Al-Furqaan 25:77

Al-Furqaan · from ayah 77

25:77

قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْلَا دُعَآؤُكُمْ ۚ— فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا ۟۠قُلۡ مَا يَعۡبَـؤُا بِكُمۡ رَبِّىۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ‌ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا

کہہ دو کہ اگر تم (خدا کو) نہیں پکارتے تو میرا پروردگار بھی تمہاری کچھ پروا نہیں کرتا۔ تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا (تمہارے لئے) لازم ہوگی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "What would my Lord care for you if not for your supplication?" For you [disbelievers] have denied, so your denial is going to be adherent.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 6 of surah · Ruku 4 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:77

اے محمدؐ، لوگوں سے کہو "میرے رب کو تمہاری کیا حاجت پڑی ہے اگر تم اس کو نہ پکارو اب کہ تم نے جھٹلا دیا ہے، عنقریب وہ سزا پاؤ گے کہ جان چھڑانی محال ہو گی"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ اگر تم (خدا کو) نہیں پکارتے تو میرا پروردگار بھی تمہاری کچھ پروا نہیں کرتا۔ تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا (تمہارے لئے) لازم ہوگی

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہہ دیجئے! اگر تمہاری دعا التجا (پکارنا) نہ ہوتی تو میرا رب تمہاری مطلق پروا نہ کرتا، تم تو جھٹلا چکے اب عنقریب اس کی سزا تمہیں چمٹ جانے والی ہوگی

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر ! لوگوں سے) کہہ دو کہ : میرے پروردگار کو تمہاری ذرا بھی پرواہ نہ ہوتی، اگر تم اس کو نہ پکارے اب جبکہ (اے کافرو) تم نے حق کو جھٹلا دیا ہے تو یہ جھٹلانا تمہارے گلے پڑ کر رہے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ تمہاری کچھ قدر نہیں میرے رب کے یہاں اگر تم اسے نہ پوجو تو تم نے تو جھٹلایا تو اب ہوگا وہ عذاب کہ لپٹ رہے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: میرے رب کو تمہاری کوئی پرواہ نہیں اگر تم (اس کی) عبادت نہ کرو، پس واقعی تم نے (اسے) جھٹلایا ہے تو اب یہ (جھٹلانا تمہارے لئے) دائمی عذاب بنا رہے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ میرا رب تمہاری پروا نہیں کرتا اگر تمہارا پکارنا نہ ہو، سو بیشک تم نے جھٹلا دیا، تو عنقریب (اس کا انجام) چمٹ جانے والا ہوگا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اے نبی ! آپ لوگوں سے) کہہ دیجئے کہ اگر تم اسے نہیں پکارتے تو میرے پروردگار کو تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔ تم تو (حق کو) جھٹلا چکے اب جلد ہی اس کی ایسی سزا پاؤ گے جس سے جان چھڑانا محال ہوگی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو کہ میرے رب کو تمہاری کیا پرواہ ہے اگر تمہیں دعوت دینا مدنظر نہ ہوتا ! سو تم نے اس کی تکذیب کردی تو وہ چیز عنقریب لازم ہو کر رہے گی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان سے صاف کہہ دو کہ میرے رب کو تمہاری کیا پرواہ ہے اگر تم لوگ اس کو نہ پکارو اب تم قطعی طور پر جھٹلا چکے ہو سو عنقریب ہی یہ تکذیب تمہارے لیے ایک چمٹ کر رہ جانے والا عذاب بن جائے گی۔

— مولانا اسحاق مدنی

کہ میرا پروردگار تمہاری پرواہ ذرا بھی نہ کرے گا اگر تم عبادت نہ کرو گے سو تم خوب جھٹلاچکے سو عنقریب یہ (تکذیب) وبال بن رہے گی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) آپ کہہ دیجیے کہ میرے رب کو تمہاری کوئی پروا نہیں اگر نہ ہوتا تمہیں پکارنا اب جبکہ تم نے جھٹلادیا ہے تو عنقریب یہ (عذاب تمہیں) چمٹ کر رہے گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہہ دو کہ اگر تم اللہ کو نہیں پکارتے تو میرا رب بھی تمہیں یاد نہیں رکھتا (پرواہ نہیں کرتا) تم نے جھٹلا دیا ہے سو اس کی سزا تمہیں ضرور ملے گی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

O Muhammad, tell the people, "MyLord does not care at all if you do not invoke Him. Now that you have denied (His Revelation), you will soon be awarded such a punishment which you will never be able to avoid."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say (O Prophet), :My Lord will never care about you, if you will not invoke Him. Now since you rejected (the truth), the punishment will be inseparable from you.

— Muhammad Taqi Usmani

Say (O Prophet), :My Lord will never care about you, if you will not invoke Him. Now since you rejected (the truth), the punishment will be inseparable from you.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "My Lord pays attention to you only because of your invocation to Him. But now you have indeed denied. So the torment will be yours forever."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say (O Muhammad, unto the disbelievers): My Lord would not concern Himself with you but for your prayer. But now ye have denied (the Truth), therefor there will be judgment.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "What would my Lord care for you if not for your supplication?" For you [disbelievers] have denied, so your denial is going to be adherent.

— Saheeh International

(Muhammad), say (to the disbeliever) "It does not matter to my Lord whether you worship Him or not. You have rejected His guidance and your punishment is inevitable."

— Muhammad Sarwar

Say: My Lord would not care for you were it not for your prayer; but you have indeed rejected (the truth), so that which shall cleave shall come.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: my Lord careth not for you were it not for your prayer. whereas ye have even belied, so presently this denial shall come as the cleaving punishment.

