Explained with ayahs 17–19
عیسیٰ ؑ سے سوالات
بیان ہو رہا ہے کہ مشرک جن جن کی عبادتیں اللہ کے سوا کرتے رہے قیامت کے دن انہیں ان کے سامنے ان پر عذاب کے علاوہ زبانی سرزنش بھی کی جائے گی تاکہ وہ نادم ہوں۔ حضرت عیسیٰ ؑ حضرت عزیر ؑ اور فرشتے جن جن کی عبادت ہوئی تھی سب موجود ہوں گے اور ان کے عابد بھی۔ سب اسی مجمع میں موجود ہوں گے۔ اس وقت اللہ تبارک وتعالیٰ ان معبودوں سے دریافت فرمائے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں سے اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا ؟ یا یہ از خود ایسا کرنے لگے ؟ چناچہ اور آیت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ سے بھی یہی سوال ہوگا۔ جس کا وہ جواب دیں گے کہ میں نے انہیں ہرگز اس بات کی تعلیم نہیں دی یہ جیسا کہ تجھ پر خوب روشن ہے…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 26
یعنی یہ کم ظرف اور کمینے لوگ تھے۔ آپ نے رزق دیا تھا کہ شکر کریں۔ یہ کھا پی کر نمک حرام ہوگئے اور وہ سب نصیحتیں بھلا بیٹھے جو آپ کے بھیجے ہوئے انبیاء نے ان کو کی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
خلاصہ تفسیر
وہ ذات بڑی عالی شان ہے کہ اگر وہ چاہے تو آپ کو (کفار کی) اس (فرمائش) سے (بھی) اچھی چیز دیدے یعنی بہت سے (غیبی) باغات جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں (بہتر اس لئے کہا کہ وہ تو مطلق باغ کی فرمائش کرتے تھے گو ایک ہی ہو اور متعدد باغ کا ایک سے بہتر ہونا ظاہر ہے) اور (بلکہ ان باغوں کے ساتھ اور بھی مناسب چیزیں دیدے جن کی انہوں نے فرمائش بھی نہیں کی یعنی) آپ کو بہت سے محل دیدے (جو ان باغوں میں بنے ہوں یا باہر ہی ہوں جس سے ان کی فرمائش اور بھی زیادہ نعمتوں کے ساتھ پوری ہوجاوے۔ مطلب یہ کہ جو جنت میں ملے گا اگر اللہ چاہے تو آپ کو دنیا ہی میں دیدے لیکن بعض حکمتوں سے نہیں چاہا اور فی نفسہ ضروری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
آیت 18-17
اوپر آیات 3-2 میں ان شرکاء کا ذکر گزر چکا ہے جن کے اعتماد پر یہ مشرکین آخرت سے بےپروا ہو کر قرآن اور رسول کا مذاق اڑا رہے تھے۔ یہاں انہی کو پیش نظر رکھ کر فرمایا کہ حشر کے دن اللہ ان کے ساتھ ان کے ان معبودوں کو بھی جمع کرے گا جن کو یہ اللہ کے سو ! پوجتے ہیں اور ان سے سوال کرے گا کہ کیا تم لوگوں نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا یا انہوں نے اپنی راہ خود گم کی ؟ وہ جواب دیں گے کہ معاذ اللہ ہمارے لئے یہ کس طرح روا تھا کہ ہم تیرے سوا کسی اور کو اپنا دل و کار ساز بناتے یا دوسروں کو اس کا حکم دیتے ! اصل بات یہ ہے کہ تو نے معیشت دنیا کی جو فراوانی ان کو اور ان کے آبائو اجداد کو بخشی اسی میں ان…
Read the full tafseer →18-1یعنی جب ہم خود تیرے سوا کسی کو کار ساز نہیں سمجھتے تھے تو پھر ہم اپنی بابت کس طرح لوگوں کو کہہ سکتے تھے کہ تم اللہ کی بجائے ہمیں اپنا ولی اور کار ساز سمجھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
4: جن معبودوں کو انہوں نے خدائی کا درجہ دے رکھا تھا، ان میں سے کچھ تو فرشتے تھے جنہیں یہ خدا کی بیٹیاں کہتے تھے یا بعض لوگوں نے کچھ انبیاء یا بزرگوں کو خدا بنا رکھا تھا، ان کی طرف سے تو یہ جواب ظاہر ہی ہے، لیکن جو لوگ بتوں کو پوجتے تھے، ان کے بارے میں یہ سوال ہوسکتا ہے کہ وہ تو پتھر تھے، اور ان میں بولنے کی صلاحیت کہاں تھی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ صرف ان مشرکین کا ذکر ہے جو انسانوں یا فرشتوں کو خدا بنائے بیٹھے تھے، اور ان کی علامت کے طور پر بتوں کو پوجتے تھے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ ان پتھروں میں بھی بولنے کی صلاحیت پیدا فرما دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
و یوم یحشرھم۔۔۔۔۔ نذقہ عذابا کبیرا
