Al-Furqaan 25:22

Al-Furqaan · from ayah 22

25:22

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓىِٕكَةَ لَا بُشْرٰی یَوْمَىِٕذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَیَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا ۟يَوۡمَ يَرَوۡنَ الۡمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشۡرٰى يَوۡمَئِذٍ لِّـلۡمُجۡرِمِيۡنَ وَ يَقُوۡلُوۡنَ حِجۡرًا مَّحۡجُوۡرًا‏

جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن گنہگاروں کے لئے خوشی کی بات نہیں ہوگی اور کہیں گے (خدا کرے تم) روک لئے (اور بند کردیئے) جاؤ

— Fateh Muhammad Jalandhari

The day they see the angels - no good tidings will there be that day for the criminals, and [the angels] will say, "Prevented and inaccessible."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 3 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:22

جس روز یہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ مجرموں کے لیے کسی بشارت کا دن نہ ہوگا، چیخ اٹھیں گے کہ پناہ بخدا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن گنہگاروں کے لئے خوشی کی بات نہیں ہوگی اور کہیں گے (خدا کرے تم) روک لئے (اور بند کردیئے) جاؤ

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس دن یہ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن ان گناه گاروں کو کوئی خوشی نہ ہوگی اور کہیں گے یہ محروم ہی محروم کیے گئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس دن ان کو فرشتے نظر آگئے، اس دن ان مجرموں کے لیے کوئی خوشی کا موقع نہیں ہوگا، بلکہ یہ کہتے پھریں گے کہ خدایا ! ہمیں ایسی پناہ دے کہ یہ ہم سے دور ہوجائیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس دن فرشتوں کو دیکھیں گے وہ دن مجرموں کی کوئی خوشی کا نہ ہوگا اور کہیں گے الٰہی ہم میں ان میں کوئی آڑ کردے رکی ہوئی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے (تو) اس دن مجرموں کے لئے چنداں خوشی کی بات نہ ہوگی بلکہ وہ (انہیں دیکھ کر ڈرتے ہوئے) کہیں گے: کوئی روک والی آڑ ہوتی (جو ہمیں ان سے بچا لیتی یا فرشتے انہیں دیکھ کر کہیں گے کہ تم پر داخلۂ جنت قطعاً ممنوع ہے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرموں کے لیے خوشی کی کوئی خبر نہ ہوگی اور کہیں گے (کاش ! ہمارے اور ان کے درمیان) ایک مضبوط آڑ ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں وہ دن ایسے مجرموں کے لئے کوئی خوشی کا دن نہ ہوگا اور وہ پکار اٹھیں گے کہ ہم تو تم سے پناہ مانگتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جس دن فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرموں کے لئے کوئی خوش آئند بات نہیں ہوگی اور وہ پنا پناہ پکار اٹھیں گی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن ایسے مجرموں کے لیے خوشی کا کوئی موقع نہیں ہوگا، وہ (الٹا گھبرا کر) پکاریں گے کہ کوئی مضبوط پناہ کردی جائے (بچنے کے لیے

— مولانا اسحاق مدنی

جس روز یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے اس روز مجرموں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہ ہوگی اور یہ کہیں گے کہ پناہ پناہ !۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرموں کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہوگی اور وہ کہیں گے کہ کوئی روک حائل ہوجائے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرموں کے لیے کوئی خوشی کی بات نہ ہوگی اور کہیں گے اللہ کرے تم روک لیے اور بند کردیے جاؤ۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The Day, when they will see the angels, will not be a day of rejoicing for the criminals; they will cry out, "May Allah save us!"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The Day they will see the angels, there will be no good news for the sinners that day, and they will say, :(We need) a shelter, fully protected!

— Muhammad Taqi Usmani

The Day they will see the angels, there will be no good news for the sinners that day, and they will say, :(We need) a shelter, fully protected!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

On the Day they will see the angels -- no good news will there be for the criminals that day. And they will say: "Hijran Mahjura."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

On the day when they behold the angels, on that day there will be no good tidings for the guilty; and they will cry: A forbidding ban!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The day they see the angels - no good tidings will there be that day for the criminals, and [the angels] will say, "Prevented and inaccessible."

— Saheeh International

On the day when the criminals see the angels, there will, certainly, be no rejoicing for them. Rather, they will plead to the angels, "Please keep away from us (do not drive us into hell)."

— Muhammad Sarwar

On the day when they shall see the angels, there shall be no joy on that day for the guilty, and they shall say: It is a forbidden thing totally prohibited.

— Muhammad Habib Shakir

The Day whereon they shall behold the angels on that day there will be nea joy for the culprits, and they will say: away! away!

— Abdul Majid Daryabadi

The Day they see the angels,- no joy will there be to the sinners that Day: The (angels) will say: "There is a barrier forbidden (to you) altogether!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–24

کافر جو اس بات پر اعتراض کرتے تھے کہ نبی کو کھانے پینے اور تجارت بیوپار سے کیا مطلب ؟ اس کا جواب ہو رہا ہے کہ اگلے سب پیغمبر بھی انسانی ضرورتیں بھی رکھتے تھے کھانا پینا ان کے ساتھ بھی لگا ہوا تھا۔ بیوپار، تجارت اور کسب معاش وہ بھی کیا کرتے تھے یہ چیزیں نبوت کے خلاف نہیں۔ ہاں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنی عنایت خاص سے انہیں وہ پاکیزہ اوصاف نیک خصائل عمدہ اقوال مختار افعال ظاہر دلیلیں اعلیٰ معجزے دیتا ہے کہ ہر عقل سلیم والا ہر دانا بینا مجبور ہوجاتا ہے کہ ان کی نبوت کو تسلیم کرلے اور ان کی سچائی کو مان لے۔ اسی آیت جیسی اور آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 36 یہی مضمون سورة انعام آیت 8 اور سورة حجر آیات 7۔ 8 اور آیات 51 تا 64 میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ۔ سورة بنی اسرائیل آیات 90 تا 95 میں بھی کفار کے بہت سے عجیب و غریب مطالبات کے ساتھ اس کا ذکر کر کے جواب دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

