Al-Furqaan 25:27

Al-Furqaan · from ayah 27

25:27

وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا ۟وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِى اتَّخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا‏

اور جس دن (ناعاقبت اندیش) ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائے گا (اور کہے گا) کہ اے کاش میں نے پیغمبر کے ساتھ رشتہ اختیار کیا ہوتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the Day the wrongdoer will bite on his hands [in regret] he will say, "Oh, I wish I had taken with the Messenger a way.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 3 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:27

ظالم انسان اپنا ہاتھ چبائے گا اور کہے گا "کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جس دن (ناعاقبت اندیش) ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائے گا (اور کہے گا) کہ اے کاش میں نے پیغمبر کے ساتھ رشتہ اختیار کیا ہوتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اس دن ﻇالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا ہائے کاش کہ میں نے رسول ﷺ کی راه اختیار کی ہوتی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جس دن ظالم انسان (حسرت سے) اپنے ہاتھوں کو کاٹ کھائے گا، اور کہے گا : کاش میں نے پیغمبر کی ہمراہی اختیار کرلی ہوتی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جس دن ظالم اپنے ہاتھ چبا چبا لے گا کہ ہائے کسی طرح سے میں نے رسول کے ساتھ راہ لی ہوتی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اس دن ہر ظالم (غصہ اور حسرت سے) اپنے ہاتھوں کو کاٹ کاٹ کھائے گا (اور) کہے گا: کاش! میں نے رسولِ (اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیّت میں (آکر ہدایت کا) راستہ اختیار کر لیا ہوتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جس دن ظالم اپنے دونوں ہاتھ دانتوں سے کاٹے گا، کہے گا اے کاش ! میں رسول کے ساتھ کچھ راستہ اختیار کرتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس دن ظالم اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا اور کہے گا : کاش ! میں نے رسول کے ساتھ ہی اپنی روشن اختیار کی ہوتی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جس دن اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا حسرت سے اپنے ہاتھ کاٹے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کی معیت میں راہ اختیار کی ہوتی !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس دن ظالم انسان مارے افسوس اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائے گا اور کہے گا اے کاش میں نے اپنایا ہوتا رسول کے ساتھ حق و ہدایت کا راستہ۔

— مولانا اسحاق مدنی

اور جس روز ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا کہے گا کہ کاش میں رسول کے ساتھ راہ پر لگ لیتا !۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جس دن ظالم (حسرت سے) اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا کہے گا : کاش ! میں نے رسول ﷺ کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جس دن گنہگار اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا اور کہے گا کہ اے کاش میں نے پیغمبر کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The unjust man will bite at his hand and say, "Would that I had stood by the Messenger!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And (Be mindful of) the Day the wrongdoer will bite his hands saying, :Would that I had taken a path along with the messenger!

— Muhammad Taqi Usmani

And (Be mindful of) the Day the wrongdoer will bite his hands saying, :Would that I had taken a path along with the messenger!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And (remember) the Day when the wrongdoer will bite at his hands, he will say: "Oh! Would that I had taken a path with the Messenger."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

On the day when the wrong-doer gnaweth his hands, he will say: Ah, would that I had chosen a way together with the messenger (of Allah)!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the Day the wrongdoer will bite on his hands [in regret] he will say, "Oh, I wish I had taken with the Messenger a way.

— Saheeh International

It will be a hard day for the unbelievers. It will be a day when the unjust will bite their fingers, (regretfully) saying, "Would that we had followed the path of the Messengers.

— Muhammad Sarwar

And the day when the unjust one shall bite his hands saying: O! would that I had taken a way with the Apostle

— Muhammad Habib Shakir

On the Day when the wrong-doer shall gnaw his hands saying: would that had taken with the apostle a way!

— Abdul Majid Daryabadi

The Day that the wrong-doer will bite at his hands, he will say, "Oh! would that I had taken a (straight) path with the Messenger!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 25–29

فیصلوں کا دن قیامت کے دن جو ہولناک امور ہونگے ان میں سے ایک آسمان کا پھٹ جانا اور نورانی ابر کا نمودار ہونا بھی ہے جس کی روشنی سے آنکھیں چکا چوند ہوجائیں گی پھر فرشتے اتریں گے اور میدان محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے۔ پھر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کے لئے تشریف لائے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت (هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ اَمْرُ رَبِّكَ 33؀) 16۔ النحل :33) یعنی کہ انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بادلوں میں آئیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو سب انسانوں اور کل جنات کو ایک میدان میں جمع کرے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 26–28

