Al-Furqaan 25:26

Al-Furqaan · from ayah 26

25:26

اَلْمُلْكُ یَوْمَىِٕذِ ١لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ ؕ— وَكَانَ یَوْمًا عَلَی الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا ۟اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَئِذِ اۨلۡحَـقُّ لِلرَّحۡمٰنِ‌ؕ وَكَانَ يَوۡمًا عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ عَسِيۡرًا

اس دن سچی بادشاہی خدا ہی کی ہوگی۔ اور وہ دن کافروں پر (سخت) مشکل ہوگا

— Fateh Muhammad Jalandhari

True sovereignty, that Day, is for the Most Merciful. And it will be upon the disbelievers a difficult Day.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 3 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:26

اُس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمان کی ہو گی اور وہ منکرین کے لیے بڑا سخت دن ہو گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس دن سچی بادشاہی خدا ہی کی ہوگی۔ اور وہ دن کافروں پر (سخت) مشکل ہوگا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس دن صحیح طور پر ملک صرف رحمٰن کا ہی ہوگا اور یہ دن کافروں پر بڑا بھاری ہوگا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس دن صحیح معنی میں بادشاہی خدائے رحمن کی ہوگی، اور وہ دن کافروں پر بہت سخت ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس دن سچی بادشاہی رحمن کی ہے، اور وہ دن کافروں پر سخت ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس دن سچی حکمرانی صرف (خدائے) رحمان کی ہوگی اور وہ دن کافروں پر سخت (مشکل) ہوگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس دن حقیقی بادشاہی رحمان کی ہوگی اور کافروں پر وہ بہت مشکل دن ہوگا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس دن حقیقی بادشاہی رحمٰن کی ہوگی اور یہ دن کافروں کے لئے بڑا سخت دن ہوگا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس دن حقیقی بادشاہی خدائے رحمان ہی کی ہوگی اور وہ دن کافروں پر بڑا ہی کٹھن ہوگا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

حقیقی اور سچی بادشاہی اس روز خدائے رحمان ہی کی ہوگئی اور کافروں پر وہ دن بڑا ہی بھاری اور سخت ہوگا

— مولانا اسحاق مدنی

اس روز حکومت حقیقی (خدائے) رحمن ہی کی ہوگی۔ اور وہ دن کافروں پر بہت سخت ہوگا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس دن حقیقی بادشاہی صرف رحمن کی ہوگی اور وہ دن کافروں پر بہت کٹھن ہوگا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس دن سچی بادشاہی اللہ ہی کی ہوگی اور وہ دن کفار پر سخت مشکل ہوگا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The real Kingdom on that Day will belong only to the Merciful, and it will be a very hard Day for the disbelievers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the Kingdom on that day will be for the RaHman (the All-Merciful, Allah), and it will be a difficult day for the disbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani

the Kingdom on that day will be for the RaHman (the All-Merciful, Allah), and it will be a difficult day for the disbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The sovereignty on that Day will be the true (sovereignty) of the Most Gracious, and it will be a hard Day for the disbelievers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The Sovereignty on that day will be the True (Sovereignty) belonging to the Beneficent One, and it will be a hard day for disbelievers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

True sovereignty, that Day, is for the Most Merciful. And it will be upon the disbelievers a difficult Day.

— Saheeh International

and the Absolute kingdom will belong to the Beneficent God.

— Muhammad Sarwar

The kingdom on that day shall rightly belong to the Beneficent Allah, and a hard day shall it be for the unbelievers.

— Muhammad Habib Shakir

The dominion on that Day rhall is; be the true dominion, of the Compassionate, l and it shall be anday upon the infidels hard.

— Abdul Majid Daryabadi

That Day, the dominion as of right and truth, shall be (wholly) for (Allah) Most Merciful: it will be a Day of dire difficulty for the misbelievers.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:26

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 25–29

فیصلوں کا دن قیامت کے دن جو ہولناک امور ہونگے ان میں سے ایک آسمان کا پھٹ جانا اور نورانی ابر کا نمودار ہونا بھی ہے جس کی روشنی سے آنکھیں چکا چوند ہوجائیں گی پھر فرشتے اتریں گے اور میدان محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے۔ پھر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کے لئے تشریف لائے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت (هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ اَمْرُ رَبِّكَ 33؀) 16۔ النحل :33) یعنی کہ انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بادلوں میں آئیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو سب انسانوں اور کل جنات کو ایک میدان میں جمع کرے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 26–28

