Explained with ayahs 17–19
عیسیٰ ؑ سے سوالات
بیان ہو رہا ہے کہ مشرک جن جن کی عبادتیں اللہ کے سوا کرتے رہے قیامت کے دن انہیں ان کے سامنے ان پر عذاب کے علاوہ زبانی سرزنش بھی کی جائے گی تاکہ وہ نادم ہوں۔ حضرت عیسیٰ ؑ حضرت عزیر ؑ اور فرشتے جن جن کی عبادت ہوئی تھی سب موجود ہوں گے اور ان کے عابد بھی۔ سب اسی مجمع میں موجود ہوں گے۔ اس وقت اللہ تبارک وتعالیٰ ان معبودوں سے دریافت فرمائے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں سے اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا ؟ یا یہ از خود ایسا کرنے لگے ؟ چناچہ اور آیت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ سے بھی یہی سوال ہوگا۔ جس کا وہ جواب دیں گے کہ میں نے انہیں ہرگز اس بات کی تعلیم نہیں دی یہ جیسا کہ تجھ پر خوب روشن ہے…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 27
یعنی تمہارا یہ مذہب، جس کو تم حق سمجھے بیٹھے ہو، بالکل بےاصل ثابت ہوگا، اور تمہارے وہ معبود جن پر تمہیں بھروسہ ہے کہ یہ خدا کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں، الٹے تم کو خطا کار ٹھہرا کر بری الذمہ ہوجائیں گے۔ تم نے جو کچھ بھی اپنے معبودوں کو قرار دے رکھا ہے، بطور خود ہی قرار دے رکھا ہے۔ ان میں سے کسی نے بھی تم سے یہ نہ کہا تھا کہ ہمیں یہ کچھ مانو، اور اس طرح ہماری نذر و نیاز کیا کرو، اور ہم خدا کے ہاں تمہاری سفارش کرنے کا ذمہ لیتے ہیں۔ ایسا کوئی قول کسی فرشتے یا کسی بزرگ کی طرف سے نہ یہاں تمہارے پاس موجود ہے، نہ قیامت میں تم اسے ثابت کرسکو گے، بلکہ وہ سب کے سب خود تمہاری آنکھوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
خلاصہ تفسیر
وہ ذات بڑی عالی شان ہے کہ اگر وہ چاہے تو آپ کو (کفار کی) اس (فرمائش) سے (بھی) اچھی چیز دیدے یعنی بہت سے (غیبی) باغات جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں (بہتر اس لئے کہا کہ وہ تو مطلق باغ کی فرمائش کرتے تھے گو ایک ہی ہو اور متعدد باغ کا ایک سے بہتر ہونا ظاہر ہے) اور (بلکہ ان باغوں کے ساتھ اور بھی مناسب چیزیں دیدے جن کی انہوں نے فرمائش بھی نہیں کی یعنی) آپ کو بہت سے محل دیدے (جو ان باغوں میں بنے ہوں یا باہر ہی ہوں جس سے ان کی فرمائش اور بھی زیادہ نعمتوں کے ساتھ پوری ہوجاوے۔ مطلب یہ کہ جو جنت میں ملے گا اگر اللہ چاہے تو آپ کو دنیا ہی میں دیدے لیکن بعض حکمتوں سے نہیں چاہا اور فی نفسہ ضروری…
Read the full tafseer →ایک بلیغ اسلوب
یہاں مستقبل کی بات کو بتقاضائے بلاعت ماضی کی شکل میں کردیا ہے۔ فرمایا کہ یہ لو، انہوں نے تو تمہاری اس بات کو جھٹلا دیا جو تم کہتے تھے ! تمہارا دعویٰ تو یہ تھا کہ انہوں نے تمہیں اپنی عبادت کا حکم دیا ہے اور تم جن باتوں کو اختیار کئے ہو انہی کی ہدایت کے مطابق اختیار کئے ہوئے ہو لیکن ان کا کہنا تو یہ ہے کہ اپنی عبادت کا کسی کو حکم دینا تو درکنار، وہ اس بات کے بھی ایک لمحہ کے لئے روادار نہیں کہ کسی کو اپنا ولی و کار ساز بنائیں۔
ظلم غصیم کی سزا عذاب کبیر
فما تستطیعون سرق ولا نصراً الآیۃ یعنی اس آخری تمام حجت اور قطع عذر کے بعد تمہارے لئے کوئی راہ فرار باقی نہ رہ جائے گی۔ نہ تم خود…
Read the full tafseer →19-1یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے جو مشرکین سے مخاطب ہو کر اللہ تعالیٰ کہے گا کہ تم جن کو اپنا معبود گمان کرتے تھے، انہوں نے تو تمہیں تمہاری باتوں میں جھوٹا قرار دے دیا ہے اور تم نے دیکھ لیا ہے کہ انہوں نے تم سے صفائی کا اعلان کردیا ہے۔ گویا جن کو تم اپنا مددگار سمجھتے تھے، وہ مددگار ثابت نہیں ہوئے۔ اب کیا تمہارے اندر یہ طاقت ہے کہ تم میرے عذاب کو اپنے سے پھیر سکو اور اپنی مدد کرسکو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
