Explained with ayahs 25–29
فیصلوں کا دن
قیامت کے دن جو ہولناک امور ہونگے ان میں سے ایک آسمان کا پھٹ جانا اور نورانی ابر کا نمودار ہونا بھی ہے جس کی روشنی سے آنکھیں چکا چوند ہوجائیں گی پھر فرشتے اتریں گے اور میدان محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے۔ پھر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کے لئے تشریف لائے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت (هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ اَمْرُ رَبِّكَ 33) 16۔ النحل :33) یعنی کہ انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بادلوں میں آئیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو سب انسانوں اور کل جنات کو ایک میدان میں جمع کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
سورة الْفُرْقَان 39
یعنی وہ ساری مجازی بادشاہیاں اور ریاستیں ختم ہوجائیں گی جو دنیا میں انسان کو دھوکے میں ڈالتی ہیں۔ وہاں صرف ایک بادشاہی باقی رہ جائے گی اور وہ وہی اللہ کی بادشاہی ہے جو اس کائنات کا حقیقی فرمانروا ہے۔ سورة مومن میں ارشاد ہوا ہے یَوْمَ ھُمْ بٰرِزُوْنَ لَا یَخْفٰی عَلَی اللہِ مِنْہُمْ شَیْءٌ، لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ، لِلہ الوَاحدِ الْقَھَّارِ۔ " وہ دن جبکہ یہ سب لوگ بےنقاب ہوں گے، اللہ سے ان کی کوئی چیز چھپی ہوئی نہ ہوگی۔ پوچھا جائے گا آج بادشاہی کس کی ہے ؟ ہر طرف سے جواب آئے گا اکیلے اللہ کی جو سب پر غالب ہے " (آیت 16)۔ حدیث میں اس مضمون کو اور زیادہ کھول دیا گیا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
يٰوَيْلَتٰى لَيْتَنِيْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيْلًا، یہ آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہے مگر حکم عام ہے واقعہ یہ تھا کہ عقبہ ابن ابی معیط مکہ کے مشرک سرداروں میں سے تھا اس کی عادت تھی کہ جب کسی سفر سے واپس آتا تو شہر کے معزز لوگوں کی دعوت کرتا تھا اور اکثر رسول اللہ ﷺ سے بھی ملا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ حسب عادت اس نے معززین شہر کی دعوت کی اور رسول اللہ ﷺ کو بھی بلایا۔ جب اس نے آپ کے سامنے کھانا رکھا تو آپ نے فرمایا کہ میں تمہارا کھانا اس وقت تک نہیں کھا سکتا جب تک تم اس کی گواہی نہ دو کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اس کا کوئی شریک عبادت میں نہیں ہے اور یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔ عقبہ نے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
(آیت 29-27)
قیامت کے دن مکذبین رسول کی حسرت
ہاتھ کاٹنا اظہار حسرت و ندامت کی تعبیر ہے اور یہ تعبیر ہماری زبان میں بھی موجود ہے اور ظالم سے مراد یہاں اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا یعنی ہر وہ شخص جس نے رسول کی مخالفت کی فرمایا کہ ان لوگوں کو چاہئے کہ اس دن کا تصور کریں جس دن ہر وہ شخص جو آج اندھا بہرا بن کر رسول کی سنت کر رہا ہے اور اس طرح خود اپنی جان پر ظلم ڈھا رہا ہے نہایت حسرت کے ساتھ اپنے ہاتھ کاٹے گا اور کہے گا کہ کاش میں نے اللہ کے رسول کے ساتھ اس کی بتائی ہوئی راہ اختیار کرلی ہوتی اور اپن بدبختی سے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا جس نے مجھے خدا کی یاد دہانی سے جب کہ وہ میرے پاس آچکی تھی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
28-1اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نافرمانوں سے دوستی اور وابستگی نہیں رکھنی چاہیئے، اس لئے کہ اچھی صحبت سے انسان اچھا اور بری صحبت سے انسان برا بنتا ہے۔ اکثر لوگوں کی گمراہی کی وجہ غلط دوستوں کا انتخاب اور صحبت بد کا اختیار کرنا ہی ہے۔ اس لئے حدیث میں بھی صالحین کی صحبت کی تاکید اور بری صحبت سے اجتناب کو ایک بہترین مثال سے و اضع کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