جن لوگوں کی مشرکین بندگی کرتے تھے بعض اوقات تو وہ بت ہوتے تھے ‘ کبھی وہ ملائکہ اور جن ہوتے تھے اور کبھی دوسرے معبود ہوتے تھے۔ جن کو اللہ خوب جانتا ہے ‘ لیکن اس کھلے میدان میں ان سے یہ سوال کرنا جواب طلب کرنا جب کہ سب کو اس مقصد کے لیے جمع کیا گیا ہوگا ‘ زیادہ تشہیر اور شرمندہ کرنے کے لیے ہوگا۔ تشہیر جرم اور شرمندہ کرنا بھہ دراصل ایک قسم کی سزا ہے اور جواب جو آ رہا ہے وہ ان نام نہاد الموں کی طرف سے اللہ کے سامنے مکمل طور پر جھکناثابت کرتا ہے۔ اب یہ اللہ قہار اور مالک الملک کے سامنے مطیع فرمان کھڑے ہیں۔ اور نہ صرف یہ کہ وہ اپنی الوہیت کا انکار کرتے ہیں بلکہ وہ…
Read the full tafseer →7 یعنی ہماری کیا مجال تھی کہ تجھ سے ہٹ کر کسی دوسرے کو اپنا رفیق و مددگار سمجھتے۔ پھر جب ہم اپنے نفس کے لیے تیرے سوا کوئی سہارا نہیں رکھتے تو دوسروں کو کیسے حکم دیتے کہ ہم کو اپنا معبود اور حاجت روا سمجھیں۔
8 یعنی اصل یہ ہے کہ یہ بدبخت اپنی سوء استعداد سے خود ہی تباہ ہونے کو پھر رہے تھے ہلاکت ان کے لیے مقدر ہوچکی تھی، ظاہری سبب اس کا یہ ہوا کہ عیش و آرام میں پڑ کر اور غفلت کے نشہ میں چور ہو کر آپ کی یاد کو بھلا بیٹھے، کسی نصیحت پر کان نہ دھرا، پیغمبروں کی ہدایت و ارشاد کی طرف سے بالکل آنکھیں بند کرلیں اور دنیاوی تمتع پر مغرور ہوگئے۔ آپ نے اپنی نوازش سے جس قدر ان کو اور ان کے باپ دادوں کو دنیا…
Read the full tafseer →آیت 18 قَالُوْا سُبْحٰنَکَ مَا کَانَ یَنْبَغِیْ لَنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِکَ مِنْ اَوْلِیَآءَ ”
م اللہ اور اہل ایمان کے درمیان ولایت باہمی کا مضبوط رشتہ قائم ہے۔ اللہ اہل ایمان کا ولی ہے اور اہل ایمان اللہ کے ولی ہیں۔ سورة البقرۃ کی آیت 257 میں اس رشتے کا ذکر یوں فرمایا گیا : اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ط ”اللہ ولی ہے مؤمنین کا ‘ وہ انہیں اندھیروں سے نکالتا ہے نور کی طرف“۔ سورة یونس میں اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کا ذکر اس طرح کرتے ہیں : اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآء اللّٰہِ لاَخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ”آگاہ رہو ! یقیناً…
Read the full tafseer →21 یعنی معبودوں کو بھی اور ان کی عبادت کرنے والوں کو بھی سب کو آمنے سامنے لا اکٹھا کرے گا۔ اور اللہ تعالیٰ پہلے معبودوں کو ہی مخاطب کرکے پوچھیں گے کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو کہا تھا کہ ہم تمہارے مشکل کشا اور حاجت روا ہیں۔ لہذا ہمارے ہاں نذرانے پیش کیا کرو۔ ہم قیامت کے دن تمہیں اللہ سے بخشوا لیں گے یا ان عبادت گزاروں اور تمہارے عقیدت مندوں نے خود ہی ایسے عقیدے گھڑ لئے تھے ؟ اس سوال کے جواب میں معبود حضرات کہیں گے کہ یا اللہ ! ہم تو خود تجھے ہی اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے رہے تیرے ہی سامنے اپنی حاجتیں پیش کرتے رہے۔ تیرے حضور ہی جھکتے اور نذریں نیازیں گزارتے رہے۔ تجھے ہی اپنا کارساز…
Read the full tafseer →18۔ یعنی تو نے ان کے لیے اسباب شکر فراہم کردیئے تھے، جن کا مقتضایہ تھا کہ منعم کی معرفت اور اس کے شکر و اطاعت میں خوب لگ جاتے۔ لیکن انہوں نے اس کے برعکس راستہ اختیار کرکے انہیں کو اسباب کفر بنالیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
آیت نمبر 10 تا 20
ترجمہ : اللہ کی ذات تو بڑی عالی شان ہے یعنی خیر کثیر والی ہے اگر وہ چاہے تو ان کے بیان کردہ باغ اور خزانہ سے بہتر باغات عطا کر دے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں یعنی دنیا میں (عطا کردے) اس لئے کہ آخرت میں ایسے باغات آپ ﷺ کو عطا کرنا تو اس کی مشیت میں ہے ہی، اور آپ کو بہت سے محل (بھی) دیدے یَجْعَلْ لام کے جزم کے ساتھ اور ایک قرأۃ میں (یَجْعَلُ ) رفع کے ساتھ ہے، جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے بلکہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھ رہے ہیں اور قیامت کو جھوٹ سمجھنے والوں کیلئے ہم نے دہکتی ہوئی شدید آگ تیار کر رکھی ہے جن ان کو وہ آگ دور سے دیکھے گی تو وہ لوگ اس کا جوش خروش سنیں گے یعنی غضبناک کے…
