Al-Furqaan 25:20

Al-Furqaan · from ayah 20

25:20

وَمَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَیَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ ؕ— وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً ؕ— اَتَصْبِرُوْنَ ۚ— وَكَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا ۟۠وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمۡ لَيَاۡكُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَيَمۡشُوۡنَ فِى الۡاَسۡوَاقِ‌ ؕ وَجَعَلۡنَا بَعۡضَكُمۡ لِبَعۡضٍ فِتۡنَةً  ؕ اَتَصۡبِرُوۡنَ‌ۚ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيۡرًا

اور ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے ہیں سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ اور ہم نے تمہیں ایک دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے۔ کیا تم صبر کرو گے۔ اور تمہارا پروردگار تو دیکھنے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We did not send before you, [O Muhammad], any of the messengers except that they ate food and walked in the markets. And We have made some of you [people] as trial for others - will you have patience? And ever is your Lord, Seeing.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 2 of surah · Ruku 17 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:20

اے محمدؐ، تم سے پہلے جو رسول بھی ہم نے بھیجے ہیں وہ سب بھی کھانا کھانے والے اور بازاروں میں چلنے پھرنے والے لوگ ہی تھے دراصل ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنا دیا ہے کیا تم صبر کرتے ہو؟ تمہارا رب سب کچھ دیکھتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے ہیں سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ اور ہم نے تمہیں ایک دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے۔ کیا تم صبر کرو گے۔ اور تمہارا پروردگار تو دیکھنے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب کے سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تم میں سے ہر ایک کو دوسرے کی آزمائش کا ذریعہ بنا دیا۔ کیا تم صبر کرو گے؟ تیرا رب سب کچھ دیکھنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے، وہ سب ایسے تھے کہ کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے، اور ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کی آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے۔ بتاؤ کیا صبر کرو گے ؟ اور تمہارا پروردگار ہر بات دیکھ رہا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب ایسے ہی تھے کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے اور ہم نے تم میں ایک کو دوسرے کی جانچ کیا ہے اور اے لوگو! کیا تم صبر کرو گے اور اے محبوب! تمہارا رب دیکھتا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے آپ سے پہلے رسول نہیں بھیجے مگر (یہ کہ) وہ کھانا (بھی) یقیناً کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی (حسبِ ضرورت) چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تم کو ایک دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے، کیا تم (آزمائش پر) صبر کرو گے؟ اور آپ کا رب خوب دیکھنے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجے مگر بلا شبہ وہ یقینا کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تمہارے بعض کو بعض کے لیے ایک آزمائش بنایا ہے۔ کیا تم صبر کرو گے ؟ اور تیرا رب ہمیشہ سے سب کچھ دیکھنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (اے نبی) ! ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے وہ سب کھانا کھاتے اور بازروں میں چلتے پھرتے تھے۔ اور ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لئے آزمائش کا ذریعہ بنادیا ہے۔ تو کیا (اے مسلمانو) ! تم کفار کے (طعن وتشنیع پر) صبر کرو گے ؟ اور آپ کا پروردگار سب کچھ دیکھ رہا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے تم سے پہلے رسولوں میں سے جن کو بھی بھیجا وہ کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے بھی تھے اور ہم نے تم کو ایک دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے تو بولو، صبر کرتے ہوچ اور تمہارا رب سب دیکھ رہا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے جو بھی پیغمبر آپ سے پہلے بھیجے ان سب کی شان یہی تھی کہ وہ کھاتے پیتے بھی تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے بھی، اور ہم نے تم سب کو اے لوگوں آپس میں ایک دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے کیا تم لوگ صبر کرتے ہو ؟ اور تمہارا رب سب کچھ دیکھنے والا ہے۔

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے ہیں سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ اور ہم نے تم میں ایک دوسرے کیلئے آزمائش بنایا ہے۔ تو اب بھی صبر کروگے ؟ اور آپ کا پروردگار بڑا دیکھنے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور آپ ﷺ سے پہلے ہم نے جتنے بھی رسول بھیجے وہ سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے بھی تھے اور ہم نے تمہارے بعض کو بعض کے لیے آزمائش بنایا ہے (اے مسلمانو !) کیا تم صبر کرتے ہو ؟ اور آپ ﷺ کا رب سب کچھ دیکھنے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے ہیں سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تمہیں ایک دوسرے کے لیے آزمائش بنایا۔ کیا تم صبر کرو گے اور تمہارا رب تو دیکھنے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

O Muhammad,, all the Messengers whom We sent before you also ate food and moved about in the streets. In fact, We have made you all a means of test for one another. Will you show patience? for your Lord sees everything.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We did not send any messengers before you (O prophet,) but all of them used to eat food and walk in the markets. And We have made some of you a test for some others. Would you observe patience? And your Lord is Ever-seeing.

— Muhammad Taqi Usmani

We did not send any messengers before you (O prophet,) but all of them used to eat food and walk in the markets. And We have made some of you a test for some others. Would you observe patience? And your Lord is Ever-seeing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We never sent before you any of the Messengers but verily, they ate food and walked in the markets. And We have made some of you as a trial for others; will you have patience And your Lord is Ever All-Seer.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We never sent before thee any messengers but lo! they verily ate food and walked in the markets. And We have appointed some of you a test for others: Will ye be steadfast? And thy Lord is ever Seer.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We did not send before you, [O Muhammad], any of the messengers except that they ate food and walked in the markets. And We have made some of you [people] as trial for others - will you have patience? And ever is your Lord, Seeing.

