Al-Furqaan 25:15

Al-Furqaan · from ayah 15

25:15

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ ؕ— كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّمَصِیْرًا ۟قُلۡ اَذٰ لِكَ خَيۡرٌ اَمۡ جَنَّةُ الۡخُـلۡدِ الَّتِىۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ ‌ؕ كَانَتۡ لَهُمۡ جَزَآءً وَّمَصِيۡرًا

پوچھو کہ یہ بہتر ہے یا بہشت جاودانی جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ ہے۔ یہ ان (کے عملوں) کا بدلہ اور رہنے کا ٹھکانہ ہوگا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Is that better or the Garden of Eternity which is promised to the righteous? It will be for them a reward and destination.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 2 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:15

اِن سے پوچھو، یہ انجام اچھا ہے یا وہ اَبدی جنت جس کا وعدہ خداترس پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے؟ جو اُن کے اعمال کی جزا اور اُن کے سفر کی آخری منزل ہو گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پوچھو کہ یہ بہتر ہے یا بہشت جاودانی جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ ہے۔ یہ ان (کے عملوں) کا بدلہ اور رہنے کا ٹھکانہ ہوگا

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہہ دیجیئے کہ کیا یہ بہتر ہے یا وه ہمیشگی والی جنت جس کا وعده پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے، جو ان کا بدلہ ہے اور ان کے لوٹنے کی اصلی جگہ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہو کہ یہ انجام بہتر ہے یا ہمیشہ رہنے والی جنت، جس کا وعدہ متقی لوگوں سے کیا گیا ہے ؟ وہ ان کے لیے انعام ہوگی، اور ان کا آخری انجام

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ کیا یہ بھلا یا وہ ہمیشگی کے باغ جس کا وعدہ ڈر والوں کو ہے، وہ ان کا صلہ اور انجام ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: کیا یہ (حالت) بہتر ہے یا دائمی جنت (کی زندگی) جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے، یہ ان (کے اعمال) کی جزا اور ٹھکانا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے کیا یہ بہتر ہے یا ہمیشگی کی جنت، جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے، وہ ان کے لیے بدلہ اور ٹھکانا ہوگی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان پوچھئے : کیا یہ انجام اچھا ہے یا ہمیشہ کی جنت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے جو ان کے عملوں کا بدلہ اور ان کی آخری منزل ہوگی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان سے پوچھو، کیا یہ بہتر ہے یا وہ جنت ابد جس کا خدا ترسوں سے وعدہ کیا جا رہا ہے ! وہ ان کے لئے صلہ اور ٹھکانا ہو گی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو اب بتاؤ کہ کیا یہ بہتر ہے یا وہ ابدی جنت جس کا وعدہ متقی اور پرہیزگار لوگوں سے کیا گیا ہے جو ان کے لیے ان کے اعمال کا صلہ و بدلہ بھی ہوگا اور آخری ٹھکانہ بھی،

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہیے کہ آیا یہ (مصیبت) اچھی ہے یا وہ ہمیشگی کی جنت جس کا وعدہ متقیوں سے کیا جا چکا ہے۔ وہ ان کیلئے صلہ ہے اور آخری ٹھکانا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ ﷺ کہیے کہ کیا یہ انجام بہتر ہے یا ہمیشہ رہنے کی وہ جنت جس کا وعدہ کیا گیا ہے متقی بندوں سے ان کے لیے وہ ہوگی بدلہ اور ان کے لوٹنے کی جگہ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پوچھو ! کہ یہ بہتر ہے یا ہمیشہ کا رہنے کا باغ جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ ہے یہ ان کے عملوں کا بدلہ اور رہنے کا ٹھکانا ہوگا

— محترمہ رفعت اعجاز

Ask them "Is this (Fire) better or the everlasting Garden which has been promised to the God-fearing righteous people?" which will be the recompense of their good deeds and the final destination of their journey

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :Is that better or the eternal paradise the God-fearing are promised? It will be a reward for them and a final abode.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :Is that better or the eternal paradise the God-fearing are promised? It will be a reward for them and a final abode.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "Is that better or the Paradise of Eternity which is promised to those who have Taqwa" It will be theirs as a reward and final destination.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: Is that (doom) better or the Garden of Immortality which is promised unto those who ward off (evil)? It will be their reward and journey's end.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Is that better or the Garden of Eternity which is promised to the righteous? It will be for them a reward and destination.

— Saheeh International

(Muhammad), ask them, "Is what you want better or the eternal garden promised to the pious ones as their reward and dwelling?