Read the full tafseer →قالوا سبحنک ما کان ینبغی لنا ان نتخذ من دونک من اولیآء وہ کہیں گے تو پاک ہے۔
ہمارے لئے تو تیرے سوا دوسروں کو کارساز قرار دینا جائز ہی نہیں تھا۔ قالواصیغۂ ماضی بمعنئ مستقبل ہے کیونکہ مستقبل میں ان کا یہ بات کہنا یقینی ہے۔
سُبْحٰنَکَ یعنی بطور تعجب وہ یہ لفظ کہیں گے کیونکہ معبودان باطل اگر ملائکہ یا انبیاء ہوں گے تو اس سوال پر ان کا تعجب ظاہر ہی ہے۔ اللہ نے ان کو معصوم بنایا تھا ان سے ایسا جرم کیسے سرزد ہوسکتا تھا اور اگر مخاطب ‘ جمادات اور پتھروں وغیرہ کو مانا جائے تب بھی ان کا تعجب صحیح ہے ان کو اللہ کی طرف سے تخلیقاً قدرت ہی نہیں دی گئی ‘ پھر وہ کیسے گمراہ کرسکتے تھے ان سے ایسا سوال تعجب…
Read the full tafseer →(18) تو ان کے معبود یعنی بت وغیرہ عرض کریں گے معاذ باللہ ہماری کیا مجال تھی کہ ہم اس کے سوا اور کارسازوں کو تجویز کریں یعنی وہ معبود کہیں گے کہ معاذ اللہ ہماری کیا مجال تھی کہ ہم آپ کے سوا اوروں کی عبادت کریں تو پھر ہماری کیسے جرأت ہوسکتی تھی کہ ہم ان بدبختوں کو اپنی عبادت کا حکم دیتے لیکن آپ نے ان کو اور ان سے قبل ان کے بڑوں کو حالت کفر میں بہت ڈھیل اور آسودگی دی یہاں تک کہ یہ لوگ توحید اور آپ کی اطاعت ہی کو بھلا بیٹھے تو یہ لوگ خود ہی تباہ اور برباد ہوئے۔
Read the full tafseer →ۭقَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ يَنْۢبَغِيْ لَنَآ۔۔ : یعنی جب ہم خود تیرے سوا کسی کو یارو مددگار نہیں سمجھتے تھے اور تیری توحید پر قائم تھے، تو لوگوں کو اپنے بارے میں کس طرح کہہ سکتے تھے کہ تم اللہ کے بجائے ہمیں اپنا حاجت روا اور مشکل کشا بنا لو۔ یہ بات تو ہمیں زیب ہی نہیں دیتی۔ دیکھیے آل عمران (79، 80)۔
وَلٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَاٰبَاۗءَهُمْ۔۔ : ”بُوْرًا“ ”بَارَ یَبُوْرُ“ سے مصدر بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے، یا ”بَاءِرٌ“ کی جمع ہے، ہلاک ہونے والے، یعنی ہم نے انھیں گمراہ نہیں کیا، بلکہ یہ خود ہی کم ظرف اور کمینے لوگ تھے، تو نے انھیں اور ان کے آبا و اجداد کو ہر قسم کا رزق دیا، یہ کھا پی کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
( ویوم یحشرھم۔۔۔۔۔ 17۔ 19)
ویوم یحشرھم ابن محیصن، حمید، ابن کثیر، حفص، یعقوب اور ابو عمرو نے دوری کی روایت میں یحشرھم یاء کے ساتھ قرات کی ہے، ابو عبید اور ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ کلام کے شروع میں ہے کان علی ربک اور اس کے آخر میں ہے انتم اضلتم عبادی ھولا باقی قراء نے اسے نون کے ساتھ پڑھا ہے۔
وما یعبدون من دون اللہ اس سے مراد فرشتے، انسان، جن حضرت مسیح اور حضرت عزیز (علیہ السلام) ہیں جن کی لوگ عبادت کرتے تھے، یہ مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے۔ ضحاک اور عکرمہ نے کہا : مراد بت ہیں۔ فیقول عام قرات یاء کے ساتھ ہے، یہ ابو عبیدہ اور ابو حاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ ابن عامر اور ابو حیوہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویوم یحشرہم وما یعبدون من دون اللہ فیقول ا انتم اضللتم عبادی سے مراد ہے کہ عیسیٰ اور عزیر اور فرشتے (علیہم السلام) سے یہ سوال کیا جائے گا۔
2۔ الحاکم وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ عبداللہ بن غنم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے معاذ بن جبل ؓ کے اس قول آیت ” ماکان ینبغی لنا ان نتخذ من دونک من اولیاء “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا میں نے نبی ﷺ کو یوں پڑھتے وہئے سنا آیت ان نتخذ نون کے نصب کے ساتھ پھر میں نے ان سے آیت الم غلب الروم کے بارے میں پوچھا کہ غلبت معروف کا صیغہ ہے یا مجہول…
