Explained with ayahs 20–24
کافر جو اس بات پر اعتراض کرتے تھے کہ نبی کو کھانے پینے اور تجارت بیوپار سے کیا مطلب ؟ اس کا جواب ہو رہا ہے کہ اگلے سب پیغمبر بھی انسانی ضرورتیں بھی رکھتے تھے کھانا پینا ان کے ساتھ بھی لگا ہوا تھا۔ بیوپار، تجارت اور کسب معاش وہ بھی کیا کرتے تھے یہ چیزیں نبوت کے خلاف نہیں۔ ہاں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنی عنایت خاص سے انہیں وہ پاکیزہ اوصاف نیک خصائل عمدہ اقوال مختار افعال ظاہر دلیلیں اعلیٰ معجزے دیتا ہے کہ ہر عقل سلیم والا ہر دانا بینا مجبور ہوجاتا ہے کہ ان کی نبوت کو تسلیم کرلے اور ان کی سچائی کو مان لے۔ اسی آیت جیسی اور آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
سورة الْفُرْقَان 38
یعنی میدان حشر میں جنت کے مستحق لوگوں کے ساتھ مجرمین سے مختلف معاملہ ہوگا۔ وہ عزت کے ساتھ بٹھائے جائیں گے اور روز حشر کی سخت دوپہر گزارنے کے لیے ان کو آرام کی جگہ دی جائے گی۔ اس دن کی ساری سختیاں مجرموں کے لیے ہوں گی نہ کہ نیکو کاروں کے لیے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے، حضور ﷺ نے فرمایا والذی نفسی بیدہ اِنّہ لیخفف علی المؤمن حتی یکون اخف علیہ من صلوۃ مکتوبۃ یصلیھا فی الدنیا " قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، قیامت کا عظیم الشان اور خوفناک دن ایک مومن کے لیے بہت ہلکا کردیا جائے گا، حتیٰ کہ اتنا ہلکا جتنا دنیا میں ایک فرض نماز پڑھنے کا وقت ہوتا ہے "۔ (مسند احمد…
Read the full tafseer →معارف و مسائل
خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا، مستقر، مستقل جائے قیام کو کہا جاتا ہے اور مقیل قیلولہ سے مشتق ہے دوپہر کو آرام کرنے کی جگہ کو مقیل کہتے ہیں اور اس جگہ مقیل کا ذکر خصوصیت سے شاید اس لئے بھی ہوا ہے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے روز حق تعالیٰ نصف النہار کے وقت ساری مخلوقات کے حساب کتاب سے فارغ ہوجاویں گے اور دوپہر کے سونے کے وقت اہل جنت جنت میں پہنچ جائیں گے اور اہل جہنم جہنم میں (قرطبی)
Read the full tafseer →یہ ان کے مقابل میں اہل جنت کا حال بیان ہوا کہ جن کو یہ اس دنیا میں نہایت حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہ اس دن بہترین مستقر اور اعلیٰ ترین آرامگاہ میں ہوں گے۔ مقیل قیلولہ کی جگہ کو کہتے ہیں لیکن یہ اپنے عام استعمال میں آرام گاہ اور عیش گاہ کے مفہوم میں آتا ہے۔ امراء القیس کا مصرع ہے فقل فی مفلس نحد متغیب (ایسی عیش گاہ میں عیش کرو جو ہر نحوست سے محفوظ ہے) خیر اور احسن یہاں تقابل کے مفہوم میں نہیں ہیں بلکہ یہ خوب ترین اور بہترین کے مفہوم میں ہیں۔ دوسرے مقام میں اس کی وضاحت ہم کرچکے ہیں۔
Read the full tafseer →24-1بعض نے اس سے یہ استدلال بھی کیا ہے کہ اہل ایمان کے لئے قیامت کا یہ ہولناک دن اتنا مختصر اور ان کا حساب اتنا آسان ہوگا کہ قیلولے کے وقت تک یہ فارغ ہوجائیں گے اور جنت میں یہ اہل خاندان اور حور عین کے ساتھ دوپہر کو آرام فرما ہونگے، جس طرح حدیث میں ہے کہ مومن کے لئے یہ دن اتنا ہلکا ہوگا کہ جتنے میں دنیا میں ایک فرض نماز ادا کرلینا (مسند احمد-475
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
9: اگرچہ سیاق وسباق کی روشنی میں یہاں قوم سے مراد کافر لوگ ہیں، لیکن یہ مسلمانوں کے لئے بھی ڈر نے کا مقام ہے کہ اگر مسلمان ہونے کے باوجود قرآن کریم کو پس پشت ڈال دیا جائے تو کہیں وہ بھی اس سنگین جملے کا مصداق نہ بن جائیں، اور نبی کریم ﷺ شفاعت کے بجائے شکایت پیش کریں، والعیاذ باللہ العلی العظیم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
درس نمبر 158 ایک نظر میں
