Explained with ayahs 75–77
مومنوں کے اعمال اور اللہ کے انعامات
مومنوں کی پاک صفتیں ان کے بھلے اقوال عمدہ افعال بیان فرما کر ان کا بدلہ بیان ہو رہا ہے کہ انہیں جنت ملے گی۔ جو بلند تر جگہ ہے اس وجہ سے یہ ان اوصاف پر جمے رہے وہاں ان کی عزت ہوگی اکرام ہوگا ادب تعظیم ہوگی۔ احترام اور توقیر ہوگی۔ ان کے لئے سلامتی ہے ان پر سلامتی ہے ہر ایک دروازہ جنت سے فرشتے حاضر خدمت ہوتے ہیں اور سلام کرکے کہتے ہیں کہ تمہارا انجام بہتر ہوگیا کیونکہ تم صبر کرنے والے تھے۔ یہ وہاں ہمیشہ رہیں گے نہ نکلیں نہ نکالے جائیں نہ نعمتیں کم ہوں نہ راحتیں فناہوں یہ سعید بخت ہیں جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے ان کے رہنے سہنے راحت وآرام کرنے کی جگہ بڑی سہانی پاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
سورة الْفُرْقَان 94
صبر کا لفظ یہاں اپنے وسیع ترین مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ دشمنان حق کے مظالم کو مردانگی کے ساتھ برداشت کرنا۔ دین حق کو قائم اور سربلندی کرنے کی جدو جہد میں ہر قسم کے مصائب اور تکلیفوں کو سہہ جانا۔ ہر خوف اور لالچ کے مقابلے میں راہ راست پر ثابت قدم رہنا۔ شیطان کی تمام ترغیبات اور نفس کی ساری خواہشات کے علی الرغم فرض کو بچا لانا، حرام سے پرہیز کرنا اور حدود اللہ پر قائم رہنا۔ گناہ کی ساری لذتوں اور منفعتوں کو ٹھکرا دینا اور نیکی و راستی کے ہر نقصان اور اس کی بدولت حاصل ہونے والی ہر محرومی کو انگیز کر جانا۔ غرض اس ایک لفظ کے اندر دین اور دینی رویے اور دینی اخلاق کی ایک دنیا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
اُولٰۗىِٕكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ ، غرفہ کے لغوی معنی بالاخانہ کے ہیں۔ جنت میں مقربین خاص کے لئے ایسے غرفات ہوں گے جو عام اہل جنت کو ایسے نظر آئیں گے جیسے زمین والے ستاروں کو دیکھتے ہیں۔ (رواہ البخاری و مسلم وغیرھما۔ مظہری) مسند احمد، بیہقی، ترمذی، حاکم میں حضرت ابو مالک اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ایسے غرفے ہوں گے جن کا اندرونی حصہ باہر سے اور بیرونی حصہ اندر سے نظر آتا ہوگا۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ، یہ غرفے کن لوگوں کے لئے ہیں۔ آپ نے فرمایا، جو شخص اپنے کلام کو نرم اور پاک رکھے اور ہر مسلمان کو سلام کرے اور لوگوں کو کھانا کھلائے اور رات کو اس وقت تہجد کی نماز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
76-75
تواضح کا صلہ جنت کی عالی مقامی
فرمایا کہ یہ لوگ جو مذکورہ بالا صفات سے متصف ہیں اپنے ان اوصاف و اعمال کے صلے میں جنت کے بالا خانے پائیں گے۔ انہوں نے دنیا میں تواضع اور فروتنی کی زندگی گزاری اس وجہ سے یہ جنت کی عالی مقامی کے سزا دار ہوں گے۔ حضرت مسیح نے فرمایا ہے مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں۔ آسمان کی بادشاہی میں وہی داخل ہوں گے۔
بما صبروا سے یہ بات واضح ہوئی کہ ان اصواف کا پیدا کرنا اور ان کو برقرار رکھنا کوئی سہل بازی نہیں ہے بلکہ اس کے لئے بڑے صبر و استقامت کی ضرور ہے۔ ویلقون فیھا تحیۃ و سلما یعنی جو لوگ اس امتحان صبر میں پورے اتر جائیں گے وہ بیشک اس بات کے سزا وار ہوں گے کہ خدا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
74-1یعنی انھیں اپنا بھی فرماں بردار بنا اور ہمارا بھی اطاعت گزار جس سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔74