— Saheeh International

All the Messengerss whom We sent before, certainly, ate food and walked through the streets. We have made some of you (people) a trial for the others. Would you then exercise patience? Your Lord is All-aware.

— Muhammad Sarwar

And We have not sent before you any apostles but they most surely ate food and went about in the markets; and We have made some of you a trial for others; will you bear patiently? And your Lord is ever Seeing.

— Muhammad Habib Shakir

And We have not sent before thee ony of the sent ones but verily they ate food and walked about in the market places. And We have made some of you unto some others a temptation; will ye have patience! And thy Lord is ever a Beholder. pART XIX

— Abdul Majid Daryabadi

And the messengers whom We sent before thee were all (men) who ate food and walked through the streets: We have made some of you as a trial for others: will ye have patience? for Allah is One Who sees (all things).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:20

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–24

کافر جو اس بات پر اعتراض کرتے تھے کہ نبی کو کھانے پینے اور تجارت بیوپار سے کیا مطلب ؟ اس کا جواب ہو رہا ہے کہ اگلے سب پیغمبر بھی انسانی ضرورتیں بھی رکھتے تھے کھانا پینا ان کے ساتھ بھی لگا ہوا تھا۔ بیوپار، تجارت اور کسب معاش وہ بھی کیا کرتے تھے یہ چیزیں نبوت کے خلاف نہیں۔ ہاں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنی عنایت خاص سے انہیں وہ پاکیزہ اوصاف نیک خصائل عمدہ اقوال مختار افعال ظاہر دلیلیں اعلیٰ معجزے دیتا ہے کہ ہر عقل سلیم والا ہر دانا بینا مجبور ہوجاتا ہے کہ ان کی نبوت کو تسلیم کرلے اور ان کی سچائی کو مان لے۔ اسی آیت جیسی اور آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 29 یہ جواب ہے کفار مکہ کی اس بات کا جو وہ کہتے تھے کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ اس موقع پر یہ بات ذہن میں رہے کہ کفار مکہ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ (علیہم السلام) اور بہت سے دوسرے انبیاء سے نہ صرف واقف تھے، بلکہ ان کی رسالت بھی تسلیم کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا گیا کہ آخر محمد ﷺ کے بارے میں یہ نرالا اعتراض کیوں اٹھا رہے ہو ؟ پہلے کونسا نبی ایسا آیا ہے جو کھانا نہ کھاتا ہو اور بازاروں میں نہ چلتا پھرتا ہو ؟ اور تو اور، خود عیسیٰ بن مریم ؑ ، جن کو عیسائیوں نے خدا کا بیٹا بنا رکھا ہے (اور جن کا مجسمہ کفار مکہ نے بھی کعبہ میں رکھ چھوڑا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل سابقہ آیات میں کفار و مشرکین کی طرف سے آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت پر جو شبہات پیش کئے گئے تھے اور وہاں ان کا اجمالی جواب دیا گیا تھا ان آیات میں اس کی کچھ تفصیل مذکور ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ تم نے اپنی جہالت اور حقیقت شناسی سے دوری کی وجہ سے ایک بات یہ کی ہے کہ اگر یہ اللہ کے رسول ہوتے تو ان کے پاس بہت دولت کے خزانے ہوتے بہت بڑی جائیداد اور باغات ہوتے تاکہ یہ کسب معاش سے مستغنی رہتے اس کا جواب یہ دیا گیا کہ ایسا کردینا ہمارے لئے کچھ مشکل نہیں کہ اپنے رسول کو دولت کے خزانے دیدیں، بلکہ بڑی سے بڑی حکومت و سلطنت کا مالک بنادیں۔ جیسا کہ اس سے پہلے حضرت داؤد اور سلیمان (علیہما السلام)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

تمام رسول بشر تھے اس آیت میں اگرچہ خطاب بظاہر نبی ﷺ سے ہے لیکن آیت کے الفاظ خود شاید ہیں کہ کلام رخ عام لوگوں کی طرف ہے چناچہ اس میں ضمیریں اور فعل واحد بھی استعمال ہوئے ہیں اور جمع بھی۔ یہ معترضین کے اس اعتراض کا جواب ہے جو اوپر آیت 7 میں نقل ہوا ہے فرمایا کہ اگر تم بشر ہو، کھانا بھی کھاتے اور بازاروں میں لین دین کے لئے بھی تمہیں جانا پڑتا ہے تو ان میں سے کوئی بات بھی منصب رسالت کے منافی نہیں ہے۔ تم سے پہلے جتنے رسول بھی ہم نے بھیجے وہ سب بلا استثناء کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں عام آدمیوں کی طرح چلتے پھرتے بھی تھے۔ قرآن کا یہ جواب بالکل واضح ہے اس لئے کہ یہ معترضین حضرت ابراہیم و…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

20-1یعنی وہ انسان تھے اور غذا کے محتاج۔ 20-2یعنی رزق حلال کی فراہمی کے لئے کسب و تجارت بھی کرتے تھے۔ مطلب اس سے یہ ہے کہ یہ چیزیں منصب نبوت کے منافی نہیں، جس طرح کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ 20-3یعنی ہم نے انبیاء کو اور ان کے ذریعے سے ان پر ایمان لانے والوں کی بھی آزمائش کی، تاکہ کھرے کھوٹے کی تمیز ہوجائے، جنہوں نے آزمائش میں صبر کا دامن پکڑے رکھ، وہ کامیاب اور دوسرے ناکام رہے؛ اسی لئے آگے فرمایا، کیا تم صبر کرو گے ؟ ،