حِجْـرًا مَّحْجُوْرًا، حجر کے لفظی معنے محفوظ جگہ کے ہیں اور محجوراً اس کی تاکید ہے۔ یہ لفظ محاورہ عرب میں اس وقت بولا جاتا تھا جب کوئی مصیبت سامنے ہو۔ اس سے بچنے کے لئے لوگوں سے کہتے تھے کہ پناہ ہے پناہ، یعنی ہمیں اس مصیبت سے پناہ دو تو قیامت کے روز بھی جب کفار فرشتوں کو سامان عذاب لاتا ہوا دیکھیں گے دنیا کی عادت کے مطابق یہ لفظ کہیں گے۔ اور حضرت ابن عباس سے اس لفظ کے یہ معنے منقول ہیں حَرَامًا مُحرّمًا اور مراد یہ ہے کہ قیامت کے روز جب یہ لوگ فرشتوں کو عذاب کے ساتھ دیکھیں گے اور ان سے معاف کرنے اور جنت میں جانے کی درخواست کریں گے یا تمنا ظاہر کریں گے تو فرشتے ان کے جواب میں کہیں گے حِجْـرًا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 21–22

آیت 22-21 متکبیرن کے استکبار پر ایک ضرب الذین لایربھون الہ اء نا سے قرآن میں متکبرین کے اس گروہ کو تعبیر کیا گیا ہے جو خدا کے حضور پیشی کے اندیشے سے بالکل نچنت اور بےخوف تھا۔ اس گروہ کا جہل و غرور اور اس کا گھمنڈ دوسرے کفار و معاندین سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھا اس وجہ سے اس کا ذکر الذین کفروا کے لفظ سے نہیں ہوا بلکہ ایسی صفت کے ساتھ ہوا ہے جس سے اس کا غرور پوری طرح بےنقاب ہو سکے۔ اس گروہ کا مطالبہ یہ تھا کہ اگر محمد ﷺ کے پاس خدا کا فرشتہ آتا ہے، جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے، تو آخر ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے یا ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ خود خدا بےحجاب ہو کر سامنے آئے اور ہم اس کو دیکھیں۔ یہ مطالبہ ظاہر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

22-1اس دن سے مراد موت کا دن ہے یعنی یہ کافر فرشتوں کو دیکھنے کی آرزو تو کرتے ہیں لیکن موت کے وقت جب یہ فرشتوں کو دیکھیں گے تو ان کے لیے کوئی خوشی اور مسرت نہیں ہوگی اس لیے کہ فرشتے انھیں اس موقع پر عذاب جہنم کی وعید سناتے ہیں اور کہتے ہیں اے خبیث روح خبیث جسم سے نکل جس سے روح دوڑتی اور بھاگتی ہے جس پر فرشتے اسے مارتے اور کوٹتے ہیں جیسا کہ (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ يَتَوَفَّى الَّذِيْنَ كَفَرُوا ۙ الْمَلٰۗىِٕكَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ ۚ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ) 8۔ الانفال :50) ، (وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِيَ اِلَيَّ وَلَمْ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

7: مطلب یہ ہے کہ فرشتوں کو دیکھنے کی ان میں تاب ہی نہیں ہے، اور فرشتے انہیں اس وقت دکھائے جائیں گے جب وہ انہیں دوزخ میں ڈالنے کے لیے آئیں گے اس وقت یہ ان کو دیکھنے سے پناہ مانگیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 21–29

