Al-Furqaan 25:25

Al-Furqaan · from ayah 25

25:25

وَیَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ تَنْزِیْلًا ۟وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡـغَمَامِ وَنُزِّلَ الۡمَلٰٓئِكَةُ تَنۡزِيۡلًا

اور جس دن آسمان ابر کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے نازل کئے جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [mention] the Day when the heaven will split open with [emerging] clouds, and the angels will be sent down in successive descent.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 3 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:25

آسمان کو چیرتا ہوا ایک بادل اس روز نمودار ہو گا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتار دیے جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جس دن آسمان ابر کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے نازل کئے جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جس دن آسمان بادل سمیت پھٹ جائے گا اور فرشتے لگاتار اتارے جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جس دن آسمان پھٹ کر ایک بادل کو راہ دے گا، اور فرشتے اس طرح اتارے جائیں گے کہ ان کا تار بندھ جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جس دن پھٹ جائے گا آسمان بادلوں سے اور فرشتے اتارے جائیں گے پوری طرح

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اس دن آسمان پھٹ کر بادل (کی طرح دھوئیں) میں بدل جائے گا اور فرشتے گروہ در گروہ اتارے جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جس دن آسمان بادل کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے اتارے جائیں گے، لگاتار اتارا جانا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس دن آسمان کو چیرتے ہوئے ایک بادل نمودار ہوگا اور فرشتوں کو پرے کے پرے اتار دیئے جائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جس دن کہ آسمان ایک بدلی کے ساتھ پھٹے گا اور فرشتوں کے پرے کے بعد پرے اتارے جائیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جس دن پھٹ پڑے گا آسمان بادل کے ساتھ اور اتار دیا جائے گا فرشتوں کو پرے پر پرے کے طور پر

— مولانا اسحاق مدنی

اور جس روز آسمان پھٹ جائے گا ایک بدلی پر سے اور فرشتے بکثرت اتارے جائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جس دن آسمان بادل کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے نازل کیے جائیں گے فوج در فوج

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جس دن آسمان ابر کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے نازل کیے جائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

On that Day, a cloud will appear rending the sky and the angels will be senthi down rank after rank.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The Day the sky will break open with a cloud, and the angels will be sent down in a majestic descent,

— Muhammad Taqi Usmani

The Day the sky will break open with a cloud, and the angels will be sent down in a majestic descent,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And (remember) the Day when the heaven shall be rent asunder with clouds, and the angels will be sent down, with a grand descending.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

A day when the heaven with the clouds will be rent asunder and the angels will be sent down, a grand descent.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [mention] the Day when the heaven will split open with [emerging] clouds, and the angels will be sent down in successive descent.

— Saheeh International

On that day the sky will be crystal blue, clear of clouds. The angels will descend in groups

— Muhammad Sarwar

And on the day when the heaven shall burst asunder with the clouds, and the angels shall be sent down descending (in ranks).

— Muhammad Habib Shakir

And on the Day whereon the heaven shall be rent asunderg from the q clouds and the angelhall be sent downll with a great descending.

— Abdul Majid Daryabadi

The Day the heaven shall be rent asunder with clouds, and angels shall be sent down, descending (in ranks),-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 25–29

فیصلوں کا دن قیامت کے دن جو ہولناک امور ہونگے ان میں سے ایک آسمان کا پھٹ جانا اور نورانی ابر کا نمودار ہونا بھی ہے جس کی روشنی سے آنکھیں چکا چوند ہوجائیں گی پھر فرشتے اتریں گے اور میدان محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے۔ پھر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کے لئے تشریف لائے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت (هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ اَمْرُ رَبِّكَ 33؀) 16۔ النحل :33) یعنی کہ انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بادلوں میں آئیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو سب انسانوں اور کل جنات کو ایک میدان میں جمع کرے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 24–25

سورة الْفُرْقَان 38 یعنی میدان حشر میں جنت کے مستحق لوگوں کے ساتھ مجرمین سے مختلف معاملہ ہوگا۔ وہ عزت کے ساتھ بٹھائے جائیں گے اور روز حشر کی سخت دوپہر گزارنے کے لیے ان کو آرام کی جگہ دی جائے گی۔ اس دن کی ساری سختیاں مجرموں کے لیے ہوں گی نہ کہ نیکو کاروں کے لیے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے، حضور ﷺ نے فرمایا والذی نفسی بیدہ اِنّہ لیخفف علی المؤمن حتی یکون اخف علیہ من صلوۃ مکتوبۃ یصلیھا فی الدنیا " قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، قیامت کا عظیم الشان اور خوفناک دن ایک مومن کے لیے بہت ہلکا کردیا جائے گا، حتیٰ کہ اتنا ہلکا جتنا دنیا میں ایک فرض نماز پڑھنے کا وقت ہوتا ہے "۔ (مسند احمد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–27

يَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاۗءُ بالْغَمَامِ ، ای عن الغمام، قرطبی۔ معنے یہ ہیں کہ آسمان شق ہو کر اس میں سے ایک رقیق بادل اترے گا جس میں فرشتے ہوں گے۔ یہ ابر بشکل سائبان آسمان سے آوے گا اور اس میں حق تعالیٰ کی تجلی ہوگی اور اس کے گردا گرد ملائکہ ہوں گے۔ یہ حساب شروع ہونے کا وقت ہوگا اور اس وقت آسمان کا پھٹنا صرف کھلنے کے طور پر ہوگا یہ وہ پھٹنا نہیں ہوگا جو پہلی نفخہ صور کے وقت آسمان زمین کو فنا کرنے کے لئے ہوگا کیونکہ یہ نزول غمام جس کا ذکر آیت میں ہے نفخہ ثانیہ کے بعد ہے جبکہ سب زمین و آسمان دوبارہ درست ہوچکے ہوں گے۔ (بیان القران)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 25–26

آیت 26-25) قیامت کے دن فرشتوں کا ظہور یہ بھی اسی جواب کا حصہ ہے جو اوپر فرشتوں کو دیکھنے کا مطالبہ کرنے والوں کو دیا گیا ہے۔ فرمایا کہ ان لوگوں کو چاہئے کہ اس دن کا تصور کریں جس دن آسمان پھٹے گا اور اس سے ایک بدلی نمودار ہوگی اور اس کے اندر سے فرشتوں کے پرے کے پرے، یکے بعد دیگرے، اتارے جائیں گے۔ فرمایا کہ اس دن کسی کی کچھ پیش نہیں جائے گی۔ جن معبودوں پر ان لوگوں کو بڑا ناز و اعتماد ہے وہ بھی ان کے کچھ کام آنے والے نہیں بنیں گے۔ حقیقی بادشاہی اس دن خدائے رحمان ہی کی ہوگی اور کافروں پر یہ دن بڑا ہی کٹھن ہوگا ! یہ امر محلوظ رہے کہ حقیقی اختیار اور حقیقی بادشاہی یوں تو ہمیشہ خدا ہی کی ہے لیکن اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 25–27

25-1اس کا مطلب یہ ہے کہ آسمان پھٹ جائے گا اور بادل سایہ فگن ہوجائیں گے، اللہ تعالیٰ فرشتوں کے جلو میں، میدان محشر میں، جہاں ساری مخلوق جمع ہوگی، حساب کتاب کے لئے جلوہ فرما ہوگا، جیسا کہ سورة بقرۃ آیت210سے واضح ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 24–30

9: اگرچہ سیاق وسباق کی روشنی میں یہاں قوم سے مراد کافر لوگ ہیں، لیکن یہ مسلمانوں کے لئے بھی ڈر نے کا مقام ہے کہ اگر مسلمان ہونے کے باوجود قرآن کریم کو پس پشت ڈال دیا جائے تو کہیں وہ بھی اس سنگین جملے کا مصداق نہ بن جائیں، اور نبی کریم ﷺ شفاعت کے بجائے شکایت پیش کریں، والعیاذ باللہ العلی العظیم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 21–29

درس نمبر 158 ایک نظر میں اس سبق کا آغاز بھی اسی انداز سے ہوتا ہے جس سے درس سابق کا ہوا تھا اور مضمون بھی اسی انداز سے چلتا ہے ‘ البتہ یہاں مشرکین کے اعتراضات کا رخ رب تعالیٰ کی طرف ہے۔ یہاں وہ اللہ پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ کو اپنا لائحہ عمل دیتے ہیں۔ گویا اس سبق میں وہ اپنی سرکشی میں ترقی کرتے ہوئے رسول اللہ پر اعتراضات کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور خدا پر اعتراضات کرتے ہیں۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور دل جوئی کا ایک انداز ہے کہ یہ لوگ صرف آپ ہی پر اعتراضات نہیں کرتے بلکہ ان کی گستاخی اللہ کے جناب میں بھی ہے۔ البتہ یہاں جواب دینے کے بجائے نہایت ہی شتابی سے ان کو قیامت کے مناظر میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 قیامت کے دن آسمانوں کے پھٹنے کے بعد اوپر سے بادل کی طرح کی ایک چیز اترتی نظر آئے گی جس میں حق تعالیٰ کی ایک خاص تجلی ہوگی۔ اسے ہم چترشاہی سے تعبیر کیے لیتے ہیں۔ شاید یہ وہی چیز ہو جسے ابو رزین کی حدیث میں " عَمَاء " سے اور نسائی کی ایک روایت میں جو معراج سے متعلق ہے " غَیَابَہُ " سے تعبیر کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ اس کے ساتھ بیشمار فرشتوں کا ہجوم ہوگا اور آسمانوں کے فرشتے اس روز لگاتار مقام محشر کی طرف نزول فرمائیں گے۔ دوسرے پارہ کے نصف کے قریب آیت (ھَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيَهُمُ اللّٰهُ فِيْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَقُضِيَ الْاَمْرُ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 23–25

آیت 23 وَقَدِمْنَآ اِلٰی مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ہَبَآءً مَّنْثُوْرًا ” یہ بہت عبرتناک منظر کی تصویر ہے۔ یہ دراصل ایسی نیکیوں کا ذکر ہے جن کی بنیاد ایمان حقیقی پر نہیں رکھی گئی تھی۔ آخرت میں ایسے اعمال کی حیثیت اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی فضول اور قابل حقارت چیز کی سی ہوگی جسے کوئی دیکھتے ہی فٹ بال کی طرح ٹھوکر مار کر ہوا میں اچھال دے۔ یہ ان دنیا پرست اور ریاکار لوگوں کے انجام کا نقشہ ہے جو ظاہر کی نیکیوں کے انبار لے کر میدان محشر میں آئیں گے۔ دنیا میں انہوں نے خیراتیں بانٹی تھیں ‘ یتیم خانے کھولے تھے ‘ ہسپتال بنائے تھے ‘ مسجدیں تعمیر کرائی تھیں ‘ مدارس کی سرپرستی کی تھی ‘ حج و…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

