Explained with ayahs 25–29
فیصلوں کا دن
قیامت کے دن جو ہولناک امور ہونگے ان میں سے ایک آسمان کا پھٹ جانا اور نورانی ابر کا نمودار ہونا بھی ہے جس کی روشنی سے آنکھیں چکا چوند ہوجائیں گی پھر فرشتے اتریں گے اور میدان محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے۔ پھر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کے لئے تشریف لائے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت (هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ اَمْرُ رَبِّكَ 33) 16۔ النحل :33) یعنی کہ انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بادلوں میں آئیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو سب انسانوں اور کل جنات کو ایک میدان میں جمع کرے…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 40
ہو سکتا ہے کہ یہ بھی کافر ہی کے قول کا ایک حصہ ہو۔ اور ہوسکتا ہے کہ یہ اس کے قول پر اللہ تعالیٰ کا اپنا ارشاد ہو۔ اس دوسری صورت میں مناسب ترجمہ یہ ہوگا " اور شیطان تو ہے ہی انسان کو عین وقت پر دغا دینے والا "۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
يٰوَيْلَتٰى لَيْتَنِيْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيْلًا، یہ آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہے مگر حکم عام ہے واقعہ یہ تھا کہ عقبہ ابن ابی معیط مکہ کے مشرک سرداروں میں سے تھا اس کی عادت تھی کہ جب کسی سفر سے واپس آتا تو شہر کے معزز لوگوں کی دعوت کرتا تھا اور اکثر رسول اللہ ﷺ سے بھی ملا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ حسب عادت اس نے معززین شہر کی دعوت کی اور رسول اللہ ﷺ کو بھی بلایا۔ جب اس نے آپ کے سامنے کھانا رکھا تو آپ نے فرمایا کہ میں تمہارا کھانا اس وقت تک نہیں کھا سکتا جب تک تم اس کی گواہی نہ دو کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اس کا کوئی شریک عبادت میں نہیں ہے اور یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔ عقبہ نے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
(آیت 29-27)
قیامت کے دن مکذبین رسول کی حسرت
ہاتھ کاٹنا اظہار حسرت و ندامت کی تعبیر ہے اور یہ تعبیر ہماری زبان میں بھی موجود ہے اور ظالم سے مراد یہاں اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا یعنی ہر وہ شخص جس نے رسول کی مخالفت کی فرمایا کہ ان لوگوں کو چاہئے کہ اس دن کا تصور کریں جس دن ہر وہ شخص جو آج اندھا بہرا بن کر رسول کی سنت کر رہا ہے اور اس طرح خود اپنی جان پر ظلم ڈھا رہا ہے نہایت حسرت کے ساتھ اپنے ہاتھ کاٹے گا اور کہے گا کہ کاش میں نے اللہ کے رسول کے ساتھ اس کی بتائی ہوئی راہ اختیار کرلی ہوتی اور اپن بدبختی سے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا جس نے مجھے خدا کی یاد دہانی سے جب کہ وہ میرے پاس آچکی تھی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
28-1اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نافرمانوں سے دوستی اور وابستگی نہیں رکھنی چاہیئے، اس لئے کہ اچھی صحبت سے انسان اچھا اور بری صحبت سے انسان برا بنتا ہے۔ اکثر لوگوں کی گمراہی کی وجہ غلط دوستوں کا انتخاب اور صحبت بد کا اختیار کرنا ہی ہے۔ اس لئے حدیث میں بھی صالحین کی صحبت کی تاکید اور بری صحبت سے اجتناب کو ایک بہترین مثال سے و اضع کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
9: اگرچہ سیاق وسباق کی روشنی میں یہاں قوم سے مراد کافر لوگ ہیں، لیکن یہ مسلمانوں کے لئے بھی ڈر نے کا مقام ہے کہ اگر مسلمان ہونے کے باوجود قرآن کریم کو پس پشت ڈال دیا جائے تو کہیں وہ بھی اس سنگین جملے کا مصداق نہ بن جائیں، اور نبی کریم ﷺ شفاعت کے بجائے شکایت پیش کریں، والعیاذ باللہ العلی العظیم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