اس سبق کا آغاز بھی اسی انداز سے ہوتا ہے جس سے درس سابق کا ہوا تھا اور مضمون بھی اسی انداز سے چلتا ہے ‘ البتہ یہاں مشرکین کے اعتراضات کا رخ رب تعالیٰ کی طرف ہے۔ یہاں وہ اللہ پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ کو اپنا لائحہ عمل دیتے ہیں۔ گویا اس سبق میں وہ اپنی سرکشی میں ترقی کرتے ہوئے رسول اللہ پر اعتراضات کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور خدا پر اعتراضات کرتے ہیں۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور دل جوئی کا ایک انداز ہے کہ یہ لوگ صرف آپ ہی پر اعتراضات نہیں کرتے بلکہ ان کی گستاخی اللہ کے جناب میں بھی ہے۔ البتہ یہاں جواب دینے کے بجائے نہایت ہی شتابی سے ان کو قیامت کے مناظر میں…
Read the full tafseer →5 یعنی یہ لوگ تو اس روز اس مصیبت میں گرفتار ہوں گے اور جن کی ہنسی اڑایا کرتے تھے وہ جنت میں خوب عیش و آرام کے مزے لوٹیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
آیت 23 وَقَدِمْنَآ اِلٰی مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ہَبَآءً مَّنْثُوْرًا ”
یہ بہت عبرتناک منظر کی تصویر ہے۔ یہ دراصل ایسی نیکیوں کا ذکر ہے جن کی بنیاد ایمان حقیقی پر نہیں رکھی گئی تھی۔ آخرت میں ایسے اعمال کی حیثیت اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی فضول اور قابل حقارت چیز کی سی ہوگی جسے کوئی دیکھتے ہی فٹ بال کی طرح ٹھوکر مار کر ہوا میں اچھال دے۔ یہ ان دنیا پرست اور ریاکار لوگوں کے انجام کا نقشہ ہے جو ظاہر کی نیکیوں کے انبار لے کر میدان محشر میں آئیں گے۔ دنیا میں انہوں نے خیراتیں بانٹی تھیں ‘ یتیم خانے کھولے تھے ‘ ہسپتال بنائے تھے ‘ مسجدیں تعمیر کرائی تھیں ‘ مدارس کی سرپرستی کی تھی ‘ حج و…
Read the full tafseer →34 قیامت کا دن ہمارے موجودہ حساب سے پچاس ہزار سال کا دن ہے۔ اس دن کی بھی، دوپہر اور شام ہوگی۔ حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دوپہر سے پہلے پہلے لوگوں کے حساب کتاب سے فارغ ہوجائیں گے۔ اہل جنت، جنت میں اور اہل دوزخ، دوزخ میں چلے جائیں گے اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل جنت دوپہر کے بعد جنت میں ہی جاکر سوئیں گے۔ کیونکہ قیولہ دوپہر کے بعد سونے کو اور مقیلاً دوپہر کے بعد سونے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ نیز حدیث میں آیا ہے کہ مومنوں یا اہل جنت کو یہ پچاس ہزار سال کا دن ایسا ہلکا محسوس ہوگا جیسے کسی فریضہ نماز کا وقت ہوتا ہے۔ ( بیہقی۔ بحوالہ مشکوۃ۔ کتاب الفتن۔ باب الحساب ذالقصاص والمیزان فیصل الثالث)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
27۔ ماجرا قیامت کا بیان ہورہا ہے۔ کافروں کو اپنے اپنے جن جن اعمال پر غرہ ہوگا کہ ہم نے دنیا میں فلاں فلاں اعمال خیر بھی تو کیے ہیں، چونکہ وہ ایمان سے خالی ہوں گے قیامت کے دن انہیں غبار پریشان کی طرف بالکل بےمصرف کرکے دکھا دیا جائے گا۔ (آیت) ” مستقرا ....... ومقیلا “۔ مستقر جائے قیام اور مقیل جائے آرام دونوں سے مراد جنت ہے۔ اور جنت کا ہر حیثیت سے بہترین ہونا ظاہر ہے۔ صوفیہ نے (آیت) ” وقدمنا الی ماعملوا “۔ الخل “۔ سے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ بدون باطن کے محض ظاہری عمل ہرگز معتبر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–34
آیت نمبر 21 تا 34
ترجمہ : جو لوگ ہمارے سامنے پیش ہونے سے اندیشہ نہیں کرتے یعنی بعث (بعد الموت) کا خوف نہیں رکھتے وہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے ؟ کہ ہماری طرف رسول ہوں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیتے پھر ہمیں وہ یہ بات تباتے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا ان لوگوں نے اپنے دلوں میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ لیا ہے اور دنیا ہی میں اللہ کی رویت کا مطالبہ کرکے بڑی سرکشی کی ہے اور عَتَوْ واؤ کے ساتھ اپنی اصل پر ہے بخلاف عُتِیَ کے ابدال کے ساتھ سورة مریم میں جس روز یہ منجملہ خلائق کے فرشتوں کو دیکھیں گے اور (یومَ ) کا نصب اذکر فعل مقدر کی وجہ سے ہے، اس روز مجرموں یعنی…