— Muhammad Sarwar

Say: Is this better or the abiding garden which those who guard (against evil) are promised? That shall be a reward and a resort for them.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: in that better or Garden of Abidence that hath been promised to the God-fearing! It shall be theirs as a recompense and a retreat.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "Is that best, or the eternal garden, promised to the righteous? for them, that is a reward as well as a goal (of attainment).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–16

ابدی لذتیں اور مسرتیں اوپر بیان فرمایا ان بدکاروں کا جو ذلت و خواری کے ساتھ اوندھے منہ جہنم کی طرف گھیسٹے جائیں گے اور سر کے بل وہاں پھینک دئیے جائیں گے۔ بندھے بندھائے ہوں گے اور تنگ و تاریک جگہ ہوں گے، نہ چھوٹ سکیں نہ حرکت کرسکیں، نہ بھاگ سکیں نہ نکل سکیں۔ پھر فرماتا ہے بتلاؤ یہ اچھے ہیں یا وہ ؟ جو دنیا میں گناہوں سے بجتے رہے اللہ کا ڈر دل میں رکھتے رہے اور آج اس کے بدلے اپنے اصلی ٹھکانے پہنچ گئے یعنی جنت میں جہاں من مانی نعمتیں ابدی لذتیں دائمی مسرتیں ان کے لئے موجود ہیں عمدہ کھانے، اچھے بچھونے، بہترین سواریاں، پر تکلف لباس بہتر بہتر مکانات، بنی سنوری پاکیزہ حوریں، راحت افزا منظر، ان کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 12–15

سورة الْفُرْقَان 22 آگ کا کسی کو دیکھنا ممکن ہے کہ استعارے کے طور پر ہو، جیسے ہم کہتے ہیں، وہ جامع مسجد کے مینار تم کو دیکھ رہے ہیں، اور ممکن ہے، حقیقی معنوں میں ہو، یعنی جہنم کی آگ دنیا کی آگ کی طرح بےشعور نہ ہو بلکہ دیکھ بھال کر جلانے والی ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–19

خلاصہ تفسیر وہ ذات بڑی عالی شان ہے کہ اگر وہ چاہے تو آپ کو (کفار کی) اس (فرمائش) سے (بھی) اچھی چیز دیدے یعنی بہت سے (غیبی) باغات جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں (بہتر اس لئے کہا کہ وہ تو مطلق باغ کی فرمائش کرتے تھے گو ایک ہی ہو اور متعدد باغ کا ایک سے بہتر ہونا ظاہر ہے) اور (بلکہ ان باغوں کے ساتھ اور بھی مناسب چیزیں دیدے جن کی انہوں نے فرمائش بھی نہیں کی یعنی) آپ کو بہت سے محل دیدے (جو ان باغوں میں بنے ہوں یا باہر ہی ہوں جس سے ان کی فرمائش اور بھی زیادہ نعمتوں کے ساتھ پوری ہوجاوے۔ مطلب یہ کہ جو جنت میں ملے گا اگر اللہ چاہے تو آپ کو دنیا ہی میں دیدے لیکن بعض حکمتوں سے نہیں چاہا اور فی نفسہ ضروری…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 15–16

آیت 16-15 جنت اور اہل جنت کی تصویر اب یہ اس اصل مدعا کا ذکر ہے جس کے لئے دوزخ کی یہ ساری تفصیل سنائی گی ہے۔ پیغمبر ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ جو لوگ تمہیں طعنہ دیتے ہیں کہ تمہارے پاس کوئی باغ کیوں نہ ہو ان سے پوچھو کہ یہ دوزخ بہتر ہے جو ان کے لئے تیار ہے یا وہ جنت خلد جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں سے وعد فرما رکھا ہیچ یعنی تمہاری نگاہیں چونکہ اسی دنیا کی زندگی تک محدود ہیں اس وجہ سے تم اپنے باغوں اور محلوں پر نازاں اور مومنین کی بےمائیگی پر طعنہ زن ہو۔ اگر تمہیں آخرت کا علم ہوتا اور تم یہ جان سکتے کہ وہ وہاں تمہایر لئے کیا عذاب تیار ہے اور اہل ایمان کے لئے کس ابدی بادشاہی کا اہتمام ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

15-1یہ، اشارہ ہے جہنم کے مذکورہ عذابوں کی طرف، جن میں جہنمی جکڑ بند ہو کر مبتلا ہوں گے۔ کہ یہ بہتر ہے جو کفر و شرک کا بدلہ ہے یا وہ جنت، جس کا وعدہ متقین سے ان کے تقویٰ و اطاعت الٰہی پر کیا گیا ہے۔ یہ سوال جہنم میں کیا جائے گا لیکن اسے یہاں اس لئے نقل کیا گیا ہے کہ شاید جہنمیوں کے اس انجام سے عبرت پکڑ کر لوگ تقویٰ و اطاعت کا راستہ اختیار کرلیں اور اس انجام بد سے بچ جائیں، جس کا نقشہ یہاں کھینچا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 15–18

4: جن معبودوں کو انہوں نے خدائی کا درجہ دے رکھا تھا، ان میں سے کچھ تو فرشتے تھے جنہیں یہ خدا کی بیٹیاں کہتے تھے یا بعض لوگوں نے کچھ انبیاء یا بزرگوں کو خدا بنا رکھا تھا، ان کی طرف سے تو یہ جواب ظاہر ہی ہے، لیکن جو لوگ بتوں کو پوجتے تھے، ان کے بارے میں یہ سوال ہوسکتا ہے کہ وہ تو پتھر تھے، اور ان میں بولنے کی صلاحیت کہاں تھی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ صرف ان مشرکین کا ذکر ہے جو انسانوں یا فرشتوں کو خدا بنائے بیٹھے تھے، اور ان کی علامت کے طور پر بتوں کو پوجتے تھے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ ان پتھروں میں بھی بولنے کی صلاحیت پیدا فرما دے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 11–16