9: اگرچہ سیاق وسباق کی روشنی میں یہاں قوم سے مراد کافر لوگ ہیں، لیکن یہ مسلمانوں کے لئے بھی ڈر نے کا مقام ہے کہ اگر مسلمان ہونے کے باوجود قرآن کریم کو پس پشت ڈال دیا جائے تو کہیں وہ بھی اس سنگین جملے کا مصداق نہ بن جائیں، اور نبی کریم ﷺ شفاعت کے بجائے شکایت پیش کریں، والعیاذ باللہ العلی العظیم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
درس نمبر 158 ایک نظر میں
اس سبق کا آغاز بھی اسی انداز سے ہوتا ہے جس سے درس سابق کا ہوا تھا اور مضمون بھی اسی انداز سے چلتا ہے ‘ البتہ یہاں مشرکین کے اعتراضات کا رخ رب تعالیٰ کی طرف ہے۔ یہاں وہ اللہ پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ کو اپنا لائحہ عمل دیتے ہیں۔ گویا اس سبق میں وہ اپنی سرکشی میں ترقی کرتے ہوئے رسول اللہ پر اعتراضات کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور خدا پر اعتراضات کرتے ہیں۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور دل جوئی کا ایک انداز ہے کہ یہ لوگ صرف آپ ہی پر اعتراضات نہیں کرتے بلکہ ان کی گستاخی اللہ کے جناب میں بھی ہے۔ البتہ یہاں جواب دینے کے بجائے نہایت ہی شتابی سے ان کو قیامت کے مناظر میں…
Read the full tafseer →9 یعنی جن کی دوستی اور اغواء سے گمراہ ہوا تھا یا گمراہی میں ترقی کی تھی، اس وقت پچھتائے گا کہ افسوس ایسوں کو میں نے اپنا دوست کیوں سمجھا۔ کاش میرے اور ان کے درمیان کبھی دوستی اور رفاقت نہ ہوئی ہوتی۔ (تنبیہ) مفسرین نے یہاں عقبہ بن ابی معیط اور ابی بن خلف کا جو واقعہ نقل کیا ہے، کچھ ضرورت نہیں کہ آیت کے مدلول کو اس پر مقصود کیا جائے۔ ہاں جو تقریر ہم نے کی ہے اس میں وہ بھی داخل ہے۔
Read the full tafseer →آیت 28 یٰوَیْلَتٰی لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا ”
کہ میری زندگی میں ایک مرحلہ ایسا بھی آیا تھا کہ میرے دل پر رسول اللہ ﷺ کی دعوت کی سچائی منکشف ہونا شروع ہوگئی تھی ‘ لیکن میرے فلاں دوست نے مجھے ورغلا کر پھر اس رستے سے بھٹکا دیا۔ کاش میں نے ایسے شخص کی دوستی اختیار نہ کی ہوتی !
Read the full tafseer →38 جب کافر مومنوں سے اللہ تعالیٰ کا حسن دیکھے گا وہی مومن جنہیں وہ حقیر مخلوق سمجھ کر ایذائیں پہنچایا کرتا تھا تو حسرت و ندامت سے اس کے منہ سے یہ الفاظ نکل جائیں کہ کاش میں نے بھی اللہ کے رسول کا ساتھ دیا ہوتا تو یہ سخت وقت نہ دیکھنا پڑتا۔ کاش میں نے کچھ اپنی بصرت سے کام لیا ہوتا اور محض دوسروں کا آلہ کار بن کر رسول کی مخالفت نہ کی ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
31۔ (چنانچہ قیامت میں زبانی ہمدردی تک کے بھی کام نہ آئے گا) (آیت) ” یویلتی لیتنی “۔ الخ۔ بڑا عبرت کا مضمون اپنے اندر رکھتا ہے۔ دنیا میں جتنی بھی گمراہیاں آتی ہیں کسی نہ کسی انسانی ہی ذریعہ سے آتی ہیں اور شیطان جب آتا ہے، کسی دوست وآشنا راز دان ہی کے قالب میں آتا ہے۔ فقہاء نے اس آیت سے بہ طور اشارۃ النص نکالا ہے کہ صحبت بد کا ترک واجب ہے۔ خصوصا اس شخص کا جو اغوا کرتا رہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں صحبت اشرار سے بچنے کی تعلیم ہے اور شریر کی تفسیر یہ ہے کہ جو کوئی ذکر الہی سے بعید ہونے کا سبب بن جائے۔ (آیت) ” لقد ...... جآءنی “۔ آیت میں صاف اشارہ اس طرف موجود ہے کہ جن کافروں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–34
آیت نمبر 21 تا 34
