Explained with ayahs 20–24
کافر جو اس بات پر اعتراض کرتے تھے کہ نبی کو کھانے پینے اور تجارت بیوپار سے کیا مطلب ؟ اس کا جواب ہو رہا ہے کہ اگلے سب پیغمبر بھی انسانی ضرورتیں بھی رکھتے تھے کھانا پینا ان کے ساتھ بھی لگا ہوا تھا۔ بیوپار، تجارت اور کسب معاش وہ بھی کیا کرتے تھے یہ چیزیں نبوت کے خلاف نہیں۔ ہاں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنی عنایت خاص سے انہیں وہ پاکیزہ اوصاف نیک خصائل عمدہ اقوال مختار افعال ظاہر دلیلیں اعلیٰ معجزے دیتا ہے کہ ہر عقل سلیم والا ہر دانا بینا مجبور ہوجاتا ہے کہ ان کی نبوت کو تسلیم کرلے اور ان کی سچائی کو مان لے۔ اسی آیت جیسی اور آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 33
یعنی اگر واقعی خدا کا ارادہ یہ ہے کہ ہم تک اپنا پیغام پہنچائے تو ایک نبی کو واسطہ بنا کر صرف اس کے پاس فرشتہ بھیج دینا کافی نہیں ہے، ہر شخص کے پاس ایک فرشتہ آنا چاہیے جو اسے بتائے کہ تیرا رب تجھے یہ ہدایت دیتا ہے۔ یا فرشتوں کا ایک وفد مجمع عام میں ہم سب کے سامنے آجائے اور خدا کا پیغام پہنچا دے۔ سورة انعام میں بھی ان کے اس اعتراض کو نقل کیا گیا ہے وَاِذَا جَآءَتْھُمْ اٰیَۃٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَآ اَوْتِیَ رُسُلُ اللہِ ؕ اَللہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ۔ جب کوئی آیت ان کے سامنے پیش ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم ہرگز نہ مانیں گے جب تک کہ ہمیں…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور جو لوگ ہمارے سامنے پیش ہونے سے اندیشہ نہیں کرتے (کیونکہ وہ قیامت اور اس کی پیشی اور حساب کے منکر ہیں) وہ (انکار رسالت کے لئے) یوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے (کہ اگر فرشتے آکر ہم سے کہیں کہ یہ رسول ہیں) یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں (اور وہ خود ہم سے کہہ دے کہ یہ رسول ہیں جب ہم تصدیق کریں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ) یہ لوگ اپنے دلوں میں اپنے کو بہت بڑا سمجھ رہے ہیں (کہ اپنے آپ کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ فرشتے آکر ان سے خطاب کریں یا خود حق تعالیٰ سے ہمکلام ہوں) اور (بالخصوص اللہ تعالیٰ کے دنیا میں دیکھنے اور اس سے ہمکلام ہونے کی فرمائش میں تو) یہ لوگ حد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
آیت 22-21
متکبیرن کے استکبار پر ایک ضرب
الذین لایربھون الہ اء نا سے قرآن میں متکبرین کے اس گروہ کو تعبیر کیا گیا ہے جو خدا کے حضور پیشی کے اندیشے سے بالکل نچنت اور بےخوف تھا۔ اس گروہ کا جہل و غرور اور اس کا گھمنڈ دوسرے کفار و معاندین سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھا اس وجہ سے اس کا ذکر الذین کفروا کے لفظ سے نہیں ہوا بلکہ ایسی صفت کے ساتھ ہوا ہے جس سے اس کا غرور پوری طرح بےنقاب ہو سکے۔ اس گروہ کا مطالبہ یہ تھا کہ اگر محمد ﷺ کے پاس خدا کا فرشتہ آتا ہے، جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے، تو آخر ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے یا ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ خود خدا بےحجاب ہو کر سامنے آئے اور ہم اس کو دیکھیں۔ یہ مطالبہ ظاہر…
Read the full tafseer →21-1یعنی کسی انسان کو رسول بنا کر بھیجنے کی بجائے، کسی فرشتے کو بنا کر بھیجا جاتا۔ یا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کے ساتھ فرشتے بھی نازل ہوتے، جنہیں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور وہ اس بشر رسول کی تصدیق کرتے۔
21-2یعنی رب آ کر ہمیں کہتا کہ محمد ﷺ میرا رسول ہے اور اس پر ایمان لانا تمہارے لئے ضروری ہے۔
21-3اسی استکبار اور سرکشی کا نتیجہ ہے کہ وہ اس قسم کے مطالبے کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی منشا کے خلاف ہیں اللہ تعالیٰ تو ایمان بالغیب کے ذریعے سے انسانوں کو آزماتا ہے اگر وہ فرشتوں کو ان کی آنکھوں کے سامنے اتار دے یا آپ خود زمین پر نزول فرما لے تو اس کے بعد ان کی آزمائش کا پہلو ہی ختم ہوجائے اس لیے اللہ…
