Explained with ayahs 20–24
کافر جو اس بات پر اعتراض کرتے تھے کہ نبی کو کھانے پینے اور تجارت بیوپار سے کیا مطلب ؟ اس کا جواب ہو رہا ہے کہ اگلے سب پیغمبر بھی انسانی ضرورتیں بھی رکھتے تھے کھانا پینا ان کے ساتھ بھی لگا ہوا تھا۔ بیوپار، تجارت اور کسب معاش وہ بھی کیا کرتے تھے یہ چیزیں نبوت کے خلاف نہیں۔ ہاں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنی عنایت خاص سے انہیں وہ پاکیزہ اوصاف نیک خصائل عمدہ اقوال مختار افعال ظاہر دلیلیں اعلیٰ معجزے دیتا ہے کہ ہر عقل سلیم والا ہر دانا بینا مجبور ہوجاتا ہے کہ ان کی نبوت کو تسلیم کرلے اور ان کی سچائی کو مان لے۔ اسی آیت جیسی اور آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 37
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم۔ ابراہیم، حواشی 25۔ 26۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور ہم (اس روز) ان کے (یعنی کفار کے) ان (نیک) کاموں کی طرف جو کہ وہ (دنیا میں) کرچکے تھے متوجہ ہوں گے سو ان کو (علانیہ طور پر) ایسا (بیکار) کردیں گے جیسے پریشان غبار (کہ کسی کام نہیں آتا، اسی طرح ان کفار کے اعمال پر کچھ ثواب نہ ہوگا البتہ) اہل جنت اس روز قیام گاہ میں بھی اچھے رہیں گے اور آرامگاہ میں بھی خوب اچھے ہوں گے (مراد مستقر اور مقیل سے جنت ہے یعنی جنت ان کے لئے جائے قیام اور جائے آرام ہوگی اور اچھا ہونا اس کا ظاہر ہے) اور جس روز آسمان ایک بدلی پر سے پھٹ جائے گا اور (اس بدلی کے ساتھ آسمان سے) فرشتے (زمین پر) بکثرت اتارے جائیں گے (اور اسی وقت حق تعالیٰ حساب و کتاب کے لئے تجلی…
Read the full tafseer →متکبرین کے اعمال کی بےوقعتی
فرمایا کہ ان لوگوں کو اپنی جن خدمات اور جن کارناموں پر بڑا ناز ہے اور جن کی بنا پر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس دنیا میں بھی وہ ملک و قوم کے ہیرو سمجھے جانے کے حق دار ہیں اور اگر آخرت کوئی چیز ہے تو وہاں بھی ان کو پڑے سے بڑے مراتب ملیں گے ہم ان کے ان اعمال کو منتشر ذرات بنا کر اڑا دیں گے۔ اس لئے کہ ہمارے ہاں اس عمل کی کوئی قدر نہیں ہے جو خالص ہماری رضا کے لئے نہ کیا گیا ہو۔ قدمنا الی ماعملوا کے عمل کے اسلوب بیان سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ ہم خود آگے بڑھ کر ان کے ہر عمل کو ٹھکرا دیں گے، آخر وہ عمل بڑا ہو یا چھوٹا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے اعمال کی انتہائی تحقیر کی…
Read the full tafseer →23-1ھَبَاَء ان باریک ذروں کو کہتے ہیں جو کسی سوراخ سے گھر کے اندر داخل ہونے والی سورج کی کرن میں محسوس ہوتے ہیں لیکن اگر کوئی انھیں ہاتھ میں پکڑنا چاہے تو یہ ممکن نہیں ہے۔ کافروں کے عمل بھی قیامت والے دن ان ہی ذروں کی طرح بےحیثیت ہونگے، کیونکہ وہ ایمان و اخلاص سے بھی خالی ہونگے اور موافقت شریعت کی مطابقت بھی۔ یہاں کافروں کے اعمال کو جس طرح بےحیثیت ذروں کی مثل کہا گیا ہے۔ اسی طرح دوسرے مقامات پر کہیں راکھ سے، کہیں سراب سے اور کہیں صاف چکنے پتھر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ ساری تمثیلات پہلے گزر چکی ہیں ملاحظہ ہو (وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِيَ اِلَيَّ…
Read the full tafseer →8: جن اعمال کو انہوں نے نیکی سمجھ رکھا تھا، وہ آخرت میں گرد و غبار کی طرح بےحقیقت نظر آئیں گے۔ اور ان کے جو کام واقعی اچھے تھے، ان کا بدلہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا میں دے دیا ہوگا، لیکن آخرت میں تمام نیکیوں کے قبول ہونے کے لیے ایمان لازمی شرط ہے، اس لیے وہاں یہ نیکیاں بھی کام نہیں آئیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
درس نمبر 158 ایک نظر میں