5: کفار کے اعتراضات کا جواب دینے کے بعد درمیان میں اب اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے خطاب فرما رہے ہیں کہ تمہارے مخالفین تم پر طرح طرح کے اعتراضات کر کے تمہیں جو تکلیفیں دے رہے ہیں، وہ اس لیے کہ ہم نے تمہیں ان کی آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے کہ یہ حق واضح ہوجانے کے باوجود اسے مانتے ہیں یا نہیں، اور انہیں تمہاری آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے کہ تم ان کی پہنچائی ہوئی تکلیفوں پر صبر کرتے ہو یا نہیں کیونکہ تمہارے صبر ہی سے یہ ظاہر ہوگا کہ تم نے حق کو سچے دل سے قبول کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
و یوم یحشرھم۔۔۔۔۔ نذقہ عذابا کبیرا
جن لوگوں کی مشرکین بندگی کرتے تھے بعض اوقات تو وہ بت ہوتے تھے ‘ کبھی وہ ملائکہ اور جن ہوتے تھے اور کبھی دوسرے معبود ہوتے تھے۔ جن کو اللہ خوب جانتا ہے ‘ لیکن اس کھلے میدان میں ان سے یہ سوال کرنا جواب طلب کرنا جب کہ سب کو اس مقصد کے لیے جمع کیا گیا ہوگا ‘ زیادہ تشہیر اور شرمندہ کرنے کے لیے ہوگا۔ تشہیر جرم اور شرمندہ کرنا بھہ دراصل ایک قسم کی سزا ہے اور جواب جو آ رہا ہے وہ ان نام نہاد الموں کی طرف سے اللہ کے سامنے مکمل طور پر جھکناثابت کرتا ہے۔ اب یہ اللہ قہار اور مالک الملک کے سامنے مطیع فرمان کھڑے ہیں۔ اور نہ صرف یہ کہ وہ اپنی الوہیت کا انکار کرتے ہیں بلکہ وہ…
Read the full tafseer →9 یہ حق تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوگا کہ لو ! جن کی اعانت پر تم کو بڑا بھروسہ تھا وہ خود تمہارے دعاوی کو جھٹلا رہے اور تمہاری حرکات سے اعلانیہ بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں۔
10 یعنی اب نہ عذاب الٰہی کو پھیر سکتے ہو نہ بات کو پلٹ سکتے ہو نہ ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہو، جس کو جو سزا ملنے والی ہے اس کا پڑے مزہ چکھتے رہو۔
11 شاید ظلم سے مراد یہاں شرک ہو، اور ممکن ہے ہر قسم کا ظلم و گناہ مراد لیا جائے۔
Read the full tafseer →آیت 19 فَقَدْ کَذَّبُوْکُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَلا ”
کہ جن ہستیوں کو تم لوگ اپنے معبود اور ولی مانتے تھے انہوں نے تو تمہارے دعو وں کو رد کردیا۔
Read the full tafseer →23 یعنی آج تم یہ کہتے ہو کہ اگر قیامت ہوئی بھی تو تمہارے یہ معبود وہاں بھی تمہارے کام آئیں گے اور اگر عذاب کی کوئی بات ہوئی تو یہ چھڑا لیں گے۔ مگر اس دن تمہارے یہی معبود جن کی اعانت پر تمہیں بھروسا تھا۔ تم سے علانیہ بیزاری کا اظہار کریں گے۔ اور یہ کہہ کر تمہیں جھٹلا دیں گے کہ ہم نے کب ان سے کہا تھا کہ تم ہماری عبادت کیا کرنا۔ اس طرح معبود تو بری الذمہ ہوجائیں گے اور سارا بوجھ ان کے عبادت کرنے والوں پر پڑجائے گا۔ جن کی عذاب سے رہائی کی کوئی صورت نہ ہوگی۔
24 ظلم کا لفظ عدل کی ضد ہے۔ اور اس کا اطلاق پر بےانصافی کی بات اور غیر معقول بات پر ہوسکتا ہے۔ نبی کی دعوت کو جھٹلانا، اسلام کی راہ سے روکنا،…
Read the full tafseer →19۔ (قیامت میں) (آیت) ’ ’ ومن یظلم منکم “۔ ظلم سے مراد کفر وشرک ہے۔ ابن عباس صحابی اور تابعین سے یہی مروی ہے۔ اے یشرک باللہ (ابن کثیر) یشرک بہ (معالم) الظلم ھنا الشرک قال ابن عباس والحسن وابن جریج (بحر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
آیت نمبر 10 تا 20
