Al-Furqaan 25:17

Al-Furqaan · from ayah 17

25:17

وَیَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَ ۟ؕوَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَيَقُوۡلُ ءَاَنۡـتُمۡ اَضۡلَلۡـتُمۡ عِبَادِىۡ هٰٓؤُلَاۤءِ اَمۡ هُمۡ ضَلُّوا السَّبِيۡلَ

اور جس دن (خدا) ان کو اور اُن کو جنہیں یہ خدا کے سوا پوجتے ہیں جمع کرے گا تو فرمائے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود گمراہ ہوگئے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [mention] the Day He will gather them and that which they worship besides Allah and will say, "Did you mislead these, My servants, or did they [themselves] stray from the way?"

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 2 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:17

اور وہ وہی دن ہو گا جب کہ (تمہارا رب) اِن لوگوں کو بھی گھیر لائے گا اور ان کے اُن معبودوں کو بھی بُلا لے گا جنہیں آج یہ اللہ کو چھوڑ کر پوج رہے ہیں، پھر وہ اُن سے پوچھے گا "کیا تم نے میرے اِن بندوں کر گمراہ کیا تھا؟ یا یہ خود راہِ راست سے بھٹک گئے تھے؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جس دن (خدا) ان کو اور اُن کو جنہیں یہ خدا کے سوا پوجتے ہیں جمع کرے گا تو فرمائے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود گمراہ ہوگئے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جس دن اللہ تعالیٰ انہیں اور سوائے اللہ کے جنہیں یہ پوجتے رہے، انہیں جمع کرکے پوچھے گا کہ کیا میرے ان بندوں کو تم نے گمراه کیا یا یہ خود ہی راه سے گم ہوگئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ دن (انہیں یاد دلاؤ) جب اللہ ان (کافروں) کو بھی حشر میں جمع کرے گا اور ان (معبودوں) کو بھی جن کی یہ خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے، اور (ان کے معبودوں سے) کہے گا کہ : کیا تم نے میرے ان بندوں کو بہکایا تھا، یا یہ راستے سے خود بھٹکے تھے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جس دن اکٹھا کرے گا انہیں اور جن کوا لله کے سوا پوجتے ہیں پھر ان معبودو ں سے فرمائے گا کیا تم نے گمراہ کردیے یہ میرے بندے یا یہ خود ہی راہ بھولے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اس دن اللہ انہیں اور ان کو، جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے، جمع کرے گا، پھر فرمائے گا: کیا تم نے ہی میرے ان بندوں کو گمراہ کر دیا تھا یا وہ (خود) ہی راہ سے بھٹک گئے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جس دن وہ انھیں اور جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے، اکٹھا کرے گا، پھر کہے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا، یا وہ خود راستے سے بھٹک گئے تھے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جس دن اللہ تعالیٰ انھیں اور جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں اکٹھا کرے گا تو ان معبودوں سے سوال کرے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود ہی راہ سے بہک گئے تھے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس دن کو خیال کرو جس دن ان کو اور جن چیزوں کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں، وہ اکٹھا کرے گا پس ان سے پوچھے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا یا انہوں نے خود ہی صحیح راہ کھوئی ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یاد کرو تم اے لوگو ! اس ہولناک دن کو کہ جس دن اللہ اکٹھا کر لائے گا ان سب کو بھی اور ان کے ان معبودوں کو بھی جن کو یہ پوجا پکارا کرتے تھے اللہ کے سوا پھر وہ ان سے پوچھے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود ہی بھٹک گئے تھے سیدھی راہ سے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور جس روز (اللہ) جمع کرے گا انہیں اور ان لوگوں کو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے پھر ان سے کہے گا کہ کیا تمہیں نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا۔ یا یہ (خود ہی) راہ سے بھٹک گئے تھے ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جس دن وہ ان کو اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پوجتے ہیں ان سب کو جمع کرے گا اور فرمائے گا : کیا میرے ان بندوں کو تم نے گمراہ کیا تھا ؟ یا وہ خود ہی راستے سے بھٹک گئے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جس دن اللہ ان کو اور جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے تھے جمع کرے گا تو فرمائے گا ”کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود گمراہ ہوگئے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And on that Day (your Lord will gather these people together as well as their deities, whom they worship besides AIlah. Then He will ask them, "Did you mislead these servants of Mine, or did they themselves go astray?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Remember) the Day when He will gather them and what they used to worship beside Allah and will say (to the latter ones), :Did you mislead these My servants, or did they themselves lose the way?

— Muhammad Taqi Usmani

(Remember) the Day when He will gather them and what they used to worship beside Allah and will say (to the latter ones), :Did you mislead these My servants, or did they themselves lose the way?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And on the Day when He will gather them together and that which they worship besides Allah. He will say: "Was it you who misled these My servants or did they stray from the path"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And on the day when He will assemble them and that which they worship instead of Allah and will say: Was it ye who misled these my slaves or did they (themselves) wander from the way?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [mention] the Day He will gather them and that which they worship besides Allah and will say, "Did you mislead these, My servants, or did they [themselves] stray from the way?"

— Saheeh International

On the day when the unbelievers and whatever they had been worshipping besides God will be resurrected, He will ask the idols, "Did you mislead My servants or did they themselves go astray from the right path?"

— Muhammad Sarwar

And on the day when He shall gather them, and whatever they served besides Allah, He shall say: Was it you who led astray these My servants, or did they themselves go astray from the path?