اس سبق کا آغاز بھی اسی انداز سے ہوتا ہے جس سے درس سابق کا ہوا تھا اور مضمون بھی اسی انداز سے چلتا ہے ‘ البتہ یہاں مشرکین کے اعتراضات کا رخ رب تعالیٰ کی طرف ہے۔ یہاں وہ اللہ پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ کو اپنا لائحہ عمل دیتے ہیں۔ گویا اس سبق میں وہ اپنی سرکشی میں ترقی کرتے ہوئے رسول اللہ پر اعتراضات کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور خدا پر اعتراضات کرتے ہیں۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور دل جوئی کا ایک انداز ہے کہ یہ لوگ صرف آپ ہی پر اعتراضات نہیں کرتے بلکہ ان کی گستاخی اللہ کے جناب میں بھی ہے۔ البتہ یہاں جواب دینے کے بجائے نہایت ہی شتابی سے ان کو قیامت کے مناظر میں…
Read the full tafseer →4 یعنی وہ ہم کو بلاتے تھے تو ہم بھی آپہنچے، مگر ان کی عزت بڑھانے کو نہیں، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے اپنے زعم باطل کے موافق جو بھلے کام کیے تھے جن پر بڑا بھروسہ تھا انھیں ہم قطعاً ملیامیٹ کردیں اور اس طرح بےحقیقت کر کے اڑا دیں جیسے خاک کے حقیر ذرات ہوا میں ادھر ادھر اڑ جایا کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ اعمال روح اخلاص و ایمان سے یکسر خالی یا طریق حق کے بالکل متضاد واقع ہوئے ہیں۔ قال تعالیٰ (مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِۨ اشْـتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ ) 14 ۔ ابراہیم :18) وغیرہ ذلک من الآیات۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
آیت 23 وَقَدِمْنَآ اِلٰی مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ہَبَآءً مَّنْثُوْرًا ”
یہ بہت عبرتناک منظر کی تصویر ہے۔ یہ دراصل ایسی نیکیوں کا ذکر ہے جن کی بنیاد ایمان حقیقی پر نہیں رکھی گئی تھی۔ آخرت میں ایسے اعمال کی حیثیت اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی فضول اور قابل حقارت چیز کی سی ہوگی جسے کوئی دیکھتے ہی فٹ بال کی طرح ٹھوکر مار کر ہوا میں اچھال دے۔ یہ ان دنیا پرست اور ریاکار لوگوں کے انجام کا نقشہ ہے جو ظاہر کی نیکیوں کے انبار لے کر میدان محشر میں آئیں گے۔ دنیا میں انہوں نے خیراتیں بانٹی تھیں ‘ یتیم خانے کھولے تھے ‘ ہسپتال بنائے تھے ‘ مسجدیں تعمیر کرائی تھیں ‘ مدارس کی سرپرستی کی تھی ‘ حج و…
Read the full tafseer →33 کفار مکہ مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ گر تم کچھ اچھے کام کرتے ہو تو ہم بھی بہت سے اچھے کام کرتے ہیں۔ ہم حاجیوں کی خبرگیری کرتے ہیں۔ انھیں پانی پلانے کا انتظام کرتے ہیں۔ ان کی امداد کرتے ہیں۔ غریبوں مسکینوں اور بیواؤں کے لئے فنڈ اکٹھا کرتے ہیں اور انھیں وظیفے دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
یہاں کافروں کے ایسے ہی اچھے اعمال کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ہم ان کے ایسے اعمال کی طرف بڑھیں گے تو انھیں اڑتا غبار بنادیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ انہوں نے یہ اعمال اس غرض سے تو کئے ہی نہیں تھے کہ ان کو آخرت میں ان کا بدلہ ملے۔ کیونکہ وہ آخرت پر تو یقین ہی نہیں رکھتے تھے۔ ان کے اعمال کی کچھ بنیاد ہی نہ تھی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
27۔ ماجرا قیامت کا بیان ہورہا ہے۔ کافروں کو اپنے اپنے جن جن اعمال پر غرہ ہوگا کہ ہم نے دنیا میں فلاں فلاں اعمال خیر بھی تو کیے ہیں، چونکہ وہ ایمان سے خالی ہوں گے قیامت کے دن انہیں غبار پریشان کی طرف بالکل بےمصرف کرکے دکھا دیا جائے گا۔ (آیت) ” مستقرا ....... ومقیلا “۔ مستقر جائے قیام اور مقیل جائے آرام دونوں سے مراد جنت ہے۔ اور جنت کا ہر حیثیت سے بہترین ہونا ظاہر ہے۔ صوفیہ نے (آیت) ” وقدمنا الی ماعملوا “۔ الخل “۔ سے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ بدون باطن کے محض ظاہری عمل ہرگز معتبر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–34
آیت نمبر 21 تا 34