۔-1یعنی ایسا اچھا نمونہ کہ خیر میں وہ ہماری پیروی کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
30: یہ خطاب ان لوگوں سے ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے رجوع نہ کرتے، اور اس کی عبادت سے روگردانی کرتے تو اللہ تعالیٰ کو بھی تمہاری کوئی پرواہ نہیں تھی، لیکن جو لوگ اس کی عبادت کرتے ہیں اور جن کے نیک کاموں کا اوپر بیان کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ ان کے بہتر انجام کا کفیل ہے، پھر آگے کافروں سے خطاب ہے کہ جب تمہیں یہ اصول معلوم ہوگیا، اور تم نے حق کو جھٹلانے کی روش اختیار کر رکھی ہے تو تمہارا وہ انجام نہیں ہوسکتا جو اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا ہوتا ہے۔ تمہارا یہ طرز عمل تمہارے گلے پڑے گا، اور آخرت کے عذاب کی شکل میں تم سے اس طرح چمٹ جائے گا کہ اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
اولئک یجزون ……ومقاماً (76)
غرفہ کا مفہوم منزل بلند ہے ، جس سے جنت مراد ہے۔ یا یہ جنت کا کوئی خاص مقام ہوگا۔ جیسا کہ بالا خانہ عام افتادہ مکان کے مقابلے میں زیادہ پسندیدہ ہوتا ہے۔ ہر شخص مسلمانوں کو بالا خانوں میں بٹھاتا ہے اور یہ لوگ بھی چونکہ اللہ کے معزز اور مکرم بندے ہیں اور ان کے لئے عباد الرحمٰن کا ٹائیٹل استعمال ہوا ہے اور ان کی صفات بھی گنوائی گئی ہیں لہٰذا ان کا اس خاص مقام میں تحیہ اور مبارک و سلامت سے استقبال ہوگا۔ اس لئے کہ انہوں نے دنیا میں صبر کیا۔ اور ان صفات پر رہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عباد الرحمٰن کی ان صفات و علامات پر چلنا کارے دارد۔ بڑے صبر اور مصابرت کی ضرورت ہے۔ زندگی…
Read the full tafseer →12 یعنی ایسی جگہ تھوڑی دیر ٹھہرنا ملے تو بھی غنیمت ہے ان کا تو وہ گھر ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 76 خٰلِدِیْنَ فِیْہَاط حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّمُقَامًا ”
یہ گویا ان الفاظ کا تقابل contrast ہے جو آیت 66 میں وارد ہوئے : سَآءَ تْ مُسْتَقَرًّا وَّمُقَامًا
Read the full tafseer →94 جنت کے بہترین رہائش گاہ ہونے کا اندازہ سہل بن سعد ساعدی سے مروی حدیث سے ہوتا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب میں ایک کوڑا رکھنے کے برابر جگہ ساری دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے ( بخاری۔ کتاب بدو الخلق۔ باب فی صفہ نالجنہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
89۔ (خواہ دنیا میں، خواہ آخرت میں، خواہ دونوں ہی جگہ) (آیت) ” قل ...... دعآؤ کم “۔ اس میں رد آگیا ان جاہل صوفیوں کا جو محض تبرکات یا کسی صالح کے ساتھ انتساب کو مقبولیت کے لیے کافی سمجھتے ہیں، حقیقۃ دربار خداوندی میں بندوں کی جو بھی قدر ہے ایمان وطاعت ہی کی بنا پر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–77
آیت نمبر 61 تا 77
ترجمہ : وہ ذات بڑی عالی شان ہے جس نے آسمانوں میں بارہ برج بنائے (1) حَمَلْ (2) ثور (3) الجوزاء (4) السرطان (5) الاسد (6) السنبلہ (7) المیزان (8) العقرب (9) القوس (10) الجدی (11) الدلو (12) الحوت یہ سبع سیارہ کی منزلیں ہیں (اور وہ سبع سیارہ یہ ہیں) (1) المریخ : اس کی منزل حمل اور عقرب ہے (2) زہرہ : اس کی منزل ثور اور میزان ہے (3) عطارد : اس کی منزل جوزاء اور سنبلہ ہے (4) القمر اس کی منزل سرطان ہے (5) الشمس اس کی منزل اسد ہے (6) المشتری : اس کی منزل قوس اور حوت ہیں (7) زحل اس کی منزل جدی اور دلو ہے، اور اس نے آسمان میں چراغ بھی بنایا اور وہ سورج ہے اور نورانی چاند بنایا اور…