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–20

5: کفار کے اعتراضات کا جواب دینے کے بعد درمیان میں اب اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے خطاب فرما رہے ہیں کہ تمہارے مخالفین تم پر طرح طرح کے اعتراضات کر کے تمہیں جو تکلیفیں دے رہے ہیں، وہ اس لیے کہ ہم نے تمہیں ان کی آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے کہ یہ حق واضح ہوجانے کے باوجود اسے مانتے ہیں یا نہیں، اور انہیں تمہاری آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے کہ تم ان کی پہنچائی ہوئی تکلیفوں پر صبر کرتے ہو یا نہیں کیونکہ تمہارے صبر ہی سے یہ ظاہر ہوگا کہ تم نے حق کو سچے دل سے قبول کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب جبکہ انہوں نے اور رسول اللہ ﷺ نے دیکھ لیا کہ ان لوگوں نے افترائ ‘ تکذیب اور استہزاء کی انتہا کردی ہے اور یہاں تک انہوں نے رسول اللہ کی بشریت ‘ اس کی بازاروں میں چلت پھرت اور کھانے پینے پر بھی اعتراض کردیا ہے ‘ تو حضور اکرم کی طرف روئے سخن پھرجاتا ہے اور آپ کو تسلی دی جاتی ہے اور آپ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ صرف آپ ہی کو رسول ایسا نہیں بنایا گیا کہ ان لوگوں کو تعجب ہو رہا ہے بلکہ تمام رسول ایسے ہی تھے جس طرح آپ ہیں اور ان کے حالات بھی ایسے تھے جس طرح آپ کے ہیں۔ وما ارسلنا۔۔۔۔۔۔ ربک بصیرا اگر یہ لوگ اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ آپ کی ذات پر معترض نہیں ہیں۔ یہ تو ان کی ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یہ جواب ہوا۔ (مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ ) 25 ۔ الفرقان :7) کا۔ یعنی آپ سے پہلے جتنے پیغمبر دنیا میں آئے سب آدمی تھی۔ آدمیوں کی طرح کھاتے پیتے اور معاشی ضروریات کے لیے بازار بھی جاتے تھے۔ ان کو فرشتہ بنا کر نہیں بھیجا جو کھانے پینے اور حوائج بشریہ سے مستغنی ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے لیے بازاروں میں پھرنا شان تقدس اور بزرگی کے منافی نہیں۔ بلکہ اگر بازار نہ جانے کا منشاء کبرو خودبینی ہو تو یہ بزرگی کے خلاف ہے۔ 13 یعنی پیغمبر ہیں کافروں کا ایمان جانچنے کو۔ اور کافر ہیں پیغمبروں کا صبر جانچنے کو۔ اب دیکھیں کافروں کے سفیہانہ طعن وتشنیع اور لغو اعتراضات سن کر تم کس حد تک…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اَتَصْبِرُوْنَج وَکَانَ رَبُّکَ بَصِیْرًا ” اس مصلحت کو سمجھ لینے کے بعد اب تمہارے لیے صبر و استقامت کی روش ناگزیر ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

25 12 ga t یہ کافروں کے اس اعتراض کا جواب ہے۔ جس کا ذکر اسی سورة کی آیات میں ہوا ہے۔ کفار مکہ کا یہ اعتراض محض کٹ جحتی کے طور پر تھا۔ ورنہ وہ خوب جانتے تھے کہ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ سب کے سب انسان ہی تھے۔ حوائج بشریہ ان کے ساتھ لگی ہوئی تھیں۔ اور وہ اپنی زندگی کی بقاء کے لئے کھاتے پیتے بھی تھے۔ اور کسب معاش یا خریدو فروخت کی خاطر وہ بازاروں میں چلتے پھرتے رھے۔ ان سب باتوں کے باوجود لوگ انھیں رسول تسلیم کرتے تھے۔ کھاناکھانا یا بازاروں میں چلنا پھرنا بزرگی یا نبوت کے منافی تھیں، ہے پھر آخر اس رسول پر ان کا یہ اعتراض کس لحاظ سے درست ہے۔ 26 یعنی اللہ تعالیٰ اپنا رسول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

20۔ مشرکین کا اعتراض رسول اللہ ﷺ کی صفات بشری پر، اوپر نقل ہوچکا ہے۔ یہاں اسی کا جواب ہے کہ بشریت اور رسالت میں ذرا بھی منافات نہیں، سلسلہ نبوت کے جتنے حامل گزرے ہیں۔ یہ صفات بشری تو سب ہی کے ساتھ لگے ہوئے رہے ہیں۔ 21۔ (اے انسانو ! چناچہ انبیاء کو بھی ایسے حالات میں رکھا جس نے امت کی پوری آزمائش ہوجائے گی۔ کہ کون ان کے صفات بشری پر نظر کرکے تکذیب کرتا ہے، اور کون ان کے کمالات نبوت پر نظر کرکے تصدیق) 22۔ (چنانچہ ان کے حالات بھی خوب دیکھ رہا ہے، اور وقت موعود پر انہیں سزا دے کر رہے گا) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–20