ترجمہ : جو لوگ ہمارے سامنے پیش ہونے سے اندیشہ نہیں کرتے یعنی بعث (بعد الموت) کا خوف نہیں رکھتے وہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے ؟ کہ ہماری طرف رسول ہوں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیتے پھر ہمیں وہ یہ بات تباتے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا ان لوگوں نے اپنے دلوں میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ لیا ہے اور دنیا ہی میں اللہ کی رویت کا مطالبہ کرکے بڑی سرکشی کی ہے اور عَتَوْ واؤ کے ساتھ اپنی اصل پر ہے بخلاف عُتِیَ کے ابدال کے ساتھ سورة مریم میں جس روز یہ منجملہ خلائق کے فرشتوں کو دیکھیں گے اور (یومَ ) کا نصب اذکر فعل مقدر کی وجہ سے ہے، اس روز مجرموں یعنی…
Read the full tafseer →یویلتی لیتنی لم اتخذ فلانا خلیلا ہائے افسوس کاش میں فلاں (یعنی ابی بن خلف) کو دوست نہ بناتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(27۔ 28) اور جس روز عقبہ بن ابی معیط کافر غایت و حسرت میں اپنے ہاتھ چبالے گا اور کہے گا کیا ہی اچھا ہوتا کہ میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ دین کی راہ پر لگ جاتا، ہائے میری شامت کیا اچھا ہوتا کہ میں دین کے بارے میں ابی بن خلف کو دوست نہ بناتا۔
شان نزول : (آیت) ”۔ ویوم یعض الظالم“۔ (الخ)
اور ابن جریر ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ابی بن خلف رسول اکرم ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوا کرتا تھا تو اس کو عقبہ بن ابی معیط ڈانٹا کرتا تھا، اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی یعنی جس روز یہ کافر حسرت میں اپنے ہاتھ چبا لے گا، نیز اسی طرح شعبی ؒ اور مقسم ؒ سے روایت کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →يٰوَيْلَتٰى لَيْتَنِيْ لَمْ اَتَّخِذْ۔۔ : ”یویلتی“ اصل میں ”یَا وَیْلَتِيْ“ ہے، جس میں لفظ ”وَیْلَۃٌ“ یائے متکلم کی طرف مضاف ہے، جسے الف سے بدل دیا گیا ہے، معنی ہے میری ہلاکت، میری بربادی۔ یعنی کافر اپنی ہلاکت کو پکارے گا اور ان لوگوں کا نام لے کر کہے گا جنھوں نے اسے گمراہ کیا تھا کہ کاش ! میں فلاں کو دلی دوست نہ بناتا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ایک کا نام لینے کے بجائے ہر شخص کے دلی دوست کے لیے ”خَلِیْلاً“ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ کفار کی اس ندامت کا ذکر سورة بقرہ
(167) اور سورة احزاب (66 تا 68) میں بھی دیکھیے۔ اس سے معلوم ہوا آدمی کو خوب سوچ سمجھ کر دوست کا انتخاب کرنا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
(ویوم یعض۔۔۔۔۔ )
ویوم یعض الظالم علی یدیہ ماضی عضضت ہے کسائی نے عضضت پہلی ضاد کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے : اہل تفسیر سے یہ وضاحت آئی ہے، مفسرین سے مراد حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت سعید بن مسیب ہیں کہ یہاں ظالم سے مراد عقبہ بن ابی معیط اور اس کا دوست امیہ بن خلف ہے۔ عقبہ کو حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے قتل کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ غزوہ بدر کے قیدیوں میں تھا نبی کریم ﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم ارشاد فرمایا : اس نے عرض کیا : کیا میں دوسرے کے بغیر قتل کیا جائوں گا ؟ فرمایا تیرے کفر اور تیری سرکشی کے باعث تجھے قتل کیا جائے گا۔ اس نے عرض کی، بچوں کے لیے کوئی ہے ؟ فرمایا : آگ۔ حضرت علی ؓ شیر خدا اٹھے اور اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
رسول ﷺ کی اتباع نہ کرنے والے خسارے میں ہوں گے