35 اس آیت کا ایک مطلب تو وہی ہے جو ترجمہ سے ظاہر ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جس مادہ سے آسمانوں کی تخلیق ہوئی تھی وہ پھر اسی مادہ میں واپس لوٹا دیئے جائیں گے۔ سورة فصلت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًااَوْ كَرْهًا ۭ قَالَتَآ اَتَيْنَا طَاۗىِٕعِيْنَ 11؀) 41 ۔ فصلت :11) (پھر اللہ تعالیٰ سباء ( بلندی) کی طرف متوجہ ہوا اور اس وقت وہ صرف دھواں تھا۔ اور دوسرے مقام پر فرمایا : آسمانوں اور زمین سب کچھ گڈ مڈ۔۔ اور جڑے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں کھول کر الگ الگ کردیا۔ (21: 30) پہلے ابتداً صرف دھواں ہی دھواں یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

28۔ (زمین پر) یہ وقت وہ ہوگا، جب صور کے نفخ ثانی کے بعد زمین و آسمان سب از سر نو درست ہوجائیں گے، حساب کتاب شروع ہورہا ہوگا حق تعالیٰ کی ایک تجلی خاص حساب و کتاب کی غرض سے ہوگی۔ ملائکہ اردگرد کثرت سے ہوں گے۔ سورة بقرہ کی آیت (آیت) ” ھل ینظرون الا ان یاتیھم اللہ فی ضلل من الغمام والملئکۃ “۔ الخ میں بھی اسی موقع کا ذکر ہے۔ (آیت) ” بالغمام “ میں ب یا تو مرادف عن کے ہے یا سببیہ ہے بہ معنی بسبب الغمام یا بسبب طلوعہ منھا۔ اور یا حالیہ ہے یعنی ملتبسۃ بالغمام (جمل) (آیت) ” تشقق السمآء “۔ آسمان کا یہ پھٹنا بطور کھلنے کے ہوگا جو پھٹنا بہ طور تخریب وافناء کے ہوگا وہ نفخ اول کے وقت ہوچکا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–34

آیت نمبر 21 تا 34 ترجمہ : جو لوگ ہمارے سامنے پیش ہونے سے اندیشہ نہیں کرتے یعنی بعث (بعد الموت) کا خوف نہیں رکھتے وہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے ؟ کہ ہماری طرف رسول ہوں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیتے پھر ہمیں وہ یہ بات تباتے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا ان لوگوں نے اپنے دلوں میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ لیا ہے اور دنیا ہی میں اللہ کی رویت کا مطالبہ کرکے بڑی سرکشی کی ہے اور عَتَوْ واؤ کے ساتھ اپنی اصل پر ہے بخلاف عُتِیَ کے ابدال کے ساتھ سورة مریم میں جس روز یہ منجملہ خلائق کے فرشتوں کو دیکھیں گے اور (یومَ ) کا نصب اذکر فعل مقدر کی وجہ سے ہے، اس روز مجرموں یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویوم تشقق السمآء بالغمام ونزل الملئکۃ تنزیلا۔ اور جس روز (طلوع) غمام کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا اور فرشتے اتارے جائیں گے یقینا۔ اس غمام سے وہی غمام مراد ہے جس کا ذکر آیت ہَلْ یَنْظُرُوْنَ الاَّ اَنْ یَّاْتِیَہُمُ اللّٰہُ فِی ظُلُلٍ مِّنَ الْضَامِ وَالْمَلٰءِکَۃُ ۔ میں کیا گیا ہے۔ سورة بقرہ کی تفسیر میں اس کا بیان گزر چکا ہے غمام ایک سفید باریک بادل کہر کی طرح ہوگا جو صرف بنی اسرائیل کے لئے (اس دنیا میں) وادی تیہ کے اندر اللہ نے نازل فرمایا تھا۔ بغوی نے لکھا ہے ب بمعنی عَنْ آتا ہے۔ عرب کہتے ہیں رَمَیْتُ السّہم بالقوس میں نے کمان سے تیر پھینکا۔ بالغمام میں بھی ب بمعنی عن ہے یعنی غمام پھٹ کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(25) اور نزول خداوندی کے لیے جس روز آسمان ایک بدلی پر سے پھٹ جائے گا اور فرشتے زمین پر ترتیب وار اتارے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاۗءُ بالْغَمَامِ۔۔ : ”يَوْمَ“ پر نصب محذوف ”اُذْکُرْ“ کی وجہ سے ہے، یعنی اس دن کو یاد کرو۔ ”تَشَقَّقُ“ اصل میں ”تَتَشَقَّقُ“ ہے، تخفیف کے لیے ایک تاء حذف کردی ہے۔ ”آسمان بادل کے ساتھ پھٹ جائے گا“ کا مطلب یہ ہے کہ آسمان پھٹ کر اس سے بادل نکلے گا، جیسا کہ کہا جاتا ہے : ”تَشَقَّقَتِ الْأَرْضُ بالنَّبَاتِ“ ”زمین نبات کے ساتھ پھٹی“ یعنی زمین پھٹ کر اس میں سے نبات نکلی۔ یعنی اس دن کو یاد کرو جب آسمان پھٹ کر اس میں سے سائبانوں کی صورت ایک بادل نکلے گا، جس میں فرشتے جماعتوں کی صورت میں لگا تار میدان محشر میں اتارے جائیں گے، جو زمین پر ہوگا۔ ابن کثیر ؓ نے فرمایا : ”اللہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 21–26