Read the full tafseer →قَالُوْا [ وہ کہیں گے ] سُبْحٰنَكَ [ پاکیزگی تیری ہے ] مَا كَانَ [ نہیں تھا ] يَنْۢبَغِيْ [ سزا وار ] لَنَآ [ ہمارے لئے ] اَنْ نَّتَّخِذَ [ کہ ہم بناتے ] مِنْ دُوْنِكَ [ تیرے علاوہ ] مِنْ اَوْلِيَاۗءَ [ کوئی بھی کار ساز ] وَلٰكِنْ [ اور لیکن ] مَّتَّعْتَهُمْ [ تو نے عرصہ تک فائدہ اٹھانے دیا ان کو ] وَاٰبَاۗءَهُمْ [ اور ان کے پاپ دادا کو ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] نَسُوا [ یہ لوگ بھول گئے ] الذِّكْرَ ۚ[ ساری نصیحتوں کو ] وَكَانُوْا [ اور وہ تھے ] قَوْمًۢا بُوْرًا [ ایک ہلاک ہونے والی قوم ]
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : (قوما بورا) ای ھالکین علی ان بورا مصدر و صف بہ الفاعل مبالغۃ او جمع بائر کعوذ جمع عائذ، قال ابن عباس ھالکین فی لغۃ عمان وھم من الیمن، وقیل بورا فاسدین فی لغۃ الازدو یقولون امر بائر ای فالد و بارت البضاعۃ اذا فسدت و قال الحسن بورا لاخیر فیھم من قولھم ارض بور ای متعطلۃ لانبات فیھا وقیل بورا عمیا عن الحق والجملۃ اعتراض تذییلی مقرر لمضمون ماقبلہ علی ماقال و ابو السعود۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
تنبیہ برمنشا انکار رسالت
وبیان بعض احوال واھوال روز قیامت
بل کذبوا بالساعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وکان ربک بصیرا۔
اب آئندہ آیات میں ان منکرین رسالت اور معترضین نبوت کے انکار کا منشا بیان کرتے ہیں کہ آخر اس کی کیا یہ وجہ ہے کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی تکذیب پر اس درجہ تلے ہوئے ہیں تو بتلاتے ہیں کہ ان شبہات اور اعتراضان کا منشا یہ نہیں کہ آپ ﷺ کی شان درویشی وفقیری ان کے ایمان اور ہدایت سے مانع بنی ہوئی ہے بلکہ اصلی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھتے ہیں جس سے آپ ان کو ڈراتے ہیں پس انکار نبوت اور تکذیب رسالت کا اصل منشاء تکذیب قیامت ہے۔ ان کی نظر صرف اسی عطام دنیا پر مقصود ہے ان کا گمان یہ ہے کہ عزت و کرامت کا…
Read the full tafseer →14:۔ ” ولکن متعتھم الخ “ اے ہمارے پروردگار ان گمراہ لوگوں کو تو نے دنیوی منافع عطا کیے۔ یہ ظالم پکارتے تو رہے ہم کو لیکن بطور آزمائش ان کی حاجت روائی تو کرتا رہا اور دنیوی منافع بھی تو ہی ان کو عطا فرماتا رہا یہانتک کہ وہ تیری الوہیت سے غافل ہوگئے اور تیرے سوا اوروں کو برکات دہندہ سمجھنے لگے۔ ” وقوما بورا “ اس طرح شقاوت اور بدبختی ان پر غالب آگئی اور وہ گمراہ ہو کر ہلاک ہوگئے۔ الٰھی انت الذی اعطیتہ جمیع مطالبہ من الدنیا حتی صار کا لغریق فی بحر الشھوات واستغراقہ فیھا صار صادا لہ عن التوجہ الی طاعتک والاشتغال بخدمتک (کبیر ج 6 ص 459) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
ربطہ آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے بطور وحی منزل من اللہ ہونے کا ذکر کیا ۔ اس سے پہلے توحید کا بیان ہوا ۔ رسالت کے باب میں ان معترضین کے اعتراضات کا جواب دیا جو کہتے تھے کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترا جو اس کی تصدیق کرے ۔ اس رسول کے پاس خزانے اور باغات کیوں نہیں ، بعض بد بخت آدمی رسول کو سحر زدہ کہنے سے بھی نہ چوکتے ۔ اللہ نے ان تمام اعتراضات کو مسترد کردیا اور فرمایا کہ اگر اللہ چاہے تو اپنے نبی کو معترضین کی فرمائش سے بڑھ کر بھی عطا کر دے ۔ مگر ان لوگوں کا اعتراض محض اس وجہ سے ہے کہ یہ قیامت کے منکر ہیں…
Read the full tafseer →قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ يَنْۢبَغِيْ لَنَآ اَنْ نَّــتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِيَاۗءَ وَلٰكِنْ مَّتَّعْتَہُمْ وَاٰبَاۗءَہُمْ حَتّٰي نَسُوا الذِّكْرَ ، وَكَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا 18