درس نمبر 158 ایک نظر میں اس سبق کا آغاز بھی اسی انداز سے ہوتا ہے جس سے درس سابق کا ہوا تھا اور مضمون بھی اسی انداز سے چلتا ہے ‘ البتہ یہاں مشرکین کے اعتراضات کا رخ رب تعالیٰ کی طرف ہے۔ یہاں وہ اللہ پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ کو اپنا لائحہ عمل دیتے ہیں۔ گویا اس سبق میں وہ اپنی سرکشی میں ترقی کرتے ہوئے رسول اللہ پر اعتراضات کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور خدا پر اعتراضات کرتے ہیں۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور دل جوئی کا ایک انداز ہے کہ یہ لوگ صرف آپ ہی پر اعتراضات نہیں کرتے بلکہ ان کی گستاخی اللہ کے جناب میں بھی ہے۔ البتہ یہاں جواب دینے کے بجائے نہایت ہی شتابی سے ان کو قیامت کے مناظر میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی گھبراؤ نہیں، ایک دن آنے والا ہے جب فرشتے تم کو نظر پڑیں گے، لیکن ان کے دیکھنے سے تم جیسے مجرموں کو کچھ خوشی حاصل نہ ہوگی، بلکہ سخت ہولناک مصائب کا سامنا ہوگا۔ حتی کہ جو لوگ اس وقت فرشتوں کے نزول کا مطالبہ کرنے والے ہیں اس وقت " حِجْرًا مَحْجُورًا " کہہ کر پناہ طلب کریں گے، اور چاہیں گے کہ ان کے اور فرشتوں کے درمیان کوئی سخت روک قائم ہوجائے کہ وہ ان تک نہ پہنچ سکیں لیکن خدا کا فیصلہ کب رک سکتا ہے۔ فرشتے بھی حِجْرًا مَحْجُوْراً کہہ کر بتلا دیں گے کہ آج مسرت و کامیابی ہمیشہ کے لیے تم سے روک دی گئی ہے۔ (تنبیہ) ممکن ہے یہ تذکرہ احتضار (موت) کے وقت کا ہو۔ کماقال تعالیٰ (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 22 یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلآءِکَۃَ لَا بُشْرٰی یَوْمَءِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ ” جس دن انہیں فرشتے نظر آئیں گے وہ دراصل قیامت کا دن ہوگا۔ اس دن اللہ تعالیٰ بھی نزول فرمائے گا اور غیب کے سارے پردے بھی اٹھا دیے جائیں گے۔ وہ دن مجرموں کے لیے کڑے احتساب کا دن ہوگا۔ تب ان کے لیے تو بہ کا دروازہ بند ہوچکا ہوگا اور انہیں کہیں سے بھی کوئی اچھی خبر نہیں مل پائے گی۔ وَیَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا ” اس وقت وہ دہائی دے رہے ہوں گے کہ کسی طرح سے انہیں بچایا جائے اور قیامت کے عذاب کو ان پر مسلط ہونے سے روکا جائے۔ کاش ‘ ان کے اور اس عذاب کے مابین کوئی رکاوٹ حائل ہوجائے !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

31 ان کے فرشتوں کے دیکھنے کی تین ہی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ دو دنیا میں اور ایک آخرت میں۔ دنیا میں ایسے لوگ اس وقت فرشتوں کو بچشم خود دیکھ لیتے ہیں جب وہ ان پر قہر الٰہی اور عذاب الٰہی لے کر نازل ہوتے ہیں۔ دوسرے اس وقت جب وہ ان کی جانیں نکالنے کے لئے ان کے پاس آئیں گے اور قیامت میں تو یہ ہر وقت ہی فرشتوں کو دیکھا کریں گے۔ جو بھی وقت اور جو بھی صورت ہو، ان کے لئے کوئی خوشی کی بات نہ ہوگی بلکہ جب بھی وہ ان کے پاس آئیں گے قہر الٰہی بن کر ہی آئیں گے۔ 32 یہ محاورہ ہے۔ مجارہ 1 بمعنی پتھر اور حجر ہر اس چیز کو کہتے ہیں کہ جو پتھر کی طرح سخت بھی ہو اور روک یا آڑ کا کام بھی دے۔ اہل عرب کی عادت تھی کہ جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

26۔ کافروں کا سامنا فرشتوں سے جب بھی ہوگا عذاب ہی کے فرشتوں سے ہوگا، اور وہ وقت کافروں کی مسرت کا نہیں، انتہائی مصیبت کا ہوگا۔ (آیت) ” حجرا محجورا “۔ ایک محاورہ ہے عہد جاہلیت میں جب کسی کو کوئی بلا پیش آتی یا کوئی اپنے دشمن کو دیکھ پاتا اور خیال یہ ہوتا کہ وہ اس پر حملہ کرے گا تو یہی لفظ پکار کر کہتا، جیسے اردو محاورہ میں کہتے ہیں دور، دور ! ھذہ کلمۃ کانوا یتکلمون بھا عند لقاء عدو موفوراو ھجوم نازلۃ اونحو ذلک یصنعونھا موقع الاستعاذۃ (کشاف) کان الرجل اذا لقی من یخاف یقول ذلک (راغب) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ سلوک میں حالات محمود غیراختیاری کا پیش آجانا بعض طالبین کے حق میں مضر ہوتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–34