(وقال الذین لا یرجون۔۔۔۔۔۔۔ ) وقال الذین لا یرجون لقاء ناوہ ارادہ کرتا ہے وہ دوبارہ اٹھائے جانے اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے نہیں ڈرتے یعنی وہ اس چیز پر ایمان نہیں رکھتے، شاعر نے کہا : اذا لسغتہ النحل لم یرج السعھا جب شہد کی مکھیاں اس کو ڈنگ ماریں تو اس کے ڈنگ کا خوف نہیں کرتا۔ اس قول یہ کیا گیا ہے : لا یرجعون کا معنی ہے وہ پرواہ نہیں کرتے شاعر نے کہا : لعمرک ما ارجو اذا کنت مسلما علی ای جنب کان فی اللہ مصرعی تیری زندگی کی قسم ! جب میں مسلمان ہوں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر میری موت کس پہلو پر واقع ہوتی ہے۔ ابن شجرہ نے کہا : وہ امید نہیں رکھتے، شاعر نے کہا : اترجو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 25–26

1۔ عبد بن حمید وابن ابی الدنیا فی الاہوال وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت ” ویوم تشقق السماء بالغمام ونزل المئکۃ تنزیلا “ کے تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو ایک چٹیل میدان میں جمع فرمائیں گے جنات انسان جانور درندے اور پرندے اور ساری مخلوق کو جمع فرمائیں گے آسمان دنیا پھٹ جائے گا اور اس کے رہنے والے نیچے اتریں گے اور وہ زمین میں رہنے والے انسان جنات اور ساری مخلوق سے زیادہ ہوں گے اور وہ جنات کو انسانوں کو اور ساری مخلوق کو گھیر لیں گے اور وہ زمین والے کہیں گے کہ کیا تمہارے اندر ہمارے رب ہیں وہ کہیں گے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَيَوْمَ [ اور جس دن ] تَشَقَّقُ [ پھٹ جائے گا ] السَّمَاۗءُ [ آسمان ] بِالْغَمَامِ [ بادلوں کے ساتھ ] وَنُزِّلَ [ اور اراتارے جائیں گے ] الْمَلٰۗىِٕكَةُ [ فرشتے ] تَنْزِيْلًا [ جیسے بتدریج اتارے جاتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قیامت کے دن کا ہولناک منظر، کافر کی حسرت کہ کاش فلاں شخص کو دوست نہ بناتا ان آیات میں قیامت کے دن کی سختی اور ہولناکی اور مصیبت کو بیان فرمایا ہے اول تو یہ فرمایا کہ آسمان بادلوں سے پھٹ جائے گا قیامت کے دن آسمان کا پھٹنا دوسری آیات میں بھی مذکور ہے۔ کمافی قولہ تعالیٰ (اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ ) و قولہ تعالیٰ (اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ ) اور یہاں لفظ بالْغَمَامِ کا بھی اضافہ ہے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ بظاہر آسمان سے یہی آسمان مراد ہے جو ہمارے اوپر سایہ فگن ہے اور الغمام سے سحاب معروف یعنی بادل مراد ہیں اور باء سببیت کے لیے ہے مطلب یہ ہے کہ اس دن آسمان بادلوں کے طلوع ہونے کے سبب پھٹ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–31

منکرین نبوت کا چوتھا شبہ اور اس کا جواب قال اللہ تعالیٰ وقال الذین لا یرجعون لقاء نا ...... الیٰ ..... ھادیا ونصیرا۔ (ربط) منکرین نبوت کا چوتھا شبہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں نازلکیے جو ہمارے سامنے آکر آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی شہادت دیتے کہ یہ شخص دعوائے نبوت میں صادق ہے یا ہم بلاوسطہ اللہ کو دیکھتے اور بلاوسطہ خود اللہ تعالیٰ سے آپکی بابت پوچھ لیتے اور اللہ تعالیٰ ہم کو خود بتلا دیتا کہ یہ شخص میرا نبی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جاہلانہ اور احمقانہ اور گستاخانہ اور مغرورانہ سوال کے جواب میں یہ ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ بڑے ہی سرکش اور متبکر ہیں کہ وہ اپنے آپ کو اس مرتبہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 24–26