درس نمبر 158 ایک نظر میں
اس سبق کا آغاز بھی اسی انداز سے ہوتا ہے جس سے درس سابق کا ہوا تھا اور مضمون بھی اسی انداز سے چلتا ہے ‘ البتہ یہاں مشرکین کے اعتراضات کا رخ رب تعالیٰ کی طرف ہے۔ یہاں وہ اللہ پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ کو اپنا لائحہ عمل دیتے ہیں۔ گویا اس سبق میں وہ اپنی سرکشی میں ترقی کرتے ہوئے رسول اللہ پر اعتراضات کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور خدا پر اعتراضات کرتے ہیں۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور دل جوئی کا ایک انداز ہے کہ یہ لوگ صرف آپ ہی پر اعتراضات نہیں کرتے بلکہ ان کی گستاخی اللہ کے جناب میں بھی ہے۔ البتہ یہاں جواب دینے کے بجائے نہایت ہی شتابی سے ان کو قیامت کے مناظر میں…
Read the full tafseer →10 یعنی پیغمبر کی نصیحت مجھ کو نہیں پہنچ چکی تھی جو ہدایت کے لیے کافی تھی، اور امکان تھا کہ میرے دل میں گھر کرلے۔ مگر اس کم بخت کی دوستی نے تباہ کیا اور دل کو ادھر متوجہ نہ ہونے دیا۔ بیشک شیطان بڑا دغا باز ہے آدمی کو عین وقت پر دھوکا دیتا اور بری طرح رسوا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 29 لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّکْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَ نِیْ ط
ذکر کے پہنچ جانے سے مراد ایک تو یہ ہے کہ مجھے اللہ کے رسول ﷺ نے پوری بات سنادی تھی اور دوسرے یہ کہ میری زندگی کے فلاں لمحے میں پیغامِ حق میرے دل کے تاروں کو چھیڑنے لگا تھا اور اس کی حقانیت میرے دل کی گہرائیوں میں اترنے لگی تھی۔ جیسے سورة النساء میں فرمایا گیا : وَقُلْ لَّہُمْ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ قَوْلاً م بَلِیْغًا کہ اے نبی ﷺ ! ان سے ایسی بات کہیے جو ان کی روح کی گہرائیوں میں اتر جائے۔ چناچہ مذکورہ شخص اپنی ایسی ہی کیفیت کا اعتراف کرے گا کہ اس نصیحت ‘ یاد دہانی اور ہدایت کا ابلاغ میرے دل تک ہوچکا تھا ‘ لیکن افسوس کہ میرے ساتھی…
Read the full tafseer →39 خذول بمعنی کسی کی مدد نہ کرنا بلکہ مدد کے وقت ساتھ چھوڑ جانا اور خذول ایسے دوست کو کہتے ہیں جو زبانی تو دوستی کے بہت دعوے کرتا اور دم بھرتا ہو لیکن مصیبت کے وقت ساتھ چھوڑ کر چلا جائے۔ دغا دینے والا دوست۔ اور شیطان کے لئے یہ لفظ بالکل راس آتا ہے۔ کیونکہ وہ ہمیشہ انسان کو سبز باغ دکھلا کر اور خوشنما وعدے دے کر اسے گمراہ کرتا ہے۔ پھر مشکل وقت پڑنے پر دنیا میں بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے اور آخت میں بھی وہ یہی کام کرے گا اور یہی خصلت شیطان کے دوستوں یا شیطان سیرت انسان کی بھی ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
31۔ (چنانچہ قیامت میں زبانی ہمدردی تک کے بھی کام نہ آئے گا) (آیت) ” یویلتی لیتنی “۔ الخ۔ بڑا عبرت کا مضمون اپنے اندر رکھتا ہے۔ دنیا میں جتنی بھی گمراہیاں آتی ہیں کسی نہ کسی انسانی ہی ذریعہ سے آتی ہیں اور شیطان جب آتا ہے، کسی دوست وآشنا راز دان ہی کے قالب میں آتا ہے۔ فقہاء نے اس آیت سے بہ طور اشارۃ النص نکالا ہے کہ صحبت بد کا ترک واجب ہے۔ خصوصا اس شخص کا جو اغوا کرتا رہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں صحبت اشرار سے بچنے کی تعلیم ہے اور شریر کی تفسیر یہ ہے کہ جو کوئی ذکر الہی سے بعید ہونے کا سبب بن جائے۔ (آیت) ” لقد ...... جآءنی “۔ آیت میں صاف اشارہ اس طرف موجود ہے کہ جن کافروں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–34
آیت نمبر 21 تا 34