آیت نمبر 21 تا 34 ترجمہ : جو لوگ ہمارے سامنے پیش ہونے سے اندیشہ نہیں کرتے یعنی بعث (بعد الموت) کا خوف نہیں رکھتے وہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے ؟ کہ ہماری طرف رسول ہوں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیتے پھر ہمیں وہ یہ بات تباتے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا ان لوگوں نے اپنے دلوں میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ لیا ہے اور دنیا ہی میں اللہ کی رویت کا مطالبہ کرکے بڑی سرکشی کی ہے اور عَتَوْ واؤ کے ساتھ اپنی اصل پر ہے بخلاف عُتِیَ کے ابدال کے ساتھ سورة مریم میں جس روز یہ منجملہ خلائق کے فرشتوں کو دیکھیں گے اور (یومَ ) کا نصب اذکر فعل مقدر کی وجہ سے ہے، اس روز مجرموں یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یوم یرون الملئکۃ جس روز وہ فرشتوں کو دیکھیں گے۔ یعنی مرنے کے وقت یا قیامت کے دن جب کافر ملائکہ کو دیکھیں گے۔ لا بشری یومئذ للمجرمین اس روز مجرموں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہ ہوگی۔ یہ جملہ معترضہ ہے یا یہ مطلب ہے کہ اس روز فرشتے کہیں گے کافروں کے لئے آج کوئی خوشی کی خبر نہیں۔ عطیہ نے کہا قیامت کے دن ملائکہ مؤمنوں کو بشارت دیں گے اور کافروں سے کہیں گے (آج) تمہارے لئے کوئی خوشی کی خبر نہیں۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا کہ جس روز وہ فرشتوں کو دیکھیں گے (یعنی مرنے کے وقت یا قیامت کے دن) اس روز فرشتے ان کو بشارت نہیں دیں گے۔ مؤمنوں کو جنت کی بشارت دیں گے۔ لِلْمُجْرِمِیْنَرفتار کلام چاہتی تھی کہ لَہُمْکہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(22) جس دن یہ لوگ مرنے کے وقت فرشتوں کو دیکھیں گے اور وہ قیامت کا دن ہے تو فرشتے ان سے کہیں گے آج مشرکین کو خوشی کی بات یعنی جنت نصیب نہ ہوگی اور عذاب کے فرشتوں کو دیکھ کر کفار کہیں گے پناہ ہے پناہ یا یہ مطلب ہے کہ فرشتے ان کافروں سے کہیں گے کہ کفار کے لیے قطعی طور پر جنت کی بشارت بھی حرام کردی گئی ،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلٰۗىِٕكَةَ لَا بُشْرٰى يَوْمَىِٕذٍ لِّلْمُجْرِمِيْنَ : یعنی رب تعالیٰ کو دیکھنا تو بہت دور، فرشتوں کو دیکھنا بھی معمولی بات نہیں، جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن ان مجرموں کے لیے کوئی خوشی کی خبر نہیں ہوگی، کیونکہ وہ ان کے لیے عذاب ہی لے کر آتے ہیں (حجر : 8) خواہ وہ دنیا میں کوئی عذاب لے کر آئیں یا موت کے وقت ان کے پاس آئیں (انعام : 93۔ انفال : 50۔ محمد : 27، 28) یا قیامت کے دن انھیں دکھائی دیں۔ وَيَقُوْلُوْنَ حِجْـرًا مَّحْجُوْرًا : ”حِجْـرًا“ کا معنی آڑ، رکاوٹ ہے، ”مَّحْجُوْرًا“ تاکید کے لیے ہے، یعنی بہت مضبوط رکاوٹ۔ یعنی جب مجرم فرشتوں کو دیکھیں گے تو چاہیں گے کہ ان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 21–26

(وقال الذین لا یرجون۔۔۔۔۔۔۔ ) وقال الذین لا یرجون لقاء ناوہ ارادہ کرتا ہے وہ دوبارہ اٹھائے جانے اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے نہیں ڈرتے یعنی وہ اس چیز پر ایمان نہیں رکھتے، شاعر نے کہا : اذا لسغتہ النحل لم یرج السعھا جب شہد کی مکھیاں اس کو ڈنگ ماریں تو اس کے ڈنگ کا خوف نہیں کرتا۔ اس قول یہ کیا گیا ہے : لا یرجعون کا معنی ہے وہ پرواہ نہیں کرتے شاعر نے کہا : لعمرک ما ارجو اذا کنت مسلما علی ای جنب کان فی اللہ مصرعی تیری زندگی کی قسم ! جب میں مسلمان ہوں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر میری موت کس پہلو پر واقع ہوتی ہے۔ ابن شجرہ نے کہا : وہ امید نہیں رکھتے، شاعر نے کہا : اترجو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یرون الملئکۃ یعنی قیامت کے دن فرشتوں کو دیکھیں گے 2۔ ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت لابشری یومئذ للجرمین کے بارے میں روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو مومن کو خوشخبری دی جائے جب کافر اس کو دیکھیں گے تو فرشتوں سے کہیں گے ہم کو بھی خوشخبری دو تو وہ کہیں گے آیت حجرا محجورا یعنی یہ چیز بالکل حرام ہے ہم تم کو خوشخبری دیں۔ 3۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویقولون حجرا محجورا کہ وہ فرشتوں سے مانگیں گے اور دوسرے لفظ میں یوں فرمایا کیہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يَوْمَ [ جس دن ] يَرَوْنَ [ وہ دیکھیں گے ] الْمَلٰۗىِٕكَةَ [ فرشتوں کو ] لَا بُشْرٰى [ کوئی خوشخبری نہیں ہوگی ] يَوْمَىِٕذٍ [ اس دن ] لِّلْمُجْرِمِيْنَ [ مجرموں کیلئے ] وَيَقُوْلُوْنَ [ اور کہیں گے ] حِجْـرًا مَّحْجُوْرًا [ کوئی مضبوط رکاوٹ (یعنی پناہ) ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 22–24

پھر فرمایا (یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلآءِکَۃَ ) (الآیۃ) اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ وقت بھی آنے والا ہے جبکہ فرشتوں کو دیکھیں گے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا ہے اس سے موت کا دن مراد ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے قیامت کا دن مراد ہے مطلب یہ ہے کہ فرشتوں کو دیکھنے کا جو مطالبہ کر رہے ہیں اس کا وقوع بھی ہوجائے گا جب مرنے لگیں گے تو فرشتے نظر آجائیں گے لیکن اس وقت فرشتوں کی حاضری مکذبین کے حق میں نا مبارک ہوگی اس دن مجرمین یعنی مکذبین کے لیے کسی بھی طرح کی کوئی بشارت یعنی خوشخبری نہیں ہوگی موت کے وقت سے لے کر ابدالا باد ہمیشہ عذاب اور تکلیف میں رہیں گے جب قیامت کا دن ہوگا عذاب میں مبتلا ہوں گے اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–31