ترجمہ : جو لوگ ہمارے سامنے پیش ہونے سے اندیشہ نہیں کرتے یعنی بعث (بعد الموت) کا خوف نہیں رکھتے وہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے ؟ کہ ہماری طرف رسول ہوں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیتے پھر ہمیں وہ یہ بات تباتے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا ان لوگوں نے اپنے دلوں میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ لیا ہے اور دنیا ہی میں اللہ کی رویت کا مطالبہ کرکے بڑی سرکشی کی ہے اور عَتَوْ واؤ کے ساتھ اپنی اصل پر ہے بخلاف عُتِیَ کے ابدال کے ساتھ سورة مریم میں جس روز یہ منجملہ خلائق کے فرشتوں کو دیکھیں گے اور (یومَ ) کا نصب اذکر فعل مقدر کی وجہ سے ہے، اس روز مجرموں یعنی…
Read the full tafseer →وقدمنا الی ما عملوا من عمل فجلعنہ ہبآء منثورا۔ اور ہم ان کے ان (نیک) اعمال کی طرف
جو وہ (دنیا میں) کرچکے تھے متوجہ ہوں گے سو ان کو ایسا کردیں گے جیسے پریشان غبار۔
مِنْ عَمَلٍیعنی کافروں کے اچھے اعمال جیسے مہمان نوازی ‘ کنبہ پوری ‘ رشتہ داروں سے حسن سلوک ‘ مصیبت زدہ کی مدد وغیرہ۔
ہَبَآءً مَّنْثُوْرًا یعنی بےکار ‘ رائیگاں جس کا آخرت میں کوئی ثواب نہ ہوگا ‘ کیونکہ ثواب کی شرط ہے ایمان اور محض اللہ کے لئے نیکی کرنا اور یہ دونوں شرطیں کافروں کے اعمال میں مفقود ہیں۔
حضرت علی ؓ نے فرمایا ہباء ان ذروں کو کہتے ہیں جو روشندانوں (اور کو اڑوں) کے شگافوں سے سورج کی روشنی پر غبار کی طرح نظر آتے ہیں ‘ مگر…
Read the full tafseer →(23) اور ہم اس روز ان کے ان نیک کاموں کی طرف جو کہ وہ دنیا میں کرچکے تھے متوجہ ہوں گے تو آخرت میں ان کو ایسا بےکار کردیں گے جیسا کہ جانوروں کے قدموں سے دھول اڑتی ہے یا یہ کہ ایسا کردیں گے جیسا کہ کسی کمرہ میں سوراخ میں سے دھوپ کی روشنی جاتی ہے اور اس روشنی میں غبار کی سی ایک لکیر نظر آتی ہے پر اس کو کوئی ہاتھ میں نہیں لے سکتا اسی طرح ان کے اعمال کو ختم کردیں گے۔
Read the full tafseer →وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ۔۔ : ”هَبَاۗءً“ غبار کے ان ذرّات کو کہتے ہیں جو روشن دان کے ذریعے سے کمرے میں آنے والی دھوپ میں چمک رہے ہوتے ہیں، پکڑنا چاہیں تو کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ کوئی شخص جسے کسی چیز سے شدید کراہت و نفرت ہو وہ اسے کسی دوسرے کے ہاتھوں تباہ و برباد کرنے پر قناعت نہیں کرتا، بلکہ وہ خود اسے تباہ و برباد کرتا ہے، اس لیے فرمایا کہ جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے، دنیا میں دیکھیں یا آخرت میں، تو انھوں نے اپنے خیال میں جو بھی اچھا عمل کیا ہوگا، خواہ سخاوت ہو یا صلہ رحمی یا مظلوم کی مدد یا بیت اللہ کی آباد کاری اور حاجیوں کی خدمت وغیرہ، ہم خود اس کی طرف آئیں گے اور اسے بکھرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
(وقال الذین لا یرجون۔۔۔۔۔۔۔ )
وقال الذین لا یرجون لقاء ناوہ ارادہ کرتا ہے وہ دوبارہ اٹھائے جانے اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے نہیں ڈرتے یعنی وہ اس چیز پر ایمان نہیں رکھتے، شاعر نے کہا :
اذا لسغتہ النحل لم یرج السعھا
جب شہد کی مکھیاں اس کو ڈنگ ماریں تو اس کے ڈنگ کا خوف نہیں کرتا۔
اس قول یہ کیا گیا ہے : لا یرجعون کا معنی ہے وہ پرواہ نہیں کرتے شاعر نے کہا :
لعمرک ما ارجو اذا کنت مسلما علی ای جنب کان فی اللہ مصرعی
تیری زندگی کی قسم ! جب میں مسلمان ہوں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر میری موت کس پہلو پر واقع ہوتی ہے۔
ابن شجرہ نے کہا : وہ امید نہیں رکھتے، شاعر نے کہا :
اترجو…
Read the full tafseer →1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وقدمنا الی ما عملوا من عمل سے مراد ہے کہ ہم متوجہ ہوں گے ان کاموں کی طرف جو انہوں نے دنیا میں بڑے کام کیے مگر ان کو قبولیت حاصل نہ ہوئی۔
2۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ہباء منثورا “ میں ” الھبا “ سے مراد سورج کی شعاع جو سوراخ سے نکلتی ہے۔