— Muhammad Habib Shakir

And on the Dav whereon He will gather them and that v; hich they worship beside Allah and will say. are ye the ones who sent astray these My bondmen; or strayed they themselves from the way!

— Abdul Majid Daryabadi

The day He will gather them together as well as those whom they worship besides Allah, He will ask: "Was it ye who let these My servants astray, or did they stray from the Path themselves?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–19

عیسیٰ ؑ سے سوالات بیان ہو رہا ہے کہ مشرک جن جن کی عبادتیں اللہ کے سوا کرتے رہے قیامت کے دن انہیں ان کے سامنے ان پر عذاب کے علاوہ زبانی سرزنش بھی کی جائے گی تاکہ وہ نادم ہوں۔ حضرت عیسیٰ ؑ حضرت عزیر ؑ اور فرشتے جن جن کی عبادت ہوئی تھی سب موجود ہوں گے اور ان کے عابد بھی۔ سب اسی مجمع میں موجود ہوں گے۔ اس وقت اللہ تبارک وتعالیٰ ان معبودوں سے دریافت فرمائے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں سے اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا ؟ یا یہ از خود ایسا کرنے لگے ؟ چناچہ اور آیت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ سے بھی یہی سوال ہوگا۔ جس کا وہ جواب دیں گے کہ میں نے انہیں ہرگز اس بات کی تعلیم نہیں دی یہ جیسا کہ تجھ پر خوب روشن ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 24 آگے کا مضمون خود ظاہر کر رہا ہے کہ یہاں معبودوں سے مراد بت نہیں ہیں بلکہ فرشتے، انبیاء، اولیاء، شہداء اور صالحین ہیں جنہیں مختلف قوموں کے مشرکین معبود بنا بیٹھے ہیں۔ بظاہر ایک شخص وَمَا یَعْبُدُوْنَ کے الفاظ پڑھ کر یہ گمان کرتا ہے کہ اس سے مراد بت ہیں، کیونکہ عربی زبان میں عموماً مَا غیر ذوی العقول کے لیے بولا جاتا ہے، جیسے ہم اردو زبان میں " کیا ہے " غیر ذوی العقول اور " کون ہے " ذوی العقول اور مَنْ ذوی العقول کے لیے بولتے ہیں۔ مگر اردو کی طرح عربی میں بھی یہ الفاظ بالکل ان معنوں کے لیے مخصوص نہیں ہیں۔ بسا اوقات ہم اردو میں کسی انسان کے متعلق تحقیر کے طور پر کہتے ہیں " وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–19

خلاصہ تفسیر وہ ذات بڑی عالی شان ہے کہ اگر وہ چاہے تو آپ کو (کفار کی) اس (فرمائش) سے (بھی) اچھی چیز دیدے یعنی بہت سے (غیبی) باغات جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں (بہتر اس لئے کہا کہ وہ تو مطلق باغ کی فرمائش کرتے تھے گو ایک ہی ہو اور متعدد باغ کا ایک سے بہتر ہونا ظاہر ہے) اور (بلکہ ان باغوں کے ساتھ اور بھی مناسب چیزیں دیدے جن کی انہوں نے فرمائش بھی نہیں کی یعنی) آپ کو بہت سے محل دیدے (جو ان باغوں میں بنے ہوں یا باہر ہی ہوں جس سے ان کی فرمائش اور بھی زیادہ نعمتوں کے ساتھ پوری ہوجاوے۔ مطلب یہ کہ جو جنت میں ملے گا اگر اللہ چاہے تو آپ کو دنیا ہی میں دیدے لیکن بعض حکمتوں سے نہیں چاہا اور فی نفسہ ضروری…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 17–18

آیت 18-17 اوپر آیات 3-2 میں ان شرکاء کا ذکر گزر چکا ہے جن کے اعتماد پر یہ مشرکین آخرت سے بےپروا ہو کر قرآن اور رسول کا مذاق اڑا رہے تھے۔ یہاں انہی کو پیش نظر رکھ کر فرمایا کہ حشر کے دن اللہ ان کے ساتھ ان کے ان معبودوں کو بھی جمع کرے گا جن کو یہ اللہ کے سو ! پوجتے ہیں اور ان سے سوال کرے گا کہ کیا تم لوگوں نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا یا انہوں نے اپنی راہ خود گم کی ؟ وہ جواب دیں گے کہ معاذ اللہ ہمارے لئے یہ کس طرح روا تھا کہ ہم تیرے سوا کسی اور کو اپنا دل و کار ساز بناتے یا دوسروں کو اس کا حکم دیتے ! اصل بات یہ ہے کہ تو نے معیشت دنیا کی جو فراوانی ان کو اور ان کے آبائو اجداد کو بخشی اسی میں ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

17-1دنیا میں اللہ کے سوا جن کی عبادت کی جاتی رہی اور کی جاتی رہے گی۔ ان میں جمادات (پتھر، لکڑی اور دیگر دھاتوں کی بنی ہوئی مورتیاں) بھی ہیں، جو غیر عاقل ہیں اور اللہ کے نیک بندے بھی ہیں جو عاقل ہیں مثلاً حضرت عزیر، حضرت مسیح (علیہما السلام) اور دیگر بہت سے نیک بندے۔ اسی طرح فرشتے اور جنات کے پجاری بھی ہونگے۔ اللہ تعالیٰ غیر عاقل جمادات کو بھی شعور و ادراک اور گویائی کی قوت عطا فرمائے گا اور ان سب معبودین سے پوچھے گا کہ بتلاؤ ! تم نے میرے بندوں کو اپنی عبادت کرنے کا حکم دیا تھا یا یہ اپنی مرضی سے تمہاری عبادت کر کے گمراہ ہوئے تھے ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 15–18