منکرین نبوت کا چوتھا شبہ اور اس کا جواب قال اللہ تعالیٰ وقال الذین لا یرجعون لقاء نا ...... الیٰ ..... ھادیا ونصیرا۔ (ربط) منکرین نبوت کا چوتھا شبہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں نازلکیے جو ہمارے سامنے آکر آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی شہادت دیتے کہ یہ شخص دعوائے نبوت میں صادق ہے یا ہم بلاوسطہ اللہ کو دیکھتے اور بلاوسطہ خود اللہ تعالیٰ سے آپکی بابت پوچھ لیتے اور اللہ تعالیٰ ہم کو خود بتلا دیتا کہ یہ شخص میرا نبی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جاہلانہ اور احمقانہ اور گستاخانہ اور مغرورانہ سوال کے جواب میں یہ ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ بڑے ہی سرکش اور متبکر ہیں کہ وہ اپنے آپ کو اس مرتبہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

18:۔ ” یوم یرون الخ “ یہ پانچویں شکوے کا جواب ہے یہ مطالبہ محض ان کی ضد اور سرکشی ہے ورنہ جس دن وہ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن انہیں کوئی خوشی حاصل نہیں ہوگی۔ اس دن فرشتے کہیں گے آج مجرموں کو ہر خوشی اور مسرت سے کوسوں دور رکھا جائے گا۔ ” حجرا “ مفعول مطلق ہے اور اس کا فعل متروک ہے۔ اور ” محجورا “ اس کی تاکید ہے وھو من المصار المنصوبۃ بافعال متروک اظھارھا و محجورا لتاکید معنی الحجر کما قالوا موت مائت (مدارک ج 3 ص 125) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 21–29

ربطِ آیات اس سورة مبارکہ میں تمام بنیادی عقائد بیان کیے گئے ہیں ، میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے عقلی و نقلی دلائل ہیں ۔ قیامت اور جزائے عمل کا سلسلہ ہے نبوت و رسالت کا بیان اور اس پر اعتراض کرنے والوں کے باطل شکوک کا ازالہ ہے اس کے علاوہ دیگر بہت سی اخلاقی تعلیمات ہیں مگر زیادہ تر نبوت و رسالت کا بیان ہے کافر اور مشرک لوگ نبی آخر الزمان پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ کیسا نبی ہے جو کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ۔ ان کے نزدیک بشریت نبوت و رسالت کے منافی تھی ۔ اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ حضور ﷺ سے پہلے جتنے بھی نبی اور رسول دنیا میں آئے وہ سب کے سب انسان تھے ۔ وہ سارے کھانا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلٰۗىِٕكَۃَ لَا بُشْرٰى يَوْمَىِٕذٍ لِّلْمُجْرِمِيْنَ وَيَقُوْلُوْنَ حِجْـرًا مَّحْجُوْرًا۝ 22 ملك ( فرشته) وأما المَلَكُ فالنحویون جعلوه من لفظ الملائكة، وجعل المیم فيه زائدة . وقال بعض المحقّقين : هو من المِلك، قال : والمتولّي من الملائكة شيئا من السّياسات يقال له : ملک بالفتح، ومن البشر يقال له : ملک بالکسر، فكلّ مَلَكٍ ملائكة ولیس کلّ ملائكة ملکاقال : وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] ، عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] ( م ل ک ) الملک الملک علمائے نحو اس لفظ کو ملا ئکۃ سے ماخوذ مانتے ہیں اور اس کی میم کو زائد بناتے ہیں لیکن بعض محقیقن نے اسے ملک سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 21–22

ترکیب : لولاانزل الخ مقولہ ہے قال الذین کا مستقرا تمیز خیر الحق الملک کی صفت۔ یوم کا نصب اذکر محذوف ہے۔ تفسیر : : منکروں کا یہ ایک اور بھی شبہ تھا جس کو وقال الذین لا یرجون لقاء نا سے شروع کرتا ہے کہ جن کو ہم سے ملنے کی امید نہیں یہ نہیں سمجھتے کہ مر کر اللہ کے سامنے جانا ہے وہ کہتے ہیں (کیونکہ ایسی باتیں وہی کہا کرتے ہیں ایمانداروں کی تو کیا مجال) کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہ آئے محمد ﷺ کے پاس کیوں آتے ہیں یا ایسا ہوتا کہ ہم خدا کو دیکھ لیتے پھر اس سے آپ پوچھ لیتے کہ یہ تیرا بھیجا ہوا نبی ہے کہ نہیں ؟ اس کے جواب میں فرماتا ہے لقد استکبروا فی انفسہم الخ کہ انہوں نے اپنے آپ کو اس لایق سمجھ لیا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِکَۃَ لاَ بُشْرٰی یَوْمَئِذٍلِّلْمُجْرِمِیْنَ وَیَـقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا۔ (الفرقان : 22) (جس دن وہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرموں کے لیے کوئی خوشی کی بات نہ ہوگی اور فرشتے کہیں گے تمہارے لیے (جنت کا داخلہ) قطعاً حرام ہے۔ ) حِجْرًا مَّحْجُوْرًا کا مفہوم مشکل الفاظ : حِجْرًا مَّحْجُوْرًا … سخت پردہ اور اوٹ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ حجر کے لفظی معنی محفوظ جگہ کے ہیں اور محجوراً اس کی تاکید ہے۔ حضرت ابن عباس ( رض) سے اس کے معنی حراماً محرماً منقول ہیں۔ مراد یہ ہے کہ قیامت کے روز جب یہ لوگ فرشتوں کو عذاب کے ساتھ دیکھیں گے اور ان سے معاف کرنے اور جنت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 21–22