3۔ عبدالرزاق والفریابی وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ” الہباء “ سے مراد ہے غبار والی ہوا جو پھیل جاتی ہے پھر ختم ہوجاتی ہے اور اس میں سے کوئی چیز…
Read the full tafseer →وَقَدِمْنَآ [ اور ہم نے ارادہ کیا ] اِلٰى مَا [ اس کی طرف جو ] عَمِلُوْا [ انہوں نے عمل کئے ] مِنْ عَمَلٍ [ کوئی بھی عمل ] فَجَـعَلْنٰهُ [ تو ہم نے کردیا اس کو ] هَبَاۗءً مَّنْثُوْرًا [ ایک بکھیرا ہوا غبار ]
ھـ ب و
(ن) ھبوا آہستہ چلنا۔ غبار کا بلند ہونا
ھباء مٹی کے باریک ذرات جو فضا میں پھیلے ہوتی ہیں۔ غبار۔ زیر مطالعہ آیت۔ 23
ن ث ر
(ن ۔ ض) نثرا کسی چیز کو بکھیرنا۔
منشور بکھیرا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 23 ۔
(افتعال) انتثار کسی چیز کو بکھر جانا۔ وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ (اور جب تارے بکھر جائیں گے) ۔ 82/2 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
پھر فرمایا (یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلآءِکَۃَ ) (الآیۃ) اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ وقت بھی آنے والا ہے جبکہ فرشتوں کو دیکھیں گے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا ہے اس سے موت کا دن مراد ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے قیامت کا دن مراد ہے مطلب یہ ہے کہ فرشتوں کو دیکھنے کا جو مطالبہ کر رہے ہیں اس کا وقوع بھی ہوجائے گا جب مرنے لگیں گے تو فرشتے نظر آجائیں گے لیکن اس وقت فرشتوں کی حاضری مکذبین کے حق میں نا مبارک ہوگی اس دن مجرمین یعنی مکذبین کے لیے کسی بھی طرح کی کوئی بشارت یعنی خوشخبری نہیں ہوگی موت کے وقت سے لے کر ابدالا باد ہمیشہ عذاب اور تکلیف میں رہیں گے جب قیامت کا دن ہوگا عذاب میں مبتلا ہوں گے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–31
منکرین نبوت کا چوتھا شبہ اور اس کا جواب
قال اللہ تعالیٰ وقال الذین لا یرجعون لقاء نا ...... الیٰ ..... ھادیا ونصیرا۔
(ربط) منکرین نبوت کا چوتھا شبہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں نازلکیے جو ہمارے سامنے آکر آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی شہادت دیتے کہ یہ شخص دعوائے نبوت میں صادق ہے یا ہم بلاوسطہ اللہ کو دیکھتے اور بلاوسطہ خود اللہ تعالیٰ سے آپکی بابت پوچھ لیتے اور اللہ تعالیٰ ہم کو خود بتلا دیتا کہ یہ شخص میرا نبی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جاہلانہ اور احمقانہ اور گستاخانہ اور مغرورانہ سوال کے جواب میں یہ ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ بڑے ہی سرکش اور متبکر ہیں کہ وہ اپنے آپ کو اس مرتبہ…
Read the full tafseer →19:۔ ” وقدمنا الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” قدمنا “ ارادہ کریں گے اور متوجہ ہوں گے قدمنا ای عمدنا (مظہری ج 7 ص 13) ۔ ” ھباء “ غبار یہ باطل کرنے اور ثواب نہ دینے سے کنایہ ہے ای باطلا لا ثواب لہ (معالم و خازن ج 5 ص 98) ۔ مشرکین و کفار دنیا میں جو نیک کام کرتے ہیں مثلاً صدقہ و خیرات اور صلہ رحم وغیرہ ان کا بدلہ ان کو کسی نہ کسی صورت میں دنیا ہی میں دے دیا جائیگا اور آخرت میں ان پر کوئی اجر وثواب نہیں ملے گا کیونکہ قبول اعمال کے لیے ایمان خالص شرط ہے جس سے مشرکین و کفار محروم ہیں۔ اس لیے ان کے تمام اعمال خیر باطل ہیں۔ ھباء منثورا ای باطلا لا ثواب لہ لفوات شرط الثواب علیہ من الایمان والاخلاص للہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
ربطِ آیات