ترجمہ : جو لوگ ہمارے سامنے پیش ہونے سے اندیشہ نہیں کرتے یعنی بعث (بعد الموت) کا خوف نہیں رکھتے وہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے ؟ کہ ہماری طرف رسول ہوں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیتے پھر ہمیں وہ یہ بات تباتے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا ان لوگوں نے اپنے دلوں میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ لیا ہے اور دنیا ہی میں اللہ کی رویت کا مطالبہ کرکے بڑی سرکشی کی ہے اور عَتَوْ واؤ کے ساتھ اپنی اصل پر ہے بخلاف عُتِیَ کے ابدال کے ساتھ سورة مریم میں جس روز یہ منجملہ خلائق کے فرشتوں کو دیکھیں گے اور (یومَ ) کا نصب اذکر فعل مقدر کی وجہ سے ہے، اس روز مجرموں یعنی…
Read the full tafseer →لقد اضلنی عن الذکر بعد اذ جآءنی اس نے قطعاً مجھے ذکر (خداوندی) کی طرف سے گمراہ کردیا بعد
اس کے کہ ذکر میرے پاس آچکا تھا۔
ذکر سے مراد ہے اللہ کی یاد یا قرآن مجید یا رسول اللہ ﷺ : کی نصیحت یا کلمہ شہادت۔
وکان الشیطن للانسان خذولا۔ اور شیطان انسان کو بےمدد چھوڑنے والا ہے۔
الشَّیْطٰنُ سے مراد ہے گمراہ کرنے والا دوست۔ ہر سرکش ‘ سرتاب اور ہر راہ خدا سے روکنے والا ‘ انسان ہو یا جن شیطان ہے۔ خذلان کا معنی ہے بےمدد چھوڑ دینا۔ (ضرورت کے وقت) مدد نہ کرنا۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان کسی کا دوست نہیں۔ ہلاکت کے غار تک پہنچا کر ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔
ان آیات کا مورد اگرچہ خاص ہے لیکن عموم عبارت کے زیر اثر حکم عام ہے…
Read the full tafseer →(29) اس کم بخت نے جب کہ رسول اکرم ﷺ توحید کا پیغام لے آئے تھے مجھ کو توحید اور اطاعت خداوندی سے بہکا دیا، اور شیطان تو انسان کو عین امداد کے وقت امداد دینے سے جواب دے کر رسوا کر ہی دیتا ہے۔
Read the full tafseer →لَقَدْ اَضَلَّنِيْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَاۗءَنِيْ : اس میں اس تمنا کی وجہ بیان کی ہے کہ کاش ! میں فلاں کو دوست نہ بناتا۔ وہ یہ کہ میرے پاس (الذِّكْرِ) کامل نصیحت آئی، مگر اس دوست نے مجھے اس کو قبول کرنے سے بےراہ کردیا۔ ”اَلذِّکْر“ سے مراد کے لیے دیکھیے سورة حجر (6، 9)۔
وَكَان الشَّيْطٰنُ۔۔ : ”الشَّيْطٰنُ“ ”شَطْنٌ“ سے مشتق ہے، جس کا معنی دوری بھی ہے اور خباثت بھی۔ شیطان ہر وہ خبیث شخص ہے جو حق سے دور ہو، خواہ انسان ہو یا جن، کیونکہ شیطان دونوں ہی میں پائے جاتے ہیں۔ دیکھیے سورة انعام (112) ”خَذُوْلًا“ چھوڑ جانے والا، ”کَانَ“ کی وجہ سے ”ہمیشہ چھوڑ جانے والا“ ترجمہ کیا گیا ہے، یعنی شیطان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
(ویوم یعض۔۔۔۔۔ )
ویوم یعض الظالم علی یدیہ ماضی عضضت ہے کسائی نے عضضت پہلی ضاد کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے : اہل تفسیر سے یہ وضاحت آئی ہے، مفسرین سے مراد حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت سعید بن مسیب ہیں کہ یہاں ظالم سے مراد عقبہ بن ابی معیط اور اس کا دوست امیہ بن خلف ہے۔ عقبہ کو حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے قتل کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ غزوہ بدر کے قیدیوں میں تھا نبی کریم ﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم ارشاد فرمایا : اس نے عرض کیا : کیا میں دوسرے کے بغیر قتل کیا جائوں گا ؟ فرمایا تیرے کفر اور تیری سرکشی کے باعث تجھے قتل کیا جائے گا۔ اس نے عرض کی، بچوں کے لیے کوئی ہے ؟ فرمایا : آگ۔ حضرت علی ؓ شیر خدا اٹھے اور اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
رسول ﷺ کی اتباع نہ کرنے والے خسارے میں ہوں گے