Read the full tafseer →خلدین فیہا ان بالا خانوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
حسنت مستقرا ومقاما۔ وہ بالا خانے (ان کے لئے) اچھی قرارگاہ اور قیام کی جگہ ہوں گے۔
مسلم نے حضرت ابو سعید ؓ خدری اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک منادی ندا کرے گا ‘ تمہارے لئے بلاشک دوامی تندرستی ہے کبھی بیمار نہ ہو گے ‘ تمہارے لئے دوامی زندگی ہے کبھی نہیں مرو گے ‘ تمہارے لئے ہمیشہ جوان رہنا ہے کبھی بوڑھے نہ ہوگے ‘ تمہارے لئے ہمیشہ راحت میں رہنا ہے کبھی دکھی نہ ہو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
(75۔ 76) ان اوصاف والوں کو جنت میں بلند درجات ملیں گے بوجہ اس کے کہ وہ اطاعت خداوندی فقر اور تکالیف پر ثابت قدم رہے اور وہ لوگ جس وقت جنت میں داخل ہوں گے تو فرشتے ان کو منجانب اللہ بقاء اور سلام کی دعائیں دیں گے اور وہ اس جنت میں ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں موت آئے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے وہ کیسا اچھا ٹھکانا اور مقام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
اُولٰۗىِٕكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ۔۔ :”غُرْفَۃٌ“ ہر بلند عمارت اور اونچا محل، بالا خانہ۔ ”الْغُرْفَةَ“ سے مراد کوئی ایک بالا خانہ نہیں بلکہ مراد جنس ہے، یعنی عباد الرحمان کو صبر کے بدلے جنت کے بالا خانے یعنی اونچے محل عطا کیے جائیں گے، جن کی بلندی ان کے مراتب کے اعتبار سے ہوگی۔ ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ أَھْلَ الْجَنَّۃِ یَتَرَاءَوْنَ أَھْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِھِمْ ، کَمَا یَتَرَاءَوْنَ الْکَوْکَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَیْنَھُمْ) [ بخاري، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ۔۔ : 3256 ]”اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–77
( والذین یقولون۔۔۔۔۔۔ )
وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ ضحاک نے کہا : وہ تیری اطاعت کرتے ہوئے۔
اس آیت میں بچے کی دعا جواز ہے، بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ذریۃ واحد اور جمع ہے، واحد کے لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّـبَۃً ج ( آل عمران : 38) فَھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا۔ ( مریم : 5) جمع کے لیے یہ آیت ہے : ذریۃ صعفا (النسائ : 9) سورة بقرہ میں اس کا اشتقاق مفصل گزر چکا ہے۔
ابن کثیر، ابن عامر اور حضرت حسن بصری نے وذریاتنا قرأت کی ہے۔ ابو عمرو، حمزہ، کسائی، طلحہ اور عیسیٰ نے ذریتنا قرأت کی ہے۔
قرۃ عین مفعول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
1۔ الحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں سہل بن سعد ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے آیت ” اولئک یجزون الغرفۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ بالا خانے سرخ یاقوت یا سبز زبرجد کے یا سفید موتی کے ہوں گے اس میں نہ کوئی چیز ٹوٹی ہوئی ہوگی اور نہ پھٹی ہوئی ہوگی۔
2۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اولئک یجزون الغرفۃ “ سے مراد ہے جنت۔