فہم القرآن ربط کلام : کفار کی ایک اور ہرزہ سرائی۔ سرورِ دو عالم ﷺ کی پر خلوص اور بےمثال جدو جہد کے مقابلہ میں کفار اس حد تک لاجواب اور بوکھلا ہٹ کا شکار ہوئے کہ وہ ہر روزنئے سے نیا مطالبہ کرتے۔ اس حواس باختگی میں انھیں یہ بھی خبر نہ رہی کہ ہم کس قدر متضاد اور بےمقصد اعتراضات اور سوال کرتے ہیں۔ حواس باختگی کے عالم میں انھوں نے یہ بھی سوال کر ڈالا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اس کے پاس فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ہمارے پاس کیوں نہیں آتے۔ ہم اس پر ایمان تب لائیں گے کہ جب ہم پر براہ راست فرشتے نازل ہوں یا پھر اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے رب کو دیکھ لیں۔ اس کے سوا ہم اس نبی پر ایمان لانے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جب فرشتے سامنے آئیں گے تو وہ ان کے غم کا دن ہوگا : 22: یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓپکَۃَ (جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے) یعنی موت کے دن یا بعث کے دن۔ نحو : یوم اس فعل کی وجہ سے منصوب ہے جس پر لَابُشْریٰ دلالت کرتا ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے یوم یرون الملائکۃ یمنعون البشرٰی۔ جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ بشارت سے روک دیئے جائیں گے۔ لاَ بُشْرٰی یَوْمَپذٍ (اس دن کوئی خوشی کی بات نہ ہوگی۔ ) نحو : یہ یوم یرون کی تاکید ہے نمبر 2۔ اذکر مضمر ہے ای اذکر یوم یرون الملائکۃ پھر خبر دی لابشرٰی بالجنہ یومئذ (اس دن ان کو جنت کی خوشخبری نہ ہوگی) یہ یرون کی وجہ سے منصوب نہیں کیونکہ مضاف الیہ مضاف میں عمل نہیں کرتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

22۔ یوم یرون الملائکۃ، یعنی مرنے کے وقت بعض نے کہا کہ قیامت کے دن جب کافر ملائکہ کو دیکھیں گے ؟ بشری یومئذ للمجرمین، سے مراد کافر ہیں۔ قیامت کے دن ملائکہ مومنین کو خوش خبری دیں گے اور کفار سے کہیں گے کہ تمہارے لیے کوئی خوش خبری نہیں ۔ اسی طرح عطیہ کا قول ہے کہ بعض حضرات کا قول ہے کہ قیامت کے دن مجرمین کے لیے کوئی خوش خبری نہیں ہوگی۔ ان کے لیے جنت کی کوئی خوش خبری نہیں ہوگی۔ جیسا کہ مومنین کی خوش خبری دی جائے گی جنت کی۔ ویقولون حجرامحجورا، عطاء نیابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کیا ہے کہ فرشتے کہیں گے حرام ہے حرام کردیا گیا ہے کہ جنت میں سوائے ان لوگوں کے جو لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ کے قائل تھے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

22:۔ مشرک لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ہماری آنکھوں کے سامنے فرشتے آن کر آنحضرت ﷺ کی نبوت کی شہادت ادا کریں تو ہم کو ان کی نبوت کا یقین آسکتا ہے اللہ تعالیٰ نے یہ اس کا جواب دیا ہے ‘ حدیث شریف میں اس جواب کی تفسیر آنحضرت ﷺ نے جو فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں دو موقع اللہ تعالیٰ نے ایسے ٹھہرائے ہیں جن میں فرشتے انسانوں کے روبرو ان کی آنکھوں کے سامنے آویں گے ایک موقع تو قبض روح کا ہے کہ آدمی کی جان نکالنے کو فرشتے اس کے روبرو آتے ہیں دوسرا موقع حشر کا ہے کہ جب لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو فرشتے ان کو حساب و کتاب کے لیے میدان محشر میں لے جاویں گے اور یہ دونوں موقع بےدین لوگوں پر باری ہیں چناچہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 21–23

آیت 21 سے 23 وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ و وعید کو جھٹلایا، جن کے دل میں وعید کا خوف ہے نہ خالق سے ملاقات کی امید۔۔۔ انہوں نے کہا : (لو لاانزل علینا الملئکۃ او نری ربنا) یعنی فرشتے کیوں نہ اترے جو تیری رسالت کی گواہی دیتے اور تیری تائید کرتے یا مستقل رسول نازل ہوتے یا ہم اپنے رب کو دیکھتے وہ ہمارے ساتھ کلام کرتا اور خود کہتا کہ یہ میرا رسول ہے اس کی اتباع کرو ؟ رسول ﷺ کے ساتھ یہ معارضہ کسی اعتراض کی بناء پر نہیں بلکہ اس کا سبب صرف تکبر، تغلب اور سرکشی ہے۔ (لقد استکبروا فی انفسھم) ” انہوں نے اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ رکھا ہے۔ “ کیونکہ انہوں نے اس قسم کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–48

پانی کے مسائل قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

29 مجرموں کے لیے ایک تنبیہ و تہدید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس روز یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے اس روز مجرموں کے لیے فرشتوں کے دیکھنے سے کوئی خوشی نہ ہوگی "۔ " مجرم لوگوں کے لئے خوش خبری نہ ہوگی " کے اس ارشاد ربانی سے معلوم ہوا کہ ایمان والے صالحین کے لئے خوشخبری ہوگی۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا ۔ { اَبْشِرُوْا بالْجَنَّۃِ التِّیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْن } ۔ (حم السجدۃ : 30) اور اس کا مظاہرہ موت کے وقت بھی ہوگا اور قیامت میں بھی ۔ فَشَرِّفْنَا اللّٰہُم بِہَا یَا من بیدہ ملکوت کل شی ۔ بہرکیف یہاں پر ارشاد فرمایا گیا کہ آج تو یہ لوگ فرشتوں کے دیکھنے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن جب یہ فرشتوں کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 21–24