سورة الْفُرْقَان 39 یعنی وہ ساری مجازی بادشاہیاں اور ریاستیں ختم ہوجائیں گی جو دنیا میں انسان کو دھوکے میں ڈالتی ہیں۔ وہاں صرف ایک بادشاہی باقی رہ جائے گی اور وہ وہی اللہ کی بادشاہی ہے جو اس کائنات کا حقیقی فرمانروا ہے۔ سورة مومن میں ارشاد ہوا ہے یَوْمَ ھُمْ بٰرِزُوْنَ لَا یَخْفٰی عَلَی اللہِ مِنْہُمْ شَیْءٌ، لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ، لِلہ الوَاحدِ الْقَھَّارِ۔ " وہ دن جبکہ یہ سب لوگ بےنقاب ہوں گے، اللہ سے ان کی کوئی چیز چھپی ہوئی نہ ہوگی۔ پوچھا جائے گا آج بادشاہی کس کی ہے ؟ ہر طرف سے جواب آئے گا اکیلے اللہ کی جو سب پر غالب ہے " (آیت 16)۔ حدیث میں اس مضمون کو اور زیادہ کھول دیا گیا ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–27

يَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاۗءُ بالْغَمَامِ ، ای عن الغمام، قرطبی۔ معنے یہ ہیں کہ آسمان شق ہو کر اس میں سے ایک رقیق بادل اترے گا جس میں فرشتے ہوں گے۔ یہ ابر بشکل سائبان آسمان سے آوے گا اور اس میں حق تعالیٰ کی تجلی ہوگی اور اس کے گردا گرد ملائکہ ہوں گے۔ یہ حساب شروع ہونے کا وقت ہوگا اور اس وقت آسمان کا پھٹنا صرف کھلنے کے طور پر ہوگا یہ وہ پھٹنا نہیں ہوگا جو پہلی نفخہ صور کے وقت آسمان زمین کو فنا کرنے کے لئے ہوگا کیونکہ یہ نزول غمام جس کا ذکر آیت میں ہے نفخہ ثانیہ کے بعد ہے جبکہ سب زمین و آسمان دوبارہ درست ہوچکے ہوں گے۔ (بیان القران)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 25–26

آیت 26-25) قیامت کے دن فرشتوں کا ظہور یہ بھی اسی جواب کا حصہ ہے جو اوپر فرشتوں کو دیکھنے کا مطالبہ کرنے والوں کو دیا گیا ہے۔ فرمایا کہ ان لوگوں کو چاہئے کہ اس دن کا تصور کریں جس دن آسمان پھٹے گا اور اس سے ایک بدلی نمودار ہوگی اور اس کے اندر سے فرشتوں کے پرے کے پرے، یکے بعد دیگرے، اتارے جائیں گے۔ فرمایا کہ اس دن کسی کی کچھ پیش نہیں جائے گی۔ جن معبودوں پر ان لوگوں کو بڑا ناز و اعتماد ہے وہ بھی ان کے کچھ کام آنے والے نہیں بنیں گے۔ حقیقی بادشاہی اس دن خدائے رحمان ہی کی ہوگی اور کافروں پر یہ دن بڑا ہی کٹھن ہوگا ! یہ امر محلوظ رہے کہ حقیقی اختیار اور حقیقی بادشاہی یوں تو ہمیشہ خدا ہی کی ہے لیکن اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 25–27

25-1اس کا مطلب یہ ہے کہ آسمان پھٹ جائے گا اور بادل سایہ فگن ہوجائیں گے، اللہ تعالیٰ فرشتوں کے جلو میں، میدان محشر میں، جہاں ساری مخلوق جمع ہوگی، حساب کتاب کے لئے جلوہ فرما ہوگا، جیسا کہ سورة بقرۃ آیت210سے واضح ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 24–30

9: اگرچہ سیاق وسباق کی روشنی میں یہاں قوم سے مراد کافر لوگ ہیں، لیکن یہ مسلمانوں کے لئے بھی ڈر نے کا مقام ہے کہ اگر مسلمان ہونے کے باوجود قرآن کریم کو پس پشت ڈال دیا جائے تو کہیں وہ بھی اس سنگین جملے کا مصداق نہ بن جائیں، اور نبی کریم ﷺ شفاعت کے بجائے شکایت پیش کریں، والعیاذ باللہ العلی العظیم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 21–29

درس نمبر 158 ایک نظر میں اس سبق کا آغاز بھی اسی انداز سے ہوتا ہے جس سے درس سابق کا ہوا تھا اور مضمون بھی اسی انداز سے چلتا ہے ‘ البتہ یہاں مشرکین کے اعتراضات کا رخ رب تعالیٰ کی طرف ہے۔ یہاں وہ اللہ پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ کو اپنا لائحہ عمل دیتے ہیں۔ گویا اس سبق میں وہ اپنی سرکشی میں ترقی کرتے ہوئے رسول اللہ پر اعتراضات کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور خدا پر اعتراضات کرتے ہیں۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور دل جوئی کا ایک انداز ہے کہ یہ لوگ صرف آپ ہی پر اعتراضات نہیں کرتے بلکہ ان کی گستاخی اللہ کے جناب میں بھی ہے۔ البتہ یہاں جواب دینے کے بجائے نہایت ہی شتابی سے ان کو قیامت کے مناظر میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی ظاہراً و باطناً ، صورۃً معنی، من کل الوجوہ اکیلے رحمان کی بادشاہت ہوگی اور صرف اسی کا حکم چلے گا۔ (لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ) 40 ۔ غافر :16) پھر جب رحمان کی حکومت ہوئی تو جو مستحق رحمت ہیں ان کے لیے رحمت کی کیا کمی، بےحساب رحمتوں سے نوازے جائیں گے مگر باوجود ایسی لامحدود رحمت کے کافروں کے لیے وہ دن بڑی سخت مشکل اور مصیبت کا ہوگا۔ کہ بازار چنداں کہ آگندہ تر تہی دست را دل پراگندہ تر