— Abdul Majid Daryabadi

Say (to the Rejecters): "My Lord is not uneasy because of you if ye call not on Him: But ye have indeed rejected (Him), and soon will come the inevitable (punishment)!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:77

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 75–77

مومنوں کے اعمال اور اللہ کے انعامات مومنوں کی پاک صفتیں ان کے بھلے اقوال عمدہ افعال بیان فرما کر ان کا بدلہ بیان ہو رہا ہے کہ انہیں جنت ملے گی۔ جو بلند تر جگہ ہے اس وجہ سے یہ ان اوصاف پر جمے رہے وہاں ان کی عزت ہوگی اکرام ہوگا ادب تعظیم ہوگی۔ احترام اور توقیر ہوگی۔ ان کے لئے سلامتی ہے ان پر سلامتی ہے ہر ایک دروازہ جنت سے فرشتے حاضر خدمت ہوتے ہیں اور سلام کرکے کہتے ہیں کہ تمہارا انجام بہتر ہوگیا کیونکہ تم صبر کرنے والے تھے۔ یہ وہاں ہمیشہ رہیں گے نہ نکلیں نہ نکالے جائیں نہ نعمتیں کم ہوں نہ راحتیں فناہوں یہ سعید بخت ہیں جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے ان کے رہنے سہنے راحت وآرام کرنے کی جگہ بڑی سہانی پاک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 96 یعنی اگر تم اللہ سے دعائیں نہ مانگو، اور اس کی عبادت نہ کرو، اور اپنی حاجات کے لیے اس کو مدد کے لیے نہ پکارو، تو پھر تمہارا کوئی وزن بھی اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ پرکاہ کے برابر بھی تمہاری پروا کرے۔ محض مخلوق ہونے کی حیثیت سے تم میں اور پتھروں میں کوئی فرق نہیں۔ تم سے اللہ کی کوئی حاجت اٹکی ہوئی نہیں ہے کہ تم بندگی نہ کرو گے تو اس کا کوئی کام رکا رہ جائے گا۔ اس کی نگاہ التفات کو جو چیز تمہاری طرف مائل کرتی ہے وہ تمہارا اس کی طرف ہاتھ پھیلانا اور اس سے دعائیں مانگنا ہی ہے۔ یہ کام نہ کرو گے تو کوڑے کرکٹ کی طرح پھینک دیے جاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

قُلْ مَا يَعْبَؤ ُ ا بِكُمْ رَبِّيْ لَوْلَا دُعَاۗؤ ُ كُمْ ، اس آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں زیادہ واضح اور سہل وہ ہے جس کو خلاصہ تفسیر میں اوپر لکھا گیا ہے کہ اللہ کے نزدیک تمہاری کوئی وقعت و حیثیت نہ ہوتی اگر تمہاری طرف سے اللہ کو پکارنا اور اس کی عبادت کرنا نہ ہوتا۔ کیونکہ انسان کی تخلیق کا منشاء ہی یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کرے جیسے دوسری آیت میں ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ ، یعنی میں نے انسان اور جن کو اور کسی کام کے لئے پیدا نہیں کیا بجز اس کے کہ وہ میری عبادت کریں۔ یہ تو ایک عام ضابطہ بیان ہوا کہ بغیر عبادت کے انسان کی کوئی قدر و قیمت اور وقعت و…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ آخر میں مخالفین کو دھمکی ہے۔ آنحضرت ﷺ کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ ان لوگوں کو آگاہ کردو کہ میں جو تمہارے پیچھے اس طرح پڑا ہوا ہوں تو اس وج ہ سے نہیں کہ تمہارے بغیر خدا کا کوئی کام بند ہے یا بند ہوجائے گا۔ میرے رب کو تمہاری یا کسی کی کیا پروا ہو سکتی ہے ! مقصود صرف تمہیں حق کی دعوت دینا ہے اور اس میں فائدہ سرتاسر تمہارا ہی ہے نہ کہ میرا اور میرے رب کا۔ اب اگر تم نے اس دعوت کو جھٹلا دیا ہے تو اس کا جو انجام ہے اس کے لئے تیار رہو، وہ لازمی ہے۔ عنقریب اس سے سابقہ پیش آ کے رہے گا۔ یہاں اس سنت الٰہی کو یاد رکھیے جو رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھی ہے۔ بتوفیق ایزدی ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

77-1دعا والتجا کا مطلب، اللہ کو پکارنا اور اس کی عبادت کرنا اور مطلب یہ ہے کہ تمہارا مقصد تخلیق اللہ کی عبادت ہے، اگر یہ نہ ہو تو اللہ کو تمہاری کوئی پرواہ نہ ہو۔ یعنی اللہ کے ہاں انسان کی قدر و قیمت، اس کے اللہ پر ایمان لانے اور اس کی عبادت کرنے کی وجہ سے ہے۔ 77-2اس میں کافروں سے خطاب ہے کہ تم نے اللہ کو جھٹلا دیا، سو اب اس کی سزا بھی لازماً تمہیں چکھنی ہے۔ چناچہ دنیا میں یہ سزا بدر میں شکست کی صورت میں انھیں ملی اور آخرت میں جہنم کے دائمی عذاب سے بھی انھیں دو چار ہونا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 75–77

