Al-Furqaan 25:16

Al-Furqaan · from ayah 16

25:16

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ ؕ— كَانَ عَلٰی رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْـُٔوْلًا ۟لَّهُمۡ فِيۡهَا مَا يَشَآءُوۡنَ خٰلِدِيۡنَ‌ ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعۡدًا مَّسۡــئُوۡلًا

وہاں جو چاہیں گے ان کے لئے میسر ہوگا ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ یہ وعدہ خدا کو (پورا کرنا) لازم ہے اور اس لائق ہے کہ مانگ لیا جائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

For them therein is whatever they wish, [while] abiding eternally. It is ever upon your Lord a promise [worthy to be] requested.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 2 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:16

جس میں اُن کی ہر خواہش پوری ہو گی، جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، جس کا عطا کرنا تمہارے پروردگار کے ذمے ایک واجب الادا وعدہ ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہاں جو چاہیں گے ان کے لئے میسر ہوگا ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ یہ وعدہ خدا کو (پورا کرنا) لازم ہے اور اس لائق ہے کہ مانگ لیا جائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه جو چاہیں گے ان کے لئے وہاں موجود ہوگا، ہمیشہ رہنے والے۔ یہ تو آپ کے رب کے ذمے وعده ہے جو قابل طلب ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہاں انہیں ہمیشہ ہمیشہ بستے ہوئے ہر وہ چیز ملے گی جو وہ چاہیں گے۔ یہ وہ ذمہ دارانہ وعدہ ہے جو تمہارے رب نے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان کے لیے وہاں من مانی مرادیں ہیں جن میں ہمیشہ رہیں گے، تمہارے رب کے ذمہ وعدہ ہے مانگا ہوا، ف۲۸)

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ان کے لئے ان (جنتوں) میں وہ (سب کچھ میسّر) ہوگا جو وہ چاہیں گے (اس میں) ہمیشہ رہیں گے، یہ آپ کے رب کے ذمۂ (کرم) پر مطلوبہ وعدہ ہے (جو پورا ہو کر رہے گا)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان کے لیے اس میں جو چاہیں گے ہوگا، ہمیشہ رہنے والے، یہ تیرے رب کے ذمے ہوچکا، ایسا وعدہ جو قابل طلب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہاں انھیں جو کچھ چاہیں گے ملے گا وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ یہ تمہارے پروردگار کے ذمہ ایسا وعدہ ہے جو۔۔۔ کیا جاسکتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس میں ان کے لئے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ تیرے رب کا وعدہ ہے جس کے ایفا کی اس پر حتمی ذمہ داری ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان کو اس میں ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ خواہش کریں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، یہ ایک وعدہ ہے واجب الاداء تیرے رب کے ذمہ کرم پر،

— مولانا اسحاق مدنی

انہیں وہاں جو کچھ وہ چاہیں گے ملے گا وہ ہمیشہ رہیں گے (یہ) وعدہ ہے ان کے پروردگار کے ذمہ (اور) قابل درخواست۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان کے لیے اس میں ہر وہ شے ہوگی جو وہ چاہیں گے وہ اس میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش یہ آپ کے رب کے ذمہ ایک واجب الادا وعدہ ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہاں وہ جو چاہیں گے ان کو میسر ہوگا ہمیشہ اس میں رہیں گے یہ آپ کے رب کا وعدہ ہے جس کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

wherein they will get everything they desire and wherein they will dwell for ever. This is a promise which your Lord has taken upon Himself to fulfil.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

For them there will be whatever they wish, while they will be eternal. This is a promise undertaken by your Lord, (the fulfillment of) which is worth praying for.

— Muhammad Taqi Usmani

For them there will be whatever they wish, while they will be eternal. This is a promise undertaken by your Lord, (the fulfillment of) which is worth praying for.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

For them there will be therein all that they desire, and they will abide (therein forever). It is upon your Lord a Wa`dan Mas'ula.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Therein abiding, they have all that they desire. It is for thy Lord a promise that must be fulfilled.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

For them therein is whatever they wish, [while] abiding eternally. It is ever upon your Lord a promise [worthy to be] requested.

— Saheeh International

Therein they will eternally have whatever they want. This is a binding promise from your Lord."

— Muhammad Sarwar

They shall have therein what they desire abiding (in it); it is a promise which it is proper to be prayed for from your Lord.

— Muhammad Habib Shakir

Theirs therein shall be all that they wish for, as abiders; a promise from thy Lord to be asked for.

— Abdul Majid Daryabadi

"For them there will be therein all that they wish for: they will dwell (there) for aye: A promise to be prayed for from thy Lord."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–16