(بل کذبوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعیرا) (11) اذاراتھم من۔۔۔۔ وعدا مسولا ـ یعنی وہ کفر اور ضلالت کی حدوں کو پار کرکے اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ قیامت کا انکار کر رہے ہیں۔ قرآن کا انداز تعبیر ” بل “ کا لفظ استعمال کر کے ان کی گمراہی یوں مجسم کرتا ہے کہ وہ اس راہ پر بہت دور چلے گئے ہیں یعنی پہلی باتوں کو چھوڑو ‘ انہوں نے تو قیامت کا انکار کردیا ہے۔ اس کے بعد یہ انکشاف کیا جاتا ہے کہ ان فتنہ پر دازون کے لیے کس قدر خوفناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔ یہ آگ ہے جو حاضر ہے ‘ دہکائی ہوئی ہے۔ واعتدنا۔۔۔۔ سعیرا (25 : 11) ” اور جو اس گھڑی کو جھٹلائے ‘ اس کے لیے ہم نے بڑھکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے “۔ یہاں قرآن کریم مجسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی مکذبین کا انجام سن لیا۔ اب خود فیصلہ کرلو کہ یہ پسند ہے یا وہ جس کا وعدہ مومنین متقین سے کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

کَانَتْ لَہُمْ جَزَآءً وَّمَصِیْرًا۔ ” وہ ان کے اعمال کا بدلہ اور ان کے سفر کی آخری منزل ہوگی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

19 اس آیت میں ایک ایماندار اور ایک کافر کے انجام کا جو تقابل پیش کیا گیا ہے وہ بڑا معنی خیز ہے۔ یعنی روز آخرت اور اعمال کی جزا و سزا کے متعلق ایک یہ امکان ہے کہ فی الواقعہ ایک حقیت ہے اور وہ واقع ہو کے رہے گی اور دوسرا امکان یہ ہے کہ شاید یہ سب کچھ۔۔ ہی ہو۔ اور یہ دونوں باتیں ایسی ہیں جو مشاہدہ اور تجربہ میں نہیں آسکتیں۔ اب وہ شخص جو آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور اس دنیا میں نہایت محتاط اور اللہ سے ڈر کر زندگی گزار رہا ہے۔ اگر بالفرض روز آخرت نہ ہو تو اس کا کچھ بھی نہیں بگڑے گا۔ اور اگر قیامت قائم ہوئی تو اس کے وارے نیارے ہوجائیں گے۔ سب احوال قیامت اس کی توقع کے مطابق اس کے لئے خوشی کا باعث ہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

15۔ اب بھی سوچنے سمجھنے کی مہلت ہے۔ یہ لوگ خود غور کرکے یہ فیصلہ کریں کہ ایک طرف دوزخ کی یہ ناقابل برداشت مصیبتیں ہیں جو ثمرہ ہیں۔ کفر و انکار کا، اور دوسری طرف جنت کی بیشمار راحتیں ہیں، جو موعود ہے ایمان وطاعت پر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–20

آیت نمبر 10 تا 20 ترجمہ : اللہ کی ذات تو بڑی عالی شان ہے یعنی خیر کثیر والی ہے اگر وہ چاہے تو ان کے بیان کردہ باغ اور خزانہ سے بہتر باغات عطا کر دے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں یعنی دنیا میں (عطا کردے) اس لئے کہ آخرت میں ایسے باغات آپ ﷺ کو عطا کرنا تو اس کی مشیت میں ہے ہی، اور آپ کو بہت سے محل (بھی) دیدے یَجْعَلْ لام کے جزم کے ساتھ اور ایک قرأۃ میں (یَجْعَلُ ) رفع کے ساتھ ہے، جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے بلکہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھ رہے ہیں اور قیامت کو جھوٹ سمجھنے والوں کیلئے ہم نے دہکتی ہوئی شدید آگ تیار کر رکھی ہے جن ان کو وہ آگ دور سے دیکھے گی تو وہ لوگ اس کا جوش خروش سنیں گے یعنی غضبناک کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل اذلک خیر ام جنۃ الخلد التی وعد المتقون آپ کہئے کیا یہ بہتر ہے یا وہ دوامی جنت بہتر ہے جس کا وعدہ مؤمنوں سے کیا گیا ہے۔ قُلْ اے محمد ﷺ ! آپ کہہ دیجئے۔ اَذٰلِکَکیا یہ دوزخ جس کی حالت مذکورہ عبارت میں بیان کی گئی۔ اور دوزخ والے یا ذٰلِکَسے اشارہ دنیوی خزانہ اور یہاں کے باغات کی طرف ہے۔ یہ استفہام تقریری ہے جس کے اندر استہزاء اور سرزنش شامل ہے۔ الْمُتَّقُوْنَ سے مراد ہیں شرک اور تکذیب سے بچنے والے (یعنی تمام مؤمن) کیونکہ متقیوں کے مقابلہ میں کفار کا ذکر کیا گیا ہے۔ مؤمن مراد لینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جنت ہر مؤمن کو ملے گی۔ جَنَّۃُ الْخُلْدِمیں اس بات پر دلالت ہے کہ جنت ہمیشہ رہے گی۔ کانت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(15) اے محمد ﷺ آپ ان مکہ والوں یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں سے فرمائیے کیا یہ مصیبت وموت اور یہ دوزخ کی حالت اچھی ہے یا وہ ہمیشہ رہنے کی جنت اچھی ہے جس کا کفر وشرک اور برائیوں سے بچنے والوں یعنی رسول اکرم ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے کہ وہ ہمیشہ کی جنت ان کے لیے صلہ ہے اور ان کا آخرت میں ٹھکانا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ اَذٰلِكَ خَيْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ۔۔ : یعنی آپ ان مشرکوں سے کہیں کہ اس طرح جکڑے ہوئے جہنم کی تنگ جگہ میں ہر وقت موت کی آرزو کرتے رہنا بہتر ہے، یا جنت خلد (ہمیشگی کی جنت) ؟ یہ سوال پوچھنے کے لیے نہیں بلکہ ڈانٹنے کے لیے ہے، کیونکہ جنت اور جہنم کے درمیان بہتر ہونے کا کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ : متقی سے مراد وہ شخص ہے جو کم از کم شرک سے بچے، اس کے بعد گناہ سے بچنے کے لحاظ سے متقین کے بیشمار درجے ہیں اور حسب مراتب سب کے ساتھ جنت کا وعدہ ہے۔ البتہ مشرک کبھی جنت میں نہیں جائے گا، فرمایا : (ۭاِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 15–16