سورة الْفُرْقَان 39 یعنی وہ ساری مجازی بادشاہیاں اور ریاستیں ختم ہوجائیں گی جو دنیا میں انسان کو دھوکے میں ڈالتی ہیں۔ وہاں صرف ایک بادشاہی باقی رہ جائے گی اور وہ وہی اللہ کی بادشاہی ہے جو اس کائنات کا حقیقی فرمانروا ہے۔ سورة مومن میں ارشاد ہوا ہے یَوْمَ ھُمْ بٰرِزُوْنَ لَا یَخْفٰی عَلَی اللہِ مِنْہُمْ شَیْءٌ، لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ، لِلہ الوَاحدِ الْقَھَّارِ۔ " وہ دن جبکہ یہ سب لوگ بےنقاب ہوں گے، اللہ سے ان کی کوئی چیز چھپی ہوئی نہ ہوگی۔ پوچھا جائے گا آج بادشاہی کس کی ہے ؟ ہر طرف سے جواب آئے گا اکیلے اللہ کی جو سب پر غالب ہے " (آیت 16)۔ حدیث میں اس مضمون کو اور زیادہ کھول دیا گیا ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–27

يَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاۗءُ بالْغَمَامِ ، ای عن الغمام، قرطبی۔ معنے یہ ہیں کہ آسمان شق ہو کر اس میں سے ایک رقیق بادل اترے گا جس میں فرشتے ہوں گے۔ یہ ابر بشکل سائبان آسمان سے آوے گا اور اس میں حق تعالیٰ کی تجلی ہوگی اور اس کے گردا گرد ملائکہ ہوں گے۔ یہ حساب شروع ہونے کا وقت ہوگا اور اس وقت آسمان کا پھٹنا صرف کھلنے کے طور پر ہوگا یہ وہ پھٹنا نہیں ہوگا جو پہلی نفخہ صور کے وقت آسمان زمین کو فنا کرنے کے لئے ہوگا کیونکہ یہ نزول غمام جس کا ذکر آیت میں ہے نفخہ ثانیہ کے بعد ہے جبکہ سب زمین و آسمان دوبارہ درست ہوچکے ہوں گے۔ (بیان القران)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 27–29

(آیت 29-27) قیامت کے دن مکذبین رسول کی حسرت ہاتھ کاٹنا اظہار حسرت و ندامت کی تعبیر ہے اور یہ تعبیر ہماری زبان میں بھی موجود ہے اور ظالم سے مراد یہاں اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا یعنی ہر وہ شخص جس نے رسول کی مخالفت کی فرمایا کہ ان لوگوں کو چاہئے کہ اس دن کا تصور کریں جس دن ہر وہ شخص جو آج اندھا بہرا بن کر رسول کی سنت کر رہا ہے اور اس طرح خود اپنی جان پر ظلم ڈھا رہا ہے نہایت حسرت کے ساتھ اپنے ہاتھ کاٹے گا اور کہے گا کہ کاش میں نے اللہ کے رسول کے ساتھ اس کی بتائی ہوئی راہ اختیار کرلی ہوتی اور اپن بدبختی سے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا جس نے مجھے خدا کی یاد دہانی سے جب کہ وہ میرے پاس آچکی تھی۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 25–27

25-1اس کا مطلب یہ ہے کہ آسمان پھٹ جائے گا اور بادل سایہ فگن ہوجائیں گے، اللہ تعالیٰ فرشتوں کے جلو میں، میدان محشر میں، جہاں ساری مخلوق جمع ہوگی، حساب کتاب کے لئے جلوہ فرما ہوگا، جیسا کہ سورة بقرۃ آیت210سے واضح ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 24–30

9: اگرچہ سیاق وسباق کی روشنی میں یہاں قوم سے مراد کافر لوگ ہیں، لیکن یہ مسلمانوں کے لئے بھی ڈر نے کا مقام ہے کہ اگر مسلمان ہونے کے باوجود قرآن کریم کو پس پشت ڈال دیا جائے تو کہیں وہ بھی اس سنگین جملے کا مصداق نہ بن جائیں، اور نبی کریم ﷺ شفاعت کے بجائے شکایت پیش کریں، والعیاذ باللہ العلی العظیم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 21–29

درس نمبر 158 ایک نظر میں اس سبق کا آغاز بھی اسی انداز سے ہوتا ہے جس سے درس سابق کا ہوا تھا اور مضمون بھی اسی انداز سے چلتا ہے ‘ البتہ یہاں مشرکین کے اعتراضات کا رخ رب تعالیٰ کی طرف ہے۔ یہاں وہ اللہ پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ کو اپنا لائحہ عمل دیتے ہیں۔ گویا اس سبق میں وہ اپنی سرکشی میں ترقی کرتے ہوئے رسول اللہ پر اعتراضات کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور خدا پر اعتراضات کرتے ہیں۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور دل جوئی کا ایک انداز ہے کہ یہ لوگ صرف آپ ہی پر اعتراضات نہیں کرتے بلکہ ان کی گستاخی اللہ کے جناب میں بھی ہے۔ البتہ یہاں جواب دینے کے بجائے نہایت ہی شتابی سے ان کو قیامت کے مناظر میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی مارے حسرت و ندامت کے اپنے ہاتھ کاٹے گا اور افسوس کرے گا کہ میں نے کیوں دنیا میں رسول خدا کا راستہ اختیار نہ کیا اور کیوں شیاطین الانس والجن کے بہکائے میں آگیا جو آج یہ روز بد دیکھنا پڑا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 27 وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ ” عَضَّ یَعُضُّکے معنی دانتوں سے پکڑنا یا کاٹنا کے ہیں۔ سورة النور کی آیت 55 کے ضمن میں جو حدیث بیان ہوئی ہے اس میں مُلْکًا عَاضًّا کا لفظ اسی مادے سے مشتق ہے ‘ یعنی کاٹ کھانے والی ملوکیت۔ اس دن ہر گنہگار اور مجرم شخص حسرت و یاس کی تصویر بنا جھنجھلاہٹ اور پچھتاوے میں اپنے ہاتھوں کو اپنے دانتوں سے کاٹے گا۔ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا ” حسرت سے کہے گا کہ کاش میں نے رسول ﷺ کا ساتھ دیا ہوتا ‘ ان کا اتباعّ کیا ہوتا۔ ان کے ساتھیوں میں شامل ہوگیا ہوتا !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 26–27