ابدی لذتیں اور مسرتیں اوپر بیان فرمایا ان بدکاروں کا جو ذلت و خواری کے ساتھ اوندھے منہ جہنم کی طرف گھیسٹے جائیں گے اور سر کے بل وہاں پھینک دئیے جائیں گے۔ بندھے بندھائے ہوں گے اور تنگ و تاریک جگہ ہوں گے، نہ چھوٹ سکیں نہ حرکت کرسکیں، نہ بھاگ سکیں نہ نکل سکیں۔ پھر فرماتا ہے بتلاؤ یہ اچھے ہیں یا وہ ؟ جو دنیا میں گناہوں سے بجتے رہے اللہ کا ڈر دل میں رکھتے رہے اور آج اس کے بدلے اپنے اصلی ٹھکانے پہنچ گئے یعنی جنت میں جہاں من مانی نعمتیں ابدی لذتیں دائمی مسرتیں ان کے لئے موجود ہیں عمدہ کھانے، اچھے بچھونے، بہترین سواریاں، پر تکلف لباس بہتر بہتر مکانات، بنی سنوری پاکیزہ حوریں، راحت افزا منظر، ان کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 23 اصل الفاظ ہیں " وعدا مسئولا "، یعنی ایسا وعدہ جس کے پورا کرنے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔ یہاں ایک شخص یہ سوال اٹھا سکتا ہے کہ جنت کا یہ وعدہ اور دوزخ کا یہ ڈراوا کسی ایسے شخص پر کیا اثر انداز ہوسکتا ہے۔ جو قیامت اور حشر و نشر اور جنت و دوزخ کا پہلے ہی منکر ہو ؟ اس لحاظ سے تو یہ بظاہر ایک بےمحل کلام محسوس ہوتا ہے، لیکن تھوڑا سا غور کیا جائے تو بات بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے۔ اگر معاملہ یہ ہو کہ میں ایک بات منوانا چاہتا ہوں اور دوسرا نہیں ماننا چاہتا تو بحث و حجت کا انداز کچھ اور ہوتا ہے۔ لیکن اگر میں اپنے مخاطب سے اس انداز میں گفتگو کر رہا ہوں کہ زیر بحث مسئلہ میری بات ماننے یا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–19

خلاصہ تفسیر وہ ذات بڑی عالی شان ہے کہ اگر وہ چاہے تو آپ کو (کفار کی) اس (فرمائش) سے (بھی) اچھی چیز دیدے یعنی بہت سے (غیبی) باغات جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں (بہتر اس لئے کہا کہ وہ تو مطلق باغ کی فرمائش کرتے تھے گو ایک ہی ہو اور متعدد باغ کا ایک سے بہتر ہونا ظاہر ہے) اور (بلکہ ان باغوں کے ساتھ اور بھی مناسب چیزیں دیدے جن کی انہوں نے فرمائش بھی نہیں کی یعنی) آپ کو بہت سے محل دیدے (جو ان باغوں میں بنے ہوں یا باہر ہی ہوں جس سے ان کی فرمائش اور بھی زیادہ نعمتوں کے ساتھ پوری ہوجاوے۔ مطلب یہ کہ جو جنت میں ملے گا اگر اللہ چاہے تو آپ کو دنیا ہی میں دیدے لیکن بعض حکمتوں سے نہیں چاہا اور فی نفسہ ضروری…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 15–16

آیت 16-15 جنت اور اہل جنت کی تصویر اب یہ اس اصل مدعا کا ذکر ہے جس کے لئے دوزخ کی یہ ساری تفصیل سنائی گی ہے۔ پیغمبر ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ جو لوگ تمہیں طعنہ دیتے ہیں کہ تمہارے پاس کوئی باغ کیوں نہ ہو ان سے پوچھو کہ یہ دوزخ بہتر ہے جو ان کے لئے تیار ہے یا وہ جنت خلد جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں سے وعد فرما رکھا ہیچ یعنی تمہاری نگاہیں چونکہ اسی دنیا کی زندگی تک محدود ہیں اس وجہ سے تم اپنے باغوں اور محلوں پر نازاں اور مومنین کی بےمائیگی پر طعنہ زن ہو۔ اگر تمہیں آخرت کا علم ہوتا اور تم یہ جان سکتے کہ وہ وہاں تمہایر لئے کیا عذاب تیار ہے اور اہل ایمان کے لئے کس ابدی بادشاہی کا اہتمام ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16-1یعنی ایسا وعدہ، جو یقینا پورا ہو کر رہے گا، جیسے قرض کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ نے اپنے ذمے یہ وعدہ واجب کرلیا ہے جس کا اہل ایمان اس سے مطالبہ کرسکتے ہیں۔ یہ محض اس کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اہل ایمان کے لئے اس حسن جزا کو اپنے لئے ضروری قرار دے لیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 15–18

4: جن معبودوں کو انہوں نے خدائی کا درجہ دے رکھا تھا، ان میں سے کچھ تو فرشتے تھے جنہیں یہ خدا کی بیٹیاں کہتے تھے یا بعض لوگوں نے کچھ انبیاء یا بزرگوں کو خدا بنا رکھا تھا، ان کی طرف سے تو یہ جواب ظاہر ہی ہے، لیکن جو لوگ بتوں کو پوجتے تھے، ان کے بارے میں یہ سوال ہوسکتا ہے کہ وہ تو پتھر تھے، اور ان میں بولنے کی صلاحیت کہاں تھی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ صرف ان مشرکین کا ذکر ہے جو انسانوں یا فرشتوں کو خدا بنائے بیٹھے تھے، اور ان کی علامت کے طور پر بتوں کو پوجتے تھے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ ان پتھروں میں بھی بولنے کی صلاحیت پیدا فرما دے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 11–16