30: یہ خطاب ان لوگوں سے ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے رجوع نہ کرتے، اور اس کی عبادت سے روگردانی کرتے تو اللہ تعالیٰ کو بھی تمہاری کوئی پرواہ نہیں تھی، لیکن جو لوگ اس کی عبادت کرتے ہیں اور جن کے نیک کاموں کا اوپر بیان کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ ان کے بہتر انجام کا کفیل ہے، پھر آگے کافروں سے خطاب ہے کہ جب تمہیں یہ اصول معلوم ہوگیا، اور تم نے حق کو جھٹلانے کی روش اختیار کر رکھی ہے تو تمہارا وہ انجام نہیں ہوسکتا جو اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا ہوتا ہے۔ تمہارا یہ طرز عمل تمہارے گلے پڑے گا، اور آخرت کے عذاب کی شکل میں تم سے اس طرح چمٹ جائے گا کہ اس سے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قل ما یعبواء بکم ……الزماً (77) الربع یہ ایک خاتمہ کلام ہے جو پوری سورت کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ اس پوری سورت کا عمود یہ ہے کہ اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے ۔ لوگوں کے انکار اور منہ موڑنے کی وجہ سے آپ کے دل پر جو غبار تھا ، اسے دور کرنا اس سورت کا ہدف ہے کیونکہ وہ لوگ مقام محمدی کو جانتے ہوئے انکار پر تل گئے تھے اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ جو زیادہ تکلیف دہ بات تھی۔ اس لئے یہاں بتایا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی حیثیت کیا ہے ؟ یہ پوری انسانیت اللہ کے نزدیک پر کا ہ کے برابر نہیں ہے۔ اللہ کے ہاں انسانیت کا احترام اور رعایت تو اللہ کے ایسے بندوں کی وجہ سی ہے جن کی صفائی گنوائی گئیں۔ جو ہر وقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

13 یعنی تمہارے نفع نقصان کی باتیں سجھا دیں۔ بندہ کو چاہیے مغرور اور بیباک نہ ہو، خدا کو اس کی کیا پروا، ہاں اس کی التجاء پر رحم کرتا ہے، نہ التجا کرو گے اور بڑے بنے رہو گے تو مڈ بھیڑ کے لیے تیار ہوجاؤ جو عنقریب ہونے والی ہے۔ 14 یعنی کافر جو حق کو جھٹلا چکے۔ یہ تکذیب عنقریب ان کے گلے کا ہار بنے گی۔ اس کی سزا سے کسی طرح چھٹکارا نہ ہوگا۔ آخرت کی ابدی ہلاکت تو ہے ہی، دنیا میں بھی اب جلدی مڈ بھیڑ ہونے والی ہے۔ یعنی لڑائی جہاد۔ چناچہ غزوہ " بدر " میں اس مٹھ بھیڑ کا نتیجہ دیکھ لیا۔ تم سورة الفرقان وللہ الحمد والمنہ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 77 قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْلَا دُعَآؤُکُمْ ج ” بنی نوع انسان کو راہ ہدایت دکھانے اور اس سلسلے میں ان پر اتمام حجت کرنے کا کام اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ذمے لے رکھا ہے۔ اس قانون کی وضاحت سورة بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں فرمائی ہے : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً کہ ہم کسی قوم پر اس وقت تک عذاب نہیں بھیجتے جب تک ان کے درمیان رسول مبعوث نہ کردیں۔ اسی حوالے سے یہاں حضور ﷺ سے کہلوایا جا رہا ہے کہ تم لوگوں کو ہدایت کی طرف بلانا اور حق کی دعوت دینا مشیت الٰہی کے تحت ضروری نہ ہوتا تو میرے رب کو تم لوگوں کی کچھ بھی پروا نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اسی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

95 یعنی اگر تم اللہ کو پکارو گے اس کی عبادت کرو گے اس کے حضور توبہ استغفار کرو گے اس سے اپنی حاجتیں طلب کرو گے تو اس میں تمہارا اپنا ہی بھلا ہے۔ اور اگر تم ان باتوں میں بےنیازی کا مظاہرہ کرو گے تو اللہ کی کوئی ضرورت تمہاری پکار اور دعا یا عبادت نہ کرنے کی وجہ سے اٹکی ہوئی نہیں ہے۔ اس آیت کی تفسیر کے لئے درج ذیل حدیث قدسی ملاحظہ فرمائیے۔ حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : اے میرے بندو ! تم نہ میرا کچھ نقصان کرسکتے ہوں اور نہ مجھے کچھ فائدہ پہنچا سکتے ہو۔ اگر تمہارے اگلے اور پچھلے اور آدمی اور جن سب ایسے ہوجائیں جیسے تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار بخش ہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 76–77

89۔ (خواہ دنیا میں، خواہ آخرت میں، خواہ دونوں ہی جگہ) (آیت) ” قل ...... دعآؤ کم “۔ اس میں رد آگیا ان جاہل صوفیوں کا جو محض تبرکات یا کسی صالح کے ساتھ انتساب کو مقبولیت کے لیے کافی سمجھتے ہیں، حقیقۃ دربار خداوندی میں بندوں کی جو بھی قدر ہے ایمان وطاعت ہی کی بنا پر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–77