20:۔ ” اصحب الجنۃ الخ “ یہ مومنوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ ” مستقرا “ رہنے سہنے کی جگہ۔ ” مقیلا “ استراحت کی جگہ۔ قیامت کے دن ایمان والوں کو رہنے سہنے اور استراحت کیلئے جنت میں جو مقام عطا ہوگا وہ کافروں کے ٹھکانے سے بدرجہا بہتر ہوگا۔ ” ویم تشقق السماء الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” الغمام “ سفید بادل مراد فرشتے ہیں۔ فرشتے اس کثرت سے نازل ہوں گے کہ ان کی مجموعی ہیئت سفید بادلوں کی طرح نظر آئیگی اس طرح ” سنزل الملئکۃ تنزیلا “ ما قبل کا بیان ہے اور واؤ تفسیریہ ہے یعنی قیامت کے دن آسمان پھٹ پڑے گا اور اس طرح فرشتوں کے بادلوں کے بادل نازل ہوں گے۔ ” الملک یومئذ الحق الخ “ بادشاہ تو دنیا میں بھی اللہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 21–29

ربطِ آیات اس سورة مبارکہ میں تمام بنیادی عقائد بیان کیے گئے ہیں ، میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے عقلی و نقلی دلائل ہیں ۔ قیامت اور جزائے عمل کا سلسلہ ہے نبوت و رسالت کا بیان اور اس پر اعتراض کرنے والوں کے باطل شکوک کا ازالہ ہے اس کے علاوہ دیگر بہت سی اخلاقی تعلیمات ہیں مگر زیادہ تر نبوت و رسالت کا بیان ہے کافر اور مشرک لوگ نبی آخر الزمان پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ کیسا نبی ہے جو کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ۔ ان کے نزدیک بشریت نبوت و رسالت کے منافی تھی ۔ اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ حضور ﷺ سے پہلے جتنے بھی نبی اور رسول دنیا میں آئے وہ سب کے سب انسان تھے ۔ وہ سارے کھانا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاۗءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ تَنْزِيْلًا۝ 25 شق الشَّقُّ : الخرم الواقع في الشیء . يقال : شَقَقْتُهُ بنصفین . قال تعالی: ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا[ عبس/ 26] ( ش ق ق ) الشق ۔ شگاف کو کہتے ہیں ۔ شففتہ بنصفین میں نے اسے برابر دو ٹکڑوں میں کاٹ ڈالا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا[ عبس/ 26] پھر ہم نے زمین کو چیرا پھاڑا ۔ غم الغَمُّ : ستر الشیء، ومنه : الغَمَامُ لکونه ساترا لضوء الشمس . قال تعالی: يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمامِ [ البقرة/ 210] . والغَمَّى مثله، ومنه : غُمَّ الهلالُ ، ويوم غَمٌّ ، ولیلة غَمَّةٌ وغُمَّى،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 25–26

1 ؎ یہ قیامت برپا ہونے کے بعد حشر کے دربار عدالت کی کیفیت بیان ہو رہی ہے اس کے بعد کی آیتیں یہی کہہ رہی ہیں تو اس وقت آسمان نہ پھٹے گا بلکہ اس سے پہلے پھٹ چکے گا اور نیا آسمان ‘ نئی زمین قائم ہوگی لیکن ہنوز اس پہلے حادثہ کے اتار میں سے دھواں اور بادل محیط ہوں گے یوم تشق السماء بالغمام اب وہ بادل اور بخارات آسمان سے دور کئے جائیں گے اور ملائکہ جوق در جوق اترنے شروع ہوں گے کیونکہ حساب و کتاب کے لیے درباری اور کارکن جماعت آنے لگے گی تشق بمعنی باعدادبمعنی انکشف بالغمام ای عن الضمام۔ واللہ علم۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 25–26

وَیَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآئُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰٓئِکَۃُ تَنْزِیْلاً ۔ اَلْمُلْکُ یَوْمَئِذِ نِ الْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ ط وَکَانَ یَوْمًا عَلَی الْْـکٰـفِرِیْنَ عَسِیْرًا۔ (الفرقان : 25، 26) (اور یاد کرو جس روز آسمان پھٹ جائے گا اور بادل نمودار ہوگا اور فرشتے گروہ در گروہ اتارے جائیں گے۔ اس دن حقیقی بادشاہی خدائے رحمن ہی کی ہوگی اور وہ دن منکرین کے لیے بڑا سخت دن ہوگا۔ ) قیامت کے دن فرشتوں کا ظہور اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ مطلقہ وقوعِ قیامت کی منظرکشی کرتے ہوئے مزید فرمایا گیا ہے کہ اس دن آسمان پھٹ جائے گا اور اس کی جگہ سفید رنگ کا پتلا سا بادل لے لے گا جو کہر کی مانند ہوگا۔ (قرطبی)…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 25–26