(قل اذلک خیرا۔۔۔۔ 15۔ 16) قل اذلک خیرا مر جنۃ الحلدالتی وعد المتقون اگر یہ کہا جائے : کس طرح یہ کہا : اذلک خیر جب کہ آگ میں تو کوئی خیر نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ سیبویہ نے عربوں سے یہ حکایت : یان کی ہے الشقاء احب الیک امر السعادۃ بد بختی تجھے زیادہ محبوب ہے یا سعادت، جب کہ یہ تو معلوم ہے کہ سعادت ہی اسے زیادہ محبوب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ افعل منک کا باب میں سے نہیں بلکہ یہ تو تیرے اس قول کی طرح ہے : عندہ خیر، نحاس نے کہا : یہ اچھا قول ہے جس طرح فرمایا : فشتر کمالخیر کما الفداء تم میں سے براب تم میں سے اچھے پر فدا ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اس لیے فرمایا : کیونکہ جنت اور دوزخ منازل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–16

1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کانت لہم جزاء یعنی ان کے لیے جزاء ہوگی اللہ کی طرف سے آیت ” ونصیرا “ اور ٹھکانہ ہوگا۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے عطاء بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ کعب احبار ؓ نے فرمایا کہ جو شخص مرگیا اور وہ شراب پیتا تھا تو اس کو آخرت میں نہیں پی سکے اگرچہ وہ جنت میں داخل ہوجائے عطاء نے کہا کہ میں نے اس سے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لہم فیہا مایشاؤن یعنی ان کے لیے وہ ہوگا جو وہ چاہیں گے۔ کعب نے فرمایا کہ وہ اس کو بھول جائے گا اور اس کو یاد بھی نہیں کرے گا۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت کان علی ربک وعدا مسؤلا سے مراد ہے کہ تم سوال کرو جو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [ آپ ﷺ کہیے ] اَذٰلِكَ [ کیا یہ ] خَيْرٌ [ بہتر ہے ] اَمْ [ یا ] جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِيْ [ ہمیشگی کا وہ باغ جس کا ] وُعِدَ [ وعدہ کیا گیا ] الْمُتَّقُوْنَ ۭ [ تقوی کرنے والوں سے ] كَانَتْ لَهُمْ [ وہ (باغ) ہوگا ان کے لئے ] جَزَاۗءً [ ایک بدلہ ] وَّمَصِيْرًا [ اور ایک لوٹنے کی جگہ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–16

(قُلْ اَذٰلِکَ خَیْرٌ) (الآیۃ) یعنی آپ فرمادیجیے کہ یہ دوزخ اور اس کا عذاب بہتر ہے یا وہ جنت بہتر ہے جو ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ جنت متقیوں کو ان کے اعمال کی جزاء کے طور پر دی جائے گی اور یہ لوگ انجام کے طور پر اس میں جائیں گے وہی ان کا مقام ہوگا اور اسی میں رہیں گے صرف رہنا ہی نہیں ہے بلکہ اس میں بڑی بڑی نعمتوں سے سر فراز کیے جائیں گے وہاں جو چاہیں گے وہ عطا کیا جائے گا وہاں نفسوں کی خواہش کے مطابق زندگی گزاریں گے اور زندگی بھی ابدی اور دائمی ہوگی اس کے بر عکس کسی دوزخی کی کوئی بھی خواہش پوری نہیں کی جائے گی سورة سبا میں فرمایا۔ (وَ حِیْلَ بَیْنَھُمْ وَ بَیْنَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–20