Read the full tafseer →اصحب الجنۃ یومئذ خیر مستقرا واحسن مقیلا۔ اہل جنت اس روز قیام گاہوں کے اعتبار
سے بھی اچھے اور آرامگاہوں کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں گے۔
مُسْتَقر قرارگاہ ‘ جہاں بیشتر اوقات میں آدمی ٹھہرتا ہے۔
مقیلاً ٹھکانا ‘ جس کی طرف آرام لینے اور بیویوں سے تمتع اندوز ہونے کے لئے آدمی رجوع کرتا ہے یا مقیل سے مراد ہے قیلولہ کا مقام۔ جنت میں خواب تو ہوگا ہی نہیں اس لئے (حقیقی معنی مراد نہیں ہوسکتے) مجازی معنی بطور تشبیہ مراد ہیں۔
ازہری نے کہا ‘ قیلولہ اور مقیل دوپہر کے وقت آرام لینے کو کہتے ہیں خواہ نیند نہ ہو کیونکہ اللہ نے وَاَحْسَنْ مَقِیْلاً فرمایا ہے اور جنت میں نیند نہیں ہوگی۔
لفظ احسن کے اندر اشارۂ خفی ہے…
Read the full tafseer →(24) البتہ رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ قیامت کے دن ابو جہل وغیرہ سے قیام گاہ میں بھی اچھے ہوں گے اور آرام گاہ میں بھی بہت اچھے ہوں گے۔
Read the full tafseer →اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا۔۔ : جہنمیوں کے ذکر کے ساتھ اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ وہ اس دن کفار سے ٹھکانے کے اعتبار سے نہایت بہتر اور آرام گاہ کے اعتبار سے کہیں اچھے ہوں گے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قیامت کے دن کفار کے لیے تو خیر کا وجود ہی نہیں ہوگا، پھر اہل جنت کا ٹھکانے اور آرام گاہ میں ان سے بہتر ہونے کا کیا مطلب ؟ جواب یہ ہے کہ دنیا میں کفار کو جو عیش و آرام میسر تھا اہل جنت اس دن اس سے کہیں اچھے ٹھکانے اور آرام گاہ میں ہوں گے، یا یہ بات جہنمیوں پر طنز کے طور پر کہی گئی ہے۔
وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا : اصل میں ”مَقِيْلًا“ کے لفظی معنی ہیں ”قیلولہ کرنے کی جگہ“ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
(وقال الذین لا یرجون۔۔۔۔۔۔۔ )
وقال الذین لا یرجون لقاء ناوہ ارادہ کرتا ہے وہ دوبارہ اٹھائے جانے اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے نہیں ڈرتے یعنی وہ اس چیز پر ایمان نہیں رکھتے، شاعر نے کہا :
اذا لسغتہ النحل لم یرج السعھا
جب شہد کی مکھیاں اس کو ڈنگ ماریں تو اس کے ڈنگ کا خوف نہیں کرتا۔
اس قول یہ کیا گیا ہے : لا یرجعون کا معنی ہے وہ پرواہ نہیں کرتے شاعر نے کہا :
لعمرک ما ارجو اذا کنت مسلما علی ای جنب کان فی اللہ مصرعی
تیری زندگی کی قسم ! جب میں مسلمان ہوں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر میری موت کس پہلو پر واقع ہوتی ہے۔
ابن شجرہ نے کہا : وہ امید نہیں رکھتے، شاعر نے کہا :
اترجو…
Read the full tafseer →1۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اصحب الجنۃ یومئذ خیر مستقرا واحسن مقیلا “ سے مراد ہے کہ بہترین منزل اور عمدہ ٹھکانہ ہوگا۔
2۔ ابن المنذر نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واحسن مقیلا “ سے مراد ہے لوٹنے کی جگہ۔
3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” خیر مستقرا واحسن مقیلا “ سے مراد ہے جنت کے بالا خانوں میں اس کا ٹھکانہ ہوگا اور ان کا حساب اس طرح سے ہوگا کہ ان کو اپنے رب کے سامنے ایک دفعہ پیش کیا جائے گا اور وہ آسان حساب ہوگا اور اس کی مثل یہ قول ہے آیت ” فاما من اوتی کتبہ بیمینہ، فسوف یحاسب حسابا یسیرا، وینقلب الی اھلہ مسرورا۔
4۔ ابن المالک الزہد…