1۔ ابن مردویہ وابو نعیم فی الدلائل بسند صحیح من طریق سعید بن جبیر ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو معیط نبی ﷺ کے پاس مکہ میں بیٹھا کرتا تھا اور آپ کو تکلیف نہ دیتا تھا اور وہ بردبار آدمی تھا اور باقی قریش جب آپ کے ساتھ بیٹھتے تھے تو آپ کو تکلیف دیتے تھے۔ اور ابو معیط کا ایک دوست شام میں رہتا تھا جو موجود نہیں تھا قریش نے کہا ابو معیط نے دین تبدیل کرلیا اس کا دوست شام سے رات کو آیا اور اپنی بیوی سے کہا محمد ﷺ نے کیا کیا اس دین کے بارے میں جس پر وہ تھے اس کی بیوی نے کہا وہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔ پھر اس نے پوچھا میرے دوست ابو معیط نے کیا کیا۔ اس…
Read the full tafseer →يٰوَيْلَتٰى [ ہائے بربادی ] لَيْتَنِيْ [ کاش میں نے ] لَمْ اَتَّخِذْ [ نہ بنایا ہوتا ] فُلَانًا خَلِيْلًا [ فلاں کو دوست ]
Read the full tafseer →(یَاوَیْلَتِی لَیْتَنِی لَمْ اَتَّخِذْ فُلاَنًا خَلِیْلًا) (کہ میں فلاں کو یعنی ابی بن خلف کو اپنا دوست نہ بناتا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–31
منکرین نبوت کا چوتھا شبہ اور اس کا جواب
قال اللہ تعالیٰ وقال الذین لا یرجعون لقاء نا ...... الیٰ ..... ھادیا ونصیرا۔
(ربط) منکرین نبوت کا چوتھا شبہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں نازلکیے جو ہمارے سامنے آکر آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی شہادت دیتے کہ یہ شخص دعوائے نبوت میں صادق ہے یا ہم بلاوسطہ اللہ کو دیکھتے اور بلاوسطہ خود اللہ تعالیٰ سے آپکی بابت پوچھ لیتے اور اللہ تعالیٰ ہم کو خود بتلا دیتا کہ یہ شخص میرا نبی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جاہلانہ اور احمقانہ اور گستاخانہ اور مغرورانہ سوال کے جواب میں یہ ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ بڑے ہی سرکش اور متبکر ہیں کہ وہ اپنے آپ کو اس مرتبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
21:۔ ” ویم یعض الخ “ قیامت کے دن مشرکین و کفار حسرت و ندامت سے انگلیاں کاٹیں گے اور کہیں گے کاش ! ہم نے پیغمبروں پر ایمان لا کر اللہ کی توحید اور اس کے برکات دہندہ ہونے کو مان لیا ہوتا۔ ” یویلتی لیتنی الخ “ کاش میں فلاں فلاں داعیان شرک اور صنادید کفر سے دوستی نہ گانٹھتا اور ان کی پیروی نہ کرتا۔ ” لقد اضلنی الخ “ ان ظالموں نے تو مجھے راہ توحید اور دعوی تبارک سے ہٹا دیا۔ ” خذولا “ خوار کرنے والا۔ شیطان جب انسان کو گمراہ کرتا ہے تو اسے بڑے خوبصورت سبز باغ دکھاتا ہے لوگوں کے دلوں میں توحید کے بارے میں عجیب شکوک پیدا کر کے ان کو شرک میں مبتلا کرتا ہے۔ مثلاً لوگوں کے دلوں میں یہ وسوسے ڈالتا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
ربطِ آیات
اس سورة مبارکہ میں تمام بنیادی عقائد بیان کیے گئے ہیں ، میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے عقلی و نقلی دلائل ہیں ۔ قیامت اور جزائے عمل کا سلسلہ ہے نبوت و رسالت کا بیان اور اس پر اعتراض کرنے والوں کے باطل شکوک کا ازالہ ہے اس کے علاوہ دیگر بہت سی اخلاقی تعلیمات ہیں مگر زیادہ تر نبوت و رسالت کا بیان ہے کافر اور مشرک لوگ نبی آخر الزمان پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ کیسا نبی ہے جو کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ۔ ان کے نزدیک بشریت نبوت و رسالت کے منافی تھی ۔ اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ حضور ﷺ سے پہلے جتنے بھی نبی اور رسول دنیا میں آئے وہ سب کے سب انسان تھے ۔ وہ سارے کھانا…
Read the full tafseer →يٰوَيْلَتٰى لَيْتَنِيْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيْلًا 28
ويل
قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر . ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2]
( و ی ل ) الویل