36 قیامت کے دن اللہ اکیلے کی فرمانبرداری اور بادشاہی ہوگی اور سب انسان بالکل برہنہ قبروں سے اٹھا کھڑے کئے جائیں گے چناچہ حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ آپ نے فرمایا : لوگ ( قیامت کے دن) ننگے پاؤں، ننگے بدن حشر کئے جاؤ گے میں کہا : یارسول اللہ ! اس طرح تو مرد اور عورت سب ایک دوسرے کے ستر کو دیکھیں گے ! آپ نے فرمایا : عائشہ ؓ ! ( قیامت کا معاملہ ایسے خیالوں سے شدید تر ہوگا۔ (بخاری۔ کتاب الرقاق۔ باب کیف الحشر ( اور ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم لوگوں کو خطبہ سنانے کھڑے ہوئے اور فرمایا : تم لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن حشر کئے جاؤ گے۔ جیسے ( اللہ تعالیٰ نے قرآن میں) فرمایا جس طرح تمہیں شروع میں پیدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

30۔ یہ ہاتھوں کا کاٹنا فرط حسرت سے ہوگا۔ عض الیدین والافاصل کنایۃ عن الغیظ والحسرۃ (کشاف) من فرط الحسرۃ (بیضاوی) الظالم “۔ ظالم سے رماد اردو کا ظالم نہیں بلکہ اپنے نفس پر ظلم کرنے والا، یعنی کافر یا منکرین دین مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–34

آیت نمبر 21 تا 34 ترجمہ : جو لوگ ہمارے سامنے پیش ہونے سے اندیشہ نہیں کرتے یعنی بعث (بعد الموت) کا خوف نہیں رکھتے وہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے ؟ کہ ہماری طرف رسول ہوں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیتے پھر ہمیں وہ یہ بات تباتے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا ان لوگوں نے اپنے دلوں میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ لیا ہے اور دنیا ہی میں اللہ کی رویت کا مطالبہ کرکے بڑی سرکشی کی ہے اور عَتَوْ واؤ کے ساتھ اپنی اصل پر ہے بخلاف عُتِیَ کے ابدال کے ساتھ سورة مریم میں جس روز یہ منجملہ خلائق کے فرشتوں کو دیکھیں گے اور (یومَ ) کا نصب اذکر فعل مقدر کی وجہ سے ہے، اس روز مجرموں یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویوم یعض الظالم علی یدیہ یقول یلیتنی اتخذت مع الرسول سبیلا۔ اور جس روز کہ ظالم (افسوس سے) اپنے دانتوں سے اپنے ہاتھ کاٹے گا (اور) کہے گا ‘ کاش میں رسول کے ساتھ (ان کی) راہ پکڑ لیتا۔ اَلظَّالِمَ سے مراد ہے عقبہ بن ابی معیط۔ ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ ابی بن خلف رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا ‘ عقبہ بن ابی معیط نے اس کو سرزنش کی اس پر یہ آیت خَذُوْلاً تک نازل ہوئی ‘ شعبی اور مقسم سے بھی ایسی ہی روایت آئی ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے ‘ دانتوں سے ہاتھ کاٹنا۔ انگلیوں کے پورے کھانا ‘ دانت پسینا یہ سب کنائی الفاظ ہیں ‘ ان سے مراد ہوتا ہے انتہائی غصہ اور حسرت۔ ضحاک نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 27–28

(27۔ 28) اور جس روز عقبہ بن ابی معیط کافر غایت و حسرت میں اپنے ہاتھ چبالے گا اور کہے گا کیا ہی اچھا ہوتا کہ میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ دین کی راہ پر لگ جاتا، ہائے میری شامت کیا اچھا ہوتا کہ میں دین کے بارے میں ابی بن خلف کو دوست نہ بناتا۔ شان نزول : (آیت) ”۔ ویوم یعض الظالم“۔ (الخ) اور ابن جریر ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ابی بن خلف رسول اکرم ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوا کرتا تھا تو اس کو عقبہ بن ابی معیط ڈانٹا کرتا تھا، اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی یعنی جس روز یہ کافر حسرت میں اپنے ہاتھ چبا لے گا، نیز اسی طرح شعبی ؒ اور مقسم ؒ سے روایت کی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰي يَدَيْهِ : ظالم سے مراد یہاں وہ مشرک ہے جس نے ایمان قبول نہیں کیا۔ اس کا قرینہ ”يٰلَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِيْلًا“ ہے، یعنی وہ حسرت و افسوس اور ندامت سے ہاتھوں کو دانتوں سے کاٹے گا۔ يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِيْلًا : ”سَبِيْلًا“ پر تنوین تنکیر کے لیے ہے، کوئی راستہ، کچھ راستہ، یعنی قیامت کے دن جب ایمان والوں کو، وہ خواہ کسی بھی درجے کا ایمان رکھتے ہوں، آخر کار جنت میں داخلہ ملے گا، تو اس وقت کافر کہے گا، کاش ! میں نے رسول کے ساتھ کچھ ہی راستہ اختیار کیا ہوتا، کسی بھی درجے میں رسول کی رفاقت اختیار کی ہوتی۔ دیکھیے اس کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 27–29