(بل کذبوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعیرا) (11) اذاراتھم من۔۔۔۔ وعدا مسولا ـ یعنی وہ کفر اور ضلالت کی حدوں کو پار کرکے اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ قیامت کا انکار کر رہے ہیں۔ قرآن کا انداز تعبیر ” بل “ کا لفظ استعمال کر کے ان کی گمراہی یوں مجسم کرتا ہے کہ وہ اس راہ پر بہت دور چلے گئے ہیں یعنی پہلی باتوں کو چھوڑو ‘ انہوں نے تو قیامت کا انکار کردیا ہے۔ اس کے بعد یہ انکشاف کیا جاتا ہے کہ ان فتنہ پر دازون کے لیے کس قدر خوفناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔ یہ آگ ہے جو حاضر ہے ‘ دہکائی ہوئی ہے۔ واعتدنا۔۔۔۔ سعیرا (25 : 11) ” اور جو اس گھڑی کو جھٹلائے ‘ اس کے لیے ہم نے بڑھکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے “۔ یہاں قرآن کریم مجسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 اور چاہیں گے وہی جو ان کے مرتبہ کے مناسب ہوگا۔ 5 " وَعْدًا مَّسْئُولاً " سے مراد حتمی وعدہ ہے جو خدا تعالیٰ نے محض فضل و عنایت سے اپنے ذمہ لازم کرلیا۔ یا یہ مطلب کہ اس وعدہ کے افاء کا متقین سوال کریں گے۔ جو یقینا پورا کیا جائے گا جیسا کہ دعا میں ہے۔ (رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰي رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭاِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ ) 3 ۔ آل عمران :194)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

کَانَ عَلٰی رَبِّکَ وَعْدًا مَّسْءُوْلًا ” اس وعدہ کے ایفا کی آپ کے رب پر حتمی ذمہ داری ہے۔ اس کے حوالے سے سورة آل عمران کی یہ دعا بھی ذہن میں تازہ کر لیجیے : رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ وَلاَ تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِط اِنَّکَ لاَ تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ”اے ہمارے پروردگار ! تو نے اپنے رسولوں علیہ السلام کے ذریعے ہم سے جو وعدے کیے ہیں وہ پورے فرما اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کرنا ‘ بیشک تو اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا“۔ اللہ تعالیٰ یقیناً اپنے ان وعدوں کو پورا فرمائے گا اور یہ اس کی بےپایاں رحمت کا اظہار ہے کہ وہ ان وعدوں کو اپنی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 16–17

20 یعنی ایمانداروں اور پرہیزگاروں سے اللہ کا یہ حتمی وعدہ ہے کہ وہ انھیں جنت عطا فرمائے گا۔ اس جنت میں وہ جو کچھ بھی خواہش کریں گے انھیں میہا کی جائے گی اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اس جنت میں قیام پذیر رہیں گے۔ یہ ایک ہی وعدہ کے تین اجزاء ہوئے اور اس وعدہ کے سلسلہ میں مسلمانوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ اس کے لئے اللہ سے دعا مانگتے رہا کریں اور جنت کا مطالبہ کرتے رہا کریں۔ جیسا کہ مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی گئی۔ ربنا ماتنا ما وعدتنا تناحلی رسلک

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

16۔ یعنی اللہ نے اپنے فضل و عنایت سے یہ اجر اپنے اوپر لازم کرلیا ہے، اور یہ اس قابل ہے کہ اس کی درخواست کی جائے، (آیت) ” مسؤلا “۔ یہاں قابل درخواست کے معنی میں ہے اے من حقہ ان یکون مسؤلا (کبیر) حقیقا بان یسأل ویطلب (بیضاوی) (آیت) ” لھم فیھا مایشآء ون “۔ اہل جنت کا پہلا وصف یہاں یہ بیان ہوا کہ جنت میں انھیں کی مرضی کار فرما ہوگی۔ وہ جو کچھ بھی چاہیں گے جو بھی نعمتیں، راحتیں، لذتیں، مادی، روحانی جس قسم کی بھی انہیں مرغوب ہوں گی، بس وہ انہیں مہیا و حاضر مل جائیں گے۔ آج اپنی خواہشوں کو مرضی الہی کے تابع کردینے کا یہ نتیجہ کل نکلنا بھی چاہیے تھا۔ (آیت) ” خلدین “۔ دوسرا وصف یہ بیان ہوا کہ یہ نعمتیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–20