آیت نمبر 61 تا 77 ترجمہ : وہ ذات بڑی عالی شان ہے جس نے آسمانوں میں بارہ برج بنائے (1) حَمَلْ (2) ثور (3) الجوزاء (4) السرطان (5) الاسد (6) السنبلہ (7) المیزان (8) العقرب (9) القوس (10) الجدی (11) الدلو (12) الحوت یہ سبع سیارہ کی منزلیں ہیں (اور وہ سبع سیارہ یہ ہیں) (1) المریخ : اس کی منزل حمل اور عقرب ہے (2) زہرہ : اس کی منزل ثور اور میزان ہے (3) عطارد : اس کی منزل جوزاء اور سنبلہ ہے (4) القمر اس کی منزل سرطان ہے (5) الشمس اس کی منزل اسد ہے (6) المشتری : اس کی منزل قوس اور حوت ہیں (7) زحل اس کی منزل جدی اور دلو ہے، اور اس نے آسمان میں چراغ بھی بنایا اور وہ سورج ہے اور نورانی چاند بنایا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل ما یعبوبکم ربی لو لا دعآؤ کم آپ (عام طور پر لوگوں سے) کہہ دیجئے کہ میرا رب تمہاری ذرا بھی پروا نہیں کرے گا اگر تم عبادت نہ کرو گے۔ یَعْبَؤُماخوذ ہے عَبَأُت الْجیش عَبْوًاسے میں نے فوج کو مرتب کردیا ‘ تیار کردیا ‘ کذا فی النہایہ مطلب یہ ہے کہ اگر تم اللہ سے استغفار نہ کرو تو کون چیز تم کو جنت میں داخل ہونے کے لئے تیار کرسکتی ہے بعض اہل تفسیر نے دعاء کا ترجمہ کیا ہے عبادت یا ایمان۔ بعض علماء نے کہا آیت کا یہ مطلب ہے کہ اگر اللہ تم کو اسلام کی دعوت نہ دیتا تو جنت میں کیسے داخل ہوتے۔ اب چونکہ تم ایمان لے آئے ہو تو اللہ نے تم کو جنت میں داخل ہونے کے لئے تیار کردیا ‘ بعض علماء نے کہا یَعْبَؤْا ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(77) پیغمبر خدا ﷺ آپ ان کفار مکہ سے فرما دیجیے کہ اگر تم اس کی عبادت نہیں کرو گے تو میرا پروردگار تمہارے جسموں اور صورتوں کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرے گا جب کہ اس نے تمہیں توحید و عبادت کا حکم دیا ہے تو تم تو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کو جھوٹا سمجھتے ہو تو عنقریب یہ چیز تمہارے لیے وبال جان ہو کر رہے گی، چناچہ غزوہ بدر میں ضرب قتل اور قید کا عذاب نازل ہوا یعنی تم نے اپنے نبی ﷺ کو جھٹلایا تو یہ عذاب تم پر لازم ہو کر رہے گا یہ اللہ کی طرف سے وعید ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّيْ :”مَا“ یہاں نافیہ بھی ہوسکتا ہے اور استفہامیہ بھی، یعنی میرا رب تمہاری پروا نہیں کرتا، یا میرا رب تمہاری کیا پروا کرے گا ؟ ”میرا رب“ اس لیے فرمایا کہ خطاب کفار سے ہے، جو کما حقہ اسے رب نہیں مانتے۔ لَوْلَا دُعَاۗؤُكُمْ : یہ خطاب کفار سے ہے، کیونکہ آگے فرمایا ہے : (فَقَدْ كَذَّبْتُمْ) ”سو بیشک تم نے جھٹلا دیا۔“ ”دُعَاۗؤُكُمْ“ کا معنی ابن عباس ؓ نے ”إِیْمَانُکُمْ“ کیا ہے۔ [ طبري بطریق علي بن أبي طلحۃ و ذکرہ البخاري ] یعنی میرا رب تمہیں مہلت اس لیے دے رہا ہے کہ تم اس پر ایمان لے آؤ، اس کی عبادت کرو اور اس سے دعا کرو، کیونکہ اس نے جنّ و انس کو پیدا ہی اپنی عبادت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 74–77

( والذین یقولون۔۔۔۔۔۔ ) وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ ضحاک نے کہا : وہ تیری اطاعت کرتے ہوئے۔ اس آیت میں بچے کی دعا جواز ہے، بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ذریۃ واحد اور جمع ہے، واحد کے لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّـبَۃً ج ( آل عمران : 38) فَھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا۔ ( مریم : 5) جمع کے لیے یہ آیت ہے : ذریۃ صعفا (النسائ : 9) سورة بقرہ میں اس کا اشتقاق مفصل گزر چکا ہے۔ ابن کثیر، ابن عامر اور حضرت حسن بصری نے وذریاتنا قرأت کی ہے۔ ابو عمرو، حمزہ، کسائی، طلحہ اور عیسیٰ نے ذریتنا قرأت کی ہے۔ قرۃ عین مفعول…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” قل مایعبؤ بکم ربی لولا دعاء کم “ سے مراد ہے کہ اگر تمہارا ایمان نہ ہوتا اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ کو تمہاری کوئی حاجت نہیں کیونکہ اس نے تمہیں مومن پیدا نہیں فرمایا اگر اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی حاجت ہوتی تو ان کی طرف بھی ایمان کو محبوب بنا دیتا جیسے اس نے ایمان والوں کی طرف ایمان کو محبوب بنادیا۔ آیت ” فسوف یکون لزاما “ سے مراد ہے موت۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” قل ما یعبؤ بکم ربی “ سے مراد ہے ” ما یعمل “ یعنی کیا کرے گا ” لو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [ آپ ﷺ کہیے ] مَا يَعْبَؤُا [ پرواہ نہیں کرتا ] بِكُمْ [ تمہاری ] رَبِّيْ [ میرا رب ] لَوْلَا [ اگر نہ ہوتا ] دُعَاۗؤُكُمْ ۚ [ تم کو دعوت دیا جانا ] فَقَدْ كَذَّبْتُمْ [ پس تم لوگ جھٹلا چکے ] فَسَوْفَ [ تو عنقریب ] يَكُوْنُ [ ہوگا ] لِزَامًا [ چمٹ جانا (عذاب کا)] ع ب ء (ف) عبا کسی چیز کو وزن دینا۔ کسی کی پرواہ کرنا۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 77 (آیت۔ 77) ۔ دعاء مصدر ہے اور مصدر معروف اور مجہول دونوں معنی دیتا ہے۔ یہاں دونوں معنی لینے کی گنجائش ہے۔ ہم مجہول معنی کو ترجیح دی گے کیونکہ فقد کذبتم سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ مورخہ 11 /جمادی الثانی 1428 ھ بمطا بق 2/ جون 2007 ء