(ویوم یعض۔۔۔۔۔ ) ویوم یعض الظالم علی یدیہ ماضی عضضت ہے کسائی نے عضضت پہلی ضاد کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے : اہل تفسیر سے یہ وضاحت آئی ہے، مفسرین سے مراد حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت سعید بن مسیب ہیں کہ یہاں ظالم سے مراد عقبہ بن ابی معیط اور اس کا دوست امیہ بن خلف ہے۔ عقبہ کو حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے قتل کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ غزوہ بدر کے قیدیوں میں تھا نبی کریم ﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم ارشاد فرمایا : اس نے عرض کیا : کیا میں دوسرے کے بغیر قتل کیا جائوں گا ؟ فرمایا تیرے کفر اور تیری سرکشی کے باعث تجھے قتل کیا جائے گا۔ اس نے عرض کی، بچوں کے لیے کوئی ہے ؟ فرمایا : آگ۔ حضرت علی ؓ شیر خدا اٹھے اور اسے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 27–31

رسول ﷺ کی اتباع نہ کرنے والے خسارے میں ہوں گے 1۔ ابن مردویہ وابو نعیم فی الدلائل بسند صحیح من طریق سعید بن جبیر ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو معیط نبی ﷺ کے پاس مکہ میں بیٹھا کرتا تھا اور آپ کو تکلیف نہ دیتا تھا اور وہ بردبار آدمی تھا اور باقی قریش جب آپ کے ساتھ بیٹھتے تھے تو آپ کو تکلیف دیتے تھے۔ اور ابو معیط کا ایک دوست شام میں رہتا تھا جو موجود نہیں تھا قریش نے کہا ابو معیط نے دین تبدیل کرلیا اس کا دوست شام سے رات کو آیا اور اپنی بیوی سے کہا محمد ﷺ نے کیا کیا اس دین کے بارے میں جس پر وہ تھے اس کی بیوی نے کہا وہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔ پھر اس نے پوچھا میرے دوست ابو معیط نے کیا کیا۔ اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَيَوْمَ [ اور جس دن ] يَعَضُّ [ چبائیں گے ] الظَّالِمُ [ سارے ظالم لوگ ] عَلٰي يَدَيْهِ [ اپنے دونوں ہاتھوں کو ] يَقُوْلُ [ کہتے ہوئے ] يٰلَيْتَنِي [ اے کاش میں نے ] اتَّخَذْتُ [ پکڑا ہوتا ] مَعَ الرَّسُوْلِ [ ان رسول کے ساتھ ] سَبِيْلًا [ کوئی راستہ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ ) (ای الآیات الثلث) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ عقبہ بن ابی معیط لعنۃ اللہ علیہ جب بھی سفر سے آتا کھانا پکاتا اور اہل مکہ کی دعوت کرتا تھا اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ زیادہ اٹھتا بیٹھتا تھا آپ کی باتیں اسے پسند آتی تھیں ایک مرتبہ جب وہ سفر سے واپس آیا تو کھانا تیار کیا اور حضور اقدس ﷺ کو کھانے کی دعوت دی آپ ﷺ نے فرمایا میں تیرا کھانا نہیں کھا سکتا جب تک کہ تو لا الہ الا اللہ کی اور میرے رسول ہونے کی گواہی نہ دے اس نے پھر کھانے کو کہا آپ نے پھر وہی جواب دیا اس کے بعد اس نے شہادت کی گواہی دیدی اور آپ نے اس کا کھانا کھالیا اس واقعہ کی ابی بن خلف کو خبر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–31

منکرین نبوت کا چوتھا شبہ اور اس کا جواب قال اللہ تعالیٰ وقال الذین لا یرجعون لقاء نا ...... الیٰ ..... ھادیا ونصیرا۔ (ربط) منکرین نبوت کا چوتھا شبہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں نازلکیے جو ہمارے سامنے آکر آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی شہادت دیتے کہ یہ شخص دعوائے نبوت میں صادق ہے یا ہم بلاوسطہ اللہ کو دیکھتے اور بلاوسطہ خود اللہ تعالیٰ سے آپکی بابت پوچھ لیتے اور اللہ تعالیٰ ہم کو خود بتلا دیتا کہ یہ شخص میرا نبی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جاہلانہ اور احمقانہ اور گستاخانہ اور مغرورانہ سوال کے جواب میں یہ ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ بڑے ہی سرکش اور متبکر ہیں کہ وہ اپنے آپ کو اس مرتبہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 27–29