آیت نمبر 10 تا 20 ترجمہ : اللہ کی ذات تو بڑی عالی شان ہے یعنی خیر کثیر والی ہے اگر وہ چاہے تو ان کے بیان کردہ باغ اور خزانہ سے بہتر باغات عطا کر دے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں یعنی دنیا میں (عطا کردے) اس لئے کہ آخرت میں ایسے باغات آپ ﷺ کو عطا کرنا تو اس کی مشیت میں ہے ہی، اور آپ کو بہت سے محل (بھی) دیدے یَجْعَلْ لام کے جزم کے ساتھ اور ایک قرأۃ میں (یَجْعَلُ ) رفع کے ساتھ ہے، جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے بلکہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھ رہے ہیں اور قیامت کو جھوٹ سمجھنے والوں کیلئے ہم نے دہکتی ہوئی شدید آگ تیار کر رکھی ہے جن ان کو وہ آگ دور سے دیکھے گی تو وہ لوگ اس کا جوش خروش سنیں گے یعنی غضبناک کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لہم فیہا ما یشآء ون خلدین جو کچھ وہ چاہیں گے جنت میں ان کو ملے گا (یا ان کے لئے موجود ہے) ہمیشہ (وہاں) رہیں گے۔ یعنی اپنے مرتبے کے لائق مؤمن جنت کے اندر جو کچھ چاہے گا وہ اس کو ملے گا۔ ظاہر ہے کہ ناقص کو وہ نعمت نہیں ملے گی جو کامل کو ملے گی۔ آیت میں تنبیہ ہے اس امر پر کہ تمام ارمان تو صرف جنت میں ہی پورے ہوں گی (دنیا میں پورے نہیں ہوسکتے) ۔ کان علی ربک وعدا مسؤلا۔ اے پیغمبر یہ ایک وعدہ ہے جو آپ کے رب کے ذمے ہے اور قابل درخواست ہے۔ عَلٰی رَبِّکَیعنی آپ کے رب پر لازم ہے اور واجب ہے کیونکہ اس نے وعدہ کرلیا ہے اور وعدۂ خداوندی کے خلاف ہونا ممکن نہیں (یعنی اللہ پر کوئی بات فی نفسہٖ واجب نہیں وجوب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(16) ان کو جنت میں وہ سب چیزیں ملیں گی جو کچھ وہ چاہیں گے اور تمنا کریں گے اور وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں موت آئے گی اور نہ وہاں سے وہ نکالے جائیں گے، یہ ایک وعدے ہے جو آپ کے رب کے ذمہ ہے اور جس کی ان لوگوں نے درخواست کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کی درخواست پوری فرما دی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَهُمْ فِيْهَا مَا يَشَاۗءُوْنَ خٰلِدِيْنَ :”لَھُم“ اور ”فِیْھَا“ کو پہلے لانے میں حصر کا مفہوم ہے، یعنی یہ نعمت کہ جو چاہیں مل جائے، صرف متقی لوگوں کو حاصل ہوگی اور انھیں بھی صرف جنت میں ملے گی۔ دنیا میں یہ نعمت نہ متقی لوگوں کو حاصل ہے نہ غیر متقی لوگوں کو۔ دنیا میں ہر ایک کا حال وہ ہے جو شاعر نے بیان کیا ہے ؂ مَا کُلُّ مَا یَتَمَنَّی الْمَرْءُ یُدْرِکُہُ تَجْرِی الرِّیَاحُ بِمَا لَا تَشْتَھِی السُّفُنُ ”ایسا نہیں کہ آدمی جو بھی تمنا کرے اسے حاصل ہی کرلے، کیونکہ ہوائیں کشتیوں کی خواہش کے خلاف چلا کرتی ہیں۔“ سورۂ حٰمٓ السجدہ کی آیت (31) : (وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْٓ اَنْفُسُكُمْ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 15–16

(قل اذلک خیرا۔۔۔۔ 15۔ 16) قل اذلک خیرا مر جنۃ الحلدالتی وعد المتقون اگر یہ کہا جائے : کس طرح یہ کہا : اذلک خیر جب کہ آگ میں تو کوئی خیر نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ سیبویہ نے عربوں سے یہ حکایت : یان کی ہے الشقاء احب الیک امر السعادۃ بد بختی تجھے زیادہ محبوب ہے یا سعادت، جب کہ یہ تو معلوم ہے کہ سعادت ہی اسے زیادہ محبوب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ افعل منک کا باب میں سے نہیں بلکہ یہ تو تیرے اس قول کی طرح ہے : عندہ خیر، نحاس نے کہا : یہ اچھا قول ہے جس طرح فرمایا : فشتر کمالخیر کما الفداء تم میں سے براب تم میں سے اچھے پر فدا ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اس لیے فرمایا : کیونکہ جنت اور دوزخ منازل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–16

1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کانت لہم جزاء یعنی ان کے لیے جزاء ہوگی اللہ کی طرف سے آیت ” ونصیرا “ اور ٹھکانہ ہوگا۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے عطاء بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ کعب احبار ؓ نے فرمایا کہ جو شخص مرگیا اور وہ شراب پیتا تھا تو اس کو آخرت میں نہیں پی سکے اگرچہ وہ جنت میں داخل ہوجائے عطاء نے کہا کہ میں نے اس سے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لہم فیہا مایشاؤن یعنی ان کے لیے وہ ہوگا جو وہ چاہیں گے۔ کعب نے فرمایا کہ وہ اس کو بھول جائے گا اور اس کو یاد بھی نہیں کرے گا۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت کان علی ربک وعدا مسؤلا سے مراد ہے کہ تم سوال کرو جو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَهُمْ [ ان کے لئے ] فِيْهَا [ اس میں ہے ] مَا [ وہ جو ] يَشَاۗءُوْنَ [ وہ چاہیں گے ] خٰلِدِيْنَ ۭ [ ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] كَانَ عَلٰي رَبِّكَ [ یہ ہے آپ ﷺ کے رب پر ] وَعْدًا مَّسْـُٔـوْلًا [ ایک مانگا ہوا وعدہ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–16

(قُلْ اَذٰلِکَ خَیْرٌ) (الآیۃ) یعنی آپ فرمادیجیے کہ یہ دوزخ اور اس کا عذاب بہتر ہے یا وہ جنت بہتر ہے جو ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ جنت متقیوں کو ان کے اعمال کی جزاء کے طور پر دی جائے گی اور یہ لوگ انجام کے طور پر اس میں جائیں گے وہی ان کا مقام ہوگا اور اسی میں رہیں گے صرف رہنا ہی نہیں ہے بلکہ اس میں بڑی بڑی نعمتوں سے سر فراز کیے جائیں گے وہاں جو چاہیں گے وہ عطا کیا جائے گا وہاں نفسوں کی خواہش کے مطابق زندگی گزاریں گے اور زندگی بھی ابدی اور دائمی ہوگی اس کے بر عکس کسی دوزخی کی کوئی بھی خواہش پوری نہیں کی جائے گی سورة سبا میں فرمایا۔ (وَ حِیْلَ بَیْنَھُمْ وَ بَیْنَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–20