ترجمہ : اللہ کی ذات تو بڑی عالی شان ہے یعنی خیر کثیر والی ہے اگر وہ چاہے تو ان کے بیان کردہ باغ اور خزانہ سے بہتر باغات عطا کر دے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں یعنی دنیا میں (عطا کردے) اس لئے کہ آخرت میں ایسے باغات آپ ﷺ کو عطا کرنا تو اس کی مشیت میں ہے ہی، اور آپ کو بہت سے محل (بھی) دیدے یَجْعَلْ لام کے جزم کے ساتھ اور ایک قرأۃ میں (یَجْعَلُ ) رفع کے ساتھ ہے، جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے بلکہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھ رہے ہیں اور قیامت کو جھوٹ سمجھنے والوں کیلئے ہم نے دہکتی ہوئی شدید آگ تیار کر رکھی ہے جن ان کو وہ آگ دور سے دیکھے گی تو وہ لوگ اس کا جوش خروش سنیں گے یعنی غضبناک کے…
Read the full tafseer →فقد کذبوکم بما تقولون پس تمہارے معبود ہی (قیامت کے دن) تمہارے قول کی تکذیب کریں گے۔
یہ خطاب دنیا میں مشرکوں کو ہے ‘ یعنی آخرت میں تمہارے معبود تمہارے قول کی تکذیب کریں گے چونکہ قیامت میں ہونے والا واقعہ یقینی تھا اس لئے مستقبل کی تعبیر بصیغۂ ماضی کی جیسے اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْمیں۔
یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ہم قیامت کے دن مشرکوں سے کہیں گے کہ تمہارے معبود ہی تم کو جھوٹا قرار دے رہے ہیں۔ بِمَا تَقُوْلُوْنَ یعنی یہ بات جو تم کہتے ہو کہ یہ ہمارے معبود ہیں یا کہتے تھے کہ ہمارے ان معبودوں نے ہم کو گمراہ کیا ‘ اس بات کی تکذیب تمہارے معبودوں نے ہی کردی ہے۔
فما تستطیعون صرفا ولا نصرا سو اب تم نہ…
Read the full tafseer →(19) اس وقت اللہ تعالیٰ ان غیر اللہ کے پجاریوں سے فرمائے گا سو تمہارے ان معبودوں نے تو تمہیں تمہاری سب باتوں میں جھوٹا ٹھہرا دیا سو تم اب ان فرشتوں یا بتوں کی گواہی کو اپنے سے نہ تو خود ٹال سکتے ہو یا یہ کہ اس دوزخ کے عذاب کو اپنے سے نہ تو خود ٹال سکتے ہو اور نہ کوئی تمہاری مدد کرسکتا ہے۔
اور اے گروہ مسلمین جو جو تم میں سے کفر کرے گا یا یہ کہ اے گروہ کفار جو جو تم میں سے کفر پر قائم رہے گا تو ہم اس کا دوزخ میں بڑ عذاب دیں گے۔
Read the full tafseer →فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ : یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے جو وہ مشرکین سے مخاطب ہو کر فرمائے گا کہ تم نے جنھیں معبود بنا رکھا تھا انھوں نے تو تمہیں تمہاری بات میں جھٹلا دیا اور تم سے بری ہوگئے۔ قیامت کے دن تمام خود ساختہ معبودوں کا اپنے پوجنے والوں سے بری ہونا اور ان کا دشمن بن جانا قرآن میں متعدد مقامات پر آیا ہے، دیکھیے سورة یونس (28) ، نحل (86) ، مریم (82) ، فاطر (13، 14) اور احقاف (6)۔rnۙ فَمَا تَسْتَطِيْعُوْنَ صَرْفًا وَّلَا نَصْرًا ۚ : یعنی جن سے تم مدد کی توقع رکھتے تھے وہ تمہارے دشمن بن گئے، تو اب تم عذاب سے کسی طرح نہیں بچ سکتے، نہ اسے اپنے آپ سے کسی سفارش یا فدیے سے ہٹا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
( ویوم یحشرھم۔۔۔۔۔ 17۔ 19)
ویوم یحشرھم ابن محیصن، حمید، ابن کثیر، حفص، یعقوب اور ابو عمرو نے دوری کی روایت میں یحشرھم یاء کے ساتھ قرات کی ہے، ابو عبید اور ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ کلام کے شروع میں ہے کان علی ربک اور اس کے آخر میں ہے انتم اضلتم عبادی ھولا باقی قراء نے اسے نون کے ساتھ پڑھا ہے۔
وما یعبدون من دون اللہ اس سے مراد فرشتے، انسان، جن حضرت مسیح اور حضرت عزیز (علیہ السلام) ہیں جن کی لوگ عبادت کرتے تھے، یہ مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے۔ ضحاک اور عکرمہ نے کہا : مراد بت ہیں۔ فیقول عام قرات یاء کے ساتھ ہے، یہ ابو عبیدہ اور ابو حاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ ابن عامر اور ابو حیوہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویوم یحشرہم وما یعبدون من دون اللہ فیقول ا انتم اضللتم عبادی سے مراد ہے کہ عیسیٰ اور عزیر اور فرشتے (علیہم السلام) سے یہ سوال کیا جائے گا۔