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 26 اَلْمُلْکُ یَوْمَءِذِنِ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ ط ” بادشاہی اور حکمرانی تو آج بھی اللہ ہی کی ہے ‘ لیکن دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی آزمائش کے لیے حقیقت کو مختلف پردوں میں چھپا رکھا ہے۔ آج بظاہر کئی صاحبان اختیار و اقتدار نظر آتے ہیں ‘ لیکن اس دن ہر طرح کا اختیار صرف اس بادشاہ حقیقی کے پاس ہی ہوگا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 26–27

36 قیامت کے دن اللہ اکیلے کی فرمانبرداری اور بادشاہی ہوگی اور سب انسان بالکل برہنہ قبروں سے اٹھا کھڑے کئے جائیں گے چناچہ حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ آپ نے فرمایا : لوگ ( قیامت کے دن) ننگے پاؤں، ننگے بدن حشر کئے جاؤ گے میں کہا : یارسول اللہ ! اس طرح تو مرد اور عورت سب ایک دوسرے کے ستر کو دیکھیں گے ! آپ نے فرمایا : عائشہ ؓ ! ( قیامت کا معاملہ ایسے خیالوں سے شدید تر ہوگا۔ (بخاری۔ کتاب الرقاق۔ باب کیف الحشر ( اور ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم لوگوں کو خطبہ سنانے کھڑے ہوئے اور فرمایا : تم لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن حشر کئے جاؤ گے۔ جیسے ( اللہ تعالیٰ نے قرآن میں) فرمایا جس طرح تمہیں شروع میں پیدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

29۔ (عیاناوشہوداہی اور کسی کو ظاہرا گنجائش بھی کسی دخل و تصرف کی نہ ہوگی جیسا کہ دنیا میں رہتی ہے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–34

آیت نمبر 21 تا 34 ترجمہ : جو لوگ ہمارے سامنے پیش ہونے سے اندیشہ نہیں کرتے یعنی بعث (بعد الموت) کا خوف نہیں رکھتے وہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے ؟ کہ ہماری طرف رسول ہوں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیتے پھر ہمیں وہ یہ بات تباتے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا ان لوگوں نے اپنے دلوں میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ لیا ہے اور دنیا ہی میں اللہ کی رویت کا مطالبہ کرکے بڑی سرکشی کی ہے اور عَتَوْ واؤ کے ساتھ اپنی اصل پر ہے بخلاف عُتِیَ کے ابدال کے ساتھ سورة مریم میں جس روز یہ منجملہ خلائق کے فرشتوں کو دیکھیں گے اور (یومَ ) کا نصب اذکر فعل مقدر کی وجہ سے ہے، اس روز مجرموں یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الملک یومئذ الحق للرحمن اس روز (حقیقی) حکومت رحمن ہی کی ہوگی۔ یعنی اس روز حق اور واقعی لازوال حکومت رحمن کی ہی ہوگی کسی دوسرے کی (ظاہری اور مجازی طور پر بھی) نہیں ہوگی۔ وکان یوما علی الکافرین عسیرا۔ اور وہ دن کافروں کے لئے سخت دشوار دن ہوگا۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس دن کے متعلق دریافت کیا گیا جس کی مقدار پچاس ہزار برس کے برابر ہوگی (اور عرض کیا گیا) کیسا لمبا دن ہوگا (اور اتنا لمبا وقت کیسے کٹے گا) حضور ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مؤمن کے لئے وہ بہت ہلکا ہوگا یہاں تک کہ فرض نماز کے (ایک) وقت سے بھی اس کے لئے زیادہ آسان (اور چھوٹا) ہوگا۔ بغوی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(26) اس روز حقیقی حکومت اور عادلانہ فیصلہ اللہ ہی کا ہوگا اور وہ دن کفار پر بہت ہی سخت ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ۔۔ : یعنی دنیا کی وہ تمام عارضی اور مجازی حکومتیں ختم ہوجائیں گی، جن سے انسان دھوکے میں پڑا رہتا ہے اور ظاہراً ، باطناً ، صورتاً ، یعنی ہر لحاظ سے اکیلے رحمٰن کی بادشاہت ہوگی اور صرف اسی کا حکم چلے گا اور وہ دن کافروں پر بہت سخت ہوگا۔ یہ بھی مومنوں پر اس کی رحمت کا تقاضا ہوگا، کیونکہ ان کے دشمنوں کو سزا دینے سے جو خوشی انھیں حاصل ہونی ہے وہ اور کسی طرح حاصل نہیں ہوسکتی ؟ (بقاعی) عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یَطْوِي اللّٰہُ عَزَّ وَ جَلَّ السَّمَاوَاتِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثُمَّ یَأْخُذُھُنَّ بِیَدِہِ الْیُمْنٰی ثُمَّ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 21–26