1۔ ابن مردویہ وابو نعیم فی الدلائل بسند صحیح من طریق سعید بن جبیر ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو معیط نبی ﷺ کے پاس مکہ میں بیٹھا کرتا تھا اور آپ کو تکلیف نہ دیتا تھا اور وہ بردبار آدمی تھا اور باقی قریش جب آپ کے ساتھ بیٹھتے تھے تو آپ کو تکلیف دیتے تھے۔ اور ابو معیط کا ایک دوست شام میں رہتا تھا جو موجود نہیں تھا قریش نے کہا ابو معیط نے دین تبدیل کرلیا اس کا دوست شام سے رات کو آیا اور اپنی بیوی سے کہا محمد ﷺ نے کیا کیا اس دین کے بارے میں جس پر وہ تھے اس کی بیوی نے کہا وہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔ پھر اس نے پوچھا میرے دوست ابو معیط نے کیا کیا۔ اس…
Read the full tafseer →لَقَدْ اَضَلَّنِيْ [ بیشک اسی نے گمراہ کیا ہے مجھ کو ] عَنِ الذِّكْرِ [ اس نصیحت سے ] بَعْدَ اِذْ [ اس کے بعد کہ جب ] جَاۗءَنِيْ ۭ[ وہ آئی میرے پاس ] وَكَانَ [ اور ہے ] الشَّيْطٰنُ [ شیطان ] لِلْاِنْسَانِ [ انسان کے لئے ] خَذُوْلًا [ انتہائی دغا باز ]
Read the full tafseer →(لَقَدْ اَضَلَّنِی عَنْ الذِّکْرِ بَعْدَ اِِذْ جَاءَنِی) (مجھے اللہ کے ذکر سے اس نے ہٹا دیا اس کے بعد کہ ذکر میرے پاس آگیا (یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے واسطہ سے جو میرے پاس اللہ کا ذکر آیا اور جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے نصیحت کی اور ان پر جو قرآن نازل ہوا وہ میں نے سنا میرے اس دوست نے مجھے اس سے روک دیا میں اسے دوست سمجھتا تھا لیکن وہ تو دشمن نکلا) ۔
(وَکَان الشَّیْطَانُ لِلْاِِنسَانِ خَذُولًا) (اور شیطان انسان کو بےیارو مددگار چھوڑنے والا ہے) اس جملہ میں دونوں احتمال ہیں۔ (1) یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو جس میں علی الا طلاق سب کو یہ بتادیا کہ شیطان سے دوستی کرنے کا انجام برا ہے خواہ کفر شرک اختیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–31
منکرین نبوت کا چوتھا شبہ اور اس کا جواب
قال اللہ تعالیٰ وقال الذین لا یرجعون لقاء نا ...... الیٰ ..... ھادیا ونصیرا۔
(ربط) منکرین نبوت کا چوتھا شبہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں نازلکیے جو ہمارے سامنے آکر آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی شہادت دیتے کہ یہ شخص دعوائے نبوت میں صادق ہے یا ہم بلاوسطہ اللہ کو دیکھتے اور بلاوسطہ خود اللہ تعالیٰ سے آپکی بابت پوچھ لیتے اور اللہ تعالیٰ ہم کو خود بتلا دیتا کہ یہ شخص میرا نبی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جاہلانہ اور احمقانہ اور گستاخانہ اور مغرورانہ سوال کے جواب میں یہ ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ بڑے ہی سرکش اور متبکر ہیں کہ وہ اپنے آپ کو اس مرتبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
21:۔ ” ویم یعض الخ “ قیامت کے دن مشرکین و کفار حسرت و ندامت سے انگلیاں کاٹیں گے اور کہیں گے کاش ! ہم نے پیغمبروں پر ایمان لا کر اللہ کی توحید اور اس کے برکات دہندہ ہونے کو مان لیا ہوتا۔ ” یویلتی لیتنی الخ “ کاش میں فلاں فلاں داعیان شرک اور صنادید کفر سے دوستی نہ گانٹھتا اور ان کی پیروی نہ کرتا۔ ” لقد اضلنی الخ “ ان ظالموں نے تو مجھے راہ توحید اور دعوی تبارک سے ہٹا دیا۔ ” خذولا “ خوار کرنے والا۔ شیطان جب انسان کو گمراہ کرتا ہے تو اسے بڑے خوبصورت سبز باغ دکھاتا ہے لوگوں کے دلوں میں توحید کے بارے میں عجیب شکوک پیدا کر کے ان کو شرک میں مبتلا کرتا ہے۔ مثلاً لوگوں کے دلوں میں یہ وسوسے ڈالتا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
ربطِ آیات