اصمعی نے کہا ہے کہ ویل برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور حسرت کے موقع پر ویل اور تحقیر کے لئے ویس اور ترحم کے ویل کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ اور جن لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ویل جہنم میں ایک وادی کا نام ہے۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
(3) یوم یعض الظالم قرینہ عبارت تعمیم پر دلالت کرتا ہے یعنی ہر ظالم اس روز ہاتھ دانتوں سے کاٹے گا ‘ افسوس کرے گا کہ اے کاش میں فلاں شخص کو دوست نہ بناتا۔ اس سے مراد اس کی وہ شخص ہوگا کہ جس نے اس کو دنیا میں ہدایت پانے کے بعد ہدایت سے دوستی کے پیرایہ میں باز رکھا تھا اور ایسا بہت ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ یَـقُـوْلُ یٰـلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلاً ۔ یٰـوَیْلَتٰی لَیْتَنِیْ لَمْ اَ تَّخِذْ فُلاَ نًا خَلِیْلاً ۔ لَـقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّکْرِ بَعْدَ اِذَجَآئَ نِیْ ط وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُ وْلاً ۔ (الفرقان : 27 تا 29)
(اور جس دن اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا حسرت سے اپنے ہاتھ کاٹے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کی معیت میں نجات کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری بدبختی، کاش میں نے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔ اسی نے مجھے گمراہ کرکے اس یاد دہانی سے برگشتہ کیا، بعد اس کہ وہ میرے پاس آچکی تھی، اور شیطان انسان کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن کی ہولناکیاں دیکھ کر ظالموں کا اپنے آپ پر اظہار افسوس۔
قیامت کا دن ظالموں کے لیے اس قدر بھاری ہوگا کہ جس سے ظالم حواس باختہ ہوجائیں گے دیکھنے والا انھیں یوں محسوس کرے گا جیسے یہ کسی نشہ کی وجہ سے مدہوش ہوچکے ہیں حالانکہ وہ کسی نشہ کی وجہ سے مدہوش نہیں ہوں گے۔ لوگ اللہ کے عذاب کی وجہ سے حواس باختہ ہوں گے۔ (الحج : 1)
ظالم اس قدر دہشت زدہ ہوں گے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو کاٹتے ہوئے واویلا کریں گے اور اپنے آپ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے ہائے افسوس ہم ادھر ادھر کے راستے اختیار کرنے کی بجائے رسول کا راستہ اختیار کرتے۔ ہائے افسوس ہم نے رسول کو چھوڑ کر فلاں فلاں…
Read the full tafseer →28: یٰوَیْلَتٰی (ہائے افسوس ) ۔
ظالم کا افسوس :
قراءت : یہ یاویلتی یاء کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ اور وہ اصل ہے کیونکہ آدمی اپنی ہلاکت کو بلاتا ہے اور اس کو کہتا ہے اے میری ہلاکت آجا یہ تیرا زمانہ ہے البتہ یاءؔ کو الف سے اسی طرح بدلا جیسا صحاریٰ اور مداریٰ میں۔ لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا (کاش میں فلاں کو دوست نہ بناتا) فلانؔ کا لفظ علم سے کنایہ ہے اگر ظالم ؔ سے عقبہ بن ابی معیط مراد ہو جیسا کہ روایت میں آیا ہے کہ اس نے ایک دن ضیافت کا انتظام کیا اور رسول ﷺ کو بھی اس میں دعوت دی آپ نے اس کا کھانا کھانے سے انکار کردیا۔ اور فرمایا جب تک شہادتین کا اقرار نہ کرے گا میں تیرا کھانا نہ…
Read the full tafseer →28۔ یاولیتا لیتنی لم اتخذ فلاناخلیلا۔ اس سے مراد ابی بن خلف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