2۔ الحاکم وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ عبداللہ بن غنم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے معاذ بن جبل ؓ کے اس قول آیت ” ماکان ینبغی لنا ان نتخذ من دونک من اولیاء “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا میں نے نبی ﷺ کو یوں پڑھتے وہئے سنا آیت ان نتخذ نون کے نصب کے ساتھ پھر میں نے ان سے آیت الم غلب الروم کے بارے میں پوچھا کہ غلبت معروف کا صیغہ ہے یا مجہول…
Read the full tafseer →فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ [ تو انھوں نے جھٹلا دیا ہے تم لوگوں کو ] بِمَا [ اس میں جو ] تَقُوْلُوْنَ ۙ [ تم لوگ کہتے ہو ] فَمَا تَسْتَطِيْعُوْنَ [ پس تم لوگ استطاعت نہیں رکھتے ] صَرْفًا [ ہٹانے کی (عذاب کو ] وَّلَا نَصْرًا ۚ [ اور نہ مدد کرنے کی ] وَمَنْ [ اور جس نے ] يَّظْلِمْ [ ظلم کیا ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] نُذِقْهُ [ اس کو ہم چکھائیں گے ] عَذَابًا كَبِيْرًا [ ایک بڑا عذاب ]
Read the full tafseer →اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کی گئی ان سے مذکورہ بلا سوال ہوگا ان کا جواب نقل فرما کر ارشاد فرمایا (فَقَدْ کَذَّبُوکُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ فَمَا تَسْتَطِیعُوْنَ صَرْفًا وَلاَ نَصْرًا) اس میں اس خطاب کا ذکر ہے جو غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں سے ہوگا کہ تم جو ان کی عبادت کرتے تھے اور ان کے معبود ہونے کا دعویٰ کرتے تھے اسے تمہارے معبودین نے جھٹلا دیا اب تمہیں عذاب ہی میں جانا ہے عذاب دفع کرنے کی تمہارے پاس کوئی تدبیر نہیں ہے اور کوئی مدد کا راستہ بھی نہیں ہے نہ تم خود اپنی کوئی مدد کرسکتے ہو نہ کوئی تمہاری مدد کرسکتا ہے۔
مذکورہ سوال و جواب سے مشرکین کی بیوقوفی اور حماقت ظاہر ہوجائے گی دنیا میں جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
تنبیہ برمنشا انکار رسالت
وبیان بعض احوال واھوال روز قیامت
بل کذبوا بالساعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وکان ربک بصیرا۔
اب آئندہ آیات میں ان منکرین رسالت اور معترضین نبوت کے انکار کا منشا بیان کرتے ہیں کہ آخر اس کی کیا یہ وجہ ہے کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی تکذیب پر اس درجہ تلے ہوئے ہیں تو بتلاتے ہیں کہ ان شبہات اور اعتراضان کا منشا یہ نہیں کہ آپ ﷺ کی شان درویشی وفقیری ان کے ایمان اور ہدایت سے مانع بنی ہوئی ہے بلکہ اصلی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھتے ہیں جس سے آپ ان کو ڈراتے ہیں پس انکار نبوت اور تکذیب رسالت کا اصل منشاء تکذیب قیامت ہے۔ ان کی نظر صرف اسی عطام دنیا پر مقصود ہے ان کا گمان یہ ہے کہ عزت و کرامت کا…
Read the full tafseer →15:۔ ” فقد کذبوک الخ “ اس سے پہلے فیقال لھم مقدر ہے یعنی نیک بندوں کے جواب کے بعد مشرکین سے کہا جائے گا کہ دیکھ لو جن کو تم برکات دہندہ سمجھ کر پکارا کرتے تھے انہوں نے بھی تمہیں جھٹلا دیا ہے تمہارا دعوی تھا کہ وہ تمہارے کارساز اور برکات دہندہ ہیں مگر انہوں نے اپنی الوہیت کا صاف انکار کردیا ہے اور یہ بھی اعلان کردیا ہے کہ انہیں تمہاری پکار کی خبر تک نہ تھی۔ جیسا کہ دوسری جگہ ان کا قول نقل کیا گیا ہے۔ ” فکفی باللہ شہیدا بیننا و بینک ان کنا عن عبادتکم لغفلین “ ( سورة یونس رکوع 3) ۔ ” فما تستطیعون الخ “ جن کو تم برکات دہندہ سمجھتے تھے آج وہ تم سے عذاب کو نہیں ہٹا سکیں اور نہ کسی اور طریقے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