Read the full tafseer →6: یہ ان کا تکبر ہے جو ان سے ایسی باتیں کہلوا رہا ہے۔ یہ اپنے آپ کو اتنا بڑا سمجھتے ہیں کہ اپنی ہدایت کے لیے کسی پیغمبر کی بات ماننا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ اور مطالبہ یہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود آکر انہیں سمجھائیں، یا کم از کم کوئی فرشتہ بھیجیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
درس نمبر 158 ایک نظر میں
اس سبق کا آغاز بھی اسی انداز سے ہوتا ہے جس سے درس سابق کا ہوا تھا اور مضمون بھی اسی انداز سے چلتا ہے ‘ البتہ یہاں مشرکین کے اعتراضات کا رخ رب تعالیٰ کی طرف ہے۔ یہاں وہ اللہ پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ کو اپنا لائحہ عمل دیتے ہیں۔ گویا اس سبق میں وہ اپنی سرکشی میں ترقی کرتے ہوئے رسول اللہ پر اعتراضات کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور خدا پر اعتراضات کرتے ہیں۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور دل جوئی کا ایک انداز ہے کہ یہ لوگ صرف آپ ہی پر اعتراضات نہیں کرتے بلکہ ان کی گستاخی اللہ کے جناب میں بھی ہے۔ البتہ یہاں جواب دینے کے بجائے نہایت ہی شتابی سے ان کو قیامت کے مناظر میں…
Read the full tafseer →1 یعنی جن کو یہ امید نہیں کہ ایک روز ہمارے روبرو حاضر ہو کر حساب و کتاب دینا ہے وہ سزا کے خوف سے بالکل بےفکر ہو کر معاندانہ اور گستاخانہ کلمات زبان سے بکتے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں کہ محمد ﷺ کی طرح ہم پر فرشتے وحی لے کر کیوں نہ اترے۔ یا خدا تعالیٰ سامنے آکر ہم سے ہمکلام کیوں نہیں ہوگیا۔ کم از کم فرشتے تمہاری تصدیق ہی کے لیے آجاتے یا خود خداوند رب العزت کو ہم دیکھتے کہ سامنے ہو کر تمہارے دعوے کی تائید و تصدیق کر رہا ہے کما فی موضوع آخر۔ (قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ ۂاَللّٰهُ ) 6 ۔ الانعام :124) وفی سورة الاسراء۔ (اَوْ تَاْتِيَ باللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ…
Read the full tafseer →اَوْ نَرٰی رَبَّنَاط ”
اللہ کے حضور حاضری پر ایمان نہ ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کی طبیعتوں میں سر کشی اور لاپرواہی پائی جاتی ہے۔ چناچہ ایمان کی دعوت کو قبول کرنے کے بجائے جواب میں وہ طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ اگر اللہ نے ہمیں کوئی پیغام بھیجنا ہی تھا تو اپنے فرشتوں کے ذریعے بھجواتا یا وہ خود ہمارے سامنے آجاتا اور ہم اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیتے۔ یا یہ کہ اللہ کی طرف سے ہمیں کوئی ایسا معجزہ دکھایا جاتا جس سے ہم پر واضح ہوجاتا کہ محمد ﷺ واقعی اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ ان کے ایسے مطالبات کا ذکر مکیّ سورتوں میں بار بار کیا گیا ہے۔
لَقَدِ اسْتَکْبَرُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ وَعَتَوْ عُتُوًّا…
Read the full tafseer →29 کفار مکہ کے لغو قسم کے مطالبات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ جیسے تم پر فرشتہ نازل ہوتا ہے ایسے ہی ہم میں سے ہر ایک فرشتہ اترنا چاہئے۔ تاکہ ہمیں پورا یقین ہوجائے کہ جو کچھ تمہاری دعوت ہے وہ درست ہے اور اگر یہ نہیں ہوسکتا تو ہم کم از کم اپنے رب کو ہی دیکھ لیں۔ جو ہمیں ایک دفعہ یہ کہہ دے کہ میں فلاں شخص کو رسول بناکر بھیج رہا ہوں اور تمہیں اس پر ایما نلے آنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کے یہ مطالبات اس لئے نہیں ہیں کہ اگر ان کی یہ بات پوری ہوجائے تو یہ ایمان لانے کو بالکل تیار بیٹھے ہیں بلکہ یہ لوگ ایسی بکواس اس لئے کر رہے ہیں کہ انھیں یہ یقین نہیں ہے کہ مرنے کے بعد انھیں ہمارے حصور پیش…
Read the full tafseer →23۔ یعنی یوم حشر کے منکرین، ساتھ ہی شرک اور ادہام پرستی میں مبتلا۔ مشرکین عرب میں یہ دونوں باتیں موجود تھیں۔
24۔ مشرکین عرب دیوتاؤں کے قائل تھے، اور انہیں کو فرشتہ کہتے تھے۔ دعوی رسالت سے انکار کے وقت کہتے تھے کہ یہ ” رسول “ اگر اپنے دعوی میں سچے ہیں تو آسمانی دیوتا مجسم اور متشکل ہو کر ان کے ساتھ کیوں نہیں جو ان کے دعوی کی تصدیق کرتے رہیں، یا خود خدا ہی کو ہمیں کیوں نہیں دکھا دیا جاتا جو ہم براہ راست اسی کی زبان سے ان دعو وں کی تصدیق سن لیں۔