3۔ ابن ابی حاتم وابو نعیم فی الحلیہ ابو جعفر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اولئک یجزون الغرفۃ بما صبرو “ سے مراد ہے کہ یہ بالا خانے ان کو دنیا میں وہ جو فقر پر صبر کرتے رہے اس پر ان کو بد دیا جائے گا۔
4۔ زاہر بن طاہر الشحانمی نے انس ؓ سے روایت…
Read the full tafseer →خٰلِدِيْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] فِيْهَا ۭ [ اس میں ] حَسُنَتْ [ (یہ) اچھی ہے ] مُسْـتَقَرًّا [ بلحاظ قرار پکڑنے کی جگہ کے ] وَّمُقَامًا [ اور بلحاظ ٹھہرائے جانے کی جگہ کے ]
Read the full tafseer →(خٰلِدِیْنَ فِیْہَا حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّمُقَامًا) (یہ لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے یہ اچھی جگہ ہے ٹھہرنے اور رہنے کے لیے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–77
مدح عباد رحمان و ذکر شمائل اہل ایمان و عرفان
قال اللہ تعالیٰ وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا۔۔۔ الی۔۔۔ فسوف یکون لزاما۔
(ربط) گزشتہ آیات میں رحمان سے نفرت کرنے والوں کا ذکر تھا، اب آئندہ آیات میں عباد رحمن یعنی رحمان کے خاص بندوں کے اوصاف کا ذکر ہے جس سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ رحمن کے بندے رحمن کی رحمتوں اور اس کی نعمتوں کا عملی طور پر کس طرح اور کس صورت میں شکر کرتے ہیں لہٰذا جو شخص رحمن کے آثار رحمت ونعمت کے تشکر کا ارادہ کرے اور رحمن کے آثار قدرت و عجائب صنعت میں تفکر اور تدبر کا ارادہ کرے تو اس کو چاہئے کہ وہ رحمن کے شکر گزار بندوں کے نقش قدم پر ثلے اور اگر بر بنائے غفلت اس سے کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
49:۔ ” اولئک یجزون الک “ الئک، عباد الرحمن کی خبر ہے یعنی مذکورہ بالا صفات سے متصف اللہ کے بندوں کو جنت میں بطور جزا بالا خانے دئیے جائیں گے انہوں نے اپنے کو اللہ کی اطاعت و بندگی پر قائم رکھا اور نفس کو خواہشات سے روکا۔ جنت میں فرشتے مبارکباد اور سلام کے ساتھ ان کا استقبال کرینگے۔ ” خلدین فیھا “ وہ جنت کی نعیم و راحت میں ہمیشہ رہیں گے، نہ جنت فنا ہوگی، نہ ان کو موت آئیگی اور نہ انہیں جنت سے نکالا جائیگا۔ تو یہ کیا ہی اچھا مقام اور عمدہ ٹھکانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
(21) آیا …………
عبد الرحمن کی صفات ہی کا ذکر ہو رہا ہے ارشاد ہوتا ہے والذین اذا ذکروا بایت ربھم اور اللہ کے بندے وہ ہیں کہ جب انہیں ان کے پروردگار کی آیات یعنی احکام اور دلائل یاددلائے جاتے ہیں سمجھائے جاتے ہیں ۔ لم یخرواغا یھا صم و عمیانا تو وہ اس پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گر پڑتے۔ اس کے بر خلاف وہ اللہ تعالیٰ کے دلائل قدر ت میں غورو فکر کر کے اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں ، اس کے احکام کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور پھر ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اللہ کے بندے آیات الٰہی کے ساتھ کفارو مشرکین جیسے بہرے اور اندھوں کا سا سلوک نہیں کرتے کہ ان کو سنا ، نہ سمجھا ، نہ غور و فکر کیا اور نہ اس پر عمل…
Read the full tafseer →خٰلِدِيْنَ فِيْہَا 0ۭ حَسُنَتْ مُسْـتَقَرًّا وَّمُقَامًا 76
خلد
الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير اعتراض الفساد عليها، قال تعالی: أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ،