تنبیہ برمنشا انکار رسالت وبیان بعض احوال واھوال روز قیامت بل کذبوا بالساعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وکان ربک بصیرا۔ اب آئندہ آیات میں ان منکرین رسالت اور معترضین نبوت کے انکار کا منشا بیان کرتے ہیں کہ آخر اس کی کیا یہ وجہ ہے کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی تکذیب پر اس درجہ تلے ہوئے ہیں تو بتلاتے ہیں کہ ان شبہات اور اعتراضان کا منشا یہ نہیں کہ آپ ﷺ کی شان درویشی وفقیری ان کے ایمان اور ہدایت سے مانع بنی ہوئی ہے بلکہ اصلی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھتے ہیں جس سے آپ ان کو ڈراتے ہیں پس انکار نبوت اور تکذیب رسالت کا اصل منشاء تکذیب قیامت ہے۔ ان کی نظر صرف اسی عطام دنیا پر مقصود ہے ان کا گمان یہ ہے کہ عزت و کرامت کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–16

12:۔ ” قل اذلک خیر “ تا ” وعدا مسئولا “ بشارت اخروی ہے اور استفہام تنبیہ کے لیے ہے۔ کیا یہ دردناک عذاب اچھا ہے یا وہ جنت جس کا شرک اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچنے والوں سے وعدہ کیا گیا ہے جو انہیں بطور جزاء ملے گا اور جس میں ان کا آخر کار ٹھکانا ہوگا ؟ ہر ذی عقل فیصلہ کرسکتا ہے کہ جنت ہی بہتر ہے۔ اس لیے ہر دانشمند کو وہی راستہ اختیار کرنا چاہئے جو جنت کی طرف لے جائے۔ ” لھم فیھا الخ “ جنت کے مزید عیش و آرام کا بیان ہے اس میں اہل جنت کو ہر چیز ملے گی اور ان کی ہر خواہش پوری ہوگی۔ ” خالدین “ مذکورہ بالا ضمائر میں سے کسی ایک سے حال ہے۔ ترجیح اس کو ہے کہ ” یشاءون “ کی ضمیر سے حال ہو (مدارک) ۔ ”…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–16

حقانیات گزشتہ آیات میں کفار و مشرکین کی طرف سے قرآن پاک کی حقانیت کے متعلق اعتراض تھا کہ یہ خود ساختہ ہے اور پرانے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں ۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ یہ کسی مخلوق کا کلام نہیں بلکہ خدائے علیم وخبیر کا نازل کردہ ہے۔ ان کا دوسرا اعتراض رسالت پر تھا کہ یہ کیسے نبی ہو سکتا ہے جو ہماری طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا ہے۔ کہتے تھے کہ اس کے ساتھ ایک فرشتہ ہونا چاہئے تھا جو اس کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈراتا ۔ نیز یہ ہے کہ پیغمبر کے خزانے اور باغات ہونے چاہئیں ۔ اللہ نے جواب میں فرمایا کہ لوازمات بشریت رسالت و نبوت کے مانع نہیں ہیں ۔ رسول بھی انسان ہی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَہُمْ فِيْہَا مَا يَشَاۗءُوْنَ خٰلِدِيْنَ۝ 0ۭ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْـُٔـوْلًا۝ 16 شاء الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم . وعند بعضهم : الشَّيْءُ عبارة عن الموجود «2» ، وأصله : مصدر شَاءَ ، وإذا وصف به تعالیٰ فمعناه : شَاءَ ، وإذا وصف به غيره فمعناه الْمَشِيءُ ، وعلی الثاني قوله تعالی: قُلِ اللَّهُ خالِقُ كُلِّ شَيْءٍ [ الرعد/ 16] ، فهذا علی العموم بلا مثنويّة إذ کان الشیء هاهنا مصدرا في معنی المفعول . وقوله : قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهادَةً [ الأنعام/ 19] ، فهو بمعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–17

مصنف میں ابن ابی شبیہ نے اور جریروابن ابی حاتم نے حلیمہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ سے کہا گیا تھا اگر آپ کی خوشی ہو تو آپکے ہاتھ میں زمین بھر کے خزانوں کی کنجیاں دی جاویں اور اس سے آخرت میں آپ کا کچھ بھی نقصان نہ ہو اور مرضی ہو تو یہ سب کچھ آخرت میں دیا جاوے۔ آپ نے فرمایا آخرت ہی میں چاہتا ہوں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور بہت جگہ اسی قسم کا مضمون احادیث صحیحہ میں آیا ہے چونکہ آپ کی نظر آخرت پر تھی اور ہونی بھی چاہیے اور کفار آخرت کے منکر تھے ان کے نزدیک جو کچھ انعام و افضال ہوں یہیں ہوں تو ہوں نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بل کذبوا بالساعۃ کہ وہ آخرت کے منکر ہیں۔ پھر واعتدنالمن کذب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–16

قُلْ اَذٰلِکَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّۃُ الْخُلْدِالَّتِیْ وُعِدَالْمُتَّـقُوْنَ ط کَانَتْ لَھُمْ جَزَآئً وَّ مَصِیْرًا۔ لَہُمْ فِیْھَا مَایَشَآئُ وْنَ خٰلِدِیْنَ ط کَانَ عَلٰی رَبِّکَ وَعْدًا مَّسْـُٔوْلاً ۔ (الفرقان : 15، 16) (ان سے پوچھئے کیا یہ (انجام) بہتر ہے یا وہ ابدی جنت جس کا خدا ترسوں سے وعدہ کیا گیا ہے، وہ ان کے لیے صلہ اور ٹھکانہ ہوگی۔ ان کے لیے اس میں وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، یہ آپ کے رب کے ذمہ وعدہ ہے جس کا ایفا لازم ہے۔ ) جنت اور اہل جنت کی تصویر اب یہ اس اصل مدعا کا ذکر ہے جس کے لیے دوزخ کی یہ ساری تفصیل بیان فرمائی گئی ہے۔ آنحضرت ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–16