سبحان
و ( سُبْحَانَ ) أصله مصدر نحو : غفران، قال فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] ، وسُبْحانَكَ لا عِلْمَ لَنا [ البقرة/ 32] ، وقول الشاعرسبحان من علقمة الفاخر
«1» قيل : تقدیره سبحان علقمة علی طریق التّهكّم، فزاد فيه ( من) ردّا إلى أصله «2» ، وقیل : أراد سبحان اللہ من أجل علقمة، فحذف المضاف إليه . والسُّبُّوحُ القدّوس من أسماء اللہ تعالیٰ «3» ، ولیس في کلامهم فعّول سواهما «4» ، وقد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
1 ؎ جب ہم نے تیرے سوا اور کسی کو کارسار نہ بنایا تو ہم اوروں کے کیونکر کارساز بنتے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
وَیَوْمَ یَحْشُرُھُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَقُوْلُ ئَ اَنْـتُمْ اَضْلَلْـتُمْ عِبَادِیْ ھٰٓؤْ لَآئِ اَمْ ھُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَ ۔ قَالُوْا سُبْحٰنَکَ مَاکَانَ یَنْبَغِیْ لَنَـآ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِکَ مِنْ اَوْلِیَـآئَ وَلٰـکِنْ مَّتَّعْتَھُمْ وَاٰبَـآئَ ھُمْ حَتّٰی نَسُوا الذِّکْرَ ج وَکَانُوْا قُوْمًا م بُوْرًا۔
الفرقان : 17، 18)
(اور اس دن کا خیال کرو جس دن (اللہ تعالیٰ ) ان لوگوں کو اور جن معبودوں کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں اکٹھا کرے گا، پھر ان سے پوچھے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود راہ راست سے بھٹک گئے تھے۔ وہ جواب دیں گے پاک ہے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کے جہنم میں داخل ہونے کا ایک سبب شرک ہے اس لیے مشرک کا انجام ذکر کیا جاتا ہے۔
شرک کرنے والا شخص حقیقی عقل کھو بیٹھتا ہے جس وجہ سے اسے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ جس کو میں اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کے اختیارات میں شریک کررہا ہوں اس کی اپنی حیثیت کیا ہے اس بےعقلی کی وجہ سے مشرک اللہ کے ان بندوں کو بھی رب کے اختیارات میں شریک سمجھتے ہیں جو زندگی بھرشرک کی مخالفت کرتے رہے۔ ان میں سرفہرست انبیاء کرام (علیہ السلام) نیک علماء اور صلحاء لوگ شامل ہیں۔ لیکن جب یہ لوگ دنیا سے کوچ کر گئے تو مشرکوں نے اپنے مفاد کی خاطر انہیں بھی اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرالیا۔ ان کی قبروں پر عرس…
Read the full tafseer →18: قَالُوْا سُبْحٰنَکَ (وہ کہیں گے تو پاک ہے) ان کی طرف سے اس بات پر اظہار تعجب ہے کہ جو کچھ ان کے متعلق کہا گیا۔ نمبر 2۔ اس سے مقصود ان کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو شریکوں سے منزہ اور پاک قرار دیں اور اس سے کہ کوئی پیغمبر یافرشتہ اور کوئی مخلوق اس کی شریک بنے۔ پھر وہ کہنے لگے : مَاکَانَ یَنْچبَغِیْ لَنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِکَ مِنْ اَوْلِیَآ ئَ (ہمارے لئے مناسب نہ تھا کہ ہم تیرے سواء دوسروں کا کارساز بنائیں) یعنی ہمارے لئے درست نہ تھا اور نہ ٹھیک بیٹھنا تھا کہ ہم تیرے سوا اور کو کارساز بنائیں پھر یہ کیونکر درست ہوسکتا ہے کہ ہم دوسروں کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ ہمیں تیرے سوا کا رساز…
Read the full tafseer →تفسیر۔
18۔ قالواسبحانک، ، اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ ان کے ساتھ کوئی اور الہ ہو۔ ماکان ینبغی لنا ان نتخذ من دونک من اولیائ، ہمارے لیے یہ مناسب نہیں کہ تمہارے دشمن کو ہم اپناولی بنادیں اور بعض نے کہا کہ ہم کیونکر کسی دوسرے معبود کی عبادت کرنے کا حکم دیں حالانکہ ہم خود تیری عبادت کرتے ہیں ، ابوجعفر نے ، ان نتخذ، نون کے ضمہ کے اور خاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں دوسرامن صلہ ہوگا، ولکن متعتھم وآباء ھم، دنیا میں لمبی عمر صحت اور نعمت کے ساتھ تمہیں فائدہ دیا۔ حتی نسوالذکر، پھر انہوں نے نصیحت کو ترک کردیا، اور قرآن پر ایمان لانے کو چھوڑ دیا، بعض نے کہا کہ وہ تمہارے ذکر سے غافل ہوگئے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