(وقال الذین لا یرجون۔۔۔۔۔۔۔ ) وقال الذین لا یرجون لقاء ناوہ ارادہ کرتا ہے وہ دوبارہ اٹھائے جانے اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے نہیں ڈرتے یعنی وہ اس چیز پر ایمان نہیں رکھتے، شاعر نے کہا : اذا لسغتہ النحل لم یرج السعھا جب شہد کی مکھیاں اس کو ڈنگ ماریں تو اس کے ڈنگ کا خوف نہیں کرتا۔ اس قول یہ کیا گیا ہے : لا یرجعون کا معنی ہے وہ پرواہ نہیں کرتے شاعر نے کہا : لعمرک ما ارجو اذا کنت مسلما علی ای جنب کان فی اللہ مصرعی تیری زندگی کی قسم ! جب میں مسلمان ہوں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر میری موت کس پہلو پر واقع ہوتی ہے۔ ابن شجرہ نے کہا : وہ امید نہیں رکھتے، شاعر نے کہا : اترجو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 25–26

1۔ عبد بن حمید وابن ابی الدنیا فی الاہوال وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت ” ویوم تشقق السماء بالغمام ونزل المئکۃ تنزیلا “ کے تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو ایک چٹیل میدان میں جمع فرمائیں گے جنات انسان جانور درندے اور پرندے اور ساری مخلوق کو جمع فرمائیں گے آسمان دنیا پھٹ جائے گا اور اس کے رہنے والے نیچے اتریں گے اور وہ زمین میں رہنے والے انسان جنات اور ساری مخلوق سے زیادہ ہوں گے اور وہ جنات کو انسانوں کو اور ساری مخلوق کو گھیر لیں گے اور وہ زمین والے کہیں گے کہ کیا تمہارے اندر ہمارے رب ہیں وہ کہیں گے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَلْمُلْكُ [ ساری بادشاہت ] يَوْمَىِٕذِۨ [ اس دن ] الْحَقُّ [ برحق ہوگی ] لِلرَّحْمٰنِ ۭ [ رحمان کے لئے ] وَكَانَ [ اور وہ (دن) ہوگا ] يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا [ کافروں پر ایک سخت دن ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(الْمُلْکُ یَوْمَءِذٍ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ ) (آج کے دن صرف رحمن کی حکومت ہوگی) قیامت کے دن جب آسمان پھٹ جائے گا تو ساری بادشاہت ظاہری طور پر اور باطنی طور پر صرف اور صرف رحمن مجدہ ہی کے لیے ہوگی اس دن کوئی مجازی حاکم اور بادشاہ بھی نہ ہوگا، سورة غافر میں فرمایا : (لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ ) (آج کس کی بادشاہت ہے ؟ اللہ ہی کے لیے ہے جو واحد ہے قہار ہے) (وَکَانَ یَوْمًا عَلَی الْکٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا) (اور وہ دن کافروں پر سخت ہوگا)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–31

منکرین نبوت کا چوتھا شبہ اور اس کا جواب قال اللہ تعالیٰ وقال الذین لا یرجعون لقاء نا ...... الیٰ ..... ھادیا ونصیرا۔ (ربط) منکرین نبوت کا چوتھا شبہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں نازلکیے جو ہمارے سامنے آکر آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی شہادت دیتے کہ یہ شخص دعوائے نبوت میں صادق ہے یا ہم بلاوسطہ اللہ کو دیکھتے اور بلاوسطہ خود اللہ تعالیٰ سے آپکی بابت پوچھ لیتے اور اللہ تعالیٰ ہم کو خود بتلا دیتا کہ یہ شخص میرا نبی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جاہلانہ اور احمقانہ اور گستاخانہ اور مغرورانہ سوال کے جواب میں یہ ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ بڑے ہی سرکش اور متبکر ہیں کہ وہ اپنے آپ کو اس مرتبہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 24–26