4: جن معبودوں کو انہوں نے خدائی کا درجہ دے رکھا تھا، ان میں سے کچھ تو فرشتے تھے جنہیں یہ خدا کی بیٹیاں کہتے تھے یا بعض لوگوں نے کچھ انبیاء یا بزرگوں کو خدا بنا رکھا تھا، ان کی طرف سے تو یہ جواب ظاہر ہی ہے، لیکن جو لوگ بتوں کو پوجتے تھے، ان کے بارے میں یہ سوال ہوسکتا ہے کہ وہ تو پتھر تھے، اور ان میں بولنے کی صلاحیت کہاں تھی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ صرف ان مشرکین کا ذکر ہے جو انسانوں یا فرشتوں کو خدا بنائے بیٹھے تھے، اور ان کی علامت کے طور پر بتوں کو پوجتے تھے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ ان پتھروں میں بھی بولنے کی صلاحیت پیدا فرما دے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–19

و یوم یحشرھم۔۔۔۔۔ نذقہ عذابا کبیرا جن لوگوں کی مشرکین بندگی کرتے تھے بعض اوقات تو وہ بت ہوتے تھے ‘ کبھی وہ ملائکہ اور جن ہوتے تھے اور کبھی دوسرے معبود ہوتے تھے۔ جن کو اللہ خوب جانتا ہے ‘ لیکن اس کھلے میدان میں ان سے یہ سوال کرنا جواب طلب کرنا جب کہ سب کو اس مقصد کے لیے جمع کیا گیا ہوگا ‘ زیادہ تشہیر اور شرمندہ کرنے کے لیے ہوگا۔ تشہیر جرم اور شرمندہ کرنا بھہ دراصل ایک قسم کی سزا ہے اور جواب جو آ رہا ہے وہ ان نام نہاد الموں کی طرف سے اللہ کے سامنے مکمل طور پر جھکناثابت کرتا ہے۔ اب یہ اللہ قہار اور مالک الملک کے سامنے مطیع فرمان کھڑے ہیں۔ اور نہ صرف یہ کہ وہ اپنی الوہیت کا انکار کرتے ہیں بلکہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی عابدین کو سناکر معبودوں سے دریافت کیا جائے گا کہ کیا تم نے ان کو شرک کی اور اپنی پرستش کرانے کی ترغیب دی تھی یا یہ خود اپنی حماقت و جہالت اور غفلت و بےتوجہی سے گمراہ ہوئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17 وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ” جن جن ہستیوں کے ناموں پر مشرکین نے ُ بت بنا رکھے تھے یا جن کو وہ براہ راست اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے ‘ چاہے وہ فرشتے ہوں ‘ اولیاء اللہ ہوں یا انبیاء ہوں ‘ اللہ تعالیٰ ان سب کو جمع کرے گا :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 16–17

20 یعنی ایمانداروں اور پرہیزگاروں سے اللہ کا یہ حتمی وعدہ ہے کہ وہ انھیں جنت عطا فرمائے گا۔ اس جنت میں وہ جو کچھ بھی خواہش کریں گے انھیں میہا کی جائے گی اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اس جنت میں قیام پذیر رہیں گے۔ یہ ایک ہی وعدہ کے تین اجزاء ہوئے اور اس وعدہ کے سلسلہ میں مسلمانوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ اس کے لئے اللہ سے دعا مانگتے رہا کریں اور جنت کا مطالبہ کرتے رہا کریں۔ جیسا کہ مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی گئی۔ ربنا ماتنا ما وعدتنا تناحلی رسلک

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

17۔ یہ سوال مشرکوں کو اور زیادہ قائل اور نادم کرنے کے لیے انبیاء، ملائکہ، اولیاء سے ہوگا، جنہیں مشرکین ان بیچاروں کے شائبہ رضا کے بغیر الوہیت وصفات الوہیت میں شریک رکھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–20