آیت نمبر 10 تا 20 ترجمہ : اللہ کی ذات تو بڑی عالی شان ہے یعنی خیر کثیر والی ہے اگر وہ چاہے تو ان کے بیان کردہ باغ اور خزانہ سے بہتر باغات عطا کر دے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں یعنی دنیا میں (عطا کردے) اس لئے کہ آخرت میں ایسے باغات آپ ﷺ کو عطا کرنا تو اس کی مشیت میں ہے ہی، اور آپ کو بہت سے محل (بھی) دیدے یَجْعَلْ لام کے جزم کے ساتھ اور ایک قرأۃ میں (یَجْعَلُ ) رفع کے ساتھ ہے، جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے بلکہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھ رہے ہیں اور قیامت کو جھوٹ سمجھنے والوں کیلئے ہم نے دہکتی ہوئی شدید آگ تیار کر رکھی ہے جن ان کو وہ آگ دور سے دیکھے گی تو وہ لوگ اس کا جوش خروش سنیں گے یعنی غضبناک کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما ارسلنا قبلک من المرسلین الا انہم لیاکلون الطعام ویمشون فی الاسواق اور ہم نے آپ سے پہلے پیغمبر نہیں بھیجے مگر ایسے ہی پیغمبر بھیجے جو یقیناً کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے بھی تھے۔ (یعنی آپ سے پہلے ہم نے جتنے پیغمبر بھیجے وہ کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے) اس میں رسول اللہ ﷺ کے رنج کو دور کرنا اور تسلی دینا مقصود ہے۔ وجعلنا بعضکم لبعض فتنۃ اور ہم نے تم میں سے بعض کو بعض کے لئے مصیبت بنا دیا ہے۔ مالدار کو نادار کے لئے مصیبت بنا دیا ‘ فقیر کہتا ہے میں اس مال دار کی طرح کیوں نہیں ہوا تندرست بیمار کے لئے مصیبت ہے ‘ اور شریف ذیل کے لئے حضرت ابن عباس ؓ نے (فتنہ کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(20) اب اللہ تعالیٰ کفار کی اس بات کا جواب دیتا ہے کہ اس رسول کو کیا ہوا کھاتا پیتا ہے الخ چناچہ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ ہم نے آپ سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے اور ہم نے ایک کو دوسرے کے لے آزمائش بنایا ہے یعنی عربی کو غیر عربی اور غنی کو فقیر اور شریف کو رذیل کے ذریعے آزماتے ہیں جب یہ بات معلوم ہوگئی تو ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے کہا کیا تم رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کے ساتھ صبر کرو گے تاکہ تم دین الہی اور حکم خداوندی کی اطاعت میں اس جماعت میں شامل ہوجاؤ اور ان لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے لگو باقی آپ کا پروردگار خوب دیکھ رہا ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ۔۔ : یہ اس اعتراض کا جواب ہے کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ؟ فرمایا، پہلے تمام رسول بھی کھاتے پیتے تھے اور روزی کمانے کے لیے اور ضرورت کی چیزیں خریدنے کے لیے بازاروں میں جاتے تھے، بشر تھے فرشتے نہ تھے۔ (دیکھیے یوسف : 109۔ انبیاء : 7، 8) اگر کھانے پینے اور بازاروں میں چلنے پھرنے کے باوجود تم انھیں رسول مانتے ہو، جیسا کہ تم ابراہیم اور اسماعیل ؑ کی اولاد ہونے اور ان کی ملت ہونے پر فخر کرتے ہو، نوح، موسیٰ اور عیسیٰ ؑ کو پیغمبر مانتے ہو، تو اس رسول پر ایمان کیوں نہیں لاتے ؟ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(وما ارسلنا۔۔۔۔۔۔۔ 20 ) مسئلہ نمبر 1 :۔ وما ارسلنک قبلک من المرسلین یہ مشرکوں کے جواب میں نازل ہوئی جب انہوں نے کہا : مال ھذا الرسول یا کل الطعام ومشئی فی الاسواق حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب مشرکوں نے رسول اللہ ﷺ کو فاقہ کی عار دلائی اور کہا : مال ھذا الرسول یا کل الطعام تو نبی کریم ﷺ غمگین ہوئے تو یہ آیت آپ ﷺ کو تسلی دینے کے لیے نازل ہوئی۔ حضرت جبریل امین نے عرض کی : السلام علیک یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ جو تیرا رب ہے وہ تجھے سلام فرماتا ہے اور تجھے فرماتا ہے : وما ارسلنا قبلک من المرسلین الاانھم لیاکلون الطعام ویمشون فی الاسواق یعنی وہ بھی دنیا میں معاش تلاش کیا کرتے تھے۔ مسئلہ نمبر 2 :۔ انا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت وما ارسلناقبلک من المرسلین الا انہم لیاکلون الطعام ویمشون فی الاسواق کے بارے میں روایت کیا کہ محمد ﷺ سے پہلے بھی رسول کہ آیت لیاکلون النطعام ویمشون فی الاسواق وجعلنا بعضکم لبعض فتنۃ کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے تھے اور ہم نے تمہارے بعض کو بعض کے لیے آزمائش بنادیا۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن لمنذر وابن ابی حاتم والبیہقی فی الشعب حسن (رح) سے آتی وجعلنا بعضکم لبعض فتنۃ کے بارے میں روایت کیا کہ فقیر کہتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو مجھے فلاں کی طرح مالدار بنادیتے اور بیمار کہتا ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو مجھے فلاں کی طرح…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَآ اَرْسَلْنَا [ اور ہم نے نہیں بھیجا ] قَبْلَكَ [ آپ ﷺ سے پہلے ] مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ [ رسولوں میں سے (کسی کو)] اِلَّآ [ سوائے اس کے کہ ] اِنَّهُمْ [ بیشک وہ سب ] لَيَاْكُلُوْنَ [ یقینا کھاتے تھے ] الطَّعَامَ [ کھانا ] وَيَمْشُوْنَ [ اور چلتے تھے ] فِي الْاَسْوَاقِ ۭ [ بازاروں میں ] وَجَعَلْنَا [ اور ہم نے بنایا ] بَعْضَكُمْ [ تمہارے کسی کو ] لِبَعْضٍ [ کسی کے لئے ] فِتْنَةً ۭ [ ایک آزمائش ] اَتَصْبِرُوْنَ ۚ [ کیا تم لوگ ثابت قدم رہتے ہو ] وَكَانَ [ اور ہے ] رَبُّكَ [ آپ ﷺ کا رب ] بَصِيْرًا [ دیکھنے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