ربطہ آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے بطور وحی منزل من اللہ ہونے کا ذکر کیا ۔ اس سے پہلے توحید کا بیان ہوا ۔ رسالت کے باب میں ان معترضین کے اعتراضات کا جواب دیا جو کہتے تھے کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترا جو اس کی تصدیق کرے ۔ اس رسول کے پاس خزانے اور باغات کیوں نہیں ، بعض بد بخت آدمی رسول کو سحر زدہ کہنے سے بھی نہ چوکتے ۔ اللہ نے ان تمام اعتراضات کو مسترد کردیا اور فرمایا کہ اگر اللہ چاہے تو اپنے نبی کو معترضین کی فرمائش سے بڑھ کر بھی عطا کر دے ۔ مگر ان لوگوں کا اعتراض محض اس وجہ سے ہے کہ یہ قیامت کے منکر ہیں…
Read the full tafseer →فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ 0ۙ فَمَا تَسْتَطِيْعُوْنَ صَرْفًا وَّلَا نَصْرًا 0ۚ وَمَنْ يَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْہُ عَذَابًا كَبِيْرًا 19
كذب
وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:
إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ،
( ک ذ ب ) الکذب
قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
الاستطاعۃ
. وَالاسْتِطَاعَةُ : استفالة من الطَّوْعِ ، وذلک وجود ما يصير به الفعل متأتّيا، الاسْتِطَاعَةُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
1 ؎ جب ہم نے تیرے سوا اور کسی کو کارسار نہ بنایا تو ہم اوروں کے کیونکر کارساز بنتے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →فَقَدْکَذَّبُوْکُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ لا فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّلاَ نَصْرًا ج وَمَنْ یَّظْلِمْ مِّنْکُمْ نُذِقْـہُ عَذَابًا کَبِیْرًا۔ (الفرقان : 19)
(جھٹلا دیں گے وہ تمہارے معبود، تمہاری ان باتوں کو جنھیں تم کہہ رہے ہو، پھر تم نہ اپنی شامت کو ٹال سکو گے اور نہ کہیں سے کوئی مدد پا سکو گے اور جو بھی تم میں سے شرک کا مرتکب ہوگا ہم اسے سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ )
ایک بلیغ اسلوب
یہ مکالمہ تو قیامت کے دن ہوگا لیکن اس کے یقینی اور حتمی ہونے کو واضح کرنے کے لیے اسے ماضی کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے کہ تم قیامت کے دن یہ تصور لے کر پہنچو گے کہ ہم تو قیامت کا انکار کرتے رہے لیکن اب اگر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء کرام (علیہ السلام) اور صلحاء کی عاجزانہ وضاحت کے بعد اللہ تعالیٰ کا اعلان۔
انبیاء کرام، نیک علماء اور صلحاء حضرات کی عاجزانہ اور معذرت خواہانہ وضاحت سننے کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ تمہاری معذرت قبول کی جاتی ہے کیونکہ تم لوگوں کو عقیدہ توحید بتلاتے اور سمجھاتے رہے لیکن انہوں نے تمہیں جھٹلادیا لہٰذا تم میں اس بات کا کوئی اختیار نہیں رکھتا کہ تم ان کی کسی قسم کی مدد کرسکو یا ان سے عذاب ٹال سکو۔ اور نہ یہ آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہیں، کیونکہ میرا فیصلہ تھا اور ہے کہ تم میں جو بھی ظلم کرے گا میں اس کو زبردست عذاب میں مبتلا کروں گا لہٰذا آج شرک کرنے…
Read the full tafseer →غیبت سے تخاطب :
19: پھر کفار سے مخاطب کر کے اور غیبت سے اعراض کرتے ہوئے کہا جائے گا : فَقَدْ کَذَّبُوْکُمْ (انہوں نے تمہاری بات کو جھٹلادیا) یہ مفاجاتی انداز کلام احتجاج والزام کیلئے بہت مناسب ہے اور خاصکر جبکہ التفات کو اس کے ساتھ ملا دیا اور قول کو حذف کردیا اس کی نظیر اس آیت میں موجود ہے : یا اھل الکتاب قد جاء کم رسولنا یبین لکم علی فترۃ من الرسل الی قولہ ٖ فقد جاء کم بشیر و نذیر ] المائدہ : 19[ اور شاعر کا یہ قول ؎
قالو اخرسان اقصیٰ ما یراد بنا ٭ ثم القفول فقد جئنا خراسانا
” انہوں نے کہا ہمارا انتہائی مقصود تو خراسان ہے وہ دور ہے پھر واپس لوٹنا ہے۔ لیجئے، خراسان تو آگیا “۔
بِمَا…