اس سورة مبارکہ میں تمام بنیادی عقائد بیان کیے گئے ہیں ، میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے عقلی و نقلی دلائل ہیں ۔ قیامت اور جزائے عمل کا سلسلہ ہے نبوت و رسالت کا بیان اور اس پر اعتراض کرنے والوں کے باطل شکوک کا ازالہ ہے اس کے علاوہ دیگر بہت سی اخلاقی تعلیمات ہیں مگر زیادہ تر نبوت و رسالت کا بیان ہے کافر اور مشرک لوگ نبی آخر الزمان پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ کیسا نبی ہے جو کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ۔ ان کے نزدیک بشریت نبوت و رسالت کے منافی تھی ۔ اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ حضور ﷺ سے پہلے جتنے بھی نبی اور رسول دنیا میں آئے وہ سب کے سب انسان تھے ۔ وہ سارے کھانا…
Read the full tafseer →وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰہُ ہَبَاۗءً مَّنْثُوْرًا 23
قدم
وأكثر ما يستعمل القدیم باعتبار الزمان نحو : كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ [يس/ 39] ، وقوله : قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ [يونس/ 2] ، أي : سابقة فضیلة، وهو اسم مصدر، وقَدَّمْتُ كذا، قال : أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْواكُمْ صَدَقاتٍ [ المجادلة/ 13]
( ق د م ) القدم
عموما القدیم کا لفظ قدم باعتبار زمانہ یعنی پرانی چیز کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ [يس/ 39] کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ۔ اور آیت کریمہ : قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ [يونس/ 2] ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
وقدمنا الی ما عملوا من عمل سے اخیر تک اسی مناسبت کے سبب قیامت کا حال اور ان منکروں کا وبال و نکال بیان شروع کردیا جو ملائکہ کے دیکھنے کی خواہش کرتے ہیں اور وہ بھی تکبر کی راہ سے کہ رسول کا کہنا ہم نہیں مانتے ہمارے پاس خود فرشتے آنے چاہییں قدمنا الی ماعملوا یعنی وہ جو دنیا میں بارادہ ثواب یہ کفار کچھ عمل بھی کرتے ہیں ایمان و اعتقاد صحیح نہ ہونے کی وجہ سے اس دن ھباء منثورا یعنی نیست و نابود ہوجائیں گے کچھ کام نہ آویں گے ہاں ایماندار نیکو کار اس روز اچھے مقام میں ہوں گے۔
اس کے بعد اس دن کے چند اور حالات ہیبتناک بیان فرماتا ہے : (1) یوم تشقق السماء بالغمام ایک جگہ اور آیا ہے ھل ینظرون الاان…
Read the full tafseer →وَقَدِمْنَـآ اِلٰی مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰـہُ ھَبَـآئً مَّنْثُوْرًا۔ (الفرقان : 23)
(اور ہم ان کے ہر اس عمل کی طرف جو انھوں نے کیا ہوگا متوجہ ہوں گے اور اس کو پراگندہ غبار بنادیں گے۔ )
متکبرین کے اعمال کی حقیقت
دنیا میں ایسے لوگ ہر دور میں گزرے ہیں جو خدا کے انکار اور رسالت و نبوت کو قبول نہ کرنے کے باوجود دنیا میں بعض بھلائی کے کام بھی کرتے رہے اور بعض لوگوں نے محض اپنی شہرت اور عظمت کو اجالنے کے لیے بڑے بڑے کارنامے بھی انجام دیئے اور اسی بنا پر اپنی اپنی قوم سے توقع باندھی کہ وہ انھیں اپنا ہیرو تسلیم کریں۔ ایسے لوگ اولاً تو قیامت کے وجود ہی کو نہیں مانتے لیکن اگر کبھی بحث کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
فہم القرآن
ربط کلام : حق کا انکار کرنے والوں کے مقابلہ میں حق قبول کرنے والوں کا مرتبہ و مقام۔
جن لوگوں نے رب کی ذات اس کے رسول کی رسالت کا انکار کیا۔ بیشک دنیا میں وہ کتنے ہی اچھے عمل کرتے رہے۔ موت کے بعد ان کے اعمال ریت کے اڑتے ہوئے ذرّات کی طرح ہوجائیں گے۔ یعنی وزن اور قدر کے اعتبار سے ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی کیونکہ ان کے اعمال کے پیچھے عقیدہ توحید کا اقرار نبی آخر الزّمان کی رسالت پر ایمان اور قیامت کے حساب و کتاب پر یقین نہیں ہوگا۔ اس لیے ان کے اعمال اڑتے ہوئے ریت کے ذرّات کی مانند ہوں گے۔ نیک عمل کی قبولیت کے لیے تین بنیادی شرائط ہیں۔ ان میں کوئی ایک شرط مفقود ہو۔ تو انسان کے بڑے سے…
Read the full tafseer →بادشاہ کی مخالفت کی تمثیل :