فہم القرآن ربط کلام : کفار کو ان کے انجام سے آگاہ کرنے کے بعد ان سے ایک سوال کیا گیا ہے۔ کفار کو ان کا خوفناک انجام بتلانے کے بعد استفسار کے انداز میں بتلایا گیا ہے کہ اے کفر کرنے والو ! بتلاؤ کہ جہنم کی سزائیں اور ہولناکیاں بہتر ہیں یا ہمیشہ رہنے والی جنت بہتر ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں کے ساتھ کر رکھا ہے جو اجر اور رہنے کے اعتبار سے بہترین مقام ہے متقین اس جنت میں جو چاہیں گے سو پائیں گے یہ اللہ تعالیٰ کا ایسا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا ظاہر بات ہے کہ جنت ہی بہترین مقام اور رہنے کی جگہ ہے۔ جنت اور جہنم : (وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

16: لَھُمْ فِیْھَا مَایَشَآ ئُ وْنَ (جو کچھ وہ چاہیں گے ان کو وہ ملے گا) یعنی ما یشاء وونہ مراد ہے جس چیز کی ان کو خواہش ہوگی خٰلِدِیْنَ (وہ ہمیشہ رہنے والے ہونگے) ۔ نحو : یہ یشاؤون کی ضمیر سے حال ہے۔ اور کَانَ ضمیر میں مایشاؤون کی طرف لوٹ رہی ہے۔ عَلٰی رَبِّکَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا (اور یہ ایک وعدہ ہے جو اے پیغمبر آپ کے رب کے ذمہ ہے اور قابل درخواست ہے) وعداًؔ یہ موعود کے معنی میں اور مسئولاًؔ کا معنی مطلوب نمبر 2۔ یا اس بات کا اہل و مستحق ہے کہ اسکی درخواست کی جائے۔ نمبر 3۔ یا اس وعدے کا سوال مسلمانوں اور ملائکہ نے اپنی دعائوں میں کیا ہے۔ جیسا اس آیت میں : ربنا و آتنا ماوعدتنا علی رسلک ]…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16۔ لھم فیھا مایشاون خالدین کان علی ربک وعدامسئولا، ، اس سے مراد مطلوب ہے جب مومنین اپنے رب سے دنیا میں اس بات کا سوال کرتے ہیں کہ ربنا، واتنا ماوعدتنا علی رسلک ، اے ہمارے رب ہم کو وہ جنت عطا فرماجس کا وعدہ اپنے پیغمبروں کی زبانی ہم سے کیا ہے تو ان کو کہاجاتا ہے اللہ تعالیٰ نے مومنین کو ہمیشہ والی جنت میں رہنے کا وعدہ کیا، ان کی دنیا میں طاعت کی وجہ سے اور اس سے سوال کرنے سے ، محمد بن کعب قرظی نے کہا فرشتے ایفاء عہد کی اس سے درخواست کریں گے اور کہیں گے ، ربناوادخلھم جنات عدن التی وعدتھم۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–16

15۔ 16:۔ اوپر منکرین قیامت کا اور ان کے لیے دوزخ کے تیار کئے جانے کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا ‘ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ ان کے انکار سے اللہ تعالیٰ کا انتظام تو پلٹنے والا نہیں ‘ اب ان لوگوں کو یہ بتلانا چاہیے کہ انتظام الٰہی کے موافق وقت مقررہ پر جب قیامت قائم ہوگی اور اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے موافق ان کو اس دوزخ کی آگ میں جھونک دیا جاوے گا جو ایسے لوگوں کے لیے اس طرح دھکائی گئی ہے کہ اس کی تیزی دنیا کی آگ سے انہتر حصہ زیادہ ہے تو یہ دوزخ کی آگ بہتر ہے یا پرہیز گار لوگوں سے جس جنت کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے وہ بہتر ہے ‘ صحیح بخاری 1 ؎ ومسلم سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–16

(آیت نمبر 15) یعنی ان کی حماقت اور ان کے نفع کی بجائے تقصان کو اختیار کرنے کو بیان کرتے ہوئے ان سے کہہ دیجیے ! (اذلک) یعنی وہ عذاب جو میں نے تمہارے لیے بیان کیا ہے (خیر ام جنۃ الخلد التی و عد المتقون ) ” بہتر ہے یا وہ ہمیشگی والی جنت ‘ جس کا وعدہ متقین سے کیا گیا ہے ؟ “ جن کو تقویٰ نے بڑھا دیا ہے ‘ پس جو کوئی تقویٰ قائم کرتا ہے اس ل کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے۔ (کانت لھم جزاء) ” ہوگی وہ ان کے لیے بدلہ۔ “ یعنی متقین کے تقوی کی جزا کے طور پر (ومصیرا) اور ان کا ٹھکانا ہوگی ‘ جس کی طرف وہ لوٹیں گے جہاں وہ ابدالہ آباد تک رہیں گے۔ (لھم فیھا ما یشاء ون) یعنی انہیں جس چیز کی طلب ہوگی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–48