20:۔ ” اصحب الجنۃ الخ “ یہ مومنوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ ” مستقرا “ رہنے سہنے کی جگہ۔ ” مقیلا “ استراحت کی جگہ۔ قیامت کے دن ایمان والوں کو رہنے سہنے اور استراحت کیلئے جنت میں جو مقام عطا ہوگا وہ کافروں کے ٹھکانے سے بدرجہا بہتر ہوگا۔ ” ویم تشقق السماء الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” الغمام “ سفید بادل مراد فرشتے ہیں۔ فرشتے اس کثرت سے نازل ہوں گے کہ ان کی مجموعی ہیئت سفید بادلوں کی طرح نظر آئیگی اس طرح ” سنزل الملئکۃ تنزیلا “ ما قبل کا بیان ہے اور واؤ تفسیریہ ہے یعنی قیامت کے دن آسمان پھٹ پڑے گا اور اس طرح فرشتوں کے بادلوں کے بادل نازل ہوں گے۔ ” الملک یومئذ الحق الخ “ بادشاہ تو دنیا میں بھی اللہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 21–29

ربطِ آیات اس سورة مبارکہ میں تمام بنیادی عقائد بیان کیے گئے ہیں ، میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے عقلی و نقلی دلائل ہیں ۔ قیامت اور جزائے عمل کا سلسلہ ہے نبوت و رسالت کا بیان اور اس پر اعتراض کرنے والوں کے باطل شکوک کا ازالہ ہے اس کے علاوہ دیگر بہت سی اخلاقی تعلیمات ہیں مگر زیادہ تر نبوت و رسالت کا بیان ہے کافر اور مشرک لوگ نبی آخر الزمان پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ کیسا نبی ہے جو کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ۔ ان کے نزدیک بشریت نبوت و رسالت کے منافی تھی ۔ اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ حضور ﷺ سے پہلے جتنے بھی نبی اور رسول دنیا میں آئے وہ سب کے سب انسان تھے ۔ وہ سارے کھانا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ۝ 0ۭ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا۝ 26 ملك) بادشاه) المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور وَالمِلْكُ ضربان : مِلْك هو التملک والتّولّي، ومِلْك هو القوّة علی ذلك، تولّى أو لم يتولّ. فمن الأوّل قوله : إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] ، ومن الثاني قوله : إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] ( م ل ک ) الملک ۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ صرف انسانوں کے منتظم کے ساتھ خاص ہے . اور ملک کا لفظ دو طرح پر ہوتا ہے عملا کسی کا متولی اور حکمران ہونے کو کہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 25–26

1 ؎ یہ قیامت برپا ہونے کے بعد حشر کے دربار عدالت کی کیفیت بیان ہو رہی ہے اس کے بعد کی آیتیں یہی کہہ رہی ہیں تو اس وقت آسمان نہ پھٹے گا بلکہ اس سے پہلے پھٹ چکے گا اور نیا آسمان ‘ نئی زمین قائم ہوگی لیکن ہنوز اس پہلے حادثہ کے اتار میں سے دھواں اور بادل محیط ہوں گے یوم تشق السماء بالغمام اب وہ بادل اور بخارات آسمان سے دور کئے جائیں گے اور ملائکہ جوق در جوق اترنے شروع ہوں گے کیونکہ حساب و کتاب کے لیے درباری اور کارکن جماعت آنے لگے گی تشق بمعنی باعدادبمعنی انکشف بالغمام ای عن الضمام۔ واللہ علم۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 25–26

وَیَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآئُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰٓئِکَۃُ تَنْزِیْلاً ۔ اَلْمُلْکُ یَوْمَئِذِ نِ الْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ ط وَکَانَ یَوْمًا عَلَی الْْـکٰـفِرِیْنَ عَسِیْرًا۔ (الفرقان : 25، 26) (اور یاد کرو جس روز آسمان پھٹ جائے گا اور بادل نمودار ہوگا اور فرشتے گروہ در گروہ اتارے جائیں گے۔ اس دن حقیقی بادشاہی خدائے رحمن ہی کی ہوگی اور وہ دن منکرین کے لیے بڑا سخت دن ہوگا۔ ) قیامت کے دن فرشتوں کا ظہور اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ مطلقہ وقوعِ قیامت کی منظرکشی کرتے ہوئے مزید فرمایا گیا ہے کہ اس دن آسمان پھٹ جائے گا اور اس کی جگہ سفید رنگ کا پتلا سا بادل لے لے گا جو کہر کی مانند ہوگا۔ (قرطبی)…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 25–26

فہم القرآن ربط کلام : جس دن کفار کے عمل ریت کی طرح اڑ رہے ہوں گے اور ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کو بہترین قیام اور آرام دیا جائے گا۔ اس دن کی ابتداء اس طرح ہوگی۔ قیامت کے دن زمین و آسمانوں کو بدل دیا جائے گا اور ان کی جگہ نئی زمین اور نیا آسمان معرض وجود میں لایا جائے گا۔ (ابراہیم : 48) محشر کے میدان میں رب کبریا کی عدالت قائم ہوگی تو اس سے پہلے آسمانوں سے گروہ در گروہ ملائکہ اتارے جائیں گے۔ جو رب ذوالجلال کے جلوہ گر ہونے سے پہلے اس کی عدالت میں قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے۔ تمام جن و انس رب ذوالجلال کے جلوہ افروز ہونے کے منتظر ہوں گے۔ اچانک آسمان پھٹ جائے گا اور ملائکہ کا نزول شروع ہوگا ہر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