23: وَقَدِمْنَآ اِلٰی مَا عمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ھَبَآ ئً مَنْشُوْرًا (اور ہم ان کے ان اعمال کی طرف جو وہ پہلے کرچکے تھے۔ متوجہ ہونگے پس ان کو بکھرا ہوا غبار بنادیں گے) یہ آیت ھباءؔ کی صفت ہے۔ یہاں قدوم کا کوئی مطلب نہیں لیکن ان لوگوں کے احوال اور اعمال کو جو وہ کفر کی حالت میں بھی انجام دیتے رہے مثلاً صلہ رحمی، مظلوم کی اعانت، میزبانی وغیرہ کو اس آدمی کی حالت کے ساتھ بطور تمثیل و تشبیہ بیان کیا جس نے اپنے بادشاہ کی مخالفت کی اور اس کا نافرمان ہوگیا۔ پس بادشاہ نے اس کے حمایتوں اور اس کے ہاتھوں میں جتنا کچھ تھا سب کا قصد کر کے سب کچھ کو تہس نہس کردیا اور…
Read the full tafseer →23۔ وقدمنا، متوجہ ہوئے ، الی ماعملوا من عمل فجعلناہ ھباء منثورا، بےکار رائیگاں بنادیں گے اس پر کوئی ثواب نہیں دیں گے کیونکہ انہوں نے اللہ رب العزت کے لیے نہیں کیا، ھباء کے معنی میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ حجرت علی نے فرمایا ھباء ان ذروں کو کہتے ہیں جو روشن دانوں کے شگافوں سے سورج کی روشنی پر غبار کی طرح نظر آتے ہیں مگر ہاتھ سے ان کو چھو نہیں سکتے اور نہ وہ سایہ میں نظر آتے ہیں۔ حسن، عکرمہ، اور مجاہد کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے پراگندہ جدا جدا۔
حضرتابن عباس ؓ عنہماقتادہ اور سعید بن جبیر نے فرمایا کہ ھباء اس دھول کو کہتے ہیں جس کو ہوا اڑاتی ہے اور بکھیرتی ہے۔ مقاتل نے کہا، ھباء منثورا ، وہ ذرات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
23۔ 24:۔ مشرک اور بےدین لوگوں سے جو نیک کام ہوتا ہے تو وہ نہ شریعت کی پابندی سے ہوتا ہے اور نہ خالص اس نیت سے ہوتا ہے کہ آخرت میں اس کا ثواب ان کو ملے کیونکہ شریعت اور عقبیٰ کے ثواب اور عذاب کے یہ لوگ منکر ہیں اس لیے جو نیک کام ان سے ہوتا ہے بغیر پابندی شریعت اور بغیر آخرت کے یقین کے محض رسم کے طور پر ہوتا ہے اور یہ ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ اس طرح کا نیک کام اللہ کی درگاہ میں مقبول نہیں ہے اس واسطے ایسے نیک عمل اللہ کے نزدیک اس طرح اڑ جانے کے قابل ہیں جس طرح آندھی میں ریت اڑ جاتی ہے اسی واسطے صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت 1 ؎ میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ‘ جو کوئی شخص ایسا کام کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
آیت 21 سے 23
وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ و وعید کو جھٹلایا، جن کے دل میں وعید کا خوف ہے نہ خالق سے ملاقات کی امید۔۔۔ انہوں نے کہا : (لو لاانزل علینا الملئکۃ او نری ربنا) یعنی فرشتے کیوں نہ اترے جو تیری رسالت کی گواہی دیتے اور تیری تائید کرتے یا مستقل رسول نازل ہوتے یا ہم اپنے رب کو دیکھتے وہ ہمارے ساتھ کلام کرتا اور خود کہتا کہ یہ میرا رسول ہے اس کی اتباع کرو ؟ رسول ﷺ کے ساتھ یہ معارضہ کسی اعتراض کی بناء پر نہیں بلکہ اس کا سبب صرف تکبر، تغلب اور سرکشی ہے۔ (لقد استکبروا فی انفسھم) ” انہوں نے اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ رکھا ہے۔ “ کیونکہ انہوں نے اس قسم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–48
پانی کے مسائل
قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
31 اہل کفر و باطل کے اعمال بےوزن وبے حقیقت : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ اہل کفر کے اعمال کو اس روز غبار پریشان کی طرح اڑا دیا جائے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی ان کے ایسے اعمال جو انہوں نے اپنے طور پر نیکی سمجھ کر کئے کرائے ہوں گے۔ مثلاً غریبوں کی پرورش، یتیموں کی خبر گیری، محتاجوں کو کھلانا پلانا، سڑکیں بنانا، ہسپتال قائم کرنا، فلاحی ادارے قائم کرنا وغیرہ وغیرہ۔ سو انکے ان تمام کاموں کو اس دن روزن دیوار سے داخل ہونے والی دھوپ میں اڑتے ہوئے نظر آنے والے ان بےوزن اور بےقدر و قیمت ذروں کی طرح غبار پریشان کر کے ضائع کردیا جائے گا۔ اور یہ وہاں پر ان کے کچھ بھی کام نہیں آسکیں گے۔ کیونکہ کفر و شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