تنبیہ برمنشا انکار رسالت وبیان بعض احوال واھوال روز قیامت بل کذبوا بالساعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وکان ربک بصیرا۔ اب آئندہ آیات میں ان منکرین رسالت اور معترضین نبوت کے انکار کا منشا بیان کرتے ہیں کہ آخر اس کی کیا یہ وجہ ہے کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی تکذیب پر اس درجہ تلے ہوئے ہیں تو بتلاتے ہیں کہ ان شبہات اور اعتراضان کا منشا یہ نہیں کہ آپ ﷺ کی شان درویشی وفقیری ان کے ایمان اور ہدایت سے مانع بنی ہوئی ہے بلکہ اصلی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھتے ہیں جس سے آپ ان کو ڈراتے ہیں پس انکار نبوت اور تکذیب رسالت کا اصل منشاء تکذیب قیامت ہے۔ ان کی نظر صرف اسی عطام دنیا پر مقصود ہے ان کا گمان یہ ہے کہ عزت و کرامت کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–16

12:۔ ” قل اذلک خیر “ تا ” وعدا مسئولا “ بشارت اخروی ہے اور استفہام تنبیہ کے لیے ہے۔ کیا یہ دردناک عذاب اچھا ہے یا وہ جنت جس کا شرک اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچنے والوں سے وعدہ کیا گیا ہے جو انہیں بطور جزاء ملے گا اور جس میں ان کا آخر کار ٹھکانا ہوگا ؟ ہر ذی عقل فیصلہ کرسکتا ہے کہ جنت ہی بہتر ہے۔ اس لیے ہر دانشمند کو وہی راستہ اختیار کرنا چاہئے جو جنت کی طرف لے جائے۔ ” لھم فیھا الخ “ جنت کے مزید عیش و آرام کا بیان ہے اس میں اہل جنت کو ہر چیز ملے گی اور ان کی ہر خواہش پوری ہوگی۔ ” خالدین “ مذکورہ بالا ضمائر میں سے کسی ایک سے حال ہے۔ ترجیح اس کو ہے کہ ” یشاءون “ کی ضمیر سے حال ہو (مدارک) ۔ ”…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–16

حقانیات گزشتہ آیات میں کفار و مشرکین کی طرف سے قرآن پاک کی حقانیت کے متعلق اعتراض تھا کہ یہ خود ساختہ ہے اور پرانے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں ۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ یہ کسی مخلوق کا کلام نہیں بلکہ خدائے علیم وخبیر کا نازل کردہ ہے۔ ان کا دوسرا اعتراض رسالت پر تھا کہ یہ کیسے نبی ہو سکتا ہے جو ہماری طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا ہے۔ کہتے تھے کہ اس کے ساتھ ایک فرشتہ ہونا چاہئے تھا جو اس کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈراتا ۔ نیز یہ ہے کہ پیغمبر کے خزانے اور باغات ہونے چاہئیں ۔ اللہ نے جواب میں فرمایا کہ لوازمات بشریت رسالت و نبوت کے مانع نہیں ہیں ۔ رسول بھی انسان ہی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اَذٰلِكَ خَيْرٌ اَمْ جَنَّۃُ الْخُلْدِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ۝ 0ۭ كَانَتْ لَہُمْ جَزَاۗءً وَّمَصِيْرًا۝ 15 خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» «3» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–17

مصنف میں ابن ابی شبیہ نے اور جریروابن ابی حاتم نے حلیمہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ سے کہا گیا تھا اگر آپ کی خوشی ہو تو آپکے ہاتھ میں زمین بھر کے خزانوں کی کنجیاں دی جاویں اور اس سے آخرت میں آپ کا کچھ بھی نقصان نہ ہو اور مرضی ہو تو یہ سب کچھ آخرت میں دیا جاوے۔ آپ نے فرمایا آخرت ہی میں چاہتا ہوں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور بہت جگہ اسی قسم کا مضمون احادیث صحیحہ میں آیا ہے چونکہ آپ کی نظر آخرت پر تھی اور ہونی بھی چاہیے اور کفار آخرت کے منکر تھے ان کے نزدیک جو کچھ انعام و افضال ہوں یہیں ہوں تو ہوں نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بل کذبوا بالساعۃ کہ وہ آخرت کے منکر ہیں۔ پھر واعتدنالمن کذب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–16

قُلْ اَذٰلِکَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّۃُ الْخُلْدِالَّتِیْ وُعِدَالْمُتَّـقُوْنَ ط کَانَتْ لَھُمْ جَزَآئً وَّ مَصِیْرًا۔ لَہُمْ فِیْھَا مَایَشَآئُ وْنَ خٰلِدِیْنَ ط کَانَ عَلٰی رَبِّکَ وَعْدًا مَّسْـُٔوْلاً ۔ (الفرقان : 15، 16) (ان سے پوچھئے کیا یہ (انجام) بہتر ہے یا وہ ابدی جنت جس کا خدا ترسوں سے وعدہ کیا گیا ہے، وہ ان کے لیے صلہ اور ٹھکانہ ہوگی۔ ان کے لیے اس میں وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، یہ آپ کے رب کے ذمہ وعدہ ہے جس کا ایفا لازم ہے۔ ) جنت اور اہل جنت کی تصویر اب یہ اس اصل مدعا کا ذکر ہے جس کے لیے دوزخ کی یہ ساری تفصیل بیان فرمائی گئی ہے۔ آنحضرت ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–16