آیت نمبر 10 تا 20 ترجمہ : اللہ کی ذات تو بڑی عالی شان ہے یعنی خیر کثیر والی ہے اگر وہ چاہے تو ان کے بیان کردہ باغ اور خزانہ سے بہتر باغات عطا کر دے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں یعنی دنیا میں (عطا کردے) اس لئے کہ آخرت میں ایسے باغات آپ ﷺ کو عطا کرنا تو اس کی مشیت میں ہے ہی، اور آپ کو بہت سے محل (بھی) دیدے یَجْعَلْ لام کے جزم کے ساتھ اور ایک قرأۃ میں (یَجْعَلُ ) رفع کے ساتھ ہے، جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے بلکہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھ رہے ہیں اور قیامت کو جھوٹ سمجھنے والوں کیلئے ہم نے دہکتی ہوئی شدید آگ تیار کر رکھی ہے جن ان کو وہ آگ دور سے دیکھے گی تو وہ لوگ اس کا جوش خروش سنیں گے یعنی غضبناک کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویوم یحشرہم وما یعبدون من دون اللہ فیقول ءانتم اضللتم عبادی ہولآء ام ہم ضلوا السبیل اور جس روز اللہ ان کو اور اللہ کے سوا جن کو یہ پوجتے تھے ان کو سب کو اکٹھا کرے گا پھر ان (معبودوں) سے فرمائے گا کیا تم نے میرے بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود ہی راہ حق سے گمراہ ہوگئے تھے۔ مَا یَعْبُدُوْنَ سے مراد ہیں تمام باطل معبود۔ عقل والے ہوں یا عقل سے محروم کیونکہ زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ لفظ ما دونوں کو شامل ہوتا ہے اہل عقل کو اور بےعقل چیزوں کو اور مجاہد نے سوال و جواب کے قرینہ کا لحاظ کرتے ہوئے کہا کہ اس جگہ ملائکہ ‘ جنات ‘ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور حضرت عزیر مراد ہیں۔ عکرمہ ‘ ضحاک اور کلبی کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(17) اور قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان کافروں کو اور ان کے بتوں کو جمع کرے گا تو ان کے معبودوں سے فرمائے گا کیا تم نے ان کو میری اطاعت سے گمراہ کیا تھا اور اپنی اطاعت کا حکم دیا تھا یا خود ہی انہوں نے راہ حق کو چھوڑ دیا اور اپنی خواہشات کی وجہ سے تمہاری پرستش شروع کردی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔۔ : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ غیر اللہ کی پرستش کرنے والوں کو اور ان سب کو اکٹھا کرے گا جن کی وہ پرستش کرتے رہے تھے۔ ان میں فرشتے بھی ہوں گے، انبیاء بھی، جیسے عیسیٰ اور عزیر ؑ اور اللہ کے کئی دوسرے نیک بندے بھی، حیوانات بھی ہوں گے، جیسے گائے، سانپ اور بندر وغیرہ، نباتات بھی ہوں گے، جیسے بیل وغیرہ اور جمادات بھی ہوں گے، جیسے بت وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ بےشعور اور بےجان چیزوں کو بھی شعور اور بولنے کی قوت عطا فرمائے گا اور ان سب سے پوچھے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا، یا یہ خود ہی سیدھے راستے سے بھٹک گئے تھے ؟ 3 اللہ تعالیٰ کو ہر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 17–19

( ویوم یحشرھم۔۔۔۔۔ 17۔ 19) ویوم یحشرھم ابن محیصن، حمید، ابن کثیر، حفص، یعقوب اور ابو عمرو نے دوری کی روایت میں یحشرھم یاء کے ساتھ قرات کی ہے، ابو عبید اور ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ کلام کے شروع میں ہے کان علی ربک اور اس کے آخر میں ہے انتم اضلتم عبادی ھولا باقی قراء نے اسے نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ وما یعبدون من دون اللہ اس سے مراد فرشتے، انسان، جن حضرت مسیح اور حضرت عزیز (علیہ السلام) ہیں جن کی لوگ عبادت کرتے تھے، یہ مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے۔ ضحاک اور عکرمہ نے کہا : مراد بت ہیں۔ فیقول عام قرات یاء کے ساتھ ہے، یہ ابو عبیدہ اور ابو حاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ ابن عامر اور ابو حیوہ نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–19

1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویوم یحشرہم وما یعبدون من دون اللہ فیقول ا انتم اضللتم عبادی سے مراد ہے کہ عیسیٰ اور عزیر اور فرشتے (علیہم السلام) سے یہ سوال کیا جائے گا۔ 2۔ الحاکم وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ عبداللہ بن غنم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے معاذ بن جبل ؓ کے اس قول آیت ” ماکان ینبغی لنا ان نتخذ من دونک من اولیاء “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا میں نے نبی ﷺ کو یوں پڑھتے وہئے سنا آیت ان نتخذ نون کے نصب کے ساتھ پھر میں نے ان سے آیت الم غلب الروم کے بارے میں پوچھا کہ غلبت معروف کا صیغہ ہے یا مجہول…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَيَوْمَ [ اور جس دن ] يَحْشُرُهُمْ [ وہ اکٹھا کرے گا ان لوگوں کو ] وَمَا [ اور ان کو جن کی ] يَعْبُدُوْنَ [ یہ لوگ بندگی کرتے ہیں ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] فَيَقُوْلُ [ پھر وہ کہے گا ] ءَ اَنْتُمْ [ کیا تم لوگوں نے ہی ] اَضْلَلْتُمْ [ گمراہ کیا ] عِبَادِيْ هٰٓؤُلَاۗءِ [ میرے ان بندوں کو ] اَمْ هُمْ [ یا وہ لوگ (خود) ہی ] ضَلُّوا [ بھٹک گئے ] السَّبِيْلَ [ راستے سے ] نوٹ۔ 1: عربی میں عام طور پر غیر عاقل چیزوں کے لئے ما اور عاقل لوگوں کے لئے من آتا ہے ۔ اس لئے آیت ۔ 17 میں مایعبدون سے مراد وہ بت اور مورتیاں معلوم ہوتی ہیں جن کو پوجا جاتا ہے ۔ لیکن آگے کی عبارت بتارہی ہے اس سے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مشرکین جن کی عبادت کرتے تھے ان سے سوال و جواب، یہ لوگ مال و متاع کی وجہ سے ذکر کو بھول گئے روز قیامت عذاب میں داخل ہونگے وہاں کوئی مددگار نہ ہوگا قیامت کے دن مشرکین بھی محشور ہونگے اور وہ معبود بھی موجود ہوں گے جن کی عبادت کر کے مشرک بنے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑ کر جن کی عبادت کی ان میں فرشتے بھی ہیں اور حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر ( علیہ السلام) بھی، اور اوثان و اصنام یعنی بت بھی ہیں ان سے اللہ تعالیٰ کا سوال ہوگا کہ یہ میرے بندے جنہوں نے شرک کیا اور تمہاری عبادت کی کیا تم نے انہیں گمراہ کیا یا یہ خود ہی گمراہ ہوگئے ؟ وہ اس کے جواب میں کہیں گے کہ اے اللہ آپ کی ذات پاک ہے۔ ہمیں یہ زیب نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–20