Read the full tafseer →اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ [ جنت والے ] يَوْمَىِٕذٍ [ اس دن ] خَيْرٌ [ بہتر ہوں گے ] مُّسْتَــقَرًّا [ بلحاظ ٹھکانے کے ] وَّاَحْسَنُ [ زیادہ اچھے ہوں گے ] مَقِيْلًا [ بلحاظ آرام گاہ کے ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 24 ۔ میں بھی یومئذ سے مراد حشر کا دین ہے اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ میدان حشر میں جنت کے مستحق لوگوں کے ساتھ مجرمین سے مختلف معاملہ ہوگا۔ وہ عزت کے ساتھ بٹھائے جائیں گے اور روز حشر کی سخت دوپہر گزارنے کے لئے ان کو آرام کی جگہ دی جائے گی۔ اس دن کی ساری سختیاں مجرموں کے لئے ہوں گی نہ کہ نیکوکاروں کے لئے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ قیامت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
پھر فرمایا (یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلآءِکَۃَ ) (الآیۃ) اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ وقت بھی آنے والا ہے جبکہ فرشتوں کو دیکھیں گے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا ہے اس سے موت کا دن مراد ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے قیامت کا دن مراد ہے مطلب یہ ہے کہ فرشتوں کو دیکھنے کا جو مطالبہ کر رہے ہیں اس کا وقوع بھی ہوجائے گا جب مرنے لگیں گے تو فرشتے نظر آجائیں گے لیکن اس وقت فرشتوں کی حاضری مکذبین کے حق میں نا مبارک ہوگی اس دن مجرمین یعنی مکذبین کے لیے کسی بھی طرح کی کوئی بشارت یعنی خوشخبری نہیں ہوگی موت کے وقت سے لے کر ابدالا باد ہمیشہ عذاب اور تکلیف میں رہیں گے جب قیامت کا دن ہوگا عذاب میں مبتلا ہوں گے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–31
منکرین نبوت کا چوتھا شبہ اور اس کا جواب
قال اللہ تعالیٰ وقال الذین لا یرجعون لقاء نا ...... الیٰ ..... ھادیا ونصیرا۔
(ربط) منکرین نبوت کا چوتھا شبہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں نازلکیے جو ہمارے سامنے آکر آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی شہادت دیتے کہ یہ شخص دعوائے نبوت میں صادق ہے یا ہم بلاوسطہ اللہ کو دیکھتے اور بلاوسطہ خود اللہ تعالیٰ سے آپکی بابت پوچھ لیتے اور اللہ تعالیٰ ہم کو خود بتلا دیتا کہ یہ شخص میرا نبی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جاہلانہ اور احمقانہ اور گستاخانہ اور مغرورانہ سوال کے جواب میں یہ ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ بڑے ہی سرکش اور متبکر ہیں کہ وہ اپنے آپ کو اس مرتبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
20:۔ ” اصحب الجنۃ الخ “ یہ مومنوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ ” مستقرا “ رہنے سہنے کی جگہ۔ ” مقیلا “ استراحت کی جگہ۔ قیامت کے دن ایمان والوں کو رہنے سہنے اور استراحت کیلئے جنت میں جو مقام عطا ہوگا وہ کافروں کے ٹھکانے سے بدرجہا بہتر ہوگا۔ ” ویم تشقق السماء الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” الغمام “ سفید بادل مراد فرشتے ہیں۔ فرشتے اس کثرت سے نازل ہوں گے کہ ان کی مجموعی ہیئت سفید بادلوں کی طرح نظر آئیگی اس طرح ” سنزل الملئکۃ تنزیلا “ ما قبل کا بیان ہے اور واؤ تفسیریہ ہے یعنی قیامت کے دن آسمان پھٹ پڑے گا اور اس طرح فرشتوں کے بادلوں کے بادل نازل ہوں گے۔ ” الملک یومئذ الحق الخ “ بادشاہ تو دنیا میں بھی اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
ربطِ آیات
اس سورة مبارکہ میں تمام بنیادی عقائد بیان کیے گئے ہیں ، میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے عقلی و نقلی دلائل ہیں ۔ قیامت اور جزائے عمل کا سلسلہ ہے نبوت و رسالت کا بیان اور اس پر اعتراض کرنے والوں کے باطل شکوک کا ازالہ ہے اس کے علاوہ دیگر بہت سی اخلاقی تعلیمات ہیں مگر زیادہ تر نبوت و رسالت کا بیان ہے کافر اور مشرک لوگ نبی آخر الزمان پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ کیسا نبی ہے جو کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ۔ ان کے نزدیک بشریت نبوت و رسالت کے منافی تھی ۔ اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ حضور ﷺ سے پہلے جتنے بھی نبی اور رسول دنیا میں آئے وہ سب کے سب انسان تھے ۔ وہ سارے کھانا…