انبیاء کرام (علیہ السلام) کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے تھے تم میں بعض بعض کے لیے آزمائش ہیں چند آیات پہلے مشرکین کا یہ قول گزرا ہے کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے یہاں ان کی باتوں کا جواب دے دیا کہ کھانا کھانا اور بازاروں میں چلنا پھرنا نبوت و رسالت کے خلاف نہیں ہے آپ سے پہلے جو پیغمبر بھیجے گئے وہ کھانا کھانے والے تھے اور بازاروں میں بھی آتے جاتے اور چلتے پھرتے تھے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے رسول بھیجے اور انہیں ان صفات سے متصف فرمایا جو رسول کی شان کے لائق تھیں اور جن کا صاحب رسالت کے لیے ہونا ضروری تھا ان صفات کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے کسی کو اپنے پاس سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–20

تنبیہ برمنشا انکار رسالت وبیان بعض احوال واھوال روز قیامت بل کذبوا بالساعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وکان ربک بصیرا۔ اب آئندہ آیات میں ان منکرین رسالت اور معترضین نبوت کے انکار کا منشا بیان کرتے ہیں کہ آخر اس کی کیا یہ وجہ ہے کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی تکذیب پر اس درجہ تلے ہوئے ہیں تو بتلاتے ہیں کہ ان شبہات اور اعتراضان کا منشا یہ نہیں کہ آپ ﷺ کی شان درویشی وفقیری ان کے ایمان اور ہدایت سے مانع بنی ہوئی ہے بلکہ اصلی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھتے ہیں جس سے آپ ان کو ڈراتے ہیں پس انکار نبوت اور تکذیب رسالت کا اصل منشاء تکذیب قیامت ہے۔ ان کی نظر صرف اسی عطام دنیا پر مقصود ہے ان کا گمان یہ ہے کہ عزت و کرامت کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

16:۔ ” وما ارسلنا الخ یہ چوتھے شکوے کا جواب ہے۔ یعنی رسل سابقین علیہم السلام، جن کو تم بھی رسول مانتے ہو، لوازم بشریہ ان کے ساتھ بھی لگے ہوئے تھے وہ کھانا بھی کھاتے اور کسب معاش کے لیے بازاروں کے چکر بھی کاٹتے تھے اس لیے اگر تمہاری بات مان لی جائے تو پھر رسل سابقین (علیہم السلام) کی رسالت کی بھی نفی ہوجائیگی حاصل یہ ہے کہ ہماری سنت مستمرہ ہی یہی ہے کہ انسانوں کے پاس انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا جائے اس لیے حضرت محمد ﷺ کا بشر اور انسان ہونا کوئی اور اچنبھے کی بات نہیں کہ اس کی وجہ سے آپ کی رسالت ہی کا انکار کردیا جائے۔ ” وجعلنا بعضکم الخ “ یہ جواب کا تتمہ اور آنحضرت ﷺ کیلئے تسلی ہے یعنی کسی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–20

ربطہ آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے بطور وحی منزل من اللہ ہونے کا ذکر کیا ۔ اس سے پہلے توحید کا بیان ہوا ۔ رسالت کے باب میں ان معترضین کے اعتراضات کا جواب دیا جو کہتے تھے کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترا جو اس کی تصدیق کرے ۔ اس رسول کے پاس خزانے اور باغات کیوں نہیں ، بعض بد بخت آدمی رسول کو سحر زدہ کہنے سے بھی نہ چوکتے ۔ اللہ نے ان تمام اعتراضات کو مسترد کردیا اور فرمایا کہ اگر اللہ چاہے تو اپنے نبی کو معترضین کی فرمائش سے بڑھ کر بھی عطا کر دے ۔ مگر ان لوگوں کا اعتراض محض اس وجہ سے ہے کہ یہ قیامت کے منکر ہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّہُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ۝ 0ۭ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَۃً۝ 0ۭ اَتَصْبِرُوْنَ۝ 0ۚ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيْرًا۝ 20ۧ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 18–20