Read the full tafseer →19۔ فقد کذبوکم ، یہ مشرکین کو خطاب ہے یہ تمہارے معبود ہی قیامت کے دن تمہیں جھٹلائیں گے ، بماتقولون ، کہ وہ معبود ہیں ، فماتستطیعون، حفص نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اس سے مراد عابدین ہیں اور دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس سے مراد الہ ہیں۔ صرفا، ، عذاب کو اپنے اوپر سے دور کریں گے۔ ولانصرا، ، اور اپنے نفسوں کی مدد نہیں کرسکیں گے بعض نے کہا کہ یہ معبودین باطلہ تمہارے اوپر سے عذاب کو ٹالنے والے نہیں ہیں۔ بعض نے کہا کہ صرف کا معنی حیلہ ہے، اسی سے عرب کا قول ہے، فلان یتصرف، فلاں شخص کچھ حیلہ کرے گا، مطلب یہ کہ اب تم نہ کوئی حیلہ کرسکتے ہو نہ مدد، ومن یظلم ، کون ہے جو شرک جیسا ظلم کرتا ہے ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
17۔ 19:۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے ‘ سب کچھ اس کو معلوم ہے لیکن میدان محشر کی تمام مخلوقات کے روبرو مشرک لوگوں کو شرمندہ کرنے کے لیے ملائکہ ‘ حضرت عزیر ( علیہ السلام) ‘ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور بتوں سے غرض سوائے خدا کے جس کسی کو مشرک لوگوں نے دنیا میں اپنا معبود ٹھہرا رکھا ہے ‘ ان سب سے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ کیا تم نے ان مشرک لوگوں کو شرک کا طریقہ سکھایا تھا ‘ وہ سب اس سے انکار کریں گے اور اپنی بیزاری جتلا دیں گے ‘ یہ قیامت کا حال مشرکوں کو دنیا میں اس لیے جتلایا ہے کہ مشرک اپنی غلطی کو سمجھ جاویں اور جان لیویں کہ خدا کے سوا جس کو انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
(آیت نمبر (17
قیامت کے روز مشرکین اور ان کے خود ساختہ معبودوں کے احوال کے بارے میں اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ ان کے خود ساختہ معبود ان سے براءت کا اظہار کریں گے اور ان کی تمام کوششیں رائگاں جائیں گی۔ فرمایا : (ویوم یحشرھم) ” اور اس دن اکٹھا کرے گا ان کو۔ “ یعنی ان تکزیب کرنے والے مشرکین کو اکٹھا کرے گا (وما یعبدون من دون اللہ فیقول ) ” اور ان کو بھی جن کی وہ عبادت کرتے تھے اللہ کے سوا ‘ اور کہے گا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ ان مشرکین کو جھڑکنے کی خاطر ان کے جھوٹے معبودوں سے مخاطب ہو کر کہے گا : (ء انتم اضللتم عبادی ھو لاء ام ھم ضلوا السبیل ) ” کیا تم نے میرے بندوں کو گمراہ کیا تھا یا وہ تھا یا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–48
پانی کے مسائل
قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…
Read the full tafseer →22 مشرکوں کی تذلیل و توبیخ مزید کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مشرکوں کی تذلیل و توبیخ کے لیے ان سے مزید کہا جائے گا کہ لو تمہارے ان معبودوں نے تم کو اے مشرکو جھٹلا دیا "۔ یعنی یہ بات ہوگی تو قیامت میں لیکن یہ ایسی یقینی ہے کہ گویا کہ ہوچکی ہے۔ اسی لئے اس کو ماضی کے صیغے سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ بات ان کو اس وقت کہی جائے گی کہ لو جن کا تمہیں تکیہ و آسرا تھا انہوں نے تمہیں اور تمہاری ان تمام خوش فہمیوں کو جھٹلا دیا جو تم نے ان سے وابستہ کر رکھی تھیں۔ سو اب لوگ چکھو مزہ اپنے کئے کا ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف قیامت میں وقوع پذیر ہونے والی اس حقیقت کو اس کے تحقق وقوع کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
پرہیز گاروں کو خوشخبری اور بدوں کو عذاب