Read the full tafseer →اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا 24
صحب
الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة،
ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40]
( ص ح ب ) الصاحب
۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے ( الطوایل ) (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
وقدمنا الی ما عملوا من عمل سے اخیر تک اسی مناسبت کے سبب قیامت کا حال اور ان منکروں کا وبال و نکال بیان شروع کردیا جو ملائکہ کے دیکھنے کی خواہش کرتے ہیں اور وہ بھی تکبر کی راہ سے کہ رسول کا کہنا ہم نہیں مانتے ہمارے پاس خود فرشتے آنے چاہییں قدمنا الی ماعملوا یعنی وہ جو دنیا میں بارادہ ثواب یہ کفار کچھ عمل بھی کرتے ہیں ایمان و اعتقاد صحیح نہ ہونے کی وجہ سے اس دن ھباء منثورا یعنی نیست و نابود ہوجائیں گے کچھ کام نہ آویں گے ہاں ایماندار نیکو کار اس روز اچھے مقام میں ہوں گے۔
اس کے بعد اس دن کے چند اور حالات ہیبتناک بیان فرماتا ہے : (1) یوم تشقق السماء بالغمام ایک جگہ اور آیا ہے ھل ینظرون الاان…
Read the full tafseer →اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌمُّسْتَقَرًّاوَّاَحْسَنُ مَقِیْلاً ۔ (الفرقان : 24)
(اس دن جنت والے بہترین ٹھکانے اور نہایت خوب آرام گاہ میں ہوں گے۔ )
اہلِ جنت کا مقام و مرتبہ
کفار کے متکبر لوگ جو مسلمانوں کو نہایت حقارت سے دیکھتے تھے ان کا حال بیان کرنے کے بعد ان غریب اہل جنت کا حال بیان کیا جارہا ہے کہ وہ اس دن بہترین مستقر اور اعلیٰ ترین آرام گاہوں میں ہوں گے جبکہ کفار کو اس دن کی ہولناکی انتہائی کرب اور اذیت میں جلا رہی ہوگی اور ایک پل ان کو آرام سے گزارنا نصیب نہیں ہوگا، اپنے پسینے میں ڈوبے ہوئے اپنے ہولناک انجام سے وحشت زدہ موت سے بدتر صورتحال سے دوچار ہوں گے۔ لیکن ان کے مقابل دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
فہم القرآن
ربط کلام : حق کا انکار کرنے والوں کے مقابلہ میں حق قبول کرنے والوں کا مرتبہ و مقام۔
جن لوگوں نے رب کی ذات اس کے رسول کی رسالت کا انکار کیا۔ بیشک دنیا میں وہ کتنے ہی اچھے عمل کرتے رہے۔ موت کے بعد ان کے اعمال ریت کے اڑتے ہوئے ذرّات کی طرح ہوجائیں گے۔ یعنی وزن اور قدر کے اعتبار سے ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی کیونکہ ان کے اعمال کے پیچھے عقیدہ توحید کا اقرار نبی آخر الزّمان کی رسالت پر ایمان اور قیامت کے حساب و کتاب پر یقین نہیں ہوگا۔ اس لیے ان کے اعمال اڑتے ہوئے ریت کے ذرّات کی مانند ہوں گے۔ نیک عمل کی قبولیت کے لیے تین بنیادی شرائط ہیں۔ ان میں کوئی ایک شرط مفقود ہو۔ تو انسان کے بڑے سے…
Read the full tafseer →24: اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ یَوْمَپذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا (جنتی اس دن قرار گاہ کے اعتبار سے بہت بہتر ہونگے) مستقراً یہ تمیز ہے المستقر سے مراد وہ مکان ہے جس میں وہ اکثر اوقات بیٹھیں اور باتیں کریں گے۔ وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا (ٹھکانہ کے اعتبار سے بہت اچھے ہونگے) ۔ مقیلاًؔ سے وہ ٹھکانہ جس کی طرف آرام لینے اور بیویوں سے تمتع کرنے کیلئے رجوع کرتا ہو۔ جنت میں نیند نہیں ہے۔ لیکن حوروں کے ساتھ آرام کے مقام کو بطور تشبیہ مقیل فرمایا روایات میں ہے کہ حساب سے آدھے دن میں فراغت پالیں گے اور
اہل جنت جنت میں جاکر قیلولہ کریں گے اور اہل نار نار میں۔ احسنؔ کا لفظ لاکر تہکم مقصود ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