پانی کے مسائل قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 14–17

16 دوزخیوں کے موت کو پکارنے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہاں پر ایسے لوگ موت کو پکاریں گے "۔ اور رہ رہ کر پکاریں گے تاکہ اس طرح اس ہولناک عذاب سے رہائی پاسکیں۔ یعنی وہاں پر " وا ثبوراہ " ۔ " اے موت آ کے ہمارا کام تمام کر دے " ہی کی چیخ و پکار ہوگی کہ سخت مصیبت پر آدمی یونہی کہتا اور کرتا ہے۔ تاکہ اس مصیبت سے جان چھوٹ سکے۔ مگر اس کا موقع اب کہاں ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ وہاں تو ایسے لوگ ۔ { لایموت ولایحیٰی } ۔ والی زندگی گزاریں گے۔ جس میں نہ زندگی ہوگی نہ موت۔ اور خوف اور ہولناکی کا یہ عالم ہوگا کہ موت ان کو وہاں پر ہر طرف سے آتی دکھائی دیگی لیکن یہ مرنے نہیں پائیں گے تاکہ جان چھوٹ جائے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–20

پرہیز گاروں کو خوشخبری اور بدوں کو عذاب تشریح : آنکھیں بند کر کے ذرا تصور کریں کہ جنت کے باغات کیسے ہوں گے ؟ جو کہ ایسی ہستی کی طرف سے وعدہ ہے جس کی عظمت ‘ حقانیت اور جود و سخا کسی سے چھپا ہوا نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اپنی دعائوں میں باقی تمام دعائوں کے ساتھ جنت الفردوس کا مانگنا نہ بھولیں۔ کیونکہ اس سے مانگنا اس کو پسند ہے اور دعا کو تو عبادت کا بہترین حصہ کہا گیا ہے تو ایمان کی سلامتی اللہ سے عجزونیاز اور مغفرت مانگتے رہنا اللہ کو بےحد پسند ہے۔ پھر دوبارہ منکرین کو عذاب کی خبر دی جا رہی ہے۔ اور نصیحت کی جا رہی ہے کہ جو بھی کرو اپنی عقل کو کام میں لا کر کرو کیونکہ جھوٹا شخص نجات دلانے میں بھی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–20

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف ان کی سمجھ اتنی بات نہیں آتی کہ جس خالق کائنات نے ساری کائنات بنائی ہے وہ چاہتا تو ان کے اندازے سے زیادہ خوبصورت باغات جو ہمیشہ شاداب رہتے ، اور ان کی امیدوں سے بڑے دولت کے انبار آپ ﷺ کو عطا فرما دیتا ، ان کی امیدوں سے زیادہ عالی شان محلات آپ ﷺ کے لیے بنا دیتا ، یہ اس کی حکمت کہ اس نے عام آدمی کی خوش نصیبی سے آپ ﷺ کا مزاج عالی ہی ایسا بنایا کہ آپ ﷺ عام زندگی پسند فرماتے اور اپنی رحمت سے آپ ﷺ کو دنیا میں عام لوگوں ہی کی زندگی دی کہ آپ ﷺ ساری انسانیت کے لیے اللہ جل جلالہ کی رحمت ہیں تو ہر عام آدمی کی رسائی آپ ﷺ کی بارگاہ تک رہے ورنہ آپ ﷺ اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 15–16

2 ۔ یعنی یہ وعدہ اس قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے پورا کرنے کی دعا کی جائے گی یا یہ ایساوعدہ ہے جو مانگنے پر یقیناپورا کیا جائیگا۔ جیسا کہ دوسری آیت میں اللہ کے نیک بندوں کی دعا نقل کی گئی ہے : ربنا اتنا ما وعدتنا علی رسلک : اے اللہ اس وعدے کو پورا فرما جو تو نے اپنے پیغمبروں ﷺ کی زبانی ہم سے کیا۔ (ابن کثیر، شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:16) کان میں ضمیر کا مرجع ما یشاء ون ہے۔ وعدا مسئولا۔ یعنی ایسا وعدہ جس کے پورا کرنے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔ واجب الادا۔ وعدہ۔ یعنی ایسا وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے اس کا پورا کرنا اپنے ذمہ لے لیا ہے اور اس کی صفت یہ ہے لا یخلف المیعاد۔ یہاں اہل جنت کی دو صفات بیان کی گئی ہیں۔ (1) جنت میں ان کو ان کی مرضی کے مطابق ہر شے ملے گی۔ (2) وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–16

لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 16 : (مالھذالرسول) یہ کیسا رسول ہے ‘(یمشی) چلتا ہے ‘(الاسواق (سوق) بازار ‘(کنز) خزانہ ‘(مسحور) جادو میں پھنسا ہوا ‘(ضلوا) وہ گمراہ ہوگئے ‘ قصور (قصر) محل۔ محلات ‘(سعیر) بھڑکتی آگ ‘(تغیظ) غصہ سے جوش مارنا ‘(زفیر) غصہ سے نکلی ہوئی تیز آواز ‘ (ضیق) تنگ ‘ مقرنین (آپس میں جکڑے ہوئے) (ثبور) موت۔ ہلاکت ‘(مایشآء و ن) جو کچھ وہ چاہیں گے ‘(مسئولا) سوال کیا گیا۔ درخواست کا حق ‘۔ تشریح : آیت نمبر 7 تا 16 : سچی اور عظیم تحریک اور مضبوط دلائل کے سامنے شکست کھاجانے والے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ ہر شخص متاثر ہورہا ہے تو وہ طرح طرح کے اعتراضات ‘ الزامات اور ذاتیات پر اتر آتے ہیں چناچہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–16