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مومنین مخلصین کا انعام و اکرام بتانے کے بعد فرمایا کہ (قُلْ مَا یَعْبَاُبِکُمْ رَبِّیْ لَوْلاَ دُعَاؤُکُمْ ) (آپ فرما دیجیے کہ میرا رب تمہاری پرواہ نہ کرتا اگر تمہارا پکارنا نہ ہوتا) مفسرین کرام نے اس کے متعدد مفاہیم بتائے ہیں جن میں سے ایک مطلب یہ ہے کہ اے ایمان والو تم جو اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہو اور اس کی عبادت کرتے ہو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہاری قدر و قیمت ہے اگر تم اس کی عبادت نہ کرتے تو تمہاری کوئی قدر و قیمت نہ تھی ای لو لا دعائکم لما اعددت بکم و ھذا بیان لحال المومنین من المخاطبین۔ (روح المعانی) (فَقَدْ کَذَّبْتُمْ ) (سواے کافر و تم نے تکذیب کی) (فَسَوْفَ یَکُوْنُ لِزَامًا)…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 63–77

مدح عباد رحمان و ذکر شمائل اہل ایمان و عرفان قال اللہ تعالیٰ وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا۔۔۔ الی۔۔۔ فسوف یکون لزاما۔ (ربط) گزشتہ آیات میں رحمان سے نفرت کرنے والوں کا ذکر تھا، اب آئندہ آیات میں عباد رحمن یعنی رحمان کے خاص بندوں کے اوصاف کا ذکر ہے جس سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ رحمن کے بندے رحمن کی رحمتوں اور اس کی نعمتوں کا عملی طور پر کس طرح اور کس صورت میں شکر کرتے ہیں لہٰذا جو شخص رحمن کے آثار رحمت ونعمت کے تشکر کا ارادہ کرے اور رحمن کے آثار قدرت و عجائب صنعت میں تفکر اور تدبر کا ارادہ کرے تو اس کو چاہئے کہ وہ رحمن کے شکر گزار بندوں کے نقش قدم پر ثلے اور اگر بر بنائے غفلت اس سے کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

50:۔ ” قل ما یعبؤا بکم الخ “ یہ تخویف دنیوی ہے اور خطاب مشرکین مکہ سے ہے۔ بکم میں باء تعدیہ کیلئے ہے۔ ربی، یعبؤا کا فاعل ہے۔ دعاء کم مصدر مفعول کی طرف مضاف ہے اور فاعل اللہ ہے اور لولا کا جواب محذوف ہے ای لعذبکم۔ اصل عبادت اس طرح ہوگی۔ لو لا دعاء اللہ ایاکم لعذبکم۔ یعنی میرے پیغمبر آپ فرما دیں میرے رب کو تمہاری پروا نہیں اگر تمہیں اللہ کی طرف سے توحید کی دعوت نہ ہوتی تو تمہیں عذاب سے جلد ہلاک کردیا جاتا لیکن اللہ کی سنت جاریہ یہ ہے کہ تبلیغ دعوت سے پہلے وہ کسی کو نہیں پکڑتا۔ جیسا کہ ارشاد ہے ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “ یا ” ما یعبؤا بکم ربی “ لولا کا جواب ہے جیسا کہ امام نسفی، ابو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 73–77

(21) آیا ………… عبد الرحمن کی صفات ہی کا ذکر ہو رہا ہے ارشاد ہوتا ہے والذین اذا ذکروا بایت ربھم اور اللہ کے بندے وہ ہیں کہ جب انہیں ان کے پروردگار کی آیات یعنی احکام اور دلائل یاددلائے جاتے ہیں سمجھائے جاتے ہیں ۔ لم یخرواغا یھا صم و عمیانا تو وہ اس پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گر پڑتے۔ اس کے بر خلاف وہ اللہ تعالیٰ کے دلائل قدر ت میں غورو فکر کر کے اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں ، اس کے احکام کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور پھر ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اللہ کے بندے آیات الٰہی کے ساتھ کفارو مشرکین جیسے بہرے اور اندھوں کا سا سلوک نہیں کرتے کہ ان کو سنا ، نہ سمجھا ، نہ غور و فکر کیا اور نہ اس پر عمل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّيْ لَوْلَا دُعَاۗؤُكُمْ۝ 0ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُوْنُ لِزَامًا۝ 77ۧ عبأ ما عَبَأْتُ به، أي : لم أبال به، وأصله من العَبْءِ ، أي : الثّقل، كأنه قال : ما أرى له وزنا وقدرا . قال تعالی: قُلْ ما يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي[ الفرقان/ 77] ، وقیل أصله من : عَبَأْتُ الطّيبَ ، كأنه قيل : ما يبقيكم لولا دعاؤكم، وقیل : عَبَأْتُ الجیشُ ، وعَبَّأْتُهُ : هيّئته، وعَبْأَةُ الجاهليّةِ : ما هي مدّخرة في أنفسهم من حميّتهم المذکورة في قوله : فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجاهِلِيَّةِ [ الفتح/ 26] ( ع ب آ) ماعبات بہ ۔ مجھے اس کی کچھ پرواہ نہیں اصل میں العب کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 72–77