تنبیہ برمنشا انکار رسالت وبیان بعض احوال واھوال روز قیامت بل کذبوا بالساعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وکان ربک بصیرا۔ اب آئندہ آیات میں ان منکرین رسالت اور معترضین نبوت کے انکار کا منشا بیان کرتے ہیں کہ آخر اس کی کیا یہ وجہ ہے کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی تکذیب پر اس درجہ تلے ہوئے ہیں تو بتلاتے ہیں کہ ان شبہات اور اعتراضان کا منشا یہ نہیں کہ آپ ﷺ کی شان درویشی وفقیری ان کے ایمان اور ہدایت سے مانع بنی ہوئی ہے بلکہ اصلی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھتے ہیں جس سے آپ ان کو ڈراتے ہیں پس انکار نبوت اور تکذیب رسالت کا اصل منشاء تکذیب قیامت ہے۔ ان کی نظر صرف اسی عطام دنیا پر مقصود ہے ان کا گمان یہ ہے کہ عزت و کرامت کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

13:۔ ” ویوم یحشرھم الخ “ یہ تخویف اخروی ہے اور خصوصیت سورت کا ذکر ہے۔ ” و یعبدون من دون اللہ “ سے یہاں انبیاء علیہم السلام، فرشتے اور اللہ کے نیک بندے مراد ہیں جن کی دنیا میں پرستش کی گئی اور جنہیں برکات دہندہ سمجھ کر پکارا گیا۔ یرید المعبودین من الملائکۃ والمسیح و عزیر (مدارک ج 3) ۔ ” وال الجمہور من عبد ممن یعقل ممن لم یامر بعبادتہ کالملائکۃ و عیسیٰ و عزیر وھو الاظہر (بحر ج 6 ص 488) ۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان معبودین سے پوچھے گا کیا میرے ان بندوں کو جو دنیا میں تمہیں کارساز اور برکات دہندہ سمجھتے تھے تم نے گمراہ کیا تھا اور اپنی الوہیت کی ان کو تعلیم دی تھی ؟ یا وہ خود ہی گمراہ ہوئے تھے ؟…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–20

ربطہ آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے بطور وحی منزل من اللہ ہونے کا ذکر کیا ۔ اس سے پہلے توحید کا بیان ہوا ۔ رسالت کے باب میں ان معترضین کے اعتراضات کا جواب دیا جو کہتے تھے کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترا جو اس کی تصدیق کرے ۔ اس رسول کے پاس خزانے اور باغات کیوں نہیں ، بعض بد بخت آدمی رسول کو سحر زدہ کہنے سے بھی نہ چوکتے ۔ اللہ نے ان تمام اعتراضات کو مسترد کردیا اور فرمایا کہ اگر اللہ چاہے تو اپنے نبی کو معترضین کی فرمائش سے بڑھ کر بھی عطا کر دے ۔ مگر ان لوگوں کا اعتراض محض اس وجہ سے ہے کہ یہ قیامت کے منکر ہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيَوْمَ يَحْشُرُہُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ فَيَقُوْلُ ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ ہٰٓؤُلَاۗءِ اَمْ ہُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ۝ 17ۭ حشر ، وسمي يوم القیامة يوم الحشر کما سمّي يوم البعث والنشر، ورجل حَشْرُ الأذنین، أي : في أذنيه انتشار وحدّة . ( ح ش ر ) الحشر ( ن ) اور قیامت کے دن کو یوم الحشر بھی کہا جاتا ہے جیسا ک اسے یوم البعث اور یوم النشور کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے لطیف اور باریک کانوں والا ۔ عبد العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–17

مصنف میں ابن ابی شبیہ نے اور جریروابن ابی حاتم نے حلیمہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ سے کہا گیا تھا اگر آپ کی خوشی ہو تو آپکے ہاتھ میں زمین بھر کے خزانوں کی کنجیاں دی جاویں اور اس سے آخرت میں آپ کا کچھ بھی نقصان نہ ہو اور مرضی ہو تو یہ سب کچھ آخرت میں دیا جاوے۔ آپ نے فرمایا آخرت ہی میں چاہتا ہوں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور بہت جگہ اسی قسم کا مضمون احادیث صحیحہ میں آیا ہے چونکہ آپ کی نظر آخرت پر تھی اور ہونی بھی چاہیے اور کفار آخرت کے منکر تھے ان کے نزدیک جو کچھ انعام و افضال ہوں یہیں ہوں تو ہوں نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بل کذبوا بالساعۃ کہ وہ آخرت کے منکر ہیں۔ پھر واعتدنالمن کذب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 17–18