اللہ تعالیٰ کے وعدہ اور دعا کا ذکر۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا اے محبوب ﷺ تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ ان کے انکار سے اللہ تعالیٰ کا انتظام تو پلٹنے والا نہیں اب لوگوں کو یہ بتلانا چاہیے کہ انتظام الٰہی کے موافق وقت مقررہ پر جب قیامت قائم ہوگی اور اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے موافق ان کو دوزخ کی آگ میں جھونک دیاجائے گا جو ایسے لوگوں کے لیے اس طرح آگ دھکائی گئی ہے کہ اس کی تیزی دنیا کی آگ سے انہتر حصہ زیادہ ہے تو یہ دوزخ کی آگ بہتر ہے یاپرہیزگاروں سیجس جنت کا اللہ نے وعدہ کیا ہے وہ بہتر ہے پھر فرمایا یہ جنت وہ ہے جس کی نعمتوں کو کبھی فنا نہیں اور نہ کسی نعمت کی بھی کمی پڑے گی ، جس چیز کو جی چاہے وہ ہر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–18

دوزخ بہتر ہے یا جنت والخلد ! (ف 1) یعنی دنیا میں تو یہ لوگ قیامت کو جھٹلاتے رہے پیغمبر کی تکذیب کرتے رہے اور کلام الہی کو افتراء اور جھوٹ کہتے رہے ، مگر جب انہیں ان کے انکار وتمرد کی پاداش میں جہنم کی سزا ہوگی اس وقت یہ جہنمی چاہیں گے کہ موت آکر عذاب کی شدتوں اور تلخیوں کو ختم کر دے ، اس وقت زندگی سے سخت بیزار ہو کر اپنے لئے موت کی خواہش کریں گے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، کم بختوا سوچو ، کہ کیا یہ دوزخ کی زندگی عذاب ، اور یہ تکلفیں بہتر ہیں ، یا جنت الخلد ، (بہشت جادوانی) بہتر ہے کیا تم تمردو سرکشی کو پسند کرتے ہو ، جس کی سزا جہنم اور اس کی شدتیں ہیں ، یا جنت پسند کرتے ہو ، جہاں کہ روح وجسم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(16) وہ متقی حضرات اس جنت میں جس چیز کی خواہش کریں گے وہ ان کے لئے وہاں موجود ہوگی وہ اس حالت میں ہمیشہ رہیں گے یہ مذکورہ جنت کا وعدہ آپ کے پروردگار کے ذمے ایک ایسا وعدہ ہے جس کے ایفا کرنے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے یعنی اس جنت میں یہ متقی حضرات آرام و آسائش کے سلسلہ میں جو چاہیں گے وہ سب ان کو میسر ہوگا اور وہ اس جنت میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ وعدہ بھی ایسا حتمی ہے جس کے پورا ہونے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے اور حضرت حق جل مجدہ سے یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ یہ وعدہ جو آپ نے اہل جنت سے کیا تھا اس کو پورا کیجئے یہ مانگ کی جاسکتی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کیوجہ سے یہ وعدہ اس نے اپنے ذمہ پر کیا ہے جس کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–17

ف 4۔ مطلب یہ کہ انہوں نے تمہاری عبادت کہ واقع میں ضلالت ہے تمہاری امر و رضا سے کی تھی جیسا ان لوگوں کا زعم تھا کہ یہ معبودین خوش ہوتے ہیں اور خوش ہو کر اللہ تعالیٰ سے شفاعت کریں گے یا اپنی رائے فاسد سے اختراع کرلی تھی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جنت والوں کو کیا ملے گا ؟ وہی جو وہ چاہیں گے : 16۔ جنت کن لوگوں کے حصہ میں آئے گی ؟ فرمایا متقین کے حصہ میں جن کو یہ اہل دنیا بھکاری سمجھ کر ان کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا بھی توہین خیال کیا کرتے تھے اور یہی وہ لوگ ہیں جو عند اللہ اہل ایمان قرار پائے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی قربانیاں اب رنگ لائی ہیں اور جنت کے حق دار قرار پائے ہیں ، خیال رہے کہ اب یہ مقام انکی ابدی قیام گاہ ہے اس سے محروم ہونے یا اس مقام کے چھن جانے کا ان کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا ۔ ان کو اس مقام یعنی جنت الخلد میں وہ سب کچھ ملے گا جس کی ان کیو چاہت ہوگی رہی یہ بات کہ اس وقت ان کی چاہت کیا ہوگی ؟ تو بلاشبہ یہ اسی وقت صحیح معلوم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–19

The Second Objection was that if the Holy Prophet ﷺ was a prophet, he should not have been eating and drinking like common people; instead he should have been free from eating and drinking like angels. And if this was not so, he should have at least enough wealth and gardens to take care of his day to day needs, so that he may not need to care for his living. Furthermore, how could he be accepted as a prophet when he is neither an angel nor does an angel accompany him to endorse what he preaches, therefore it appears that he has been charmed by someone which has turned his head and that is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

23 Literally: "It is a promise whose fulfilment can be demanded (from AIIah)". Here one ma ask the question: How can the promise of the Garden and the threat of the Fire produce any effect on the attitude of a parson who denies Resurrection and the existence of Paradise and Hell? In order to understand the wisdom of this method of admonition, one should keep in view that it is meant to appeal to the self-interest of an obdurate person, who dces not otherwise listen to such arguments. This is, as if to say, "Even if, for the sake of argument, there is no proof of the reality of the…

Read the full tafseer →