28۔ 29:۔ تفسیر ابو عمر عامر بن شراحیل شعبی اور تفسیر ابو جعفر ابن جریر طبری اور دلائل ابو نعیم میں صحیح سند کی حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت 2 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مکہ میں عقبہ بن ابی معیط ایک شخص تھا اس کی عادت تھی کہ جب کبھی سفر سے آتا تھا تو بہت سے لوگوں کی دعوت کرتا تھا ‘ ایک دفعہ اس نے آنحضرت ﷺ کی بھی دعوت کی آپ نے فرمایا اگر تو اسلام لے آوے گا تو میں تیرا کھانا کھالوں گا اس نے کلمہ پڑھ لیا اور آپ نے اس کا کھانا کھالیا ‘ اس کے بعد اس کے دوست نے جس کا نام ابی بن خلف تھا ‘ عقبہ کو بہکایا اور عقبہ اسلام سے پھر گیا ‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
آیت 25 سے 29
اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن کی عظمت، اور اس دن پیش آنے والی سختی اور کرب اور دلوں کو ہلا دینے والے مناظر کو بیا کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ویوم تشقق السماء بالغمام) ” اور جس دن آسمان پھٹ جائے گا ساتھ بادل کے۔ “ یہ وہ بادل ہوگا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانوں سے نزول فرمائے گا۔ پس آسمان پھٹ جائیں گے اور تمام آسمانوں کے فرشتے نیچے اتر آئیں گے اور صف در صف کھرے ہوجائیں گے یا تو تمام ایک ہی صف بنا کر تمام خلائق کو گھیر لیں گے یا اس کی صورت یہ ہوگی کہ ایک آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اس کے ساتھ دوسرے آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اور اسی طرح ساتوں آسمانوں کے فرشتے در صف موجود ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–48
پانی کے مسائل
قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
35 صحبتِ بد باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے صحبت بد سے احتراز اور صحبت صالح کو اپنانے کی ضرورت کو واضح فرما دیا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ظالم شخص اس روز کہے گا کہ کاش کہ میں نے رسول کا راستہ اپنایا ہوتا اور فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔ " کہ اس کی دوستی نے مجھے نور حق و ہدایت سے محروم کردیا۔ سو بروں سے دوستی اور غلط لوگوں سے تعلقداری انسان کو ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں ڈال دیتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی لئے حدیث پاک میں فرمایا گیا ہے کہ " انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے لہذا ہر انسان کو اچھی طرح دیکھ لینا چاہیئے کہ وہ کس سے دوستی لگا رہا ہے " ۔ " اَلْمَرْئُ عَلٰی دِیْنِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
قیامت کا نقشہ اور کفار کی حسرت
تشریح : حشر کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اس دن اللہ بادشاہوں کا بادشاہ پورے جلال سے اپنا دربار لگائے گا۔ تب ہر شخص اپنے کیے گئے گناہ اور جنہوں نے اپنے برے دوستوں کے غلط مشوروں پر چل کر ہدایت پانے کے بعد گمراہی اختیار کی ہوگی ‘ افسوس کرے گا۔ حقیقت تو یہی ہے کہ نیکی کا راستہ اور نیک دوستوں کی مجلس ہی انسان کے لیے ذریعہ نجات ہوگی۔ برے دوست وقت پر دھوکہ دیتے ہیں برے راستے اور برے اعمال سزا کا باعث بنتے ہیں۔ جزا کا باعث نہیں بنتے۔ اس لیے نیک دوست بھی بڑی نعمت ہوتے ہیں۔ بری صحبت یعنی برے لوگوں سے بچنا بھی نیکی ہے اور بڑی سعادت ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے اچھے دوست کی مثال خوشبو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–34
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
یہ لوگ صرف اسی پر بس نہیں کرتے کہ آپ ﷺ کی ذات ہی پہ اعتراض کرتے ہیں انہیں آخرت کے انکار اور اللہ جل جلالہ کے روبرو پیشی سے انکار نے اس قدر گستاخ کردیا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ فرشتہ ہمارے پاس کیوں نہیں آتا نبی ہی کے پاس کیوں آتا اور اللہ جل جلالہ ہم سے بات کیوں نہیں کرتا ، اس قدر تکبر اور اپنی بڑائی میں اس قدر بڑھ چڑھ کر بات کر رہے ہیں لیکن ایک روز ایسا بھی ہوگا کہ یہ فرشتوں کو روبرو دیکھیں گے موت کے وقت بھی اور یوم قیامت بھی فرشتے تو ان کے سامنے ہوں گے مگر ایمان لانے اور غور وفکر سے راہ اپنانے کا وقت گذر چکا ہوگا اور ان بدکاروں کے لیے فرشتوں کا سامنے آنا کوئی سامان راحت…