21:۔ ” ویم یعض الخ “ قیامت کے دن مشرکین و کفار حسرت و ندامت سے انگلیاں کاٹیں گے اور کہیں گے کاش ! ہم نے پیغمبروں پر ایمان لا کر اللہ کی توحید اور اس کے برکات دہندہ ہونے کو مان لیا ہوتا۔ ” یویلتی لیتنی الخ “ کاش میں فلاں فلاں داعیان شرک اور صنادید کفر سے دوستی نہ گانٹھتا اور ان کی پیروی نہ کرتا۔ ” لقد اضلنی الخ “ ان ظالموں نے تو مجھے راہ توحید اور دعوی تبارک سے ہٹا دیا۔ ” خذولا “ خوار کرنے والا۔ شیطان جب انسان کو گمراہ کرتا ہے تو اسے بڑے خوبصورت سبز باغ دکھاتا ہے لوگوں کے دلوں میں توحید کے بارے میں عجیب شکوک پیدا کر کے ان کو شرک میں مبتلا کرتا ہے۔ مثلاً لوگوں کے دلوں میں یہ وسوسے ڈالتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 21–29

ربطِ آیات اس سورة مبارکہ میں تمام بنیادی عقائد بیان کیے گئے ہیں ، میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے عقلی و نقلی دلائل ہیں ۔ قیامت اور جزائے عمل کا سلسلہ ہے نبوت و رسالت کا بیان اور اس پر اعتراض کرنے والوں کے باطل شکوک کا ازالہ ہے اس کے علاوہ دیگر بہت سی اخلاقی تعلیمات ہیں مگر زیادہ تر نبوت و رسالت کا بیان ہے کافر اور مشرک لوگ نبی آخر الزمان پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ کیسا نبی ہے جو کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ۔ ان کے نزدیک بشریت نبوت و رسالت کے منافی تھی ۔ اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ حضور ﷺ سے پہلے جتنے بھی نبی اور رسول دنیا میں آئے وہ سب کے سب انسان تھے ۔ وہ سارے کھانا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰي يَدَيْہِ يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِيْلًا۝ 27 عض العَضُّ : أَزْمٌ بالأسنان . قال تعالی: عَضُّوا عَلَيْكُمُ الْأَنامِلَ [ آل عمران/ 119] ، وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ [ الفرقان/ 27] ، وذلک عبارة عن النّدم لما جری به عادة الناس أن يفعلوه عند ذلك، والعُضُّ للنّوى «1» ، والذي يَعَضُّ عليه الإبلُ ، والعِضَاضُ : مُعَاضَّةُ الدّوابِّ بعضها بعضا، ورجلٌ مُعِضٌّ: مبالغٌ في أمره كأنّه يَعَضُّ عليه، ويقال ذلک في المدح تارة، وفي الذّمّ تارة بحسب ما يبالغ فيه، يقال : هو عِضُّ سفرٍ ، وعِضٌّ في الخصومة «2» ، وزمنٌ عَضُوضٌ: فيه جدب، والتَّعْضُوضُ :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–30

(3) یوم یعض الظالم قرینہ عبارت تعمیم پر دلالت کرتا ہے یعنی ہر ظالم اس روز ہاتھ دانتوں سے کاٹے گا ‘ افسوس کرے گا کہ اے کاش میں فلاں شخص کو دوست نہ بناتا۔ اس سے مراد اس کی وہ شخص ہوگا کہ جس نے اس کو دنیا میں ہدایت پانے کے بعد ہدایت سے دوستی کے پیرایہ میں باز رکھا تھا اور ایسا بہت ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 27–29

وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ یَـقُـوْلُ یٰـلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلاً ۔ یٰـوَیْلَتٰی لَیْتَنِیْ لَمْ اَ تَّخِذْ فُلاَ نًا خَلِیْلاً ۔ لَـقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّکْرِ بَعْدَ اِذَجَآئَ نِیْ ط وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُ وْلاً ۔ (الفرقان : 27 تا 29) (اور جس دن اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا حسرت سے اپنے ہاتھ کاٹے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کی معیت میں نجات کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری بدبختی، کاش میں نے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔ اسی نے مجھے گمراہ کرکے اس یاد دہانی سے برگشتہ کیا، بعد اس کہ وہ میرے پاس آچکی تھی، اور شیطان انسان کے لیے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–28