سر کش اور نیک لوگوں کا انجام
تشریح : یہاں پھر میدان حشر کا نقشہ اور گنہگاروں کے تکبر کا انجام بڑے صاف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ وہ اس قدر غرور اور لاپرواہی میں بدمست ہوچکے تھے کہ مطالبہ کرتے کہ یا تو فرشتے یا خود اللہ ان سے بات کرے تو مانیں گے۔ تو فرشتے تو قیامت کے دن ہی دکھائی دیں گے تب توبہ کر اٹھیں گے اور اعمال بد تو ان کے ویسے ہی برباد ہوچکے ہوں گے تب ان کو اصل حقیقت کا یقین آئے گا۔ مگر اس وقت کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ ان کو اعمال بد کے نتیجہ میں بد ترین ٹھکانا مل چکا ہوگا۔ اور ان کے مقابلے میں نیک ‘ متقی ‘ پرہیزگار اور مقبول الٰہی لوگوں کو بہترین آرام دہ اور پر آسائش ٹھکانا جنت میں ملے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–34
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
یہ لوگ صرف اسی پر بس نہیں کرتے کہ آپ ﷺ کی ذات ہی پہ اعتراض کرتے ہیں انہیں آخرت کے انکار اور اللہ جل جلالہ کے روبرو پیشی سے انکار نے اس قدر گستاخ کردیا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ فرشتہ ہمارے پاس کیوں نہیں آتا نبی ہی کے پاس کیوں آتا اور اللہ جل جلالہ ہم سے بات کیوں نہیں کرتا ، اس قدر تکبر اور اپنی بڑائی میں اس قدر بڑھ چڑھ کر بات کر رہے ہیں لیکن ایک روز ایسا بھی ہوگا کہ یہ فرشتوں کو روبرو دیکھیں گے موت کے وقت بھی اور یوم قیامت بھی فرشتے تو ان کے سامنے ہوں گے مگر ایمان لانے اور غور وفکر سے راہ اپنانے کا وقت گذر چکا ہوگا اور ان بدکاروں کے لیے فرشتوں کا سامنے آنا کوئی سامان راحت…
Read the full tafseer →6 ۔ یعنی انہیں بالکل ضائع اور برباد کردیں گے جن سے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچ سکے گا کیونکہ ایمان و اخلاص اور شریعت کی موافقت کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہوسکتا۔ ” ھباء “ دراصل ان ذرات کو کہتے ہیں جو دھوپ کے ساتھ روشن دان کے راستے کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔ کفار کے اعمال کو ” سراب “ اور ” رماد “ سے بھی تشبیہ دی گئی ہے۔ (دیکھئے ابراہیم : 18 و نور :39)
Read the full tafseer →(25:23) قدمنا الی۔ ماضی جمع متکلم (باب سمع ) قدم مصدر۔ آگے بڑھنا۔ ہم آگے بڑھیں گے ہم متوجہ ہوں گے۔ لیکن اگر قدوم یا قدمان مصدر سے اسی باب سے آئے تو معنی سفر سے واپسی کے ہوں گے۔ یہاں ماضی بمعنی مستقبل استعمال ہوا ہے۔
ھبائ۔ اسم مفرد۔ باریک خاک۔ باریک ذرات۔ جو سورج کے رخ پر کواڑ کے سوراخوں میں سے دکھائی دیتے ہیں۔ جعلنہ کا مفعول ثانی ہے۔ مفعول اول ہ ضمیر واحد مذکر غائب ہے۔ منثورا۔ ھباء کی صفت ہے۔ بکھیرا ہوا۔ غیر منظوم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 29 :
(لایرجعون) وہ امید نہیں رکھتے ہیں ‘(لقائ) ملاقات ‘(عتو کبیر) بہت زیادہ۔ حد سے زیادہ بڑھنا ‘ (لا بشری) خوشخبری نہیں ہے ‘ (حجر) کوئی روک ۔ کوئی آڑ ‘( محجور) آڑ کھڑ کردی گئی ‘ (قدمنا) ہم آگے آئے ‘ (ھبائ) وہ ذرات جو سورج چمکنے سے نظر آتے ہیں ‘( منثور) اڑایا ہوا۔ پھیلا ہوا ‘(مستقر) ٹھکانا ‘(مقیل) آرام کی جگہ ‘ (تشقق) پھٹ جائے گی ‘ (الغمام) بادل ‘(عسیر) سخت۔ مشکل ‘(یعض) کاٹے گا ‘ (یلیتنی) ‘ اے کاش کہ میں ‘(یویلتی) ہائے میری بدنصیبی ‘ خلیل (دوست) (اضلنی) مجھے بہکادیا ‘ (خذول) دغا باز۔ چھوڑ جانے والا ‘
تشریح آیت نمبر 21 تا 29 :
جو لوگ اللہ پر ‘ آخرت اور اس کے رسول پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ مشرک اور بےدین لوگوں سے جو کوئی نیک کام ہوتا ہے توہ نہ شرعیت کی پابندی سے ہوتا ہے اور نہ خالص اس نیت سے ہوتا ہے کہ آخرت میں ان کو ثواب ملے کیونکہ شریعت اور عقبی کے ثواب اور عذاب کے یہ لوگ منکر ہیں اس لیے کوئی نیک کام بارگاہ الٰہی میں مقبول نہیں آگے فرمایا ان نافرمان منکر لوگوں کے نیک عمل تو اس طرح قیامت کے دن اڑجائیں گے جس طرح آندھی میں ریت اڑ جاتی ہے اور فرمانبردار پابند شریعت لوگوں کے نیک عملوں کے بدلہ یہ ہوگا کہ ان نافرمان لوگوں کے دنیا کے عیش و آرام کے ٹھکانوں سے بہتر ٹھکانے انہیں جنت میں دیے جائیں گے جہاں پر یہ لوگ ہمیشہ آرام سے رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