1 ؎ جب ہم نے تیرے سوا اور کسی کو کارسار نہ بنایا تو ہم اوروں کے کیونکر کارساز بنتے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَـآ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّآاِنَّھُمْ لَیَاْ کُلُوْنَ الطَّعَامَ وَیَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ ط وَجَعَلْنَا بَعْضَکُمْ لِبَعْضٍ فِـتْـنَـۃً ط اَتَصْبِرُوْنَ ج وَکَانَ رَبُّکَ بَصِیْرًا۔ (الفرقان : 20) (اے پیغمبر ! ہم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول بھیجے تھے وہ سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے بھی تھے۔ اور ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش بنایا ہے، کیا تم صبر کرتے ہو، اور تمہارا رب سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ ) قریش کے اعتراضات کی لغویت اوپر آیت 7 میں کفار کا یہ اعتراض نقل کیا گیا ہے کہ یہ کیسا رسول ہے جو ضروریات کی فراہمی کے لیے بازار جاتا ہے، وہاں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : سورة الفرقان کا آغاز رسول اکرم ﷺ کی رسالت اور اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل سے ہوا اب اس کا اختتام بھی توحیدو رسالت پر کیا گیا ہے۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کرنے والے لوگ اس بات کو بنیاد بنایا کرتے تھے کہ ہم رسول کی رسالت کا اس لیے انکار کرتے ہیں کہ یہ ہمارے جیسا کھانے، پینے اور کوچہ وبازار میں چلنے پھرنے والا انسان ہے۔ نبوت عظیم ترین منصب ہے اس منصب پر کوئی مافوق الفطرت ہستی فائز ہونا چاہیے تھی۔ اس اعتراض کی تائید میں کفار کبھی ملائکہ کا نام پیش کرتے اور کبھی اپنے میں سے کسی و ڈیرے اور جاگیر دار کا نام لیتے تھے۔ دونوں باتوں کا قرآن مجید نے کئی مقامات پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

رسالت پر اعتراض کا جواب : 20: وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا اِنَّہُمْ لَیَاْکُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ (اور ہم نے آپ سے پہلے پیغمبر نہیں بھیجے مگر ایسے ہی کہ جو کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے) : ان ؔ اخیر میں لام کی وجہ سے اِنَّ مکسور ہے اور الَّاؔ کے بعد والا جملہ موصوف محذوف کی صفت ہے مطلب یہ ہے وما ارسلنا قبلک احدًا من المرسلین آکلین و ماشین اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کسی کو رسولوں میں سے مگر کہ وہ کھانا کھانے والے پیدل چلنے والے تھے۔ اس کو حذف جار مجرور پر اکتفاء کی وجہ سے کیا ہے ؟ یعنی من المرسلینؔ اس کی مثال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

20۔ وماارسلناقبلک من المرسلین، ، اے محمد ﷺ ، الاانھم لیاکلون الطعام، ضحاک نیابن عباس ؓ عنہماکے حوالے سے نقل کیا ہے کہ جب مشرکوں نے رسول اللہ پر مفلس اور نادار ہونے کا طنز کیا اور کہا، مالھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق، ، تو آپ کو اس پر رنج ہوا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، ویمشون فی الاسواق، بعض نے اس آیت کا یہ مطلب بیا ن کیا کہ ہم نے آپ سے پہلے بھی جتنے انبیاء کرام دنیا پر بھیجے ان کو بھی اسی طرح کہا گیا جیسے آپ کو کہاجارہا ہے۔ حالانکہ وہ بھی زمین پرچلتے بازار میں جاتے اور کھانا کھاتے تھے۔ وجعلنابعضکم لبعض فتنہ، مالدار کو نادار کے لیے مصیبت بنادیا۔ فقیر کہتا ہے کہ میں اس مالدار کی طرح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

20۔ مشرکین کو جو کہتے تھے کہ اگر یہ سچے رسول ہوتے تو نہ کھانا کھاتے ‘ نہ بازاروں میں پھرتے ‘ اس کے جواب میں فرمایا ‘ کھانے کا کھانا اور بازاروں میں پھرنا رسولوں کے منصب کے خلاف نہیں ہے کیونکہ سب رسول بشر ہوئے ہیں اور کھانے کا کھانا بشر کا خاصہ ہے ‘ یہ لوگ ملک شام کے سفر میں اہل کتاب سے سن چکے ہیں کہ پچھلے سب رسول بشر ہوئے ہیں اور یہ بھی ان کو معلوم ہے کہ کھانا کھانا ہر بشر کے لیے ایک لازمی بات ہے ‘ اس پر بھی یہ لوگ شرارت سے نبی آخر الزمان میں ایک انوکھی بات چاہتے ہیں ‘ پھر فرمایا ‘ خوشحالی اور تنگدستی کا فرق اللہ تعالیٰ نے جو لوگوں میں رکھا ہے ‘ وہ فقط اس آزمائش کے لیے کہ کون شخص خوشحالی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–20

(آیت نمبر (17 قیامت کے روز مشرکین اور ان کے خود ساختہ معبودوں کے احوال کے بارے میں اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ ان کے خود ساختہ معبود ان سے براءت کا اظہار کریں گے اور ان کی تمام کوششیں رائگاں جائیں گی۔ فرمایا : (ویوم یحشرھم) ” اور اس دن اکٹھا کرے گا ان کو۔ “ یعنی ان تکزیب کرنے والے مشرکین کو اکٹھا کرے گا (وما یعبدون من دون اللہ فیقول ) ” اور ان کو بھی جن کی وہ عبادت کرتے تھے اللہ کے سوا ‘ اور کہے گا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ ان مشرکین کو جھڑکنے کی خاطر ان کے جھوٹے معبودوں سے مخاطب ہو کر کہے گا : (ء انتم اضللتم عبادی ھو لاء ام ھم ضلوا السبیل ) ” کیا تم نے میرے بندوں کو گمراہ کیا تھا یا وہ تھا یا وہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–48