26: اَلْمُلْکُ یَوْمَپذِ اڑلْحَقُّ (بادشاہی اس دن رحمان ہی کی ہوگی) المُلک مبتدأ اور یومپذ اس کا ظرف اور الحق اس کی صفت ہے۔ الحق ثابت کو کہتے ہیں۔ کیونکہ تمام عارضی بادشاہتیں اس دن باقی نہ رہیں گی۔ فقط اس کی بادشاہی ہوگی۔ لِلرَّحْمٰنِ (رحمان کی) یہ اس کی خبر ہے وَکَانَ (ہوگا) وہ دن یَوْمًا عَلَی الْکٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا (کافروں پر دشوار) عسیر کا معنی شدید ہے جیسے کہتے ہیں عَسُر علیہ فھو عسیر وعَسِر (اس پر دشوار ہوا) اسی سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ مؤمنوں کیلئے آسان ہوگا۔ حدیث میں فرمایا قیامت کا دن مومن کیلئے فرضی نماز سے بھی زیادہ خفیف اور ہلکا ہوگا۔ (رواہ، احمد و ابو یعلیٰ )

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

26۔ الملک یومئذ ن الحق للرحمن۔ اس دن حقیقی حکومت رحمن کی ہوگی۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ قیامت کے دن اس کے سوا کسی کی ملکیت نہیں ہوگی جو فیصلہ کرے۔ وکان یوما علی الکافرین عسیرا، بمعنی بہت سخت یہ خطاب اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس دن مومن کے لیے کوئی تنگی نہیں ہوگی۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ قیامت کے دن مومنین پر وہ اتنی دیر ہوگی جتنی کہ دنیا میں جو اخف ترین نماز پڑھی ہوگی اتنی دیر مشکل آئے گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 25–27

25۔ 26:۔ یہ آسمان کے پھٹنے اور فرشتوں کے زمین پر اترنے کا ذکر حشر کے وقت کا ہے ‘ مسند امام احمد بن حنبل ‘ مسند ابویعلیٰ موصلی تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن مردویہ وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود 2 ؎ اور عبداللہ بن عباس 3 ؎ کی روایت میں اس آیت کی تفسیر جو آئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ میدان محشر میں جب سب لوگ آفتاب کی گرمی اور پسینے سے گھبراویں گے اور حضرت آدم ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) تک سب انبیاء کے پاس جاویں گے اور حساب و کتاب کے شروع ہونے کی شفاعت کی خواہش ان سے کریں گے اور سب انبیاء اس دن کے خدا کے غصہ سے ڈر کر اس شفاعت سے انکار کریں گے ‘ آخر یہ سب لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 25–29

آیت 25 سے 29 اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن کی عظمت، اور اس دن پیش آنے والی سختی اور کرب اور دلوں کو ہلا دینے والے مناظر کو بیا کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ویوم تشقق السماء بالغمام) ” اور جس دن آسمان پھٹ جائے گا ساتھ بادل کے۔ “ یہ وہ بادل ہوگا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانوں سے نزول فرمائے گا۔ پس آسمان پھٹ جائیں گے اور تمام آسمانوں کے فرشتے نیچے اتر آئیں گے اور صف در صف کھرے ہوجائیں گے یا تو تمام ایک ہی صف بنا کر تمام خلائق کو گھیر لیں گے یا اس کی صورت یہ ہوگی کہ ایک آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اس کے ساتھ دوسرے آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اور اسی طرح ساتوں آسمانوں کے فرشتے در صف موجود ہوں گے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–48

پانی کے مسائل قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

33 حقیقی بادشاہی اس روز خدائے رحمن ہی کی ہوگی : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ حقیقی بادشاہی اس روز خدائے رحمان ہی کی ہوگی۔ یعنی یہ آج دنیا میں جو عارضی، وقتی اور فانی قسم کی حکومتیں اور بادشاہتیں جابجا نظر آتی ہیں اس دن ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گی اور خدائے رحمن کی حقیقی بادشاہی ہی اپنی پوری عظمت شان اور تمام تر جلوہ افروزیوں کے ساتھ سب پر سایہ فگن ہوگی۔ سو حقیقی بادشاہی اور حکومت و اختیار اگرچہ آج اور اس دنیا میں بھی اسی وحدہ لاشریک کا ہے لیکن دنیا کے اس دارالامتحان میں آج چونکہ اس حقیقت پر پردہ پڑا ہوا ہے اس لیے آج بہت سے ناداں غلط فہمی کا شکار ہیں اور وہ اپنی خدائی کا ڈنکا بجانے کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 25–29