17۔ 19:۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے ‘ سب کچھ اس کو معلوم ہے لیکن میدان محشر کی تمام مخلوقات کے روبرو مشرک لوگوں کو شرمندہ کرنے کے لیے ملائکہ ‘ حضرت عزیر ( علیہ السلام) ‘ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور بتوں سے غرض سوائے خدا کے جس کسی کو مشرک لوگوں نے دنیا میں اپنا معبود ٹھہرا رکھا ہے ‘ ان سب سے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ کیا تم نے ان مشرک لوگوں کو شرک کا طریقہ سکھایا تھا ‘ وہ سب اس سے انکار کریں گے اور اپنی بیزاری جتلا دیں گے ‘ یہ قیامت کا حال مشرکوں کو دنیا میں اس لیے جتلایا ہے کہ مشرک اپنی غلطی کو سمجھ جاویں اور جان لیویں کہ خدا کے سوا جس کو انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
(آیت نمبر (17
قیامت کے روز مشرکین اور ان کے خود ساختہ معبودوں کے احوال کے بارے میں اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ ان کے خود ساختہ معبود ان سے براءت کا اظہار کریں گے اور ان کی تمام کوششیں رائگاں جائیں گی۔ فرمایا : (ویوم یحشرھم) ” اور اس دن اکٹھا کرے گا ان کو۔ “ یعنی ان تکزیب کرنے والے مشرکین کو اکٹھا کرے گا (وما یعبدون من دون اللہ فیقول ) ” اور ان کو بھی جن کی وہ عبادت کرتے تھے اللہ کے سوا ‘ اور کہے گا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ ان مشرکین کو جھڑکنے کی خاطر ان کے جھوٹے معبودوں سے مخاطب ہو کر کہے گا : (ء انتم اضللتم عبادی ھو لاء ام ھم ضلوا السبیل ) ” کیا تم نے میرے بندوں کو گمراہ کیا تھا یا وہ تھا یا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–48
پانی کے مسائل
قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…
Read the full tafseer →20 اللہ کے سوا دوسروں کو کارساز بنانے والے سخت خسارے میں : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ یہ حضرات جن کو یہ مشرک لوگ دنیا میں پوجتے پکارتے رہے تھے اس روز حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے اس سوال کے جواب میں صاف طور پر اس کا انکار کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہمارے لیے روا نہیں تھا کہ ہم آپ کے سوا کسی کو اپنا کارساز بناتے۔ یعنی ہم نے جب ساری زندگی اپنے لئے آپ کے سوا کسی کو کارساز نہیں بنایا تو ان کو ایسی کوئی بات ہم کس طرح کہہ سکتے تھے ؟ اور دوسرے مقام پر فرمایا گیا کہ صرف یہی نہیں کہ وہ ان سے اس طرح اپنی براءت و بیزاری کا اعلان و اظہار کردیں گے اور بس۔ نہیں بلکہ وہ الٹا ان کے دشمن بن جائیں گے ۔ { کَانُوْا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
پرہیز گاروں کو خوشخبری اور بدوں کو عذاب
تشریح : آنکھیں بند کر کے ذرا تصور کریں کہ جنت کے باغات کیسے ہوں گے ؟ جو کہ ایسی ہستی کی طرف سے وعدہ ہے جس کی عظمت ‘ حقانیت اور جود و سخا کسی سے چھپا ہوا نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اپنی دعائوں میں باقی تمام دعائوں کے ساتھ جنت الفردوس کا مانگنا نہ بھولیں۔ کیونکہ اس سے مانگنا اس کو پسند ہے اور دعا کو تو عبادت کا بہترین حصہ کہا گیا ہے تو ایمان کی سلامتی اللہ سے عجزونیاز اور مغفرت مانگتے رہنا اللہ کو بےحد پسند ہے۔ پھر دوبارہ منکرین کو عذاب کی خبر دی جا رہی ہے۔ اور نصیحت کی جا رہی ہے کہ جو بھی کرو اپنی عقل کو کام میں لا کر کرو کیونکہ جھوٹا شخص نجات دلانے میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