25۔ یعنی کافروں میں خود کفر وعدم ایمان ہی کی بناء پر، صلاحیت نہ رؤیت باری کی رہ گئی ہے اور نہ ملائکہ رحمت سے دوچار ہونے کہ، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–34
آیت نمبر 21 تا 34
ترجمہ : جو لوگ ہمارے سامنے پیش ہونے سے اندیشہ نہیں کرتے یعنی بعث (بعد الموت) کا خوف نہیں رکھتے وہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے ؟ کہ ہماری طرف رسول ہوں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیتے پھر ہمیں وہ یہ بات تباتے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا ان لوگوں نے اپنے دلوں میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ لیا ہے اور دنیا ہی میں اللہ کی رویت کا مطالبہ کرکے بڑی سرکشی کی ہے اور عَتَوْ واؤ کے ساتھ اپنی اصل پر ہے بخلاف عُتِیَ کے ابدال کے ساتھ سورة مریم میں جس روز یہ منجملہ خلائق کے فرشتوں کو دیکھیں گے اور (یومَ ) کا نصب اذکر فعل مقدر کی وجہ سے ہے، اس روز مجرموں یعنی…
Read the full tafseer →وقال الذین لا یرجون لقآء نا اور جو لوگ ہم سے ملنے کی امید ہی نہیں رکھتے (کیونکہ وہ دوبارہ زندگی کے
منکر ہیں) وہ کہتے ہیں۔ چونکہ دوسری زندگی کے وہ قائل نہیں اس لئے اللہ سے مل کر ان کو کسی بھلائی کی امید بھی نہیں اور نہ کسی برائی کا خوف ہے۔ رجاء کا بمعنئ خوف مجازی استعمال ہے یا (یوں کہا جائے کہ) تہامہ والوں کی زبان میں رجاء امید و خوف دونوں معانی میں مستعمل ہے فراء نے یہی کہا ہے ‘ اللہ نے ایک اور آیت میں فرمایا ہے (مَالَکُمْ لا ترجُوْنَ لِلّٰہِ وَقَارًا) تم اللہ کی عظمت سے کیوں نہیں ڈرتے۔ لغت میں کسی چیز تک پہنچنے کو لقاء کہا جاتا ہے (ملاقات کرنے یعنی) کسی کو دیکھنے کو بھی لقا اسی وجہ سے کہا…
Read the full tafseer →(21) ابوجہل اور اس کے ساتھی جو بعث بعد الموت کا فکر نہیں کرتے وہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں بھیجے جاتے جو ہم سے آکر کہیں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں اور اس سے خود آپ کے بارے میں دریافت کرلیں یہ لوگ ایمان سے تکبر کر رہے ہیں اور اپنے دلوں میں خود کو بہت بڑا سمجھ رہے ہیں کہ اللہ کو دیکھنے کی درخواست کرتے ہیں اور ایمان سے بہت زیاد تکبر کر رہے ہیں یا یہ کہ بہت ہی دلیری اور بدتمیزی پہ اتر رہے ہیں کہ فرشتوں کے نزول کی خواہش کیے بیٹھے ہیں۔
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا۔۔ : یہ نبی ﷺ کی نبوت کے منکروں کا چوتھا اعتراض ہے، اللہ تعالیٰ نے ”وَقَالُوْا“ (اور انھوں نے کہا) یا ”وَ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا“ (اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا) کہنے کے بجائے فرمایا : (وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا) (اور ان لوگوں نے کہا جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے) یعنی انھیں اتنی گستاخی کی جرأت اس لیے ہوئی کہ وہ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے۔ یقین تو دور، اگر انھیں قیامت کی اور ہمارے سامنے پیش ہونے کی امید بھی ہوتی تو اتنی بڑی بات ان کے منہ سے نہ نکلتی۔
3 منکرین نے کہا کہ (اس نبی پر فرشتہ وحی لے کر اترتا ہے تو)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
(وقال الذین لا یرجون۔۔۔۔۔۔۔ )
وقال الذین لا یرجون لقاء ناوہ ارادہ کرتا ہے وہ دوبارہ اٹھائے جانے اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے نہیں ڈرتے یعنی وہ اس چیز پر ایمان نہیں رکھتے، شاعر نے کہا :
اذا لسغتہ النحل لم یرج السعھا
جب شہد کی مکھیاں اس کو ڈنگ ماریں تو اس کے ڈنگ کا خوف نہیں کرتا۔
اس قول یہ کیا گیا ہے : لا یرجعون کا معنی ہے وہ پرواہ نہیں کرتے شاعر نے کہا :
لعمرک ما ارجو اذا کنت مسلما علی ای جنب کان فی اللہ مصرعی
تیری زندگی کی قسم ! جب میں مسلمان ہوں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر میری موت کس پہلو پر واقع ہوتی ہے۔
ابن شجرہ نے کہا : وہ امید نہیں رکھتے، شاعر نے کہا :
اترجو…
Read the full tafseer →1۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا آیت ” وقال الذین لایرجون لقاء نا “ کہ یہ کفار قریش کا قول ہے آیت ” لو لا انزل علینا الملائکۃ او نری ربنا “ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیتے لیکن ہم کو خبر دی گئی کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