( خ ل د ) الخلودُ ( ن )
کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم
رہنے کے ہیں ۔ اور جب کسی چیز میں دراز تک تغیر و فساد پیدا نہ ہو۔ قرآن میں ہے : ۔ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ [ الشعراء/ 129] شاید تم ہمیشہ رہو گے ۔ جنت میں خلود کے معنی یہ ہیں کہ اس میں تمام چیزیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–77
1 ؎ وہ جھوٹے کام میں شامل نہیں ہوتے۔
(7) والذین لایشہدون الزور الخ زور کے معنی ہیں جھوٹی گواہی یعنی جھوٹی گواہی کے پاس بھی نہیں جاتے اور مواضع کذب بھی مراد ہوسکتی ہیں اور ہر نازیبا مجلس بھی مراد ہوسکتی ہے جو خلاف شرع شریف ہے جیسا کہ ناچ رنگ کی مجلسیں اور کھیل اور تماشوں کے مجامع۔ اس طرح کفار و مشرکین و مبتدعین کے میلے اور تیوہار ان سب سے اجتناب کرنا عبادالرحمن کی شان ہے، و اذا مرواباللغو مرواکراما اور جو کہیں ایسے بیہودہ مواقع کے پاس سے گزرنے کا اتفاق بھی ہو تو اعراض کر کے گزر جاتے ہیں منہ ڈہانک کر آنکھ بند کر کے گزرنا ان کی طرف متوجہ نہ ہونا بزرگانہ گزرنا ہے۔ (9) والذین اذا ذکرو الخ کہ جب ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
اُوْلٰٓئِکَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَـۃَ بِمَا صَبَرُوْا وَیُلَقَّوْنَ فِیْھَا تَحِیَّـۃً وَّسَلٰـمًا۔ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا۔ (الفرقان : 75، 76)
(یہ ہیں وہ لوگ جنھیں ان کے صبر کے باعث بالاخانے دیئے جائیں گے اور ان میں ان کا خیرمقدم تحیت وسلام کے ساتھ ہوگا۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، بہت عمدہ ہے وہ ٹھکانہ اور قیام گاہ۔ )
عبادالرحمن کا اخروی مقام و مرتبہ
گزشتہ آیات میں ہم جن بلند قامت انسانوں کی صفاتِ حمیدہ عبادالرحمن کے حوالے سے پڑھ چکے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھیں قیامت کے دن جنت میں اس طرح خوش آمدید کہا جائے گا کہ کہیں انھیں دعائیں دی جارہی ہوں گی، اور کہیں سلامتی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
فہم القرآن
ربط کلام : الرّحمن کے بندوں کا آخرت میں مرتبہ و مقام۔
الرّحمن کے بندے نہ صرف دنیا میں صالح کردار ہوتے ہیں بلکہ وہ نیکی کے کاموں میں قوموں کے پیشوا بنتے ہیں۔ ایسے نیکو کاروں کو آخرت میں بھی بلند مرتبہ اور اعلیٰ مقام دیا جائے گا۔ کیونکہ یہ دکھ اور سکھ، کامیابی اور ناکامی، عسر اور یسر میں اپنے رب کی رضا پر راضی اور اس کے دین کے پابند رہے۔ موت سے لے کر جنت میں داخل ہونے تک ان کا شاندار استقبال کیا جائے گا اور ملائکہ ہر مقام پر انھیں دعا دیں گے، اور سلام پیش کریں گے۔ یہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ جو رہنے کے اعتبار سے نہایت ہی پرسکون اور بہترین قیام گاہ ہے۔
مسائل
1۔ عباد الرّحمن جنت کے…
Read the full tafseer →76: خٰلِدِیْنَ فِیْھَا (وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے) یہ حال ہے حَسُنَتْ (وہ بہت خوب ہے) وہ بالا خانہ بہت خوبصورت ہے۔ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا (قرار گاہ اقامت کی جگہ ہے) یہ ساءت مستقرًا ومقامًا کے مقابلہ میں ہے ] القرقان : 66[۔
Read the full tafseer →76۔ خالدین فیھا حسنت مستقرا ومقاما۔ موضع قرار اور جائے اقامت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