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن کی ہولناکیاں دیکھ کر ظالموں کا اپنے آپ پر اظہار افسوس۔ قیامت کا دن ظالموں کے لیے اس قدر بھاری ہوگا کہ جس سے ظالم حواس باختہ ہوجائیں گے دیکھنے والا انھیں یوں محسوس کرے گا جیسے یہ کسی نشہ کی وجہ سے مدہوش ہوچکے ہیں حالانکہ وہ کسی نشہ کی وجہ سے مدہوش نہیں ہوں گے۔ لوگ اللہ کے عذاب کی وجہ سے حواس باختہ ہوں گے۔ (الحج : 1) ظالم اس قدر دہشت زدہ ہوں گے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو کاٹتے ہوئے واویلا کریں گے اور اپنے آپ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے ہائے افسوس ہم ادھر ادھر کے راستے اختیار کرنے کی بجائے رسول کا راستہ اختیار کرتے۔ ہائے افسوس ہم نے رسول کو چھوڑ کر فلاں فلاں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کفار کی حسرت و غیظ : 27: وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّا لِمُ عَلٰی یَدَیْہِ (اور جس روز ظالم اپنے دانتوں سے اپنے ہاتھ کاٹے گا) عض الیدین یہ حسرت و غیظ سے کنایہ ہے کیونکہ ہاتھ کا ٹنا اس کا ردیف ہے پس بعد میں آنے والے کا ذکر کر کے اصل پر دلالت کردی۔ اس سے کلام کا مرتبہ فصاحت بھی انتہائی بلندہوگیا اس کو سن کر سامع پر ایسا رعب طاری ہوتا ہے جو اصل کو سن کر نہیں ہوتا۔ الظالمؔ نمبر 1۔ میں الف لام عہد خارجی کا ہے اس سے ظاہر مراد عقبہ بن ابی معیط ہے۔ نمبر 2۔ الف لام جنس کا ہے اس صورت میں عقبہ اور اس جیسے دیگر کفار کو بھی شامل ہوگا۔ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ (کہے گا کاش میں پکڑ لیتا) دنیا میں مَعَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

ویوم یعض الظالم کی تفسیر۔ 27۔ ویوم یعض الظالم علی یدیہ، اس سے عقبہ بن ابی معیط کا ظلم مراد ہے۔ کہ جب وہ سفر سے واپس آتا تھا کھاناتیار کراتا اور اپنی قوم کے بڑے بڑے لوگوں کی دعوت کرتا تھا۔ یہ شخص رسول اللہ کے پاس زیادہ دیر بیٹھتا تھا، ایک روزسفر سے واپس ہوکرکھاناتیار کروایا لوگوں کو دعوت دی اور آپ کو بھی دعوت دی گئی آپ تشریف لے گئے۔ جب عقبہ نے کھانا لاکر آپ کے سامنے رکھا، آپ نے فرمایا میں اس وقت تک تمہارا کھانا نہیں کھاؤں گا جب تک تم لاالہ الا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہ کی شہادت نہ دو گے۔ عقبہ نے کلمہ شہادت پڑھ لیا اور آپ نے اس کا کھانا کھالیا، عقبہ ابی بن خلف کادوست تھا ابی کو عقبہ کے کلمہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 25–27

25۔ 26:۔ یہ آسمان کے پھٹنے اور فرشتوں کے زمین پر اترنے کا ذکر حشر کے وقت کا ہے ‘ مسند امام احمد بن حنبل ‘ مسند ابویعلیٰ موصلی تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن مردویہ وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود 2 ؎ اور عبداللہ بن عباس 3 ؎ کی روایت میں اس آیت کی تفسیر جو آئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ میدان محشر میں جب سب لوگ آفتاب کی گرمی اور پسینے سے گھبراویں گے اور حضرت آدم ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) تک سب انبیاء کے پاس جاویں گے اور حساب و کتاب کے شروع ہونے کی شفاعت کی خواہش ان سے کریں گے اور سب انبیاء اس دن کے خدا کے غصہ سے ڈر کر اس شفاعت سے انکار کریں گے ‘ آخر یہ سب لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 25–29

آیت 25 سے 29 اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن کی عظمت، اور اس دن پیش آنے والی سختی اور کرب اور دلوں کو ہلا دینے والے مناظر کو بیا کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ویوم تشقق السماء بالغمام) ” اور جس دن آسمان پھٹ جائے گا ساتھ بادل کے۔ “ یہ وہ بادل ہوگا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانوں سے نزول فرمائے گا۔ پس آسمان پھٹ جائیں گے اور تمام آسمانوں کے فرشتے نیچے اتر آئیں گے اور صف در صف کھرے ہوجائیں گے یا تو تمام ایک ہی صف بنا کر تمام خلائق کو گھیر لیں گے یا اس کی صورت یہ ہوگی کہ ایک آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اس کے ساتھ دوسرے آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اور اسی طرح ساتوں آسمانوں کے فرشتے در صف موجود ہوں گے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–48

پانی کے مسائل قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

34 ظالموں کی انتہائی یاس و حسرت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا "۔ اور کہے گا کہ کاش میں نے رسول کا راستہ اپنایا ہوتا۔ شان نزول کے اعتبار سے اگرچہ یہ آیتیں عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی تھیں جس نے آنحضرت ﷺ کے ارشاد پر ایمان قبول کرلیا تھا لیکن بعد میں اپنے دوست ابی بن خلف کے کہنے پر وہ مرتد ہوگیا تھا۔ لیکن یہ ارشاد عام ہے اور ہر اس شخص کو شامل ہے جو ان الفاظ کے عموم میں آسکتا ہے۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ یہ لوگ اس ہولناک دن سے ڈریں اور اس کو اور اس کے تقاضوں کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں جس دن کہ ظالم لوگ حسرت کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 25–29