[14] یعنی کافروں نے اپنے زعم باطل کے موافق جو بھلے کام کئے تھے اور جن پر انھیں بڑا بھروسہ تھا انھیں ہم ملیامیٹ کردیں گے اور اس طرح بےحقیقت کر کے اڑا دیں گے جیسے خاک کے حقیر ذرات ہوا میں ادھر ادھر اڑ جایا کرتے ہیں، کیونکہ وہ اعمال روح ایمان سے یکسر خالی ہوں گے۔ یہ مضمون سورة ابراہیم کی آیت 18 میں بھی گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
مکہ والوں کے عجیب عجیب اعتراضات
1: مشرکین مکہ کا نبوت وبعثت کے متعلق اعتراضات کرنا مشہور ہے اور اصل وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ حضور ﷺ کی فضیلت اور بزرگی کو تسلیم کریں ۔ یہ بات ان کے لئے گراں تھی ۔ کہ وہ اپنی نحوت اور غرور طبعی کو بالائے طاق رکھ کر یہ تسلیم کریں کہ حضور ﷺ ان میں سب سے زیادہ بہتر اور اعلیٰ انسان ہیں اس لئے طرح طرح کے اعتراضات تراشتے رہتے تھے ۔ کبھی کہتے آپ چونکہ انسان ہیں اس لئے عہدہ نبوت اور رسالت کے لائی نہیں کبھی کہتے کہ آپ کے پاس آسمان سے خزائن نازل نہیں ہوتے اس لئے آپ عنداللہ معزز ومفتخر نہیں اور کبھی کہتے کہ ہم فرشتوں کو دیکھنا چاہتے ہیں پھر اس سے بھی بڑھ کر یہ کہتے کہ ہم کو…
Read the full tafseer →(23) اور ہم ان مجرموں کے ان اعمال کی جانب جو انہوں نے اپنے زعم میں اچھے سمجھ کر کئے تھے توجہ فرمائیں گے اور ان کے اعمال کو ایسا کردیں گے جیسے اڑتا ہوا غبار یعنی کفر کی بنیاد پر جو اعمال ان کافروں نے کئے تھے وہ سب بیکار کردئیے جائیں گے اور ان پر کوئی ثواب مرتب نہ ہوگا اور جس طر ح غبار کے پراگندہ ذرات بیکار ہوتے ہیں اسی طرح ان کے اعمال بھی بیکار اور بےنتیجہ ہوں گے۔
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی جس طرح غبار کسی کام نہیں آتا اسی طرح ان کفار کے اعمال پر کچھ ثواب نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →جن اعمال پر ان کو بڑا بھروسہ تھا وہ سب خاک بن کر اڑ جائیں گے :
23۔ یہ کون ہیں ؟ وہی قوم کے مذہبی اور سیاسی راہنما ، مذہبی اس لئے کہ ان کو اپنے حسب ونسب پر بڑا ناز تھا کہ ہم فلاں برزگ کی اولاد ہیں اس وقت ہماری وقعت اللہ کے ہاں بہت ہے اور یہ بھی کہ ان کو اپنی چلہ کشیوں پر بہت ناز ہے فرمایا ان کے وہ اعمال جن پر ان کو بڑا بھروسہ تھا وہ سب کے سب خاک کے ذروں کی طرح منتشر کرکے اڑا دیئے جائیں گے کیونکہ عامل میں ایمان اور عمل میں اخلاص مفقود تھا ، روشن دان سے جب دھوپ اندر آرہی ہو اس میں جو باریک باریک ڈرے اس روشنی کے بھی نظر آتے ہیں ان کو ھباء کہا جاتا ہے فرمایا ان کے ان اعمال اور ان کی رشتہ داریوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
حِجْرًا مَّحْجُورًا (25:22) The literal meaning of حِجر is protection, and مَّحْجُورًا is fully protected. This word was used in Arabic language at the time of danger, when there was a danger in sight. The word was used to seek protection - that is to ask for protection against the imminent danger. Likewise, on the Dooms Day when the infidels will see angels approaching toward them with chastisement, they will utter this word as per their habit in this world to seek protection. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ has described the meaning of this word حَرَاماً مُحَرَّماً (that is banned,…
Read the full tafseer →37 For explanation, see Ibrahim: 18 and E. N.'s 25, 26 thereof.
Read the full tafseer →