وَیَوْمَ یَحْشُرُھُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَقُوْلُ ئَ اَنْـتُمْ اَضْلَلْـتُمْ عِبَادِیْ ھٰٓؤْ لَآئِ اَمْ ھُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَ ۔ قَالُوْا سُبْحٰنَکَ مَاکَانَ یَنْبَغِیْ لَنَـآ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِکَ مِنْ اَوْلِیَـآئَ وَلٰـکِنْ مَّتَّعْتَھُمْ وَاٰبَـآئَ ھُمْ حَتّٰی نَسُوا الذِّکْرَ ج وَکَانُوْا قُوْمًا م بُوْرًا۔ الفرقان : 17، 18) (اور اس دن کا خیال کرو جس دن (اللہ تعالیٰ ) ان لوگوں کو اور جن معبودوں کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں اکٹھا کرے گا، پھر ان سے پوچھے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود راہ راست سے بھٹک گئے تھے۔ وہ جواب دیں گے پاک ہے آپ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–18

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے جہنم میں داخل ہونے کا ایک سبب شرک ہے اس لیے مشرک کا انجام ذکر کیا جاتا ہے۔ شرک کرنے والا شخص حقیقی عقل کھو بیٹھتا ہے جس وجہ سے اسے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ جس کو میں اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کے اختیارات میں شریک کررہا ہوں اس کی اپنی حیثیت کیا ہے اس بےعقلی کی وجہ سے مشرک اللہ کے ان بندوں کو بھی رب کے اختیارات میں شریک سمجھتے ہیں جو زندگی بھرشرک کی مخالفت کرتے رہے۔ ان میں سرفہرست انبیاء کرام (علیہ السلام) نیک علماء اور صلحاء لوگ شامل ہیں۔ لیکن جب یہ لوگ دنیا سے کوچ کر گئے تو مشرکوں نے اپنے مفاد کی خاطر انہیں بھی اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرالیا۔ ان کی قبروں پر عرس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

17: وَیَوْمَ یَحْشُرُھُمْ (اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا) دوبارہ حشر کیلئے۔ قراءت : یاء کے ساتھ مکی، یزید، یعقوب، حفص نے پڑھا۔ نَحْشُرُھُمْ یہ قراءت جمہور قراء کی ہے ابن عامر، حمزہ، کسائی، نافع، عاصم، طلحہ، الحسن، شعبہ، خلف وغیرہم۔ وَمَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اور ان کو جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے تھے) اس سے وہ معبود مراد ہیں جو کہ ملائکہ، مسیح، عزیر کی قسم سے ہونگے۔ بقول کلبی، بت مراد ہیں ان کو اللہ تعالیٰ قوت گویائی دیں گے۔ ایک اور قول : یہ عام ہے ماؔ عقلاء اور غیر عقلاء تمام کو شامل ہے کیونکہ اس سے وصف مراد ہے گویا اس طرح فرمایا : وَمَا یَعْبُدُوْنَ اے معبودیہم ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

17۔ ویوم یحشرھم، ابن کثیر، ابوجعفر، یعقوب، حفص ، نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے نون کے ساتھ ، پڑھا ہے۔ ومایعبدون من دون اللہ، مجاہد کا قول ہے کہ اس جگہ ملائکہ جنات، حضرت عیسیٰ ، اور حضرت عزیر (علیہما السلام) مراد ہیں عکرمہ ضحاک کلبی کے نزدیک صرف اصنام مراد ہیں۔ فیقول، ، ابن عامر نے نون کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ء انتم اضللتھم عبادی ھولاء ام ھم ضلوالسبیل۔ وہ راہ حق کا راستہ کھوبیٹھے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–19

17۔ 19:۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے ‘ سب کچھ اس کو معلوم ہے لیکن میدان محشر کی تمام مخلوقات کے روبرو مشرک لوگوں کو شرمندہ کرنے کے لیے ملائکہ ‘ حضرت عزیر ( علیہ السلام) ‘ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور بتوں سے غرض سوائے خدا کے جس کسی کو مشرک لوگوں نے دنیا میں اپنا معبود ٹھہرا رکھا ہے ‘ ان سب سے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ کیا تم نے ان مشرک لوگوں کو شرک کا طریقہ سکھایا تھا ‘ وہ سب اس سے انکار کریں گے اور اپنی بیزاری جتلا دیں گے ‘ یہ قیامت کا حال مشرکوں کو دنیا میں اس لیے جتلایا ہے کہ مشرک اپنی غلطی کو سمجھ جاویں اور جان لیویں کہ خدا کے سوا جس کو انہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–20

(آیت نمبر (17 قیامت کے روز مشرکین اور ان کے خود ساختہ معبودوں کے احوال کے بارے میں اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ ان کے خود ساختہ معبود ان سے براءت کا اظہار کریں گے اور ان کی تمام کوششیں رائگاں جائیں گی۔ فرمایا : (ویوم یحشرھم) ” اور اس دن اکٹھا کرے گا ان کو۔ “ یعنی ان تکزیب کرنے والے مشرکین کو اکٹھا کرے گا (وما یعبدون من دون اللہ فیقول ) ” اور ان کو بھی جن کی وہ عبادت کرتے تھے اللہ کے سوا ‘ اور کہے گا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ ان مشرکین کو جھڑکنے کی خاطر ان کے جھوٹے معبودوں سے مخاطب ہو کر کہے گا : (ء انتم اضللتم عبادی ھو لاء ام ھم ضلوا السبیل ) ” کیا تم نے میرے بندوں کو گمراہ کیا تھا یا وہ تھا یا وہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–48