ان کی سمجھ اتنی بات نہیں آتی کہ جس خالق کائنات نے ساری کائنات بنائی ہے وہ چاہتا تو ان کے اندازے سے زیادہ خوبصورت باغات جو ہمیشہ شاداب رہتے ، اور ان کی امیدوں سے بڑے دولت کے انبار آپ ﷺ کو عطا فرما دیتا ، ان کی امیدوں سے زیادہ عالی شان محلات آپ ﷺ کے لیے بنا دیتا ، یہ اس کی حکمت کہ اس نے عام آدمی کی خوش نصیبی سے آپ ﷺ کا مزاج عالی ہی ایسا بنایا کہ آپ ﷺ عام زندگی پسند فرماتے اور اپنی رحمت سے آپ ﷺ کو دنیا میں عام لوگوں ہی کی زندگی دی کہ آپ ﷺ ساری انسانیت کے لیے اللہ جل جلالہ کی رحمت ہیں تو ہر عام آدمی کی رسائی آپ ﷺ کی بارگاہ تک رہے ورنہ آپ ﷺ اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →4 ۔ تاکہ ان کی عبادت کرتے اور اسی طرح جب ہم خود توحید پر قائم تھے تو تیرے بندوں سے اپنی عبادت کیسے کرا سکتے تھے ؟ (ابن کثیر) 5 ۔ یعنی یہ کمینے لوگ تھے بجائے اس کے کہ شکر گزار ہوتے، تیری نعمتیں پا کر عیش میں پڑگئے۔ (نیز دیکھئے انبیاء آیت :44) 6 ۔ ” سو یہ ٔ تو مرکھپ کر (تباہ ہو کر) رہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن انبیاء و اولیاء کی یہ پوجا کرتے رہے ہیں ان کی نذریں مانتے رہے ہیں اور اٹھتے بیٹھتے ان کا نام لیتے ہیں۔ قیامت کے دن وہ یہ جواب دینگے یعنی سبحانک اللہ (فتح البیان)
Read the full tafseer →(25:18) ماکان ینبغی لنا۔ ما کان ینبغی۔ ماضی استمراری منفی واحد مذکر غائب۔ ہمارے لئے تو (یہ بات بھی) کبھی زیبا نہ ہوئی (کہ ہم تیرے سوا کسی اور کو کارساز بنائیں ( چہ جائیکہ ہم ان کو راہ راست سے بھٹکاتے اور تیرے سوا دوسروں کی عبادت پر ان کو لگاتے) ۔
انبغاء (انفعال) مصدر۔ شان کے شایاں ہونا۔ سزاوار ہونا۔ لائق ہونا۔ قرآن مجید میں ہے وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ (36:69) اور ہم نے اس کو (پیغمبر کو) شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ ہی وہ اس کے شان کے شایاں ہے۔ نتخذ۔ مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) جمع متکلم اتخاذ (افتعال) مصدر ہم بنائیں۔ ہم بنا لیتے۔
من اولیاء میں من زائدہ تاکید نفی کے لئے لایا گیا ہے۔ یا عبارت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 20 :
(اضللتم) تم نے گمراہ کیا تھا ‘(ضلو السبیل) راستے سے بھٹک گئے ‘(ماینبغی) مناسب نہیں ہے ‘(متعت) تمہیں خوش حالی دی گئی ‘(نسوا) وہ بھول گئے ‘(بور) تباہ برباد ہونے والے ‘ (نذق) ہم چکھائیں گے ‘(فتنۃ) آزمائش ۔ جانچ۔
تشریح : آیت نمبر 17 تا 20 :
ان آیات میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں ایک تو میدان حشر میں وہ سوال کہ یہ لوگ جو بےحقیقت چیزوں کو اپنا معبود بنائے ہوئے تھے اس پر ان کو کس نے مجبور کیا تھا ؟ دوسرا یہ مسئلہ کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) جو انسان ہوتے ہیں مگر انسانیت ناز کرتی ہے کیا وہ انسانی ضروریات سے بےنیا تھے ؟
جب اللہ تعالیٰ پوری کائنات کی بساط الٹ دیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
قیامت میں بت پرستوں کی کیفیت۔
(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان منکر قیامت بت پرستوں اور ان جھوٹے معبودوں سب کو جمع کرے گا اور ان جھوٹے معبودوں سے پوچھے گا کہ کیا تم نے اپنی مورتوں کی پوجا کے لیے ان بت پرستوں سے کہا تھا یا یہ بت پرست خود ہی بت پرستی میں لگ گئے ان سب مورتوں کی اصل صورتیں ان مشرکوں کے شرک سے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرکے یہ کہیں گے کہ یا اللہ تجھ کو خوب معلوم ہے کہ ہم تو خالص دل سے تجھ کو سچا معبود جانتے ہیں پھر ہم سے یہ کیونکرہوسکتا ہے کہ ہم ان مشرکوں سے اپنی مورتوں کی پوجا کو کہتے پھر کہویں گے ، یا اللہ تیرے علم میں یہ لوگ قابل ہلاکت ٹھہر چکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
[8] آیت کے مضمون سے ظاہر ہے کہ یہاں معبودوں سے مراد بت نہیں بلکہ فرشتے، گزرے ہوئے انبیاء، اولیا، اور صالحین ہیں۔ جنہیں لوگوں نے اپنا معبود بنا لیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
دوزخ بہتر ہے یا جنت والخلد !