68۔ 77:۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت 6 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے ‘ اس میں عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ ایک روز میں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت دنیا میں سب سے بڑا گناہ کونسا ہے ‘ آپ نے فرمایا کہ جس اللہ نے بندے کو پیدا کیا ‘ ایک تو اس کی عبادت یا قدرت میں کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا بڑا گناہ ہے۔ میں نے پوچھا ‘ اس کے بعد کون سا بڑا گناہ ہے آپ نے فرمایا ‘ تنگ دستی کے خوف سے آدمی کا اپنی اولاد کو قتل کر ڈالنا ‘ میں نے پوچھا ‘ پھر اس کے بعد کونسا گناہ بڑا ہے ‘ آپ نے فرمایا ‘ پڑوس کی عورت سے بدکاری کا کرنا ‘ آپ کے اس قول کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–77
آیت 63 سے 77
اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :
(1) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت : یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بدتمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ (ان کل من فی السموات والارض الی اتی الرحمن عبدا) (مریم : 19/93) ” آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔ “
(2) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت : یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء ومرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
قول باری ہے : (قل ما یعبو بکم ربی لولا دعاء کم) ان سے کہو ” میرے رب کو تمہاری کیا حاجت پڑی ہے اگر تم اس کو نہ پکارو۔ “ مجاہد کا قول ہے : ” میرے رب کو تمہاری کیا ضرورت ہے جبکہ وہ تمہارا محتاج نہیں ہے “۔ اگر اس کی طرف سے تمہیں اس کی اطاعت کی دعوت نہ دی جاتی تو اس کا فائدہ تم ضرور حاصل کرتے۔
Read the full tafseer →97 جنت کی عظمت شان کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ہی عمدہ ٹھکانہ ہوگا وہ اور کیسی خوب وہ ابدی قیامگاہ ہوگی وہ "۔ یعنی ایسی جگہ میں عارضی طور پر قیام کی توفیق وسعادت بھی اگر نصیب ہوجائے تو اس کے بھی کیا کہنے ؟ چہ جائیکہ سدا رہنے کا ٹھکانہ مل جائے ۔ فَشَرِّفْنَا بِہَا یَا اَللّٰہُ ۔ نہ کبھی وہاں سے نکلنا ہوگا اور نہ ہی کبھی ان کو وہاں پر موت آئے گی۔ بلکہ وہ وہاں کی ان نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر فرمایا گیا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ سو یہی ہے اصل اور حقیقی کامیابی جس کو ہمیشہ پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اسی کے لیے محنت اور کوشش کرنی چاہیے ۔ { لِمِثْلِ ہٰذَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–77
آسمانوں کے انتظام ‘ نیک لوگوں کی صفات اور انعام
تشریح : یہاں بھی کفار کو اللہ رحمن و رحیم کی کچھ اور مہربانیاں بتائی جا رہی ہیں جو خالصتاً اس وقت کے عرب بدئوں کے معیار کے مطابق بات کی جا رہی ہے۔ گو کہ اس میں بھی افلاک کے بہت سے رازوں کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ اس وقت یعنی ساتویں صدی کے آغاز کا عرب بدو اپنی تہذیب ‘ زبان ‘ تشبیہ اور ثقافت کے معیار سے ہی بات سمجھ سکتا تھا کیونکہ قرآن کا سب سے پہلا مخاطب وہی عرب بدو تھا۔ لہٰذا رب ذوالجلال انہی کی زبان میں فرماتا ہے کہ ” بڑی بابرکت ہے اس کی ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور پھر سورج کا روشن چراغ رکھ دیا اور چاند کا اجالا کردیا۔ اور وہی ہے جس نے رات دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–77