Read the full tafseer →12 ۔ تو آج اس برے انجام سے دوچار نہ ہوتا۔ حدیث میں ہے۔ المرٔعلی حین خلیلہ فلینظر بعد کم من یخالل۔ کہ آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے اس لئے تم میں سے ہر آدمی کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کسے اپنا دوست بنا رہا ہے۔ (خازن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
(25:28) یویلتی۔ یا حرف ندا ویلۃ اسم مضاف۔ ی برائے نسبت واحد متکلم مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ مل کر منادی۔ ہائے میری بدبختی۔ ہائے افسوس، ویلتی اصل میں ویلتی تھا۔ افسوس اور حسرت کی آواز کو کھینچنے کے لئے یا کو الف سے بدل کر ویلتی کردیا۔
(25:29) اضلنی۔ اضل ماضی واحد مذکر غائب ن وقایہ ی ضمیر مفعول واحد متکلم اس نے مجھے بہکایا۔ اس نے مجھے گمراہ کیا۔
الذکر۔ سے مراد موعظۃ الرسول۔ کلمہ شہادت ۔ یا قرآن مجید ہے۔ جاءنی۔ ضمیر فاعل الذکر کے لئے ہے۔ خذولا۔ فعول کے وزن پر بمعنی فاعل صفت کا صیغہ ہے۔ مبالغہ کا صیغہ ہے۔ خذلان خذلان خذل مصدر۔ مصیبت میں تنہا چھوڑ دینے والا۔ منصوب بوجہ خبر کان کے ہے۔
۔ یلیتنی (آیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 29 :
(لایرجعون) وہ امید نہیں رکھتے ہیں ‘(لقائ) ملاقات ‘(عتو کبیر) بہت زیادہ۔ حد سے زیادہ بڑھنا ‘ (لا بشری) خوشخبری نہیں ہے ‘ (حجر) کوئی روک ۔ کوئی آڑ ‘( محجور) آڑ کھڑ کردی گئی ‘ (قدمنا) ہم آگے آئے ‘ (ھبائ) وہ ذرات جو سورج چمکنے سے نظر آتے ہیں ‘( منثور) اڑایا ہوا۔ پھیلا ہوا ‘(مستقر) ٹھکانا ‘(مقیل) آرام کی جگہ ‘ (تشقق) پھٹ جائے گی ‘ (الغمام) بادل ‘(عسیر) سخت۔ مشکل ‘(یعض) کاٹے گا ‘ (یلیتنی) ‘ اے کاش کہ میں ‘(یویلتی) ہائے میری بدنصیبی ‘ خلیل (دوست) (اضلنی) مجھے بہکادیا ‘ (خذول) دغا باز۔ چھوڑ جانے والا ‘
تشریح آیت نمبر 21 تا 29 :
جو لوگ اللہ پر ‘ آخرت اور اس کے رسول پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
بےدین کی دوستی کا حال۔
(ف 1) شان نزول : مکہ میں عقبہ بن ابی معیط ، ابی بن خلف کا گہرادوست تھا نبی ﷺ کے فرمانے سے اس نے لا الہ اللہ محمدرسول اللہ کی شہادت دی اور اس کے بعد ابی بن خلف کے زور ڈالنے سے پھر مرتد ہوگیا اور نبی ﷺ نے اس کو مقتول ہونے کی خبر دی، چناچہ بدر میں مارا گیا ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا مطلب یہ ہے کہ ابی بن خلف کی دوستی سے جس طرح عقبہ بن ابی معیط کو ایسا نقصان پہنچا جس کو یاد کرکے قیامت کے دن عقبہ اپنے ہاتھ کو ندامت اور حسرت سے چباچبا لے گا اسی طرح ہر ایک برے دوست کی دوستی کا انجام ہے آخر کو فرمایا شیطان بڑا دغاباز ہے برے دوستوں کی دوستی کے پھندے میں پھنسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
[14] یعنی کافروں نے اپنے زعم باطل کے موافق جو بھلے کام کئے تھے اور جن پر انھیں بڑا بھروسہ تھا انھیں ہم ملیامیٹ کردیں گے اور اس طرح بےحقیقت کر کے اڑا دیں گے جیسے خاک کے حقیر ذرات ہوا میں ادھر ادھر اڑ جایا کرتے ہیں، کیونکہ وہ اعمال روح ایمان سے یکسر خالی ہوں گے۔ یہ مضمون سورة ابراہیم کی آیت 18 میں بھی گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