2۔ ابن ابی حاتم نے عبید بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقال الذین لایرجون لقاء نا سے مراد ہے کہ وہ سوال نہیں کرتے۔
3۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لو لاانزل علینا المئکۃ یعنی ہم فرشتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے
4۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وعتوا عتوا کبیرا یعنی انہوں نے کفر میں سختی کی
5۔…
Read the full tafseer →وَقَالَ [ اور کہا ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں نے جو ] لَا يَرْجُوْنَ [ امید نہیں رکھتے ] لِقَاۗءَنَا [ ہم سے ملاقات کرنے کی ] لَوْلَآ [ کیوں نہیں ] اُنْزِلَ [ اتارے گئے ] عَلَيْنَا [ ہم پر ] الْمَلٰۗىِٕكَةُ [ فرشتے ] اَوْ نَرٰي [ یا (کیوں نہیں) ہم دیکھتے ] رَبَّنَا ۭاپنے رب کو ] لَـقَدِ اسْتَكْبَرُوْا [ یقینا وہ بڑے بنے ہیں ] فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ [ اپنے جی (یعنی زعم) میں ] وَعَتَوْ [ اور انہوں نے سرکشی کی ] عُتُوًّا كَبِيْرًا [ ایک بڑی سرکشی ]
Read the full tafseer →معاندین اور مکذبین کے لیے وعید، اصحاب جنت کے لیے خوشخبری
معاندین و مکذبین کی جاہلانہ باتوں میں سے ایک یہ بات بھی تھی کہ ہم رسالت کا دعویٰ کرنے والے کو اس وقت رسول مانیں گے جب فرشتوں کو اتار کر ہمارے سامنے لے آئے بلکہ اللہ تعالیٰ کو ہمیں دکھا دے اگر ایسا ہوجائے تو ہم ایمان لے آئیں گے یہ لوگ آخرت کے قائل نہیں تھے اس لیے ایسی باتیں کرتے تھے جس کا آخرت پر ایمان ہو وہ تو یہ سوچے گا کہ جو شخص نبوت کا مدعی ہے مجھے اس کی باتوں پر غور کرنا چاہئے جو معجزات پیش کیے ان پر کفایت کر کے ایمان لانا چاہئے جو لوگ آخرت کو مانتے ہی نہیں وہ لوگ ایسی بےتکی معاندانہ باتیں کرتے ہیں اسی لیے (وَقَالَ الَّذِیْنَ لاَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–31
منکرین نبوت کا چوتھا شبہ اور اس کا جواب
قال اللہ تعالیٰ وقال الذین لا یرجعون لقاء نا ...... الیٰ ..... ھادیا ونصیرا۔
(ربط) منکرین نبوت کا چوتھا شبہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں نازلکیے جو ہمارے سامنے آکر آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی شہادت دیتے کہ یہ شخص دعوائے نبوت میں صادق ہے یا ہم بلاوسطہ اللہ کو دیکھتے اور بلاوسطہ خود اللہ تعالیٰ سے آپکی بابت پوچھ لیتے اور اللہ تعالیٰ ہم کو خود بتلا دیتا کہ یہ شخص میرا نبی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جاہلانہ اور احمقانہ اور گستاخانہ اور مغرورانہ سوال کے جواب میں یہ ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ بڑے ہی سرکش اور متبکر ہیں کہ وہ اپنے آپ کو اس مرتبہ…
Read the full tafseer →17:۔ ” وقال الذین الخ “ یہ پانچویں شکوے کا اعادہ ہے برائے بیان زیادت یعنی ” او نری ربنا “ مشرکین جو منکرین بعث بھی ہیں کہتے ہیں ہمارے پاس فرشتے بھیجے جائیں جو پیغمبر (علیہ السلام) کے دعوے کی تصدیق وتائید کریں۔ یا ہم خود اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور وہ خود پیغمبر (علیہ السلام) کی رسالت کی تصدیق کرے اور ہمیں ایمان لانے کا بالمشافہہ حکم صادر فرمائے۔ لولا انزل علینا الملائکۃ فتخبرنا انک رسول حقا او نری ربنا فیخبرنا بذلک (بحر ج 6 ص 491) ۔ ”’ لقد استکبروا فی انفسہم الخ “ یہ زجر ہے یہ ان معاندین کے عناد و استکبار اور ان کی بغاوت سرکشی کی انتہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
ربطِ آیات
اس سورة مبارکہ میں تمام بنیادی عقائد بیان کیے گئے ہیں ، میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے عقلی و نقلی دلائل ہیں ۔ قیامت اور جزائے عمل کا سلسلہ ہے نبوت و رسالت کا بیان اور اس پر اعتراض کرنے والوں کے باطل شکوک کا ازالہ ہے اس کے علاوہ دیگر بہت سی اخلاقی تعلیمات ہیں مگر زیادہ تر نبوت و رسالت کا بیان ہے کافر اور مشرک لوگ نبی آخر الزمان پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ کیسا نبی ہے جو کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ۔ ان کے نزدیک بشریت نبوت و رسالت کے منافی تھی ۔ اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ حضور ﷺ سے پہلے جتنے بھی نبی اور رسول دنیا میں آئے وہ سب کے سب انسان تھے ۔ وہ سارے کھانا…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْمَلٰۗىِٕكَۃُ اَوْ نَرٰي رَبَّنَا 0ۭ لَـقَدِ اسْـتَكْبَرُوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ وَعَتَوْ عُتُوًّا كَبِيْرًا 21