24۔ اصحاب الجنۃ یومئذ خیرامستقرا، مشرکین ، متکبرین سے زیادہ وہ آرام میں ہوں گے ۔ واحسن مقیلا، ان کے آرام کی جگہیں آرام دہ ہوں گی ۔ حضرت ابن مسعود کا بیان ہے کہ ان الفاظ سے آیا ہے کہ قیامت کا دن آدھا نہ ہونے پائے گا، کہ اہل جنت جنت میں اور اہل دوزخ دوزخ میں جاکرٹھہریں گے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی، ثم ان مرجعھم لاالی الجحیم، حضرت ابن مسعود کی قرات میں یہ آیت اسی طرح آئی ہے ازہری کا قول ہے قیلولہ اور مقیل نصف النہار کی استراحت کو کہتے ہیں اگرچہ اس کے ساتھ نیند نہ آئی ہو۔ واحسن مقیلا ، جنت میں نیند تو نہیں آئے گی۔ روایت میں آتا ہے کہ مومنوں کے لیے قیامت کا دن چھوٹا کردیاجائے گا، جیسے عصر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
23۔ 24:۔ مشرک اور بےدین لوگوں سے جو نیک کام ہوتا ہے تو وہ نہ شریعت کی پابندی سے ہوتا ہے اور نہ خالص اس نیت سے ہوتا ہے کہ آخرت میں اس کا ثواب ان کو ملے کیونکہ شریعت اور عقبیٰ کے ثواب اور عذاب کے یہ لوگ منکر ہیں اس لیے جو نیک کام ان سے ہوتا ہے بغیر پابندی شریعت اور بغیر آخرت کے یقین کے محض رسم کے طور پر ہوتا ہے اور یہ ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ اس طرح کا نیک کام اللہ کی درگاہ میں مقبول نہیں ہے اس واسطے ایسے نیک عمل اللہ کے نزدیک اس طرح اڑ جانے کے قابل ہیں جس طرح آندھی میں ریت اڑ جاتی ہے اسی واسطے صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت 1 ؎ میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ‘ جو کوئی شخص ایسا کام کرے…
Read the full tafseer →آیت 24
یعنی قیامت کے ہونل ناک اور سخت مصیبت والے دن (اصحب الجنۃ) ” اہل جنت “ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے، انہوں نے نیک کام کئے اور اپنے رب سے ڈرتے رہے۔ (خیر مستقرا) ” وہ بہتر ہوں گے باعتبار ٹھکانے کے “ جہنمیوں سے (واحسن مقیلا) ” اور خواب گاہ بھی عمدہ ہوگی۔ “ یعنی ان کا تھکانا جنت میں ہوگا، وہ آرام اور راحت میں قیلولہ کریں گے کیونکہ وہ کامل نعمتوں پر مشتمل، جن میں تکدر کا کوئی شائبہ تک نہ ہوگا، بہت اچھا اور مکمل طور پر آرام دہ ٹھکانا ہوگا۔ اس کے برعکس اہل جہنم کا ٹھکانا بہت برا ٹھکانا ہوگا۔۔۔ یہ اسلوب بیان اسم تفصیل کے اس باب تے تعلق رکھتا ہے جس میں دوسری طرف اس میں سے کوئی چیز نہیں ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–48
پانی کے مسائل
قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
31 اہل کفر و باطل کے اعمال بےوزن وبے حقیقت : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ اہل کفر کے اعمال کو اس روز غبار پریشان کی طرح اڑا دیا جائے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی ان کے ایسے اعمال جو انہوں نے اپنے طور پر نیکی سمجھ کر کئے کرائے ہوں گے۔ مثلاً غریبوں کی پرورش، یتیموں کی خبر گیری، محتاجوں کو کھلانا پلانا، سڑکیں بنانا، ہسپتال قائم کرنا، فلاحی ادارے قائم کرنا وغیرہ وغیرہ۔ سو انکے ان تمام کاموں کو اس دن روزن دیوار سے داخل ہونے والی دھوپ میں اڑتے ہوئے نظر آنے والے ان بےوزن اور بےقدر و قیمت ذروں کی طرح غبار پریشان کر کے ضائع کردیا جائے گا۔ اور یہ وہاں پر ان کے کچھ بھی کام نہیں آسکیں گے۔ کیونکہ کفر و شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
سر کش اور نیک لوگوں کا انجام
تشریح : یہاں پھر میدان حشر کا نقشہ اور گنہگاروں کے تکبر کا انجام بڑے صاف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ وہ اس قدر غرور اور لاپرواہی میں بدمست ہوچکے تھے کہ مطالبہ کرتے کہ یا تو فرشتے یا خود اللہ ان سے بات کرے تو مانیں گے۔ تو فرشتے تو قیامت کے دن ہی دکھائی دیں گے تب توبہ کر اٹھیں گے اور اعمال بد تو ان کے ویسے ہی برباد ہوچکے ہوں گے تب ان کو اصل حقیقت کا یقین آئے گا۔ مگر اس وقت کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ ان کو اعمال بد کے نتیجہ میں بد ترین ٹھکانا مل چکا ہوگا۔ اور ان کے مقابلے میں نیک ‘ متقی ‘ پرہیزگار اور مقبول الٰہی لوگوں کو بہترین آرام دہ اور پر آسائش ٹھکانا جنت میں ملے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–34