پانی کے مسائل قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

23 جملہ انبیاء و رسل بشر اور انسان ہی تھے : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ جتنے بھی انبیائے کرام آئے وہ سب بشر اور انسان ہی تھے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور نفی و اثبات کے ساتھ حصر وقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے آپ سے پہلے ۔ اے پیغمبر !۔ جو بھی رسول بھیجے وہ کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے "۔ یعنی وہ سب ہی بشر تھے جو کھانے پینے وغیرہ کے تمام بشری خواص و عوارض رکھتے تھے۔ لہذا ان لوگوں کا آپ ﷺ کی بشریت اور ان بشری لوازم پر اعتراض کرنا باطل و مردود ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ } ۔ یعنی " ان سے کہو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–20

پرہیز گاروں کو خوشخبری اور بدوں کو عذاب تشریح : آنکھیں بند کر کے ذرا تصور کریں کہ جنت کے باغات کیسے ہوں گے ؟ جو کہ ایسی ہستی کی طرف سے وعدہ ہے جس کی عظمت ‘ حقانیت اور جود و سخا کسی سے چھپا ہوا نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اپنی دعائوں میں باقی تمام دعائوں کے ساتھ جنت الفردوس کا مانگنا نہ بھولیں۔ کیونکہ اس سے مانگنا اس کو پسند ہے اور دعا کو تو عبادت کا بہترین حصہ کہا گیا ہے تو ایمان کی سلامتی اللہ سے عجزونیاز اور مغفرت مانگتے رہنا اللہ کو بےحد پسند ہے۔ پھر دوبارہ منکرین کو عذاب کی خبر دی جا رہی ہے۔ اور نصیحت کی جا رہی ہے کہ جو بھی کرو اپنی عقل کو کام میں لا کر کرو کیونکہ جھوٹا شخص نجات دلانے میں بھی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–20

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف ان کی سمجھ اتنی بات نہیں آتی کہ جس خالق کائنات نے ساری کائنات بنائی ہے وہ چاہتا تو ان کے اندازے سے زیادہ خوبصورت باغات جو ہمیشہ شاداب رہتے ، اور ان کی امیدوں سے بڑے دولت کے انبار آپ ﷺ کو عطا فرما دیتا ، ان کی امیدوں سے زیادہ عالی شان محلات آپ ﷺ کے لیے بنا دیتا ، یہ اس کی حکمت کہ اس نے عام آدمی کی خوش نصیبی سے آپ ﷺ کا مزاج عالی ہی ایسا بنایا کہ آپ ﷺ عام زندگی پسند فرماتے اور اپنی رحمت سے آپ ﷺ کو دنیا میں عام لوگوں ہی کی زندگی دی کہ آپ ﷺ ساری انسانیت کے لیے اللہ جل جلالہ کی رحمت ہیں تو ہر عام آدمی کی رسائی آپ ﷺ کی بارگاہ تک رہے ورنہ آپ ﷺ اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

9 ۔ یہ کفار مکہ کی اس بات کا جواب ہے جو وہ کہتے تھے کہ کیسا رسول ﷺ ہے جو بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ 10 ۔ یعنی اگر اللہ چاہے تو ساری دنیا ہی پیغمبروں کا ساتھ دے اور کوئی مخالفت نہ کرے مگر ” پیغمبر ﷺ ہیں کافروں کا ایمان جانچنے کو اور کافر ہیں پیغمبروں کا صبر جانچنے کو۔ (موضح) اب دیکھنایہ ہے کہ تم اس امتحان میں پورے اترتے ہو یا نہیں ؟ صحیح مسلم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : انی مبتلیک و مبتلی بک۔ کہ تیری بھی آزمائش ہوگی اور تیرے ذریعہ لوگوں کی بھی آزمائش کی جائے گی۔ (ابن کثیر) 11 ۔ اس سے کسی صبر کرنے یا نہ کرنے والے کا حال پوشیدہ نہیں ہے۔ لہٰذا جیسا کسی کا عمل ہوگا ویسا ہی اجر اسے پورا پورا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:20) فتنۃ آزمائش۔ اتصبرون۔ جملہ استفہامیہ ہے کیا تم (اس آزمائش میں) صبر کرو گے۔ لیکن یہاں امر کے معنی آیا ہے۔ تم صبر کرو۔ یعنی ہر حالت میں صبر کا دامن مت چھوڑو۔ اس کی مثال فھل انتم منتھون۔ سو اب بھی تم باز آئو گے۔ مراد یہاں امر ہے۔ ای انتھوا۔ باز آجائو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–20