قیامت کا نقشہ اور کفار کی حسرت تشریح : حشر کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اس دن اللہ بادشاہوں کا بادشاہ پورے جلال سے اپنا دربار لگائے گا۔ تب ہر شخص اپنے کیے گئے گناہ اور جنہوں نے اپنے برے دوستوں کے غلط مشوروں پر چل کر ہدایت پانے کے بعد گمراہی اختیار کی ہوگی ‘ افسوس کرے گا۔ حقیقت تو یہی ہے کہ نیکی کا راستہ اور نیک دوستوں کی مجلس ہی انسان کے لیے ذریعہ نجات ہوگی۔ برے دوست وقت پر دھوکہ دیتے ہیں برے راستے اور برے اعمال سزا کا باعث بنتے ہیں۔ جزا کا باعث نہیں بنتے۔ اس لیے نیک دوست بھی بڑی نعمت ہوتے ہیں۔ بری صحبت یعنی برے لوگوں سے بچنا بھی نیکی ہے اور بڑی سعادت ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے اچھے دوست کی مثال خوشبو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–34

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف یہ لوگ صرف اسی پر بس نہیں کرتے کہ آپ ﷺ کی ذات ہی پہ اعتراض کرتے ہیں انہیں آخرت کے انکار اور اللہ جل جلالہ کے روبرو پیشی سے انکار نے اس قدر گستاخ کردیا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ فرشتہ ہمارے پاس کیوں نہیں آتا نبی ہی کے پاس کیوں آتا اور اللہ جل جلالہ ہم سے بات کیوں نہیں کرتا ، اس قدر تکبر اور اپنی بڑائی میں اس قدر بڑھ چڑھ کر بات کر رہے ہیں لیکن ایک روز ایسا بھی ہوگا کہ یہ فرشتوں کو روبرو دیکھیں گے موت کے وقت بھی اور یوم قیامت بھی فرشتے تو ان کے سامنے ہوں گے مگر ایمان لانے اور غور وفکر سے راہ اپنانے کا وقت گذر چکا ہوگا اور ان بدکاروں کے لیے فرشتوں کا سامنے آنا کوئی سامان راحت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:27) یوم۔ میں عامل اذکر محذوف ہے۔ یعض۔ عض یعض (باب سمع) عض وعضیض مصدر۔ دانت سے پکڑنا دانت سے کاٹنا۔ فعل مضارع واحد مذکر غائب۔ با اور علی کے صلہ کے ساتھ عض بہ عض علی آتا ہے۔ یعض علی یدیہ وہ اپنے دونوں ہاتھ کاٹ کاٹ کھاتا ہے یا کھائے گا۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے واذا خلوا عضوا علیکم الانامل من الغیظ (3:119) اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر (شدت) غیظ سے انگلیاں کاٹ کاٹ کر کھاتے ہیں۔ الظالم۔ میں ال حرف تعریف ہے۔ پھر اس کی دو صورتیں ہیں۔ (1) یہ حرف تعریف عہد کے لئے ہے ۔ اور اس کا معہود متعین ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے کما ارسلنا الی فرعون رسولا۔ فعصی فرعون الرسول (73:15 ۔ 16) جس طرح ہم نے فرعون کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 21–29

لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 29 : (لایرجعون) وہ امید نہیں رکھتے ہیں ‘(لقائ) ملاقات ‘(عتو کبیر) بہت زیادہ۔ حد سے زیادہ بڑھنا ‘ (لا بشری) خوشخبری نہیں ہے ‘ (حجر) کوئی روک ۔ کوئی آڑ ‘( محجور) آڑ کھڑ کردی گئی ‘ (قدمنا) ہم آگے آئے ‘ (ھبائ) وہ ذرات جو سورج چمکنے سے نظر آتے ہیں ‘( منثور) اڑایا ہوا۔ پھیلا ہوا ‘(مستقر) ٹھکانا ‘(مقیل) آرام کی جگہ ‘ (تشقق) پھٹ جائے گی ‘ (الغمام) بادل ‘(عسیر) سخت۔ مشکل ‘(یعض) کاٹے گا ‘ (یلیتنی) ‘ اے کاش کہ میں ‘(یویلتی) ہائے میری بدنصیبی ‘ خلیل (دوست) (اضلنی) مجھے بہکادیا ‘ (خذول) دغا باز۔ چھوڑ جانے والا ‘ تشریح آیت نمبر 21 تا 29 : جو لوگ اللہ پر ‘ آخرت اور اس کے رسول پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 27–29