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
یہ لوگ صرف اسی پر بس نہیں کرتے کہ آپ ﷺ کی ذات ہی پہ اعتراض کرتے ہیں انہیں آخرت کے انکار اور اللہ جل جلالہ کے روبرو پیشی سے انکار نے اس قدر گستاخ کردیا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ فرشتہ ہمارے پاس کیوں نہیں آتا نبی ہی کے پاس کیوں آتا اور اللہ جل جلالہ ہم سے بات کیوں نہیں کرتا ، اس قدر تکبر اور اپنی بڑائی میں اس قدر بڑھ چڑھ کر بات کر رہے ہیں لیکن ایک روز ایسا بھی ہوگا کہ یہ فرشتوں کو روبرو دیکھیں گے موت کے وقت بھی اور یوم قیامت بھی فرشتے تو ان کے سامنے ہوں گے مگر ایمان لانے اور غور وفکر سے راہ اپنانے کا وقت گذر چکا ہوگا اور ان بدکاروں کے لیے فرشتوں کا سامنے آنا کوئی سامان راحت…
Read the full tafseer →7 ۔ اصل میں ” مقیل “ کے لفظی معنی ہیں ” قیلولہ کرنے کی جگہ ” اور قیلولہ گرمی میں دوپہر کے آرام کو کہتے ہیں اس لئے اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں ” قیامت کے روز ابھی دوپہر نہ ہوگی کہ جنتی لوگ حساب سے فارغ ہو کر جنت میں پہنچ جائیں گے اور وہاں قیلولہ کریں گے۔ مقصد یہ ہے کہ مومنوں کے لئے قیامت کا دن نہایت ہلکا ہوگا۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(25:24) اصحب الجنۃ۔ مضاف مضاف الیہ۔ آیت (25:15) میں ان کی طرف اشارہ ہے ہم المومنون المتقون۔ وہ وہی متقون ہوں گے جن کا ذکر آیت 15 میں ہے۔
خیر۔ بہتر۔ اچھا۔ اور احسن بہت اچھا، بہتر۔ تفضیل کا صیغہ۔ یا تو خیریت اور حسن کی زیادتی کو بیان کرنے کے لئے ہے کہ وہ خیریۃ المستقر او حسن المقیل کے انتہائی مدارج میں ہوں گے یا مقابلہ کیا ہے کفار کے تنعم، سامان عیش و عشرت سے جو انہیں دنیا میں حاصل رہا۔ مستقرا خیر کی تمیز ہے۔ مستقر اسم ظرف مکان۔ قرار گاہ ۔ یعنی جہاں تک ان کی قیام گاہ کا تعلق ہے وہ سب سے اچھے رہیں گے۔
مقیلا۔ اسم ظرف مکان وزمان۔ قیلولہ کرنے کی جگہ یا قیلولہ کرنے کا وقت ۔ قیلولۃ مصدر دوپہر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 29 :
(لایرجعون) وہ امید نہیں رکھتے ہیں ‘(لقائ) ملاقات ‘(عتو کبیر) بہت زیادہ۔ حد سے زیادہ بڑھنا ‘ (لا بشری) خوشخبری نہیں ہے ‘ (حجر) کوئی روک ۔ کوئی آڑ ‘( محجور) آڑ کھڑ کردی گئی ‘ (قدمنا) ہم آگے آئے ‘ (ھبائ) وہ ذرات جو سورج چمکنے سے نظر آتے ہیں ‘( منثور) اڑایا ہوا۔ پھیلا ہوا ‘(مستقر) ٹھکانا ‘(مقیل) آرام کی جگہ ‘ (تشقق) پھٹ جائے گی ‘ (الغمام) بادل ‘(عسیر) سخت۔ مشکل ‘(یعض) کاٹے گا ‘ (یلیتنی) ‘ اے کاش کہ میں ‘(یویلتی) ہائے میری بدنصیبی ‘ خلیل (دوست) (اضلنی) مجھے بہکادیا ‘ (خذول) دغا باز۔ چھوڑ جانے والا ‘
تشریح آیت نمبر 21 تا 29 :
جو لوگ اللہ پر ‘ آخرت اور اس کے رسول پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ مشرک اور بےدین لوگوں سے جو کوئی نیک کام ہوتا ہے توہ نہ شرعیت کی پابندی سے ہوتا ہے اور نہ خالص اس نیت سے ہوتا ہے کہ آخرت میں ان کو ثواب ملے کیونکہ شریعت اور عقبی کے ثواب اور عذاب کے یہ لوگ منکر ہیں اس لیے کوئی نیک کام بارگاہ الٰہی میں مقبول نہیں آگے فرمایا ان نافرمان منکر لوگوں کے نیک عمل تو اس طرح قیامت کے دن اڑجائیں گے جس طرح آندھی میں ریت اڑ جاتی ہے اور فرمانبردار پابند شریعت لوگوں کے نیک عملوں کے بدلہ یہ ہوگا کہ ان نافرمان لوگوں کے دنیا کے عیش و آرام کے ٹھکانوں سے بہتر ٹھکانے انہیں جنت میں دیے جائیں گے جہاں پر یہ لوگ ہمیشہ آرام سے رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