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 20 : (اضللتم) تم نے گمراہ کیا تھا ‘(ضلو السبیل) راستے سے بھٹک گئے ‘(ماینبغی) مناسب نہیں ہے ‘(متعت) تمہیں خوش حالی دی گئی ‘(نسوا) وہ بھول گئے ‘(بور) تباہ برباد ہونے والے ‘ (نذق) ہم چکھائیں گے ‘(فتنۃ) آزمائش ۔ جانچ۔ تشریح : آیت نمبر 17 تا 20 : ان آیات میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں ایک تو میدان حشر میں وہ سوال کہ یہ لوگ جو بےحقیقت چیزوں کو اپنا معبود بنائے ہوئے تھے اس پر ان کو کس نے مجبور کیا تھا ؟ دوسرا یہ مسئلہ کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) جو انسان ہوتے ہیں مگر انسانیت ناز کرتی ہے کیا وہ انسانی ضروریات سے بےنیا تھے ؟ جب اللہ تعالیٰ پوری کائنات کی بساط الٹ دیں گے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) خوشحالی اور تنگدستی کا ذکر : اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ یہ جو کہتے تھے کہ اگر یہ سچے رسول ہوتے تو نہ کھانا کھاتے نہ بازاروں میں پھرتے اس کے جواب میں فرمایا کھانا کھانا، اور بازاروں میں پھرنا رسولوں کے منصب کے خلاف نہیں ہے کیونکہ سب رسول بشر ہوئے ہیں اور کھانا کھانا بشر کے لیے لازمی بات ہے اس پر بھی لوگ شرارت سے نبی آخرالزمان میں ایک انوکھی بات چاہتے ہیں پھر فرمایا خوشحالی اور تنگ دستی کا فرق اللہ تعالیٰ نے لوگوں میں جو رکھا ہے وہ فقط اس آزمائش ک لیے ہے کون شخص خوش حالی کی حالت میں اترانے کی حد تک نہیں پہنچتا، اور کون تنگ دستی میں صبر کرتا ہے اور تمہارا پروردگار اترانے والوں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[9] مشرکین کا اعتراض رسول اللہ ﷺ کی صفات بشری پر آیت 7 میں گزر چکا ہے۔ یہاں اس کا جواب ہے کہ بشریت اور رسالت میں ذرا بھی منافات نہیں۔ [10] جتنے رسول اور اہل ایمان کی آزمائش اس میں ہے کہ وہ کفار کے جوروستم برداشت کرتے ہوئے اپنے ایمان پر قائم رہتے ہیں یا نہیں۔ دوسری طرف کافر کی آزمائش یہ ہے کہ ان کی اپنی ہی قوم سے ایک عام انسان کا رسول بنادیا جانا اور اس کے ابتدائی پیروؤں میں زیادہ تر غریبوں، غلاموں اور نوعمر لوگوں کا شامل ہونا ہے۔ چناچہ کفار قریش استہزاء کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اس رسول کا اتباع کرنے والے وہ لوگ ہیں جو رذیل اور ہمارے غلام ہیں۔ [11] یعنی کافروں کی ایذا دہی اور تمہارا صبروتحمل…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) اس آیت میں منصب نبوت کی تشریح ہے بتایا ہے کہ بشریت رسالت کے منافی نہیں اور اس وقت تک جتنے پیغمبر آئے ہیں ، سب انسان لوازم واوصاف سے متصف تھے ، اور سب بشری تقاضوں سے مجبور تھے ۔ حل لغات : بورا : ہلاک ہونے والا ، واحد اور جمع مذکر اور مؤنث سب کے لئے استعمال ہوتا ہے بوار سے ہے جس کے معنے تباہی کے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(20) اور اے پیغمبر ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھی بھیجے ہیں وہ سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تمہارے میں سے ہر ایک کو دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے دیکھیں تم ثابت رہتے ہو اور کیا تم صبر کا شیوہ اختیار کرو گے اور اے پیغمبر آپ کا پروردگار سب کچھ دیکھ رہا ہے ۔ یعنی رسول آخر بشر ہے اگر وہ اپنی ضروریات کو کھانا کھا کر اور بازار میں کسی ضرورت کے لئے جاتا ہے تو اس میں اعتراض اور شک کی کیا گنجائش ہے ان سے پہلے جس قدر بھی رسول تشریف لائے سب اپنی بھوک کو کھانا کھا کر رفع کرتے اور اپنی خانگی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بازار تشریف لے جاتے تھے۔ فرقان کے پہلے رکوع میں…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کفار کے سوال کا جواب کہ ہم نے جس کو بھی رسول بنایا وہ بشر ہی تھا : 20۔ زیر نظر آیت کے پہلے حصہ میں جواب ہے ان لوگوں کا جنہوں نے اعتراض کیا تھا کہ ” یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے تاکہ سودا سلف خریدے “ ان کا یہ اعتراض اسی سورة کی آیت 7 میں پیچھے گزر چکا ۔ ان کو جواب دیا جا رہا ہے کہ کیا تم نے اعتراض کرتے وقت غور کرلیا تھا کہ کیا تم کسی رسول کا نام لے سکتے ہو جس کو ہم نے رسول بنا کر بھیجا ہو اور وہ کھانا نہ کھاتا ہو ؟ کیونکہ جن رسولوں کو ہم نے اس رسول محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے بھیجا تھا وہ تو سب کے سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی آیا جایا کرتے تھے تاکہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary In the forgoing verses a general answer was given to the doubts raised by the infidels and polytheists in regard to prophethood of the Holy Prophet ﷺ . Here in the above verses a detailed reply is given to the objections. The gist of the reply is that because of your ignorance and mental block you have raised the issue that if he were really a prophet, then he should have possessed a great deal of material wealth and gardens etc. so that he should have been free from making efforts for his sustenance. The simple reply to this objection is that there is no problem for Us to provide…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 20–21

29 This is an answer to the objection of the disbelievers of Makkah that Muhammad (Allah's peace be upon him) could not be a Messenger of Allah because he ate food and moved about in the streets. They have been told that all the Messengers of Allah who came before Muhammad (Allah's peace be upon him)like Noah, Abraham, Ishmael, Moses and many others whom they knew and acknowledged as Prophets and Messengers of Allah also ate food and walked about in the streets. Nay, even Prophet Jesus, son of Mary, himself, whom the Christians had made the son of God (and whose image had also been placed in…

Read the full tafseer →