قیامت کا نقشہ اور کفار کی حسرت تشریح : حشر کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اس دن اللہ بادشاہوں کا بادشاہ پورے جلال سے اپنا دربار لگائے گا۔ تب ہر شخص اپنے کیے گئے گناہ اور جنہوں نے اپنے برے دوستوں کے غلط مشوروں پر چل کر ہدایت پانے کے بعد گمراہی اختیار کی ہوگی ‘ افسوس کرے گا۔ حقیقت تو یہی ہے کہ نیکی کا راستہ اور نیک دوستوں کی مجلس ہی انسان کے لیے ذریعہ نجات ہوگی۔ برے دوست وقت پر دھوکہ دیتے ہیں برے راستے اور برے اعمال سزا کا باعث بنتے ہیں۔ جزا کا باعث نہیں بنتے۔ اس لیے نیک دوست بھی بڑی نعمت ہوتے ہیں۔ بری صحبت یعنی برے لوگوں سے بچنا بھی نیکی ہے اور بڑی سعادت ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے اچھے دوست کی مثال خوشبو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–34

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف یہ لوگ صرف اسی پر بس نہیں کرتے کہ آپ ﷺ کی ذات ہی پہ اعتراض کرتے ہیں انہیں آخرت کے انکار اور اللہ جل جلالہ کے روبرو پیشی سے انکار نے اس قدر گستاخ کردیا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ فرشتہ ہمارے پاس کیوں نہیں آتا نبی ہی کے پاس کیوں آتا اور اللہ جل جلالہ ہم سے بات کیوں نہیں کرتا ، اس قدر تکبر اور اپنی بڑائی میں اس قدر بڑھ چڑھ کر بات کر رہے ہیں لیکن ایک روز ایسا بھی ہوگا کہ یہ فرشتوں کو روبرو دیکھیں گے موت کے وقت بھی اور یوم قیامت بھی فرشتے تو ان کے سامنے ہوں گے مگر ایمان لانے اور غور وفکر سے راہ اپنانے کا وقت گذر چکا ہوگا اور ان بدکاروں کے لیے فرشتوں کا سامنے آنا کوئی سامان راحت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

9 ۔ دنیا کی وہ تمام عارضی اور مجازی حکومتیں ختم ہوجائینگی جن سے انسان دھوکے میں پڑا رہتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں اور زمین کو اپنے دوسرے ہاتھ میں لپیٹ کر فرمائے گا۔ ” میں ہوں بادشاہ، میں ہوں بدلہ دینے والا، کہاں ہیں دنیا کے جبار و متکبر لوگ۔ (دیکھئے سورة فاطر آیت :16 ۔ (ابن کثیر) 10 ۔ رہے اہل ایمان تو وہ ان کے لئے نہایت ہلکا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:26) الملک الحق۔ موصوف وصفت دونوں مل کر مبتدا للرحمن خبر۔ یومئذ ظرف زمان متعلق مبتدا الملک یومئذ ن الحق للرحمن۔ اس روز حکومت حقیقی (خدائے ) رحمان ہی کی ہوگی۔ کان یوما۔ ای کان ذلک الیوم یوما۔۔ اور وہ دن کافروں پر بہت سخت ہوگا۔ عسیرا (یسیرا کی ضد) سخت ، مشکل ، بھاری، عسر سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 21–29

لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 29 : (لایرجعون) وہ امید نہیں رکھتے ہیں ‘(لقائ) ملاقات ‘(عتو کبیر) بہت زیادہ۔ حد سے زیادہ بڑھنا ‘ (لا بشری) خوشخبری نہیں ہے ‘ (حجر) کوئی روک ۔ کوئی آڑ ‘( محجور) آڑ کھڑ کردی گئی ‘ (قدمنا) ہم آگے آئے ‘ (ھبائ) وہ ذرات جو سورج چمکنے سے نظر آتے ہیں ‘( منثور) اڑایا ہوا۔ پھیلا ہوا ‘(مستقر) ٹھکانا ‘(مقیل) آرام کی جگہ ‘ (تشقق) پھٹ جائے گی ‘ (الغمام) بادل ‘(عسیر) سخت۔ مشکل ‘(یعض) کاٹے گا ‘ (یلیتنی) ‘ اے کاش کہ میں ‘(یویلتی) ہائے میری بدنصیبی ‘ خلیل (دوست) (اضلنی) مجھے بہکادیا ‘ (خذول) دغا باز۔ چھوڑ جانے والا ‘ تشریح آیت نمبر 21 تا 29 : جو لوگ اللہ پر ‘ آخرت اور اس کے رسول پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 25–26