اس سورة مبارکہ میں تمام بنیادی عقائد بیان کیے گئے ہیں ، میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے عقلی و نقلی دلائل ہیں ۔ قیامت اور جزائے عمل کا سلسلہ ہے نبوت و رسالت کا بیان اور اس پر اعتراض کرنے والوں کے باطل شکوک کا ازالہ ہے اس کے علاوہ دیگر بہت سی اخلاقی تعلیمات ہیں مگر زیادہ تر نبوت و رسالت کا بیان ہے کافر اور مشرک لوگ نبی آخر الزمان پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ کیسا نبی ہے جو کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ۔ ان کے نزدیک بشریت نبوت و رسالت کے منافی تھی ۔ اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ حضور ﷺ سے پہلے جتنے بھی نبی اور رسول دنیا میں آئے وہ سب کے سب انسان تھے ۔ وہ سارے کھانا…
Read the full tafseer →لَقَدْ اَضَلَّنِيْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَاۗءَنِيْ 0ۭ وَكَانَ الشَّيْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا 29
ضل
الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15]
( ض ل ل ) الضلال
۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
(3) یوم یعض الظالم قرینہ عبارت تعمیم پر دلالت کرتا ہے یعنی ہر ظالم اس روز ہاتھ دانتوں سے کاٹے گا ‘ افسوس کرے گا کہ اے کاش میں فلاں شخص کو دوست نہ بناتا۔ اس سے مراد اس کی وہ شخص ہوگا کہ جس نے اس کو دنیا میں ہدایت پانے کے بعد ہدایت سے دوستی کے پیرایہ میں باز رکھا تھا اور ایسا بہت ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ یَـقُـوْلُ یٰـلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلاً ۔ یٰـوَیْلَتٰی لَیْتَنِیْ لَمْ اَ تَّخِذْ فُلاَ نًا خَلِیْلاً ۔ لَـقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّکْرِ بَعْدَ اِذَجَآئَ نِیْ ط وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُ وْلاً ۔ (الفرقان : 27 تا 29)
(اور جس دن اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا حسرت سے اپنے ہاتھ کاٹے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کی معیت میں نجات کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری بدبختی، کاش میں نے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔ اسی نے مجھے گمراہ کرکے اس یاد دہانی سے برگشتہ کیا، بعد اس کہ وہ میرے پاس آچکی تھی، اور شیطان انسان کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
شیطان کی بےوفائی کا اظہار :
” اپنے آپ کو ملامت کرو، نہ میں تمہاری فریاد رسی کرنے والا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرنے والے ہو، یقیناً میں اس کا انکار کرتا ہوں جو تم نے مجھے شریک بنایا۔ بیشک جو لوگ ظالم ہیں ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ “ [ ابراہیم : 22]
(عَنْ عُمَرَبْنِ الخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَالْکِتَابِ اَقْوَامًاوَیَضَعُ بِہٖ اٰخَرِیْنَ ) [ رواہ مسلم : کتاب الصلوٰۃ، باب فضل من یقوم بالقراٰن ]
” حضرت عمربن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کتاب کے ذریعہ اللہ بہت سی قوموں کو بام عروج پر پہنچائے گا اور بہت سی قوموں کو قعر مذلّت میں…
Read the full tafseer →شیطان کی گمراہی :
29: لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّکْرِ (اس نے مجھے اللہ تعالیٰ کی یاد سے گمراہ کیا) الذکر سے ذکر اللہ مراد ہے۔ نمبر 2۔ قرآن مراد ہے۔ نمبر 3۔ ایمان مراد ہے۔
بَعْدَ اِذْ جَآ ئَ نِیْ (اس کے بعد کہ وہ میرے ہاں آچکا) اللہ تعالیٰ کی طرف سے وَکَانَ الشَّیْطٰنُ (اور شیطان ہے) اس کا خلیل۔ اس کو شیطان اس لئے کہا کیونکہ اس نے اس کو اسی طرح گمراہ کیا جیسا شیطان گمراہ کرتا ہے۔ نمبر 2۔ ابلیس لعین مراد ہے کیونکہ اسی نے گمراہ کی دوستی پر اسے برانگیختہ کیا اور رسول (علیہ السلام) کی مخالفت پر ابھارا۔ لِلْاِنْسَانِ (انسان کیلئے) جو اس کا مطیع بن جاتا ہے۔ خَذُوْلًا (یہ رسوا کرنے والا) یہ خذلان…
Read the full tafseer →29۔ لقد اضلنی عن الذکر، ذکر سے مراد اللہ کی یاد یاقران مجید سے گمراہ کردینا۔