سر کش اور نیک لوگوں کا انجام تشریح : یہاں پھر میدان حشر کا نقشہ اور گنہگاروں کے تکبر کا انجام بڑے صاف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ وہ اس قدر غرور اور لاپرواہی میں بدمست ہوچکے تھے کہ مطالبہ کرتے کہ یا تو فرشتے یا خود اللہ ان سے بات کرے تو مانیں گے۔ تو فرشتے تو قیامت کے دن ہی دکھائی دیں گے تب توبہ کر اٹھیں گے اور اعمال بد تو ان کے ویسے ہی برباد ہوچکے ہوں گے تب ان کو اصل حقیقت کا یقین آئے گا۔ مگر اس وقت کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ ان کو اعمال بد کے نتیجہ میں بد ترین ٹھکانا مل چکا ہوگا۔ اور ان کے مقابلے میں نیک ‘ متقی ‘ پرہیزگار اور مقبول الٰہی لوگوں کو بہترین آرام دہ اور پر آسائش ٹھکانا جنت میں ملے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–34

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف یہ لوگ صرف اسی پر بس نہیں کرتے کہ آپ ﷺ کی ذات ہی پہ اعتراض کرتے ہیں انہیں آخرت کے انکار اور اللہ جل جلالہ کے روبرو پیشی سے انکار نے اس قدر گستاخ کردیا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ فرشتہ ہمارے پاس کیوں نہیں آتا نبی ہی کے پاس کیوں آتا اور اللہ جل جلالہ ہم سے بات کیوں نہیں کرتا ، اس قدر تکبر اور اپنی بڑائی میں اس قدر بڑھ چڑھ کر بات کر رہے ہیں لیکن ایک روز ایسا بھی ہوگا کہ یہ فرشتوں کو روبرو دیکھیں گے موت کے وقت بھی اور یوم قیامت بھی فرشتے تو ان کے سامنے ہوں گے مگر ایمان لانے اور غور وفکر سے راہ اپنانے کا وقت گذر چکا ہوگا اور ان بدکاروں کے لیے فرشتوں کا سامنے آنا کوئی سامان راحت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

4 ۔ بعض نے اس سے قیامت کا دن مراد لیا ہے۔ جیسا کہ بعد کی آیت : وقدمنا الی ما عملوا سے معلوم ہوتا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ اس سے ان کی موت کا دن مراد ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ اور احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ نیز دیکھئے انفال 50 و انعام 93 (ابن کثیر) 5 ۔ یا یہ کلمہ مجرمین خود کہیں گے (یعنی خدا کی پناہ) یعنی فرشتوں سے ڈر کر پناہ مانگیں گے۔ یہ محاورہ (حجراً محجوراً ) عرب عموماً اس وقت استعمال کرتے جب کوئی سخت آفت ان پر آپڑتی۔ جیسے ہم ایسے موقع پر کہتے ہیں ” یا اللہ بچائیو “۔ قاضی شوکانی نے اسی مطلب کو ترجیح دی ہے مگر حافظ ابن کثیر (رح) نے پہلے مطلب کو اختیار کیا ہے (ابن کثیر۔ شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 21–22

(25:1) لا یرجون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ رجا یرجو (نصر) رجو مادہ رجاء ورجومصدر۔ امید کرنا۔ امید رکھنا۔ لا یرجون (جو) امید نہیں رکھتے۔ لقاء نا۔ مضاف مضاف الیہ۔ لقاء حامل مصدر۔ پیشی۔ حاضری۔ لقاء لقی یلقی (سمع) کا مصدر بھی ہے۔ پالینا۔ کسی کے سامنے ہونا۔ مثلاً واعلموا انکم ملاقوہ (2:223) اور جان رکھو کہ ایک دن تمہیں اس کے روبرو حاضر ہونا ہے۔ لا یرجون لقاء نا (جو) ہمارے روبرو ہونے کی امید نہیں رکھتے۔ یعنی جو یوم حشر کے منکر ہیں۔ لولا انزل۔۔ نری ربنا۔ یہ قال الذین کا مقولہ ہے لولا ای ھلا۔ کیوں نہ۔ استکبروا فی انفسہم۔ استکبر (باب استفعال) اپنے کو بڑا سمجھنا۔ بڑا شمار کرنا۔ استکبروا فی انفسہم۔ وہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 21–29

لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 29 : (لایرجعون) وہ امید نہیں رکھتے ہیں ‘(لقائ) ملاقات ‘(عتو کبیر) بہت زیادہ۔ حد سے زیادہ بڑھنا ‘ (لا بشری) خوشخبری نہیں ہے ‘ (حجر) کوئی روک ۔ کوئی آڑ ‘( محجور) آڑ کھڑ کردی گئی ‘ (قدمنا) ہم آگے آئے ‘ (ھبائ) وہ ذرات جو سورج چمکنے سے نظر آتے ہیں ‘( منثور) اڑایا ہوا۔ پھیلا ہوا ‘(مستقر) ٹھکانا ‘(مقیل) آرام کی جگہ ‘ (تشقق) پھٹ جائے گی ‘ (الغمام) بادل ‘(عسیر) سخت۔ مشکل ‘(یعض) کاٹے گا ‘ (یلیتنی) ‘ اے کاش کہ میں ‘(یویلتی) ہائے میری بدنصیبی ‘ خلیل (دوست) (اضلنی) مجھے بہکادیا ‘ (خذول) دغا باز۔ چھوڑ جانے والا ‘ تشریح آیت نمبر 21 تا 29 : جو لوگ اللہ پر ‘ آخرت اور اس کے رسول پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–24