[14] یعنی کافروں نے اپنے زعم باطل کے موافق جو بھلے کام کئے تھے اور جن پر انھیں بڑا بھروسہ تھا انھیں ہم ملیامیٹ کردیں گے اور اس طرح بےحقیقت کر کے اڑا دیں گے جیسے خاک کے حقیر ذرات ہوا میں ادھر ادھر اڑ جایا کرتے ہیں، کیونکہ وہ اعمال روح ایمان سے یکسر خالی ہوں گے۔ یہ مضمون سورة ابراہیم کی آیت 18 میں بھی گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
مکہ والوں کے عجیب عجیب اعتراضات
1: مشرکین مکہ کا نبوت وبعثت کے متعلق اعتراضات کرنا مشہور ہے اور اصل وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ حضور ﷺ کی فضیلت اور بزرگی کو تسلیم کریں ۔ یہ بات ان کے لئے گراں تھی ۔ کہ وہ اپنی نحوت اور غرور طبعی کو بالائے طاق رکھ کر یہ تسلیم کریں کہ حضور ﷺ ان میں سب سے زیادہ بہتر اور اعلیٰ انسان ہیں اس لئے طرح طرح کے اعتراضات تراشتے رہتے تھے ۔ کبھی کہتے آپ چونکہ انسان ہیں اس لئے عہدہ نبوت اور رسالت کے لائی نہیں کبھی کہتے کہ آپ کے پاس آسمان سے خزائن نازل نہیں ہوتے اس لئے آپ عنداللہ معزز ومفتخر نہیں اور کبھی کہتے کہ ہم فرشتوں کو دیکھنا چاہتے ہیں پھر اس سے بھی بڑھ کر یہ کہتے کہ ہم کو…
Read the full tafseer →(24) اہل جنت اس دن با اعتبار قیام گاہ کے بھی بہتر ہوں گے اور با اعتبار آرام استراحت کے بھی اچھے ہوں گے یعنی ان کے مقابلہ میں اصحاب بہشت اور اہل جنت ہر اعتبار سے اچھے ہی اچھے اور بہتر ہی بہتر ہوں گے قیام گاہ بھی جملہ آفات بےمامون اور آرام و آسائش کا سامان بھی بےانتہا
Read the full tafseer →ف 3۔ مراد مستقر اور مقیل سے جنت ہے، یعنی جنت ان کے لئے جائے قیام اور جائے آرام ہوگی، اور اچھا ہونا اس کا ظاہر ہے۔
Read the full tafseer →اگر کوئی وقعت ہوگی تو وہ صرف اہل جنت ہی کی ہوگی کہ انکی جگہ آرام دہ ہوگی :
24۔ زیر نظر آیت میں میدان حشر کے روز کا ذکر کیا جارہا ہے کہ وہاں جنتیوں کے ساتھ جو سلوک ہوگا وہ بلاشبہ قابل رشک ہوگا اس لئے کہ ان کو عزت کے ساتھ بٹھایا جائے گا اور روز حشر کی سخت دوپہر گزارنے کے لئے ان کو آرام کی جگہ دی جائے گی اور اس دن کی ساری سختیاں تو مجرموں ہی کے لئے ہوں گی اہل جنت کی وہ پذیرائی ہوگی کہ ان کو وہی دنیا کی ساری سختیاں جو ان کے ساتھ معاندین ومنکرین کی تھیں کافور ہوجائیں گی اور ان کے قیلولہ کا وقت بھی نہایت شان و شوکت سے گزرے گا اگرچہ وہ نہایت مختصر ہوتا ہے ۔
Read the full tafseer →Commentary
خَيْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَأَحْسَنُ مَقِيلًا (The best in (terms of their) abode and best in (terms of their) resting-place - 25:24). Permanent residence is called مُّسْتَقَرًّ while مَقِيلً is derived from قَیلُولہ which means siesta. Hence مَقِيلً means the place for having siesta. Probably مَقِيلً is specifically mentioned here because it is referred in one of the traditions that on the Dooms day Allah Ta’ ala will complete reckoning of the entire creation by noon and the people of paradise will reach Paradise at the time of siesta and so will the condemned in the Hell. (Qurtubi)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
38 In contrast to the miserable plight of the disbelievers on the Day of Resurrection, the Believers will be protected from the hardships of that Day; they will be treated with honour and will have a blissful place for midday rest. According to a Tradition, the Holy Prophet said: "I declare on oath by AIIah, in Whose hand is my life, that the long, horrible Day of Resurrection will be made very short and light for a Believer, as short and light as the time taken in offering an obligatory Prayer." (Musnad Ahmad).
Read the full tafseer →