بعداذجاءنی، یعنی وہ زکر جو رسول کے ساتھ آیا ہے۔ وکان الشیطان ، ہر وہ سرکش سرتاب، خواہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے ، راہ خدا سے روکنے والا شیطان ہے۔ للانسان خذولا، اس کو بےیارومددگار چھوڑنا ضرورت کے وقت مدد نہ کرنا۔ مطلب یہ کہ شیطان کسی کادوست نہیں ، اس آیت کا حکم عام ہے جو دودوست گناہ پر دوستی کو قائم رکھے ہوں ان کو آیت کا حکم شامل ہے۔ حضرت ابوموسی اشعری نے نبی کریم کی حدیث نقل کی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ نیک اور بدہم نشین کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص کے پاس تومشک ہے اور دوسرا لوہار کی بٹی دھونک رہا ہے مشک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
28۔ 29:۔ تفسیر ابو عمر عامر بن شراحیل شعبی اور تفسیر ابو جعفر ابن جریر طبری اور دلائل ابو نعیم میں صحیح سند کی حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت 2 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مکہ میں عقبہ بن ابی معیط ایک شخص تھا اس کی عادت تھی کہ جب کبھی سفر سے آتا تھا تو بہت سے لوگوں کی دعوت کرتا تھا ‘ ایک دفعہ اس نے آنحضرت ﷺ کی بھی دعوت کی آپ نے فرمایا اگر تو اسلام لے آوے گا تو میں تیرا کھانا کھالوں گا اس نے کلمہ پڑھ لیا اور آپ نے اس کا کھانا کھالیا ‘ اس کے بعد اس کے دوست نے جس کا نام ابی بن خلف تھا ‘ عقبہ کو بہکایا اور عقبہ اسلام سے پھر گیا ‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
آیت 25 سے 29
اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن کی عظمت، اور اس دن پیش آنے والی سختی اور کرب اور دلوں کو ہلا دینے والے مناظر کو بیا کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ویوم تشقق السماء بالغمام) ” اور جس دن آسمان پھٹ جائے گا ساتھ بادل کے۔ “ یہ وہ بادل ہوگا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانوں سے نزول فرمائے گا۔ پس آسمان پھٹ جائیں گے اور تمام آسمانوں کے فرشتے نیچے اتر آئیں گے اور صف در صف کھرے ہوجائیں گے یا تو تمام ایک ہی صف بنا کر تمام خلائق کو گھیر لیں گے یا اس کی صورت یہ ہوگی کہ ایک آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اس کے ساتھ دوسرے آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اور اسی طرح ساتوں آسمانوں کے فرشتے در صف موجود ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–48
پانی کے مسائل
قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
35 صحبتِ بد باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے صحبت بد سے احتراز اور صحبت صالح کو اپنانے کی ضرورت کو واضح فرما دیا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ظالم شخص اس روز کہے گا کہ کاش کہ میں نے رسول کا راستہ اپنایا ہوتا اور فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔ " کہ اس کی دوستی نے مجھے نور حق و ہدایت سے محروم کردیا۔ سو بروں سے دوستی اور غلط لوگوں سے تعلقداری انسان کو ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں ڈال دیتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی لئے حدیث پاک میں فرمایا گیا ہے کہ " انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے لہذا ہر انسان کو اچھی طرح دیکھ لینا چاہیئے کہ وہ کس سے دوستی لگا رہا ہے " ۔ " اَلْمَرْئُ عَلٰی دِیْنِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
قیامت کا نقشہ اور کفار کی حسرت