پانی کے مسائل قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 14–17

16 دوزخیوں کے موت کو پکارنے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہاں پر ایسے لوگ موت کو پکاریں گے "۔ اور رہ رہ کر پکاریں گے تاکہ اس طرح اس ہولناک عذاب سے رہائی پاسکیں۔ یعنی وہاں پر " وا ثبوراہ " ۔ " اے موت آ کے ہمارا کام تمام کر دے " ہی کی چیخ و پکار ہوگی کہ سخت مصیبت پر آدمی یونہی کہتا اور کرتا ہے۔ تاکہ اس مصیبت سے جان چھوٹ سکے۔ مگر اس کا موقع اب کہاں ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ وہاں تو ایسے لوگ ۔ { لایموت ولایحیٰی } ۔ والی زندگی گزاریں گے۔ جس میں نہ زندگی ہوگی نہ موت۔ اور خوف اور ہولناکی کا یہ عالم ہوگا کہ موت ان کو وہاں پر ہر طرف سے آتی دکھائی دیگی لیکن یہ مرنے نہیں پائیں گے تاکہ جان چھوٹ جائے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–20

پرہیز گاروں کو خوشخبری اور بدوں کو عذاب تشریح : آنکھیں بند کر کے ذرا تصور کریں کہ جنت کے باغات کیسے ہوں گے ؟ جو کہ ایسی ہستی کی طرف سے وعدہ ہے جس کی عظمت ‘ حقانیت اور جود و سخا کسی سے چھپا ہوا نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اپنی دعائوں میں باقی تمام دعائوں کے ساتھ جنت الفردوس کا مانگنا نہ بھولیں۔ کیونکہ اس سے مانگنا اس کو پسند ہے اور دعا کو تو عبادت کا بہترین حصہ کہا گیا ہے تو ایمان کی سلامتی اللہ سے عجزونیاز اور مغفرت مانگتے رہنا اللہ کو بےحد پسند ہے۔ پھر دوبارہ منکرین کو عذاب کی خبر دی جا رہی ہے۔ اور نصیحت کی جا رہی ہے کہ جو بھی کرو اپنی عقل کو کام میں لا کر کرو کیونکہ جھوٹا شخص نجات دلانے میں بھی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–20

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف ان کی سمجھ اتنی بات نہیں آتی کہ جس خالق کائنات نے ساری کائنات بنائی ہے وہ چاہتا تو ان کے اندازے سے زیادہ خوبصورت باغات جو ہمیشہ شاداب رہتے ، اور ان کی امیدوں سے بڑے دولت کے انبار آپ ﷺ کو عطا فرما دیتا ، ان کی امیدوں سے زیادہ عالی شان محلات آپ ﷺ کے لیے بنا دیتا ، یہ اس کی حکمت کہ اس نے عام آدمی کی خوش نصیبی سے آپ ﷺ کا مزاج عالی ہی ایسا بنایا کہ آپ ﷺ عام زندگی پسند فرماتے اور اپنی رحمت سے آپ ﷺ کو دنیا میں عام لوگوں ہی کی زندگی دی کہ آپ ﷺ ساری انسانیت کے لیے اللہ جل جلالہ کی رحمت ہیں تو ہر عام آدمی کی رسائی آپ ﷺ کی بارگاہ تک رہے ورنہ آپ ﷺ اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

3 ۔ یہاں معبودوں سے مراد وہ معبود ہیں جو عقل رکھتے ہیں جیسے انبیاء، اولیاء، فرشتے، جن وغیرہ اور ان کے متعلق ” ما “ کا لفظ جو عربی زبان میں غیر ذوی العقول کیلئے بولا جاتا ہے۔ شاید اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کی حیثیت ظاہر کرنے کیلئے استعمال کیا گیا ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:17) یوم۔ ای اذکر الیوم یاد کرو وہ دن۔ یا ان سے ذکر کرو اس دن کا۔ یحشرہم۔ مضارع واحد مذکر غائب ضمیر فاعل کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب جس کا مرجع کافرین و مشرکین ہیں۔ (جب ) وہ انہیں جمع کرے گا۔ وما یعبدون من دون اللہ۔ اور (جب وہ جمع کرے گا) ان کو جنہیں خدا کے سوا وہ پوجتے تھے۔ اضللتم۔ تم نے بہکایا۔ تم نے گمراہ کیا۔ اضلال (افعال) مصدر۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر ۔ ضمیر کا مرجع انتم ہے خطاب ہے ان سے جن کو مشرکین خدا کے سوا پوجتے تھے یعنی ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم نے میرے بندوں کو گمراہ کیا تھا ؟ یا وہ خود راہ راست سے بھٹک گئے تھے۔ ام ہم ضلوا السبیل۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–20

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 20 : (اضللتم) تم نے گمراہ کیا تھا ‘(ضلو السبیل) راستے سے بھٹک گئے ‘(ماینبغی) مناسب نہیں ہے ‘(متعت) تمہیں خوش حالی دی گئی ‘(نسوا) وہ بھول گئے ‘(بور) تباہ برباد ہونے والے ‘ (نذق) ہم چکھائیں گے ‘(فتنۃ) آزمائش ۔ جانچ۔ تشریح : آیت نمبر 17 تا 20 : ان آیات میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں ایک تو میدان حشر میں وہ سوال کہ یہ لوگ جو بےحقیقت چیزوں کو اپنا معبود بنائے ہوئے تھے اس پر ان کو کس نے مجبور کیا تھا ؟ دوسرا یہ مسئلہ کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) جو انسان ہوتے ہیں مگر انسانیت ناز کرتی ہے کیا وہ انسانی ضروریات سے بےنیا تھے ؟ جب اللہ تعالیٰ پوری کائنات کی بساط الٹ دیں گے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–19

