہیں گے کہ ہائے افسوس ہم ہلاک ہوگئے ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ایک ہلاکت کو کیا کہتے ہو، ابھی تو تمہیں طرح طرح کی ہلاکت بھگتنی اور طرح طرح کے عذاب دوزخ کی مصیبت جھیلنی پڑے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 14–15

[5] جب آدمی سخت تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو موت کی آرزو کرتا ہے کہ موت بھی ایک طرح کی راحت ہے۔ قرآن میں ایک جگہ مذکور ہے کہ دوزخیوں کی کھالیں جل جل کر اور گل گل کر گرپڑیں گی اور پھر نئی کھال پیدا ہوگی۔ یہ بھی ایک طرح کی موت ہے۔ تو مطلب آیت کا یہ ہے کہ ایک موت کو کیا پکارتے ہو۔ اس سے تمہاری مصیبت کا خاتمہ نہیں ہوتا کیونکہ تم کو کئی دفعہ مرنا اور جینا اور عذاب بھگتنا ہے، پکارتے ہو تو بہت سی موتوں کو پکارو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–14

(ف 2) یعنی یہ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ تمہارے پاس ایک باغ ہونا چاہئے ہم کہتے ہیں کہ ہم جب چاہیں گے جنت ونسیم کا وارث بنا دیں گے ، حدیث میں آیا ہے حضور ﷺ کے پاس جبریل (علیہ السلام) امین آئے ، اور انہوں نے پوچھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں ، کیا دنیا کے تمام لذائذ یا آخرت کی نعمتیں ، اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ دنیا کے تمام حظوظ سے آپ کا دامن بھر دیا جائے ، تو ایسا ہو سکتا ہے ، حضور ﷺ نے فرمایا نہیں میں آخرت کی نعمتوں کو ترجیح دیتا ہوں ۔ حل لغات : قصورا : جمع قصر محلات ۔ زفیرا : گدھے کی آواز ، یہاں مراد جہنم کی آواز ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) موت کے پارنے پر کہاجائے گا کہ تم آج ایک موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں کو پکارتے اور بلاتے رہو یعنی جب ان کے ہاتھ پائوں زنجیروں سے باندھ کر ان کو کسی تنگ جگہ میں ڈال دیاجائے گا تو وہاں موت کو پکاریں گے جیسا کہ مصیبت کے وقت ہر انسان موت کو پکارتا ہے اور چونکہ وہاں کی مصیبت لا متناہی ہے اس لئے کہاجائیگا کہ آج ایک بار موت کو نہ پکارو بلکہ بار بار موت ہی کو پکارتے رہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایک بارمریں توچھوٹ جاویں دن میں ہزار بار مرنے سے بدتر حال ہوتا ہے 12 اب آگے اہل حق کے ساتھ جو سلوک ہوگا اس کا بیان ہے اور مقابلے میں ان سے دریافت کیا گیا ہے کہ حق کو قبول کرنے کی بات بہتر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–17

ف 4۔ مطلب یہ کہ انہوں نے تمہاری عبادت کہ واقع میں ضلالت ہے تمہاری امر و رضا سے کی تھی جیسا ان لوگوں کا زعم تھا کہ یہ معبودین خوش ہوتے ہیں اور خوش ہو کر اللہ تعالیٰ سے شفاعت کریں گے یا اپنی رائے فاسد سے اختراع کرلی تھی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کہا جائے گا ایک ہلاکت کو نہیں بہت ہی ہلاکتوں کو پکارو لیکن تمہاری شنوائی ہونے والے نہیں : 14۔ دنیا میں تم دہائی دیتے تھے کہ یہ رسول ‘ اللہ کا رسول نہیں کوئی پاگل ومجنون ہے ‘ اس پر جادو کیا گیا ہے یا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید وہ خود جادوگر ہے ہاں ! یہ کلام جو وہ پیش کرتا ہے اس نے خود گھڑ لیا ہے اور اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے تم اس طرح کی دہائی دیتے رہے اب اس کے صلہ میں تم کو عذاب میں مبتلا دیا گیا ہے اور اب تم موت کے لئے دہائی دے رہے ہو جس طرح جھٹلانے کے تم نے مختلف پیرائے اختیار کئے اسی طرح مختلف طریقوں سے موت کے لئے دہائی دو لیکن تمہاری اس دہائی کی کوئی قیمت نہیں ‘ تمہاری طرف کوئی آنکھ دیکھنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–19

The Second Objection was that if the Holy Prophet ﷺ was a prophet, he should not have been eating and drinking like common people; instead he should have been free from eating and drinking like angels. And if this was not so, he should have at least enough wealth and gardens to take care of his day to day needs, so that he may not need to care for his living. Furthermore, how could he be accepted as a prophet when he is neither an angel nor does an angel accompany him to endorse what he preaches, therefore it appears that he has been charmed by someone which has turned his head and that is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–15

22 "The Fire will see them" The words used in the Text may be metaphorical, or they may mean that the Fire of Hell will be endowed with the faculties of seeing, thinking and judging .

Read the full tafseer →