تشریح : حشر کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اس دن اللہ بادشاہوں کا بادشاہ پورے جلال سے اپنا دربار لگائے گا۔ تب ہر شخص اپنے کیے گئے گناہ اور جنہوں نے اپنے برے دوستوں کے غلط مشوروں پر چل کر ہدایت پانے کے بعد گمراہی اختیار کی ہوگی ‘ افسوس کرے گا۔ حقیقت تو یہی ہے کہ نیکی کا راستہ اور نیک دوستوں کی مجلس ہی انسان کے لیے ذریعہ نجات ہوگی۔ برے دوست وقت پر دھوکہ دیتے ہیں برے راستے اور برے اعمال سزا کا باعث بنتے ہیں۔ جزا کا باعث نہیں بنتے۔ اس لیے نیک دوست بھی بڑی نعمت ہوتے ہیں۔ بری صحبت یعنی برے لوگوں سے بچنا بھی نیکی ہے اور بڑی سعادت ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے اچھے دوست کی مثال خوشبو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–34
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
یہ لوگ صرف اسی پر بس نہیں کرتے کہ آپ ﷺ کی ذات ہی پہ اعتراض کرتے ہیں انہیں آخرت کے انکار اور اللہ جل جلالہ کے روبرو پیشی سے انکار نے اس قدر گستاخ کردیا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ فرشتہ ہمارے پاس کیوں نہیں آتا نبی ہی کے پاس کیوں آتا اور اللہ جل جلالہ ہم سے بات کیوں نہیں کرتا ، اس قدر تکبر اور اپنی بڑائی میں اس قدر بڑھ چڑھ کر بات کر رہے ہیں لیکن ایک روز ایسا بھی ہوگا کہ یہ فرشتوں کو روبرو دیکھیں گے موت کے وقت بھی اور یوم قیامت بھی فرشتے تو ان کے سامنے ہوں گے مگر ایمان لانے اور غور وفکر سے راہ اپنانے کا وقت گذر چکا ہوگا اور ان بدکاروں کے لیے فرشتوں کا سامنے آنا کوئی سامان راحت…
Read the full tafseer →13 ۔ یعنی پہلے برے کام کی ترغیب دیتا ہے لیکن جب آدمی وہ کام کرلیتا ہے اور مصیبت میں گرفتار ہوجاتا ہے تو اسے چھوڑ کر الگ ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
(25:28) یویلتی۔ یا حرف ندا ویلۃ اسم مضاف۔ ی برائے نسبت واحد متکلم مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ مل کر منادی۔ ہائے میری بدبختی۔ ہائے افسوس، ویلتی اصل میں ویلتی تھا۔ افسوس اور حسرت کی آواز کو کھینچنے کے لئے یا کو الف سے بدل کر ویلتی کردیا۔
(25:29) اضلنی۔ اضل ماضی واحد مذکر غائب ن وقایہ ی ضمیر مفعول واحد متکلم اس نے مجھے بہکایا۔ اس نے مجھے گمراہ کیا۔
الذکر۔ سے مراد موعظۃ الرسول۔ کلمہ شہادت ۔ یا قرآن مجید ہے۔ جاءنی۔ ضمیر فاعل الذکر کے لئے ہے۔ خذولا۔ فعول کے وزن پر بمعنی فاعل صفت کا صیغہ ہے۔ مبالغہ کا صیغہ ہے۔ خذلان خذلان خذل مصدر۔ مصیبت میں تنہا چھوڑ دینے والا۔ منصوب بوجہ خبر کان کے ہے۔
۔ یلیتنی (آیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 29 :
(لایرجعون) وہ امید نہیں رکھتے ہیں ‘(لقائ) ملاقات ‘(عتو کبیر) بہت زیادہ۔ حد سے زیادہ بڑھنا ‘ (لا بشری) خوشخبری نہیں ہے ‘ (حجر) کوئی روک ۔ کوئی آڑ ‘( محجور) آڑ کھڑ کردی گئی ‘ (قدمنا) ہم آگے آئے ‘ (ھبائ) وہ ذرات جو سورج چمکنے سے نظر آتے ہیں ‘( منثور) اڑایا ہوا۔ پھیلا ہوا ‘(مستقر) ٹھکانا ‘(مقیل) آرام کی جگہ ‘ (تشقق) پھٹ جائے گی ‘ (الغمام) بادل ‘(عسیر) سخت۔ مشکل ‘(یعض) کاٹے گا ‘ (یلیتنی) ‘ اے کاش کہ میں ‘(یویلتی) ہائے میری بدنصیبی ‘ خلیل (دوست) (اضلنی) مجھے بہکادیا ‘ (خذول) دغا باز۔ چھوڑ جانے والا ‘
تشریح آیت نمبر 21 تا 29 :
جو لوگ اللہ پر ‘ آخرت اور اس کے رسول پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
بےدین کی دوستی کا حال۔
(ف 1) شان نزول : مکہ میں عقبہ بن ابی معیط ، ابی بن خلف کا گہرادوست تھا نبی ﷺ کے فرمانے سے اس نے لا الہ اللہ محمدرسول اللہ کی شہادت دی اور اس کے بعد ابی بن خلف کے زور ڈالنے سے پھر مرتد ہوگیا اور نبی ﷺ نے اس کو مقتول ہونے کی خبر دی، چناچہ بدر میں مارا گیا ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا مطلب یہ ہے کہ ابی بن خلف کی دوستی سے جس طرح عقبہ بن ابی معیط کو ایسا نقصان پہنچا جس کو یاد کرکے قیامت کے دن عقبہ اپنے ہاتھ کو ندامت اور حسرت سے چباچبا لے گا اسی طرح ہر ایک برے دوست کی دوستی کا انجام ہے آخر کو فرمایا شیطان بڑا دغاباز ہے برے دوستوں کی دوستی کے پھندے میں پھنسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