فہم القرآن ربط کلام : کفار کو ان کے انجام سے آگاہ کرنے کے بعد ان سے ایک سوال کیا گیا ہے۔ کفار کو ان کا خوفناک انجام بتلانے کے بعد استفسار کے انداز میں بتلایا گیا ہے کہ اے کفر کرنے والو ! بتلاؤ کہ جہنم کی سزائیں اور ہولناکیاں بہتر ہیں یا ہمیشہ رہنے والی جنت بہتر ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں کے ساتھ کر رکھا ہے جو اجر اور رہنے کے اعتبار سے بہترین مقام ہے متقین اس جنت میں جو چاہیں گے سو پائیں گے یہ اللہ تعالیٰ کا ایسا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا ظاہر بات ہے کہ جنت ہی بہترین مقام اور رہنے کی جگہ ہے۔ جنت اور جہنم : (وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

15: قُلْ اَذٰلِکَ خَیْرٌ (کہہ دیں کہ کیا یہ بہت بہتر ہے) یعنی آگ کی صفت جو مذکور ہوئی یہ بہتر ہے۔ اَمْ جَنَّۃُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَالْمُتَّقُوْنَ (یا ہمیشہ کی وہ جنت جس کا وعدہ متقین سے کیا گیا۔ ) نحو : یہاں موصول کی طرف لوٹنے والی ضمیر محذوف ہے ای وعدھا۔ اندازِ توبیخ : أذلک خیرکہا گیا حالانکہ آگ میں خیریت کا ہے کی۔ درحقیقت یہ کفار کو توبیخ ہے۔ کَانَتْ لَہُمْ جَزَآئً (یہ ان کے لئے جزاء) ثواب وَّ مَصِیْرًا اور لوٹنے کی جگہ ہوگی۔ نکتہ : یہاں کانتؔ کہا گیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے تمام وعدے اسی طرح ہیں گویا ہوچکے اس لئے کان ماضی کا صیغہ استعمال فرمایا نمبر 2۔ ان کی پیدائش سے پہلے یہ لوح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

15۔ قل اذالک ، کیا یہ دوزخ جس کی حالت مذکورہ عبارت میں بیان کی گئی ہے جنت اور دوزخ کی اور ان کے اہل والوں کی ، خیرام جنۃ الخلد التی وعدالمتقون کانت لھم جزائ، ، جزاء بمعنی ثواب کے ہے۔ ومصیرا، اور اس کامرجع لوٹنے کی جگہ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–16

15۔ 16:۔ اوپر منکرین قیامت کا اور ان کے لیے دوزخ کے تیار کئے جانے کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا ‘ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ ان کے انکار سے اللہ تعالیٰ کا انتظام تو پلٹنے والا نہیں ‘ اب ان لوگوں کو یہ بتلانا چاہیے کہ انتظام الٰہی کے موافق وقت مقررہ پر جب قیامت قائم ہوگی اور اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے موافق ان کو اس دوزخ کی آگ میں جھونک دیا جاوے گا جو ایسے لوگوں کے لیے اس طرح دھکائی گئی ہے کہ اس کی تیزی دنیا کی آگ سے انہتر حصہ زیادہ ہے تو یہ دوزخ کی آگ بہتر ہے یا پرہیز گار لوگوں سے جس جنت کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے وہ بہتر ہے ‘ صحیح بخاری 1 ؎ ومسلم سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–16

(آیت نمبر 15) یعنی ان کی حماقت اور ان کے نفع کی بجائے تقصان کو اختیار کرنے کو بیان کرتے ہوئے ان سے کہہ دیجیے ! (اذلک) یعنی وہ عذاب جو میں نے تمہارے لیے بیان کیا ہے (خیر ام جنۃ الخلد التی و عد المتقون ) ” بہتر ہے یا وہ ہمیشگی والی جنت ‘ جس کا وعدہ متقین سے کیا گیا ہے ؟ “ جن کو تقویٰ نے بڑھا دیا ہے ‘ پس جو کوئی تقویٰ قائم کرتا ہے اس ل کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے۔ (کانت لھم جزاء) ” ہوگی وہ ان کے لیے بدلہ۔ “ یعنی متقین کے تقوی کی جزا کے طور پر (ومصیرا) اور ان کا ٹھکانا ہوگی ‘ جس کی طرف وہ لوٹیں گے جہاں وہ ابدالہ آباد تک رہیں گے۔ (لھم فیھا ما یشاء ون) یعنی انہیں جس چیز کی طلب ہوگی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–48

پانی کے مسائل قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 14–17

16 دوزخیوں کے موت کو پکارنے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہاں پر ایسے لوگ موت کو پکاریں گے "۔ اور رہ رہ کر پکاریں گے تاکہ اس طرح اس ہولناک عذاب سے رہائی پاسکیں۔ یعنی وہاں پر " وا ثبوراہ " ۔ " اے موت آ کے ہمارا کام تمام کر دے " ہی کی چیخ و پکار ہوگی کہ سخت مصیبت پر آدمی یونہی کہتا اور کرتا ہے۔ تاکہ اس مصیبت سے جان چھوٹ سکے۔ مگر اس کا موقع اب کہاں ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ وہاں تو ایسے لوگ ۔ { لایموت ولایحیٰی } ۔ والی زندگی گزاریں گے۔ جس میں نہ زندگی ہوگی نہ موت۔ اور خوف اور ہولناکی کا یہ عالم ہوگا کہ موت ان کو وہاں پر ہر طرف سے آتی دکھائی دیگی لیکن یہ مرنے نہیں پائیں گے تاکہ جان چھوٹ جائے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–20