تشریح : آنکھیں بند کر کے ذرا تصور کریں کہ جنت کے باغات کیسے ہوں گے ؟ جو کہ ایسی ہستی کی طرف سے وعدہ ہے جس کی عظمت ‘ حقانیت اور جود و سخا کسی سے چھپا ہوا نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اپنی دعائوں میں باقی تمام دعائوں کے ساتھ جنت الفردوس کا مانگنا نہ بھولیں۔ کیونکہ اس سے مانگنا اس کو پسند ہے اور دعا کو تو عبادت کا بہترین حصہ کہا گیا ہے تو ایمان کی سلامتی اللہ سے عجزونیاز اور مغفرت مانگتے رہنا اللہ کو بےحد پسند ہے۔ پھر دوبارہ منکرین کو عذاب کی خبر دی جا رہی ہے۔ اور نصیحت کی جا رہی ہے کہ جو بھی کرو اپنی عقل کو کام میں لا کر کرو کیونکہ جھوٹا شخص نجات دلانے میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
ان کی سمجھ اتنی بات نہیں آتی کہ جس خالق کائنات نے ساری کائنات بنائی ہے وہ چاہتا تو ان کے اندازے سے زیادہ خوبصورت باغات جو ہمیشہ شاداب رہتے ، اور ان کی امیدوں سے بڑے دولت کے انبار آپ ﷺ کو عطا فرما دیتا ، ان کی امیدوں سے زیادہ عالی شان محلات آپ ﷺ کے لیے بنا دیتا ، یہ اس کی حکمت کہ اس نے عام آدمی کی خوش نصیبی سے آپ ﷺ کا مزاج عالی ہی ایسا بنایا کہ آپ ﷺ عام زندگی پسند فرماتے اور اپنی رحمت سے آپ ﷺ کو دنیا میں عام لوگوں ہی کی زندگی دی کہ آپ ﷺ ساری انسانیت کے لیے اللہ جل جلالہ کی رحمت ہیں تو ہر عام آدمی کی رسائی آپ ﷺ کی بارگاہ تک رہے ورنہ آپ ﷺ اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →7 ۔ یعنی پھر اللہ تعالیٰ کافروں سے کہے گا ” یہ تو……8 ۔ یعنی تمہاری اس بات کو جھٹلا چکے کہ یہ عبادت کئے جانے کے قابل ہستیاں ہیں۔
Read the full tafseer →(25:19) کذبوکم۔ کذبوا ماضی جمع مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر ضمیر فاعل۔ معبودین کے لئے اور ضمیر مفعول عابدین کے لئے ہے۔ یعنی (سواے کافرو) تمہارے معبودوں نے ہی تم کو جھٹلا دیا۔ بما تقولون ان باتوں میں جو تم کہہ رہے ہو۔
فما تستطیعون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ سو اے کافرو ! نہ تم میں طاقت ہے (اس عذاب کو ٹال دینے کی یا پھیر دینے کی اور نہ ہی تم کو مدد پہنچ سکتی ہے) ۔ صرفا۔ پھیرنا۔ ٹالنا۔ صرف یصرف (ضرب) کا مصدر ہے۔ اسی طرح نصرا۔ نصر ینصر کا مصدر بمعنی مدد ہے۔ یعنی پھر نہ اس عذاب کا ٹال دینا تمہاری استطاعت میں ہے اور نہ ہی کوئی مدد (بالواسطہ یا بلاواسطہ ) تمہارے بس میں ہے۔
من یظلم۔ جو ظلم کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 20 :
(اضللتم) تم نے گمراہ کیا تھا ‘(ضلو السبیل) راستے سے بھٹک گئے ‘(ماینبغی) مناسب نہیں ہے ‘(متعت) تمہیں خوش حالی دی گئی ‘(نسوا) وہ بھول گئے ‘(بور) تباہ برباد ہونے والے ‘ (نذق) ہم چکھائیں گے ‘(فتنۃ) آزمائش ۔ جانچ۔
تشریح : آیت نمبر 17 تا 20 :
ان آیات میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں ایک تو میدان حشر میں وہ سوال کہ یہ لوگ جو بےحقیقت چیزوں کو اپنا معبود بنائے ہوئے تھے اس پر ان کو کس نے مجبور کیا تھا ؟ دوسرا یہ مسئلہ کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) جو انسان ہوتے ہیں مگر انسانیت ناز کرتی ہے کیا وہ انسانی ضروریات سے بےنیا تھے ؟
جب اللہ تعالیٰ پوری کائنات کی بساط الٹ دیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
قیامت میں بت پرستوں کی کیفیت۔
(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان منکر قیامت بت پرستوں اور ان جھوٹے معبودوں سب کو جمع کرے گا اور ان جھوٹے معبودوں سے پوچھے گا کہ کیا تم نے اپنی مورتوں کی پوجا کے لیے ان بت پرستوں سے کہا تھا یا یہ بت پرست خود ہی بت پرستی میں لگ گئے ان سب مورتوں کی اصل صورتیں ان مشرکوں کے شرک سے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرکے یہ کہیں گے کہ یا اللہ تجھ کو خوب معلوم ہے کہ ہم تو خالص دل سے تجھ کو سچا معبود جانتے ہیں پھر ہم سے یہ کیونکرہوسکتا ہے کہ ہم ان مشرکوں سے اپنی مورتوں کی پوجا کو کہتے پھر کہویں گے ، یا اللہ تیرے علم میں یہ لوگ قابل ہلاکت ٹھہر چکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