[14] یعنی کافروں نے اپنے زعم باطل کے موافق جو بھلے کام کئے تھے اور جن پر انھیں بڑا بھروسہ تھا انھیں ہم ملیامیٹ کردیں گے اور اس طرح بےحقیقت کر کے اڑا دیں گے جیسے خاک کے حقیر ذرات ہوا میں ادھر ادھر اڑ جایا کرتے ہیں، کیونکہ وہ اعمال روح ایمان سے یکسر خالی ہوں گے۔ یہ مضمون سورة ابراہیم کی آیت 18 میں بھی گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
ف 3: اس آیت سے مقصود وہ اس کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جب حشر میں کفار کو معلوم ہوگا کہ ہمارے اعمال کا انجام کیا ہونے والا ہے (اس وقت یہ لوگ اپنے دانتوں سے اپنے ہاتھ کاٹیں گے اور نہایت ہی حسرت ناک انداز میں کہیں گے ۔ اے کاش ہم نے رسول کی پیروی کی ہوتی ۔ اور ہم فلاں فلاں گمراہ اور بدکردار لوگوں کو دوستی کے لئے منتخب نہ کرتے ۔
حل لغات :۔ عسیرا مشکل دشوار گزار فلانا ۔ غیر متعین شخص خدولا ۔ خدول سے ہے معنی مدد دینا ۔ خوار کرنا مھجورا ۔ متروک ۔ چھوڑا ہوا ۔
Read the full tafseer →(29) اس دوست نے اس وقت جبکہ نصیحت مجھ کو پہنچ چکی تھی مجھے اس نصیحت کو قبول کرنے سے بھٹکا دیا اور شیطان کی عادت ہی ہے کہ وقت پڑے پر انسان کو اکیلا چھوڑ کر الگ ہوجاتا ہے شیطان کہا ابی بن خلف کو یا اگر آیت سے عام منکر اور کافر مراد ہوں تو شیطان سے مراد ابلیس ہوگا کافر اس کو دوست سمجھتے ہیں حالانکہ وہ خطرے میں مبتلا کرکے الگ ہوجانے والا دوست ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
ف 6۔ مطلب یہ کہ خود کفار بھی اپنی ضلالت کا اقرار کریں اور رسول بھی شہادت دیں گے، اور ثبوت جرم کی یہی دو صورتیں معتاد ہیں، اقرار اور شہادت۔ اور دونوں کے اجتماع سے یہ ثبوت اور بھی موکد ہوجاوے گا، اور سزا یاب ہوں گے۔
Read the full tafseer →نصیحت آنے کے بعد پھر شیطان نے مجھے کیسے بہکا دیا ؟
29۔ نصیحت سے مراد کیا ہے ؟ لاریب اس سے مراد قرآن کریم ہی ہے جس میں رسول کا راستہ بتایا بھی گیا اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کا بار بار کہا بھی گیا اور ہم نے اس کو حفظ کرکے ہر مجلس میں پڑھا لیکن سالہا سال گزر گئے کہ کبھی اس کو سمجھنے کی کوشش نہ کی اور اگر کسی نے کی بھی تو اپنے فکر کے اندر رہ کر اور ان نظریات کے تابع رہ کر جو ہم نے آباواجداد کی میراث میں پائے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جوں جوں ہمارے دائرے بڑھتے گئے توں توں قرآن بھی بڑھتے چلے گئے کیوں ؟ اس لئے کہ ہم نے اپنے اپنے دائرہ کے اندر رہ کر اس کی سمجھنے کی کوشش کی اور آج ہماری مثال اس کنوئیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا (Woe to me! would that I had not taken so-and-so for my friend - 25:28). This verse was revealed on an especial occasion, but its implication is universal. The background is that 'Uqbah Ibn Abi Mu` ait was one of the chieftains of polytheists in Makkah. It was customary with him that whenever he would return after an expedition, he used to invite the nobility of the city to dinner. He also used to call on the Holy Prophet ﷺ frequently. When he presented the food to the Holy Prophet ﷺ he said "I cannot eat your food until you proclaim…
Read the full tafseer →40 "Satan has proved very treacherous to man" may also be a part of the disbelievers' lament, or it may be a remark by AIIah, in which case the meaning will be: "And Satan is indeed the one who always deceives man."
Read the full tafseer →