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
وہ ذات بہت ہی برکت والی ہے جس نے انسان کو حیات کا اتنا وسیع نظام ایک بہت ہی خوبصورت انداز سے ترتیب دے کر ہر شے کو حتی کہ اجرام فلکی کو بھی انسان ہی کی خدمت پہ لگا دیا جو مدتوں سے اپنے اپنے کام کو پوری باقاعدگی سے انجام دے رہے ہیں اس نے آسمانوں کو پیدا فرمایا اور فضا سے آسمانی بروج یعنی اجرام فلکی کے ٹھکانے اور ان کی راہیں مقرر کردیں ، یہ علم ہیئت ، ستارے اور سیارے ان کی رفتار اور اس کے اثرات ان کا وجود اور اس کی تعمیر اور خصوصیات اس میں بہت لمبی بحث ہے خصوصا اس دور میں جبکہ انسانی قدم چاند تک جا پہنچے ہیں اور وہاں کی فضا اس کے اثرات اور ان کی رفتار اور اس کے اسباب…
Read the full tafseer →2 ۔ اللہ تعالیٰ کے فرشتے دعا وسلام کہتے ہوئے ان کا استقبال کریں گے۔
Read the full tafseer →(25:76) حسنت مستقرا ومقاما۔ ملاحظہ ہو ساءت مستقرا ومقاما (آیت 25:66) وہ جہنم کا نقشہ تھا اور یہ جنت کی تصویر ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–77
لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 77 :
انفقوا (انہوں نے خرچ کیا) ‘ لم یسرفوا (انہوں نے بےجا نہیں اڑایا) ‘ لم یقتروا (نہ انہوں نے تنگی کی ) ‘ قوام ( ٹھرا ہوا۔ اعتدال و میانہ روی) ‘ یلق (وہ پڑے گا) ‘ اثام (گناہ) ‘ یضعف (دوگنا کردے گا) ‘ مھان (ذلیل و خوار) ‘ متاب (لوٹنے والا۔ توبہ کرنے والا) ‘ لایشھدون (وہ موجود نہیں ہیں) ‘ الزور (جھوٹ) ‘ لغو (فضول۔ بےہودہ) ‘ کرام (سنجیدگی۔ عزت) ‘ لم یخروا (وہ نہیں کرتے) ‘ صم (بہرے) ‘ عمیان ( اندھے) ھب (عطا فرما۔ دے دیجئے) ‘ قرۃ (ٹھنڈک) ‘ الغرفۃ (اونچا مکان) ‘ تحیۃ (دعا) ‘ مایعبئو ا (وہ پرواہ نہیں کرتا ) ‘ لزام (چمٹنے والی) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 67 تا 77 :
ان آیات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–77
بیوی بچوں کے لیے دعا کا ذکر۔ نیک بندوں کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا ہے رحمن کے بندوں میں ایسے بھی لوگ ہیں جو دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ہماری بیبیاں اور اولاد نیک صالح متقی عطا فرما کہ ان کا حسن عمل اور ان کی اطاعت خدا اور سول دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی اور دل خوش ہوں یا یہ معنی ہیں کہ خود تو دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے ہیں مگر ان کی بیوی بچے ابھی نعمت اسلام سے محروم ہیں اس لیے یہ رحمن کے بندے اپنی بیوی بچوں کے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں کہ یا اللہ ہم کو ہمارے بیوی اور بچوں کی طرف سے یہ آنکھوں کی ٹھنڈک دے کہ ہم اپنی آنکھوں سے ان کو ایماندار اور پرہیزگار دیکھ لیں ، اور ہم کو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
[45] مطلب یہ ہے کہ ہم کو اس درجے کا نیک اور پرہیزگار بنا کہ دوسرے لوگ ہمیں دیکھ کر نیک اور پرہیزگار بن جائیں اور نیکی اور پرہیزگاری میں ہم ان کے امام ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
بالا خانوں کے مکین