قیامت میں بت پرستوں کی کیفیت۔ (ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان منکر قیامت بت پرستوں اور ان جھوٹے معبودوں سب کو جمع کرے گا اور ان جھوٹے معبودوں سے پوچھے گا کہ کیا تم نے اپنی مورتوں کی پوجا کے لیے ان بت پرستوں سے کہا تھا یا یہ بت پرست خود ہی بت پرستی میں لگ گئے ان سب مورتوں کی اصل صورتیں ان مشرکوں کے شرک سے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرکے یہ کہیں گے کہ یا اللہ تجھ کو خوب معلوم ہے کہ ہم تو خالص دل سے تجھ کو سچا معبود جانتے ہیں پھر ہم سے یہ کیونکرہوسکتا ہے کہ ہم ان مشرکوں سے اپنی مورتوں کی پوجا کو کہتے پھر کہویں گے ، یا اللہ تیرے علم میں یہ لوگ قابل ہلاکت ٹھہر چکے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[7] اللہ تعالیٰ حقیقت حال کا جاننے والا ہے۔ اس سے کچھ بھی مخفی نہیں۔ یہ سوال مشرکوں کو ذلیل کرنے کے لئے ہے کہ ان کے معبود ان کو جھٹلائیں تو ان کو حسرت و ذلت زیادہ ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–18

دوزخ بہتر ہے یا جنت والخلد ! (ف 1) یعنی دنیا میں تو یہ لوگ قیامت کو جھٹلاتے رہے پیغمبر کی تکذیب کرتے رہے اور کلام الہی کو افتراء اور جھوٹ کہتے رہے ، مگر جب انہیں ان کے انکار وتمرد کی پاداش میں جہنم کی سزا ہوگی اس وقت یہ جہنمی چاہیں گے کہ موت آکر عذاب کی شدتوں اور تلخیوں کو ختم کر دے ، اس وقت زندگی سے سخت بیزار ہو کر اپنے لئے موت کی خواہش کریں گے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، کم بختوا سوچو ، کہ کیا یہ دوزخ کی زندگی عذاب ، اور یہ تکلفیں بہتر ہیں ، یا جنت الخلد ، (بہشت جادوانی) بہتر ہے کیا تم تمردو سرکشی کو پسند کرتے ہو ، جس کی سزا جہنم اور اس کی شدتیں ہیں ، یا جنت پسند کرتے ہو ، جہاں کہ روح وجسم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(17) اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کو اور جن معبودان باطلہ کو یہ اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کرتے ہیں سب کو یکجا جمع کرے گا پھر ان معبودوں سے دریافت کرے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود ہی سیدھی راہ سے بھٹک گئے تھے یعنی آخر ان کے کفرو شرک اختیار کرنے کی وجہ کیا ہے تم ان کو اپنی پرستش کے لئے ابھارا اور بہکایا تھا انہوں کے خود بخود سیدھی راہ اختیار نہ کی اور گمراہی اختیار کرلی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–17

ف 4۔ مطلب یہ کہ انہوں نے تمہاری عبادت کہ واقع میں ضلالت ہے تمہاری امر و رضا سے کی تھی جیسا ان لوگوں کا زعم تھا کہ یہ معبودین خوش ہوتے ہیں اور خوش ہو کر اللہ تعالیٰ سے شفاعت کریں گے یا اپنی رائے فاسد سے اختراع کرلی تھی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ دن آنے والا ہے کہ غیر اللہ کو پکارنے اور پکارے جانے والوں کو طلب کرلیا جائے گا : 17۔ تمام مشرکین کو آگاہ کیا جا رہا ہے خواہ وہ غیر اللہ میں سے کسی کو پکار کر مشرک ہوئے ہوں کہ جن جن کو تم نے اپنا معبود بنا رکھا تھا اور ہر وقت انکو پکارنے اور سورنے میں لگے رہتے تھے جن جن کے نام کی بھی جے پکارتے تھے اور جن جن کو بھی تم اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے قیامت کے روز ان سب کو اللہ تعالیٰ اپنی جناب میں طلب کرلے گا اور تم بھی ان کے ساتھ ہو گے اس وقت ان تمہارے بنائے ہوئے معبودوں سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم نے انہیں کہا تھا کہ ہمیں خدا بناؤ اور ہماری عبادت کرو۔ اے مشرکین کے سارے گروہوں اچھی طرح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–19

The Second Objection was that if the Holy Prophet ﷺ was a prophet, he should not have been eating and drinking like common people; instead he should have been free from eating and drinking like angels. And if this was not so, he should have at least enough wealth and gardens to take care of his day to day needs, so that he may not need to care for his living. Furthermore, how could he be accepted as a prophet when he is neither an angel nor does an angel accompany him to endorse what he preaches, therefore it appears that he has been charmed by someone which has turned his head and that is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

24 Here, deities do not mean idols but the angels, the prophets; the saints, the martyrs and the pious men, whom the mushriks of different communities have made their deities. 25 Such dialogues between Allah and the gods of the disbelievers occur at several places in the Qur'an. For instance, in Surah Saba it has been stated: "On the day when He will gather them all together, He will ask the angels, 'Did these people worship you?' They will answer, `Glory be to Thee ! Thou art our Patron and not they: they in fact worshipped the jinns (that is, satans); most of these believed in them." (vv.…

Read the full tafseer →