(ف 1) یعنی دنیا میں تو یہ لوگ قیامت کو جھٹلاتے رہے پیغمبر کی تکذیب کرتے رہے اور کلام الہی کو افتراء اور جھوٹ کہتے رہے ، مگر جب انہیں ان کے انکار وتمرد کی پاداش میں جہنم کی سزا ہوگی اس وقت یہ جہنمی چاہیں گے کہ موت آکر عذاب کی شدتوں اور تلخیوں کو ختم کر دے ، اس وقت زندگی سے سخت بیزار ہو کر اپنے لئے موت کی خواہش کریں گے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، کم بختوا سوچو ، کہ کیا یہ دوزخ کی زندگی عذاب ، اور یہ تکلفیں بہتر ہیں ، یا جنت الخلد ، (بہشت جادوانی) بہتر ہے کیا تم تمردو سرکشی کو پسند کرتے ہو ، جس کی سزا جہنم اور اس کی شدتیں ہیں ، یا جنت پسند کرتے ہو ، جہاں کہ روح وجسم…
Read the full tafseer →(18) وہ متفقہ طورپر عرض کریں گے تیری ذات پاک ہے ہماری یہ مجال نہ تھی اور ہم کو کسی طرح بھی یہ مناسب اور لائق نہ تھا کہ ہم تیرے سوا دوسروں کو کارساز تجویز کریں لیکن بات یہ ہوئی کہ تو نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو ہر قسم کی آسودگی اور دینوی عیش و تنعم سے بہرہ مند کیا اور دینوی سازو سامان کے برتنے کا موقعہ دیا یہاں تک کہ یہ تیری یاد کو فراموش کر بیٹھے اور جون صیحت ان کو دی گئی تھی اس کو بھول گئے اور یہ تھے ہی ہلاک ہونے والے یعنی جب ہم خود ہی مجال نہ رکھتے تھے کہ تیرے سوا کسی دوسرے کو کارساز اور معبود ٹھہرائیں تو ان کو اس بات پر کس طرح آمادہ کرسکتے تھے کہ یہ ہماری پرستش کریں اور تیرے سوا ہم کو…
Read the full tafseer →ف 5۔ جس کا مقتضی تو یہ تھا کہ منعم کی معرفت اور اس کا شکر و اطاعت کرتے۔
6۔ مطلب جواب کا ظاہر ہے کہ دونوں شقوں میں ضلوا السبیل کی شق کو اختیار کیا، اور ضلالت کی شناعت و فظاعت کو ذکر تمتیع سے موکد کیا، جس سے خوب ناراضی ان عابدین سے ظاہر ہوجاوے۔
Read the full tafseer →سوال کئے جانے والوں کی طرف سے جو جواب دیا جائے گا وہ درج ذیل ہے :
18۔ جن اللہ کے بندوں کی پرستش کی جاتی تھی ان میں سے وہ جنہوں نے لوگوں کو اپنی پرستش کے لئے نہیں کہا ہوگا وہ جواب دین گے کہ اللہ کی پناہ ہم یہ بات اس کو کیسے کہہ سکتے تھے کہ تم ہماری عبادت کرو اور ہمیں حاجت روا اور مشکل کشا سمجھو اور ہم تیرے سوا کسی اور کو اپنیا ولی و کارساز کیونکر بناتے ہمیں یہ بات کیونکر زیب دیتی تھی ؟ گویا وہ صاف صاف انکار کردیں گے کہ ہم نے تو انکو اس طرح کی کوئی بات نہیں کہی تھی اصل بات یہ ہے کہ اے ہمارے رب تو نے انکو معیشت دنیا کی جو فراوانی دی تھی ان کو بھی اور ان کے آباء و اجداد کو بھی اور اس طرح پشت ہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
The Second Objection was that if the Holy Prophet ﷺ was a prophet, he should not have been eating and drinking like common people; instead he should have been free from eating and drinking like angels. And if this was not so, he should have at least enough wealth and gardens to take care of his day to day needs, so that he may not need to care for his living. Furthermore, how could he be accepted as a prophet when he is neither an angel nor does an angel accompany him to endorse what he preaches, therefore it appears that he has been charmed by someone which has turned his head and that is…
Read the full tafseer →26 That is, "They were mean people: You gave them all the provisions of life so that they may show gratitude to You, but they became ungrateful and ignored all the admonitions given by the Prophets. "
Read the full tafseer →