رَّجَاءُ
ظنّ يقتضي حصول ما فيه مسرّة، وقوله تعالی: ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقاراً [ نوح/ 13] ، قيل : ما لکم لا تخافون وأنشد :
إذا لسعته النّحل لم يَرْجُ لسعها ... وحالفها في بيت نوب عوامل
ووجه ذلك أنّ الرَّجَاءَ والخوف يتلازمان، قال تعالی: وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ ما لا يَرْجُونَ [ النساء/ 104] ، وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللَّهِ [ التوبة/ 106] ، وأَرْجَتِ النّاقة : دنا نتاجها، وحقیقته : جعلت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
ترکیب : لولاانزل الخ مقولہ ہے قال الذین کا مستقرا تمیز خیر الحق الملک کی صفت۔ یوم کا نصب اذکر محذوف ہے۔
تفسیر : : منکروں کا یہ ایک اور بھی شبہ تھا جس کو وقال الذین لا یرجون لقاء نا سے شروع کرتا ہے کہ جن کو ہم سے ملنے کی امید نہیں یہ نہیں سمجھتے کہ مر کر اللہ کے سامنے جانا ہے وہ کہتے ہیں (کیونکہ ایسی باتیں وہی کہا کرتے ہیں ایمانداروں کی تو کیا مجال) کہ ہمارے پاس
فرشتے کیوں نہ آئے محمد ﷺ کے پاس کیوں آتے ہیں یا ایسا ہوتا کہ ہم خدا کو دیکھ لیتے پھر اس سے آپ پوچھ لیتے کہ یہ تیرا بھیجا ہوا نبی ہے کہ نہیں ؟ اس کے جواب میں فرماتا ہے لقد استکبروا فی انفسہم الخ کہ انہوں نے اپنے آپ کو اس لایق سمجھ لیا…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ لِقَـآئَ نَالَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِکَۃُ اَوْنَرٰی رَبَّنَاط لَقَدِاسْتَکْبَرُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ وَعَتَوْ عُتُوًّا کَبِیْرًا۔ (الفرقان : 21)
(اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے یا ہم اپنے رب ہی کو دیکھتے، انھوں نے اپنے جی میں اپنے کو بہت بڑا سمجھا اور انھوں نے حد سے بڑھ کر سرکشی کی۔ )
متکبرین کے استکبار پر ایک ضرب
آنحضرت ﷺ اور آپ کی دعوت کے مخالفین ایک تو عام لوگ تھے اور عام لوگ کسی بات کو اختیار کرنے یا اس کی مخالفت کرنے میں بالعموم طبقہ امراء کے پیروکار ہوتے ہیں۔ اہل مکہ کا بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کی ایک اور ہرزہ سرائی۔
سرورِ دو عالم ﷺ کی پر خلوص اور بےمثال جدو جہد کے مقابلہ میں کفار اس حد تک لاجواب اور بوکھلا ہٹ کا شکار ہوئے کہ وہ ہر روزنئے سے نیا مطالبہ کرتے۔ اس حواس باختگی میں انھیں یہ بھی خبر نہ رہی کہ ہم کس قدر متضاد اور بےمقصد اعتراضات اور سوال کرتے ہیں۔ حواس باختگی کے عالم میں انھوں نے یہ بھی سوال کر ڈالا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اس کے پاس فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ہمارے پاس کیوں نہیں آتے۔ ہم اس پر ایمان تب لائیں گے کہ جب ہم پر براہ راست فرشتے نازل ہوں یا پھر اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے رب کو دیکھ لیں۔ اس کے سوا ہم اس نبی پر ایمان لانے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔…
Read the full tafseer →ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے :
21: وَقَالَ الَّذِیْنَ لَایَرْجُوْنَ لِقَآ ئَ ناَ (اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ہم سے ملاقات کی امید نہیں رکھتے) لا یرجون کا معنی امید نہ رکھنا۔ لقاء نا ؔ ہماری ملاقات خیر کے ساتھ کیونکہ وہ کافر ہیں بعث پر ان کا ایمان نہیں ہے۔ نمبر 2۔ وہ ہمارے عذاب سے نہیں ڈرتے خواہ اس وجہ سے کہ جو شخص امیدوار ہو وہ اپنی امید کے متعلق خوف زدہ کی طرح مضطرب ہوتا ہے۔ نمبر 3۔ رجاء اہل تہامہ کی لغت میں خوف کے معنی کیلئے استعمال ہوتا ہے۔
لَوْلا یہ ھَلَّا کے معنی میں ہے۔ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓپکَۃُ (کیوں نہیں اتارے جاتے ہم پر فرشتے) بطور رسول انسانوں کی بجائے نمبر 2۔ نبوت کی صداقت پر…