آسمانوں کے پھٹنے اور فرشتوں کے اترنے اور آقاکریم کی شفاعت کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا، جس رورز آسمان پھٹے گا اور وہاں کے رہنے والے فرشتے اتریں گے اور وہ تمام اہل زمین یعنی جن وانس سب سے زیادہ ہیں پھر دوسرا آسمان پھٹے گا وہاں کے رہنے والے فرشتے اتریں گے وہ آسمان دنیا کے رہنے والوں سے اور جن وانس سب سے زیادہ ہیں اسی طرح آسمان پھٹے جائیں گے اور ہر آسمان والوں کی تعداد اپنے ماتحتوں سے زیادہ ہے یہاں تک کہ ساتویں آسمان چکرکھاکر پھٹے گا اس روز میدان محشر میں جب سب لوگ آفتاب کی گرمی اور پسینے سے گھبراویں گے اور حضرت آدم سے لے کر حضڑت عیسیٰ تک سب انبیاء کے پاس جاکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–30

[14] یعنی کافروں نے اپنے زعم باطل کے موافق جو بھلے کام کئے تھے اور جن پر انھیں بڑا بھروسہ تھا انھیں ہم ملیامیٹ کردیں گے اور اس طرح بےحقیقت کر کے اڑا دیں گے جیسے خاک کے حقیر ذرات ہوا میں ادھر ادھر اڑ جایا کرتے ہیں، کیونکہ وہ اعمال روح ایمان سے یکسر خالی ہوں گے۔ یہ مضمون سورة ابراہیم کی آیت 18 میں بھی گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 26–29

ف 3: اس آیت سے مقصود وہ اس کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جب حشر میں کفار کو معلوم ہوگا کہ ہمارے اعمال کا انجام کیا ہونے والا ہے (اس وقت یہ لوگ اپنے دانتوں سے اپنے ہاتھ کاٹیں گے اور نہایت ہی حسرت ناک انداز میں کہیں گے ۔ اے کاش ہم نے رسول کی پیروی کی ہوتی ۔ اور ہم فلاں فلاں گمراہ اور بدکردار لوگوں کو دوستی کے لئے منتخب نہ کرتے ۔ حل لغات :۔ عسیرا مشکل دشوار گزار فلانا ۔ غیر متعین شخص خدولا ۔ خدول سے ہے معنی مدد دینا ۔ خوار کرنا مھجورا ۔ متروک ۔ چھوڑا ہوا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(26) اس دن حقیقی حکومت اور حقیقی راج رحمان ہی کا ہوگا اور وہ دن منکرین دین حق پر بڑا ہی سخت ہوگا یعنی اس دن مجازی ملکیت کی تمام نسبتیں ختم ہوجائیں گے اور رحمان ہی کی حکومت اور اس کی فرمانبرداری ہوگی اور وہ کافروں پر بڑا سخت اور دشوارتر ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 25–26

ف 4۔ یعنی حساب و کتاب و جزا و سزا میں کسی کو دخل نہ ہوگا۔ 5۔ کیونکہ ان کے حساب کا انجام جہنم ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ دن جتنا مومنوں کے لئے آسان ہوگا اتنا ہی کافروں کے لئے مشکل ہوگا ۔ 26۔ جس طرح دنیا میں ایک ہی دن بعض کے لئے شادی اور خوشی کا دن ہوتا ہے لیکن بعض کے لئے مرگ وماتم کا جس میں آہ وزاریوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا ، یہی حال وہاں ہوگا کہ ایک ہی روز ہے لیکن مومنوں کے لئے خوشیوں اور شادمانیوں کا دن ہوگا اور کافروں پر اتنا بھاری کہ ان کی جان جاتی ہوگی اور اس دن کو اختیار اور بادشاہی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کی نظر آئے گی اور کسی ہیکڑی والے کی ہیکڑی نہیں چلے گی دنیا میں جو جو ان لوگوں نے سہارا سمجھ رکھا تھا وہ سب کافور ہوجائے گا اور ہر ایک شخص پر اصل حقیقت واضح ہوجائے گی کیونکہ یقینا وہ دن نتیجہ کا دن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–27

تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ (The sky will break open with a cloud - 25:25). The explanation of the verse is that the sky will rip apart and a sort of liquid cloud will descend from it which will be carrying angels with it. This cloud will look like a canopy descending from the sky and will be bearing Allah Ta’ ala's refulgence surrounded by angels. This will precede the beginning of the reckoning and the sky will rip open only to make an opening. It will not be the same ripping as the one when the sur (صُور) will be blown to finish off the earth and the sky, because this descension of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–28

39 That is, "On that Day all other kingdoms, which deluded man in the world, will come to an end, and there will be only the Kingdom of Allah, Who is the real Sovereign of the universe. In Surah Mu'min: 16, the same thing has been stated thus: "On that Day when aII the people will stand exposed, and nothing of them will be hidden from Allah, it will be asked, `Whose is the Sovereignty today?' The response from every side will he: `Of Allah, the Almighty'." According to a Tradition, the Holy Prophet said, "AIlah will take the heavens in one hand and the earth in the other, and will declare: `I…

Read the full tafseer →