فہم القرآن ربط کلام : جس دن کفار کے عمل ریت کی طرح اڑ رہے ہوں گے اور ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کو بہترین قیام اور آرام دیا جائے گا۔ اس دن کی ابتداء اس طرح ہوگی۔ قیامت کے دن زمین و آسمانوں کو بدل دیا جائے گا اور ان کی جگہ نئی زمین اور نیا آسمان معرض وجود میں لایا جائے گا۔ (ابراہیم : 48) محشر کے میدان میں رب کبریا کی عدالت قائم ہوگی تو اس سے پہلے آسمانوں سے گروہ در گروہ ملائکہ اتارے جائیں گے۔ جو رب ذوالجلال کے جلوہ گر ہونے سے پہلے اس کی عدالت میں قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے۔ تمام جن و انس رب ذوالجلال کے جلوہ افروز ہونے کے منتظر ہوں گے۔ اچانک آسمان پھٹ جائے گا اور ملائکہ کا نزول شروع ہوگا ہر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قیامت کا ایک منظر : ( علیہ السلام) 25: وَیَوم اس سے پہلے اذکر فعل محذوف ہی تَشَقَّقُ السمائُ (جس دن آسمان پھٹ جائے گا) تشقق اصل میں تتشقق ہے ایک تاء کو حذف کردیا۔ کوفی اور ابو عمرو اور دیگر قراء نے اس کو شین میں ادغام کیا ہے۔ بِالْغَمَامِ (بادلوں کے ساتھ) جب آسمان کا پھٹنا بادلوں کے ظاہر ہونے کے ساتھ ہوگا تو بادلوں کو اس طرح قرار دیا گیا گویا کہ اس سے آسمان پھٹ جائے گا۔ جب تم کہو شق السنام بالشفرۃ وانشق بھا۔ اس نے کوہان کو تلوار سے چیر دیا وہ تلوار سے پھٹ گئی۔ وَنُزِّلَ الْمَلٰٓپکَۃُ تَنْزِیْلًا (اور فرشتے اتارے جائیں گے اتارنا) ۔ قراءت : ننزل مکی نے پڑھا ہے۔ اس صورت میں تنزیلاً مصدر غیر لفظ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

25۔ ویوم تشقق السماء بالغمام، اس میں باء بمعنی عن کے ہے۔ جیسا کہ عرب کا قول ہے کہ ، رمیت السھم بالقوس، میں نے کمان سے تیر پھینکا، تشقق، اصل میں تتشقق تھا، دوتاء تھیں۔ دونوں تاء کو ایک دوسرے میں ادغام کردیا۔ ابوعمرو، اہل کوفہ نے شین کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور سو رہ ق میں ایک تاء کے حذف کے ساتھ ۔ دوسرے قراء نے تشدید کیس اتھ پڑھا ہے غمام ایک سفید اباریک بادل کی کہر کی طرح ہوگا، جو صرف بنی اسرائیل کے لیے وادی تیہ کے اندر اللہ نے نازل فرمایا تھا، ونتزل الملائکۃ تنزیلا۔ ابن کثیر نے ، ننزل دونون کے ساتھ پڑھا ہے اور لام کے رفع کے ساتھ الملائی کہ منصوب ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ قیامت کے دن اللہ ایک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 25–27

25۔ 26:۔ یہ آسمان کے پھٹنے اور فرشتوں کے زمین پر اترنے کا ذکر حشر کے وقت کا ہے ‘ مسند امام احمد بن حنبل ‘ مسند ابویعلیٰ موصلی تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن مردویہ وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود 2 ؎ اور عبداللہ بن عباس 3 ؎ کی روایت میں اس آیت کی تفسیر جو آئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ میدان محشر میں جب سب لوگ آفتاب کی گرمی اور پسینے سے گھبراویں گے اور حضرت آدم ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) تک سب انبیاء کے پاس جاویں گے اور حساب و کتاب کے شروع ہونے کی شفاعت کی خواہش ان سے کریں گے اور سب انبیاء اس دن کے خدا کے غصہ سے ڈر کر اس شفاعت سے انکار کریں گے ‘ آخر یہ سب لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 25–29

آیت 25 سے 29 اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن کی عظمت، اور اس دن پیش آنے والی سختی اور کرب اور دلوں کو ہلا دینے والے مناظر کو بیا کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ویوم تشقق السماء بالغمام) ” اور جس دن آسمان پھٹ جائے گا ساتھ بادل کے۔ “ یہ وہ بادل ہوگا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانوں سے نزول فرمائے گا۔ پس آسمان پھٹ جائیں گے اور تمام آسمانوں کے فرشتے نیچے اتر آئیں گے اور صف در صف کھرے ہوجائیں گے یا تو تمام ایک ہی صف بنا کر تمام خلائق کو گھیر لیں گے یا اس کی صورت یہ ہوگی کہ ایک آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اس کے ساتھ دوسرے آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اور اسی طرح ساتوں آسمانوں کے فرشتے در صف موجود ہوں گے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–48

پانی کے مسائل قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

32 قیامت کے آغاز اور ظہور ملائکہ کا ذکر : سو اس یوم عظیم کی تذکیر و یاددہانی کراتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " جس دن آسمان پھٹ پڑیگا اور فرشتوں کو اتار دیا جائے گا پرے کے بعد پرے "۔ سب سے پہلے آسمان دنیا کے فرشتے اتریں گے جو کہ روئے زمین پر موجودہ تمام جن وانس سے زیادہ ہوں گے۔ وہ تمام کے تمام صف بنا کر سب لوگوں کو میدان حشر میں اپنے گھیرے میں لے جائیں گے۔ پھر دوسرے آسمان کے فرشتے اتریں گے جو ان سے بھی زیادہ ہوں گے اور وہ ان کے گرد گھیرا ڈال لیں گے۔ اور اسی طرح باقی سب آسمانوں کے فرشتے۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے مروی ہے۔ (ابن کثیر، الجمل، الروح وغیرہ) ۔ سو اس روز فرشتے اتریں گے اور اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 25–29