بےدین کی دوستی کا حال۔ (ف 1) شان نزول : مکہ میں عقبہ بن ابی معیط ، ابی بن خلف کا گہرادوست تھا نبی ﷺ کے فرمانے سے اس نے لا الہ اللہ محمدرسول اللہ کی شہادت دی اور اس کے بعد ابی بن خلف کے زور ڈالنے سے پھر مرتد ہوگیا اور نبی ﷺ نے اس کو مقتول ہونے کی خبر دی، چناچہ بدر میں مارا گیا ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا مطلب یہ ہے کہ ابی بن خلف کی دوستی سے جس طرح عقبہ بن ابی معیط کو ایسا نقصان پہنچا جس کو یاد کرکے قیامت کے دن عقبہ اپنے ہاتھ کو ندامت اور حسرت سے چباچبا لے گا اسی طرح ہر ایک برے دوست کی دوستی کا انجام ہے آخر کو فرمایا شیطان بڑا دغاباز ہے برے دوستوں کی دوستی کے پھندے میں پھنسا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–30

[14] یعنی کافروں نے اپنے زعم باطل کے موافق جو بھلے کام کئے تھے اور جن پر انھیں بڑا بھروسہ تھا انھیں ہم ملیامیٹ کردیں گے اور اس طرح بےحقیقت کر کے اڑا دیں گے جیسے خاک کے حقیر ذرات ہوا میں ادھر ادھر اڑ جایا کرتے ہیں، کیونکہ وہ اعمال روح ایمان سے یکسر خالی ہوں گے۔ یہ مضمون سورة ابراہیم کی آیت 18 میں بھی گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 26–29

ف 3: اس آیت سے مقصود وہ اس کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جب حشر میں کفار کو معلوم ہوگا کہ ہمارے اعمال کا انجام کیا ہونے والا ہے (اس وقت یہ لوگ اپنے دانتوں سے اپنے ہاتھ کاٹیں گے اور نہایت ہی حسرت ناک انداز میں کہیں گے ۔ اے کاش ہم نے رسول کی پیروی کی ہوتی ۔ اور ہم فلاں فلاں گمراہ اور بدکردار لوگوں کو دوستی کے لئے منتخب نہ کرتے ۔ حل لغات :۔ عسیرا مشکل دشوار گزار فلانا ۔ غیر متعین شخص خدولا ۔ خدول سے ہے معنی مدد دینا ۔ خوار کرنا مھجورا ۔ متروک ۔ چھوڑا ہوا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(27) اور جس دن ظالم حسرت کے مارے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا اور یوں کہتا ہوگا اے کاش ! میں بھی رسول کے ساتھ ہوکر صحیح راہ لگ لیتا اور میں نے بھی صحیح راہ اختیار کی ہوتی یعنی ندامت و حسرت کا یہ عالم ہوگا کہ ہاتھوں کو کاٹ کاٹ کھائے گا اور بچتا بچتا کر کہے گا کیا اچھا ہوتا کہ میں بھی رسول کے ساتھ ہوکر سیدھا راستہ اختیار کرلیتا اور یہ بھی کہے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 27–30

ف 6۔ مطلب یہ کہ خود کفار بھی اپنی ضلالت کا اقرار کریں اور رسول بھی شہادت دیں گے، اور ثبوت جرم کی یہی دو صورتیں معتاد ہیں، اقرار اور شہادت۔ اور دونوں کے اجتماع سے یہ ثبوت اور بھی موکد ہوجاوے گا، اور سزا یاب ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ظالم اپنے ہاتھ کاٹیں گے کہ کاش انہوں نے رسول کا ساتھ اختیار کیا ہوتا : 27۔ غصہ اور ندامت کے وقت کی حالت کا بیان ہے کہ انسان ایسی حالت میں اپنے ہاتھوں کو دانتوں سے کاٹتا ہے فرمایا وہ وقت ایسا ہوگا کہ مشرکین ومعاندین اپنے ہاتھوں کو کاٹتے ہوں گے اور اس وقت ان کی حالت دیدنی ہوگی یہ وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے دنیا میں اس طرح کی سوال اٹھائے اور رسول اللہ ﷺ اور ایمان والوں کی استہزاء کا نشانہ بنایا اور کٹ حجتیان کرتے ہوئے فرشتوں کے اترنے اور اللہ رب العزت کے بنفس نفیس ظاہر ہونے کے مطالبات کئے اس جگہ مفسرین نے کچھ خاص خاص لوگوں کے واقعات بھی بیان کئے ہیں اور تحریر کیا ہے کہ انہی واقعات کے پیش نظریہ آیت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–27

تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ (The sky will break open with a cloud - 25:25). The explanation of the verse is that the sky will rip apart and a sort of liquid cloud will descend from it which will be carrying angels with it. This cloud will look like a canopy descending from the sky and will be bearing Allah Ta’ ala's refulgence surrounded by angels. This will precede the beginning of the reckoning and the sky will rip open only to make an opening. It will not be the same ripping as the one when the sur (صُور) will be blown to finish off the earth and the sky, because this descension of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–28

39 That is, "On that Day all other kingdoms, which deluded man in the world, will come to an end, and there will be only the Kingdom of Allah, Who is the real Sovereign of the universe. In Surah Mu'min: 16, the same thing has been stated thus: "On that Day when aII the people will stand exposed, and nothing of them will be hidden from Allah, it will be asked, `Whose is the Sovereignty today?' The response from every side will he: `Of Allah, the Almighty'." According to a Tradition, the Holy Prophet said, "AIlah will take the heavens in one hand and the earth in the other, and will declare: `I…

Read the full tafseer →