Read the full tafseer →تفسیر۔
21۔ وقال الذین لایرجون لقاء نا، وہ قیامت کے دن دوبارہ جی اٹھنے سے نہیں ڈرتے ، فراء کا قول ہے کہ یہاں رجاء امید اور خوف دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے ، تہامہ کی لغت میں، مالک مالاترجون للہ وقارا، تم اللہ کی عظمت سے کیوں نہیں ڈرتے، لولاانزل علینا الملائکۃ ، تو وہ تمہیں بتلاتے کہ محمد سچے ہیں۔ لونری ربنا، وہ اپنے رب کو خود دیکھتے اور وہ ان کو خبر دیتا۔ لقداستکبروا ، وہ اس کی تعظیم کرتے ہیں۔ فی انفسھم، اس بات میں ، وعتوعتوا کبیرا۔ مجاہد کا قول ہے کہ عوتوا یعنی انتہائی سرکش ہوگئے۔ عتو کا معنی شدید ترین کفر اور بہت ہی بڑا ظلم ، عتوا کبیرا، سے مراد ہے کہ وہ انتہاء کو پہنچ گئے یہاں تک کہ خدا…
Read the full tafseer →21:۔ اس آیت میں منکرین قیامت کے اترانے کی ایک اور بات کا ذکر فرمایا ‘ جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح اترانے کی راہ سے یہ لوگ للہ کے رسول کو حقارت سے دیکھنے اور بازاروں میں پھرنے والا کہتے ہیں ‘ اسی طرح یہ بھی کہتے ہیں کہ جب تک خود اللہ تعالیٰ یا اس کے فرشتے ہمارے روبرو آکر ان رسول کی صداقت بیان نہ کریں گے تو ہم ان کو سچا رسول نہ جانیں گے ‘ پھر فرمایا یہ لوگ شرارت میں حد سے بڑھ گئے ہیں کیونکہ ان کو سمجھا دیا گیا ہے کہ فرشتوں کو اصلی صورت میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر ہے اس پر بھی ان لوگوں کو فرشتوں کے دیکھنے کی ضد ہے تو فرشتوں کی اصلی صورت میں دیکھنے کے بعد ایسے لوگوں پر جو کچھ گزرے گی ‘ اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
آیت 21 سے 23
وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ و وعید کو جھٹلایا، جن کے دل میں وعید کا خوف ہے نہ خالق سے ملاقات کی امید۔۔۔ انہوں نے کہا : (لو لاانزل علینا الملئکۃ او نری ربنا) یعنی فرشتے کیوں نہ اترے جو تیری رسالت کی گواہی دیتے اور تیری تائید کرتے یا مستقل رسول نازل ہوتے یا ہم اپنے رب کو دیکھتے وہ ہمارے ساتھ کلام کرتا اور خود کہتا کہ یہ میرا رسول ہے اس کی اتباع کرو ؟ رسول ﷺ کے ساتھ یہ معارضہ کسی اعتراض کی بناء پر نہیں بلکہ اس کا سبب صرف تکبر، تغلب اور سرکشی ہے۔ (لقد استکبروا فی انفسھم) ” انہوں نے اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ رکھا ہے۔ “ کیونکہ انہوں نے اس قسم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–48
پانی کے مسائل
قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…
Read the full tafseer →26 عقیدئہ آخرت سے محرومی، محرومیوں کی محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ ہمارے حضور پیشی کی امید نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتار دیئے گئے "۔ یعنی بشر کی بجائے نوری فرشتوں کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہوتا یا یہ کہ اس رسول کے ساتھ فرشتے اتار دئیے جاتے تاکہ وہ نہ ماننے والوں کو ڈراتے، دھمکاتے اور خبردار کرتے رہتے۔ جیسا کہ پہلے اسی سورة کریمہ کی آیت نمبر 7 میں فرمایا گیا ۔ { فَیَکُوْنَ مَعَہ نَذِیْرًا } ۔ اور منکروں کی طرف سے یہ سب ہی باتیں کہی جاتی تھیں جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر بیان ہوا ہے۔ کبھی وہ کہتے کہ کیا ایک بشر ہی کو اللہ نے رسول بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
سر کش اور نیک لوگوں کا انجام
تشریح : یہاں پھر میدان حشر کا نقشہ اور گنہگاروں کے تکبر کا انجام بڑے صاف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ وہ اس قدر غرور اور لاپرواہی میں بدمست ہوچکے تھے کہ مطالبہ کرتے کہ یا تو فرشتے یا خود اللہ ان سے بات کرے تو مانیں گے۔ تو فرشتے تو قیامت کے دن ہی دکھائی دیں گے تب توبہ کر اٹھیں گے اور اعمال بد تو ان کے ویسے ہی برباد ہوچکے ہوں گے تب ان کو اصل حقیقت کا یقین آئے گا۔ مگر اس وقت کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ ان کو اعمال بد کے نتیجہ میں بد ترین ٹھکانا مل چکا ہوگا۔ اور ان کے مقابلے میں نیک ‘ متقی ‘ پرہیزگار اور مقبول الٰہی لوگوں کو بہترین آرام دہ اور پر آسائش ٹھکانا جنت میں ملے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–34