(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ مشرک اور بےدین لوگوں سے جو کوئی نیک کام ہوتا ہے توہ نہ شرعیت کی پابندی سے ہوتا ہے اور نہ خالص اس نیت سے ہوتا ہے کہ آخرت میں ان کو ثواب ملے کیونکہ شریعت اور عقبی کے ثواب اور عذاب کے یہ لوگ منکر ہیں اس لیے کوئی نیک کام بارگاہ الٰہی میں مقبول نہیں آگے فرمایا ان نافرمان منکر لوگوں کے نیک عمل تو اس طرح قیامت کے دن اڑجائیں گے جس طرح آندھی میں ریت اڑ جاتی ہے اور فرمانبردار پابند شریعت لوگوں کے نیک عملوں کے بدلہ یہ ہوگا کہ ان نافرمان لوگوں کے دنیا کے عیش و آرام کے ٹھکانوں سے بہتر ٹھکانے انہیں جنت میں دیے جائیں گے جہاں پر یہ لوگ ہمیشہ آرام سے رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[13] اصل میں '' حجراً محجوراً '' استعمال ہوا ہے جس کا لفظی ترجمہ ہے روک آڑ (کی گئی) ۔ یعنی ہم میں اور فرشتوں میں آڑ ہو کہ ان کی صورت ہم کو دکھائی نہ دے۔ اس کے لئے اردو کا محاورہ '' خدا کی پناہ '' اختیار کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 21–24

مکہ والوں کے عجیب عجیب اعتراضات 1: مشرکین مکہ کا نبوت وبعثت کے متعلق اعتراضات کرنا مشہور ہے اور اصل وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ حضور ﷺ کی فضیلت اور بزرگی کو تسلیم کریں ۔ یہ بات ان کے لئے گراں تھی ۔ کہ وہ اپنی نحوت اور غرور طبعی کو بالائے طاق رکھ کر یہ تسلیم کریں کہ حضور ﷺ ان میں سب سے زیادہ بہتر اور اعلیٰ انسان ہیں اس لئے طرح طرح کے اعتراضات تراشتے رہتے تھے ۔ کبھی کہتے آپ چونکہ انسان ہیں اس لئے عہدہ نبوت اور رسالت کے لائی نہیں کبھی کہتے کہ آپ کے پاس آسمان سے خزائن نازل نہیں ہوتے اس لئے آپ عنداللہ معزز ومفتخر نہیں اور کبھی کہتے کہ ہم فرشتوں کو دیکھنا چاہتے ہیں پھر اس سے بھی بڑھ کر یہ کہتے کہ ہم کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(22) جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن گناہ گاروں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں ہوگی اور کوئی بشارت ان کو نصیب نہ ہوگی اور ان کو دیکھ کر یہ مجرم یوں کہیں گے کہ ہمارے اور ان کے درمیان کوئی اوٹ اور آڑ حائل کردی جائے غالباً یہ دیکھنا قیامت کے دن ہوگا اس دن فرشتے ان کو کوئی بشارت اور خوش خبری نہیں دیں گے بلکہ یہ آن کی ہیبت ناک شکلیں دیکھ کر کہیں گے کہ ہمارے ان فرشتوں کے درمیان کوئی اوٹ اور آڑ حائل ہوائے کہ ہم ان کی صورتیں دکھائی نہ دیں یعنی ان کو دیکھ کر پناہ پناہ پکاریں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دیکھنا موت کے وقت کا دیکھنا ہو اور جس طر ح فرشتے مومنین کو جنت کی بشارت دیتے ہوئے آتے ہیں وہ بشارت ان…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس روز یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ روز ان کے لئے خوشی کا نہیں ہوگا : 22۔ ان کو معلوم نہیں انہوں نے صرف فرشتوں کا نام سن رکھا ہے لیکن جہاں فرشتے خوشخبریاں سنانے والے ہوتے ہیں وہاں فرشتے کڑیاں لگانے کے لئے بھی اتارے جاتے ہیں ظاہر ہے کہ ان معاندین نے کوئی کام ایسا تو کیا نہیں کہ فرشتے انکو خوشخبری سنانے کے لئے آئیں جب یہ ساری زندگی اکڑتے اور اترتے ہی رہے تو ان کے پاس جب بھی فرشتے آئیں گے تو انکو جکڑنے کے لئے آئیں گے اور وہ آتے ہی ان کی پیٹھوں اور مونہوں پر تابڑ توڑ برسائیں گے اس لئے وہ دن یقینا اس کے لئے خوشی کا نہیں بلکہ نہایت مصیبت ہی کا دن ہوگا اور وہ اس وقت ان سے پناہ طلب کریں گے۔ حجرا کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–23

حِجْرً‌ا مَّحْجُورً‌ا (25:22) The literal meaning of حِجر is protection, and مَّحْجُورًا is fully protected. This word was used in Arabic language at the time of danger, when there was a danger in sight. The word was used to seek protection - that is to ask for protection against the imminent danger. Likewise, on the Dooms Day when the infidels will see angels approaching toward them with chastisement, they will utter this word as per their habit in this world to seek protection. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ has described the meaning of this word حَرَاماً مُحَرَّماً (that is banned,…

Read the full tafseer →