[8] آیت کے مضمون سے ظاہر ہے کہ یہاں معبودوں سے مراد بت نہیں بلکہ فرشتے، گزرے ہوئے انبیاء، اولیا، اور صالحین ہیں۔ جنہیں لوگوں نے اپنا معبود بنا لیا تھا۔
Read the full tafseer →(ف 1) میدان حشر میں یہ ایک عجیب کیفیت ہوگی ، کہ مشرکت جن کی یہاں عبادت کرتے ہیں ، اور اپنا معبود وقرار دیتے ہیں ، وہ معبود ان سے کامل بیزاری کا اعلان کریں گے اور کہیں گے ، کہ ان کی گمراہی اور ضلالت کا ہم موجب نہیں ، بلکہ یہ آسودگی اور فارغ البالی کی وجہ سے خدا کو بھول گئے تھے اور گمراہ ہوگئے تھے ۔
Read the full tafseer →(19) اب تو تمہارے ان معبودوں نے ہی تمہاری تکذیب کردی اور تمہاری باتوں کو جھوٹا بتادیا اور تم جو کچھ کہتے تھے اس کو جھوٹا کردیا لہٰذا اب تم نہ تو اپنے پر سے عذاب کو ٹال سکتے ہو اور نہ تم کسی طرف سے مدد ہی دئیے جاسکتے ہو اور جو تم میں سے گناہ گار ہے ہم اس کو بڑے سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
یعنی جو توقعات معبودان باطلہ سے قائم کر رکھی تھیں وہ سب غلط ہوئیں معبود ان باطلہ نے تمہاری پرستش کی خود تمہارے سامنے تردید کردی اب نہ تو تم میں خود دم ہے کہ عذاب الٰہی کو ٹلا دو اور نہ تمہارے معبودوں میں اتنی جان ہے کہ تمہاری مدد کرسکیں کیونکہ وہ خود محتاج ہیں نیز یہ کہ وہ تمہارے شرک کی وجہ سے خود تم سے بیزار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ف 7۔ مطلب یہ کہ نبوت و اکل طعام وغیرہ میں تنافی نہیں۔
Read the full tafseer →کفار سے کہا جا رہا ہے کہ لو سن لو تمہارے معبودوں نے تم کو جھٹلا دیا ۔
19۔ اب کفار مکہ اور مشرکین سے کہا جارہا ہے کہ اے گروہ کفار اور مشرکین لو اب اپنے کانوں سن لو کہ ان لوگوں نے تو تمہاری اس بات کو جھٹلا دیا جو تم کہتے تھے اس لئے کہ تم تو کہتے تھے کہ انہوں نے تم کو اپنی عبادت کا حکم دیا ہے اور تم جو کچھ کرتے اور کہتے ہو انہیں کی تعلیم اور انہیں کا یاد دلایا ہوا سبق ہے لیکن انہوں نے اس کا صاف صاف انکار کردیا اور کہہ دیا کہ ہم نے تو ان کو اپنی عبادت کا کبھی حکم نہیں دیا حکم دینا تو درکنار ہم نے انکو اس طرح کا کوئی اشارہ تک نہیں دیا اور اب تمہاری پوزیشن کیا ہوئی ؟ تم نہ تو عذاب کو ٹال سکتے ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
The Second Objection was that if the Holy Prophet ﷺ was a prophet, he should not have been eating and drinking like common people; instead he should have been free from eating and drinking like angels. And if this was not so, he should have at least enough wealth and gardens to take care of his day to day needs, so that he may not need to care for his living. Furthermore, how could he be accepted as a prophet when he is neither an angel nor does an angel accompany him to endorse what he preaches, therefore it appears that he has been charmed by someone which has turned his head and that is…
Read the full tafseer →27 That is, "On that Day your religion, which you now believe, to be true. will prove to be false and even your gods, whom you yourselves have set up,' will declare it to be a lie; for none of them ever asked you to make them your deities and worship them as such. Consequently, instead of interceding on your behalf; they will bear witness against you."
28 "... who will be guilty of iniquity ...": " .... who will be unjust to the Reality and the Truth and guilty of disbelief and shirk "The context shows that those who reject the Prophet and set up other deities instead of Allah and deny life…
Read the full tafseer →