قیامت کا نقشہ اور کفار کی حسرت تشریح : حشر کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اس دن اللہ بادشاہوں کا بادشاہ پورے جلال سے اپنا دربار لگائے گا۔ تب ہر شخص اپنے کیے گئے گناہ اور جنہوں نے اپنے برے دوستوں کے غلط مشوروں پر چل کر ہدایت پانے کے بعد گمراہی اختیار کی ہوگی ‘ افسوس کرے گا۔ حقیقت تو یہی ہے کہ نیکی کا راستہ اور نیک دوستوں کی مجلس ہی انسان کے لیے ذریعہ نجات ہوگی۔ برے دوست وقت پر دھوکہ دیتے ہیں برے راستے اور برے اعمال سزا کا باعث بنتے ہیں۔ جزا کا باعث نہیں بنتے۔ اس لیے نیک دوست بھی بڑی نعمت ہوتے ہیں۔ بری صحبت یعنی برے لوگوں سے بچنا بھی نیکی ہے اور بڑی سعادت ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے اچھے دوست کی مثال خوشبو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–34

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف یہ لوگ صرف اسی پر بس نہیں کرتے کہ آپ ﷺ کی ذات ہی پہ اعتراض کرتے ہیں انہیں آخرت کے انکار اور اللہ جل جلالہ کے روبرو پیشی سے انکار نے اس قدر گستاخ کردیا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ فرشتہ ہمارے پاس کیوں نہیں آتا نبی ہی کے پاس کیوں آتا اور اللہ جل جلالہ ہم سے بات کیوں نہیں کرتا ، اس قدر تکبر اور اپنی بڑائی میں اس قدر بڑھ چڑھ کر بات کر رہے ہیں لیکن ایک روز ایسا بھی ہوگا کہ یہ فرشتوں کو روبرو دیکھیں گے موت کے وقت بھی اور یوم قیامت بھی فرشتے تو ان کے سامنے ہوں گے مگر ایمان لانے اور غور وفکر سے راہ اپنانے کا وقت گذر چکا ہوگا اور ان بدکاروں کے لیے فرشتوں کا سامنے آنا کوئی سامان راحت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

8 ۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ فرشتے اس لئے اتریں گے کہ حساب کتاب کے لئے تمام مخلوقات کا ایک میدان میں حلقہ کرلیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نزول فرمائے گا۔ اہل علم کا قول ہے کہ فرشتوں کا یہ نزول رضا و رحمت کا نزول ہوگا نہ کہ غصہ اور عذاب کا۔ (شوکانی) غمام سے مراد ” ظل نور “ ہے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:25) یوم۔ کا نصب بوجہ فعل محذوف اذکر کے مفعول ہونے کے ہے۔ ای اذکر یوم۔ یا یہ معطوف ہے اور اس کا عطف (الف) یومئذ آیت 24 پر ہے یا (ب) یوم یرون آیت 22 پر ہے۔ تشقق۔ مضارع واحد مؤنث غائب تشقق (تفعل) مصدر۔ شگافتہ ہونا۔ پھٹ جانا اصل میں تتشقق تھا۔ ایک تا کو حذف کیا گیا۔ باب انفعال سے بھی اسی معنی میں آتا ہے مثلاً اذا السماء انشقت (84:1) جب آسمان پھٹ جائے گا۔ الشقاق (باب مفاعلۃ مشاقۃ) کے معنی مخالفت کے ہیں۔ گویا ہر فریق جانب مخالف کو اختیار کرلیتا ہے۔ الشقۃ پھاڑا ہواٹکڑا۔ غمام۔ ابر (اسم جنس ہے) سفید ابر۔ جمع ہے اس کا واحد غمامۃ ہے۔ غمامۃ کی جمع غمائم بھی ہے۔ سفید ابر۔ رقیق مانند کہر۔ جیسا کہ بنی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 21–29

لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 29 : (لایرجعون) وہ امید نہیں رکھتے ہیں ‘(لقائ) ملاقات ‘(عتو کبیر) بہت زیادہ۔ حد سے زیادہ بڑھنا ‘ (لا بشری) خوشخبری نہیں ہے ‘ (حجر) کوئی روک ۔ کوئی آڑ ‘( محجور) آڑ کھڑ کردی گئی ‘ (قدمنا) ہم آگے آئے ‘ (ھبائ) وہ ذرات جو سورج چمکنے سے نظر آتے ہیں ‘( منثور) اڑایا ہوا۔ پھیلا ہوا ‘(مستقر) ٹھکانا ‘(مقیل) آرام کی جگہ ‘ (تشقق) پھٹ جائے گی ‘ (الغمام) بادل ‘(عسیر) سخت۔ مشکل ‘(یعض) کاٹے گا ‘ (یلیتنی) ‘ اے کاش کہ میں ‘(یویلتی) ہائے میری بدنصیبی ‘ خلیل (دوست) (اضلنی) مجھے بہکادیا ‘ (خذول) دغا باز۔ چھوڑ جانے والا ‘ تشریح آیت نمبر 21 تا 29 : جو لوگ اللہ پر ‘ آخرت اور اس کے رسول پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 25–26