پرہیز گاروں کو خوشخبری اور بدوں کو عذاب تشریح : آنکھیں بند کر کے ذرا تصور کریں کہ جنت کے باغات کیسے ہوں گے ؟ جو کہ ایسی ہستی کی طرف سے وعدہ ہے جس کی عظمت ‘ حقانیت اور جود و سخا کسی سے چھپا ہوا نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اپنی دعائوں میں باقی تمام دعائوں کے ساتھ جنت الفردوس کا مانگنا نہ بھولیں۔ کیونکہ اس سے مانگنا اس کو پسند ہے اور دعا کو تو عبادت کا بہترین حصہ کہا گیا ہے تو ایمان کی سلامتی اللہ سے عجزونیاز اور مغفرت مانگتے رہنا اللہ کو بےحد پسند ہے۔ پھر دوبارہ منکرین کو عذاب کی خبر دی جا رہی ہے۔ اور نصیحت کی جا رہی ہے کہ جو بھی کرو اپنی عقل کو کام میں لا کر کرو کیونکہ جھوٹا شخص نجات دلانے میں بھی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–20

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف ان کی سمجھ اتنی بات نہیں آتی کہ جس خالق کائنات نے ساری کائنات بنائی ہے وہ چاہتا تو ان کے اندازے سے زیادہ خوبصورت باغات جو ہمیشہ شاداب رہتے ، اور ان کی امیدوں سے بڑے دولت کے انبار آپ ﷺ کو عطا فرما دیتا ، ان کی امیدوں سے زیادہ عالی شان محلات آپ ﷺ کے لیے بنا دیتا ، یہ اس کی حکمت کہ اس نے عام آدمی کی خوش نصیبی سے آپ ﷺ کا مزاج عالی ہی ایسا بنایا کہ آپ ﷺ عام زندگی پسند فرماتے اور اپنی رحمت سے آپ ﷺ کو دنیا میں عام لوگوں ہی کی زندگی دی کہ آپ ﷺ ساری انسانیت کے لیے اللہ جل جلالہ کی رحمت ہیں تو ہر عام آدمی کی رسائی آپ ﷺ کی بارگاہ تک رہے ورنہ آپ ﷺ اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 15–16

2 ۔ یعنی یہ وعدہ اس قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے پورا کرنے کی دعا کی جائے گی یا یہ ایساوعدہ ہے جو مانگنے پر یقیناپورا کیا جائیگا۔ جیسا کہ دوسری آیت میں اللہ کے نیک بندوں کی دعا نقل کی گئی ہے : ربنا اتنا ما وعدتنا علی رسلک : اے اللہ اس وعدے کو پورا فرما جو تو نے اپنے پیغمبروں ﷺ کی زبانی ہم سے کیا۔ (ابن کثیر، شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:15) اذلک ہمزہ استفہام کے لئے ہے۔ ذلکمشار الیہ النار ہے۔ جنۃ الخلد۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہمیشہ رہنے والی جنت۔ الخلد مصدر۔ ہمیشگی دوام۔ بقا خلد یخلد (نصر) سے۔ کانت فعل ناقص۔ ماضی صیغہ واحد مؤنث غائب۔ ضمیر فاعل جنت کی طرف راجع ہے۔ لہم ای للمتقین۔ جزائ۔ نیک عمل کا صلہ۔ مصیرا۔ لوٹنے کی جگہ۔ ٹھکانہ ۔ قرار گاہ۔ جزاء ومصیرا دونوں منصوب بوجہ خبر کے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–16

لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 16 : (مالھذالرسول) یہ کیسا رسول ہے ‘(یمشی) چلتا ہے ‘(الاسواق (سوق) بازار ‘(کنز) خزانہ ‘(مسحور) جادو میں پھنسا ہوا ‘(ضلوا) وہ گمراہ ہوگئے ‘ قصور (قصر) محل۔ محلات ‘(سعیر) بھڑکتی آگ ‘(تغیظ) غصہ سے جوش مارنا ‘(زفیر) غصہ سے نکلی ہوئی تیز آواز ‘ (ضیق) تنگ ‘ مقرنین (آپس میں جکڑے ہوئے) (ثبور) موت۔ ہلاکت ‘(مایشآء و ن) جو کچھ وہ چاہیں گے ‘(مسئولا) سوال کیا گیا۔ درخواست کا حق ‘۔ تشریح : آیت نمبر 7 تا 16 : سچی اور عظیم تحریک اور مضبوط دلائل کے سامنے شکست کھاجانے والے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ ہر شخص متاثر ہورہا ہے تو وہ طرح طرح کے اعتراضات ‘ الزامات اور ذاتیات پر اتر آتے ہیں چناچہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–16