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
یہ لوگ صرف اسی پر بس نہیں کرتے کہ آپ ﷺ کی ذات ہی پہ اعتراض کرتے ہیں انہیں آخرت کے انکار اور اللہ جل جلالہ کے روبرو پیشی سے انکار نے اس قدر گستاخ کردیا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ فرشتہ ہمارے پاس کیوں نہیں آتا نبی ہی کے پاس کیوں آتا اور اللہ جل جلالہ ہم سے بات کیوں نہیں کرتا ، اس قدر تکبر اور اپنی بڑائی میں اس قدر بڑھ چڑھ کر بات کر رہے ہیں لیکن ایک روز ایسا بھی ہوگا کہ یہ فرشتوں کو روبرو دیکھیں گے موت کے وقت بھی اور یوم قیامت بھی فرشتے تو ان کے سامنے ہوں گے مگر ایمان لانے اور غور وفکر سے راہ اپنانے کا وقت گذر چکا ہوگا اور ان بدکاروں کے لیے فرشتوں کا سامنے آنا کوئی سامان راحت…
Read the full tafseer →1 ۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے :… او تاتی باللہ والملائکۃ قبیلا… یا تم اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے نہ لے آئو۔ (اسرا :92) دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح پیغمبروں پر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس بھی فرشتے کیوں نہیں آتے ؟ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے : قالا لن نومن حتی …مثل ما اولی رسل اللہ۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ ہم تو ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہمیں بھی ویسی ہی چیز (یعنی رسالت) نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی۔ دیکھئے سورة انعام آیت 124 ۔ (ابن کثیر) 2 ۔ یعنی یہ اپنی دانست میں اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے لگے۔ اس لئے ان میں اتباع حق سے بےنیازی کا جذبہ پیدا ہوگیا۔ یا یہ کہ ” استکبار “ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
(25:1) لا یرجون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ رجا یرجو (نصر) رجو مادہ رجاء ورجومصدر۔ امید کرنا۔ امید رکھنا۔ لا یرجون (جو) امید نہیں رکھتے۔ لقاء نا۔ مضاف مضاف الیہ۔ لقاء حامل مصدر۔ پیشی۔ حاضری۔ لقاء لقی یلقی (سمع) کا مصدر بھی ہے۔ پالینا۔ کسی کے سامنے ہونا۔ مثلاً واعلموا انکم ملاقوہ (2:223) اور جان رکھو کہ ایک دن تمہیں اس کے روبرو حاضر ہونا ہے۔ لا یرجون لقاء نا (جو) ہمارے روبرو ہونے کی امید نہیں رکھتے۔ یعنی جو یوم حشر کے منکر ہیں۔
لولا انزل۔۔ نری ربنا۔ یہ قال الذین کا مقولہ ہے لولا ای ھلا۔ کیوں نہ۔ استکبروا فی انفسہم۔ استکبر (باب استفعال) اپنے کو بڑا سمجھنا۔ بڑا شمار کرنا۔ استکبروا فی انفسہم۔ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 29 :
(لایرجعون) وہ امید نہیں رکھتے ہیں ‘(لقائ) ملاقات ‘(عتو کبیر) بہت زیادہ۔ حد سے زیادہ بڑھنا ‘ (لا بشری) خوشخبری نہیں ہے ‘ (حجر) کوئی روک ۔ کوئی آڑ ‘( محجور) آڑ کھڑ کردی گئی ‘ (قدمنا) ہم آگے آئے ‘ (ھبائ) وہ ذرات جو سورج چمکنے سے نظر آتے ہیں ‘( منثور) اڑایا ہوا۔ پھیلا ہوا ‘(مستقر) ٹھکانا ‘(مقیل) آرام کی جگہ ‘ (تشقق) پھٹ جائے گی ‘ (الغمام) بادل ‘(عسیر) سخت۔ مشکل ‘(یعض) کاٹے گا ‘ (یلیتنی) ‘ اے کاش کہ میں ‘(یویلتی) ہائے میری بدنصیبی ‘ خلیل (دوست) (اضلنی) مجھے بہکادیا ‘ (خذول) دغا باز۔ چھوڑ جانے والا ‘
تشریح آیت نمبر 21 تا 29 :
جو لوگ اللہ پر ‘ آخرت اور اس کے رسول پر…
Read the full tafseer →مشرکوں کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے جس طرح تکبر کی وجہ سے یہ کافر لوگ اللہ کے رسول کو بازار میں پھرنے والا کہتے تھے اسی طرح یہ بھی کہتے تھے کہ جب تک خود اللہ تعالیٰ یا اس کے فرشتے ہمارے روبرو آکر ان رسول کی صداقت نہ بیان کریں گے تو ہم ان کو سچا رسول نہ جانیں گے اس پر فرمایا کافر لوگ شرارت میں حد سے بڑھ گئے ہیں کیونکہ ان کو سمجھادیا گیا ہے کہ فرشتوں کو اصلی صورت میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر ہے اس پر بھی ان کافرلوگوں کو فرشتوں کے دیکھنے کی ضد ہے۔ اور جب فرشتوں کے سامنے آنے کا وقت آوے گا تو ان کو اس نخوت کی قدر کھل جائے گی کہ فرشتے قبض روح کے، اور حشر کے وقت ایسے بےدین لوگوں کی طرح…