1 ؎ وہ جھوٹے کام میں شامل نہیں ہوتے۔ (7) والذین لایشہدون الزور الخ زور کے معنی ہیں جھوٹی گواہی یعنی جھوٹی گواہی کے پاس بھی نہیں جاتے اور مواضع کذب بھی مراد ہوسکتی ہیں اور ہر نازیبا مجلس بھی مراد ہوسکتی ہے جو خلاف شرع شریف ہے جیسا کہ ناچ رنگ کی مجلسیں اور کھیل اور تماشوں کے مجامع۔ اس طرح کفار و مشرکین و مبتدعین کے میلے اور تیوہار ان سب سے اجتناب کرنا عبادالرحمن کی شان ہے، و اذا مرواباللغو مرواکراما اور جو کہیں ایسے بیہودہ مواقع کے پاس سے گزرنے کا اتفاق بھی ہو تو اعراض کر کے گزر جاتے ہیں منہ ڈہانک کر آنکھ بند کر کے گزرنا ان کی طرف متوجہ نہ ہونا بزرگانہ گزرنا ہے۔ (9) والذین اذا ذکرو الخ کہ جب ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ مَا یَعْبَـؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْلاَ دُعَآؤُکُمْ ج فَقَدْکَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَکُوْنُ لِزَامًا۔ (الفرقان : 77) (اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ میرے رب کو تمہاری کیا پرواہ ہے اگر تمہیں دعوت دینا نہ ہوتا، سو تم نے اس کی تکذیب کردی تو وہ چیز عنقریب لازم ہو کر رہے گی۔ ) مخالفین کو وارننگ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے مخالفین کو دھمکی دی ہے اور براہ راست ان سے کچھ کہنے کی بجائے آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرمایا گیا کہ آپ انھیں یہ وارننگ دے دیں، کیونکہ وہ آپ ہی کے سامنے اللہ تعالیٰ کے دین کا انکار کرتے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کا تمسخر اڑاتے ہیں اور آپ جس طرح خون جگر پی پی کر ان کی اصلاح کی خاطر تبلیغ و…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : عباد الرّحمن کے اوصاف اور ان کے اجر وثواب کا ذکر کرنے کے بعد نافرمان لوگوں سے بیزاری کا اعلان۔ سورۃ الفرقان میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بےمثال اور لازوال قدرت کے بار بار ناقابل تردید دلائل دئیے ہیں۔ اس کے بعد اپنے بندوں کے اوصاف کا تذکرہ کیا، پھر ان کی دعاؤں اور بہترین انجام کا ذکر فرمایا ہے۔ جس میں کفار، مشرکین اور نافرمانوں کے لیے نصیحت ہے اے لوگو ! اگر تم اپنے رب کی توحید کا اقرار، نبی آخر الزماں پر ایمان اور صالح کردار اختیار کرو۔ تو تم بھی الرّحمنکے بندے بن جاؤ گے اور اس کے انعامات کے حق دار ٹھہرو گے۔ جس سے تمہاری دنیا بھی بہتر ہوگی اور آخرت بھی سنور جائے گی۔ اگر تم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اگر تمہیں اسلام کی طرف دعوت دینا نہ ہوتا : 77: قُلْ مَا یَعْبَؤُابِکُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُ کُمْ (آپ کہہ دیں میرے رب کو تمہاری ذرہ بھر پرواہ نہیں اگر تم عبادت نہ کرو گے) اس میں استفہام کا معنی خود پایا گیا۔ اور یہ محل نصب میں ہے مطلب یہ ہے : ما یصنع لکم ربی میرے رب نے تمہیں کیا کرنا ہے اگر تمہارا اسلام کی دعوت دینا طے نہ ہوچکا ہوتا۔ نمبر 2۔ اگر تم اس کی عبادت نہ کرتے ہوتے یعنی اس نے اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا جیسا کہ فرمایا وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون ] الزاریات : 56[ تمہارا اعتبار تمہارے رب کے ہاں تمہاری عبادت ہی کی وجہ سے ہے۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں عذاب دیکر کیا کرنا ہے اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

77۔ قل ما یعبوبکم ربی، مجاہد اور ابن زید کا قول ہے کہ جو کچھ تم کرویانہ کرو تمہاری پرواہ نہیں کرے گا، ابوعبیدہ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو شمار کرکے نہیں رکھے گا، اس کا موجود ہونایاموجود نہ ہونا دونوں برابر ہیں۔ تمہارے اعمال کا کوئی وزن مقرر ہے کہ نہیں اس کے متعلق اس کو کوئی پرواہ نہیں۔ لولاء دعاء کم ، اگر تم اس کی پوجا نہیں کرو گے بعض نے اس کا ترجمہ کروایا کہ تمہارا ایمان اور بعض نے کہا کہ تمہاری عبادت۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ تم کو دعوت اسلام نہ دیتا اور تم اسلام قبول نہ کرتے تو اس سے تمہاری قدر نہ ہوتی۔ اب جب کہ میں نے تم کو اسلام کی دعوت دے دی اور تم ایمان لائے تو اللہ کے نزدیک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 68–77

68۔ 77:۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت 6 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے ‘ اس میں عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ ایک روز میں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت دنیا میں سب سے بڑا گناہ کونسا ہے ‘ آپ نے فرمایا کہ جس اللہ نے بندے کو پیدا کیا ‘ ایک تو اس کی عبادت یا قدرت میں کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا بڑا گناہ ہے۔ میں نے پوچھا ‘ اس کے بعد کون سا بڑا گناہ ہے آپ نے فرمایا ‘ تنگ دستی کے خوف سے آدمی کا اپنی اولاد کو قتل کر ڈالنا ‘ میں نے پوچھا ‘ پھر اس کے بعد کونسا گناہ بڑا ہے ‘ آپ نے فرمایا ‘ پڑوس کی عورت سے بدکاری کا کرنا ‘ آپ کے اس قول کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 63–77

آیت 63 سے 77 اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں : (1) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت : یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بدتمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ (ان کل من فی السموات والارض الی اتی الرحمن عبدا) (مریم : 19/93) ” آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔ “ (2) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت : یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء ومرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 75–77