ف 3: اس آیت سے مقصود وہ اس کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جب حشر میں کفار کو معلوم ہوگا کہ ہمارے اعمال کا انجام کیا ہونے والا ہے (اس وقت یہ لوگ اپنے دانتوں سے اپنے ہاتھ کاٹیں گے اور نہایت ہی حسرت ناک انداز میں کہیں گے ۔ اے کاش ہم نے رسول کی پیروی کی ہوتی ۔ اور ہم فلاں فلاں گمراہ اور بدکردار لوگوں کو دوستی کے لئے منتخب نہ کرتے ۔
حل لغات :۔ عسیرا مشکل دشوار گزار فلانا ۔ غیر متعین شخص خدولا ۔ خدول سے ہے معنی مدد دینا ۔ خوار کرنا مھجورا ۔ متروک ۔ چھوڑا ہوا ۔
Read the full tafseer →(28) ہائے خرابی کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا یہ شاید عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے ایک دفعہ عقبہ نے آپ کو دعوت پر بلایا آپ ﷺ نے فرمایا جب تک اسلام کا کلمہ نہ پڑھے گا میں اس کی دعوت نہیں قبول کروں گا اس نے کلمہ پڑھ لیا آپ ﷺ دعوت میں تشریف لے گئے۔ یہ خبر ابی بن خلف کو ہوئی اس نے عقبہ کو ملامت کی عقبہ نے جواب دیا میں نے تو مہمان کی دل جوئی کیلئے کلمہ پڑھ لیا تھا ابی بن خلف اور عقبہ کا بڑا دوستانہ تھا شاید آیت کا مفہوم عام ہو ہر وہ شخص جو ظالم اور گناہگاروں سے تعلق اور دوستانہ رکھتا ہو وہ اس دن پشیمان ہوکر یہ کہتا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
ف 6۔ مطلب یہ کہ خود کفار بھی اپنی ضلالت کا اقرار کریں اور رسول بھی شہادت دیں گے، اور ثبوت جرم کی یہی دو صورتیں معتاد ہیں، اقرار اور شہادت۔ اور دونوں کے اجتماع سے یہ ثبوت اور بھی موکد ہوجاوے گا، اور سزا یاب ہوں گے۔
Read the full tafseer →افسوس مجھ پر ! کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا :
28۔ گویا یہ اس غصہ سے ہاتھ کانٹے کی اصل وجہ بیان کی جا رہی ہے کہ جہاں آخرت میں انسان کو یہ قلق ہوگا کہ کاش ! میں نے رسول اللہ ﷺ کا راستہ اپنایا ہوتا وہاں اس کو اس کا قلق بھی ہوگا کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے راستہ سے ہٹ کر فلاں کا راستہ کیوں اختیار کیا ۔ جلدی نہ کرو ذرا ٹھہر جاؤ ‘ ذرا رک جاؤ آج مسلمانوں میں جتنے مکاتب ہائے فکر موجود ہیں یہ اس لفظ فلاں میں آتے ہیں یا نہیں غور کرو کہ یہ چار چار پانچ پانچ اور بارہ بارہ کی تقسیم کہاں سے آئی ؟ کیا یہ سب نام ہی نام نہیں ہیں ؟ ذرا مزید نیچے اتر کر دیکھو کہ ہر خاندان اور برادری کی یہ نسبتیں جو دین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا (Woe to me! would that I had not taken so-and-so for my friend - 25:28). This verse was revealed on an especial occasion, but its implication is universal. The background is that 'Uqbah Ibn Abi Mu` ait was one of the chieftains of polytheists in Makkah. It was customary with him that whenever he would return after an expedition, he used to invite the nobility of the city to dinner. He also used to call on the Holy Prophet ﷺ frequently. When he presented the food to the Holy Prophet ﷺ he said "I cannot eat your food until you proclaim…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
39 That is, "On that Day all other kingdoms, which deluded man in the world, will come to an end, and there will be only the Kingdom of Allah, Who is the real Sovereign of the universe. In Surah Mu'min: 16, the same thing has been stated thus: "On that Day when aII the people will stand exposed, and nothing of them will be hidden from Allah, it will be asked, `Whose is the Sovereignty today?' The response from every side will he: `Of Allah, the Almighty'." According to a Tradition, the Holy Prophet said, "AIlah will take the heavens in one hand and the earth in the other, and will declare: `I…
Read the full tafseer →