1: عبادالرحمن کی تفصیل کے بعد ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ وہ لوگ کون ہیں ۔ جو بہشت میں بالاخانوں پر رہیں گے ۔ جن کے مرتبے بلندہوں گے اور فرشتوں کی جانب سے جن کا دعا اسلام کے ساتھ خیر مقدم ہوگا ۔ ارشاد ہے کہ یہ لوگ ہیں ۔ جو مجالس فسق وفجور میں شریک نہیں ہوتے اور عفیف اور پاکباز رہتے ہیں ۔ جو نہایت باوقار اور متین ہوتے ہیں ۔ بےہودہ محفلوں سے باعزت و کرامت گزر جاتے ہیں ۔ اور آنکھ اٹھا کر بھی اس کی جانب نہیں دیکھتے ۔ پھر ان میں یہ بھی خوبی ہوتی ہے ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ کی باتیں ان کو سمجھائی جاتی ہیں ۔ تو وہ فکر اور غور سے سنتے ہیں ۔ اندھا دھند ان پر ٹوٹ نہیں پڑتے ۔
اپنی بیوی بچوں…
Read the full tafseer →(76) وہ ان بہشت کے بالا خانوں میں ہمیشہ اور سدا رہیں گے وہ جنت کے ٹھہرنے کے اعتبار سے بھی اچھی اور رہنے کے اعتبار سے بھی خوب ہے حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایسی جگہ تھوڑی دیر ٹھہرنے کو بھی ملے تو بھی غنمیت ہے ان کا تو وہی گھر ہے 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
ف 1۔ خواہ دنیا میں جیسے واقعہ بدر میں کفار پر مصیبت آئی یا آخرت میں اور وہ ظاہر ہے۔
Read the full tafseer →کیا ہی اچھا ان کا مستقر ہے جس میں ان کو ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا :
76۔ (مستقر) ایک مستقل قیام گاہ کے معنوں میں آتا ہے مقام کا لفظ ہر طرح کے ٹھکانے پر بولا جاتا ہے وہ عارضی ہو یا مستقل لیکن مستقل کا لفظ مستقل قیام گاہ ہی کے لئے مستعمل ہے خواہ خواہ کہاں ہو یعنی جنت میں ہو یا دوزخ میں ۔ کیونکہ اوپر دوزخیوں کے متعلق بھی اس لفظ کا استعمال ہوا ہے وہاں (ساءت مستقرا) کے لفظ میں یعنی بہت بری قیام گاہ ان کو ملے گی اور یہاں (حسنت مستقرا) یعنی بہت اچھی قیام گاہ ان کے حصے میں آئے گی ، گویا جنت والوں کے لئے وہ مستقر ہونے سے بھی خوب ہوگی اور مقام ہونے کے اعتبار سے بھی خوب ہی ہوگی ۔۔۔۔۔ اور دونوں جگہ (مستقرا و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
أُولَـٰئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ (Such people will be rewarded with the high place - 75) The literal meaning of غُرفَہ (ghurfah) is upper story. The righteous people having special closeness to Allah will be given high chambers in Paradise which will look like stars to common people. (al-Bukhari, Muslim, Mazhari)
It is narrated in Musnad of Ahmad, Bayhaqi, Tirmidhi and Hakim on the authority of Sayyidna Abu Malik al-Ash'ari that the Holy Prophet ﷺ said "In Paradise there will be such upper Houses that their interior could be seen from outside and the exterior from inside". Sahabah…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
94 The word sabr (fortitude) has been used here in its most comprehensive sense. The true servants courageously endured their persecution by the enemies of the Truth; they remained firm and steadfast in their struggle to establish Allah's way in the land; they carried out their duties enjoined by Allah sincerely and tearlessly without any concern for the worldly losses and deprivation; and they withstood all temptations held out by Satan and all the lusts of the flesh.
95 "Ghurfah " is a high mansion and the word is generally used for the "upper chamber" of a double-storeyed house. But the…
Read the full tafseer →