قول باری ہے : (قل ما یعبو بکم ربی لولا دعاء کم) ان سے کہو ” میرے رب کو تمہاری کیا حاجت پڑی ہے اگر تم اس کو نہ پکارو۔ “ مجاہد کا قول ہے : ” میرے رب کو تمہاری کیا ضرورت ہے جبکہ وہ تمہارا محتاج نہیں ہے “۔ اگر اس کی طرف سے تمہیں اس کی اطاعت کی دعوت نہ دی جاتی تو اس کا فائدہ تم ضرور حاصل کرتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

98 منکرین و مکذبین کے لیے تہدید و دھمکی : سو اس سے سلسلہ کلام کے آخر میں آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ ان سے کہیں کہ میرے رب کو تمہاری کیا پرواہ ہوسکتی ہے اگر تم اس کو نہ پکارو۔ یعنی اگر تم اس کو نہ پکارو، اس کی عبادت و بندگی نہ کرو، تو پھر تمہارے درمیان اور ایک بیکار پڑے ہوئے اینٹ پتھر کے درمیان آخر کیا فرق رہ جائے گا ؟ بلکہ ایسی صورت میں تم اس سے بھی کہیں گئے گزرے ہوجاؤ گے کہ تم نے عقل جیسی نعمت رکھتے ہوئے بھی اپنے آپ کو ایسا گرا دیا اور اس قدر غیر ذمہ دار بنادیا۔ ایسی صورت میں میرے رب کو تمہاری کیا پڑی ہے ؟ اور اس کو تمہاری کیا پرواہ ہے کہ تم کیا ہو اور کس گڑھے میں گرتے ہو۔ سو اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 61–77

آسمانوں کے انتظام ‘ نیک لوگوں کی صفات اور انعام تشریح : یہاں بھی کفار کو اللہ رحمن و رحیم کی کچھ اور مہربانیاں بتائی جا رہی ہیں جو خالصتاً اس وقت کے عرب بدئوں کے معیار کے مطابق بات کی جا رہی ہے۔ گو کہ اس میں بھی افلاک کے بہت سے رازوں کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ اس وقت یعنی ساتویں صدی کے آغاز کا عرب بدو اپنی تہذیب ‘ زبان ‘ تشبیہ اور ثقافت کے معیار سے ہی بات سمجھ سکتا تھا کیونکہ قرآن کا سب سے پہلا مخاطب وہی عرب بدو تھا۔ لہٰذا رب ذوالجلال انہی کی زبان میں فرماتا ہے کہ ” بڑی بابرکت ہے اس کی ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور پھر سورج کا روشن چراغ رکھ دیا اور چاند کا اجالا کردیا۔ اور وہی ہے جس نے رات دن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–77

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف وہ ذات بہت ہی برکت والی ہے جس نے انسان کو حیات کا اتنا وسیع نظام ایک بہت ہی خوبصورت انداز سے ترتیب دے کر ہر شے کو حتی کہ اجرام فلکی کو بھی انسان ہی کی خدمت پہ لگا دیا جو مدتوں سے اپنے اپنے کام کو پوری باقاعدگی سے انجام دے رہے ہیں اس نے آسمانوں کو پیدا فرمایا اور فضا سے آسمانی بروج یعنی اجرام فلکی کے ٹھکانے اور ان کی راہیں مقرر کردیں ، یہ علم ہیئت ، ستارے اور سیارے ان کی رفتار اور اس کے اثرات ان کا وجود اور اس کی تعمیر اور خصوصیات اس میں بہت لمبی بحث ہے خصوصا اس دور میں جبکہ انسانی قدم چاند تک جا پہنچے ہیں اور وہاں کی فضا اس کے اثرات اور ان کی رفتار اور اس کے اسباب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

3 ۔ یعنی اگر تم ایمان لا کر اس کی عبادت نہ کرو اور اس کے حضور دعائیں نہ کرو تو اسے ایک پرکاہ کے برابر بھی تمہاری پروا نہیں۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : یعنی بندہ مغرور نہ ہو خاوند (خداوند) کو اس کی کیا پروا۔ مگر اس کی التجا پر رحم کرتا ہے۔ (موضح) 4 ۔ چاہے دنیا میں چاہے آخرت میں اور چاہے دونوں جگہ، چانچہ قریش نے… جن سے آیت کا خطاب ہے… آخرت کے علاوہ ” بدر “ کے روز یہ وبال دیکھ لیا۔ اس لئے جمہور مفسرین نے یہاں ” لزام “ سے ” بدر “ کے دن کا عذاب مراد لیا ہے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:77) قل۔ امر کا خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے لیکن نبی کریم ﷺ کا خطاب کن سے ہے اس کے متعلق 2 اقوال ہیں :۔ (1) اس کا اطلاق عوام الناس پر ہے۔ (2) اس کا اطلاق مشرکین و کفار پر ہے۔ خصوصا قریش مکہ۔ ما یعبؤابکم ربی : ما یعبؤا مضارع منفی واحد مذکر غائب عبؤ مصدر (باب فتح) عبا یعبؤا۔ عبا مادہ۔ ما عبات بہ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ العب کے معنی ثقل۔ بوجھ۔ خواہ کسی بھی شے کا ہو اس کی جمع اعباء ہے لہٰذا ماعبات بہ کے معنی ہوں گے میرے نزدیک اس کا کوئی وزن نہیں ہے۔ یا میری نگاہ میں اس کی کچھ قدر و قیمت نہیں ہے۔ اس کا ترجمہ ہوا۔ میرے پروردگار کی نگاہوں میں تمہاری کچھ بھی قدروقیمت نہیں ہے۔ ما استفہامیہ بھی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 67–77

لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 77 : انفقوا (انہوں نے خرچ کیا) ‘ لم یسرفوا (انہوں نے بےجا نہیں اڑایا) ‘ لم یقتروا (نہ انہوں نے تنگی کی ) ‘ قوام ( ٹھرا ہوا۔ اعتدال و میانہ روی) ‘ یلق (وہ پڑے گا) ‘ اثام (گناہ) ‘ یضعف (دوگنا کردے گا) ‘ مھان (ذلیل و خوار) ‘ متاب (لوٹنے والا۔ توبہ کرنے والا) ‘ لایشھدون (وہ موجود نہیں ہیں) ‘ الزور (جھوٹ) ‘ لغو (فضول۔ بےہودہ) ‘ کرام (سنجیدگی۔ عزت) ‘ لم یخروا (وہ نہیں کرتے) ‘ صم (بہرے) ‘ عمیان ( اندھے) ھب (عطا فرما۔ دے دیجئے) ‘ قرۃ (ٹھنڈک) ‘ الغرفۃ (اونچا مکان) ‘ تحیۃ (دعا) ‘ مایعبئو ا (وہ پرواہ نہیں کرتا ) ‘ لزام (چمٹنے والی) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 67 تا 77 : ان آیات سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 74–77

بیوی بچوں کے لیے دعا کا ذکر۔ نیک بندوں کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا ہے رحمن کے بندوں میں ایسے بھی لوگ ہیں جو دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ہماری بیبیاں اور اولاد نیک صالح متقی عطا فرما کہ ان کا حسن عمل اور ان کی اطاعت خدا اور سول دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی اور دل خوش ہوں یا یہ معنی ہیں کہ خود تو دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے ہیں مگر ان کی بیوی بچے ابھی نعمت اسلام سے محروم ہیں اس لیے یہ رحمن کے بندے اپنی بیوی بچوں کے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں کہ یا اللہ ہم کو ہمارے بیوی اور بچوں کی طرف سے یہ آنکھوں کی ٹھنڈک دے کہ ہم اپنی آنکھوں سے ان کو ایماندار اور پرہیزگار دیکھ لیں ، اور ہم کو ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[46] یعنی اللہ کو اس کی ذرا پروا نہیں۔ اگر تم اس سے دعائیں نہ مانگو اور اس کی عبادت نہ کرو۔ تم سے اس کی کوئی حاجت اٹکی ہوئی تو ہے نہیں کہ تمہارے بندگی نہ کرنے سے اس کا کوئی کام رکا رہ جائے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 1: فقد کذبتم سے مراد منکرین ہیں ۔ جو اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے ۔ اور اس کی بےنیازی اور غناء کی تکذیب کرتے ہیں ۔ فرمایا عنقریب تمہیں اس کی سزا ضرور ملے گی ۔ لزاما ۔ چپک جانے والا عذاب ۔ لازم ہونا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(77) اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیجئے اگر تم میرے پروردگار کی عبادت نہ کرو گے تو اور اس کو نہ پکارو گے تو وہ بھی تمہاری کچھ پروا نہیں کرے گا اور تمہارا کوئی وزن اور کوئی قدر نہ ہوگی۔ پس اے منکرو ! تم نے تو احکام الٰہی کی تکذیب کی ہے اور تم تو اللہ تعالیٰ کے دین کو جھٹلا ہی چکے اب عنقریب یہ تکذیب تم کو چمٹ کر رہے گی اور اس تکذیب کا وبال تم پر پڑ کر رہے گا یعنی دنیا میں جیسا کہ بدر میں ہوا یا آخرت میں بہرحال ! بندے کی آبرو اور ا س کی قدر و قیمت اپنے پروردگار کی عبادت میں ہے جو شخص اپنے پروردگار کی عبادت نہیں کرتا وہ اپنے پیدا ہونے کی غرض وغایت کو پورا نہیں کرتا تو ایسے نالائق کی خدا کو بھی کوئی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 75–77

ف 1۔ خواہ دنیا میں جیسے واقعہ بدر میں کفار پر مصیبت آئی یا آخرت میں اور وہ ظاہر ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مخالفین کے لئے ایک دھمکی جو بلاشبہ حقیقت ہے اور تمہارے لازم حال ہے : 77۔ (مایعبؤا) واحد مذکر غائب مضارع منفی عب مصدر (فتح) پرواہ نہیں کرے گا ۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ فرما دیجئے کہ ” میرا پروردگار تمہاری کچھ بھی پرواہ نہیں کرے گا اگر تم (اس کی) عبادت نہیں کرو گے پس تم خوب جھٹلا چکے پس عنقریب (اس کی سزا) جو تمہارے لازم حال ہوگی “ اس آخری آیت میں گویا اللہ تعالیٰ نے یہ بات واضح کردی کہ انسان جس قدر اپنا تعلق اللہ سے پیدا کرتا ہے اسی قدر اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی عزت ہوتی ہے ۔ ورنہ مخلوق کی تو کوئی کمی نہیں وہ تو انسان کے سوا بھی بیشمار ہے لیکن وہ مکلف نہیں اس لئے ان کو تعلق باللہ کی طرف نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

قُلْ مَا يَعْبَأُ بِكُمْ رَ‌بِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ (Say (0 Prophet) My Lord will never care about you, if you will not invoke Him - 25:77). Different versions are given in the interpretation of this verse, but the one given in the text above is the simplest and straight forward; that is you would have no value or importance before God if you do not call Him and pray to Him. It is because the very purpose of man's creation is that he should worship Allah as mentioned in the verse وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (I have not created Jinn and mankind except to worship Me…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 75–77

94 The word sabr (fortitude) has been used here in its most comprehensive sense. The true servants courageously endured their persecution by the enemies of the Truth; they remained firm and steadfast in their struggle to establish Allah's way in the land; they carried out their duties enjoined by Allah sincerely and tearlessly without any concern for the worldly losses and deprivation; and they withstood all temptations held out by Satan and all the lusts of the flesh. 95 "Ghurfah " is a high mansion and the word is generally used for the "upper chamber" of a double-storeyed house. But the…

Read the full tafseer →