Read the full tafseer →[12] اور اللہ کی زبانی رسول کے دعوؤں کی تصدیق سن لیتے یا کم از کم فرشتے ہی تصدیق کے لئے آجاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
مکہ والوں کے عجیب عجیب اعتراضات
1: مشرکین مکہ کا نبوت وبعثت کے متعلق اعتراضات کرنا مشہور ہے اور اصل وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ حضور ﷺ کی فضیلت اور بزرگی کو تسلیم کریں ۔ یہ بات ان کے لئے گراں تھی ۔ کہ وہ اپنی نحوت اور غرور طبعی کو بالائے طاق رکھ کر یہ تسلیم کریں کہ حضور ﷺ ان میں سب سے زیادہ بہتر اور اعلیٰ انسان ہیں اس لئے طرح طرح کے اعتراضات تراشتے رہتے تھے ۔ کبھی کہتے آپ چونکہ انسان ہیں اس لئے عہدہ نبوت اور رسالت کے لائی نہیں کبھی کہتے کہ آپ کے پاس آسمان سے خزائن نازل نہیں ہوتے اس لئے آپ عنداللہ معزز ومفتخر نہیں اور کبھی کہتے کہ ہم فرشتوں کو دیکھنا چاہتے ہیں پھر اس سے بھی بڑھ کر یہ کہتے کہ ہم کو…
Read the full tafseer →(21) اور وہ لوگ جن کو ہماری ملاقات کی اور ہمارے روبرو پیش ہونے کی توقع اور امید نہیں ہے اور جن کو قیامت کا خوف نہیں وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں نازل کئے جاتے یا ہم اپنے پروردگار کو کھلم کھلا کیوں نہیں دیکھ لیتے یہ لوگ اپنے جی میں اپنے کو بہت بڑا سمجھ رہے ہیں اور یہ لوگ شرارت میں انسانیت اور بندگی کی حد سے بہت آگے نکل گئے ہیں یعنی منکرین رسالت اور منکرین قیامت یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم سے ملائکہ آکر آپ کی رسالت کی تصدیق کریں یا ہمارا پروردگار ہمارے سامنے ہوکر یہ کہے کہ یہ ہمارا رسول ہے اس وقت تک ہم آپ کے رسول ہونے کا اقرار نہیں کریں گے حضرت حق تعالیٰ نے فرمایا فرشتوں کو ان کی اصلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
ف 1۔ وہ دن قیامت کا دن ہے۔
Read the full tafseer →آخرت کے منکرین طرح طرح کے اعتراض پیش کرتے ہیں :
21۔ زیر نظر آیت میں اب منکرین آخرت کی قلابازیوں کا ذکر کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ عجیب عجیب شرطیں عائد کرتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ فرشتے اتر کر ہمارے پاس آئیں ‘ کبھی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بےحجاب ہو کر ہمارے سامنے آئے تاکہ ہم اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں ۔ ان متکبرین ومعاندین کے اس طرح کے اعتراضات پیچھے سورة الانعام کی آیت 124 میں گزر چکے ہیں تفصیل وہاں سے ملاحظہ کریں ، فرمایا ” ان لوگوں نے اپنے آپ کو کوئی بڑی چیز سمجھ لیا ہے “ اسی لئے وہ اپنے آپ سے باہر ہو رہے ہیں کیا انہوں نے خیال کیا ہے کہ خدا اور رسول اللہ ﷺ کو ان کے ایمان لانے کی بڑی ضرورت ہے اس…
Read the full tafseer →Commentary
وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا (And said those who do not believe in meeting Us - 25:21). رَجَاء (Raja:) means to hope for something desired. Sometimes it is also used for having fear, as mentioned by Ibn-al-Ambari, the famous scholar of Arabic lexicon. Here in this verse it is used for apprehension and fear. Thus the meaning of the phrase is 'those who are not apprehensive of being brought before Us'. The allusion is toward those who totally deny the Hereafter as only they could have the courage to raise such preposterous and absurd points and put such frivolous…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
29 This is an answer to the objection of the disbelievers of Makkah that Muhammad (Allah's peace be upon him) could not be a Messenger of Allah because he ate food and moved about in the streets. They have been told that all the Messengers of Allah who came before Muhammad (Allah's peace be upon him)like Noah, Abraham, Ishmael, Moses and many others whom they knew and acknowledged as Prophets and Messengers of Allah also ate food and walked about in the streets. Nay, even Prophet Jesus, son of Mary, himself, whom the Christians had made the son of God (and whose image had also been placed in…
Read the full tafseer →