اللہ تعالیٰ کے وعدہ اور دعا کا ذکر۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا اے محبوب ﷺ تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ ان کے انکار سے اللہ تعالیٰ کا انتظام تو پلٹنے والا نہیں اب لوگوں کو یہ بتلانا چاہیے کہ انتظام الٰہی کے موافق وقت مقررہ پر جب قیامت قائم ہوگی اور اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے موافق ان کو دوزخ کی آگ میں جھونک دیاجائے گا جو ایسے لوگوں کے لیے اس طرح آگ دھکائی گئی ہے کہ اس کی تیزی دنیا کی آگ سے انہتر حصہ زیادہ ہے تو یہ دوزخ کی آگ بہتر ہے یاپرہیزگاروں سیجس جنت کا اللہ نے وعدہ کیا ہے وہ بہتر ہے پھر فرمایا یہ جنت وہ ہے جس کی نعمتوں کو کبھی فنا نہیں اور نہ کسی نعمت کی بھی کمی پڑے گی ، جس چیز کو جی چاہے وہ ہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 14–15

[5] جب آدمی سخت تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو موت کی آرزو کرتا ہے کہ موت بھی ایک طرح کی راحت ہے۔ قرآن میں ایک جگہ مذکور ہے کہ دوزخیوں کی کھالیں جل جل کر اور گل گل کر گرپڑیں گی اور پھر نئی کھال پیدا ہوگی۔ یہ بھی ایک طرح کی موت ہے۔ تو مطلب آیت کا یہ ہے کہ ایک موت کو کیا پکارتے ہو۔ اس سے تمہاری مصیبت کا خاتمہ نہیں ہوتا کیونکہ تم کو کئی دفعہ مرنا اور جینا اور عذاب بھگتنا ہے، پکارتے ہو تو بہت سی موتوں کو پکارو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–18

دوزخ بہتر ہے یا جنت والخلد ! (ف 1) یعنی دنیا میں تو یہ لوگ قیامت کو جھٹلاتے رہے پیغمبر کی تکذیب کرتے رہے اور کلام الہی کو افتراء اور جھوٹ کہتے رہے ، مگر جب انہیں ان کے انکار وتمرد کی پاداش میں جہنم کی سزا ہوگی اس وقت یہ جہنمی چاہیں گے کہ موت آکر عذاب کی شدتوں اور تلخیوں کو ختم کر دے ، اس وقت زندگی سے سخت بیزار ہو کر اپنے لئے موت کی خواہش کریں گے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، کم بختوا سوچو ، کہ کیا یہ دوزخ کی زندگی عذاب ، اور یہ تکلفیں بہتر ہیں ، یا جنت الخلد ، (بہشت جادوانی) بہتر ہے کیا تم تمردو سرکشی کو پسند کرتے ہو ، جس کی سزا جہنم اور اس کی شدتیں ہیں ، یا جنت پسند کرتے ہو ، جہاں کہ روح وجسم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(15) آپ ان سے فرمائیے اور آپ ان سے دریافت کیجئے بھلا یہ مصیبت کی حالت اور یہ دوزخ کا عذاب بہتر ہے یا وہ دائمی جنت اچھی ہے جس کا اہل تقویٰ اور پرہیز گاروں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ وہ جنت ان کے تقویٰ اور پرہیز گاری کا صلہ اور ان کا آخری ٹھکانہ ہوگا اور ان کے بازگشت کی جگہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–17

ف 4۔ مطلب یہ کہ انہوں نے تمہاری عبادت کہ واقع میں ضلالت ہے تمہاری امر و رضا سے کی تھی جیسا ان لوگوں کا زعم تھا کہ یہ معبودین خوش ہوتے ہیں اور خوش ہو کر اللہ تعالیٰ سے شفاعت کریں گے یا اپنی رائے فاسد سے اختراع کرلی تھی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پوچھا جائے گا کہ بتاؤ یہ معاملہ اچھا ہے یا جنت الخلد جس کا وعدہ متقین سے تھا ؟ 15۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ وہی طعنہ زنی کرنے والے اور اے پیغمبر اسلام ! ﷺ سے سوال کرنے والے کہ اگر آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو اللہ سے ایک محل ہی اپنے لئے طلب کرلو کوئی باغ باغیچہ ہی مان لوگ اور بلاشبہ ان کا یہ کہنا بطور استہزاء اور مذاق ہی ہوا کرتا تھا اب ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ اچھا بتاؤ یہ طریقہ جو تمہارے ساتھ کیا جارہا ہے اور تم اس میں مزے لے رہے ہو یہی اچھا ہے یا وہ جنت الخلد جس کا وعدہ متقین کو دیا گیا تھا اور تم اس وعدہ کو سن کر ٹھٹھہ لگاتے تھے اور کہتے تھے کہ اچھا یہ لوگ متقین کی جماعت ہے جو ہمارے کمین وکمزور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–19

The Second Objection was that if the Holy Prophet ﷺ was a prophet, he should not have been eating and drinking like common people; instead he should have been free from eating and drinking like angels. And if this was not so, he should have at least enough wealth and gardens to take care of his day to day needs, so that he may not need to care for his living. Furthermore, how could he be accepted as a prophet when he is neither an angel nor does an angel accompany him to endorse what he preaches, therefore it appears that he has been charmed by someone which has turned his head and that is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–15

22 "The Fire will see them" The words used in the Text may be metaphorical, or they may mean that the Fire of Hell will be endowed with the faculties of seeing, thinking and judging .

Read the full tafseer →