آسمانوں کے پھٹنے اور فرشتوں کے اترنے اور آقاکریم کی شفاعت کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا، جس رورز آسمان پھٹے گا اور وہاں کے رہنے والے فرشتے اتریں گے اور وہ تمام اہل زمین یعنی جن وانس سب سے زیادہ ہیں پھر دوسرا آسمان پھٹے گا وہاں کے رہنے والے فرشتے اتریں گے وہ آسمان دنیا کے رہنے والوں سے اور جن وانس سب سے زیادہ ہیں اسی طرح آسمان پھٹے جائیں گے اور ہر آسمان والوں کی تعداد اپنے ماتحتوں سے زیادہ ہے یہاں تک کہ ساتویں آسمان چکرکھاکر پھٹے گا اس روز میدان محشر میں جب سب لوگ آفتاب کی گرمی اور پسینے سے گھبراویں گے اور حضرت آدم سے لے کر حضڑت عیسیٰ تک سب انبیاء کے پاس جاکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–30

[14] یعنی کافروں نے اپنے زعم باطل کے موافق جو بھلے کام کئے تھے اور جن پر انھیں بڑا بھروسہ تھا انھیں ہم ملیامیٹ کردیں گے اور اس طرح بےحقیقت کر کے اڑا دیں گے جیسے خاک کے حقیر ذرات ہوا میں ادھر ادھر اڑ جایا کرتے ہیں، کیونکہ وہ اعمال روح ایمان سے یکسر خالی ہوں گے۔ یہ مضمون سورة ابراہیم کی آیت 18 میں بھی گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 2: یوم تشقق السماء باالغمام سے یہ مراد ہے کہ جس دن قیامت آجائیگی آسمان پھٹ جائے گا اور صرف برحق اکبر معلوم ہوگا اور فرشتے کثرت کے ساتھزمین پر نازل ہوں گے ۔ تاکہ اپنے فرائض سرانجام دیں ۔ اس دن بادشاہت اور اختیارات صرف اللہ کے ہاتھ میں ہوں گے ۔ اور دنیا کی کوئی قوت زمین وآسمان کو تباہی سے نہ بچا سکے گی ۔ یہ دن ان لوگوں کے لئے سخت ہوشربا ہوگا جو کہ اس دن پر یقین نہیں رکھتے تھے اور قیامت کا نام لے کر مضحکہ اڑاتے تھے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(25) جن دن ایک خاص بادل کے سبب سے آسمان پھٹ جائیں گے اور فرشتے بکثرت اور لگا تار نازل کئے جائیں گے عالم بالا کے امور کا ذکر ایک بادل کے ساتھ کیا جاتا ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ کی شب میں سدرۃ المنتہیٰ سے ایک بادل میں اوپر تشریف لے گئے پارہ دوم میں بھی فی ظلل من الغمام گزر چکا ہے حدیث میں اس بادل کو عماء اور عنایہ سے تعبیر کیا ہے اس بادل میں چونکہ ملائکہ کے انبوہ ہوں گے اور یہ بادل حضرت حق جل مجدہ کی صفت جلال کا مظہرہ ہوگا اس لئے ہیبت الٰہی سے آسمان پھٹ جائیں گے یا اس بادل کا وزن اس قدر ہوگا کہ بوجھ سے آسمان پھٹ جائیں گے غرض ! فرشتے آئیں گے تو اس شان سے آئیں گے منکر مطالبہ کرتے ہیں دنیا میں فرشتوں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 25–26

ف 4۔ یعنی حساب و کتاب و جزا و سزا میں کسی کو دخل نہ ہوگا۔ 5۔ کیونکہ ان کے حساب کا انجام جہنم ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جملہ معترضہ کے طور پر مضمون کو پھر پیچھے لے جایا گیا ہے تاکہ مزید وضاحت ہوجائے : 25۔ مضمون کو پیچھے کی طرف پیچھے کی طرف واپس پھیرتے ہوئے ان لوگوں کو پھر جواب دیا جا رہا ہے جو فرشتوں کے اترنے کا مطالبہ کرتے تھے فرمایا ان لوگوں کو چاہئے کہ ذرا اس دن کا تصور کریں جس روز آسمان پھٹ جائیں گے اور ایک بادل سا نمودار ہوگا اور اس سے فرشتوں کے پرے کے پرے نکلنے شروع ہوجائیں گے جن میں وہ فرشتے بھی ہوں گے جو نیک لوگوں کے استقبال کے لئے آئیں گے اور وہ بھی جو بدکاروں کو گھیرے لیں گے اور ان کا ادھر ادھر نہیں ہونے دیں گے یہی وہ لوگ ہیں جو دنیا کی زندگی ہی میں ان فرشتوں کے دیکھنے اور ان کے اترنے کا تقاضا کرتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–27

تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ (The sky will break open with a cloud - 25:25). The explanation of the verse is that the sky will rip apart and a sort of liquid cloud will descend from it which will be carrying angels with it. This cloud will look like a canopy descending from the sky and will be bearing Allah Ta’ ala's refulgence surrounded by angels. This will precede the beginning of the reckoning and the sky will rip open only to make an opening. It will not be the same ripping as the one when the sur (صُور) will be blown to finish off the earth and the sky, because this descension of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–25

38 In contrast to the miserable plight of the disbelievers on the Day of Resurrection, the Believers will be protected from the hardships of that Day; they will be treated with honour and will have a blissful place for midday rest. According to a Tradition, the Holy Prophet said: "I declare on oath by AIIah, in Whose hand is my life, that the long, horrible Day of Resurrection will be made very short and light for a Believer, as short and light as the time taken in offering an obligatory Prayer." (Musnad Ahmad).

Read the full tafseer →